Categories
شاعری

اے میرے سوچنے والے بیٹے

شہزاد نیر: سو میرے سوچنے والے بیٹے !
تم نے خاموش رہنا ہے
تمہاری خاموشی میں تمہاری زندگی ہے
اے میرے سوچنے والے بیٹے
وہ دانش کو پاؤں تلے روندیں گے
سوال پر گولی چلائیں گے
منطق پر پتھر اور لاٹھیاں برسائیں گے
وہ انسانیت کو لہولہان کر کے
اساطیر کی زمینوں پر انسان ذبح کریں گے
وہ قاتلوں کے قصیدے پڑھ کر
قتل کے حمایتیوں پر گل پاشی کریں گے
وہ انسان کو نجس قرار دے کر
اجتماعی خوں ریزی کو مقدس ٹھہرائیں گے۔ ۔ ۔
وہ یہ سب تمہاری آنکھوں کے سامنے کریں گے
تم نے پھر بھی مشتعل نہیں ہونا !

وہ نفاست سے ان کتابوں کی شیرازہ بندی کریں گے
جن میں زندہ بدن اُدھیڑنے کے مفصل نسخے درج ہیں
وہ تمہارے سامنے نفرت کا پورا ماسٹر پلان رکھ دیں گے
یاد رکھو !
تم نے پھر بھی اپنی سوچ کو مشتعل نہیں ہونے دینا
اگر تم نے جواب میں کچھ کہا یا سوال اٹھایا
تو وہ تمہارے ہی لفظوں کی مہریں
تمہارے قتل نامے پہ ثبت کریں گے
( اُنہیں یہ گُر صدیوں سے آتا ہے )
پھر وہ ہجوم در ہجوم آئیں گے
اور تمہارے جسم کی روئی دھنک کے رکھ دیں گے
اگر تم انسان کے شرف کی سیڑھیاں چڑھ رہے ہوئے
تو وہ تمہیں نیچے کھینچ کر قتل کردیں گے

سو میرے سوچنے والے بیٹے !
تم نے خاموش رہنا ہے
تمہاری خاموشی میں تمہاری زندگی ہے
اور زندگی ہر چیز سے مقدم ہے میرے بیٹے
لیکن افسوس ! وہ لوگ یہ بات نہیں جانتے
وہ صرف موت کو مانتے ہیں

Image: Sabir Nazar

By شہزاد نیّر

شاعر و ادیب شہزاد نیر کے شعری مجموعے: برفاب، چاک سے اترے وجود، گرہ کھلنے تک، اور خوابشار کے علاوہ افسانچوں کا مجموعہ "کہانی چل رہی ہے" اور دو انگریزی کتب کے اردو تراجم شائع ہو چکے ہیں۔ وہ ادبی جریدے "ادب لطیف" کے نائب مدیر ہیں، درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں اور لاہور میں مقیم ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *