Categories
شاعری

اشتہار سے باہر

علی محمد فرشی: رشتوں کی سلاخوں میں
پروئی عورتوں اور
گائے کے عمدہ گلابی گو شت کا بھاؤ
ابھی تک ایک جیسا ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

اشتہار سے باہر

[/vc_column_text][vc_column_text]

وہی قیمت ہے عورت کی
ازل سے جو مقرر ہے
زمینی منڈیوں میں
آسمانی مارکیٹوں میں
کرنسی میں تغیر آتا رہتا ہے
مگر قسمت وہی رہتی ہے

 

ہاتھوں کی لکیروں سے
ترقی کے گرافوں پر سرکتی ،سرسراتی
لائنوں کے جال میں جکڑی ہوئی عورت
اکیلی تھی
اکیلی ہے
مصور کے تخیل سے
خدا کی بادشاہت تک
سبھی اخبار
“پریوں اور حوروں کی ضرورت ہے”
کے رنگین اشتہاروں سے بھرے رہتے ہیں

 

رشتوں کی سلاخوں میں
پروئی عورتوں اور
گائے کے عمدہ گلابی گو شت کا بھاؤ
ابھی تک ایک جیسا ہے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

By علی محمد فرشی

علی محمد فرشی ایک شاعر ہیں جنہیں ان کی امیجری اور تخیل کی کثیر سطحی معنویت کی وجہ سے سراہا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *