Categories
نقطۂ نظر

پاکستانی مصنوعات کا جائزہ اور فوائد

سوال: پاکستان کی مصنوعات کا جایزہ لیں اور فوائد بھی لکھیں
جواب :پاکستان دنیا کا سب سے زیادہ امیر ملک ہے۔ اس کی مصنوعات کا مقابلہ دنیا کا کوئی ملک نہیں کر سکتا۔ان مصنوعات کی آمدنی اتنی ہے کہ اردگرد کے تمام ملک بھی فیضیاب ہو رہے ہیں۔ ویسے تو یہ مصنوعات لا تعداد ہیں مگر ہم چند اہم کے نام گنوائے دیتے ہیں :
یہ صنعت پہلی صنعت سے بھی زیادہ پھل پھول رہی ہے ۔ ہر لمحے ہزاروں بچے پیدا ہو کر گلیوں اور بازاروں میں، کچے کے ڈھیروں میں، مدرسوں میں، جہادوں میں، ورکشاپوں میں اور نہ جانے کن کن گٹروں میں زندگی کا چراغ روشن کر رہے ہیں
1۔ جہادی لشکروں کی مصنوعات
یہ صنعت پاکستان کی سب سے بڑی، منافع بخش اور زوداثر صنعت ہے ۔ اس نے اپنی پیداوار کی مضبوطی اور فراوانی سے پوری دنیا میں اپنا نام روشن کیا ہے ۔ بشمول ہمارے ملک کے،دنیا کا کوئی حصہ ایسا نہیں جہاں اس صنعت کا مال نہ پہنچے اور لوگ اس سے فائدہ حاصل نہ کریں ۔ اسی کے ذریعے روز بروز اسلام بھی ترقی کر رہا ہے اور لوگوں کے دلوں پر اُس کی حقانیت بھی واضح ہو رہی ہے ۔ اس صنعت کے تیار کرنے والوں کے نام ظاہر کرنے سے فی الحال ہمارے پر جلتے ہیں کیوں کہ وہ سرکاری طور پر رجسٹرڈ ہیں اور جو چیز سرکاری طور پر رجسٹرڈ ہو اُس کے حقوق کی پاسداری ضروری ہوتی ہے۔

2۔ آبادی کی صنعت
یہ صنعت پہلی صنعت سے بھی زیادہ پھل پھول رہی ہے ۔ہر لمحے ہزاروں بچے پیدا ہو کر گلیوں اور بازاروں میں،کچے کے ڈھیروں میں،مدرسوں میں، جہادوں میں، ورکشاپوں میں اور نہ جانے کن کن گٹروں میں زندگی کا چراغ روشن کر رہے ہیں ۔ اس صنعت کے لیے ہمارے ملک میں بے تحاشا مواقع ہیں ۔ اس سے بھی دنیا کے تمام ملک مستفید ہورہے ہیں ۔ کسی خطے میں چلے جاو،وہاں کی گلیوں اور جیبوں کی صفائی کرتے، چوری کا دلیرانہ کاروبار کرتے اور اسلام پھیلاتے نظر آئیں گے ۔ یہ صنعت دن دگنی اور رات چگنی ترقی کر رہی ہے ۔ ہر گھر میں اس کی فیکٹری موجود ہے جو دس سے بیس تک کے بچے پیدا کر سکتی ہے ۔ ہماری حکومت بھی یہی چاہتی ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ پھلے پھولے کیونکہ اس سےووٹوں کی گنتی خوش کن ہوتی ہے ۔

ہمارے پاس جعلی صحافی، جعلی جج، جعلی اساتذہ، جعلی ڈاکڑز، جعلی سیاستدان، جعلی وکیل، جعلی معیشت دان، جعلی بینکر، گھوسٹ سکول، یونیورسٹیاں، کالجز، جعلی اداکار، حتیٰ کہ جعلی ادیب اور شاعر بھی باافراط دستیاب ہیں
3۔ جعلی اشیا،ادویہ، تعلیمی اور قانونی اداروں کی صنعت
اس صنعت میں تو کائنات کا کوئی خطہ بھی ہمارے ملک کا مقابلہ نہیں کر سکتا، ہمارے ہاں ہر چیز جعلی اور دونمبر پیدا کرنے کی جتنی صلاحیت ہے،اتنی کوئی بس سوچ سکتا ہے ۔ ہمارے پاس جعلی صحافی،جعلی جج، جعلی اساتذہ، جعلی ڈاکڑز،جعلی سیاستدان، جعلی وکیل، جعلی معیشت دان،جعلی بینکر، گھوسٹ سکول، یونیورسٹیاں، کالجز، جعلی اداکار، حتیٰ کہ جعلی ادیب اور شاعر بھی باافراط دستیاب ہیں اور بس مارکیٹ میں یہی دستیاب ہیں ۔ یہی صنعت ہمارے ہاں رشوت اور اقربا پروری کی ذیلی صنعتوں کا سبب بھی بنی ہے یہ صنعت درج بالا صنعتوں کی طرح اندھیرے کی رفتار سے زیادہ ترقی کر رہی ہے ۔

4۔ ملاازم اور فتاویٰ کی صنعت
اس صنعت کا نہ تو کوئی جوڑ ہے اور نہ دوسری کوئی مثال ہے۔
اسی کے سبب ہمارا ملک ایک قوم سے سینکڑوں قوموں میں تبدیل ہو گیا ہے ۔یہ صنعت معجزے کی طرح تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزار رہی ہے اور ہمارا نام دنیا میں روشن کر رہی ہے ۔ اسی کے ذریعے ہم اوپر بیان کی گئی تمام صنعتوں کو بنیاد فراہم کرتے ہیں اور تیروتفنگ کا نظام رائج کرنے کا کام چلاتے ہیں۔
ان صنعتوں کے علاوہ بھی بہت سے صنعتیں ہیں ،فی الحال وقت کی کمی کے باعث اُن کا بیان کسی اور وقت پر چھوڑتے ہیں۔
آپ کا ہونہار طالبِ علم اور تجزیہ نگار،
علی اکبر ناطق

Categories
نقطۂ نظر

انسانی ترقی اور معاشی منصوبہ بندی

انسانوں کی قدروقیمت اور ان کے مرتبہ کا تعین کون کرے گا اور کیسے کرے گا ایک اہم سوال ہے۔ صنعتوں اور معاشی سرگرمیوں کے آغاز سے ہی انسانوں کو تولنا و مولنا شروع کردیا گیا تھا، رعیت و غلام تو ہم پہلے ہی سے تھے،سرمایہ داری کی آمدانسانوں کو بھی انسانی وسائل(Human Resource and Capital) قرار دے کر ان کی قیمت مقرر کرنا شروع کردی۔وسائل یا سرمایہ کا مصرف بیچنے ،خریدنے اور تجوری میں بند کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوتاگویاہر کارآمد، ہنر مند اور باصلاحیت شخص کی قیمت لگاو اور جب تک کار آمد رہےاسے بر سر روزگار رکھو اور بوڑھا، بیمار اور ناکارہ ہونے پر نکال دو، تلف کردو، ضائع کردو۔
عوامی سطح پر یہ تاثر عام ہے کہ بجٹ اور معاشی پالیسیاں محض صنعت کار، تاجر اور زمیندار طبقہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر بنائی جاتی ہیں جو کسی بھی طرح اس طبقہ کے مفادات کا تحفظ نہیں کر پاتیں جو کم سے کم اجرت یا اس سے بھی کم معاوضہ پر کام کرنے پر مجبور ہے۔
انسانوں کواب ان کی پیداواری صلاحیت کے اعتبار سے تولا جانے لگاہے، ہر برس بجٹ اور معاشی تخمیوں میں کم سے کم اجرت کا تعین کرتے ہوئے انسانوں کو درپیش بنیادی معاشی مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے محض چند ہزار روپے کے اضافہ سے معاشی ناانصافی پر مبنی نظام کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔کم سے کم اجرت 8 ہزار، 10 ہزار اور 12ہزار کرنے والی سرکار نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ 12 ہزار روپیہ کمانے والے دو وقت کیا کھائیں، کہیں آئیں کیسے؟ جائیں کیسے؟ آنے جانے کا کرایہ کہاں سے لائیں؟ گھر کا کرایہ؟ بجلی کا بل؟ پانی کا بل؟ گیس کا بل یہ سب اخراجات کیسے پورے کریں۔معاشی منصوبہ بندی کی ملکی تاریخ ایسے ہی اندوہ ناک سوالات سے پر ہے۔کسی زمانے میں ہمارے ملک میں 5 سالہ ترقیاتی منصوبے پیش کئے جاتے تھے جو کاغذوں میں عمدہ ہونے کے باوجود سیاسی ارادہ کی کمی کے باعث کبھی پورے نہ ہو سکے۔ اس کے بعد ایڈہاک بنیادوں پر کام کرنے کا چلن ہوا اورسال بھر کی منصوبہ بندی شروع ہوئی ۔سنا ہے شوکت عزیز صاحب کے دور سے مڈ ٹرم فریم ورک پالیسی بھی تشکیل دی جانے لگی۔ یہ پالیسیاں کہاں جاتی ہیں؟ یہ بجٹ کن خطوط پر استوار ہوتا ہے؟ انہیں بناتے وقت کس معاشرتی و معاشی طبقہ اور اس کے مفادات کو مد نظر رکھا جاتا ہے؟ عوامی سطح پر یہ تاثر عام ہے کہ بجٹ اور معاشی پالیسیاں محض صنعت کار، تاجر اور زمیندار طبقہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر بنائی جاتی ہیں جو کسی بھی طرح اس طبقہ کے مفادات کا تحفظ نہیں کر پاتیں جو کم سے کم اجرت یا اس سے بھی کم معاوضہ پر کام کرنے پر مجبور ہے۔
موجودہ معاشی مسائل اور امیر و غریب کے فرق کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں ہنگامی بنیادوں پر انسانی ترقی، بہبود اور تنوع کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا ۔ انسانی وسائل کی ترقی کے ادارے اور انسانوں کے لئے مساوی مواقع پر مبنی معاشی نظام کی تشکیل کرنا ہوگی۔ ہمیں معاشی ترقی کے ایسے اعشاریے اپنانے چاہئیں جن کے ذریعہ ہم آنے والی نسلوں کوایک بہتر مستقبل کی امید دے سکیں اور ایک ذمہ دار شہری بنا سکیں۔معاشی میدان کے ساتھ ساتھ ایسے معاشرتی اور ثقافتی رویوں کی ترویج کرنا ہوگی جو ہمیں تھیٹر ،سینما، ادب، موسیقی اور صحافت کے ذریعے ذہنی افزائش، انسانی ترقی، انسانی حقوق اور امن کو لوگوں کی زندگی کا اہم جزو بناسکیں۔ تعلیم، صحت ، خوراک اور انسانی ترقی کے منصوبوں پر پہلے سے کہیں زیادہ رقم خرچ کرنا ہو گی، سرمایہ دار طبقات کے تحفظ کی بجائے انسانی ترقی کی بنیاد پر معاشی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ اگر ہم ایسا نہ کرسکے تو پھر ہمیں گِنا اور تولا ہی جاتا رہے گا،وسائل کی تقسیم اور شناخت کے جھگڑے موجود رہیں گے اور کوئی بھی اس حقیقت پر توجہ نہیں دے گا کہ انسانی خوشی کن امور میں پنہاں ہے۔ کسی کو محبوب الحق کا انسانی ترقیاتی عشاریہ یاد نہیں رہے گا، کوئی ہزاریہ ترقیاتی مقاصد اور پائیدار ترقیاتی مقاصد کا ذکر نہیں کرے گا، پائیدار امن اورمستحکم ریاست کی تعمیر کے خواب دھندلا جائیں گے۔ سبھی کو امریکہ، جاپان، جرمنی، ڈنمارک ر کنیڈا کا ویزہ درکار ہوگا جہاں کا ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس زیادہ ہے اور جہاں بنیادی ضروریات کی دستیابی اور سماجی تحفظ کا نظام موجود ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام کے تحت افراد کو محض وسائل یا سرمایہ سمجھنے کی بجائے انہیں انسان ہونے کے ناطے خوشی، مسرت اور ذاتی تکمیل کے امکان بھرمواقع فراہم کرنا ہوں گے،ایسا فلاحی معاشرتی نظام تشکیل دینا ہو گا جو افراد کو ذاتی حیثیت اور اجتماعی سطح پر انتخاب کا حق دیتے ہوئے انفرادی اور اجتماعی فلاح کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکیں۔