Categories
شاعری

آنسوؤں کی سیڑھی

مصطفیٰ ارباب: میں نے
آنسوؤں سے
ایک سیڑھی بنائی ہے

میں نے
آنسوؤں سے
ایک سیڑھی بنائی ہے
یہ آنسو
ایک حادثے میں
زخمی ہو گئے تھے
زور سے مت بولو
آواز کے ارتعاش سے
آنسوؤں میں درد اٹھتا ہے
میں احتیاط سے
ان کو جوڑ کے
زینے بناتا ہوں
یہاں سے ہر چیز
نمی سے بنی ہوئی لگتی ہے
محبت
خواب
خوشی
اور آدمی بھی
آنسوؤں سے بنے ہوئے لگتے ہیں
یہ سیڑھی
بلند ہوتی جارہی ہے
ایک دن
آنسوؤں کی سیڑھی کے ذریعے
میں خدا تک پہنچ جاؤں گا
جس نے اپنی طرح
ہر چیز
آنسوؤں سے بنائی ہے

By مصطفیٰ ارباب

مصطفیٰ ارباب 1967 میں سندھ کے ضلع سانگھڑ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ وہ میرپور خاص میں مقیم ہیں۔ انہوں نے اپنا ادبی کیریئر 1984 میں ایک افسانہ نگار کے طور پر شروع کیا۔ ان کی شاعری کا مجموعہ "خواب اور آدمی" 1999 میں شائع ہوا۔ سندھی اور اردو دونوں زبانوں میں لکھنے کے ساتھ ساتھ وہ سندھی اور اردو ادب کے مترجم بھی ہیں۔ ان کے ادبی کام برصغیر پاک و ہند کے مؤقر ادبی مجلات میں چھپ چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *