Categories
شاعری

میں کسی جزیرے پر نہیں جانا چاہتا

حسین عابد: میں کسی جزیرے پر نہیں جانا چاہتا
میں کہیں نپہیں جانا چاہتا
تمہاری طلب کی انگیٹھی پر
ہاتھ تاپتے
میں کہاں جا سکتا ہوں
میں کسی جزیرے پر نہیں جانا چاہتا
اس سرد شام میں
دنیا کتنی مصروف ہے
باتیں کرنے میں
تیز تیز چلنے میں
خوشیاں ڈھونے میں
غم دھونے میں
سرد ہاتھوں سے کوئی
غم کیسے دھو سکتا ہے؟
مجھے سارتر اور غالب سے کچھ کہنا سننا نہیں
تارکووسکی، اولیور سٹون
اور تلخ چاند کے خالق پولانسکی کو
میں کمرے سے نکال چکا ہوں
کاسترو مر چکا ہے
میں کسی جزیرے پر نہیں جانا چاہتا
میں کہیں نہیں جانا چاہتا
تمہاری طلب کی انگیٹھی پر
ہاتھ تاپتے
میں کہاں جا سکتا ہوں
دنیا کتنی مصروف ہے
تیز تیز چلنے میں
خوشیاں ڈھونے میں
غم دھونے میں
سرد ہاتھوں سے کوئی
غم کیسے دھو سکتا ہے؟

Image: Argyle Plaids

By حسین عابد

شاعر اور موسیقار حسین عابد، لاہور میں پیدا ہوئے اور اس وقت جرمنی میں مقیم ہیں۔ ان کی شاعری کا مجموعہ، "اتری کونجیں"، "دھندلائے دن کی حدت" اور "بہتے عکس کا بلاوا" عام قارئین اور ناقدین سے یکساں پذیرائی حاصل کر چکی ہیں۔ حسین عابد نے "کاغذ پہ بنی دھوپ" اور "قہقہہ انسان نے ایجاد کیا" کی پیشکش میں مسعود قمر سے اشتراک کیا۔ عابد کا موسیقی کا گروپ "سارنگا" پہلا انسیمبل ہے جو اردو اور جرمن دونوں زبانوں میں فن کا مظاہرہ کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *