Categories
نقطۂ نظر

انسانی ترقی، ہزاریہ ترقیاتی اہداف اور ہم

‘آپ میں سے کتنے افراد ڈاکٹر محبوب الحق کو جانتے ہیں؟’ یہ جملہ میرا تکیہ کلام بن گیا ہے۔ میں اکثر یہ جملہ مدِ مقابل افراد کو شش و پنج میں ڈالنے کے لیے استعمال کرتا ہوں، کئی دفعہ صرف مرعوب کرنے کے لیے اور خصوصاً کسی کانفرنس میں اپنی تقریر شروع کرنے سے پہلے۔ عموماً مخاطبین کا جواب ہوتا ہے ‘نہیں’۔ ناظرین، سامعین، حاضرین، مندوبین بے قرار ہوجاتے ہیں! اور سمجھنے لگتے ہیں میں کوئی بہت بڑی ‘فلائٹ’ ہوں! دراصل مجھے ڈاکٹر محبوب الحق کا پتہ وکی پیڈیا سے چلا تھا۔ میں دنیا بھر کے موجدین کے بارے میں پڑھ رہا تھا، ٹیسلا اور اس کا آلٹر نیٹنگ کرنٹ، روس کا اسپوٹنک، میخائل ازیمو کاشنکوف کی اے-کے47، ڈارپا کا انٹرانیٹ، لاک ہیڈ مارٹن کا ایس-آر 71 بلیک برڈ، موٹرولا کا سکس سگما! پھر خیال آیا کیا پاکستانیوں نے بھی کچھ ایجاد کیا ہے؟ ممالک کے حساب سے موجدین کی فہرست نکالی تو وہاں محبوب الحق صاحب کا نام پایا۔

 

یہ کوئی 15 سال پرانی بات ہے جب، اقوامِ متحدہ نے سنہ 2000 میں ملینیم سمٹ منعقد کی تھی اسی سمٹ میں میں ملینیم ڈیکلریشن پیش اور منظور ہوا تھا۔ اس اعلامیے کا لبِ لباب ملینیم ڈویلپمنٹ گول یا ہزاریہ ترقیاتی اہداف تھے جن کا حصول 2015 تک ممکن بنانا تھا
خیر بات ہو رہی تھی ڈاکٹر محبوب الحق کی، میں بہت خوش ہوا یہ دیکھ کر کے واہ بھئی پاکستانیوں نے بھی کچھ ایجاد کیا ہے! میں نے مضمون پڑھنا شروع کر دیا اور یہ دیکھ ذرا پریشان ہوا کہ ہم نے نہ بم بنایا تھا، نہ ہی کوئی ہتھیار! یہ تو کوئی اشاریہ تھا۔ مطلب یہ کہ ہم نے صرف ایک آدھ فارمولا بنایا تھا! بس! خیر مزید پڑھنے پر پتہ چلا کے یہ اشاریہ انسانی ترقی کو ماپنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اب یہ کیا بلا ہے؟ انسانی ترقی؟ معاشی ترقی تو سنی تھی، صنعتی بھی، تجارتی بھی، مادی ترقی بھی، سائنس و ٹیکنالوجی میں بھی ترقی سنی تھی! یہ انسانی ترقی بیچ میں کہاں سے آگئی؟ اور غور سے پڑھا تو پتہ چلا کہ ڈاکٹر صاحب کو اقوامِ متحدہ نے یہ اشاریہ ایجاد کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی، ڈاکٹر صاحب کو ان کے انتہائی نزدیکی دوست ڈاکٹر امرتا سین نے سمجھایا بھی تھا کہ یہ ناممکن کام ہے، لیکن ڈاکٹر صاحب بھی دھن کے پکے تھے، ڈٹ گئے اورامرتا سین صاحب کے ساتھ مل کر انسانی ترقی کا اشاریہ بنا ڈالا، اور آج دنیا کے تمام ممالک اسی اشاریے کی مدد سے اپنی ترقی اور تعمیر کو جانچ رہے ہیں۔

 

ڈاکٹر محبوب الحق کا کام ہزاریہ ترقیاتی اہداف(Millennium Development Goals) کی تشکیل میں بے حد اہم ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو اخبارات کے پکے قارئین، پاکستان کے وزیر خزانہ کے نام سے جانتے ہیں، کچھ افراد ان کو ایک کامیاب بیوروکریٹ اور کچھ افراد ایک بہترین ماہر معاشیات کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ یہ آپ ہی تھے جنہوں نے پاکستان کے لیے 1981 تا 1986 کا پانچ سالہ ترقیاتی منصوبہ مرتب کیا تھا۔ اسی پانچ سالہ منصوبے کو جنوبی کوریا نے ہم سے مانگا تھا اور وہ اس پر عمل پیرا ہوکر آج ایشین بلکہ گلوبل ٹائیگر بن گیا ہے، جس کاثبوت، سام سنگ، ایل-جی اور کی یا کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ ‘پاکستان پر 22 خاندانوں کی اجارہ داری ہے’ بھی انہی کا قول ہے۔ آپ کو آپ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی باعث، اقوامِ متحدہ کی جانب سے یہ انتہائی اہم ترین کام سونپا گیا تھا، اور اسی اشاریے کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ نے ایکو سوک ECOSOC یعنی کونسل برائے معاشی و معاشرتی ترقی قائم کی تھی۔ اقوامِ متحدہ تمام دنیا میں اسی ای کو سوک کے زیرِ سایہ کام کرنے والی مخصوص ایجنسیز کے ذریعے انسانی ترقیاتی اشاریے کے تحت انسانی ترقی اور بہبود کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

 

فکر کی بات یہ ہے کہ کچھ اقوام نے تو مقررہ اہداف کے حصول میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کرلی ہے، لیکن کچھ اقوام جیسے پاکستان کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں کر سکیں۔
یہ کوئی 15 سال پرانی بات ہے جب، اقوامِ متحدہ نے سنہ 2000 میں ملینیم سمٹ منعقد کی تھی اسی سمٹ میں میں ملینیم ڈیکلریشن پیش اور منظور ہوا تھا۔ اس اعلامیے کا لبِ لباب ملینیم ڈویلپمنٹ گول یا ہزاریہ ترقیاتی اہداف تھے جن کا حصول 2015 تک ممکن بنانا تھا! 15 سال گزر گئے اور ہم میں سے بہت سوں کو اس بارے میں کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔ وہ کیا ہے نا کہ ہم لوگ Y2Kبگ کی وجہ سے بہت پریشان تھے، اور بھوک افلاس، اقربأ پروری، خواتین کا استحصال نہ تب ہمارے لیے کوئی بڑا مسئلہ تھا نہ اب ہے! خیر ان مقاصد کے حصول کے لیے تمام اقوامِ عالم یکجا ہوگئی تھیں اور ایسا منظر جدید تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔

 

فکر کی بات یہ ہے کہ کچھ اقوام نے تو مقررہ اہداف کے حصول میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کرلی ہے، لیکن کچھ اقوام جیسے پاکستان کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں کر سکیں۔ ایم-ڈی-جیز نے تین موضوعات کو انتہائی اہم قرار دیا تھا؛ پہلا: انسانی وسائل، دوسر۱: انفراسٹرکچر اور تیسرا: انسانی حقوق۔ انسانوں کا معیارِ زندگی بلند کرنے کے لیے انسانی ترقی کے ان تینوں بنیادی شعبہ جات میں بہتری کے لیے مختلف اہداف مقرر کیے گئے تھے۔ ان اہداف میں غذائیت سے بھرپور غذا، صحت عامہ (جس میں نونہال و اطفال کی اموات میں کمی، ایچ-آئی-وی، ٹی-بی، ملیریا کا خاتمہ اور تولیدی صحت کی بہتری شامل ہیں)، تعلیمی سہولیات کی فراہمی، پکی سڑکوں کا قیام، صاف پانی کی فراہمی، بجلی اور جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کی دستیابی، کھیتوں کی زرخیزی میں اضافہ، آمد و رفت میں آسانی اور صاف آب و ہوا سے متعلق اہداف بھی شامل ہیں۔ انسانی حقوق سے متعلق اہداف میں، خواتین کے حقوق کی پاسداری، صنفی و جنسی تشدد میں کمی، سیاسی بالیدگی، سرکاری سہولیات تک بلا تفریق رسائی اور ذاتی ملکیت کی حفاظت شامل ہیں۔ فرد کی نشوونما اور ’ایک بھرپور زندگی کو جینے‘ کی آزادی کو یقینی بنانا بھی ان اہداف کا بنیادی مقصد تھا۔

 

یہ عالمی ترقیاتی مقاصد آرگنائزیشن فار اکنامک کو-آپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ نے متعین کیے تھے۔ اس وقت کے جنرل سیکرٹری اقوام متحدہ کوفی عنان کے اصرار پر ان اہداف کا دائرہ اثر صرف یورپ تک محدود رکھنے کی بجائے تمام اقوام عالم کو ان میں شامل کیا گیا۔

 

یہ آٹھ اہداف، مندرجہ ذیل ہیں:

 

1. شدید، غربت و افلاس کا خاتمہ
2. عالمی درجہ پر پرائمری تعلیم کو یقینی بنانا
3. صنفی برابری کو یقینی بنانا اور خواتین کو بااختیار بنانا
4. اطفال کی شرحِ اموات کو گھٹانا
5. حاملہ خواتین کی صحت کو بہتر بنانا
6. ایچ-آئی-وی، ایڈز، ٹی-بی، ملیریا اور دیگر جان لیوا بیماریوں کا مقابلہ کرنا
7. ماحولیاتی تحفظ یقینی بنانا
8. ترقی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی اشتراک عمل بڑھانا

 

یہ بات صحیح ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے امداد کافی حد تک بڑھی ہے لیکن اس میں سے آدھی امداد پچھلے قرضے اتارنے میں صرف ہوگئی اور باقی ماندہ قدرتی آفات سے نبرد آزما ہونے میں صرف ہوگئی جس سے انسانی ترقی پر کوئی واضح فرق نہ پڑا۔
ہزاریہ ترقیاتی اہداف صرف تعریف و تحسین کے ہی مستحق نہیں ٹھرے، ان پر تنقید بھی ہوئی ہے، یہاں تک کہ ان کو صرف زبانی جمع خرچ بھی کہا گیا ہے۔ تنقید کی اہم وجوہ میں، ان مقاصد کے انتخاب کے مبہم محرکات، اور ان مقاصدکے نتائج کو ماپنے کا طریقہ کار شامل ہیں۔ یہ بات صحیح ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے امداد کافی حد تک بڑھی ہے لیکن اس میں سے آدھی امداد پچھلے قرضے اتارنے میں صرف ہوگئی اور باقی ماندہ قدرتی آفات سے نبرد آزما ہونے میں صرف ہوگئی جس سے انسانی ترقی پر کوئی واضح فرق نہ پڑا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جتنا پیسا چندے کی صورت میں ملتا ہے اس سے کہیں زیادہ، ملٹی نیشنل کارپوریشنز کما کر واپس لے جاتی ہیں۔

 

لیکن تمام تر تنقید کے باوجود ہمیں اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ اقوامِ متحدہ نے واقعی ایک زبردست کام کیا ہے۔ وہ اقوام جو پہلے انسانی ترقی سے متعلق ابہام کا شکار تھیں، آج جان چکی ہیں کہ اصل مسائل کیا ہیں اور ان کو کیسے حل کیا جاسکتا ہے۔ یہ حقیقت شناسی بھی بہت بڑی نعمت ہے۔ مزید یہ کہ جی ڈی پی کا بھی عقدہ کھل گیا ہے، خزانہ بھرنے سے قوم خوشحال نہیں ہوجاتی ہے بلکہ انسانی ترقی کے لیے بنیادی سہولیات کی فراہمی اور امن کا قیام ہی ترقی کا پہلا زینہ ہے۔ جس طرح اقوامِ متحدہ نے ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس بنایا ہے اسی طرح مختلف اداروں نے مختلف اشاریے بنا کر انسانیت کا بھلا کیا ہے۔

 

Index-Laaltain

مختلف اداروں کی جانب سے قائم کیئے گئے اشاریے جو انسانی ترقی کو ماپنے میں مدد دے رہے ہیں۔ اوسط درجات 1 تا 189 ہیں، یعنی کہ جتنے دنیا کہ ممالک ہیں، اتنے ہی درجات۔ کچھ اشاریے محدود ممالک کو ناپتے ہیں، اس کی دو وجوہ ہیں، یا تو ان ممالک کے بارے میں مکمل معلومات دستیاب نہیں ہیں، یا پھر وہ اقوامِ متحدہ کے ساتھ منسلک نہیں ہیں۔

 

ایک قدر جو ان تمام اشاریوں میں مشترک ہے وہ یہ ہے کہ سکنڈےنیوین ممالک انسانی ترقی کے ہر اشاریے کی صفِ اول میں موجود ہیں۔ وجہ؟ویسے تو اس سوال کا صحیح جواب کوئی ماہرِ معاشیات ہی دے سکتا ہے لیکن میرے خیال میں اس کے پیچھے 300 سال پر محیط جمہوریت اور جنگ و جدل سے اجتناب ہے۔ ناروے، فن لینڈ، سوئیڈن، سوئٹزرلینڈ ان ممالک نے جنگِ عظیم اول و دوم سے حتی المقدور فاصلہ برقرار رکھا تھا۔ نیز ان ممالک میں آزاد منڈیوں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ بہتر کاروبار، شفاف نظامِ حکومت اور مضبوط ترین نظامِ بہبود نے ان ممالک کو آج خوشحال ترین بنادیا ہے۔

 

مدت کے اختتام اور نئے سال کی شروعات پر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہمیں اس دنیا کو سب انسانوں کے رہنے کے لیے ایک پرامن اور پرآسائش جگہ بناناہے خواہ وہ کسی بھی علاقے، زبان، رنگت، نسل یا عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں۔
سکینڈے نیوین ممالک کی طرح انسانی ترقی کے میدان میں بہتر کارکردگی کے لیے انسانی ترقی کے اہداف حاصل کرنے کی کوشش ضروری ہے۔ اگرچہ ان اہداف کے حصول کی مدت گزر چکی ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک بشمول پاکستان ان اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں لیکن اس کے باوجود اس مدت کے اختتام اور نئے سال کی شروعات پر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہمیں اس دنیا کو سب انسانوں کے رہنے کے لیے ایک پرامن اور پرآسائش جگہ بناناہے خواہ وہ کسی بھی علاقے، زبان، رنگت، نسل یا عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں۔

 

سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گول اقوامِ متحدہ اب ایس-ڈی-جیز متعارف کرانے جارہی ہے۔ یہ نئے اہداف پچھلے اہداف سے سیکھے گئے اسباق پر مبنی ہیں اور ان کی تعداد17 ہے۔ میری تو بس ایک ہی تمنا ہے کہ ہمارے سیاستدان،سرکاری افسران اور سو ل سوسائٹی ان اہداف کے حصول کو اپنا اولین مقصد بنا لیں اور انسانی ترقی کے اشاریوں میں پاکستان کی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ میں امید کرتا ہوں کہ ان اہداف کے حصول کے لیے ہم سب مل کر کوشش کریں گے تاکہ یہ دنیا آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ اور خوبصورت بنائی جا سکے۔
Categories
نقطۂ نظر

Maternal Health Issue: Gender Roles as an Obstacle

maternal-health-issues

Sikander Ali

Like most of the crises in services delivery, the quality of health services delivery is far from keeping masses safe. Maternal health is one of such issues. The state has been making efforts to address this issue but they are meager and insufficient. Some commitments at national and international level have also been made in this regard to reduce maternal mortality and to provide better facilities. Millennium Development Goals (MDG) of United Nations is one such international commitment whereby Pakistan shows its concern in connection to maternal health and realizes the sensitivity of the subject. However recent figures of 2012 show that Pakistan is losing 276 women per 100,000 live births which needs to be reduced to 140 on per 100,000 by 2015. Along with that, the high fertility rate of 4.1 also needs to be reduced to 2.1 by 2015. Similarly if we categorically look at all four provinces, Balochistan would be found in alarming condition where 785 women per 100,000 live births perish during the childbirth. In Khyber Pakhtunkhwa maternal mortality rate is 350 per 100,000 and in Punjab it is 259 per 100,000 live births, while Sindh is suffering from 314 deaths per 100,000 live births. This is no doubt a high number and requires immediate attention to save hundreds and thousands of lives each year.
There are multiple factors contributing in counting maternal mortalities, for instance lack of concern by the stakeholders, lack of awareness, political instability and so on. Unfortunately intentionally or unintentionally some fundamental causes behind issues such as maternal health are usually ignored. Gender role in a given society is one such fundamental obstacle to meet the Millennium Development Goals.

Gender is purely socially constructed whereby men and women are associated with fixed social roles and responsibilities. Over generation gender has evolved into a kind of ideology.

Gender is purely socially constructed whereby men and women are associated with fixed social roles and responsibilities. Over generation gender has evolved into a kind of ideology. According to it, men are responsible for outdoor duties while women are associated with indoor household chores and child bearing activities. In under developed societies such as Pakistan, socio-cultural, religious and moral norms prescribe women to remain under the control of men. Additionally, men having control over financial and social resources make decisions about the reproductive rights of women. Women are not supposed to decide regarding family planning, number of children and the use of contraceptives etc. High fertility, preference for son and early marriages add to the vulnerability of women leading them eventually to a slow death.
From early childhood, the conflict of respective gender roles discriminates against women. This discrimination is reinforced through the web of socio-cultural and religious institutions. Examples of such attitude can be observed in distribution of food, provision of education, health and differences in expectations associated with men and women.
Pakistan is also a signatory in other international treaties for ending violence against women and seeking gender justice. Convention on the Elimination of all forms of Discrimination against Women (CEDAW), Beijing Platform for Action and Universal Declaration of Human Rights are a few major commitments. Apart of that, at national level the Article 25 of the Constitution of Pakistan reserves protection and equal rights for all citizens irrespective of class, race or sex. National Commission on the Status of Women has been established for the empowerment of women. Despite all these commitments, the reality is too obvious that it is not possible to meet the MDG standards of maternal health by 2015. There is an urgent need for public and private partnership in this regard, another objective prescribed by MDGs. We need grassroots support to tackle this issue. Educated men and opinion leaders could be helpful ally in this regard. They need to be sensitized about the severity of the issues with collective efforts of governmental and non-governmental institutions.

 


Sikander Ali is a young human rights activist and researcher currently working as a Research officer at Agha Khan University Karachi.