Categories
شاعری

بچہ اور بالغ

حسین عابد: ممکن ہے
وہ
تمہارے موٹے بوٹ پہن کر
تمہاری کدال اٹھائے جا چکا ہو

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بچہ اور بالغ

[/vc_column_text][vc_column_text]

ممکن ہے
ڈھلتے دن کی دھوپ میں
تم اسے ایک خالی میدان میں ملو
اور حیرت بھری امید سے
اس کے پاس اکڑوں بیٹھ کر
پھٹی جلد والا ہاتھ پھیلا دو
اور وہ اپنے بنٹے چھپا لے

 

ممکن ہے
گہری ہوتی شام میں
سِکوں سے بھری جیب میں ہاتھ ڈالے
اپنی قدیم شناسا گلی میں مڑتے
تم ایک اجنبی پتھر سے ٹھوکر کھاؤ
اور وہیں بیٹھ کر
پھوٹ پھوٹ کر رو دو

 

ممکن ہے
تم صبح کے الارم پر جاگو
تو الارم پر چھوٹا سا
پلاسٹک کا خرگوش بیٹھا ہو
اور وہ
تمہارے موٹے بوٹ پہن کر
تمہاری کدال اٹھائے جا چکا ہو

Image: Victoria Villasana and Zabou
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

By حسین عابد

شاعر اور موسیقار حسین عابد، لاہور میں پیدا ہوئے اور اس وقت جرمنی میں مقیم ہیں۔ ان کی شاعری کا مجموعہ، "اتری کونجیں"، "دھندلائے دن کی حدت" اور "بہتے عکس کا بلاوا" عام قارئین اور ناقدین سے یکساں پذیرائی حاصل کر چکی ہیں۔ حسین عابد نے "کاغذ پہ بنی دھوپ" اور "قہقہہ انسان نے ایجاد کیا" کی پیشکش میں مسعود قمر سے اشتراک کیا۔ عابد کا موسیقی کا گروپ "سارنگا" پہلا انسیمبل ہے جو اردو اور جرمن دونوں زبانوں میں فن کا مظاہرہ کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *