سیاست اور مذہب کا الحاق کس قدر تباہ کن ہو سکتا ہے یہ جاننے کے لیے دنیا کے امن پسند ترین مذہب بدھ مت کے سیاسی استعمال کے نتیجے میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی تفصیلات کافی ہیں
برما کے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم اور ان مظلوموں کے حق میں کیے جانے والے احتجاج کو مذہبی رنگ دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مذہب سیاسی مقاصد کے لیے کس قدر آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ معاملہ صرف روہنگیا مسلمانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ ہر وہ خطہ جہاں سیاسی جماعتوں نے مذہب کا سہارا لیا ہے وہاں اقلیتوں کا اسی طرح استحصال دیکھنے میں آیا ہے۔ سیاست اور مذہب کا الحاق کس قدر تباہ کن ہو سکتا ہے یہ جاننے کے لیے دنیا کے امن پسند ترین مذہب بدھ مت کے سیاسی استعمال کے نتیجے میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی تفصیلات کافی ہیں۔ بدقسمتی سے مذہبی بنیاد پرست تمام مذاہب میں ہیں اور سیاسی طاقت حاصل کررہے ہیں۔ پاکستان میں مسلم بنیاد پرستی، ہندوستان میں ہندو قوم پرستی ، اسرائیل میں یہودی بنیاد پرستی اور برما میں بدھ مت کے پیروکاروں کی نظریاتی شدت اقلیتی فرقوں اور مذاہب کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنارہے ہیں۔
مذہبی بنیاد پرستی اسلام، یہودیت اور ہندومت سمیت ہر مذہب کے لیےایک جیسا مسئلہ ہے اور ہر جگہ اس بنیاد پرستی کا شکار اقلیتیں، عورتیں اور کم زور طبقات ہی ہوتے ہیں
مذہبی امتیاز کا شکار صرف غیر مسلم ملکوں میں مقیم مسلمان ہی نہیں بلکہ مسلم ملکوں میں موجود غیر مسلم بھی ہیں۔ ظالم صرف برما کے بدھ مت کے پیروکار، اسرائیل میں بسنے والے یہودی یا ہندوستان کے دائیں بازو کے ہندو قوم پرست ہی نہیں مسلم ملکوں میں بسنے والے مسلمان بھی اپنے ہاں بسنے والی اقلیتوں کے لیے اتنے ہی ظالم اور جابر ہیں۔ مذہبی بنیاد پرستی اسلام، یہودیت اور ہندومت سمیت ہر مذہب کے لیےایک جیسا مسئلہ ہے اور ہر جگہ اس بنیاد پرستی کا شکار اقلیتیں، عورتیں اور کم زور طبقات ہی ہوتے ہیں۔ مذہبی شدت پسندی کا چہرہ ہر مذہب کے ماننے والوں میں ایک ہی جتنا بھیانک ہے اور اس کا سیاسی استعمال ایک ہی جتنا خون آشام۔
اس تناظر میں ریاست اور مذہب کی علیحدگی ہی وہ واحد حل ہے جو مذہب کو تشدد اور دہشت گردی کی وجہ بننے سے روک سکتا ہے۔ سیکولرازم سے متعلق یہ عمومی تاثرغلط ہے کہ اس سے مذہب کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ سیکولرازم سے مذہب کو نہیں بلکہ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کو خطرہ ہے جوخدا اور مذہب کے نام پر استحصال اور تشدد کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ ریاست اور مذہب کی علیحدگی کا عمل جس طرح یورپ میں عیسائیت کے خاتمے کی بجائے ارتقاء پر منتج ہوا ہے مسلمان، ہندو اور یہودی اکثریت پر مبنی ریاستوں کو بھی ریاست اور مذہب کی علیحدگی کے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ ان علاقوں میں بسنے والی اقلیتوں کے خلاف نفرت کو کم کیا جاسکے۔
اس تناظر میں ریاست اور مذہب کی علیحدگی ہی وہ واحد حل ہے جو مذہب کو تشدد اور دہشت گردی کی وجہ بننے سے روک سکتا ہے۔ سیکولرازم سے متعلق یہ عمومی تاثرغلط ہے کہ اس سے مذہب کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ سیکولرازم سے مذہب کو نہیں بلکہ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کو خطرہ ہے جوخدا اور مذہب کے نام پر استحصال اور تشدد کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ ریاست اور مذہب کی علیحدگی کا عمل جس طرح یورپ میں عیسائیت کے خاتمے کی بجائے ارتقاء پر منتج ہوا ہے مسلمان، ہندو اور یہودی اکثریت پر مبنی ریاستوں کو بھی ریاست اور مذہب کی علیحدگی کے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ ان علاقوں میں بسنے والی اقلیتوں کے خلاف نفرت کو کم کیا جاسکے۔
روہنگیا مسلمان ہوں، پاکستانی احمدی ہوں یا ہندوستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتیں ہر جگہ مذہب کا سیاسی استعمال اقلیتوں کے خلاف تشدد اور نفرت پھیلانے کا باعث بن رہا ہے
سیاسی مسائل کو مذہبی رنگ دینا ہمیشہ تشدد، قتل و غارت اور دہشت گردی کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ فلسطین اسرائیل تنازعہ کو عرب قومیت کی بجائے مسلم یہودی رنگ دینے کے باعث لاکھوں فلسطینی جان گنوا چکے ہیں، امریکہ کے عراق اور افغانستان پر حملوں کو ایک سامراج کے استعماری ایجنڈے کے طور پر دیکھنے کی بجائے صیہونی رنگ دینے سے دنیا بھر میں متشدد اسلام کو فروغ ملا ہے، شام اور یمن کی خانہ جنگی کو شیعہ سنی رنگ دینے سے پورے مشرق وسطیٰ میں فرقہ وارانہ تشدد کا خطرہ پیدا ہوا ہے۔ سیاسی مسائل کو مذہبی تناظر میں دیکھنے کی وجہ سے شدت پسند القاعدہ، طالبان اور دولت اسلامیہ جیسے دہشت گرد تنظیموں کے بیانیے کو مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔
اسی طرح سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذہب کی جانب رجوع کرنے کی روایت نے بھی مسلم ممالک سمیت تمام مذاہب کے ماننے والوں کو بنیاد پرستی کی جانب دھکیلا ہے۔ مذہبی علماء، پنڈتوں اور پادریوں کے سیاسی اثرورسوخ میں اضافے سے سیاسی عمل کم زور ہوا ہے اور اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہوئی ہیں۔ برما کے مسلمانوں کا مسئلہ مذہبی نہیں سیاسی ہے، یہ معاملہ بنیادی شہری حقوق کے حصول اک معاملہ ہے لیکن برما میں بڑھتی ہوئی مذہبی بنیاد پرستی کے باعث اسے مذہبی رنگ دے دیا گیا ہے۔ فلسطین کا مسئلہ مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ قومیت کی بنیاد پر ریاست کے قیام کے حق کا مسئلہ ہے لیکن اسے مذہبی رنگ دینے کے باعث دنیا بھر میں مسلم شدت پسندی بڑھی ہے۔ کشمیر کے مسلمانوں کا مسئلہ سیاسی آزادی کا مسئلہ ہے نہ کہ ہندومسلم دشمنی کا ۔ یہ صرف برما کے مسلمانوں کا مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ پاکستان میں بسنے والے قادیانیوں، عیسائیوں اور ہندووں کا بھی مسئلہ ہے جنہیں مذہبی بنیادوں پر ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا ہے۔ اگر برما کے مسلمانوں سے صرف ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے ہمدردی جتائی جارہی ہے تو یہ عمل مذہبی تشدد کو مزید ہوا دے گا۔ روہنگیا مسلمان ہوں، پاکستانی احمدی ہوں یا ہندوستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتیں ہر جگہ مذہب کا سیاسی استعمال اقلیتوں کے خلاف تشدد اور نفرت پھیلانے کا باعث بن رہا ہے ۔
مذہب کو ئی سا بھی ہو اس کاکام ریاست چلانا یا معاشرے کیی تشکیل کرنا نہیں ہے بلکہ فرد کی اصلاح ہے ۔ یہ سجھنا ہو گا کہ مذہب چاہے اسلام ہو، عیسائیت، یہودیت، ہندومت یا بدھ مت؛ سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کا سہارا لینا محض فساد کا باعث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج معاشرے ، ریاست اور دنیاکو سیکولر بنانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہےتاکہ ہم مذہب کو تشددم نفرت اور عدم مساوات پھیلانے کی سیاست کی بجائے روحانی پاکیزگی کے لیے برت سکیں۔
مذہب کو ئی سا بھی ہو اس کاکام ریاست چلانا یا معاشرے کیی تشکیل کرنا نہیں ہے بلکہ فرد کی اصلاح ہے ۔ یہ سجھنا ہو گا کہ مذہب چاہے اسلام ہو، عیسائیت، یہودیت، ہندومت یا بدھ مت؛ سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کا سہارا لینا محض فساد کا باعث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج معاشرے ، ریاست اور دنیاکو سیکولر بنانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہےتاکہ ہم مذہب کو تشددم نفرت اور عدم مساوات پھیلانے کی سیاست کی بجائے روحانی پاکیزگی کے لیے برت سکیں۔
