[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][vc_column_text]
ڈھلتے دن کی دھوپ میں
تم اسے ایک خالی میدان میں ملو
اور حیرت بھری امید سے
اس کے پاس اکڑوں بیٹھ کر
پھٹی جلد والا ہاتھ پھیلا دو
اور وہ اپنے بنٹے چھپا لے
گہری ہوتی شام میں
سِکوں سے بھری جیب میں ہاتھ ڈالے
اپنی قدیم شناسا گلی میں مڑتے
تم ایک اجنبی پتھر سے ٹھوکر کھاؤ
اور وہیں بیٹھ کر
پھوٹ پھوٹ کر رو دو
تم صبح کے الارم پر جاگو
تو الارم پر چھوٹا سا
پلاسٹک کا خرگوش بیٹھا ہو
اور وہ
تمہارے موٹے بوٹ پہن کر
تمہاری کدال اٹھائے جا چکا ہو
Image: Victoria Villasana and Zabou
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]
