Categories
نقطۂ نظر

!تبدیلی ٓا گئی ہے

پیپلزپارٹی کے بہت سے رہنما یہ بھانپتے ہوئے کہ ان کی جماعت پنجاب میں ایک قابل عمل سیاسی قوت نہیں رہی اپنی سیاست کی ڈوبتی ہوئی ناو کو سہارا دینے کے لیے تحریک انصاف کا رخ کر رہے ہیں
مجھے یاد ہے کہ 2006 میں سیالکوٹ میں دو نوجوان بھرے بازار میں تن تنہا پارٹی کی رکنیت سازی مہم کے دوران لوگوں کو روک روک کر تبدیلی کے سفر کا مسافر بنا رہے تھے۔لوگوں کا ردعمل بہت حوصلہ افزا نہیں تھا مگر لوگوں کی لاپروائی اور عدم دلچسپی ان کے حوصلے پست نہیں کر پا رہی تھی۔ان کی آنکھوں کی چمک مجھےآج بھی یاد ہے۔پچھلے دنوں میری ملاقات ان میں سے ایک نوجوان سے ہوئی،وہ اپنی جماعت کے ساتھ وابستہ تو تھا مگر اس کی آنکھوں میں اب وہ چمک تھی نہ دل میں تبدیلی کے لیے وہ تڑپ۔ وہ اب بہت سے سوالات اور شکووں کا بوجھ لیے پھرتا ہے ، اک ایسے نامراد عاشق کی طرح جسے اس کے محبوب نےبڑی بےرحمی سے دھوکہ دیا ہو۔اس کا اترا ہوا چہرا بتا رہا تھا کہ اس کا عشق نیلام ہو گیا،اسکا جنون بک گیا۔
تحریک انصاف میں ایک دفعہ پھر سیاست کے پرانے اور روایتی کھلاڑیوں کی ٓامد بڑے زورو شور سے جاری ہے،۔پہلے ق لیگ کے لوگ بڑی تعداد میں تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور اب پی ٹی ٓائی پنجاب میں لٹی پٹی پی پی پی کو مال غنیمت سمجھ کر اس پر ہاتھ صاف کرنے کے چکر میں ہے۔پیپلزپارٹی کے بہت سے رہنما یہ بھانپتے ہوئے کہ ان کی جماعت پنجاب میں ایک قابل عمل سیاسی قوت نہیں رہی اپنی سیاست کی ڈوبتی ہوئی ناو کو سہارا دینے کے لیے تحریک انصاف کا رخ کر رہے ہیں۔ جو لوگ9 سال مشرف اور5 سال پی پی کی حکومت میں رہ کر نیا پاکستان نہیں بنا سکے اب وہ تحریک انصاف میں شامل ہو کر نیا پاکستان بنا نے کے لیے پنجہ آزمائی کریں گے۔
تحریک انصاف بلکہ عمران خان کی سیاست کی اٹھان ہی تبدیلی،روایتی سیاست اور جمودکوتوڑنے پہ تھی۔اس کے لیے خان صاحب نے روایتی سیاستدانوں،وڈیروں،جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی بجائے نوجوانوں کو اپنا مخاطب بنایا۔تبدیلی اور نئی فکر کو کھلے دل سے قبول کرنے والے نوجوانوں نے عمران خان پر بھر پور اعتماد کرتے ہوئےان کی آواز پر لبیک کہااور دیکھتے ہی دیکھتے تبدیلی کا یہ نعرہ جنون کی شکل اختیار کرنے لگا۔عمران خان نے نوجوانوں کو بڑے بڑے خواب دکھائے اور نوجوان ان خوابوں کو لے کر میدان سیاست میں کود پڑے۔وہ بے لوث جنون تھا جسے لوگوں نے طرح طرح کے طعنے دیے مگر کپتان اور اس کے کھلاڑی میدان میں کھڑے رہے۔ کوئی تحریک انصاف کو تانگہ پارٹی کہتا،تو کوئی دیوانے کا خواب،کسی نے اسے نوجوانوں کے جذبات کا ابال کہا تو کسی نےبرگر پارٹی کا طعنہ کسا،مگر زمانے کی یہ ستم ظریفیاں اور طعنے نوجوانوں کے پیروں کی زنجیرنہ بن سکے۔ان کے جنون نے ایک لمحہ کے لیے لغزش نہ دکھائی،وہ کپتان پر فریفتہ رہے،کپتان سے لازوال محبت ان کا اثاثہ تھی اور وہ کپتان کے ایک اشارے پر مر مٹنے کے لیے تیار رہتے۔کپتان کو دیکھ کر ان کے چہرے تمتاہ اٹھتے اور ٓانکھیں روشن ہو جاتیں۔نیا پاکستان انہیں بہت قریب دکھائی دیتا۔ نوجوان کپتان کا پیغام لے کر گھر گھر گئے،رکنیت کے فارم پر کروائے،لوگوں کو کپتان کے پیغام کے حوالےسے دلائل دیے،گھر والوں کی جھڑکیں سنیں،اشتہار لگائے،ماریں کھائیں غرضیکہ دیوانہ وار کام کیا۔اس وقت تک کپتان تھا اور نوجوانوں کا جنون تھا۔ بڑے کھلاڑی پی ٹی آئی سے دور رہے کیوں کہ ان کے نزدیک یہ جماعت ایک قابل عمل سیاسی انتخاب نہیں تھی اور نہ ہی تبدیلی اور نئے پاکستان کے لیے آج کل کی طرح انہیں ابھی تک شرح صدر ہوئی تھی۔
پھر یوں ہوا کہ 30 اکتو بر 2011 کو تحریک انصاف کے جلسہ نے پاکستان کی سیاست کی کایا پلٹ دی۔نوجوانوں نے لاہور میں وہ طوفان کھڑا کیا کہ بڑے بڑے سیاسی کھلاڑیوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے،مفاد پرست سیاستدانوں کے دل للچانے لگے۔وہ جماعت جو محض دیوانے کا خواب تھی اب ایک قابل ذکرسیاسی قوت بن چکی تھی۔نوجوانوں نے اپنے خلوص،اپنی لگن اور اپنے جنون سے اپنی جماعت کو منوا لیا ۔اب تحریک انصاف میں شمولیت کے لیے گھاگ انتخابی امیدواروں کی قطاریں لگ گئیں۔ روایتی سیاستدانوں کو بھی تبدیلی کے خواب آنے لگےاوروہ اپنے ہی قائم کردہ جمود سے بھی اکتائے اکتائے لگنے لگے۔
پھر یوں ہوا کہ 30 اکتو بر 2011 کو تحریک انصاف کے جلسہ نے پاکستان کی سیاست کی کایا پلٹ دی۔ نوجوانوں نے لاہور میں وہ طوفان کھڑا کیا کہ بڑے بڑے سیاسی کھلاڑیوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے، مفاد پرست سیاستدانوں کے دل للچانے لگے
لوگ اس جلسہ کو تحریک انصاف کا عروج سمجھتے ہیں مگر میرے خیال میں یہیں سے اس کا زوال شروع ہوا۔اس کے بعد عمران خان کی سوچ اور حکمت عملی میں بہت تبدیلی ٓائی،بہت بڑی تبدیلی۔۔۔۔یہ وہی تبدیلی تھی جس کی وجہ سے سیاست کے روایتی کھلاڑیوں کا جماعت میں اثرونفوذ بڑھنے لگا اور تحریک انصاف کی اصل قوت نوجوانوں کو پیچھے دھکیلا جانے لگا اوران پر طرح طرح کی قدغنیں لگائی جانے لگیں۔نوجوان جنہوں نے اس جماعت کو خون پسینہ سے سینچاتھا کو کھڈے لائن لگایا جانے لگا۔رہی سہی کسر جماعتی انتخابات نے نکال دی؛اثرورسوخ چلا،دھونس ہوا،دھاندلی ہوئی،کھلی بے ضابطگیاں ہوئیں اور پرانے کارکنان اور نوجوانوں کو پوری قوت کے ساتھ پیچھے دھکیلا گیا۔ 2013کے انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم میں بھی پرانے کارکنان اور نوجوانوں کو بری طرح نظر انداز کیا گیا جس کا خمیازہ تحریک انصاف کو انتخابات میں ہار کی صورت میں بھگتنا پڑا۔پھر دھرنے ہوئے جس کی نہ قوم کو سمجھ ٓائی نہ نوجوان کارکنان کو مگر نوجوان پھر بھی اپنے کپتان سے جڑے رہے،اپنے کپتان کا دفاع کرتے رہے۔ دوستوں کی گفتگو ہویا کوئی بحث ہو،فیس بک ہو یا ٹوئٹر ،میں نے نوجوانوں کو کپتان کے لیے ہر مخاذ پر لڑتے دیکھا۔کپتان کی محبت سر چڑھ کر بولتی رہی۔
مگر افسوس، صد افسوس کہ تبدیلی آ چکی ہے؛کپتان کی فکر اور حکمت عملی میں روایتی سیاست کی پھپھوندی لگنے کی تبدیلی۔ کپتان اب نو جوانوں کے جنون سے زیادہ روایتی سیاستدانوں،جاگیرداروں،سرمایاداروں پر بھروسہ کرنے لگے ہیں۔روایتی سیاستدانوں کی زوروشور سے تحریک انصاف میں شمولیت کے باعث نظریاتی کارکن اور رہنما پس منظر میں چلے گئے ہیں۔جن نو جوانوں نے پی ٹی آئی کو اپنے جنون،خلوص اور جذبے سے ایک بڑی جماعت بنایا، عمران خان کو عمران خان بنایا وہ اب مایوس ہو رہے ہیں۔ جب عمران خان کی پارٹی کو لوگ تانگہ پارٹی کہتے تھے تب ان نوجوانوں نے ہی کپتان کو اپنے کندھوں پہ بٹھایا۔ ان نوجوانوں کی جماعت کو اب روایتی سیاست دان روایتی انداز میں چلائیں گےکیوں کہ جنون بک چکا ہے،تبدیلی کے خوابوں کی بولی لگ چکی ہے۔ اوریہ وہ تبدیلی ہے جو آ نہیں رہی بلکہ آ گئی ہے۔
Categories
اداریہ

انتخاب کے حق تک یکساں رسائی۔ اداریہ

ایک خبر کے مطابق انتخابی اصلاحات کے لئے تشکیل دی جانے والی 33رکنی پارلیمانی کمیٹی میں مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی موجود نہیں۔ انتخابی نظام میں پائے جانے والے نقائص کی نشاندہی اور اصلاحات تجویز کرنے کی کمیٹی میں مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی نہ ہونا ریاستی سطح پر مذہبی اقلیتوں کو طاقت اور اختیار میں مناسب شمولیت سے محروم رکھنے کی اس مجرمانہ غفلت کی غماز ہے جو آزادی کےاولین برسوں میں قراردادمقاصد کی منظوری کے بعد سے روا رکھی گئی ہے۔یہ تقسیم قانون ساز اداروں کے لئے انتخاب لڑنے، ووٹ ڈالنے اور قانون سازی میں شریک ہونے کی ہر سطح پر موجود ہے۔ انتخابی نظام میں اقلیتوں کے لئے قومی اسمبلی میں مخصوص10 نشستوں پر براہ راست انتخاب کی بجائے ان نشستوں کو سیاسی جماعتوں کی (مسلم) قیادت کی صوابدید پر چھوڑ دینے کےباعث ریاستی سطح پر شہریوں کی مذہبی تقسیم کی توثیق ہوتی ہے جس کی وجہ سے ایک غالب مسلم اکثریت پر مبنی معاشرہ میں مذہب کی بنیاد پر امتیاز ، تحقیراور تفریق برتنے کا عمل سرکاری سرپرستی میں جاری ہے۔
پاکستان کے موجودہ انتخابی نظام میں عمومی نشستوں پر انتخاب لڑنے کے لئے گو مذہبی اقلیتوں پر کوئی آئینی قدغن عائد نہیں تاہم سیاسی جماعتوں کی جانب سے اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے امیدواران کو شاذ ہی ٹکٹ جاری کئے جاتے ہیں ۔2002 میں جداگانہ انتخاب کی جگہ احمدیوں کے سوا تمام مذاہب کے لئے مشترکہ انتخابی نظام کے قیام کے باوجودسیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی مہم کے دوران مسلم اکثریت کو اپنی جانب راغب کرنے کی خاطر غیر مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے سے گریز کیا جاتا ہے۔ 2013 کے عام انتخابات کے دوران موجودہ حکم ران جماعت مسلم لیگ اور حزب اختلاف میں موجود پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی 272عمومی نشستوں کے لئے اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے کسی فرد کو ٹکٹ جاری نہیں کیا تھا۔
آئین پاکستان کے مطابق رائے دہندگی کے بنیادی حق تک یکساں رسائی تمام شہریوں کا حق ہے لیکن انتخابی عمل میں اقلیتوں کی شمولیت ان کی آبادی کے تناسب سے بے حد کم ہے۔ جس کی ایک بڑی وجہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انتخابی مہم کے دوران اقلیتی امیدواران کے تحفظ میں ناکامی بھی ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی انتخابات 2013کے بعد شائع کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق انتخابات 2013 کے دوران سندھ اور پنجاب کے بعض حلقوں جیسے NA-229تھرپارکر میں اقلیتی مذاہب کے امیدواران اور رائے دہندگان کو انتخابی مہم کے دوران شدت پسند گروہوں کی جانب سے ہراساں کیا گیا اور الیکشن کمیشن اور ریاستی ادارے اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھنے والے امیدواران کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں۔
2002میں جداگانہ انتخاب کی جگہ مشترکہ انتخاب کا طریقہ کار اپنانے کے بعد اقلیتی حلقوں میں مشترکہ انتخاب میں مناسب نمائندگی نہ ملنے اور مخصوص نشستوں پر بالواسطہ انتخاب کے باعث تشویش میں اضافہ ہواہے۔اس ضمن میں سب سے تشویش ناک امر انتخابات کے دوران خود کو غیر مسلم ظاہر کرنے کے ریاستی دباو کے باعث احمدی فرقہ کی جانب سے انتخابات کا مقاطعہ ہے۔آئین پاکستان کے تحت تمام شہریوں کو انتخابات میں شرکت کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لئے انتخابی دھاندلی کے سدباب کے ساتھ انتخاب کے حق تک یکساں رسائی کے لئے انتخابی اصلاحات کی کمیٹی میں اقلیتوں کو نمائندگی دیناضروری ہے۔ انتخابات میں شرکت اور مناسب نمائندگی کے حصول کے لئے حکومت وقت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کو اقلیتوں کے لئے دوہری رائے دہندگی، مخصوص نشستوں پر براہ راست انتخابات اوراقلیتی فرقوں سے لازمی نمائندگی کی تجاویزکے اطلاق کی سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی ۔