Categories
نقطۂ نظر

پی آئی اے، کرپشن اور نجکاری

وفاقی حکومت کے خلاف آج کل اپوزیشن اور کاروباری افراد نے شور مچایا ہوا ہے، شور مچانے کی وجہ چالیس ارب روپے کے اضافی محصولات کا نفاذ اوروہ صدارتی آرڈیننس ہے جو رات کی تاریکی میں پی آئی اے کی نجکاری کے سلسلے میں اس ایک لمیٹڈ کمپنی بنانے کے لیےجاری کیا گیا۔ ایک روز بعد ہی قومی اسمبلی کا اجلاس ہونے والا تھالیکن چور کی داڑھی میں تنکا کے مصداق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کویہ معلوم تھا کہ قومی اسمبلی سے پی آئی اے کی نجکاری کے لیے اسے ایک لمیٹڈ کمپنی بنانےکا بل پاس کرانے میں وقت بھی لگے گا اور تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ اس لیے قومی اسمبلی کی بالادستی کو نظرانداز کرکے رات کی تاریکی میں یہ صدارتی آرڈیننس جاری ہوا۔ بعد میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کارپوریشن (تبدیلی) آرڈیننس 2015ءقومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے پارلیمانی امورشیخ آفتاب احمد نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کارپوریشن تبدیلی آرڈیننس 2015ء منظوری کے لیے پیش کیا۔ آرڈیننس کے تحت اب پی آئی اے کمپنیز آرڈیننس 1984ء کے تحت ایک کمپنی کے طور پر کام کرے گی۔

 

ٓآئی ایم ایف نے پہلے سے زیادہ شرح سود پر پاکستان کو قرضہ دینے کے علاوہ یہ شرائط بھی رکھی تھیں کہ پاکستان ریاستی اخراجات میں کمی کے ساتھ ساتھ عوام کو دی جانے رعایت کا مکمل خاتمہ کرے گا اورجلد از جلد ریاستی اداروں کی نجکاری کرے گا۔
پی آئی اے ایک قومی ادارہ ہے جس کے حالات اور معاملات عرصہ دراز سے سیاسی مداخلت اور میرٹ سے ہٹ کر تقرریوں کے باعث خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ نااہل اور سفارشی بھرتیوں کے باعث یہاں بگاڑ آیا ہے۔ حکومت نے اس کا حل نجکاری میں تلاش کیا ہے۔ دبئی سے آنے والی ایک خبر نے اس راز پر سے پردہ اٹھایا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈارکو ٹیکس نافذ کرنے اور پی آئی اے کی نجکاری کی جلدی کیوں تھی۔ خبر کے مطابق “وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے ریونیو” ہارون اختر خان ایف بی آر کے رکن ڈاکٹر اقبال نے نو دسمبر 2015ء کو دبئی میں آئی ایم ایف مشن کو چالیس ارب روپے کی اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی کے نفاذ کی تفصیلات پر اعتماد میں لیا۔ پاکستانی وفد آئی ایم ایف مشن کو یہ بتانے کے لیے بھیجا گیا تھا کہ باون کروڑ ڈالر کی نویں قسط اگلے ماہ جاری کرنے کے لیے جو شرائط رکھی گئی تھیں وہ پاکستان نے من و عن پوری کر دی ہیں۔ سامان تعیش، درآمدی اشیائے خوردو نوش اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر عائد کیے جانے والے اضافی محصولات کے ذریعے چالیس ارب کی کمی سات ماہ میں پوری کر لی جائے گی”۔ اب پتہ نہیں کس نے اسحاق ڈار کو یہ بتایا ہے کہ خوردو نوش کی درآمدی اشیاء صرف کتے اور بلیوں کی خوراک ہے کہ وہ کہہ بیٹھے کہ “کتے بلیوں کی خوراک پر ٹیکس لگا ہے، عام آدمی متاثر نہیں ہوگا”۔

 

آئی ایم ایف نے پہلے سے زیادہ شرح سود پر پاکستان کو قرضہ دینے کے علاوہ یہ شرائط بھی رکھی تھیں کہ پاکستان ریاستی اخراجات میں کمی کے ساتھ ساتھ عوام کو دی جانے رعایت کا مکمل خاتمہ کرے گا اورجلد از جلد ریاستی اداروں کی نجکاری کرے گا۔ پاکستان نے ان تمام باتوں پر اپنی رضامندی ظاہر کی تھی، یہ ہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان مشن کے سربراہ ہیرلڈ فنگر نے پاکستانی اداروں کی نجکاری کے سلسلے میں پہلے ہی بتایا دیاتھا کہ حکومت پاکستان اس سال دسمبر تک پی آئی اے کی نجکاری کردے گی، جبکہ پاکستان اسٹیل کی نجکاری مارچ 2016ء تک کرنے کا پروگرام طے ہے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری بھی ہوگی۔ لیکن شاباش ہے ہمارے وزیر خزانہ کو کہ وہ قوم کو سچ بتانے پر اب بھی تیار نہیں، قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ہمیں اس قومی ادارے کو ٹھیک کرنا ہے۔ نئے آرڈیننس کے ذریعے کمپنی بننے کے بعد کوئی ملازم فارغ ہوا ہے نہ ہوگا۔ پی آئی اے کے کسی اثاثے کی نجکاری نہیں ہوگی۔

 

پی ٹی سی ایل اور کے ای ایس سی کی نجکاری کے بعد پی ٹی سی ایل سے 20ہزار سے زیادہ مستقل ملازمین اور کے ای ایس سی سے 8ہزار مستقل ملازمین کو بلاجواز برطرف کر کے ان کا معاشی قتل کیا جا چکا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جیو نیوز پر نشر کیے جانے والے نجم سیٹھی کے پروگرام آپس کی بات میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی آئی اے کے لیے سٹرٹیجک پارٹنر ڈھونڈ رہے ہیں، پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے غیرذمہ دارانہ بیانات دیئے جارہے ہیں، آرڈیننس پی آئی اے کو کارپوریٹ ادارہ بنانے کے لیے لایا گیا ہے، پی آئی اے آج پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ بن چکی ہے۔ کارپوریٹ ادارہ بننے کے بعد بھی پی آئی اے کے ملازمین کے عہدوں اور سہولیات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ پی آئی اے کے لیے نجکاری کا لفظ استعمال کرنا غلط ہے، ہم پی آئی اے کے لیے اسٹریٹجک پارٹنر ڈھونڈ رہے ہیں۔ یہ کام پاکستان میں پہلی دفعہ نہیں ہورہا، ماضی میں آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ اور ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کو بھی کارپوریٹ ادارہ بنایا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرڈیننس جاری کر کے حکومت نے کوئی غیرآئینی کام نہیں کیا، اگر نجکاری کے لیے قانون لارہے ہوتے تو پہلے پارلیمنٹ میں ضرور جاتے۔

 

آپس کی بات میں اسحاق ڈار کی گفتگو

وزیر خزانہ اسحٰاق ڈار پی آئی اے کی نجکاری کے بعد ملازمین کو نہ نکالنے کا دعویٰ کر کے کسے بے وقوف بنارہے ہیں، اس سے قبل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن لمیٹڈ اور کراچی الکیٹرک سپلائی کارپوریشن کی نجکاری کے موقع پر بھی ایسے ہی دعوے کیے گئے تھے بلکہ تحریری طور پر ملازمین کو یقین دلایا گیا تھا کہ نجکاری کے بعد کسی کو جبری برطرف نہیں کیا جائے گا لیکن پی ٹی سی ایل اور کے ای ایس سی کی نجکاری کے بعد پی ٹی سی ایل سے 20ہزار سے زیادہ مستقل ملازمین اور کے ای ایس سی سے 8ہزار مستقل ملازمین کو بلاجواز برطرف کر کے ان کا معاشی قتل کیا جا چکا ہے۔ وزیر خزانہ پی آئی اے کی نجکاری آئی ایم ایف کے حکم پر کر رہے ہیں جو قطعی ملکی مفاد میں نہیں۔ رہنما جماعت اسلامی سراج الحق نے دعویٰ کیا ہے کہ “حکمرانوں کا صر ف پی آئی اے ہی نہیں، پاکستان اسٹیل ملز، او جی ڈی سی اورپاکستان ریلوے سمیت 68 قومی ادارے اونے پونے بیچنے کا منصوبہ ہے۔ زیادہ تر اداروں کی خریداری میں حکومت میں شامل لوگ دلچسپی لے رہے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نجکاری شفاف نہیں بلکہ سفارشی بنیادوں پر ہورہی ہے”۔

 

سرکاری اداروں کی نجکاری کے نتیجے میں ان کی انتظامی کارکردگی بہتر نہیں ہوئی؛ صرف 20 فیصد یونٹوں کی کارکردگی بہتر رہی، 44 فیصد کی کارکردگی ویسی ہی رہی جیسی نجکاری سے پہلے تھی، جبکہ 35 فیصد کی کارگردگی اور بھی بدتر ہوگئی۔
نجکاری کے بارے میں سابق پلاننگ سکریٹری، ڈاکٹر اختر حسن خان نے اپنی تحقیقات کی بنیاد پر مندرجہ ذیل خیالات کا اظہار کیا ہے:

 

(1) سرکاری اداروں کی نجکاری کے نتیجے میں ان کی انتظامی کارکردگی بہتر نہیں ہوئی؛ صرف 20 فیصد یونٹوں کی کارکردگی بہتر رہی، 44 فیصد کی کارکردگی ویسی ہی رہی جیسی نجکاری سے پہلے تھی، جبکہ 35 فیصد کی کارگردگی اور بھی بدتر ہوگئی۔ نجکاری کے بعد خراب کارکردگی والے سرکاری مینوفیکچرنگ اداروں کی تعداد بڑھ کر 42 فیصد ہوگئی۔
(2) نجکاری سے شہریوں کو فائدہ نہیں پہنچا کیونکہ سات سے آٹھ برسوں کے دوران اشیاء کی قیمتوں میں 100 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔
(3) مزدوروں کو فائدہ نہیں ہوا کیونکہ اس دوران روزگار کی شرح گھٹ گئی۔
(4)کئی ایک یونٹوں کو تو کوڑیوں کے دام فروخت کردیا گیا، بلکہ بعض کو تو ان لوگوں کے ہاتھ فروخت کیا گیا جن کو اس کا تجربہ نہیں تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اول الذکر نے ناجائز منافع کمایا جبکہ ناتجربہ کار لوگوں کی وجہ سے بہت سے اہم یونٹ بند ہوگئے (مثلاً ذیل پاک سیمنٹ، نیشنل سیمنٹ اور پاک چائنا فرٹیلائزر)۔

 

ماہرین معاشیات موجودہ نجکاری کی پالیسی کو غلط قرار دے رہے ہیں ۔ اُن کے خیال میں موجودہ نجکاری کی پالیسی جس کے عوض قرضہ حاصل کیا جارہا ہے ریاست کے معاشی مفادات کے خلاف ہے۔ حکمران خسارے میں چلنے والے قومی اداروں کی نجکاری کے اقدامات پر دوبارہ غور کریں تو زیادہ بہتر ہے۔ قومی اداروں کو یوں اونے پونے داموں من پسند افراد یا اداروں کے ہاتھ فروخت کرنا دانشمندی نہیں۔ پی آئی اے کےمزدور اور کارکن بھی ادارے کی نجکاری کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، مزدوروں کے مفادات کا سودا کیا جا رہا ہے۔ قومی ترقی کے لیے ہمیشہ نئے ادارے بنانے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ہمارے حکمران محنت و مشقت اور کثیر سرمائے سے کھڑے کیے گئے اداروں کو بیچ رہے ہیں۔

 

ماہرین معاشیات موجودہ نجکاری کی پالیسی کو غلط قرار دے رہے ہیں ۔ اُن کے خیال میں موجودہ نجکاری کی پالیسی جس کے عوض قرضہ حاصل کیا جارہا ہے ریاست کے معاشی مفادات کے خلاف ہے۔
اداروں کی نجکاری ملکی سالمیت اور قومی وحدت کے بھی خلاف ہے ۔ حکومتوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرکے ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ کریں جبکہ ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ روز گار دینے کی بجائے برسر روزگار لوگوں سے روزگار چھینا جارہا ہے۔ ایک ایسی ریاست جہاں 60 فیصد عوام غربت یا غربت کی لکیر سے نیچے رہ رہے ہیں وہاں مزدوروں اور صارفین کو منافع خور سرمایہ داروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ پاکستان میں جائز منافع اور استحصالی ذہنیت کے درمیان بہت کم فرق ہے اور محسوس یہ ہوتا ہے کہ استحصالی رویہ معمول کی بات بن چکا ہے۔ جہاں کہیں معاشرے میں سرمایہ اور ہنرمندی کی قلت ہوتی ہے، وہاں سرکاری شعبہ پر واجب ہے کہ وہ صارفین اور مزدوروں کے مفادات کا تحفظ کرے۔ اس کے علاوہ یہ سوچ بھی غلط ہے کہ سرکاری ادارے مثلاً پی آئی اے، پاکستان ریلویز یا واپڈا خالصتاً تجارتی ادارے ہیں، یہ عوامی خدمات فراہم کرنے والے ادارے ہیں، انہیں موثر اور منافع بخش بنایا جاسکتا ہے لہذا یہ دلیل نہیں دی جاسکتی کہ ان کی نجکاری ضروری ہے۔

 

وفاقی وزیر خزانہ اسحٰاق ڈار کیوں اپنی ناکامیاں تسلیم نہیں کرتے ، وہ کشکول پھیلاکر اور قومی اداروں کو بیچ کر کب تک عوام کو ترقی کا جھانسہ دیں گے، انہوں نے نجکاری کے نام پر قومی اداروں کی جو لوٹ سیل لگا رکھی ہے وہ دراصل سوداگری ہے جس سے کرپشن کی نئی راہیں کھل رہی ہیں۔ نجکاری کے نام پر، اس کرپشن پر پی آئی اےکے ہرملازم کو وزیراعظم نواز شریف کے اُس بیان پر ضرور شکر گزار ہونا چاہیے جس میں انہوں نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو اس امر کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے کہ پی آئی اے کا کوئی ملازم ادارے کے کمپنی میں تبدیل ہونے کے بعد ملازمت سے فارغ نہ کیا جائے۔
Categories
نان فکشن

چالیس ارب کا سوال ہے بابا

[blockquote style=”3″]

پروفیسر رفعت مظہر کی یہ تحریر اس سے قبل روزنامہ نئی بات میں بھی شائع ہو چکی ہے، مصنفہ کی اجازت سے اسے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

جب ہم نے نیوز چینلز اور اخبارات میں منی بجٹ کی تفصیل پڑھی اور سُنی تو خود ہمارے ہاتھوں کے مینا، طوطے، سب اُڑ گئے اور پاپی پیٹ کے کُتے بھونکنے لگے کیونکہ ڈارصاحب نے سوائے جینے مرنے کے ہرشے پرٹیکس لگادیا تھا۔
دو دِن پہلے میرے میاں گھر آئے تو اُن کا موڈ بہت بگڑا ہوا تھا۔ وہ مُنہ ہی مُنہ میں کچھ بڑبڑاتے ہوئے کمرے میں چلے گئے۔ تھوڑی دیربعد جب ہم کمرے میں داخل ہوئے تو اُنہیں پھر بڑبڑاتے پایا۔ ہم نے ہمت کر کے اِس “ناسازئ طبع” کی وجہ پوچھی تو وہ تیوریاں چڑھا کر بولے کہ اگر کوئی نواز لیگ کے زوال کا باعث ہوگا تو وہ صرف اور وزیرِ خزانہ صاحب ہی ہوں گے۔ ہم نے پوچھا “وہ کیسے”؟۔ جواب ملا “سگریٹ کا وہ پیکٹ جو پچھلے سال اسّی روپے میں ملتا تھا اب ڈار صاحب کی مہربانی سے ایک سو تیس کا ہو گیا ہے۔ ہماری زندگی تو اجیرن ہوکے رہ گئی ہے”۔ ہم جی ہی جی میں بہت خوش ہوئے کہ شاید اسی بہانے اِس “مَرجانی” سے چھٹکارا مِل جائے کیونکہ ہم نے تو جب بھی میاں کو سگریٹ چھوڑنے کا کہا اُن کا گھڑا گھڑایا جواب ملا “یہ رسمِ عاشقی کے خلاف ہے۔ اگر میں سگریٹ سے چالیس سالہ رفاقت چھوڑ سکتا ہوں تو تمہیں بھی چھوڑ سکتا ہوں”۔ اُن کے اِس جواب پر ہم ہمیشہ جَل بھُن کر “سیخ کباب” ہوتے رہے لیکن “وہ اپنی خُو نہ چھوڑیں گے، ہم اپنی وضع کیوں بدلیں” کے مصداق ہم بھی سگریٹ ترک کرنے کا تقاضہ کرتے رہے۔ ڈارصاحب کے اِس دِل خُوش کُن اقدام پر وفورِ مسرت سے ہماری باچھیں کھلنے ہی والی تھیں کی ہم کھسک لیے کیونکہ میاں کے سامنے اِس کا اظہار جنگ و جدل سے بھرپور شاہکار کی صورت میں سامنے آتا جس کا فی الحال ہمارا کوئی ارادہ نہ تھا۔ جب ہم نے نیوز چینلز اور اخبارات میں منی بجٹ کی تفصیل پڑھی اور سُنی تو خود ہمارے ہاتھوں کے مینا، طوطے، سب اُڑ گئے اور پاپی پیٹ کے کُتے بھونکنے لگے کیونکہ ڈارصاحب نے سوائے جینے مرنے کے ہرشے پرٹیکس لگادیا تھا۔ ویسے ہمارے وزیرِخزانہ اسحاق ڈالر صاحب ہیں بڑے “مخولیے”۔ اُنہوں نے 40 ارب روپے کے اضافی ٹیکس عائدکرتے ہوئے یہ لطیفہ سنایا “اضافی ٹیکس سے عام آدمی متاثر نہیں ہوگا”۔ جانتے وہ بھی ہیں کہ ٹیکس لگے نہ لگے حکومتی “حرکات” سے متاثر تو صرف عام آدمی ہی ہوتا ہے، ڈارصاحب جیسی اشرافیہ تو صاف بچ نکلتی ہے۔ ازلی، ابدی اور مسلمہ اصول یہی ہے کہ “خربوزہ چھری پہ گرے یا چھری خربوزے پر، نقصان توبیچارے خربوزے کا ہی ہونا ہوتا ہے”۔

 

وزیرِخزانہ نے 50 کروڑ ڈالر کی قسط لینے کے لیے عالمی مالیاتی فنڈکی شرائط پوری کر دیں لیکن بہانہ یہ کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضربِ عضب کے نتیجے میں بے گھرہونے والوں کے لیے 40 ارب روپے درکار ہیں۔۔۔۔ واہ ! ڈارصاحب واہ! کیا خوب بہانہ تراشاہے کہ

 

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

 

سوال مگریہ کہ کیا اربوں، کھربوں روپے کی “میٹروشیٹرو” اور “اورنج لائن” بنانا ضروری ہے یا مجبوروں، مقہوروں کے آتشِ شکم کی سیری؟ ہم میٹرو کے خلاف ہیں نہ اورنج ٹرین کے، اِن کی افادیت سے مفر ممکن نہیں لیکن یہ سب “چونچلے” تو ترقی یافتہ ممالک کے ہیں جن کے عوام کے لیے راوی عیش ہی عیش لکھتاہے۔ اگر کسی ایک “میٹرو منصوبے” کوبھی ملتوی کر دیا جاتا اور وہی رقم شمالی وزیرستان کے بے گھروں پر صرف کر دی جاتی تو حکومت کے خلاف “آگ اور پانی کے اَکٹھ” کی نوبت نہ آتی۔ یہ حکومت کی اعلیٰ کارکردگی ہی ہے جو پیپلزپارٹی، تحریکِ انصاف اور جماعت اسلامی “ایک صفحے” پر، باہم شیروشکر ہوتے نظر آ رہے ہیں حالانکہ کپتان صاحب کی زبان تو سیّد خورشید شاہ کو نواز لیگ کا “مُنشی” کہتے نہیں تھکتی تھی۔ آج یہ تینوں جماعتیں پارلیمنٹ کے جاری اجلاس کا بائیکاٹ کیے بیٹھی ہیں اور مطالبہ یہ کہ جب تک “مِنی بجٹ” اورپی آئی اے کی نجکاری کا فیصلہ واپس نہیں لیا جائے گا، اجلاس کا بائیکاٹ جاری رہے گا۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ یہ سب کچھ سیاسی مفادات کے حصول اور نواز لیگ کو “ٹَف ٹائم” دینے کے لیے کیا جا رہاہے، پھربھی ہم خوش کہ شاید اسی طریقے سے حکومت ہوش کے ناخن لے لے۔

 

کیا اربوں، کھربوں روپے کی “میٹروشیٹرو” اور “اورنج لائن” بنانا ضروری ہے یا مجبوروں، مقہوروں کے آتشِ شکم کی سیری؟ ہم میٹرو کے خلاف ہیں نہ اورنج ٹرین کے، اِن کی افادیت سے مفر ممکن نہیں لیکن یہ سب “چونچلے” تو ترقی یافتہ ممالک کے ہیں جن کے عوام کے لیے راوی عیش ہی عیش لکھتاہے۔
ڈارصاحب نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا “40 ارب روپے اکٹھے کرنے کے لیے آئین اور قانون کے تحت قدم اٹھایا، اسے مِنی بجٹ نہ کہاجائے۔ اگرکسی نے اپنے کتے بلیوں کو درآمدشدہ خوراک کھلانی ہے تو اُسے ملک کوپیسے دینے دیں”۔ بالکل بجا ارشاد، یہ “مِنی” نہیں، پورا بجٹ ہے جو ایک ہی سال میں دوسری دفعہ لگا کر عوام کو وقفِ مصیبت کر دیا گیا۔ ویسے بھی حکومت جو کام بھی کرتی ہے آئین وقانون کے “دائرے” میں رہ کر ہی کرتی ہے جس میں مقہوروں کی رگوں سے خون نچوڑنا بھی شامل ہے۔ ڈار، المعروف ڈالر صاحب نے فرمایا “جو ٹوتھ پیسٹ استعمال کرتا ہے اُسے ٹیکس بھی دیناچاہیے”۔ بالکل بجا ہم ٹوتھ پیسٹ کی بجائے مسواک استعمال کر کے سنّتِ نبوی پر عمل کرلیں گے، ٹوتھ پیسٹ اُن کے خاندان اور اشرافیہ کے خاندانوں کو مبارک ہو لیکن اُنہوں نے توکنگھی چوٹی سے لے کرکھانے پینے اور اوڑھنے بچھونے تک، سبھی پر ٹیکس لگادیا لیکن ایک چیز جس کی پاکستان میں فراوانی ہے وہ ڈار صاحب کی نظروں سے بچ گئی، وہ “موت” ہے جو ہمارے ہاں مفت ملتی ہے۔ اگر ڈارصاحب اِس پربھی ٹیکس لگا دیں تو ہم اُنہیں یقین دلاتے ہیں کہ قومی خزانہ چھلکنا شروع ہو جائے گا۔ جہاں ساڑھے تین سو سے زائد اشیاء پر ٹیکس لگایا گیا، وہاں موت اور کفن دفن پر ٹیکس بھی ضروری ہے کیونکہ اِس ٹیکس کے نفاذ کے بعد شرح اموات بڑھنے کے روشن امکانات ہیں۔

 

شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ اگر ڈار صاحب ڈالر 96 روپے کا کر دیں تو وہ پارلیمنٹ سے استعفیٰ دے دیں گے لیکن جب ڈارصاحب نے ہتھیلی پہ سرسوں جما کے دکھا دی اور ڈالر 96 روپے کا ہو گیا تو شیخ صاحب نے مستعفی ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ وقتی ہے اگر ڈالر مستقل طور پر 96 روپے کا رہا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ تب ہم نے شیخ صاحب کا جی بھرکے مذاق اُڑایا لیکن آج جب ڈالر 107 روپے کا ہو گیا تو ہمیں بھی تھوڑا تھوڑا یقین آنے لگا ہے کہ شیخ صاحب کی ساری باتیں غلط نہیں ہوتیں، ہزار میں سے ایک آدھ درست بھی ہو جاتی ہے۔ ماہرِ معاشیات وزیرِخزانہ سے یہ سوال توکیا جاسکتا ہے کہ جب ڈالر تیزی سے قلانچیں بھر رہا تھا تو اُن کی’’ معیشت دانی‘‘کہاں جا سوئی؟
Categories
نقطۂ نظر

اسحاق ڈار کامنی بجٹ اور عام آدمی

پورے پاکستان میں صرف دو جڑواں بھائی ہیں جو عیش کر رہے ہیں اور جنہیں آج تک ہمارے حکمرانوں کے سوا کسی نے دیکھا تک نہیں، ان میں سے پہلے کا نام ہے “نامعلوم” جبکہ دوسرے کا نام ہے “عام آدمی”۔ پورے پاکستان میں کہیں بھی کوئی بھی جرم ہو، قتل ہو، ٹارگٹ کلنگ ہو، چوری ہو یا لوٹ مار، ان جرائم میں جو مجرم نہیں پکڑا جاتا اُسے ہمارے حکمران “نا معلوم” کہہ کر پکارتے ہیں اور یہ “نامعلوم” کبھی بھی پکڑا نہیں جاتا، اس لیے” نا معلوم” جہاں بھی ہے سارے جرائم کرنے کے باوجود عیش کرتا ہے۔

 

پورے پاکستان میں صرف دو جڑواں بھائی ہیں جو عیش کر رہے ہیں اور جنہیں آج تک ہمارے حکمرانوں کے سوا کسی نے دیکھا تک نہیں، ان میں سے پہلے کا نام ہے “نامعلوم” جبکہ دوسرے کا نام ہے “عام آدمی”۔
پوری دنیا میں “عام آدمی” کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہوتے جو متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کی آمدنی اور اخراجات تقریباً یکساں ہوتے ہیں اور جو اپنی ساری زندگی آمدنی اور اخراجات کی جمع تفریق میں گزار دیتے ہیں، یا پھر وہ غریب ہیں جن کی آمدنی اتنی نہیں ہوتی جس سے وہ اپنے اور اپنے بچوں کےلیے بنیادی ضروریات خرید سکیں۔ متوسط طبقے میں نوکر پیشہ اور چھوٹے کا روبار کرنے والوں کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والے ہنرمند شامل ہوتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک میں ایسے لوگوں کی اکثریت ہوتی ہے۔ یہ متوسط طبقہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتا ہے۔ بدنصیبی سے پاکستان میں متوسط طبقہ بےروزگاری، کاروبار کی بندش اور امن و امان کی مخدوش صورتحال کی وجہ سے سکڑ کر تیزی سے غریب طبقے میں شامل ہورہا ہے۔ آمدنی اور وسائل کے کم ہونے کی وجہ سے اس وقت ملک کی 65 فیصد آبادی غربت یا غربت کی لکیر سے نیچےزندگی گزار رہی ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں اس طبقے کو “عام آدمی” نہیں کہا جاتا، ہمارے ملک میں “عام آدمی” کا اصل مطلب مراعات یافتہ طبقہ ہے، جس پرکسی بھی قسم کی مہنگائی کا کبھی کوئی اثر نہیں ہوتا۔

 

آیئے اسلام آباد چلیں جو ہمارے حکمرانوں کا شہر ہے اور جہاں یکم دسمبر 2015ء کو ہمارے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایک منی بجٹ کے ذریعے اکسٹھ درآمدی اشیاء پر پانچ سے دس فیصد مزید ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی اور دو سو نواسی درآمدی اشیاء کی ڈیوٹی میں پانچ فیصد اضافے کا اعلان کیاہے۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ “نئے محصولات لگانے کا مقصد سال کے پہلے چار ماہ میں حاصل ہونے والی آمدنی کے انتالیس اعشاریہ آٹھ ارب روپے کے خسارے کو پورا کرنا ہے”۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان ٹیکسوں کا اثر “عام آدمی” پر نہیں پڑے گا۔ بقول ان کے نئے ٹیکس پرتعیش اشیاء پر لگائے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے بتایا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں محصولات کے ہدف میں 40ارب روپے کی کمی پوری کرنے کے لیے ای سی سی کے اجلاس میں ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔

 

کوئی وزیر خزانہ سے پوچھے کہ کم ازکم عوام کو اتنا ہی بتادیں کہ وہ کون سی وجوہ ہیں جن کی وجہ سے بجٹ میں متعین کردہ اہداف پورے نہ کیے جاسکے؟ وزیر خزانہ وہ عام آدمی دکھا دیں، جس پر ان نئے ٹیکسوں کا اثر نہیں پڑے گا۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر خزانہ کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ نئے ٹیکسوں سے عام آدمی متاثر نہیں ہو گا۔ یہ سب کہنے کی باتیں ہوتی ہیں، وزیر خزانہ صاف کیوں نہیں کہتے کہ وہ آئی ایم ایف کے دباؤ میں ہیں۔ آئی ایم ایف نے واضح کر دیا تھا کہ اگر نئے ٹیکس نافذ نہ کیے گئے تو پاکستان کو قرضے کی اگلی قسط نہیں مل سکے گی۔ مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کے بعد وزیر خزانہ نے حسب دستور اپنی بات کو بدلتے ہوئے کہا کہ ان نئے ٹکیسوں سے حاصل ہونے والی چالیس ارب روپے کی آمدن اندرون ملک بے گھر افراد (آئی ڈی پیز) کی بحالی اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال ہوگی۔ اُنہوں نے کہا حکومت نے صنعتوں، زراعت اور مقامی طور پر بننے والی تمام اشیاء پر ٹیکس نہیں لگائے ہیں، البتہ کاسمیٹکس، چاکلیٹ، تیل، گھی اور ایک ہزار سی سی سے زائد کی نئی گاڑیوں پر پانچ سے دس فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کی ہے۔ کوئی وزیر خزانہ سے پوچھے کہ کم ازکم عوام کو اتنا ہی بتادیں کہ وہ کون سی وجوہ ہیں جن کی وجہ سے بجٹ میں متعین کردہ اہداف پورے نہ کیے جاسکے؟ وزیر خزانہ وہ عام آدمی دکھا دیں، جس پر ان نئے ٹیکسوں کا اثر نہیں پڑے گا۔ یہ کون نہیں جانتا کہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ عوام کو ہی بھگتنا ہے۔

 

پہلے ہی عوام کو براہ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے کچلا جا رہا ہے اب یہ نئے ٹیکسوں کا بوجھ بھی غریب عوام پر ہی پڑ ے گا۔ کیا سالانہ بجٹ پیش کرنے کے بعد جمہوریت کی بجائے آمریت قام ہوگئی تھی؟ ایک جانب حکومت معاشی اہداف اور ترقی کے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور دوسری طرف منافع خوروں اور گراں فروشوں نے منڈی اور بازار میں قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیا ہے۔ حکومتوں کی طرف سے نرخ قابو میں رکھنے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی ہے، حکمران طبقہ مہنگائی پر قابو پانے کی بجائے صرف معیشت کی ترقی کے دعوے کرتا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان میں حزب اختلاف کی تین بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور ایم کیو ایم نے وفاقی حکومت کی جانب سے چالیس ارب روپے کے نئے ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف مشترکہ احتجاج شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور ایم کیو ایم نے منی بجٹ کو ظالمانہ قرار دے کر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کے دوران احتجاج کریں گے۔ چالیس ارب روپے کے ٹیکس لگانے پر ایک خاتون نےایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں لائیو کال کرکے اسحاق ڈار کو لعن طعن کا نشانہ بنایا ہے۔

 

ایک جانب حکومت معاشی اہداف اور ترقی کے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور دوسری طرف منافع خوروں اور گراں فروشوں نے منڈی اور بازار میں قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیا ہے۔
1992ء میں چینی حکومت نے اچانک چینی کی قیمت میں اضافہ کردیا تھا، چینی قوم نے اِس فیصلے کا بائیکاٹ کرتے ہوئے چینی خریدنا بندکردی، تین ماہ تک کسی ایک شخص نے بھی چینی کا استعمال نہیں کیا، جِس کی وجہ سے چینی کا سارا ذخیرہ رکھے رکھے ہی خراب ہونا شروع ہوگیا۔ عوامی مقاطعے کے باعث چینی حکومت کو اربوں ڈالر کا نقصان اُٹھانا پڑا، معیشت تنزلی کا شکار ہو گئی، آخرکار چین کی حکومت نے اپنے عوام سے معافی مانگی اور چینی کی قیمت سابقہ قیمت سے بھی کم کردی اور وعدہ کیا کہ آیندہ ایسا نہیں ہوگا۔ کل اگر اسحاق ڈار کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بدترین مہنگائی ہوجائے، آپ کے بچّوں کے تن سے کپڑے بھی چھن جائیں، اُن کے لیے رزق بھی میسر نہ ہو وہ بھوکے رہیں، کیا اُس وقت بھی آپ لوگوں نے خاموش رہنا ہے؟ کم از کم اپنا احتجاج تو ریکارڈ کروائیں۔

 

بقول اسحاق ڈار ان ٹیکسوں کا اثر “عام آدمی” پر نہیں پڑے گا تو کیا آپ کو پتہ ہے کہ مہنگائی سے محفوظ حکمرانوں کا یہ “عام آدمی” کہاں ملے گا، آیئے تلاش کرتے ہیں، یہ عام آدمی آپ کو پشاور، پنڈی، لاہور یا کراچی کی سڑکوں پر نہیں ملے گا، یہ آپ کو رائے ونڈ، بلاول یا بنی گالہ میں ملے گا۔ میں اور آپ تو خاص آدمی ہیں لہذا عام آدمی کےگھر میں داخل ہونا آپ کے اور میرے لیے ممکن نہیں اس لیے صبر کریں اور بقول قتیل شفائی منافقوں میں شامل ہوجائیں

 

دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا
Categories
نقطۂ نظر

ضرورت ہے چار گدھوں کی

ابن انشاء اپنے ایک مضمون “ضرورت ہے ایک گدھے کی” میں لکھتے ہیں کہ “اے صاحبو! پاک وطن کے رہنے والو! دیکھو دوسرے ملکوں میں گدھے کی کتنی مانگ ہے۔ کتنی عزت ہے۔ ادھر ہم ہیں کہ اپنے ملک کے گدھوں کی کماحقہ قدر نہیں کرتے۔ بعض لوگ تو گدھوں کو جو ہمارے ہاں ہر شعبہ زندگی میں بھر ے ہیں تحقیر سے بھی دیکھتے ہیں اوراکثر تو گدھے گھوڑے کی تمیز بھی اٹھا دیتے ہیں۔ جاپان میں گدھے نہیں ہوتے۔ یہ گدھا چڑیا گھر میں رکھا جائے گا۔ جاپانی بچے اسے ذوق شوق سے دیکھیں گے اور پوچھیں گے کہ یہ کہاں پایا جاتا ہے؟ جواب ملے گا پاکستان میں۔ اور یوں وہ پاکستان سے روشناس ہو جائیں گے اور یاد رکھیں گے کہ پاکستان بھی ایک ملک ہے وہ ملک جس میں گدھے پائے جاتے ہیں۔ اور افراط سے پائے جاتے ہیں”۔ دوستو آج کچھ بات گدھوں کی ہوجائے لیکن اُن گدھوں کی ہر گز نہیں جن کی طرف ابن انشاء نے اشارہ کیا بلکہ بات ہوگی اُن گدھوں کی جنہیں امریکہ میں عقلمند اور ہمارےہاں بیوقوف تصور کیا جاتا ہے۔

 

امریکہ کے صدارتی انتخابات میں اصل مقابلہ امریکہ کی دوبڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان ہوتا ہے جن میں ایک ری پبلکن پارٹی ہے اور دوسری ڈیموکرٹیک پارٹی۔ ری پبلکن پارٹی جس کا انتخابی نشان ”ہاتھی” ہے اس کے نظریات اور سوچ خالصتاً قدامت پسندی اور راسخ العقیدہ بنیادوں پرقائم ہے جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کی بنیاد روشن خیال، لبرل سوچ اور جمہوریت پسندی پر قائم ہے جس کا انتخابی نشان ”گدھا” ہے۔ امریکہ کے موجودہ صدر بارک اوباما دو مرتبہ امریکی صدارتی انتخاب گدھے کے نشان پر ہی جیتے ہیں۔ گدھا ایک ایسا جانور ہے جو ساری دنیا میں پایا جاتا ہے۔ دنیا کی سُپر طاقت گردانے جانے والے ملک امریکہ میں یہ عقل مند اور محنت کش جانور کی حیثیت سے جانا اور پہچانا جاتا ہے جب کہ برصغیر پاک و ہند اور دنیاکے ترقی پزیدممالک میں گدھے کو احمق، نادان اور ایک بیوقوف جانورسمجھا جاتا ہے۔ گدھا ایک ایسا جانور ہے جو محنت اور سخت جانی کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں جو آدمی احمق ہو لوگ اُسے گدھے سے تشبیہ دیتے ہیں۔

 

امریکہ کی طرح پاکستان میں بھی گدھا کافی عرصے سے ہماری سیاست میں داخل ہے۔ اداکار رنگیلا اور سید کمال نے ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں ایک سیاسی فلم “انسان اورگدھا” بنائی تھی جس میں ہیرو کا کردار اداکار رنگیلے نے ادا کیا تھا۔ اس فلم پر پابندی بھی لگی تھی کیونکہ اس فلم میں رنگیلے نے گدھوں کے ہجوم کے سامنے بھٹو کے انداز میں تقریر کی تھی۔ مئی 2013ء کے انتخابات کے موقعہ پر رحیم یار خان میں اقلیتوں کی مخصوص نشست کے ایک امیدوار مہرا ہنری بھیل نے اپنی پوری انتخابی مہم گدھا گاڑی پر چلائی۔ چک 54کے رہائشی مہرا بھیل حلقہ پی پی 294 کے لیے سجی سجائی گدھا گاڑی پر ووٹ مانگنے نکلتے تو اُن کے ساتھ ڈھولچی بھی ہوتے تھے جو ڈھول بجا بجا کر گاؤں والوں کو مہرا بھیل کی طرف متوجہ کرتےتھے۔ مہرا بھیل فخریہ یہ کہتے تھے کہ “پجیرو گروپ” ملک کے غریب عوام کی حالت نہیں بدل سکتے۔ اگر میں منتخب ہو گیا تو اقلیتوں اور مسلمانوں سب کے مسائل حل کروں گا۔

 

اداکار رنگیلا اور سید کمال نے ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں ایک سیاسی فلم “انسان اورگدھا” بنائی تھی جس میں ہیرو کا کردار اداکار رنگیلے نے ادا کیا تھا۔ اس فلم پر پابندی بھی لگی تھی کیونکہ اس فلم میں رنگیلے نے گدھوں کے ہجوم کے سامنے بھٹو کے انداز میں تقریر کی تھی۔
پاکستان میں اقتصادی ترقی کی گنگا الٹی بہہ رہی ہے، جو شخص پرویزمشرف کے دور میں 37 ہزار روپے کا مقروض تھا اب ایک لاکھ روپے سے زیادہ کامقروض ہے، ترقی تو ہوئی ہے، بس ذرا الٹی ہے، جاو سینے پر ہاتھ مار کر سب کو بتاو کہ ہم ہیں لکھ پتی مقروض قوم۔ وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں موجودہ حکومت اکتوبر2013سے ستمبر 2015 تک 7 ارب 62کروڑ 35لاکھ 70ہزار ڈالر کا قرض لے چکی ہے جبکہ اسی عرصے میں 9ممالک پاکستان کو 4ارب 13کروڑ70لاکھ15ہزار ڈالر کی امداد بھی دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ رواں سال جولائی سے اکتوبر کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ساڑھے6 ارب ڈالر وطن بھیجے گئے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ساڑھے 6 ارب ڈالر کی یہ رقم گزشتہ سال کے اسی عرصے میں بھیجی گئی رقم سے 5 فیصد زیادہ ہے۔ لیکن اس قرضے، امداد اور اپنے بھائیوں کے بھیجے ہوئے کثیر زرمبادلہ کے باوجود آبادی کی اکثریت بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ ملک کی 65فیصد آبادی غربت یا غربت کی لکیر سے نیچےزندگی گزار رہی ہے، پینے کا صاف پانی، صحت اور تعلیم ملک کی کثیر آبادی کو میسر نہیں۔ بھوک سے لڑتے ہوئے پاکستانی عوام ایک ایسے استحصالی اور شرمناک نظام میں زندہ رہنے پر مجبور ہیں، جہاں اُنہیں آئی ایم ایف، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور ملک کے وسائل پر قابض گروہ نے زندہ درگور کر رکھا ہے۔ نہ علاج کرانے کےلیے پیسے ہیں اور نہ پیٹ بھرنے کا کوئی مستقل سہارا۔

 

لیکن ہو سکتا ہے کہ گدھوں کی بدولت پاکستانی عوام کے حالات تبدیل ہو جائیں۔ پاکستان میں گدھوں کی آبادی 2013ء تک 49 لاکھ تھی جو 2015ء میں بڑھ کر 50 لاکھ تک جاپہنچی ہے۔ برائے مہربانی اب آپ یہ نہ سمجھ لیجیے گا کہ اب تک کے تینوں بجٹ ان ایک لاکھ گدھوں میں کسی ایک نے بنائے ہیں۔ بالکل نہیں یہ تمام بجٹ ہمارے محترم وزیر خزانہ اسحاق ڈار جو چیف اکاونٹنٹ ہیں، نے بنائے ہیں۔ 2015ء کا 43 کھرب13 ارب روپے کا وفاقی بجٹ بھی اسحاق ڈار نے ہی بنایا ہے جس میں ایک عام مزدور کو صرف 13 ہزار روپے میں پورا مہینہ گزارنے کو کہا گیا ہے۔ حکومتی دعوں اور وعدوں کے باوجود مزدور کو ان کا حق نہیں ملتا، تنخوہواں کی نسبت ضروریات زندگی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے اُن کی زندگی مشکل بنادی ہے۔ آٹھ سے دس گھنٹے کام کرنے والے مزدور آج بھی اپنی جائز اجرت سے محروم ہیں۔ ایک عام مزدور کا صرف 13 ہزار روپے میں پورا مہینہ گزارنا ناممکن ہے۔ مزدوروں کا کہنا ہے کہ حکومت اُن کے بچوں کو بہتر تعلیم وصحت فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اور انہیں پرائیوٹ اسکولوں اور اسپتال کے اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ جون 2013ء میں نواز شریف کے تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعد سے اب تک تین بجٹ آچکے ہیں اور تینوں ہی اسحق ڈار نے پیش کیے ہیں۔ ان بجٹوں سے غربت اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے اور عوام کا معیار زندگی گرا ہے لیکن ان باتوں کو ماننے کےلیے نہ تو نواز شریف تیار ہیں اور نہ اسحاق ڈار۔

 

آپ نے نہیں پڑھا کہ اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق نواز شریف کےدو سالہ دور اقتدار میں گدھوں کی آبادی میں ایک لاکھ کا اضافہ ہوا ہے جبکہ گھوڑوں، اونٹوں اور خچروں میں کوئی اضافہ نہیں دیکھا گیا۔
خوشی محمد جو ہمارے اچھے دوست اور وزیر اعظم نواز شریف صاحب کے بہت زیادہ حامی ہیں جب اُن سے سوال کیا گیاکہ بھائی یہ ایک لاکھ روپے فی فرد کے حساب سے چڑھ جانے والا قرض کیسے ادا ہو گا؟ پہلے تو وہ مسکرائے اور پھر بولے بہت آسان ہے صرف چار گدھے پال لو۔ ہم نے پوچھا یار گدھے پالنے سے کیا ہوگا؟ جواب میں خوشی محمد نے کہا کہ شاید آپ لوگ اقتصادیات سے بالکل نابلد ہیں۔ آپ نے نہیں پڑھا کہ اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق نواز شریف کےدو سالہ دور اقتدار میں گدھوں کی آبادی میں ایک لاکھ کا اضافہ ہوا ہے جبکہ گھوڑوں، اونٹوں اور خچروں میں کوئی اضافہ نہیں دیکھا گیا۔ اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق پیپلزپارٹی کے گزشتہ 5 سالہ دور حکومت میں گدھوں کی آبادی میں چارلاکھ کا اضافہ دیکھا گیا تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو گدھوں کی آبادی میں 6 لاکھ کا اضافہ کرنے میں پوری دہائی لگ گئی جبکہ نواز شریف نے 1999ء میں اتنی ہی تعداد میں گدھے بڑھانے میں محض دو سال لگائے۔

 

بقول خوشی محمد گدھے کی کھال اور ہڈیوں کی برآمد سے پنجاب میں ایک سال کے دوران گدھوں کی قیمت تقریباً دُگنی ہوگئی ہے، نرخوں میں اضافے کے باعث گدھوں کی چوریوں میں بھی اضافہ ہواہے۔ ماہرین کے مطابق ایک سال کے دوران پنجاب میں گدھے کی اوسط قیمت 20 ہزار سے بڑھ کر 30 سے 35 ہزار روپے ہو گئی ہے۔ گدھے کی کھالیں اور ہڈیاں ویت نام، ہانگ کانگ اور چین کو برآمد کی جارہی ہیں جہاں یہ جلد پر لگانے والی کریمیں اور جیل بنانے میں استعمال ہوتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گدھے کی کھال 10 سے 15 ہزار روپے جبکہ ہڈی 7 روپے کلو میں برآمد کی جارہی تھی۔ کچھ افراد گدھے کا گوشت بھی 300 روپے کلو میں فروخت کررہے تھے۔ نرخوں میں اضافے کے باعث پنجاب میں گدھے چوری ہونے کے واقعات بڑھے ہیں اور رواں سال جنوری میں گدھے پالنے والوں نے چوری کے خلاف فیصل آباد میں مظاہرہ بھی کیا تھا۔

 

ایک نئی خبر یہ بھی ہے کہ چین اب پاکستان میں گدھوں کی افزائش کی صنعت میں بھی سرمایہ کاری کرے گا۔ چینی دوستوں نے خیبرپختونخوا والوں کو ایک دلچسپ پیشکش کی ہے۔ چینی سرمایہ کاروں کے تعاون سے خیبرپختونخوا میں ‘گدھے بڑھاو اور خوب پیسے کماو’ کی پیشکش کی جارہی ہے۔ پشاور میں چینی سرمایہ کاروں نے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو پیسے کمانے کا آسان طریقہ بتایا، کہا کہ چین والوں کو گدھوں کی ضرورت ہے، پیسہ ہم لگاتے ہیں،گدھوں کے فارم بناتے ہیں، گدھوں کو پال پوس کر جوان کرنا آپ کا کام، اور اس کے بعد ہم انہیں اپنی مصنوعات میں استعمال کے لیے پاکستان سے خرید لیں گے۔ چین کو گدھے بھجوائیں اور زرمبادلہ کمائیں۔ وزیراعلیٰ پرویزخٹک کو بھی پیشکش پسند آئی اور کام آگے بڑھانے کا وعدہ کر لیا۔ ہوسکتا ہے ہمارے فارغ بیٹھے صدر ممنون حسین جلدہی ایک آرڈیننس کے ذریعے ہر پاکستانی کو اس بات کا پابند کردیں کہ آئندہ سے ہر پاکستانی چار گدھے ضرور پالے گا اور پال پوس کر حکومت کے حوالے کرے گا۔ اب خوشی محمد کی بات بھی سمجھ میں آرہی ہے کہ اگر ہر پاکستانی چار گدھے پال لے تو اپنے حصے کے ایک لاکھ کا قرض آسانی سے ادا کردے گا بلکہ کچھ نہ کچھ پس انداز بھی کر لے گا۔ تو جناب حکومت کو ضرورت ہے بس چار صحت مندگدھوں کی۔