Categories
نقطۂ نظر

انسان جبلتوں کے تعامل کا پیچیدہ شاہکار ہے- ہارون رشید کا فرضی کالم

[blockquote style=”3″]

یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ثاقب ملک کے اپنے بلاگ پر بھی شائع ہو چکا ہے، مصنف کی اجازت سے اسے لالٹین کے قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری یا تضحیک قطعاً مقصقد نہیں۔

[/blockquote]

youth-yell

مزید فرضی کالم پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
الحذر الحذر!! بھاگ ان بردہ فروشوں سے کہاں کے بھائی؟ بیچ ہی دیویں جو یوسف سا برادر ہووے۔ اب لکھنؤ اور دہلی کی تہذیب کے وارث نو ٹنکی فنکار ہوں گے۔

 

خاکی کو اس ٹی وی کے فرعون کی کہانی معلوم ہے۔ آدمی کی روح چیخ اٹھتی ہے۔ کیسے کیسے اجلے لوگ اردو بولنے والوں کے نمائندے تھے۔ اور اب یہ چھچھوندر؟
قرائن نمایاں تھے کہ یہ بے ہودگی کا فرستادہ شخص جو مذہب کی چادر اوڑھے بازاری حرکتیں کرتا رہتا ہے ایم کیو ایم کی باگ ڈور سنبھالے گا اور الیکٹرانک میڈیا میں طوفان بد تمیزی پیدا کرے گا۔ بھاڑے کا ٹٹو جو اپنے آقا کے حکم پر بروئے کار آیا ہے۔ تف ہے ایسے شخص پر۔ خاکی کو اس ٹی وی کے فرعون کی کہانی معلوم ہے۔ آدمی کی روح چیخ اٹھتی ہے۔ کیسے کیسے اجلے لوگ اردو بولنے والوں کے نمائندے تھے۔ اور اب یہ چھچھوندر؟ مکرر عرض کے دنیا سے کوئی شخص نہیں اٹھے گا جب تک اس کا ظاہر و باطن آشکار نہ ہو جائے۔ اس بد زبان کی لگامیں بھی اب کھنچنے کو ہیں۔ افسوس انسان سامنے کی بات پر غور نہیں کرتا اور بھول بھلیوں میں الجھا رہتا ہے۔ بے اختیار دیو مالائی کردار حکمت یار یاد آیا۔ ایسا ایثار کیش کہ دل سے صدا اٹھی پروردگار اس کی وردی کہاں ہے؟ برخوردار بلال الرشید کی کنگھی کر رہا تھا کہ سپہ سالار کا پیغام آیا کہ فوجی مستقر چلے آئیے۔ کنگھی وہیں چھوڑی اور گھوڑے کو ایڑ لگائی یہ جا وہ جا۔ پہنچا تو صابر کیانی نے میرے ہاتھ خالی دیکھے لیکن زبان سے کچھ نہ بولے۔ ماتھے پر ہاتھ دھرا کہ آج کے ٹو سگریٹ کی درجن بھر ڈبیاں لانا یاد ہی نہیں رہا۔ مگر سپہ سالار نے چوں تک نہ کی۔ ایسی بوالعجبی؟ قوم بیچ چوراہے پر سو رہی جو اس صابر انسان سے فائدہ نہ اٹھا سکی؟

 

بارہا لکھ چکا ٹی وی سے دل اچاٹ ہو چکا۔ مگر خوش شکل کامران شاہد نے پیغام بھیجا تو تیار ہوگیا۔ علم تھا یہ بے ہودہ شخص بد زبانی کرے گا۔ وہی ہوا۔ لیکن ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں۔ زندیق کو منہ توڑ جواب ملا تو آپے سے باہر ہوکر ہذیان بکنے لگا۔ زبان سکیڑ کر جملے کسنے لگا۔ باچھوں سے جھاگ اڑنے لگا۔ کوئی جائے اور جا کے اس یاوہ گو کو بتائے کہ اس کا وقت آ گیا۔ تاریخ کا کوڑا دان منتظر یے۔ جلد اپنے انجام کو پہنچے گا۔

 

دل اداس ہوا تو عارف کے پاس جا پہنچا۔ وہی تو ہیں جہاں سکون ملتا ہے۔ تسبیح سے سر اٹھایا اور بولے انسان جبلتوں کے تعامل کا پیچیدہ شاہکار ہے۔
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ایم کیو ایم ایک فسطائی تنظیم ہے۔ اس پر ایسا واویلا؟ چہ معنی دارد۔ بھاڑے کے ٹٹو جو کراچی کا امن برباد کرنا چاہتے ہیں وہ ناکام ہوں گے۔ ستر فیصد تک جہاں جرائم میں کمی آ چکی۔ کمانڈر اس بار یکسو ہے۔ چوہدری نثار ایسے سیاسی حرکیات سے آشنا شخص کا ساتھ میسر ہے۔ کیڑا؟ نالی کے کیڑے اب گریبان تک آ گئے۔ دنیا کے کیڑے؟ دل اداس ہوا تو عارف کے پاس جا پہنچا۔ وہی تو ہیں جہاں سکون ملتا ہے۔ تسبیح سے سر اٹھایا اور بولے انسان جبلتوں کے تعامل کا پیچیدہ شاہکار ہے۔ یہ فنکار ذہنی مریض یے۔ بچپن نا آسودگی میں گزرا۔ درگزر کرو۔ دل شاد ہوا۔ اسی اثناء میں کپتان کا پیغام آیا کہ بنی گالا پہنچو شیرو کے ساتھ مل کر دیسی مرغی کھاتے ہیں۔ دنوں بعد سیر ہو کر کھایا۔ کوئی ہے جو ایسے یاوہ گوہ کی زبان گدی سے کھینچ لے؟

 

الحذر الحذر!! بھاگ ان بردہ فروشوں سے کہاں کے بھائی؟ بیچ ہی دیویں جو یوسف سا برادر ہووے۔ اب لکھنؤ اور دہلی
کی تہذیب کے وارث نو ٹنکی فنکار ہوں گے۔
Categories
نقطۂ نظر

ہارون رشید کا ایک فرضی کالم

[blockquote style=”3″]

یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ثاقب ملک کے اپنے بلاگ پر بھی شائع ہو چکا ہے، مصنف کی اجازت سے اسے لالٹین کے قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری یا تضحیک قطعاً مقصقد نہیں۔

[/blockquote]

مزید فرضی کالم پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

کتاب کہتی ہے اسے تولا گیا اور وہ ہلکا نکلا۔ اب بھاڑے کے ٹٹو بولیں گے شکریہ راحیل شریف؟ الحذر الحذر۔

 

جنرل راحیل شریف نے فیصلہ سنا دیا۔ بیچ سمندر میں، ملاح اور بیچ جنگ میں سپہ سالار نہیں بدلا کرتے مگر فسوں خیز جنرل ادنیٰ انسان نہیں ہے۔
جنرل راحیل شریف نے فیصلہ سنا دیا۔ بیچ سمندر میں، ملاح اور بیچ جنگ میں سپہ سالار نہیں بدلا کرتے مگر فسوں خیز جنرل ادنیٰ انسان نہیں ہے۔ ماتھے پر ہاتھ دھرا اپنی دھن میں گھوڑے کو ایڑ لگائی کہ کپتان کا برقی پیغام ملا کہ آن پہنچو۔ بنی گالا پہنچا۔ کپتان پسینے میں شرابور، ورزش کے لیے مخصوص لباس میں ملبوس کسی معصوم جنرل کی طرح لگ رہا تھا۔ اس کے لانبے چہرے سے پسینے کے قطرے گر رہے تھے۔ ایسے سادہ اطوار کا بھانڈ مذاق اڑاتے تھے۔ اللہ کی پناہ ایسے ایسے لوگ، جن کو پیسے سی آئی اے سے ملتے ہوں ان کا اس ملک سے کیا واسطہ؟ کپتان نے مجھے دیکھ کر کہا، ہارون تم کیا کہتے ہو میں بھی جنرل کی طرح، تحریک انصاف کی صدارت کی توسیع نہ لوں؟ برق سی لپکی ذہن میں کہ خان تو تاحیات پارٹی کا چئیرمین ہے مگر ایسا سادہ کہ یہ بھی نہیں معلوم؟ ایسے سادہ لوح کو عوام موقع نہیں دیتی، جو دیسی مرغی کھاتے ہوئے، سالن سے اپنی آستینیں بھگو دے اور شریفوں، زرداریوں، مولانا اور اسفند یار ولیوں کو سر پر بٹھائے رکھتی ہے۔ اسی اثنا میں سفید لبادے میں ملبوس، باوردی ملازم دلکی چال چلتے گھوڑے پر جوس اٹھا لایا، سوچا کپتان نے یہ میزبانی کب سیکھی؟ ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ کپتان نے گلاس لیا اور غٹاغٹ جوس چڑھا گیا۔ کپتان نے پھر سوال داغا۔ بے اختیار پرویز رشید یاد آیا، اللہ اللہ ایسے ایسے لوگ وزیر اعظم نے وزیر رکھ چھوڑے ہیں جن کو کوئی منشی بھی نہ رکھے۔ ایک خواجہ صاحبان ہیں جن کی گھٹی میں فوج سے نفرت ہے۔ الحذر الحذر
خان کا چہرہ یکدم سرخ ہو گیا۔ لگا کہ جواب نہ ملنے پر خفا ہے، اچانک دیکھا تو صلاح الدین ایوبی اس کی پشت سے سفید گھوڑے پر لپکے چلے آتے ہیں۔ وہ پاس آئے گھوڑے کی لگامیں کھینچیں، حکمت یار کا ای میل پتہ مانگا اور یہ جا وہ جا، میں ہکا بکا، درویش یاد آیا وہی ملائم انداز کہ دلوں کو موہ لے۔

 

بھاڑے کے ٹٹو کے اب اپنی نفرت آمیز لہجے والی زبانیں سکوڑے بیٹھے ہیں کہ جنرل نے توسیع نہیں لی، پوری داستان اس خاکی اخبار نویس کو معلوم ہے، کسی دن سب بیان کر دی جائے گی۔ برخوردار، بلال الرشید کا زکام صاف کر رہا تھا کہ فسوں خیز، سپہ سالار، صابر کیانی کا مژدہ آیا۔ کوندا سا لپکا کہ دو عشرے ہوتے ہیں، سرخ فوج کو دھول چٹا دینے والے مرد مومن، صلاح الدین ایوبی، ضیاء الحق نے بھی اسی طرح بلا بھیجا تھا صاف انکار کیا۔ ایسا چمکیلی سنہری دھوپ والا دن دیکھتا ہوں کہ ایک ہیلی کاپٹر اڑا چلا آتا ہے، میرے غریب خانے کے سامنے اترتا ہے۔ اندر سے روسیوں کی روح چٹخ دینے والا سادہ مگر چمکیلی آنکھوں والا باوردی جنرل، سفید گھوڑے پر سوار نکلتا ہے۔ سر پٹ دوڑتا گھوڑا میرے سامنے آن رکتا ہے جب جنرل اس کی لگامیں کھینچتا ہے۔ آدمی کی روح چیخ اٹھتی ہے کہ آج اس کا کوئی نام لیوا نہیں ہے؟

 

ایسے سادہ لوح کو عوام موقع نہیں دیتی، جو دیسی مرغی کھاتے ہوئے، سالن سے اپنی آستینیں بھگو دے اور شریفوں، زرداریوں، مولانا اور اسفند یار ولیوں کو سر پر بٹھائے رکھتی ہے۔
فوجی مستقر پہنچتا ہوں۔ سپہ سالار، کیپسٹن سگریٹ کی ڈبی سے سگریٹ نکالنا چاہتا ہے مگر سگریٹ ندارد، اپنی دھن میں مگن، سوچتی کھوجتی آنکھوں والا، سپہ سالار جس پر بھاڑے کے ٹٹو بہتان لگاتے ہیں وہ جاہل لاعلم ہیں۔ میں نے برخوردار مامون الرشید کو کہا کہ کالے گھوڑے کو ایڑ لگاؤ اور نکڑ والے کھوکھے سے، کیپسٹن سگریٹ کا پیکٹ اٹھا لاؤ۔ سپہ سالار ایک صابر انسان ہے۔ دو لفظوں میں پوری کہانی کہہ دیتا ہے۔ مگر وہ سوچنے والا ہے۔ دشنام طرازی کرنے والوں پر خاموش رہتا ہے۔ بہتیرا کہا کہ اپنی کہانی لکھ دیجیے مگر جواب فقط سحر انگیز خاموشی۔
ہاں کہہ دیں بھاڑے کے ٹٹو،گز گز زبانوں سے کیچڑ اچھالنے والے اور دشنام طرازی کرنے والے شکریہ راحیل شریف کہ اعلیٰ خاندان کے سرخ و سپید فسوں خیز سپہ سالار کو بیچوں بیچ لگامیں نہ کھنچ دینی چاہیے تھیں۔ ابھی ضرب عضب جاری ہے اور جنگ کے درمیان کمانڈر نہیں بدلا کرتے مگر خود دار سپہ سالار توسیع کو لے کر جاری زہریلی تنقید اور دشنام طرازی پر رنجیدہ خاطر تھا۔ دل چاہا کہ جنرل کو گوجر خان عارف کے پاس لے چلوں جس سے روز ہزاروں فیض پاتے ہیں۔ پھر سوچا کہ گنوار ہوں درویش کو کتنی ہی بار مصیبت میں ڈالا۔ اللہ کی پناہ کیسے کیسے گنوار لوگوں کو درویش پناہ دیتا ہے۔ وہی تاریک کمرہ، وہی روشن چہرہ، اس چڑیا والے تجزیہ نگار کی طرح نہیں جو امریکی آشیر باد اور مالی امداد پر چلتا ہے۔ بھاڑے کے ٹٹو۔۔۔ کیسا بدنصیب ہے یہ ملک کہ زرداریوں، شریفوں، چوھدریوں کے نرغے میں پھنس گیا۔ الامان الحفیظ۔

 

کتاب کہتی ہے اسے تولا گیا اور وہ ہلکا نکلا .اب بھاڑے کے ٹٹو بولیں گے شکریہ راحیل شریف؟ الحذر الحذر۔