Categories
اداریہ

بلوچستان کے ساتھ ایچ ای سی کا امتیازی سلوک

[blockquote style=”3″]

عدنان عامر کی یہ تحریر اس سے قبل انگریزی روزنامے دی نیشن میں بھی شائع ہو چکی ہے۔ مصنف کی اجازت سے اس تحریر کا اردو ترجمہ لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

مترجم شاہجہان بلوچ

 

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کا قیام 2002 میں یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کی جگہ عمل میں لایا گیا۔ ایچ ای سی کا منشور ملک میں سرکاری جامعات کی معاونت اور معیاری تعلیم کی فراہمی ہے۔ ایچ ای سی حکام کے دعووں کے مطابق اپنے قیام سے لے کر اب تک اس ادارے نے 176 ارب روپے کی رقم خرچ کر کے ملک بھر کے دس ہزار سے زائد طلبا و طالبات کو وظائف سے نوازا ہے۔ جہاں تک بلوچستان کو محروم رکھنے کی بات ہے تو دیگر وفاقی اداروں کی طرح ایچ ای سی کا رویہ بھی غیر منصفانہ ہے۔

 

ایچ ای سی کے سالانہ رپورٹ برائے سال 2012-13 میں دیئے گئے اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ تعلیمی وظائف اور جامعات کو مالی امداد فراہم کرنے میں بلوچستان کی حق تلفی کی گئی ہے۔
تسلیم شدہ آئینی کوٹے کی خلاف ورزی

 

ایچ ای سی کے سالانہ رپورٹ برائے سال 2012-13 میں دیئے گئے اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ تعلیمی وظائف اور جامعات کو مالی امداد فراہم کرنے میں بلوچستان کی حق تلفی کی گئی ہے۔ رپورٹ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ بلوچستان کو ایچ ای سی کے وظائف اور مالی امداد کا صرف 3 فیصد حصہ مل رہا ہے جو بلوچستان کے تسلیم شدہ آئینی کوٹے 6 فیصد کا بھی نصف ہے۔

 

وظائف کی تقسیم میں ناانصافی

 

مذکورہ بالا رپورٹ کے مطابق ملک بھر کی جامعات میں اندراج یافتہ طلبا و طالبات کو مختلف تعلیمی پروگراموں کے ایچ ای سی وظائف سے نوازا گیا۔ سال 2012-13 میں ایچ ای سی نے 2,895 پی ایچ ڈی (PHD) وظائف جاری کیے جن میں سے بلوچستان کے صرف 30 طلبہ کومنتخب کیا گیا۔ یہ تعداد کُل وظائف کا محض 1 فیصد ہے۔ ایچ ای سی کی جانب سے یونیورسٹی طلبا و طالبات 8,317 طلبہ کو بیرون ملک وظائف دے کر پڑھنے بھیجا گیا۔ بلوچستان اور قبائلی علاقوں کو ملا کر صرف12 وظائف دیئے گئے، یعنی بلوچستان اور فاٹا کا مشترکہ حصہ 0.14 فیصد بنا ہے جو کہ انصاف کے نام پر ایک مذاق ہے۔ اسی طرح سال 2012-13 میں ایچ ای سی کی جانب سے اندرون ملک دیئے جانے والے 5,524 وظائف میں سے بلوچستان کا حصہ صرف 2 فیصد رہا ہے۔

 

ریسرچ گرانٹ کی غیر منصفانہ تقسیم

 

ایچ ای سی کا نیشنل ریسرچ پروگرام فار یونیورسٹیز (NRPU) یونیورسٹی اساتذہ کو سائنسی تحقیق کو مالی تعاون فراہم کرتا ہے، اس پروگرام کا بنیادی مقصد اعلی تعلیمی اداروں میں سائنسی تحقیق اور جدت کو فروغ دینا ہے۔ بدقسمتی سے سال 2012-13 میں بلوچستان کو اس گرانٹ میں سے بھی صرف 2.62 فیصد ہی نصیب ہوا۔

 

بلوچستان میں صرف ایک تحقیقی کانفرنس منعقد کی گئی

 

بلوچستان میں یونیورسٹیز کی مخدوش حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے ترجیحی بنیادوں پر زیادہ حصہ دینا چاہیئے تھا مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔
سیمینار اور کانفرنسز اعلیٰ تعلیم کے لازمی اجزاء گردانی جاتی ہیں۔ ایچ ای سی کے زیرانتظام ایسی تقاریب منعقد کرائی جاتی ہیں۔ ایچ ای سی یونیورسٹیز کو سیمپوزیم، تربیتی ورکشاپ، سیمینار اور کانفرنسز منعقد کروانے میں معاونت فراہم کرتا ہے تاکہ ان یونیورسٹیوں میں کی جانے والی سائنسی تحقیق کو دنیا بھر کے علمی حلقوں کے سامنے لایا جا سکے۔ ایچ ای سی نے ایسے تقاریب منعقد کروانے پر 52.117 ملین روپے خرچ کیے ہیں، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بلوچستان میں اب تک ایچ ای سی کی جانب سے صرف ایک ایسی تقریب منعقد کروائی گئی ہے. جبکہ دوسری جانب صرف اسلام آباد میں ہی ایچ ای سی نے 46 ایسی تقاریب کا اہتمام کیا۔

 

ترقیاتی امداد کی نامنصفانہ تقسیم

 

یونیورسٹیز کو دی جانے والی ترقیاتی امداد کے پروگرام میں بھی ایچ ای سی کی جانب سے بلوچستان کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔ اس پروگرام کے تحت ایچ ای سی ملک بھر میں جامعات کے قیام اور پہلے سے قائم شدہ جامعات کو وسعت دینے کے لیے ترقیاتی رقوم فراہم کرتا ہے۔ سال 2012-13میں ایچ ای سی نے اس مد میں 12.014 ارب کی رقوم جاری کیں جن میں بلوچستان کا حصہ صرف 4.09 فیصد رہا۔

 

بلوچستان سے زیادتی، آئین کی خلاف ورزی ہے

 

بلوچستان میں یونیورسٹیز کی مخدوش حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے ترجیحی بنیادوں پر زیادہ حصہ دینا چاہیئے تھا مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ آئینی طور پر ایچ ای سی کے تمام تر وسائل میں بلوچستان کا حصہ 6 فیصد بنتا ہے، مگر مذکورہ بالا اعداد و شمار یہ ثابت کرتے ہیں کہ بلوچستان کو بمشکل ایچ ای سی کے مجموعی وسائل سے 3 فیصد مل رہا ہے، حالانکہ پاکستان کے آئین کے مطابق بلوچستان کو اس کے 6 فیصد کوٹے سے زیادہ ملنا چاہیئے تھا۔

 

آئین کے آرٹیکل 37 کی شق (الف) میں واضح طور پر درج ہے کہ ریاست “پسماندہ طبقات یا علاقوں کے معاشی اور تعلیمی مفادات کو خصوصی توجہ کے ساتھ فروغ دے گی” اور اسی آرٹیکل کی ایک اور شق (ج) میں درج ہے “فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کو عام طور پر ممکن الحصول اور اہلیت اور لیاقت کی بنیاد پر سب کے لیے قابل دسترس بنائے گی۔”
اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے تمام پسماندہ علاقے، جن میں بلوچستان سرفہرست ہے، کو ان کے مختحض شدہ حصے سے زیادہ ملنا چاہیئے تاکہ وہ قومی معیارات سے ہم آہنگ ہوسکیں۔ بلوچستان کو اس کےتسلیم شدہ آئینی کوٹے یعنی 6 فیصد سے بھی کم حصہ دینا دراصل ایچ ای سی کی جانب سے پاکستانی دستور کی صریح اور افسوس ناک خلاف ورزی ہے۔

 

بلوچستان سے ناانصافی کیوں اور کب تک؟

 

بلوچستان کو اس کےتسلیم شدہ آئینی کوٹے یعنی 6 فیصد سے بھی کم حصہ دینا دراصل ایچ ای سی کی جانب سے پاکستانی دستور کی مکمل اور افسوس ناک خلاف ورزی ہے۔
بادی النظر میں ایچ ای سی ایک سوچےسمجھے منصوبے کے تحت بلوچستان کے طلبا و طالبات کو وظائف حاصل کرنے سے روکتا ہے۔ ایچ ای سی کے بیرون ملک وظائف کے معیار پر صرف وہ طلبا و طالبات پورے اتر سکتے ہیں جن کے مکمل تعلیمی سفر میں ایک بھی تھرڈ ڈویژن نہ ہو۔ بلوچستان کی تعلیمی زبوں حالی کا یہ عالم ہے کہ طلبا و طالبات کے تعلیمی کیرئیر میں کم سے کم ایک تھرڈ ڈویژن لازمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ ایچ ای سی وظائف کے اہل نہیں قرار پاتے۔ درحقیقت بیرونی یونیورسٹیز کو داخلے کے لیے صرف
GRE اور TOEFL مطلوب ہیں، یہ “No Third Division” کی شرط محض ایچ ای سی کی جانب سے نامعلوم وجوہ کی بنا پر لاگو ہے۔

 

ایچ ای سی کی مذکوره بالا پالیسی سے صرف مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکھنے والے ہی مستفید ہو رہے ہیں جو مہنگے اداروں سے پڑھ کر اچھے نمبروں سے پاس ہوتے ہیں۔ یہ طبقاتی رویہ اقتصادی اور سماجی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مستحق افراد کو حقوق دینے کے مکمل منافی ہے۔

 

ایچ ای سی بلوچستان کے طلبہ کے ساتھ نا انصافی کر رہا ہے مگر بدقسمتی سے اس نا انصافی کے خلاف آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ہے کیونکہ موجودہ صوبائی حکومت اور پارلیمانی اراکین اس امر سے بے خبر ہیں۔ لالچ، طاقت اور اقتدار کے نشے میں چُور ان سیاستدانوں کی بے خبری نے ایچ ای سی حکام کو بلوچستان کے طلبہ کے مستقبل کے ساتھ حسب منشاء کھیلنے کا اختیار دے دیا ہے۔ جب تک بلوچستان کی سول سوسائٹی اور سیاستدان اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند نہیں کریں گے تب تک ایچ ای سی پاکستانی آئین کی خلاف ورزی کرتا رہے گا اور بلوچستان کے طلبا کی حق تلفی ہوتی رہے گی۔
Categories
نقطۂ نظر

لاچار بلوچ خواتین اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام

ویسے تو بلوچ روایات کے مطابق خواتین کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں لیکن جب گھر میں نوبت فاقوں تک آجائے تو خواتین کو گھر چلانے کے لیے گھر سے باہر کا راستہ دیکھنا ہی پڑتا ہے۔ سارا دن کام کے عوض وہ دو وقت کی روٹی کا انتظام کرکے گھر آجاتی ہیں۔ بلوچ معاشرے میں حصول روزگار کے لیے خواتین وہ کو اہمیت اور ترجیح نہیں دی جاتی جو مرد کو حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کے بیشتر اداروں میں ملازمت کے لیے مردوں کو عورتوں پر فوقیت دی جاتی ہے اور خواتین کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ یہی سوال جب میں نے اپنے ایک دوست (جو کافی عرصے سے این جی اوز کے ساتھ منسلک ہیں) سے پوچھاکہ خواتین کے مسائل پر ہونے والے پروگراموں میں مرد ہی شرکت کرتے ہیں اگر اکا دکا عورتیں نظر آجاتی ہیں تو بھی انہیں بولنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ یا تو وہ اس قدر دباو محسوس کرتی ہیں کہ انہیں بولتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے یا پھر انہیں اس لائق نہیں سمجھا جاتا۔ تو ان کا کہنا تھا کہ “خواتین اتنی باصلاحیت نہیں، جس بہتر انداز میں ایک مرد بات کر سکتا ہے اور اپنا موقف پیش کر سکتا ہے ایک عورت نہیں کر سکتی۔” یہ مغالطہ ہر جگہ عام ہے کہ خواتین مردوں جتنی باصلاحیت نہیں ہوتیں۔ خواتین کو ایسے ہی مغالطوں کی بناء پر تعلیم، روزگار اور ترقی کے مواقع سے محروم رکھا گیا ہے۔

 

ہم یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتے کہ ہم نے، ہماری روایات نے اور ہمارے معاشرے نے عورت کو تعلیم اور ہنر سے محروم رکھا ہے جس کی وجہ سے وہ آج اس حال میں ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کی تعلیم اور شعور پر قدغن لگانے والی قوتیں ہی اسے کسی ہنر کے بغیر کمانے پر بھی مجبور کرتی ہیں۔ روزگار کے حصول کے لیے درکار علم و ہنر سے محروم رکھ کر ہم خواتین کو بھیک مانگنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اکثر و بیشتر ہم ہوٹلوں اور بازاروں میں خواتین کو بھیک مانگتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ہمارا ضمیر وقتی طور پر جاگ جاتا ہے کہ اس معاشرے میں ایک عورت آخر کس طرح بھکاری بن گئی لیکن ہم اپنے اندر جھانک کر اس کی وجوہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتے کہ ہم نے، ہماری روایات نے اور ہمارے معاشرے نے عورت کو تعلیم اور ہنر سے محروم رکھا ہے جس کی وجہ سے وہ آج اس حال میں ہے۔

 

ہمارے معاشرے میں عورت کو معاشی طور پر مرد کا محتاج رکھنے کے تو بے شمار طریقے رائج کر لیے ہیں، لیکن خواتین کو آگے آنے، اپنے پیروں پر کھڑا ہونے اور خودمختار ہونے کے راستے نہیں دیئے گئے۔ زمینی فرشتوں نے اپنے تئیں یہ فرض کر لیا ہے کہ اگر خواتین آگے جائیں گی تو مرد کو گھر کے کام کرنے پڑیں گے، یا خاندان بکھر جائیں گے، طلاقیں بڑھ جائیں گی یا بے حیائی بڑھ جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ انہی بے بنیاد مفروضوں کی وجہ سے عورت کو گھر کی زیب و زینت بنا کر اسے معاشرے کا حصہ بننے سے روک دیا گیا۔ لیکن جہاں پیسے اور مفادات کی بات آگئی تو خواتین پر عائد قدغنیں فوراً ہٹا دی گئیں۔ مجھے یاد ہے پہلے پہل تو بیت المال سے ملنے والے وظائف کے نام پر خواتین کو چند سو روپوں کی خاطر ڈاک خانوں کے چکر کاٹنے پر مجبور کیا گیا۔ اور اب یہ سلسلہ بیت المال سے نکل کر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی صورت میں سامنے آ گیا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے یہاں کی خواتین کو ‘بھکاری بنانے’ کی حتی الامکان کوشش کی جا رہی ہے۔ ہر ماہ 1500 روپے کس طرح کسی غریب خاتون کی ماہانہ امداد اور کفالت کے لیے کافی ہوں گے لیکن اس کے عوض جو تکلیف اور پریشانی ان لاچار اور غریب خواتین کو برداشت کرنا پڑتی ہے وہ تکلیف دہ اور قابل اعتراض ہے۔ حکومت اور معاشرہ کس طرح ایک عورت کو تعلیم، ہنر اور روزگار سے محروم کر کے محض پندرہ سو روپے ماہانہ دے کر اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو سکتے ہیں۔

 

ہمارے معاشرے میں عورت کو معاشی طور پر مرد کا محتاج رکھنے کے تو بے شمار طریقے رائج کر لیے ہیں، لیکن خواتین کو آگے آنے، اپنے پیروں پر کھڑا ہونے اور خودمختار ہونے کے راستے نہیں دیئے گئے۔
گزشتہ دنوں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سربراہ محترمہ ماروی میمن صاحبہ ایک ‘مصنوعی عوامی تقریب’ میں شرکت کے لیے کوئٹہ تشریف لائیں، بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے خواتین اس آس پر کوئٹہ پہنچ کر پنڈال میں صبح 9بجے سے شام 4بجے تک انتظار کرتی رہیں کہ شاید ماروی میمن ان کے لیے کسی پیکج کا اعلان کریں گی اور ان میں رقوم تقسیم کریں گی۔ ان عورتوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں 7 گھنٹے انتظار کرایا گیا۔ نہ جانے اس روز کتنے گھروں میں چولہے اس امید پر نہیں جلے ہوں گے کہ ہو سکتا ہے کہ ماروی میمن ان کی فلاح کے لیے کچھ اعلان کریں گی۔ لیکن وہی ہوا جو بلوچستان کی عورتوں کے ساتھ ہمیشہ ہوتا آیا ہے، محترمہ ماروی میمن کوئٹہ تشریف لے آئیں، انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں سب عورتیں دل تھام کر ان کی زبان سے انعامات و اکرامات کے اعلانات سننے بیٹھ گئیں لیکن سب بے سود۔۔۔۔۔ نہ ماروی میمن انہیں کچھ دے سکیں اور نہ ہی ان کی امیدیں بر آئیں۔ اور چارو ناچار پیاسے ہونٹوں اور خالی معدوں کے ساتھ وہ واپس اپنے گھروں کی طرف روانہ ہو گئیں۔

 

بلوچستان کی خواتین کو تعلیم، روزگار اور کاروباری مواقع کی ضرورت ہے، ان کے لیے تعلیمی اداروں کا بندوبست کرنا ہو گااور انہیں ہنر مند بنانے کا انتظام کرنا ہوگا تاکہ وہ اپنے معاشی حالات کو بہتر بنانے کی ذمہ داری اٹھانے کے قابل ہو سکیں۔ ماروی میمن اور ان کے ہمراہ تقریب میں شریک نو منتخب سپیکر بلوچستان اسمبلی محترمہ راحیلہ درانی کو بخوبی اس بات احساس ہونا چاہیئے کہ 1500روپے کسی بھی گھر کو خوشحال بنانے کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ اگر یہی رقم عورتوں کو قطاروں میں کھڑا کرنے کی بجائے ان کی تعلیم، صحت، فلاح و بہبود پر صحیح معنوں میں خرچ کی جائے تو یقیناً اس سے دیرپا فوائد حاصل ہوں گے۔ یہی وسائل اگر انہیں محتاج بنانے کی بجائے ہنرمند بنانے کے لیے استعمال ہوں تو یقیناً خواتین اور خاندان کے حالات زندگی میں ایک بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔ چند باتیں سنانے کے لیے انہیں سات سات گھنٹے اپنے انتظار میں بٹھا کر ان کے احساسات سے کھیلنے کا ڈرامہ اب بند کیا جانا چاہیئے۔

 

آج ماروی میمن اور راحیلہ درانی اگر سیاست میں ہیں اور مختلف عہدوں تک پہنچی ہیں تو وہ تعلیم اور عملی زندگی میں حصہ لینے کے مواقع کی بنیاد پر پہنچی ہیں نا کہ انکم سپورٹ کے نام پر چند سو روپے وصول کر کے۔ اگر بلوچ عورت کی فلاح چاہیئے تو اسے تعلیم دیجیے انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر پندرہ سو روہے نہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

Education in Balochistan: Misplaced Priorities Amid Great Challenges

The education sector in Balochistan is in a sorry state while the government is only relying on rhetorical promises about improving the situation. Independent studies carried out about the scale of the problem paint an abysmal picture.

Out of 3.6 million, only 1.3 million children go to school in Balochistan. A staggering number of 7,300 teaching positions are still vacant in the province, out of which 2,200 are those of secondary schools. Pakistan Social and Living Measurement Survey (2011-12) states that Balochistan has a literacy rate of 46% as compared to 58% in the entire country. The Annual Status of Education Report (ASER) 2013 makes shocking revelations about the state of education in Balochistan. According to this report; 71 percent schools in Balochistan have no access to drinking water while there is no toilet facility In 83% of the schools.This suggests that the already established educational institutes are in dire need of funding from the provincial exchequer.

71 percent schools in Balochistan have no access to drinking water while there is no toilet facility in 83% of the schools.

In the annual budget for fiscal year 2014-15, the education budget has been increased to 26%. The government has announced the establishment of a number of schools, colleges and a few university campuses. While these efforts of the Balochistan government are commendable but the bitter truth is that they alone will not solve the major problems faced by the education sector. The existing educational institutes face a lot of problems, as stated above. There is no significant allocation of funds by the government to address those problems. The new educational institutes will take years to complete and even after that their future is subject to release of funds by forthcoming governments. In the present circumstances the first priority should be to cater to the needs of existing educational establishments rather than diverting funds to a number of new establishments.

The current political leadership of Balochistan led by Dr. Abdul Malik Baloch has completely failed in bringing positive changes to the educational landscape of Balochistan. Just like schools, there are also a lot of unfilled vacancies in the colleges in Balochistan. At the beginning of this year, the Balochistan government advertised 674 positions of lecturers on the district quota basis. This was followed by political controversies on ethnic basis and Dr. Malikhad to cancel the recruitment on these vacancies due to pressure from its main coalition partner. Apart from that, 250 vacancies in technical education which were in the last stages of recruitment were cancelled at the last moment due to petty politics. On the other hand, ruling coalition in Balochistan has not failed to miss a single opportunity to appoint their men at important positions. Take for example, 20th of May was the last date for submitting applications for the position of Principle of University Law College. Over efficient ministers in government appointed their own man on the 10th of May. One of the cabinet members appointed his daughter a lecturer at the University of Balochistan bypassing all established rules. These are just a few examples of the seriousness of the present government in solving the educational crisis in the province.

Moreover, political patronage of teaching staff along with the lack of vigilance is also a main problem. Many teachers don’t go to the schools and collect their salaries while resting at home. The exact number of such teachers is not known, but one can safely say that they make a significant chunk of the entire teaching staff. The educational inspectors who are supposed to make unannounced visits to check the attendance of teachers, either take bribes or don’t bother to travel to schools which are far away from district headquarters. Some teachers and headmasters, owing to their connections with government ministers and members of provincial assemblies, do not care to perform their duties. Even the top most officials of education department cannot dare to take action against such crooked teachers. The incumbent government has yet to take any concrete measure to ensure that all teachers perform their duties. It has also not succeeded in effectively instructing members of the provincial assembly to stop patronizing the corrupt teachers.

In Panjgur district of Balochistan, an unknown extremist organization called Tanzeem-ul-Islami-ul-Furqanhas threatened all girls’institutes to either shut down or face consequences.

Since May of this year, girls’ education has been facing a challenge yet to be addressed by the government. In Panjgur district of Balochistan, an unknown extremist organization called Tanzeem-ul-Islami-ul-Furqanhas threatened all girls’ institutes to either shut down or face consequences. After a few days, the extremist organization attacked the vehicle carrying staff of a co-educational institute. This led to the closure of all private and girls’ schools in Panjgur district, which are closed till to date. Tanzeem-ul-Islami-ul-Furqan has been rightly dubbed as Boko Haram of Balochistan. Panjgur district is adjacent to Kech district, which is also the hometown of Chief Minister Dr. Abdul Malik. He has only given political statements and failed to take action to provide security to the schools so that they can resume imparting education. If a chief minister cannot solve a grave crisis close to his hometown, then it would be unwise to expect from him any resolution of bigger educational problems all over Balochistan.

According to the budget, the government’s focus is towards construction of several new educational institutes. The reason is obvious because construction projects are always lucrative for politicians due to the possibility of huge kickbacks. Rather than looking for opportunities to earn some commission, government officials should take practical and concrete steps to initiate the process of solving existing education problems because these problems cannot be solved overnight. Firstly, the government should ensure that educational inspectors are effectively carrying out their job and inspecting every school in the province. Secondly, all government members of provincial assembly should immediately cease patronage of corrupt educational staff and other officials. Thirdly, the government should make recruitment on 7,300 vacancies in the educational sector. This can only be done if establishment of some less important newly proposed institutes is postponed for the time being. Lastly, completely eliminating favoritism, nepotism and ethnic bias and then formulating a long term educational policy for the province. All these steps require strong political will which current government has failed to manifest so far.