Categories
اداریہ

ایم فل اور پی ایچ ڈی میں داخلوں کا سابقہ طریق کار بحال کرنے کی ہدایت

campus-talks-890x395_c

ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے پاکستان کی سرکاری اور غیر سرکاری جامعات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی داخلوں کے لیے پرانا طریق کار بحال کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے پاکستان کی سرکاری اور غیر سرکاری جامعات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی داخلوں کے لیے پرانا طریق کار بحال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ایچ ای سی کے مطابق اعلیٰ تعلیم کے پراگراموں میں داخلے کے لیے یونیورسٹیاں این ٹی ایس کے زیراہتمام GAT کی بجائے اپنے طور پر گریجویٹ اسیسمنٹ ٹیسٹ (GAT) یا اپنے داخلہ امتحان منعقد کرائیں گی۔ 4 جنوری 2016 کو ایچ ای سری کے ترجمان نے اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایچ ای سی کی جانب سے کسی یونیورسٹی کو کوئی ایسی ہدایات نہیں دی گئیں جن کے تحت انہیں این ٹی ایس یا کسی بھی اور غیر سرکاری ادارے سے داخلہ امتحانات کے انعقاد کا پابند کیا گیا ہے۔
ایچ ای سی ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ غیر سرکاری جامعات میں داخلہ لینے والے طلبہ کے لیے بھی نیشنل ٹیسٹنگ سرورس (NTS) کے تحت GAT امتحان دینے کی شرط عائد نہیں۔ سرکاری اور غیرسرکاری جامعات اپنے طور پر داخلہ ٹیسٹ یا GAT منعقد کرا سکتی ہیں۔ ترجمان کے مطابق ایچ ای سی البتہ مختلف ملکی و غیر ملکی وظائف کے لیے این ٹی ایس کے تحت امتحانات منعقد کراتا رہے گا۔

 

ایچ ای سی کی ان ہدایات پر اساتذہ اور طلبہ کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آیا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے سماجی علوم میں بی ایس آنرز کرنے والے طالب علم ریاض محمود کے مطابق اگرچہ یہ ہدایات طلبہ اور تعلیمی اداروں کے لیے آسانی کا باعث بنیں گی لیکن ایچ ای سی کو داخلوں کا نظام شفاف بنانے کے لیے بھی اقدامات کرنے ہوں گے وگرنہ سرکاری اور غیر سرکاری یونیورسٹیوں میں اقرباء پروری میں اضافے کا اندیشہ ہے،”یونیورسٹیاں اپنے ہی طالب علموں اور اساتذہ کو ایم فل اور پی ایچ دی میں داخلے دینے کو ترجیح دیتی ہیں، اگر یونیورسٹی نے ہی داخلہ امتحان بھی لینا ہے اور داخلے بھی دینے ہیں تو ان کا معیار بھی وہی ہو گا جو سمسٹر امتحانات کا ہوتا ہے۔”

 

عدالت کے 2014 کے فیصلے سے داخلوں کا نظام بہتر ہوا ہے اور ایچ ای سی کو یہ ہدایات پہلے جاری کر دینی چاہیئں تھیں تاکہ طلبہ کو کوئی ابہام نہ رہتا۔
ایک نجی یونیورسٹی سے وابستہ مینجمنٹ سائنسز کے لیکچرر تنویر صادق کے مطابق ایچ ای سی کی ہدایات کی قانونی حیثیت کا تعین ضروری ہے،”صوبوں میں کے اپنے ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹس کی موجودگی میں ایچ ای سی کیا پورے پاکستان کے لیے ایسی ہدایات جاری کر سکتا ہے یا نہیں اور ان ہدایات کے اطلاق کی کیا صورت ہو گی یہ تعین کرنا ضروری ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ این ٹی ایس کے تحت امتحانات کے انعقاد کے کچھ فوائد بھی تھے جنہیں نظرانداز کیا جا رہا ہے “این ٹی ایس اگرچہ بہت معیاری امتحانات منعقد نہیں کرا پایا لیکن اس کی وجہ سے یکساں معیار پر طلبہ کو پرکھنے کا ایک نظام قائم تھا جسے مزید بہتر بنایا جاسکتا تھا۔”

 

سیاسیات میں ایم فل کرنے والی طالبہ ارم رحیم البتہ اس فیصلے کی مکمل حمایت کرتی ہیں،”عدالت کے 2014 کے فیصلے سے داخلوں کا نظام بہتر ہوا ہے اور ایچ ای سی کو یہ ہدایات پہلے جاری کر دینی چاہیئں تھیں تاکہ طلبہ کو کوئی ابہام نہ رہتا۔” ایم فل اور پی ایچ ڈی میں داخلوں کے لیے این ٹی ایس کے زیر اہتمام GAT کی لازمی شرط مارچ 2014 میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے تحت ختم کی گئی تھی۔ فیصلے کی وجہ این ٹی ایس کے لیے منظور کیے گئے پارلیمانی ایکٹ میں اس ادارے کے لیے متعین کردہ دائرہ کار کی بنیاد پر این ٹی ایس ٹیسٹ کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ 11 مارچ 2014کو عدالت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو داخلوں کے لئے این ٹی ایس کی حیثیت کا تعین کرنے کی ہدایت کی تھی۔
Categories
اداریہ

پنجاب یونیورسٹی: داخلوں کے لئے این ٹی ایس ٹیسٹ کی شرط ختم، طلبہ کے تحفظات

پنجاب یونیورسٹی لاہور نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد یونیورسٹی میں داخلے کے لئے این ٹی ایس ) نیشنل ٹیسٹنگ سروس (امتحانات کی شرط ختم کر دی ہے۔ این ٹی ایس کی شرط ختم کرنے کا فیصلہ وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران کی سربراہی میں فیکلٹی ممبرز اور ڈینز کے گزشتہ جمعہ کو ہونے والے اجلاس کے دوران کیا گیا۔
لالٹین ذرائع کے مطابق پنجاب یونیورستی کے تمام ڈیپارٹمنٹس میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے داخلوں کے لئے این ٹی ایس متحانات میں پچاس فی صد یا زائدنمبرز حاصل کرنے کے بعد یونیورسٹی ڈیپارٹمنٹس اپنا علیحدہ ٹیسٹ لیتے تھے۔ تاہم ہائی کورٹ لاہور کی جانب سے تعلیمی اداروں میں داخلے کے لئے این ٹی ایس ٹیسٹ کی متنازعہ قانونی حیثیت کی وجہ سے کالعدم قرار دیے جانے کے بعد پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے داخلہ کے لئے این ٹی ایس کی شرط ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
این ٹی ایس ٹیسٹ تمام یونیورسٹیز کے طلبہ کو یکساں معیار پر پرکھنے کا ذریعہ تھے اس لئے انہیں ختم کرنے کی بجائے ڈیپارٹمنٹس اور یونیورسٹیز کے ٹیسٹ ختم کئے جاتے تو بہتر تھا۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی طلبہ کی ذہنی صلاحیت جانچنے کے معیارات مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صرف اہل طلبہ ہی تحقیق اور تحصیل علم کے اعلی ترین ڈگری پروگرامز میں داخلہ حاصل کر سکیں۔
طلبہ حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں ایم فل کی طالبہ فاطمہ مشتاق کے مطابق این ٹی ایس ٹیسٹ تمام یونیورسٹیز کے طلبہ کو یکساں معیار پر پرکھنے کا ذریعہ تھے اس لئے انہیں ختم کرنے کی بجائے ڈیپارٹمنٹس اور یونیورسٹیز کے ٹیسٹ ختم کئے جاتے تو بہتر تھا۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی طلبہ کی ذہنی صلاحیت جانچنے کے معیارات مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صرف اہل طلبہ ہی تحقیق اور تحصیل علم کے اعلی ترین ڈگری پروگرامز میں داخلہ حاصل کر سکیں۔
پنجاب یونیورسٹی کے کمیونیکیشن سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں داخلے کے خواہش مند اسامہ عمر کے مطابق این ٹی ایس ٹیسٹ غیر منصفانہ ہے،” ماسٹرز کے امتحانات یونیورسٹیز لیتی ہیں اور اس کے بعد داخلے کے لئے ایک اور ٹیسٹ لیا جانا نامناسب ہے۔ یہ صرف پیسے کمانے کا ایک طریقہ ہے، اور این ٹی ایس کا طریقہ کار ایسا ہے کہ کوئی بھی طالب علم پہلی بار GAT پاس نہیں کرپاتا۔ خود میں دو مرتبہ امتحان دینے کے بعد پاس ہو سکا تھا۔میرے کئی دوست بھی دودو متبہ امتحان دینے کے بعد ہی پاس ہوئے تھے۔”
ایم فل کرنے والے ایک طالب علم نےنام نہ بتانے کی شرط پر اسے این ٹی ایس کی جگہ یونیورسٹی کی آمدنی میں اضافہ کا ایک حربہ قرار دیا،” جو پیسے پہلے طلبہ GAT پاس کرنے کے لئے این ٹی ایس کو دیتے تھے وہی فیس اب یونیورسٹی کے اکاونٹ میں جائے گی۔ یونیورسٹی کے موجودہ طلبہ کو بھی GAT کے خاتمے سے فائدہ ہونے کا امکان ہےکیوں کہ تمام یونیورسٹیز اپنے ہی فارغ التحصیل طلبہ کو داخلہ دینے کو ترجیح دیتی ہیں۔ اکثر ڈیپارٹمنٹس میں بعض پروگرامز کی پچاس فی صد نشستیں اپنے ہی گریجوایٹس کے لئے مخصوص کی جا چکی ہیں۔ پیپر بنانے اور چیک کرنے کا اختیار بھی متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہوا تو بدعنوانی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
نیشنل ٹیسٹنگ سروس کا ادارہ سابق صدر پرویز مشرف کے زمانے میں قائم کیا گیا تھا جس کے تحت تعلیمی اداروں میں داخلے اور سرکاری اور نجی اداروں میں ملازمتوں کے لئے اہلیت کے امتحانات منعقد کئے جاتے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں اب ایم فل داخلوں کے لئے انٹری ٹیسٹ کے پچاس فیصد جبکہ سابقہ تعلیمی ریکارڈ کے پچاس فیصد نمبر وں کی بنیاد پر امیدواران کی اہلیت کا فیصلہ کیا جائے گا۔