Categories
شاعری

عافیت کہاں ہے؟

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

عافیت کہاں ہے؟
(حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں)

[/vc_column_text][vc_column_text]

چلو آؤ، لوٹیں
کہ شام اب پچھل پیریوں کی طرح
خون کی پیاس سے چھٹپٹانے لگی ہے
ہوا کا سراپا
کسی خوف کی بھاری زنجیر سے خود کو باندھے ہوئے
لڑکھڑانے لگا ہے
گھروں کو چلیں
رات کا کالا عفریت ماتم گزیدہ ہے۔۔۔
غاروں سے نکلے گا، سڑکوں پہ گھومے گا
اور شہر کے باسیوں کو
جو (شب گرد ہیں) اپنے کالے پروں میں دبوچے گا ۔۔
کھا جائے گا!

 

آؤ، واپس گھروں کی طرف رُخ کریں
بند کمروں میں سیلن ہے، بُو ہے، گھٹن ہے
مگر عافیت ہے!

Image: Magdalena Abakanowicz
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

بائی زنبِ قُتلَت

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بائی زنبِ قُتلَت
)کس جرم کی پاداش میں مارا گیا ہوں(

[/vc_column_text][vc_column_text]

اک سر جو معلق ہے سوا نیزے پر
اک سر جو کسی جسم سے کاٹا گیا تھا
اک سر کہ ٹپکتے ہیں ابھی تک جس سے
لو دیتے ہوۓ گرم لہو کے قطرے
اک سر جو مزین تھا بدن پر اپنے
اک سر جو کبھی موتی جڑے تاج سا تھا

 

یہ سر کئی صدیوں سے معلق کھڑا ہے
اور رفتہ و آئندہ کی سب نسلوں سے
آقاؤں سے، ملّاؤں سے، جرنیلوں سے
اسکندروں، داراؤں سے، چنگیزوں سے
یورپ کے ہوس کار عناں گیروں سے
کرتا ہے فقط ایک سوال، ایک ہی بات

 

میں تو فقط اک عام سا شہری تھا، مجھے
کس جرم کی پاداش میں مارا گیا ہے؟

 

الحمرا ۔ لاہور، جولائی 2015 ء

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]