Categories
شاعری

آنکھ بھر اندھیرا

ابرار احمد: ادھر کوئی دیوار گرتی ہے
شاعر کے دل میں
وہیں بیٹھ جاتا ہے
اور جوڑتا ہے یہ منظر
اندھیرے سے بھرتی ہوئی آنکھ میں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

آنکھ بھر اندھیرا

[/vc_column_text][vc_column_text]

چمکتی ہیں آنکھیں
بہت خوب صورت ہے بچہ
وہ جن بازوؤں میں
مچلتا ہے، لو دے رہے ہیں
چہکنے لگے ہیں پرندے
درختوں میں پتے بھی ہلنے لگے ہیں
کہ لہراتے رنگوں میں
عورت کے اندر سے بہتی ہوئی روشنی میں
دمکنے لگی ہے یہ دنیا۔۔۔۔
وہ بچہ۔۔۔۔۔ اسے دیکھے جاتا ہے
ہنستے، ہمکتے ہوئے
اس کی جانب لپکنے کو تیار۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عورت بھی کچھ
زیر لب گنگنانے لگی ہے
لجاتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کسی سر خوشی میں
بڑھاتا ہے وہ ہاتھ اپنے
تو بچہ۔۔۔۔۔۔ اچانک پلٹتا ہے
اور ماں کے سینے میں چھپتا ہے
عورت سڑک پار کرتی ہے
تیزی سے، گھبرا کے
چلتی چلی جا رہی ہے

 

ادھر کوئی دیوار گرتی ہے
شاعر کے دل میں
وہیں بیٹھ جاتا ہے
اور جوڑتا ہے یہ منظر
اندھیرے سے بھرتی ہوئی آنکھ میں !

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

By ابرار احمد

ابرار احمد 1980ء سے شعر کہہ رہے ہیں۔ ان کی شاعری کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک نظموں کا مجموعہ "آخری دن سے پہلے" (1997)، اور دوسرا غزلوں کا مجموعہ "غفلت کے برابر" (2007)۔ ان کی شاعری میں وجودی کرب، زندگی کی لایعنیت، فریب کی پردہ کشائی اور نقل مکانی کے موضوعات کو چھیڑتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *