Categories
نقطۂ نظر

اماں کیسی کہ موج خوں ابھی سر سے نہیں گزری

ajmal-jami

فرمایا؛ یہ کوئی تیسری قوت ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کی ایسی وارداتوں کے ذریعے،قیامِ امن کی راہ میں رخنہ ڈالتی ہے۔ پھر مذمتی قراردادوں، بیانوں کا تانتا بندھ گیا۔ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سرکردہ ‘راہ نماؤں’ نے دہشت گردی کے ایسے واقعات کی دل کھول کر مذمت کی۔ لیکن نہ جانے کیوں کسی بھی ‘راہ نما’ نے دہشت گردی کرنے والے ‘دہشت گردوں’ کی مذمت دبے لفظوں کرنا بھی گوارا نہ کی۔ ایک نیم سیاسی اور مکمل مذہبی جماعت کے سرکردہ گویا ہوئے، کہنے لگے کہ یہ کوئی تیسری قوت ہے جو امن عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے۔ ‘دوسری قوتوں’کا سنتے سنتے پروان چڑھے، ابھی اسی کے گناہ دھو رہے ہیں کہ تیسری بھی آن پڑی۔ نجانے اور کتنی ایسی قوتیں ہیں جن کی خبر ہونا ابھی باقی ہے۔ اور اب تو یہ عالم ہے کہ؛
کفن باندھے ہوئے یہ شہر سارا جا رہا ہے کیوں؟؟
سوئے مقتل ہر اک رستہ ہمارا جا رہا ہے کیوں؟؟
جو حقوق دین اسلام نے غیر مسلموں اور ان کی عبادت گاہوں کو دیے ہیں ان کا احاطہ اقوام عالم کا کوئی اور مذہب قطعاً نہیں کرتا، لیکن مذہب کے نام پر عبادت گاہوں اور مزاروں کا جو حال کیا جا رہا ہے وہ یقیناً درندگی کے علاوہ اور کسی زمرے میں نہیں آ سکتا۔ایک زمانہ تھاجب ہمارے ہاں عبادت گاہیں محفوظ تصور کی جاتی تھیں،جبھی شہر بھر کا دھتکارا ہواشخص ان عبادتگاہوں میں پہنچ کر گھڑی بھر پناہ مانگتا تھا اور پناہ پاتا تھا، مگر اب ان سبھی عبادت گاہوںمیں بس خدا ہی کی پناہ ہے۔

ایک زمانہ تھاجب ہمارے ہاں عبادت گاہیں محفوظ تصور کی جاتی تھیں،جبھی شہر بھر کا دھتکارا ہواشخص ان عبادتگاہوں میں پہنچ کر گھڑی بھر پناہ مانگتا تھا اور پناہ پاتا تھا، مگر اب ان سبھی عبادت گاہوںمیں بس خدا ہی کی پناہ ہے۔

