Categories
شاعری

وہیل چیئرز پہ چلتے ہوئے مکان

ہم ۔۔۔۔
پیتل کے برتنو ں میں
مری ہوئی با رشیں اکٹھی کر تے ہیں
اور۔۔۔۔زندگی کے برساتی نالوں میں
پھدکتے پھرتے ہیں
مینڈکوں کی طرح!!

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

وہیل چیئر زپہ چلتے ہو ئے مکان

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاہی دربار میں جوتے اتارنے سے پہلے
جان، مال اور عزت کی تختیاں
اتار لی جا تی ہیں ہماری گردنوں سے ۔۔۔
اور۔۔۔۔ ہمارے مکانوں کے نقشے پھاڑ کر
باندھ دئے جاتے
ہیں ان زخموں پر
جو حادثو ں کے خوف سے
گہرے ہو گئے

 

بُھربھرے ہو کر بہہ گئے جن کے کنارے
ان پانیوں کے ساتھ
سی دی گئی ہیں ہماری کشتیا ں
ڈال دی گئی ہے
تیزاب
ہمارے گھر کی بنیادوں میں
اور۔۔۔ جھلسی ہوئی اینٹیں ادھیڑ کر
بُنا گیا ہے
ایک نارنجی راستہ

 

ہم ۔۔۔۔
پیتل کے برتنو ں میں
مری ہوئی با رشیں اکٹھی کر تے ہیں
اور۔۔۔۔زندگی کے برساتی نالوں میں
پھدکتے پھرتے ہیں
مینڈکوں کی طرح!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

By سدرہ سحر عمران

سدرہ سحر عمران اردو میں ماسٹرز ڈگری یافتہ ہیں۔ وہ معاصر اردو نثری نظم کے حلقوں میں ایک نمایاں نام ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *