Categories
اداریہ

یو ای ٹی ٹیکسلا چھ نئے مضامین متعارف کرائے گی

یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلااگلے تعلیمی سال کے دوران چھ نئے تعلیمی کورسز متعارف کرائے گی۔ یونیورسٹی انتظامیہ ان کورسزکے انعقاد کے لئے نئی عمارت بھی تعمیرکرائے گی۔ وائس چانسلر یوای ٹی ٹیکسلا پروفیسرڈاکٹر محمد عباس کے مطابق اگلے تعلیمی سال کے دوران یونیورسٹی کے طلبہ کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تعلیم دینے کے لئے گریجویشن سے لے کر ڈاکٹریٹ کی سطح تک انرجی انجینئرنگ،میٹیریل انجینئرنگ، الیکٹرانک انجینئرنگ،اپلائیڈفزکس اور ٹاون پلاننگ کے مضامین متعارف کرائے جائیں گے۔
یونیورسٹی ذرائع کے مطابق نئے مضامین کی تدریس اور عمارت کی تعمیر پر 95کروڑخرچ کئے جائیں گے۔ طلبہ کی تعداد میں اضافہ کے پیشِ نظر نئے ہاسٹل بھی تعمیر کئے جائیں گے۔نئے مضامین کے باعث یونیورسٹی کے طلبہ کی تعداد دگنی ہونے کی امید ہے۔ “ہم آنے والے برسوں میں طلبہ کی تعداد 6500 تک لے جانا چاہتے ہیں، یونیورسٹی کے اقدامات سے پی ایچ ڈی سکالرز کی تعداد 225 سے بڑھ کر 660 ہو جائے گی” ڈاکٹر عباس نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا۔تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی معیار تعلیم کی بہتری کے لئے تجربہ گاہوں میں بہتر سامان کی فراہمی پر بھی روپیہ خرچ کرے گی۔
مختلف مضامین میں تحقیق کے لئے یونیورسٹی انتظامیہ مختلف کاروباری اداروں سے تعاون اور تحقیقی مرکز کے قیام کے لئے بھی مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ طلبہ ذرائع نے یونیورسٹی کے ان منصوبوں کو سراہتے ہوئے اسے پاکستان میں انجینئرنگ کی تعلیم کے لئے خوش آئند قرار دیا ہے۔
Categories
اداریہ

قائد اعظم یونیورسٹی؛ امتحانات میں غلط سوالیہ پرچہ تقسیم ہونے پر پرچہ ملتوی

قائد اعظیم یونیورسٹی اسلام آباد کے تحت جاری بی-اے، بی –ایس –سی اور بی-کام امتحانات کے دوران سال سوم کے طلبہ میں سال چہارم کا پرچہ تقسیم ہونے کی وجہ سےیونیورسٹی سے منسلک 14 کالجز کے طلبہ کو پرچہ دیے بغیر گھر جانا پڑا۔ اطلاعات کے مطابق قائد اعظم یونیورسٹی کے سال سوم کے طلبہ کو جغرافیہ کے پرچہ کے دورانسال چہارم کا سوالیہ پرچہ تقسیم کردیا گیا جسے طلبہ کے احتجاج کے بعد واپس لے لیا گیا ۔
“پرچہ واپس لینے کے بعد ہمیں انتظار کرنے کو کہا گیا کہ جلد ہی نیا سوالیہ پرچہ تقسیم کیا جائے گا۔لیکن ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کے بعد ہمیں گھر بھیج دیا گیا۔ ” پوسٹ گریجویٹ کالج سیکٹر F-7/2کے باہر موجود طلبہ نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ امتحانی عملہ کے مطابق موصول ہونے والے سوالیہ پرچوں کے بنڈل پر سال سوم لکھا ہو تھا جب کہ سوالات سال چہارم کے سلیبس سے دیے گئے تھے۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے اس غلطی کی نشاندہی کے لئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور ملتوی کیا گیا پرچہ 24 مئی کو لینے کا اعلان کیا ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی کی جانب سے منعقدہ امتحانات کے دوران غلط رول نمبر سلپس اور ڈیٹ شیٹ کی تقسیم سمیت دیگر انتظامی بے قاعدگیوں کے باعث طلبہ حلقوں نے یونیورسٹی انتظامیہ پر شدید تنقید کی ہے اور اصلاح کا مطالبہ کیا ہے۔