کیسی بخشش کا یہ سامان ہوا پھرتا ہے
شہر سارا ہی پریشان ہوا پھرتا ہے
ایک بارود کی جیکٹ اور نعرۂ تکبیر
راستہ جنت کا آسان ہوا پھرتا ہے
شب کو شیطان بھی مانگے ہے پناہ جس سے
صبح وہ صاحب ایماں ہوا پھرتا ہے
جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر
شہر کا شہر مسلماں ہوا پھرتا ہے
عین اس وقت جب مسیحی برداری اتوار کی عبادات ایک سو تیس سالہ قدیم چرچ میں بجا لا رہی تھی، پشاور کو خون اور آگ کے دریا سے گزرنا پڑا۔۔ خودکش دھماکے میں اٹھہتر افراد جاں بحق ہوئے اور ایک سو تیس بستر پر زخموں سے چور پڑے ہیں۔ رواں سال کے آغاز سے اب تک صوبے میں مجموعی طور پر ایک سو چوالیس دہشت گردی کے واقعات پیش آ چکے ہیں، صرف پشاور ایسے اٹھاون دھماکوں کا شکار ہوا۔ ان وارداتوں میں خیبر پختواہ کے باسی تیرہ سو لاشوں کو کاندھا دے چکے ہیں۔ کل صوبائی حکومت پانچ گھنٹوں تک کہیں نظر نہ آئی، نظر آئے تو وہ چند ایک جو پچھلے پانچ سالوں میں بھی ہر دھماکے کے بعد دہشت گردوں کو للکارتے رہے۔۔ غلام احمد بلور اور میاں افتحار حسین۔۔ ایک اپنا بھائی ملک پر وارنے پہ نازاں ہے اور دوسرا اپنی اکلوتی اولاد کو اس جنگ میں امن کی دیوی کی بَلی پر قربان کر چکا ہے۔ ان کی جماعت کی سیاسی پالیسیوں سے لاکھ اختلاف سہی، لیکن ان کی قربانیاں اور ان کا موقف ہمیشہ سے ہی قابل فخر رہا ہے؛
اماں کیسی کہ موجِ خوں ابھی سر سے نہیں گزری،
گزر جائے تو شاید بازوئے قاتل ٹھہر جائے۔۔
معلوم ہوا کہ جب زخمیوں کو صوبے کے سب سے بڑے اسپتال میں منتقل کیا جا رہا تھا تو وہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، لیکن زخمیوں کی دیکھ بھال کے لیے مطلوبہ سٹاف میسر نہیں تھا، کہہ دیا گیا کہ عملہ اتوار کے روز چھٹی پر ہے، تنقید کی تو کہا گیا کہ صوبائی حکومت کے خلاف سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی جار ہی ہے، یہ تو مان لیجیے کہ لیڈی ریڈنگ جیسے اسپتال میں ہر روز اور ہر وقت عملے کی مناسب تعداد کا ہونا لاز م ہے اور اگرایسا نہیں تھا تو یقینا یہ متعلقہ انتظامیہ کی غفلت ہے۔ اگر یہ اعتراض بھی غلط ہے تو فرما دیجیے کہ آخر زخمیوں کے ورثا پھر کس بات پر سارا دن اسپتال کے سامنے سراپا احتجاج بنے رہے؟

رواں سال کے آغاز سے اب تک صوبے میں مجموعی طور پر ایک سو چوالیس دہشت گردی کے واقعات پیش آ چکے ہیں، صرف پشاور ایسے اٹھاون دھماکوں کا شکار ہوا۔ ان وارداتوں میں خیبر پختواہ کے باسی تیرہ سو لاشوں کو کاندھا دے چکے ہیں۔

ہر ظلم کی توفیق ہے ظالم کی وراثت
مظلوم کے حصے میں تسلی نہ دلاسہ
کہا گیا کہ مذاکرات ہی واحد حل ہے۔ یہ ہمارے ہی لوگ ہیں ان سے بات چیت کی جانی چاہیے۔۔ آل پارٹیز کانفرنس میں اس بات پر اتفاق رائے قائم کیا گیا، اور پھر طالبان رہنماؤں کی رہائی بھی عمل میں آنے لگ گئی، دوسری جانب سے پہلے میجر جنرل ، لیفٹینٹ کرنل اور سپاہی کی شہادت کا تحفہ بھیجا گیا، اور اب چرچ میں چونتیس خواتین اور سات بچوں سمیت اٹھہتر افراد کو خون میں نہلا دیا گیا۔ خوف کا یہ عالم ہے کہ سیاسی اتفاق رائےایک طرف، یہاں تو مذہبی حلقے بھی اس ایک نکتے پر متفق نہیں کہ خود کش حملے “حرام” ہیں، ایسے میں خودکش حملہ آوروں کی مذمت جیسے “شرعی طور پر متنازعہ امر” پر بات بھلا کون کرتا؟ کہ میں نے آج تک مولانا فضل الرحمٰن اور سید منور حسن صاحب کے منہ سے اس فعل پر لفظ ‘حرام ‘ نہیں سنا۔
وزیر اعظم برطانیہ میں ہیں اور ان کی اگلی منزل امریکہ ہے، یقیناً پشاور دھماکوں کے بعد میاں نواز شریف کو امریکہ یاترا میں کافی ‘ٹف ٹائم’ بھی دیا جا سکتا ہے۔ بہتر ہوگا اگر وزیر اعظم واپسی پر ایک اور آل پارٹیز کانفرنس بلائیں اور حتمی لائحہ عمل کا کھل کر اعلان کریں۔ کیونکہ مذاکرات کے بہلاوے پر اب قوم لاشیں اٹھانے سے عاجز ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ سیاسی حکمت عملی سے پہلے تمام مکاتب فکر کے علما ئے کرام دین، قتلِ عام کے لائسنس جاری کرنے والے فتویٰ فروشوں کے بارے میں قرآن و سنت کےکسی ایک حکم پر اتفاق کر لیں، کہ شاید اب ہمارے لیے اپنی بقا کی جنگ لڑنا ضروری ہو گیا ہے۔

وزیر اعظم برطانیہ میں ہیں اور ان کی اگلی منزل امریکہ ہے، یقیناً پشاور دھماکوں کے بعد میاں نواز شریف کو امریکہ یاترا میں کافی ‘ٹف ٹائم’ بھی دیا جا سکتا ہے۔

ارضِ وطن کی بقا کے لیے جانوں کے نذرانے قومیں ہمیشہ سے ہی پیش کرتی آئی ہیں، لیکن دن دہاڑے عبادت گاہوں میں معبود کا نام لیتے ہوئے جانوں کا ضیاع صرف قاتلوں پر نہیں، سیاست چمکاتے حکمرانوں کے بھی سر جائے گا۔
آخر میں پشاور کے مسیحی بھائیوں اور بہنوں کے نام کہ جنہیں خود ‘مسیحا’ نہ ملا۔
نیلے فلک کی وسعت نے۔۔
پاک زمیں کی چیخ سنی!
پھر خون رنگ اور کرب و آہ
پھر وہی پرزوں میں انساں
پھر وہی حشر بپا دیکھا
مسجد، مندر، گرجا گھر!
رنگ نسل ، زباں، مذہب!
وحشی درندے کیا جانیں؟
وحشی کا کیا دیں ایماں؟
امن کا دشمن خود انساں!
(شکیل بازغ)

Categories
شاعری

Peshawar

Tahir Wadood Malik
1010920_452802138149559_1261576458_n
From class 7 till fourth year (8 years) the best part of my life i spent in Peshawar, and today once again i am faced with the pain of my people crying over their dead!

My friends were there
Praying to God
My people all bowed
Asking for His blessings
For them and theirs
And for Pakistan
Everyone there was mine
Children mine
Girls mine
Boys mine
Youth mine
Mothers mine
Fathers mine
Old aged mine
All on their knees
Singing hymns
And saying ‘aamin’
Sunday best
Dresses and mood
Happiness and mirth
All of this earth.
And a deafening sound
Heat, pain, fire around
Disbelief, flying metal
Sky rending cries
And another sound
Adding to the din
Limbs and clothes
Shoes and sandals
Sobs and groans
Silence and moans
My people all
Shattered and torn
Asking where if the God
They had just invoked
Another story,
Another lament,
More photo-ops and
Media to comment
Three days to mourn
Then back to work
The usual drudge.
The night falls
Silence reigns
An occasional sob to show
Life exists in deathly throes
To cry the names of one
Who will never return,
Home, left torn.
The question again
Raises its head
Where is the will
To stop this bloodshed
Or do we wait
With bleeding hearts
The dawn of another day
And dread the next news
Of man’s hatred?