Categories
شاعری

رضوان فاخر کے عشرے

رضوان فاخر: بستر پر بہنے والا خون بچا لیا گیا
گلیوں میں خون بہا کے

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

ع// سرخ رنگ پر پابندی تھی

بستر پر بہنے والا خون بچا لیا گیا
گلیوں میں خون بہا کے

سرخ پھولوں نے تو کسی کا قتل نہیں کیا
بوسوں سے تو کسی کی جان نہیں گئی
پھر بھی ہم تم دونوں Banned تھے
عام تو بارود تھا، سو اڑادیے گئے

سرخ رنگ فحش ہے اور فحاشی حرام ہے
دھماکے سے بدن کی دیواروں کے پیچھے قید
فحش سرخ رنگ عریاں کیا گیا
بستر پہ بہنے والا خون بچا لیا گیا

ع/ / An Image

دیواروں کے اندر لہکے کھیت سرابوں کے
خشکابوں کے مہکے دل
خوشبوں سے گلابوں کے
مدھم ہوگئے ساز
ویرانوں کے لب پر چہکی
پانی کی آواز
چھلک اٹھے اس من موہنی کے
دودھ بھرے چھاگل
کھڑی سے سر پٹخا ہوا نے
دیپ ہوئے پاگل

By رضوان فاخر

رضوان فاخر ، 20 اگست 1999 کو بلوچستان کے شہر تربت میں پیدا ہوا پرائمری تک تعلیم DELTA اسکول تربت اس کے بعد Army Public School Malir Cantt Karachi سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی اور عطا شاد ڈگری کالج ، تربت سے انٹر کر رہے ہیں۔اردو میں آزاد نظم، غزل اور عشرے میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *