Categories
نان فکشن

ظروف سازی کی دم توڑتی روایت

روئے زمین پر اپنی آمد کے ساتھ ہی حضرت انسان نے جن چیزوں کی ضرورت محسوس کی ان میں کھانے پینے اور دیگر استعمال کے برتن بھی شامل تھے۔ ابتداء میں پتوں، لکڑی، ہڈیوں، پتھروں اور چھلکوں کو برتنوں کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ برتنوں کی اقسام اور ان کی بناوٹ میں جدت آتی گئی۔ افراد سے خاندان اور پھر معاشرے کی تشکیل کے دوران بڑھتی ضروریات کے ساتھ برتنوں کے ڈیزائن اور استعمال بدلتا رہا۔ زندہ رہنے کے لیے خوراک کا انتظام اورخود کو محفوظ رکھنے کے لیے مناسب جگہ کی تلاش کے بعد ہتھیار، اوزار اور برتن مزید اہم ہو گئے۔ جس قبیلے کے پاس خوراک کا ذخیرہ، رہنے کے لیے مناسب و محفوظ رہائش، دفاع کے لیے ہتھیار، کام کرنے کے لیے اوزار اور استعمال کے برتن ہوتے وہ قبیلہ قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کی بہتر سکت رکھتا تھا۔

 

رہن سہن کھانا پینا اور اوڑھنا بچھونا مہذب معاشرت کی پہلی نشانیاں تھیں۔ تین قدیم تہذیبیں جن میں ایک دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے کنارے عراق میں میسوپوٹامیہ کی تہذیب ہے، دوسری دریائے نیل کے کنارے مصر اور تیسری وادی سندھ کی تہذیب ہے سبھی جگہ ظروف سازی کی روایت اور صنعت موجود تھی۔
ظروف سازی کی تاریخ

 

رہن سہن کھانا پینا اور اوڑھنا بچھونا مہذب معاشرت کی پہلی نشانیاں تھیں۔ تین قدیم تہذیبیں جن میں ایک دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے کنارے عراق میں میسوپوٹامیہ کی تہذیب ہے، دوسری دریائے نیل کے کنارے مصر اور تیسری وادی سندھ کی تہذیب ہے سبھی جگہ ظروف سازی کی روایت اور صنعت موجود تھی۔ وادی سندھ کی تہذیب کو باقی تہذیبوں سے زیادہ ترقی یافتہ تہذیب تسلیم کیا گیا ہے۔ پانچ ہزار سال پہلے بھی اس علاقے میں نکاسی آب اک نظام، گودام اور مٹی کے برتن، مورتیاں اور اینٹیں پکانے کی بھٹیاں موجود تھیں۔ وادی سندھ کے دریافت شدہ آثار میں جن بھٹیوں کے آثار ملے ہیں وہ سیاہ رنگ کی چوڑیاں اور مٹی کے چھوٹے بڑے برتن پکانے کے لیے بھی استعمال کی جاتی تھیں۔ انہی بھٹیوں کے قریب رہائشی مکانات، غلہ جمع کرنے کے لیے قد آور مٹی کے مٹکے بھی ملے ہیں۔
مٹی کے برتن بنانے کا فن کم ازکم آٹھ سے دس ہزار سال پرانا ہے اور صنعت دنیا کی سب سے قدیم صنعتوں میں سے ہے۔ انسانی شعور کے ابتدائی دور میں ہی انسان نے مٹی کے برتن بنانا اور انہیں آگ میں پکا کر مضبوط کرنا سیکھ لیا تھا اور چین میں اس فن کو عروج حاصل ہوا۔ مٹی سے برتن بنانے کی صنعت میں نفاست مسلمان ہنرمندوں کی دین ہے۔ مسلمانوں نے رنگ دارمٹی سے برتن بنانے کی ابتداء کی۔ مسلمان ہنرمندوں نے مراکش سے لے کر اندلس تک اور پھربرصغیر میں بھی اس فن کو دوام دیا۔ پاکستان میں رنگ دارمٹی کے برتن اور اس پر کاشی گری کا ہنر کمالِ فن کی معراج تک پہنچا۔

 

ظروف سازی کے فن کو درپیش خطرات

 

زمانہ قدیم سے لے کر آج کے جدید دور تک برتن انسان کی ضرورت رہے ہیں۔ آج مٹی کے برتنوں کا استعمال تقریباً ختم ہو چکا ہے لیکن پہلے گھروں میں زیادہ تر مٹی کے برتن ہی استعمال ہوتے تھے۔ روزمرہ استعمال کے برتن جن میں پانی کے لیے گھڑے، دال سبزی چولہے پر چڑھانے کے لیے ہنڈیا، کھانا پروسنے کے لیے پیالے اور اچار ڈالنے کے مرتبان بھی مٹی سے بنائے جاتے تھے۔ پانی مٹی کے پیالہ سے پیا جاتا تھا۔ لیکن آج مٹی کے برتنوں کی جگہ تام چینی، پلاسٹک اور شیشے کے برتنوں نے لے لی ہے۔ مٹی کے برتنوں کی روایت ہماری ثقافت کا حصہ ہے مگر یہ روایت اب دم توڑتی جارہی ہے۔ استعمال ہونے والے برتنوں کی قدیم شکلیں ناپید ہو رہی ہیں۔ اس سے نہ صرف ہماری ثقافت متاثر ہو رہی ہے بلکہ آہستہ آہستہ ہماری نئی نسل ان چیزوں کے نام تک بھول رہی ہے۔ مٹی کے برتنوں کی دو پہلو ہیں؛ ایک تاریخی دوسرا ثقافتی اور ان کے ختم ہونے سے ہمارا ثقافتی ورثہ بھی ہمارے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔
مٹی کے برتن بنانے کی صنعت کے خاتمے کی وجہ سے ثقافت متاثر ہونے کے ساتھ ہماری معیشت پر بھی برے اثرات پڑ رہے ہیں۔ کبھی یہ صنعت پاکستان کے دیہی علاقوں اور شہری مضافات کی اہم صنعت تھی جس سے لاکھوں لوگ وابستہ تھے لیکن اب بیشتر لوگ یہ پیشہ ترک کر چکے ہیں۔ اس قدیم صنعت سے وابستہ ہنرمندوں میں کام کے حوالے سے مایوسی بڑھی ہے۔ ماہر کاریگر یا تو وفات پاگئے ہیں یا پھر ان کے دوسرے شعبوں میں چلے جانے سے اب یہ صنعت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اس ہنر کے متروک ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ مٹی کے برتنوں کے استعمال کا رحجان کم ہوا ہے۔ ان کا استعمال اب مذہبی رسوم یا پھر مخصوص کھانے پکانے تک محدود ہو گیا ہے۔

 

مٹی کے برتن بنانے کے لیے پہلے مٹی کو اچھی طرح ‘سانا’ جاتا ہے اور پھر اسے چاک پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ چاک کو پاوں یا موٹر کی مدد سے گھمایا جاتا ہے۔ اسی حرکت کی دوران ہاتھوں کی مدد سے برتن کو حسب منشاء شکل دے کر چاک سے اتار لیا جاتا ہے۔
مٹی کے برتن کیسے بنتے ہیں؟

 

مٹی کے برتن تین قسم کے ہوتے ہیں ایک تو وہ برتن جن سے پانی رستا ہے، دوسرے پتھر چینی Stoneware کے برتن اور تیسرے چینی مٹی کے برتن۔ چاک پر مٹی کے برتنوں کی تیاری کا عمل گو بے حد سادہ ہے لیکن اس کے لیے بے پناہ انسانی مہارت اور مشق کی ضرورت ہوتی ہے۔ مٹی کے برتن بنانے کے لیے پہلے مٹی کو اچھی طرح ‘سانا’ جاتا ہے اور پھر اسے چاک پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ چاک کو پاوں یا موٹر کی مدد سے گھمایا جاتا ہے۔ اسی حرکت کی دوران ہاتھوں کی مدد سے برتن کو حسب منشاء شکل دے کر چاک سے اتار لیا جاتا ہے۔ پھر اس پر نقش ونگار بنائے جاتے ہیں اور سوکھنے کے بعد بھٹی پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ بھٹی میں پکانے کا عمل بھی سادہ ہے مگر بے حد احتیاط کا متقاضی ہے۔ برتن کے رنگ کا تعلق بھٹی میں ہوا پہنچنے کے راستے اور ہوا کی مقدار پر ہے۔

 

چاک پر بنائے جانے والے چند روایتی برتن

 

اس طریقے مٹی کے مختلف برتن تیار کیے جاتے ہیں جن میں آٹا گوندھنے والی کنالیاں، جسے سرائیکی وسیب میں پاتری بھی کہا جاتا ہے، روٹی پکانے کے لیے تندور، کھانا پکانے کی ہنڈیا، پانی کے گھڑے، طہارت خانوں کے لیے “استاوہ یا لوٹا” تیل کے دِیے، لسی بنانے کے لیے “چاٹی” گھروں میں آٹا محفوظ کرنے کے لیے “چٹورے”، گندم کو محفوط کرنے کے لیے “کلوھٹی”، پیاز، سبز مرچ پیسنے کے لیے “دَورِی”، “دابڑا” جس میں بچہ بیٹھ کر کھیل سکتا ہے، حقے کی چِلم اور لسی پینے کا برتن “ڈولا” پانی پینے کا کٹورا، سالن کے لیے “کٹوری”، گھڑے اورمٹکے کے اوپر رکھی جانے والی “چھوڑنیں”، مٹکے کے ساتھ رکھی جانے والی “ڈولی”، اچار ڈالنے کے مرتبان، پرندوں اور جانوروں کا پانی پلانے کے لیے “پھیلی”۔۔۔۔ یہ وہ چند روایتی برتن ہیں جو چاک پر بنائے جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ مٹی کے گملے بھی بنائے جاتے ہیں۔ مٹی کے برتنوں کی تیاری اور ان کااستعمال روایت اور ثقافت کا حصہ ہے۔ اس فن کو بچانے کی خاطر حکومتی سطح پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس دم توڑتی ثقافت اور صنعت کو زندہ رکھنے کے لیے لازم ہے کہ اس سے وابستہ ہنرمندوں اور کاریگروں کی سرپرستی کی جائے تاکہ یہ فن بھی رہے اور فنکار بھی اور یہی فن ان کے روزگار کا وسیلہ بھی بن پائے۔ اس ہنر کی پذیرائی کے لیے کچھ کرنا ہوگا وگرنہ ان کا ذکر صرف کتابوں میں ملے گا۔
Categories
نقطۂ نظر

“مولے نو مولا نا مارے تے مولا نہیں مر سکدا”

پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری نے سہیل وڑائچ کے کو ایک ٹی وی انٹرویو دیا جس میں اپنی سیکیورٹی کے سوال پر انہوں نے کہا،”مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نہیں مر سکدا”۔پنجابی فلم مولا جٹ کو ریلز ہوئے تین دہائیاں گزرنے کو ہیں لیکن پھر بھی کسی نہ کسی طریقے سے فلم مولا جٹ پاکستانی ثقافت کا حصہ ہیں ۔اس کے یادگار مکالموں کی باز گشت آج بھی پاکستانی معاشرے کی روزمرہ گفتگو میں سنائی دیتی ہے ۔
اس فلم پر ابھی تک بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور بہت کچھ کہا جا چکا ہے ۔کچھ لوگوں کے خیال میں یہ فلم صرف اور صرف وقت کا ضیاع ہے ( جیسا کہ آئی ایم ڈی بی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے تبصرے میں لکھا ہے )پاکستان کےایک بڑے ٹی وی چینل کے ایک میزبان نے اپنے پروگرام میں فلم کے کلپ چلا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ فلم نے پاکستان میں تشدد کا کلچر عام کیا ہے ۔افسوس کہ ان کے پاس اپنے اس دعوے کے حق میں کسی قسم کے کوئی تحقیقی شواہد موجود نہیں تھے جو ان اثرات کا جائزہ لے سکتے لہٰذا انہوں نے اس بارے میں کوئی ٹھوس نتائج پیش نہیں کیے ( ویسے بھی ٹاک شوز اس ملک میں ٹھوس نتائج اور تحقیق کم ہی پیش کرتے ہیں ) ۔فلم کے پرو ڈیوسر سرور بھٹی نے چینل پر کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ کیا ۔ان کا دعویٰ تھا کہ چینل اور میزبان نے ان کی اجازت کے بغیر فلم کے کلپس آن ائیر کئے ہیں۔تین سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس مقدمے کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہوا،” پاکستان میں قتل کے مقدموں میں انصاف نہیں ملتا کاپی رائٹ کے کیس کا فیصلہ کیسے ہو سکتا ہے “۔ رائل پارک میں واقع ایک دوست کے دفتر میں بیٹھے سرور بھٹی نے کہا ۔” اب تک میں کئی بار کوشش کر چکا ہوں لیکن شنوائی نہیں ہو رہی “۔
ہونٹوں پہ مسکراہٹ سجائے اور دھیمے لہجے میں بات کرنے والے نوری نت کا کردارمارشل لا اتھارٹی کے ساتھ بہت مشابہت رکھتا ہے جو تمام طاقت ور افراد، اداروں ،سیاسی جماعتوں اور گروہوں کو اپنے سامنے جھکانا چاہتا ہے۔
یوں لگتا ہے تنازعات نے مولا جٹ کا ابھی تک پیچھا نہیں چھوڑا۔ فلم پر پہلا تنازع اس کی ریلز کے وقت اٹھاجب سکرینگ کی اجازت کے باوجود سنسر بورڈ نے فلم کی نمائش روک دی ۔فلم انیس سو اناسی میں ریلز ہوئی ۔ملک میں ضیا الحق کا مارشل لا ءنافذ تھا ذوالفقار علی بھٹو پر قتل کا مقدمہ چل رہا ۔سخت ریاستی جبرکا زمانہ تھا ۔’سیاسی مخالفین کا صفایا کرو یا انہیں سزا دے کر ساتھ ملاو ‘کی مہم جاری تھی ۔ایسے حالات میں جو تشدد ملکی فضا میں موجود تھا اس کی باز گشت مولا جٹ میں بڑی واضح انداز میں دیکھنے میں آئی ۔ مولا جٹ پر پہلا سیاسی تبصرہ فلم ڈائریکٹر اور مورخ مشتاق گزدرنے پاکستان کی گولڈن جوبلی کے موقعہ پر منظر عام پر آنے والی کتاب “پاکستان سینما ” میں کیا ۔ان کے مطابق ہونٹوں پہ مسکراہٹ سجائے اور دھیمے لہجے میں بات کرنے والے نوری نت کا کردارمارشل لا اتھارٹی کے ساتھ بہت مشابہت رکھتا ہے جو تمام طاقت ور افراد ،اداروں ،سیاسی جماعتوں اور گروہوں کو اپنے سامنے جھکانا چاہتا ہے۔
“چار ایریل انیس سو اناسی کو جب فلم کی نمائش دوسرے مہینے میں داخل ہوئی تو ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی “رائل پارک کے دفتر میں سرور بھٹی نے اس بات کی تصدیق کی ۔ سرور بھٹی کے مطابق اس فلم کا خیال فوجی آمریت کے جبری ہتھکنڈوں کی پیداوار ہے،” پانچ جولائی انیس سو ستتر میں ضیاالحق نے مارشل لانافذ کر کے بھٹو کی حکومت ختم کر دی۔اس دوران وکیلوں صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کو کوڑے مارے جارہے تھے، ٹی وی اور اخبارات پر سخت سنسر شپ عائد تھی ۔اس دور میں فلموں پہر بھی کڑی سنسر شپ تھی کوئی شخص تھانے دار کے خلاف فلم نہیں بنا سکتا تھا ۔ مارشل لا کے قوانین پولیس اور فوج کے تحت نافذ ہو رہے تھے ۔تھانے دار تو دور کی بات اس دور میں سپاہی کی دہشت بہت زیادہ تھی وہ جاگیردار،سرمایہ دار کسی سے بھی مارشل لا کے نام پہ بھتہ مانگ لیتا تو دینا پڑتا تھا ۔اس ریاستی جبر نے میری سوچ کو ڈھالنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ میں نے یہ فلم انیس سو اٹھہتر میں شروع کی جب مارشل لاء اپنے عروج پر تھا اور میرا کمال یہ ہے کہ میں نے فلم کا سیاسی پہلوعلامتوں میں پیش کیا اگر میں ایسا نہ کرتا توحکام کی پکڑ میں آ جاتا”۔سرور بھٹی کی اس احتیاط کے باوجود فلم کو سرکاری بندش کا سامنا کرنا پڑا۔سنسر بورڈ فلم کے علامتی پیغام پر کوئی واضح فیصلہ نہ کر سکا۔اس بات کو سرور بھٹی اپنی بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں ،” اگر مارشل لاء حکام کو پتہ چل جاتا تو پھرمیں کس بات کا فنکار تھا”۔
دلدار پرویز بھٹی نے پی ٹی وی پر اپنےپروگرام میں کہا کہ اس وقت ملک میں دو چیزیں چل رہی ہیں ایک مولاجٹ اور دوسری مارشل لاءاس جملے کی پاداش میں مارشل لاءحکام نے دلدار پرویز بھٹی پر پابندی عائد کردی ۔
بریخت نے کہا تھا سچ بولنے والے کو اپنے فن میں اس قدر ماہر ہونا چاہیئے کہ وہ سچ بھی بولے اور پکڑا بھی نہ جا سکے ۔مارشل لا حکام نے فلم سنسر بورڈ میں فلم پر پابندی عائد کرنے کے لیے موقف اختیار کیا کہ فلم کا جو پرنٹ سینما گھروں میں چل رہا ہے وہ سنسر شب کے لیے پیش کیے جانے والے پرنٹ مختلف ہے ۔اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا بعدازاں عدالت نے فلم کی سکریننگ کی اجازت دے دی ۔فلم پر اٹھنے والے تنازعات پر ایک لطیفہ سناتے ہوئے سرور بھٹی نے دلدار پرویز بھٹی کا ایک دلچسپ واقعہ سنایا،”دلدار پرویز بھٹی نے پی ٹی وی پر اپنےپروگرام میں کہا کہ اس وقت ملک میں دو چیزیں چل رہی ہیں ایک مولاجٹ اور دوسری مارشل لاء”اس جملے کی پاداش میں مارشل لاءحکام نے دلدار پرویز بھٹی پر پابندی عائد کر دی ۔
مولا جٹ کے بیانیے نے پاکستان سینما کی سمت اور جہت کو تبدیل کر دیا ۔فلم کے اردو بولنے والے ،نرم گفتار ،کرتے پاجامے پہننے والے ہیروز اور اردو بولنے والے طبقے کا بیانیہ سینما کی سکرینوں سےرخصت ہوا اور رفتہ رفتہ دم توڑ گیا۔مولا جٹ تشدد کے اس بیج کا پھل تھی جسے معاشرے میں ایک فوجی آمرنے بویا تھا ۔آنے والے سالوں میں اس تشدد نے نہ معاشرے کی جان چھوڑ ی نہ پاکستان سینما کی ،اور کسی نہ کسی حالت میں یہ تشدد ہمیں معاشرے میں نظر آتا رہا۔
مولا جٹ کی نمائش کے چھتیس سال بعد بھی یہ فلم کسی نہ کسی طریقے سے پاکستانی ثقافتی دھارے میں نہ صرف زندہ ہے بلکہ ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے ۔جس کے کرداروں ،ان کے گرد بنے ہوئے سیاسی بیانیے اور علامتیت کو سیاسی چھلنی سے چھان کر پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ چلتے چلتے سرور بھٹی صاحب نے سلطان راہی سے اپنے اختلاف کی دلچسپ روداد بھی سنائی۔انہوں نے بتایا کہ فلم کے اختتامی منظر جس میں نوری نت اپنی ٹانگ کاٹ لیتا ہے پرسلطان راہی کو اعتراض تھا ان کا خیال تھا کہ ولن کی ٹانگ ہیرو کو کاٹنی چاہیئے نا کہ خود ولن کولیکن ہدایات کار یونس ملک اور ان کا خیال تھا کہ اگر ہیرو(مولا) نوری نت کی ٹانگ کاٹتا ہے تو فلم ایک روایتی فلم بن جائے گی ۔خاصی بحث کے بعد سلطان راہی مرحوم نے اس نکتے کو تسلیم کر لیا یوں پاکستانی کلٹ سینما(Cult Cinema) کے دو بڑے کردار مولا جٹ اور نوری نت وجود میں آئے ۔