Categories
نقطۂ نظر

گندم سبسڈی احسان نہیں

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ مسلم لیگ نواز نے عوام کو مایوس کیا ہو یہ جماعت کئی مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کے باوجود بھی گلگت بلتستان کی فلاح بہبود اور ترقی کے لیے نمایاں اقدمات کرنے میں ناکام رہی ہے
اپریل کے مہینے میں جب وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے گلگت دورے کا عندیہ دیا تو مقامی ذرائع ابلاغ اور مسلم لیگ نواز کے ذمہ داروں نے اُن کی آمد سے پہلے ہی یہ افواہ پھیلانا شروع کردی کہ وزیراعظم اپنے دورے میں گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے اہم اعلان کریں گے۔ لیکن بدقسمتی میاں نواز شریف کی جانب سے روایتی اعلانات سے بڑھ کرکوئی نئی چیز سُننے کو نہیں ملی۔ خطے کی مجموعی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ دورہ بے سود ثابت ہوا لیکن یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ مسلم لیگ نواز نے عوام کو مایوس کیا ہو یہ جماعت کئی مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کے باوجود بھی گلگت بلتستان کی فلاح بہبود اور ترقی کے لیے نمایاں اقدمات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ صرف نواز شریف ہی نہیں بلکہ ہر جماعت اور رہنما نے اس علاقے کو نظرانداز کیا ہےیہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ قائد عوام شہید ذولفقار علی بھٹو کو بقول راشد سمیع کولمبس سمجھتے ہیں۔ 1948 کی ناکام بغاوت یا سازش کا شکار ہونے اورمعاہدہ کراچی پرگلگتی عوام کی مرضی کے بغیر دستخط کے بعد پاکستان نے گلگت بلتستان کو ایسے بھلا دیا جیسے یہاں انسان ہی نہیں بستے۔ بھٹو شہید کو جب مختصر وقت کیلئے وزیراعظم بننے کا موقع ملا تو انہوں نے گلگت بلتستان کو نئے سرے سے “دریافت “کیا۔ مقامی ڈوگروں سے نجات دلاتے ہوئے عوام کو برابر کاانسان ہونے کا یقین دلایا ورنہ تو گلگت کے عوام ریاستی غلامی سے نکل کرعلاقائی غلامی کی بھٹی میں جل رہے تھے، یہی وجہ ہے کہ آج بھی بھٹو کا نام ہمارے لبوں پر محبت کے ساتھ آتا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق نون لیگ نے وفاقی بجٹ میں گلگت بلتستان کے عوام سے بھٹو کا دیا تخفہ چھیننے اور گندم پر موجود سبسڈی ختم کرنے کی کوشش کی۔ نواز شریف سرکار نے گلگت بلتستان کے عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ ہم چاہیں تو یہ سبسڈی ختم بھی کرسکتے ہیں۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ وفاق گلگت بلتستان کے باشندوں کو گندم پر سبسڈی دےکر کوئی احسان نہیں کر رہا بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کررہاہے ۔ اقوام متحدہ کی13اگست 1948کی قراردادمیں جموں و کشمیر اورگلگت بلتستان کوخوراک کی ترسیل کے سلسلے میں سبسڈی دینے کی منظوری دی گئی تھی جس کے تحت سرحد کے آر پار دشوارگزارعلاقوں تک خواراک کی ترسیل پر اٹھنے والے اخراجات انتظامیہ برداشت کرے گی۔ اگرچہ یہ قرارداد 1948 میں منظور ہوئی تھی تاہم اس پر عملدرآمد کاآغاز 1972 میں ذوالفقار علی بھٹو نے کیا ۔
گندم سبسڈی مقامی غریب آبادی کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں بدقسمتی سے 2008 میں مشرف دورحکومت میں وفاق نے مرحلہ واراس رعایت سے اپنا ہاتھ کھینچنا شروع کیا اوریوں کچھ ہی عرصے میں 100کلوکی گندم کی بوری 850سے بڑھ کر 1650روپے کی ہو گئی۔ آٹے کاچالیس کلوکا تھیلاجب 430سے بڑھ کر750 روپے کا ہوا تو عام آدمی اس سبسڈی کے خاتمے سے براہ راست متاثر ہونے لگا ۔ گندم کی بڑھتی قیمتوں نے اپنا رنگ دکھایا اور احتجاجی مظاہرے ،ریلیاں اوردھرنے شروع ہوئے ، جس پر عوامی ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔اس کمیٹی میں تاجر،شہری،طلباء سول سوسائٹی کے لوگ شریک ہوئے۔ گندم سبسڈی کے خاتمے عوامی سطح پر احتجاج زورپکڑتاگیا جس کے بعد 2013کے اختتام پر اس سبسڈی کا کچھ حصہ پھر بحال کر دیا گیا اور 100 کلو کی گندم کی بوری کی قیمت 1650سے کم کر کے1400روپے مقرر کر دی گئی۔
اقوام متحدہ کی13اگست 1948کی قراردادمیں جموں و کشمیر اورگلگت بلتستان کوخوراک کی ترسیل کے سلسلے میں سبسڈی دینے کی منظوری دی گئی تھی
حالیہ بجٹ میں وزیر خزانہ کی جانب سے گندم سبسڈی کے خاتمے کی تجویز کو وزیراعظم نے بروقت نوٹس لیتے ہوئے واپس لیا وگرنہ گلگت بلتستان کے عوام انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہوجاتے ۔ اس سبسڈی کے خاتمے کے باعث مقامی لوگوں کے احساس محرومی میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے جس کا اثر اقتصادی راہداری کے منصوبے پر بھی پڑ سکتا ہے۔ بھارتی سرکار اور ذرائع ابلاغ پہلے ہی انتخابات اور اقتصادی راہداری کے حوالے سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں، سبسڈی کا خاتمہ جلتی پر تیل ثابت ہوتا کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ وفاق پاکستان گلگت بلتستان کے عوام کوگندم سبسڈی خیرات کے طور پر نہیں بلکہ گلگت بلتستان کی متازعہ حیثیت کی وجہ سے عالمی قوانین کے تحت دینے کا پابند ہے۔
گلگت بلتستان کے عوام اپنے جائز آئینی حق سے محروم کیے جانے کی صورت میں یہ حق رکھتے ہیں کہ اپنی سزرمین سے حاصل ہونیوالی آمدنی کا حساب کتاب کرنے کےلیے اقوام متحدہ سے رجوع کریں
وفاقی حکومت اگر واقعی میں گندم سبسڈی ختم کرنا چاہتی ہے تو پہلے اسے گلگت بلتستان کے عوام کے جائز معاشی و سیاسی مطالبات بھی تسلیم کرنا ہوں گے۔ پھر مقامی لوگ یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اس خطے کو قومی دھارے میں شامل کرتے ہوئے اس کی آئینی حیثیت کا تعین کیا جائے۔ سوست ڈرائی پورٹ ،کسٹم اور سیاحت کی آمدنی کے ساتھ قراقرم ہائی وے اور دریائے سندھ کی رائلٹی گلگت بلتستان کو ملنی چاہیے کیونکہ عالمی قوانین اور آئین پاکستان کے مطابق تمام صوبوں کو یہ حق حاصل ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام اپنے جائز آئینی حق سے محروم کیے جانے کی صورت میں یہ حق رکھتے ہیں کہ اپنی سزرمین سے حاصل ہونیوالی آمدنی کا حساب کتاب کرنے کےلیے اقوام متحدہ سے رجوع کریں تاکہ دنیا کو معلوم ہوجائے کہ گلگت بلتستان وفاق کی خیرات پر نہیں پل رہا بلکہ وفاق اس خطے کا کھربوں ڈالر کا مقروض ہے۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مقامی لوگ اپنے حقوق سے ہی لاعلم ہیں۔ ہمارے مفاد پرست سیاست دانوں نے عوام کو غلامی، استحصال اور ناانصافی برداشت کرنے پر مجبور کیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج ہر اُس شخص کو ریاستی جبر کا سامنا ہے جو اقوام متحدہ کے پاک و ہند کمیشن کے تحت خطے کو حقوق دینے کی بات کرتا ہے۔ گلگت میں پولیس گردی اس ظلم کی تازہ مثال ہے جس نے قوم پرست رہنماوں کو صرف اس لیے گرفتار کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا کیونکہ یہ لوگ اقتصادی راہداری اور انتخابات کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کیمپ آفس میں یادداشت پیش کرنا چاہتے تھے۔
Categories
اداریہ

فوجی عدالتیں قوم پرستوں کو کچلنے کا منصوبہ ہیں

letters-to-the-editor-featured1

محترم مدیر
پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی دہشت گردی کی روک تھام کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم مقامی سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کے کارکنان کو انسداد دشت گردی کے قوانین کے حوالے سے گزشتہ تلخ تجربات کے باعث یو ںمحسوس ہورہا ہے کہ یہ عدالتیں مقامی ترقی پسند اور قوم پرست تحریکوں کو کچلنے کا ایک منصوبہ ہے ۔ آپ کےجریدے کے توسط سے میں قارئین کی توجہ مقامی سیاسی حلقوں میں ان عدالتوں کے خلاف پائے جانے والی تشویش کی جانب دلانا چاہتا ہوں۔ عوامی ورکرز پارٹی اور پروگریسویوتھ فرنٹ گلگت بلتستان کے مشترکہ اجلاس کے دوران فوجی عدالتوں سے متعلق مقامی آبادی کےخدشات کی نشاندہی کی گئی۔ اجلاس کے دوران وفاق اور عسکری اداروں کو یہ تنبیہہ بھی کی گئی کہ پرامن سیاسی تحریکوں کو کچلنے کے لیے ان عدالتوں کے استعمال کےنتائج بھیانک ہو سکتے ہیں۔ اجلاس میں شریک کامریڈ ظہور،کامریڈ نواب،کامریڈ ابدالی،کامریڈ واجد،کامریڈ واحد،کامریڈ علی شیر،کامریڈ احسان کریم اوردیگر کارکنان نے فوجی عدالتوں کے قیام کی حمایت کرنے والے سیاستدانوں اور جماعتوں کو گلگت بلتستان کا غدار قرار دیا ہے۔
مقامی سیاسی جماعتوں کے نزدیک آئین پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کے اطلاق سے مستثنی ٰ علاقوں میں فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ پاکستانی مقننہ سے منظور کیے جانے کے باوجود قابل اطلاق نہیں اور ایسا کرنا اقوام متحدہ کے وضع کردہ عالمی قوانین کی بھی سراسر خلاف ورزی ہے۔
گلگت بلتستان میں آزادی اظہار رائے پر عائد پاپندیوں کے باعث اپنے حق میں آواز اٹھانے والے آئے روز ریاستی جبر کا نشانہ بنتے ہیں لیکن قومی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ ان واقعات کو نظرانداز کرنے کا چلن اپنائے ہوئے ہیں۔لالٹین کے توسط سے میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ بنیادی انسانی حقوق سے محروم مقامی آبادی اپنے سیاسی حقوق کی تحصیل کے لیے پرامن جدوجہد میں مصروف ہیں لیکن پاکستانی عسکری و ریاستی ادارے ایسے قوانین کی مدد سے قوم پرست تحریکوں کو دبانا چاہتے ہیں، جس کی واضح مثال انسداد دہشت گردی کے گزشتہ قوانین کے تحت مقامی آبادی سے روا ماضی میں انسداد دہشت گردی کے قوانین انسانی حقوق کے کارکنان اور قوم پرست سیاسی کارکنوں کے خلاف استعمال کیے جانے کے باعث فوجی عدالتوں پر مقامی آبادی کے تحفظات نہ صرف جائز بلکہ فوری توجہ متقاضی ہیں۔ رکھی جانے والی زیادتیاں ہیں۔
عوامی ورکرز پارٹی اور پروگریسویوتھ فرنٹ گلگت بلتستان جیسی مقامی سیاسی جماعتوں کے نزدیک آئین پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کے اطلاق سے مستثنی ٰ علاقوں میں فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ پاکستانی مقننہ سے منظور کیے جانے کے باوجود قابل اطلاق نہیں اور ایسا کرنا اقوام متحدہ کے وضع کردہ عالمی قوانین کی بھی سراسر خلاف ورزی ہے۔گلگت بلتستان اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں فوجی عدالتوں کے قیام پر انسانی حقوق کی تنظیموں اوراقوام متحدہ کو نوٹس لینا ہوگا کیوں کہ ایک نمائشی گلگت بلتستان کونسل یا بے اختیارآزاد کشمیر اسمبلی وفاق اور عسکری اسٹیبلشمنٹ کے مقابل مقامی آبادی کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انسداد دہشت گردی کے قوانین اور خصوصی عدالتوں کے سیاسی کارکنان کے خلاف استعمال کو روکا جائے اور فوجی عدالتوں کے قیام کے ذریعے مقامی آبادی کی پرامن سیاسی تحریکوں کو دبانے کی کوشش نہ کی جائے۔
خیراندیش
عنایت ابدالی
گلگت بلتستان