blockquote style=”3″]
[/blockquote]
بول مداری کھول پٹاری بین بجا کے بول
سات زمینیں سال مہینے دفن دفینے کھول
چار طرف سے لوگ ہیں آئے چھوڑ کے اپنا کام
کھیت اور فصلیں ڈھور اور ڈنگر اور سنہری شام
چال بشیرے لال جمورے سوہنے کا لے کر نام
کھیل دکھا دے جان لگا دے مانگ لے اپنا دام
دنیا کی یاری مال نہ گاڑی کچھ نئیں رہنا باقی
باقی رہے گا کام تمہارا خاک ہے جسد خاکی
بابو جی دل نہ توڑو۔۔ منہ موڑو ۔۔۔کچھ تو لگاو مول
ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی۔۔ لو یہ رہا کشکول
