Categories
نقطۂ نظر

دہشت گردوں کے مددگار اور سہولت کار

چھ ستمبرکوشہدائے پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جی ایچ کیو راولپنڈی میں خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا کہ آج پاکستان پہلے سے زیادہ مضبوط، قوم پہلے سے زیادہ پرعزم ہے، دہشت گردوں کو شکست اور ریاست کی بالادستی قائم ہوگئی ہے، دہشت گردوں کے مددگاروں اور سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچاکر دم لیں گے۔ دو ستمبر کووزیراعظم نوازشریف نے آزادکشمیر باغ میں اپنے خطاب میں دہشت گردی کے حوالے سے کہا کہ فوج اور عوام طے کرچکے دہشت گردی کو ہر قیمت پر ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کو بھی معاف نہیں کریں گے، دہشت گردوں کا خاتمہ کرکے عالمی برادری کو مستقل امن کا تحفہ دیناچاہتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کےلیے نہیں بنا، دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔
آپریشن ضرب عضب میں اب تک مختلف کارروائیوں کےدوران 2763 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیاگیا، جبکہ آپریشن میں سیکیورٹی فورسز کے347 افسر اور جوان بھی شہید ہوئے۔
آٹھ جون 2014ء اتوارکی درمیانی شب کو کراچی کےجناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پہ حکومت کے ناقص سیکیورٹی انتظام کی وجہ سےطالبان دہشت گردوں کی جانب سے ائیرپورٹ پر حملہ ہواتو دہشت گردی سے متعلق کئی سنجیدہ سوال سامنے آئے۔ ان میں سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ نواز شریف حکومت اور طالبانی دہشت گردوں کا مذاکرات کا ڈرامہ جو ایک سال سے چل رہا تھا کب ختم ہوگا۔ گزشتہ سال جون 2014ء تک دہشت گردی کے واقعات میں دس سال کے عرصے میں 52ہزار409 افراد شہید ہوئے، سیکیورٹی فورسز کے 5ہزار775 اہلکار شہید ہوئے، 396 خود کش حملے ہوئے جس میں 6ہزار21 افراد جاں بحق اور 12ہزار558 افراد ذخمی ہوئے، اور 4ہزار932 بم دھماکے ہوئے۔
مسلم لیگ (ن) نے اقتدار میں آنے کے بعد ایک سال تک مذاکرات مذاکرات کا کھیل رچایا، اور اس کھیل میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ جماعت اسلامی اورطالبان کے نام نہاد باپ مولانا سمیع الحق شامل بھی تھے۔ عمران خان اور مولانا فضل الرحمان بھی طالبان کو فوجی کارروائی سے بچانے میں پیش پیش تھے۔ یہ سب جماعتیں آپریشن کی مخالفت میں آگے آگے تھیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور موجودہ وزیراعظم تو مجبور تھے ورنہ وہ کافی عرصہ پہلے طالبان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امیر المومنین بن چکے ہوتے۔ کراچی ایئرپورٹ پر طالبان دہشت گردوں کے حملے کے بعداتوار 15 جون 2014ء کو افواج پاکستان نے طالبان دہشت گردوں کے خلاف ایک بھرپور آپریشن کا آغاز کیا۔ پاک فوج نے آپریشن کا نام “ضرب عضب” رکھا جس کا مطلب “ضرب کاری” یعنی دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ۔ اس کے ساتھ ہی نواز شریف حکومت اور دہشت گردوں کے مذاکرات ختم ہوگئے۔
سول عدالتوں نے 15 ہزار کے قریب دہشت گردوں کو بری الزمہ قرار دیا اور 10 ہزار پانچ سو سے زیادہ دہشت گردوں کی ضمانتوں پر رہائی کا حکم جاری کیا۔
آپریشن ضرب عضب میں اب تک مختلف کارروائیوں کےدوران 2763 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیاگیا، جبکہ آپریشن میں سیکیورٹی فورسز کے347 افسر اور جوان بھی شہید ہوئے۔ فوجی ترجمان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے شہری علاقوں میں خفیہ اطلاعات پر کی گئی 9000 کارروائیاں کیں جن میں 218 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں کارروائیوں کے دوران مختلف نوعیت کے 18087 ہتھیار اور 253 ٹن دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا ہے۔پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف گزشتہ ایک سال سے جاری فوجی کارروائی کے دوران ضرب عضب اور متاثرہ علاقوں سے مقامی افراد کی نقل مکانی اور اُن کی بحالی پر اب تک تقریباً دو ارب ڈالر خرچ ہوئے ہیں اور یہ رقم امریکہ کی جانب سے اتحادی سپورٹ فنڈ کے بجائے سرکاری خزانے سے استعمال کی گئی ہے۔2001ء سے اب تک افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی ہونے کے باعث پاکستان کواتحادی سپورٹ فنڈ کے تحت 13 ارب ڈالر مل چکے ہیں۔تاہم امریکہ نے کہا ہے کہ 2015ء کے بعد سے پاکستان کو اس فنڈ کے تحت رقوم جاری نہیں کی جائیں گی۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ دہشت گردی ہمارے ملک میں لانے کی ذمہ داری ہمارے عسکری اداروں کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اُسکے حواریوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔
دہشت گردی کی تحریک آدھی سے زیادہ دنیا میں پھیل چکی ہے اوراس کا بڑا نشانہ پاکستان ہے۔1965ءکی پاک بھارت جنگ میں 3800پاکستانیوں کی جانیں گئی تھیں، 1971ءمیں 9 ہزار پاکستانی جاں بحق ہوئے تھے جبکہ 2001ءسے 2015ءکے دوران 56ہزار سے زیادہ پاکستانیوں نے جام شہادت نوش کیا گویا طالبان دہشت گرد بھارت سے بھی زیادہ خطرناک دشمن ہیں جو پاکستان کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ دوسری طرف سول عدالتوں نے 15 ہزار کے قریب دہشت گردوں کو بری الزمہ قرار دیا اور 10 ہزار پانچ سو سے زیادہ دہشت گردوں کی ضمانتوں پر رہائی کا حکم جاری کیا۔ حکومتی نااہلی کھل کر سامنے آچکی ہے ورنہ فوجی عدالتوں کی ضرورت پیش نہ آتی۔ آپریشن ضرب عضب ملک بھر میں جاری ہے، ایسا لگتا ہے ملک کے کونے کونے میں دہشت گردوں کا جال پھیلا ہوا ہے۔ اُن کی پناہ گاہیں کون سی ہیں ان کے مددگار اور سہولت کار کون ہیں؟ ملک کی 33خفیہ ایجنسیوں کو اتنی معلومات تو ضرور ہوں گی۔ حکومت پاکستان نے جن دہشت گرد تنظیموں کو کالعدم قرار دے رکھا ہے وہ حکومتی فائلوں میں مرچکی ہیں لیکن عملاً بقید حیات ہیں۔ حکومت جانتی ہے کہ یہ دہشت گرد کالعدم تنظیمیں نئے ناموں کے ساتھ سرگرم عمل ہیں ان کے ذرائع آمدن کی پائپ لائن بدستور پیسے اگل رہی ہے۔ حکومت کو ان مدرسوں کے نام بھی سامنے لانے چاہیں جو عسکریت پسندی کے رحجان کو فروغ دے رہے ہیں۔ اُن رفاعی تنظیموں کو بھی بے نقاب کرنا ضروری ہے جو بیرونی فنڈر لیتی اور آگے منتقل کرتی ہیں۔ اب تو صورتحال یہ ہے کہ دہشت گردوں کے حامیوں کے پیٹ میں اس وقت مروڑ اٹھتا ہے جب لوگ اپنے پیاروں کی یاد میں موم بتیاں جلاتے ہیں یا خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ دہشت گردوں کے حامی قومی روزناموں میں کالم لکھ لکھ کر جہادی ذہن تیار کررہے ہیں ۔
جماعت اسلامی کے موجودہ امیر سراج الحق نےتو منور حسن سے بھی زیادہ منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپریشن ضربِ عضب کو نہ صرف ڈرامہ کہا بلکہ اس آپریشن کو بند کرنے کا مطالبہ بھی کرڈالا
وزیراعظم نواز شریف اورآرمی چیف جنرل راحیل شریف دونوں کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کیلئے نہیں بنا، ہم دہشت گردوں کے مددگاروں اور سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچاکر دم لیں گے۔ طالبان کے لفظی معنی کچھ بھی ہوں مگر ہمارے ملک میں طالبان تحریک ایک دہشت گرد تحریک ہے۔ طالبان کے 45سے زائد گروہ ہیں اور ہر گروہ قتل و غارت گری اور پاکستان پر حملوں میں شریک ہے۔ یہ گروہ برسرعام اس کا اقرار بھی کرتے ہیں۔ ان گروہوں میں سے کوئی عام انسانوں کا قتل عام کررہا ہے تو کوئی فرقہ وارانہ قتل و غارت گری میں مصروف ہے، یہ اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، منشیات کی اسمگلنگ، ڈکیتیوں اور دوسرے جرائم میں بھی مصروف ہیں۔ یہ صرف نام کے انسان ہیں ورنہ ان کے سب خصائل درندوں جیسے ہیں، لہٰذا ان میں یہ احمقانہ تمیز کرنا کہ اچھے کون ہیں اور برے کون ہیں بجائے خود ایک سنگین غلطی ہے۔ لیکن پاکستان میں طالبان کی دو قسمیں ضرور موجود ہیں ایک وہ ہیں جو قتل و غارت گری اور دوسرئے جرائم کرتے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو سیاسی اور مذہبی جماعتوں یا پھرصحافت کی آڑمیں دہشت گردوں کے مددگار اور سہولت کار ہیں۔
طالبان کی کسی بھی قتل و غارت گری کے بعد سراج الحق، مولانا فضل الرحمان، مولانا عبدالعزیز اور مولانا سمیع الحق کی جانب سے مرنے والوں کے ساتھ ہمدردی کے باوجود یہ حضرات اور ان کے پیروکار طالبان کی صفائیاں دینے لگتے ہیں، اُن کے ساتھ ہی کچھ صحافی جن میں خاص کرانصار عباسی اور اوریا مقبول جان صحافت کی آڑ میں طالبان کی ہمدردی میں پیش پیش رہتے ہیں۔ عمران خان بھی طالبان کے ہمدرد ہیں، طالبان کی کسی بھی دہشت گردی پر افسوس ضرور کرتے ہیں لیکن اُس کے بعدقوم کوڈرانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ خان صاحب کی سنگدلی کا یہ عالم ہے کہ وہ حادثہ کی جگہ پر ہی کہہ دیتے تھے کہ آپریشن کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، نو سال سے آپریشن ہورہا ہے ہم نے کیا کرلیا۔ فوجی آپریشن کے بعد البتہ انہوں نے یو ٹرن لیا اورآپریشن کی حمایت کرنی شروع کردی مگر کافی عرصہ تک مذاکرات کا راگ الاپنا نہیں بھولے۔ مولانا فضل الرحمان کا تو سب کو پتہ ہے کہ جس طرف فائدہ نظر آئے مولانا اُسی طرف ہوتے ہیں۔ جماعت اسلامی کو تو اب بھی دہشت گردوں کےخلاف ہونے والے آپریشن پر اعتراض ہے۔ جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن دہشت گرد طالبان کو اپنا بھائی کہتے ہیں۔ منور حسن صاحب طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والےباون ہزار سے زائد پاکستانیوں کو جن میں عام آدمی، پولیس کے سپاہی، رینجرز کے اہلکار اور پاکستانی فوجی شامل ہیں اُنہیں شہید ماننے سے انکار کرتے ہیں لیکن ہزاروں انسانوں کے قاتل دہشت گردحکیم اللہ محسود کو شہید کہتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے موجودہ امیر سراج الحق نےتو منور حسن سے بھی زیادہ منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپریشن ضربِ عضب کو نہ صرف ڈرامہ کہا بلکہ اس آپریشن کو بند کرنے کا مطالبہ بھی کرڈالا۔ دہشت گردی پاکستان کی وہ بیماری ہے جس کا علاج نام نہاد “مذاکرات” سے کیا جارہا تھا لیکن یہ مرض اس قدر بڑھ چکا تھا کہ آپریشن کے علاوہ شاید کوئی چارہ نہیں تھا۔ اب حکومت کو چاہیئے کہ دونوں قسم کے طالبان کاتدارک کرے، اُن کا بھی جو دہشت گردی میں براہ راست ملوث ہیں اوراُن کا بھی جو سیاسی اور مذہبی جماعتوں یا پھرصحافت کی آڑمیں دہشت گردوں کے مددگار اور سہولت کار ہیں، ایسا کرنے کے بعد ہی ہم پاکستان سے دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم کرسکتے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

فوجی عدالتوں کا قضیہ

بحیثیت قوم ہمیں نت نئی اصطلاحات اور نظریات سے عشق ہے، ہمارے پسندیدہ سیاسی مشاغل میں اپنے ماضی سے عقائد کی دریافت اور مغرب سےاصطلاحات و نظریات کی درآمد شامل ہیں۔ہمارے سبھی قومی فیصلے مستعار عقائد، نظریات اور اصطلاحات کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں اور جب کبھی ہمارے منصوبہ بندی کے بغیر کیےگئے قومی فیصلے گمبھیر مسائل کا روپ دھارتے ہیں تو ہر مرتبہ ہم ان کا حل مزید نئی نویلی اصطلاحات اور نظریات میں تلاش کرتے ہیں۔ ایوب خان کی Trickle Down Economy کا حل بھٹو صاحب نے ادارے قومیانے سے کیا۔ ادارے سرکاری تحویل میں لینے سے مسائل حل نہ ہوئے تو امریکی اور سعودی امداد کے حصول کے لیےافغانستان میں جنگ چھیڑ لی۔جنگ ختم ہوئی تو کساد بازاری ختم کرنے کوشریف حکومت نے نجکاری اور کثیر سرمائے سے تیار ہونے والے منصوبوں کی روایت ڈالی جسے بینظیر صاحبہ نے سرکاری اداروں میں بھرتی کے عمل سے روکنے کی کوشش کی۔ بعدازاں مشرف صاحب نے امریکی امداد اور بنکاری کی مدد سے معیشت کا پہیہ چلایا، آج کل ایک بار پھر نجکاری اور سرمایہ کاری کی چرچا ہے نتیجتاًمسائل تو جوں کے توں رہے مگر ان کی شدت بڑھ گئی۔
ہمارے سبھی قومی فیصلے مستعار عقائد، نظریات اور اصطلاحات کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں اور جب کبھی ہمارے منصوبہ بندی کے بغیر کیےگئے قومی فیصلے گمبھیر مسائل کا روپ دھارتے ہیں تو ہر مرتبہ ہم ان کا حل مزید نئی نویلی اصطلاحات اور نظریات میں تلاش کرتے ہیں۔
دہشت گردی کا مسئلہ بھی کچھ “صاحبان عقل” کے ایسے ہی اقدامات کا شاخسانہ ہے، ضیاءالحق اور ان کے فوجی ، نیم فوجی اور غیر فوجی حواریوں نے سرحدوں کے تحفظ کے لیے پوری قوم کو بالعموم اور مدارس کے طلبہ کو بالخصوص شدت پسندی اوردہشت گردی کی راہ دکھائی ۔ جہادی گروہوں کی پیداوار کے لیے درکار شدت پسندمذہبی ذہنیت پیدا کرنے کے لیے اس دور کی نصابی کتب میں عدم برداشت کا درس دیا گیا جو بعد میں طالبان کے ظہور کا باعث بنا ۔ اس درس کے اثرات تب بھی واضح تھے مگر فوجی حکمران حقیقت کو دیکھنے کی بجائےاپنے اندازوں اور مفروضوں کے رومان سے دل بہلاتے رہے ، انہیں لگتا تھا کہ ان کے پیدا کیے ہوئے طالبان افغانستان تک ان کی حکومت لے جائیں گے اور شائد یہ سلسلہ وسطی ایشیاء تک چلا جائے۔ان کا خیال تھا کہ یہ جہادی ہماری مغربی سرحد محفوظ بنادیں گے اور ہندوستان کو کشمیر میں اسی طرح الجھائے رکھیں گے جیسے انہوں نے افغانستان میں روسی افواج کو دس برس تک پھنسائے رکھا تھا۔ لیکن یہ تمام مفروضے اور اندازے خام خیالی ثابت ہوئے اور وہ انتہا پسند جہادی ذہنیت جسے ارباب اختیار نے اپنے ہاتھوں پروان چڑھایا تھا، آج ہمارے ہی بچے نگل رہی ہے۔
پشاور حملے کے بعد بھی سیاسی و عسکری قیادت نے اپنا چلن نہیں بدلا اورآج ضیاءالحق کے زمانے میں اختیار کیے گئےSecurity Doctrine کے تحت پیدا ہونے والے دہشت گردی کے عفریت کو اک اور عفریت کی مددسے حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ دہشت گردوں کو سزادینے کے لیے عدلیہ اور سکیورٹی اداروں کو مضبوط کرنے کی بجائے فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ بھی یقیناً مستقبل میں ہماری ہی بنیادی آزادیاں اور حقوق متاثر کرنے کا باعث بنے گا۔ اس بارے میں دلیل یہ دی جارہی ہے کہ ہمیں غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے لہذا ہمیں غیر معمولی فیصلے کرنے ہوں گے ، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ہمارا عدالتی نظام سست اور تفتیشی ادارے نا اہل ہیں اس لئے دھشت گردوں کو موجودہ عدالتوں سے سزا دلانا ممکن نہیں اس لیے فوجی عدالتیں دھشت گردوں کو سزا دینےاور دھشت گردی ختم کرنے کے لیے ناگزیر حل ہیں۔ یقیناً اس وقت دہشت گردی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور غیر معمولی صورتحال میں غیر معمولی فیصلے کیے جاتے ہیں مگر ان فیصلوں کا درست سمت میں ہونا بہت ضروری ہے ۔ یہ تاثر غلط ہے کہ انسداد دھشت گردی کی عدالتیں سست ہیں، انسداد دھشت گردی کے قانون کے مطابق وہ سات دنوں میں فیصلہ سنانے کی پابند ہیں تاہم تفتیشی اداروں اور سیاسی حکومتوں کی عدم دلچسپی کے باعث مقدمات التواء میں پڑے رہتے ہیں۔
پشاور حملے کے بعد بھی سیاسی و عسکری قیادت نے اپنا چلن نہیں بدلا اورآج ضیاءالحق کے زمانے میں اختیار کیے گئے سیکورٹی ڈاکڑر ین کے تحت پیدا ہونے والے دہشت گردی کے عفریت کو اک اور عفریت کی مددسے حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انسداد دہشت گردی کے قوانین میں موجود نقائص بھی انسانی حقوق کے کارکنوں کے لیے باعث تشویش ہیں تاہم انہیں کسی حد تک قابل قبول بنایا جا سکتا ہے۔تحفظ پاکستان آرڈیننس ثبوت کا بوجھ ملزم پر ڈالتا ہے یعنی اس قانون کے مطابق دھشت گرد کو چند دنوں میں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ دھشت گرد نہیں ، ایسے میں کسی دھشت گرد کا سزا سے بچ نکلنا ناممکن ہے ، یقیناً یہ قانون بھی انصاف کے اصولوں پہ پورا نہیں اترتا مگر اس غیر معمولی صورتحال میں یہ دہشتگردی کے خاتمہ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے ۔
فوجی عدالتوں اور تحفظ پاکستان آرڈنینس کے تحت بننے والی عدالتوں میں فرق سمجھنا بھی ضروری ہے؛ تحفظ پاکستان آرڈنینس کے تحت بننے والی عدالتیں ججوں پر مشتمل ہونگی جبکہ فوجی عدالتوں میں حاضر سروس فوجی افسران فیصلے سنائیں گے۔ قانون و انصاف کے شعبہ سے منسلک جج حضرات یقیناً فوجی افسران کی نسبت بہتر اور منصفانہ انداز میں مقدمات کی سماعت کرنے اور فیصلے سنانے کے اہل ہیں۔اس کے علاوہ اگر ایک جج کسی شخص کو سزا دے گا تو اسے عدالتی حکم سمجھا جائے گا اور اسے عوام کی تائید حاصل ہوگی لیکن ماضی کے تجربات یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی لیکن غیر فوجی عدالتوں میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کو روکنا بھی آسان ہو گا۔
فوجی عدالتوں کی آئینی حیثیت بھی متنازعہ ہے، آئین میں فوجی عدلیہ کی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ ان کے خلاف متعدد فیصلے دے چکی ہے ، اس سلسلہ میں فاروق لغاری بنام ریاست پاکستان اورشیخ لیاقت حسین بنام وفاق پاکستان بہت واضح فیصلے ہیں۔ شیخ لیاقت حسین کیس 1998 میں قائم کی جانے والی فوجی عدالتوں کے خلاف تھا اور اس میں عدالت عالیہ نے واضح کیا تھا کہ عوام کے بنیادی حقوق کسی صورت سلب نہیں کیے جا سکتے اور فوجی عدالتیں آئین میں درج بنیادی حقوق سے متصادم ہونے کی وجہ سے غیر آئینی ہیں۔ ایسے فیصلے کی موجودگی میں فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ عقل سے بالا تر ہے کیونکہ سپریم کورٹ کے پاس اس کے علاوہ کوئی حل نہیں ہوگا کہ وہ انہیں دوبارہ کالعدم قرار دے ۔ ویسے بھی فوجی حضرات کو چونکہ ترازو انصاف اٹھانے کا تجربہ نہیں لہذا ان کے فیصلوں میں غلطی کا احتمال سویلین عدلیہ کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ ان عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ سمیت کسی عدالت میں نظرثانی اور اپیل کی گنجائش نہ ہونے کے باعث قانون کے تقاضوں کے مطابق انصاف کی فراہمی ممکن نہیں،فوجی عدلیہ کاایک غلط فیصلہ بھی قوم کے جذبات تبدیل کر سکتا ہے ۔
آج پاکستان کے عوام دھشت گردوں کے خلاف متحد ہیں اور اس رائے عامہ کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ حکومت درست سمت میں قدم اٹھائے ، اور کسی کو بھی ، چاہے وہ دھشتگرد ہی کیونہ ہو ، سزا دیتے وقت قانون و انصاف کے تقاضے پورے کرے ۔
جنرل پرویز مشرف نے دھشت گردی کے خلاف کھل کر جنگ کی مگر یہ جنگ اس لئے کامیاب نہ ہو سکی کہ لوگوں کا ایک گروہ طالبان سے ہمدردی رکھتا تھا ، آج پاکستان کے عوام دھشت گردوں کے خلاف متحد ہیں اور اس رائے عامہ کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ حکومت درست سمت میں قدم اٹھائے ، اور کسی کو بھی ، چاہے وہ دھشتگرد ہی کیوں نہ ہو ، سزا دیتے وقت قانون و انصاف کے تقاضے پورے کرے ۔دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہمیں فوجی عدالتوں کی بجائے انسداد دہشتگردی کی عدالتوں کو بہتر کرنا ہوگا ۔ علاوہ ازیں طالبان کے ساتھ ساتھ لشکر جھنگوی اور جماعت الدعوۃ جیسی دھشت گرد تنظیموں جنہیں مسلم لیگ ن اور کئی سیاسی جماعتوں کی پس پردہ حمایت اور ہمدردیاں حاصل ہیں، کا بھی خاتمہ کرنا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا فوجی عدالتیں ان تنظیموں کے خلاف فیصلے کر پائیں گی اور ایسے فیصلوں کو کس حد تک عوامی تائید حاصل ہوگی؟ موجودہ صورتحال بہت نازک ہے ہمیں سوچنا ہوگا کہ کہیں ہم انتقام کے جذبات کے تحت ظالم کو مظلوم کے طور پر نہ پیش کردیں، ہم اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اب ہم کسی غلطی کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