Categories
نان فکشن

سماج کا ننگا دیباچہ

سعید ابراہیم لاہور میں رہتے ہیں اور میں دلی میں مقیم ہوں۔ خاص طور پر جس علاقے میں میری رہائش ہے، میرے کئی پاکستانی دوست اس کی تصویریں دیکھ کر کہتے ہیں کہ وہ بالکل لاہور جیسا دکھائی دیتا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ یہ عکس کتنے خوبصورت یا بدصورت ہیں۔۔ مگر حالات جس طرح بدل رہے ہیں، میرے شہر اور ملک میں لوگ پاکستان کا نام لیتے ہوئے ڈرتے ہیں، وہ سوچتے ہیں کہ اس ملک میں صرف دہشت گرد، تشدد پسند اور سخت گیر مذہبی فکر رکھنے والے ایسے افراد موجود ہیں، جن کے ساتھ دوستی ہونا یا کسی قسم کا تعلق ہونا ایک عام ہندوستانی کو مشکوک کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ صورت حال پہلے تو ایک وہم کی صورت میں موجود تھی، اب ایک بیماری بن گئی ہے بلکہ اسے وبا کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ اسی طور میری ایک پاکستانی دوست مجھے بتاتی تھی کہ اس کے کالج میں موجود اساتذہ بار بار طلبا کو سمجھاتے ہیں کہ ہندوستانی ہمارے دشمن ہیں۔ وہاں کے ہندو، مسلمانوں پر مظالم کی برسات کررہے ہیں، وہاں مسلمانوں کے ساتھ اجنبیوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے، ان کو مارا، کاٹا اور اغوا کیا جاتا ہے، وہ دوسرے شہری کی حیثیت سے اس ملک میں ڈر ڈر کر رہتے ہیں۔یعنی ایک ملک کے لوگ دوسرے ملک کے لوگوں کے بارے میں رائے بناچکے ہیں اور یہ دونوں طرف ہے۔ اوریا مقبول جیسے پاکستانی کالم نویس تو ہندوستانی مسلمانوں کو غدار، ڈرپوک حتٰی کہ کافر بھی کہہ چکے ہیں۔ان صورتوں میں جب ہمارے ہی ٹی وی چینل ایسے پاکستانیوں کے ساتھ مل کر پروپگینڈا کرتے ہیں جو اپنے ملک کے تعلق سے خطرناک صورت حال کو بیان کرتے ہیں، وہاں کی ایسی تصویر دکھاتے ہیں، جس میں لگتا ہے کہ وہاں کا ہر باشندہ یا تو خودکش بمبار ہے یا پھر بمباری کرنے والے افراد کا ہمدرد۔میں نے اس حوالے سے ہندی میں کچھ مضامین لکھے ہیں اور کچھ لکھنے کا ارادہ ہے، جس سے یہ بات ثابت ہو کہ کوئی ملک اگر انتشار کا شکار ہے تو ضروری نہیں ہے کہ اس کے تمام رہنے والے اسی فکر کے ہوں، آج کل بھارت کی بھی حالت نازک ہے۔میں نے اپنے بچپن سے اب تک ہندو مسلمان، دلت اور براہمن کی ایسی خطرناک تفریق پیدا کرنے والی لکیر اتنی روشن اور ایسی کاٹ دار نہیں دیکھی تھی، جس کا مشاہدہ آج کل کررہا ہوں۔بھارت کے سیکولر ہندو سیاست کی اس کروٹ سے پریشان ہیں۔ اقلیتوں میں بے چینی ہے اور بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ مذہب کی ٹوکری میں رکھ کر بیچی جانے والی نشہ آور ادویات کا کاروبار بند ہو اور جمہوریت کے اس جدید اور اجنبی تصور سے راحت ملے، جس میں عوام کی عدالت، عوام کے لیے، عوام کے ذریعے لگوائی جارہی ہے۔

 

ہم یہاں بیٹھ کر جب دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں ایک مجبور عیسائی عورت کو قید و بند کی صعوبت صرف پاکستانی مسلمانوں کی جہالت آمیز ضد کی وجہ سے برداشت کرنی پڑرہی ہے تو دکھ ہوتا ہے۔مشعال کے بارے میں برے اور گھنونے پروپگینڈے کی صورتیں سامنے آتی ہیں، اس کو مارنے والے بے رحم ہاتھ، اس کے سر میں داغی جانے والی گولی، اس کی لاش پر پھوڑے جانے والے گملے اور مذہبی جنونیت کو منہ چڑاتا ہوا اس کا ادھ ننگا بدن دیکھ کر دل جمنے لگتا ہے،آنکھیں تھمنے لگتی ہیں۔ مذہبی گستاخیوں کے الزام میں سنائی جانے والی ایسی خطرناک سزائوں کا دور سرحد کے دونوں جانب موجود ہے۔بازار لگا ہوا ہے، نظریں جھکی ہوئی ہیں۔جن لوگوں نے اخلاق کو مارا تھا، انہیں اس کی ابلی اور کچلی ہوئی وہ آنکھیں کہاں دکھائی دی ہونگی، جو موت سے پہلے ہی باہر کو نکل آئی تھیں۔جن لوگوں نے راجستھان میں پہلو خان نامی ایک غریب شخص کو گائے بیچنے کے جرم میں سڑک پر گھسیٹ کر پیٹا ہوگا، اس کے خون کا رنگ کب ان کی آنکھوں کو پانی کرسکا ہوگا۔ہم سب رفتہ رفتہ سفاک ہوگئے ہیں، ہم ہندوستانی اور ہم پاکستانی سبھی ایک قسم کے جرم میں ملوث ہیں۔تماشا دیکھنے کے جرم میں، جہاں سچ بولنے، سچ کی طرفداری کرنے، غیر جانبدار یا سیکولر ہونے، مذہب و وطن کی محبت میں انسان کو جنونی بنانے کی مخالفت کرنے اور اب تو اپنی روزی روٹی کمانے کے بدلے بھیانک موت کی سزا سنائی جاتی ہے، گلیوں میں نعش کھینچتے پھرنے کا حکم صادر کردیا جاتا ہے۔

 

اس قسم کی صورت حال میں جب آپ ایک کتاب پڑھتے ہیں، جو اندھوں کو آنکھیں عطا کرنے کا ہنر رکھتی ہے تو آپ چونکتے ہیں۔آپ سوچتے ہیں کہ یہ مصنف کہاں سے اتنی جرات بٹور لایا کہ اس نے ایک ایسے موضوع پر، جس کی مذمت بھی ہمارے سماجوں میں شرم کے مارے ٹھیک سے نہیں کرنے دی جاتی۔اتنے منطقی لہجے میں گفتگو کی ہے۔اس قدر عقل و شعور کے ساتھ، مختلف ذیلی موضوعات بنا کر ان کے بارے میں موجود غلط فہمیوں کو دور کیا ہے اور ان کی اصلی صورت ہمیں دکھائی ہے۔سعید ابراہیم کا شہر اور میرا علاقہ ہی نہیں ملتا جلتا ہے، بلکہ میں ان میں ایک آزاد، سمجھدار اور ذمہ دار انسان کی جھلک دیکھتا ہوں، جو ہمیں بتاتا ہے کہ سوسائٹی میں موجود سیکس کا تصور اتنا خام اور الجھا ہوا کیوں ہے، جبکہ اس پر بات کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ان کی کتاب کا نام ہی ‘سیکس اور سماج’ ہے۔ ظاہر ہے کہ سماج سیکس کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔ریپ ہوتے رہیں، گھروں میں لڑکیاں/عورتیں شادی سے پہلے یا بعد میں اپنے ہی رشتہ داروں، عزیز و اقارب کی ہوس کی بھینٹ چڑھتی رہیں، چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں سے داڑھی والے سفید پوش بزرگ کونوں کھدروں میں جنسی تسکین حاصل کرتے رہیں، بسوں،ٹرینوں، سڑکوں اور گلیوں میں عورت کا جسم دیکھ کر ہیجان میں مبتلا ہوجانے والی نسلیں تیار ہوتی رہیں، لوگ فرسڑیٹ ہوجائیں، پاگل ہوجائیں، جنون اختیار کرلیں، مرجائیں۔مگر اتنی اجازت نہیں مل سکتی کہ اس موضوع پر کھل کر چند لمحوں تک بات کی جائے۔سب کے سامنے، کیونکہ یہ سب کا مسئلہ ہے،یہ ایک اجتماعی پرابلم ہے،جس کا اجتماعی حل ضروری ہے۔اسے نہایت انفرادی کہہ کر، اس پر قابو پالینے کو ثواب یا پنیہ گرداننے والے ملائوں اور پنڈتوں نے ہمیشہ سے لوگوں کو ایک بند ہانڈی میں ابلنے والے چاولوں کی طرح چھوڑ دیا ہے، پتیلیوں کے تلے داغدار ہورہے ہیں، ڈھکنوں سے سفید جھاگ کی لکیریں رس کر باہر آرہی ہیں، مگر ڈھکنی ہٹانے کی اجازت نہیں ہے۔میرے ایک دوست نے بتایا تھا کہ ہندوستان کے سب سے بڑے ہسپتال ایمز میں ایک کیس آیا تھا، جس میں ایک لڑکی اپنے سر کے بال نوچتی تھی،اور بار بار اپنے کپڑے پھاڑ کر الگ کردیتی تھی، ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے جنسی جذبات کو دباتے دباتے پاگل ہوگئی ہے۔آپ غور کیجیے تو ہمارے معاشروں میں ہر دوسرا آدمی اسی قسم کاذہنی مریض ہے۔سعید ابراہیم کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے بتایا ہے کہ اس ذہنی مرض سے چھٹکارا کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے۔میں آپ کے سامنے پوری کتاب ضیافت کے لیے پروس نہیں سکتا۔یہ آپ کا مسئلہ ہے، آپ کے گھروالوں کا مسئلہ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ آپ کتاب خریدیں اور اسے پڑھیں۔مجھے پورا یقین ہے کہ سیکس کے موضوع پر اردو میں ایسی بہترین کتاب اس سے پہلے شاید نہیں لکھی گئی۔اگر کہیں اکا دکا کچھ نمونے ہونگے بھی۔ تب بھی وہ اس کتاب کی تنظیم و ترتیب اور آسانی کلام یا سہل بیانی کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔

 

سعید ابراہیم نے کتاب نہیں لکھی ہے، سیکس کو سماج کا سب سے بڑا سوال بنایا ہے۔انہوں نے اس مردہ تصور سے باہر نکل کر اس پرابلم کو دیکھا ہے جو بیک وقت دنیا کی سب سے بڑی لذت بھی ہے اور ڈھکے چھپے معاشروں کے لیے جی کا جنجال بھی۔سیکس کے مسئلے کو چار شادیوں اور ہزار باندیوں کے چودہ سو سال پرانے نسخے سے حل نہیں کیا جاسکتا اور پھر یہ مسئلہ صرف مرد کا تو ہے نہیں۔مذہب تو صرف مرد کی آسائش کو ملحوظ رکھتا ہے، عورت کے اندر تو اس کے لحاظ سے نہ کوئی جسمانی خواہش ہوتی ہے،نہ کوئی جنسی ضرورت۔وہ تو ایک ایسی مشین ہے کہ بس جس کے پلے باندھ دی جائے، خواہ اس کی پہلے سے تین بیویاں اور ستر باندیاں موجود ہوں، وہ چپ چاپ اپنی باری آنے کا انتظار کرتی رہے۔اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ یہ کتاب صرف سیکس کو موضوع نہیں بناتی ہے، بلکہ سیکس کے بارے میں غلط تصورات خواہ وہ مذہبی ہوں یا سماجی۔اس کی سب سے بڑی دریافت ہیں۔حالانکہ ان دریافتوں کا سہرا مکمل طور پر سعید ابراہیم کے سر جانا چاہیے مگر بالراست اس کا کریڈٹ اردو کے مشہور افسانہ نگار منٹو کو بھی ملتا ہے۔بقول مصنف انہوں نے اس کتاب کو لکھنے کے لیے ان بے چینیوں سے تو کام لیا ہی، جو ان کے بچپن سے شاخ نو کی طرح ان کے اندر پھوٹ رہی تھیں، مگر ساتھ ہی ساتھ منٹو کی تحریروں سے عشق اور اس کے جرات بیان سے ایک ایسی غیر ادبی کتاب وجود میں آسکی جو اس نہایت عام انسانی مسئلے پر خاص انداز میں بات کرنے کا ہنر جانتی ہے۔اس سے سمجھ میں آتا ہے کہ منٹو جیسا تخلیق کارسوسائٹی کے لیے کتنی بڑی نعمت ہے، وہ خود تو ان مسائل پر ایک غیر منظم طور سے اپنی کہانیوں اور مضامین میں بات کرتا ہی ہے، مگر اپنے زیر اثر ایسے مصنف بھی پیدا کرتا ہے، جن کے یہاں سیکس کے موضوع پر تحقیق کرنے کی ہمت اور اپنے مشاہدات و مطالعے کی بنیاد پر پیدا ہونے ہونے والے نظریات کو بیان کرنے کا سلیقہ بھی موجود ہوتا ہے۔

 

کتاب کے سارے حصے دلچسپ ہیں۔فہرست پر نظر ڈالیے تو معلوم ہوتا ہے کہ مصنف کا ذہن کتنا صاف ہے، اردو میں لکھی جانے والی اس کتاب کا بلاشبہ اگر ہندی اور انگریزی میں ترجمہ ہو تو بہت سے نئے ذہن اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں، بلکہ اس کتاب کا تو کئی زبانوں میں ترجمہ ہونا چاہیے۔بلوچی، سندھی، مراٹھی، بنگالی، پنجابی اور گجراتی۔خاص طور پر ان زبانوں میں کیونکہ ان میں ایسی کتابوں کی کمی ہے۔بنگالی میں شاید نہ ہو،لیکن باقی زبانیں تہذیب اور اس کے خول میں اتنی بری طرح قید ہیں کہ ان میں اس کتاب کو پڑھنے والے واقعی بہت کچھ نیا جان سکیں گے اور شرم کے اس نام نہاد دائرے سے باہر آکر اپنے بنیادی مسئلوں پر گفتگو کرنے کا سلیقہ سیکھیں گے۔ کیونکہ یہ مسئلہ صرف اردو بولنے والوں کا نہیں ہے۔ہندوستان کے اتراکھنڈ یا ہماچل پردیش میں صورت حال یہ ہے کہ آج بھی حیض شدہ عورت کا بستر الگ کردیا جاتا ہے، اس کے گرد ایک دائرہ بنادیا جاتا ہے، وہ کچن میں نہیں جاسکتی، اس کے برتن الگ ہوتے ہیں، یہاں تک کہ اگر دودھ پینے والا بچہ اس کے ساتھ موجود ہے، تو اسے بھی اس کے ساتھ رہنا پڑتا ہے اور اگر وہ اپنی نادانی کی وجہ سے لکیر پار کرکے کسی جگہ پہنچ جائے تو اس جگہ کو گائے کے پیشاب سے دھوکر پاک کیا جاتا ہے۔ہریانہ میں حیض کےدوران عورتوں کو بہت وقت تک طبیلوں میں باندھ دینے کا رواج رہا ہے اور آج بھی ایسا کئی جگہوں پر ہوتا ہے، جہاں حیض کی شکار عورت کو نفسیاتی اور جسمانی تنہائی گھوڑوں یا بھینسوں کے ساتھ گزارنا پڑتی ہے۔پاکستان کی صورت حال اس معاملے میں زیادہ مختلف نہیں ہے، وہاں بھی حیض کو ایک آسمانی آفت تصور کیا جاتا ہے، حیض آنے پر گویا عورت عورت نہیں رہتی، وہ نماز نہیں پڑھ سکتی، روزہ نہیں رکھ سکتی۔مذہب اسے چٹکی میں پکڑ کر ایک ایسے اجنبی ریگستان میں چھوڑ دیتا ہے جہاں صرف اپنے عورت پن کو کوسنے کے علاوہ اور دوسرا کوئی چارہ نہ رہے۔حیض آج بھی ایک بڑا موضوع ہے، جس پر ہمارے معاشروں میں موجود مختلف تصورات پر تحقیق کرکے سعید ابراہیم جیسے مصنف ہی بہت کچھ لکھ سکتے ہیں اور ان کے تعلق سے موجود غلط فہمیوں کو دور کرسکتے ہیں، بشرطیکہ ان کو بہت سی سہولیات مہیا کرائی جائیں، ایسے مصنفین کو تو باقاعدہ حکومت کی امداد ملنی چاہیے، مگر حکومتیں ہمارے معاشروں میں ایسے غلیظ تصورات کا فائدہ اٹھاکر ووٹ بینک کی سیاست کرتی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ خوشحال اور امیر طبقہ یا خود کفیل پرائیوٹ ادارے ایسے موضوعات پر بات کروانے یا کتابیں لکھوانے کے لیے مصنف کو ایک آرام دہ زندگی میسر کرانے کے لیے آگے آئیں۔اگر وہ ایسا کریں گے تو وہ مصنف پر بالکل احسان نہ کریں گے بلکہ اپنے معاشرے کو صحیح سمت میں لے جانے اور اسے ابتذال سے بچانے کے لیے، ایک بہتر مستقبل عطا کرنے کے لیے کام کریں گے، جس کا اثر ظاہر ہے کہ ان کی نسلوں پر تو پڑے گا ہی بلکہ ان کی موجودہ شناخت کو بھی یہ تبدیلی متاثر کرے گی اور وہ اپنے وطن میں موجود سیکولر ذہنوں کو زیادہ سے زیادہ پیدا کرسکیں گے۔

 

سیکس اور سماج جیسی کتابیں سرکاری نصاب کا حصہ تو شاید نہ ہوسکیں۔ لیکن انہیں نصاب کا حصہ بہرحال ہونا چاہیے،ایسے مصنفین کو سکولوں، کالجز میں طلبا سے بات چیت کے لیے بلایا جانا چاہیے، طلبا کو اس بات پر آمادہ کرنا اساتذہ کا کام ہے کہ وہ جو باتیں اپنے والدین، دوستوں یا عزیز و اقارب سے کہتے ہوئے گھبراتے ہیں، مصنف سے کھل کر کہہ سکیں۔اس سے معاشرے میں لگے ہوئے فرسٹریشن کے گھن کا کچھ علاج ہوگا اور رفتہ رفتہ یہ تبدیلی آزاد ذہنوں کو پیدا کرے گی اور وہی طلبا کل کو اپنے دوستوں اور بہت ممکن ہے کہ اپنے والدین کو بھی اس بات پر آمادہ کرسکیں کہ سیکس کے موضوع پر بات کرنے یااس سے جڑے مسائل کا تذکرہ کرنے سے بے شرمی نہیں پھیلتی بلکہ معاشرہ ایک غیر ضروری ذہنی و نفسیاتی تکلیف سے آزادی حاصل کرتا ہے۔

 

دلی میں ریپ بڑھ رہے ہیں، ظاہر ہے دوسری جگہوں پر بھی ان کی تعداد میں کمی نہیں ہورہی ہے۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ ریپ اب بے رحمی سے کیے جاتے ہیں، ریپ کرنے والا معلوم ہوتا ہے کہ عورت سے کسی قسم کا بدلہ لے رہا ہے، وہ اس کے وجود سے گھبرایا ہوا ہے، عورت کے بدن سے چپکی دو نازک جھلیوں کو وہ اپنے غصے سے پھاڑ دینا چاہتا ہے، اس کے بدن میں نہ جانے کیسے کیسے خطرناک آلات گھسیڑ کر وہ بچہ دانی اور آنتوں تک کو باہر نکال لینا چاہتا ہے۔ریپ ہوجاتا ہے، میڈیا میں شور مچتا ہے، باتیں ہوتی ہیں، لوگ اسے قیامت کے آثار میں شامل ایک بات کہہ کر چپ ہوجاتے ہیں، کینڈل مارچ ہوتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ عورتوں یا لڑکیوں کی بھیڑ پھانسی کا مطالبہ کرتی ہے۔دلی میں ہی چند برسوں قبل ہونے والے نربھیا کانڈ کے سبھی ملزمین کو پھانسی کی سزا ہوئی،لیکن راجدھانی میں ریپ نہیں رکے، ہوتے رہے اور اسی بے رحمی سے ہوتے رہے۔اگر پھانسی کی سزا اس بیماری کا علاج ہوتی تو یہ بے رحم عمل رک جانا چاہیے تھا۔لیکن کوئی نہیں پوچھتا کہ ریپ کرنے والوں کو اتنا غصہ کیوں آتا ہے، وہ اتنے ناراض کیوں ہیں۔عورت نے ان کا کچھ نہیں بگاڑا ہے۔بلکہ سماج ہی اس معاملے میں ملزمین کا بھی دوشی ہے اور عورتوں کا بھی۔وہی نہیں چاہتا کہ یہ مسئلہ حل ہو کیونکہ اگر مسئلہ حل ہوا تو اسی صورت میں حل ہوگا جب لوگ بالغ ہوکر ان معاملات پر سوچیں گے اور لوگوں کو سوچنے سے جتنا زیادہ دور رکھا جاسکتا ہے، اتنا اچھا ہے۔سعید ابراہیم کی کتاب اسی سوچنے سمجھنے کےرویے کو عام کرسکتی ہے۔انہیں بھی اس سوسائٹی میں خطرہ ہے، مگر مجھے یقین ہے کہ اسی سوسائٹی میں ان کے ہمدرد بھی پیدا ہوچکے ہوں گے۔

 

آپ اس کتاب کا کوئی بھی حصہ پڑھ جائیے، یہ کتاب آپ کو پریشان کرے گی، پریشان اس معاملے میں کہ اتنی اچھی باتیں سمجھنے سے آپ کو کیوں روکا جاتا ہے۔والدین کیوں اپنے بچوں کی پرابلم نہیں سنتے۔سیکس آخر ہے کیا چیز؟ سیکس کا مذہبی تصور کتنی اہمیت رکھتا ہے؟ ماسٹربیشن کا معاملہ کیا ہے اور اس کی حقیقت اور اس سے پڑنے والے نفسیاتی اثرات کے درمیان کتنا فرق ہے۔اس کے علاوہ خود عورتیں اس معاملے میں کتنی کنفیوزڈ ہیں، ہمارے وہ بڑے اذہان جنہیں ہم اقبال یا اکبر الہہ آبادی کے نام سے جانتے ہیں، تہذیب کے نام پر سماج سے کیسی دشمنیاں نبھاتے رہے ہیں۔مردانگی کے اوندھے الٹے تصورات کیا ہیں، عورت سے خوف کیوں آتا ہے، شادی اور جہیز کا سسٹم اتنا عام اور لعنت کی طرح کیوں مسلط ہے۔یہ تمام مسائل اور ان پر گفتگو کرنے والی سعید ابراہیم کی کتاب کو اگر آپ نے نہیں پڑھا ہے اور اپنے دوستوں کو پڑھنے کے لیے اب تک آمادہ نہیں کیا ہے تو ضرور کیجیے کیونکہ یہ مسئلہ ہر ذہن کو متاثر کرتا ہے، یہ صرف ایک آدمی کی پرابلم نہیں ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

آواز کی دنیاؤں میں جنس کی تلاش

[blockquote style=”3″]

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے موزوں ہیں۔

[/blockquote]

میں گزشتہ کچھ عرصے سے جنسی خواہش کی ایک نئی دنیا کو بڑے تجسس اور شوق سے دیکھ رہا ہوں۔ممکن ہے کہ آپ کو میرا یہ تجسس بے معنی ، فضول سا لگے مگر ایسا اس لیے ہے، کیونکہ مجھے اس کاتجربہ پہلے نہیں تھا۔تصور کیجیے ایک ایسی دنیا کا، جہاں انٹرنیٹ نہیں ہو، یعنی کہ اگر سترہویں، اٹھارہویں یا پھر انیسویں صدی کے کسی ایسے عشق کو گہری تحقیقی تاریخ کے نقطہ نظر سےہم دیکھ یا جان پائیں، جس میں دو عاشقوں کے ایسے خطوط ہمیں ملیں، جن میں جنس کو ڈسکس کیا گیا ہو، اسی طرح جیسے محبت کو ڈسکس کیا جاتا ہے۔مطلب یہ کہ عاشق اپنی جنسی خواہشوں کو بھرپور طور پر معشوقہ کے سامنے رکھ رہا ہو، معشوقہ اسے تصور کرکے بڑی بے باکی اور بہت ہی خلوص کے ساتھ نت نئے جنسی تجربوں کی لامحدود خواہشوں کا پٹارا اپنے عاشق کے سامنے کھول رہی ہو۔اب یہ تو معلوم کرنا مشکل ہے کہ ایسے عشق کس قدر رہے ہوں گے، مگر میں ٹیلفونک سیکس کی افادیت اور اس کی اہمیت کا قائل ہوا ہوں۔ عام طور پر ہم جیسے جنس طلبوں کو کسی نہ کسی پارٹنر کی تلاش رہتی ہے، پھر ہمارے معاشروں میں ایسے پارٹنر آسانی سے میسر نہیں آتے۔زندگی کی مختلف قسم کی ذمہ داریاں، گھر بار اور نہ جانے کتنے دوسرے مسائل ، ان کی وجہ سے بھی نئے جنسی پارٹنر کو تلاش کرنا اور اس سے جنسی عمل کے لیے استفسار کرنا یا اسے آمادہ کرنا۔یہ تین نہایت اہم عناصر ہیں، جن سے جنس کی ترکیب ممکن ہوپاتی ہے۔میرے لیے جنس مرض نہیں ہے، چنانچہ میں اس کا مطالبہ کرنے سے یا اسے آفر کرنے سے گھبراتا نہیں۔البتہ یہ ضرور ہے کہ جنس مخالف کی مرضی کا خیال کرتا ہوں اور ان کے انکار یاناراضگی کو بہ سر و چشم قبول کرتا ہوں۔

 

میرے لیے جنس مرض نہیں ہے، چنانچہ میں اس کا مطالبہ کرنے سے یا اسے آفر کرنے سے گھبراتا نہیں۔البتہ یہ ضرور ہے کہ جنس مخالف کی مرضی کا خیال کرتا ہوں اور ان کے انکار یاناراضگی کو بہ سر و چشم قبول کرتا ہوں۔
ٹیلی فون ایک آلہ ہے، جس سے بات کی جاسکتی ہے، دور بیٹھے دو لوگ آپس میں اپنے مسائل، اپنے معاملات، اپنی زندگیوں کو شیئر کرسکتے ہیں۔اس کا ایک خوبصورت استعمال جنسی تسکین کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ایسے کچھ موبائل ایپس بھی موجود ہیں، جہاں پر آپ کال لگا کر کسی عورت کی مسحور کن آواز سن سکتے ہیں، کچھ چھپی ڈھکی خدمات ایسے ادارے بھی انجام دیتے ہیں، جن کے یہاں سیکس ٹاک کا انتظام ہوتا ہے۔موبائل ایپ میں خرابی یہ ہے کہ وہاں آپ زیادہ تر ایک ہی قسم کی باتیں سن کر، پہلے سے تحریر کردہ مکالموں کو سن کر بور ہوسکتے ہیں اور پھر ایسی خدمات زیادہ تر چونکہ مرد حضرات کو نظر میں رکھ کر انجام دی جاتی ہیں، اس لیے عورتوں کو یہاں سرے سے نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ کچھ پیڈ اپیلکیشنز ہوسکتا ہے کہ ایسی ہوں، جن میں مردوں کی آواز میں بھی یہ جنسی مکالمے تیار کرائے گئے ہوں، مگر مجھے ان کا اندازہ نہیں ہے۔میں نے ایک ایسی ایپلیکشن ڈاؤن لوڈ کی تھی،مگر وہ نہایت سستی نکلی، سستی سے مراد، اول تو مفت تھی، دوسرے یہ کہ اس پر بات کرنے والی آواز سے معلوم ہورہا تھا کہ کسی مرد سے مکالمے تیار کرائے گئے ہیں، مرد ہی نے انہیں پڑھا ہے اور کسی سوفٹ ویئر کی مدد سے اسے نسوانی آواز میں کنورٹ کیا گیا ہے۔یہ پیسے کمانے کا ایک آسان حربہ ہوسکتا ہے، مگر اس سے زیادہ بہتر تو وہ خدمات حاصل کرنا ہیں جن میں کوئی مخصوص ادارہ سیکس ٹاک کا انتظام کروادیا کرتا ہے۔

 

مجھے یاد ہے کہ آج سے قریب پانچ یا چھ سال پہلے ہمارے یہاں کسی موبائل نیٹ ورک کمپنی نے لڑکوں اور لڑکیوں میں دوستی کرانے کا ایک طریقہ ڈھونڈا تھا۔ کمپنی نے اسے کمرشلائز کیا اور سیدھے ڈھنگ سے اس کے ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات میں اشتہارات کا انتظام کیا گیا۔اس کا ظاہر ہے درپردہ مقصد یہی تھا کہ جوان لڑکے اور لڑکیاں اپنی جنسی خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے کوئی پارٹنر تلاش کرسکیں، کیونکہ محبت کے لیے تو چار یا چھ روپیہ فی منٹ کافی مہنگی رقم تھی،مسئلہ بس یہی تھا کہ اس کا اشتہاری نظام اسی لیے گڑبڑا گیا کیونکہ اس کی بنیاد جنس کے بجائے محبت پر رکھ دی گئی اور سوڈا کے نام پر شراب بیچنے کی ہی طرح محبت کے نام پر جنس کو فروخت کرنے کی کوشش کی گئی، جس کی وجہ سے یہ سکیم فیل ہوئی کیونکہ لوگ بہرحال سوڈے اور شراب کی طرح، محبت و جنس کے معاملے میں اتنے سمجھدار نہیں ہوئے ہیں یا وہ ایسا دکھاوا کرنا چاہتے ہیں۔امریکہ میں جب فون کمپنیوں نے باقاعدہ فون کے ذریعے جنسی کاروبار کرنا چاہا تو ایک وقت بعد وہاں اسے قانونی سطح پر رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا اور یہ معاملہ ختم ہوا۔وکی پیڈیا پر سیکس فون اور اس کے کاروبار کی پوری داستان موجود ہے مگر وہ داستان ہمیں زیادہ تر ایسی باتیں بتاتی ہے جو غیر دلچسپ ہیں۔اول تو دیکھنے اور سننے کے فرق کو ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔اگر ہم ایک قسم کی درجہ بندی کریں توجنسی عمل اور اس سے محظوظ ہونے کے تعلق سے لوگ شاید ایسی فہرست بنائیں گے۔

 

کسی کے ساتھ جسمانی طور پر سیکس کرنا
بلیو فلم دیکھتے ہوئے مشت زنی کرنا
یا پھر ٹیلی فون پر کوئی آواز سنتے ہوئے شدت جذبات کےساتھ مشت زنی کرنا

 

مجھے بلیو فلم دیکھتے ہوئے جس ہیجان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ میں اپنی کسی دوست کے ساتھ فون پر ایسی آوازیں اور ایسے مکالمے سنوں جو میرے بدن میں کسی گاڑھی کریم کی طرح گھل جائیں۔
میں پہلے عمل کو کسی بھی حال میں چیلنج کرنے کی بے وقوفی نہیں کرسکتا، البتہ یہ ضرور ہے کہ مجھے بلیو فلم دیکھتے ہوئے جس ہیجان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ میں اپنی کسی دوست کے ساتھ فون پر ایسی آوازیں اور ایسے مکالمے سنوں جو میرے بدن میں کسی گاڑھی کریم کی طرح گھل جائیں۔میں فون سیکس کی حمایت نفسیاتی اور منطقی طور پر ایک ترجیحی صورت میں کرنا چاہتا ہوں، جس میں کسی بھی چیز کو متصور کرنے کی طاقت کسی اور کو سیکس کرتے ہوئے دیکھ کر خوش ہونے سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔میں نے جنسی عمل کے ایسے تجربے گزشتہ دو سالوں میں زیادہ بڑھا دیے ہیں،میرے پاس اب کچھ تین چار ایسی دوست ہیں ، جنہیں ٹیلی فون پر سیکس کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے، ہاں جب وہ فارغ ہوں، ان کا موڈ ہو، کچھ تو یہ بھی چاہتی رہی ہیں کہ میں ان کا موڈ بھی بناؤں اور مکالمے بھی میں ہی ادا کروں، لیکن ہردوطرف میں سانسوں کا ایک ایسا شور موجود ہوتا ہے۔ان دنوں میں جس لڑکی کے ساتھ جنسی گفتگو میں زیادہ خوشی محسوس کرتا ہوں، اسے میری آواز میں پہلے ایک جنسی کہانی سننی ہوتی ہے، ایک کہانی جس کے کردار ہم ہی دو لوگ ہوا کرتے ہیں، ہم اس دنیا کی ماردھاڑ، پریشانیوں، معاشی تنگیوں، لوگوں کی بندھی ٹکی اخلاقیات سے بہت دور، ہم چشم تصور میں ایک ایسی دنیا بناتےہیں، یا پھر یوں کہوں کہ میں ایسا کرتا ہوں، اپنے لفظوں کی مدد سےروز کہانی کا ایک نیاباب لکھا جاتا ہے، کہیں سے یہ دھاگا ٹوٹتا ہے تو کچھ روز بعد اسے پھر نئی گفتگو میں گانٹھ باندھ کر شروع کردیا جاتا ہے۔فون سیکس کی اصطلاح کو میں زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہتا کیونکہ یہ ایک کاروباری اصطلاح ہے۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں یا مجھ جیسے لوگ آوازوں کی دنیا میں جنس کو تلاش کرتے ہیں۔اب میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوں، جنہیں یہ سب بہتر معلوم ہوتا ہے۔اب فون پر بات چیت کے بہت سے ایپس ہیں۔جیسے کہ فیس بک، واٹس ایپ اور پھر دوسرے بہت سے ایپس ۔جن کی مدد سے ایسی گفتگو ممکن ہے۔جنسی گفتگو کا ایک نادر پہلو میرے سامنے یہ بھی ابھر کر آیا کہ اگر یہ دولوگوں کے درمیان ہورہی ہے اور آپ اسے پورے طور پر محسوس کررہے ہیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ دوران سیکس باتوں کی کتنی اہمیت ہے۔میں اس بات پر حیران ہوں کہ ان گفتگوؤں سے قبل میں نے جتنے بھی جنسی عمل کیے، ان میں میں نے بہت کم باتیں کیں، اس وقت جب بدن مٹھیوں میں ہوتے ہیں، سانسیں تاروں سے بندھی ایک دوسرے کے منہ اور ناک میں دھمادھم گھس کر گونج رہی ہوتی ہیں ، ہم بات کیوں نہیں کرتے۔جبکہ ایسے وقت میں بات کرنے سے اس خوبصورت عمل کا مزہ دوبالا ہوسکتا ہے۔یہ اسی طرح ہے، جیسے کہ آپ برگر تو کھاتے رہے لیکن اس پر سوس ڈالنے کی لذت آپ کو بعد میں کسی اور ذریعے سے معلوم ہوئی۔

 

مذہب کے معاملے میں مجھے کیا کہنا چاہیے اس وقت مجھے نہیں معلوم، مگر اتنا کہ سکتا ہوں کہ کسی بھی مذہب کی پیدائش کے وقت چونکہ فون موجود نہیں تھا، اس لیے وہ ایسی بات چیت کے بارے میں کوئی حکم نافذ کرنے سے قاصر رہے ہوں گے، البتہ حال یا مستقبل میں پیدا ہونے والے مذاہب کو اس پر ضرور غور کرنا چاہیے کہ وہ اس معاملےکون سا قانون لائیں، اسے کس حد تک جائز اور کس حد تک ناجائز قرار دیں۔ٹیلی فون پر کیے جانے والے اس سیکس میں کچھ باتیں بڑی اچھی اور اہم ہیں، جو میں آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ آپ میں سے اگر کچھ دوستوں کو ایک یا ایک سے زائد جنسی گفتگو کا موقع ملا ہو تو انہیں سامنے آکر اس طرح کے تجربوں کو تحریر میں ڈھالنا چاہیے، اس پر ہمارے یہاں ایک ویب سیریز کے ساتھ ساتھ اچھی کہانیاں لکھی جاسکتی ہیں، ڈرامے بھی وجود میں آسکتے ہیں، جہاں سٹیج پر دو عدد کھٹیاؤں کے علاوہ ، دو دور لیٹے بڑے ہی شریف قسم کے کرداروں کو انتخاب کیا جاسکتا ہے، جن کے درمیان پلاسٹک یا تھرماکول کی کوئی دیوار کھڑی کی جاسکتی ہے۔سماجی اور مذہبی اخلاقیات کا احترام کرنے والوں کے نزدیک اس قسم کی گفتگو جائز نہیں ہوسکے گی کیونکہ وہ سمجھتے ہوں گے کہ اس سے انسان بہکتا ہے۔بہکنا چونکہ سائنسی نقطہ نظر سے کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جس کی تعریف ممکن ہوالبتہ انسان کی جنسی خواہش کا سر مارنا ایک فطری بات ہے، جس کی تسکین کے بہتر اور جدید ذرائع ڈھونڈنا، انہیں قبول کرنا اور ان کا بھرپور استعمال کرنا ہمارے یہاں عوامی طور پر کبھی قبول نہیں کیا جائے گا، مگر اس کی موجودگی سے انکار کرنا ممکن نہیں ہے اور اب یہ کسی بھی شریف النفس شخص کے بس کی بات نہیں کہ رات کے تین بجے اٹھ کر اپنے بچوں کے بستروں میں جھانکتا پھرے کہ ان کے منہ سے کس قسم کی سانسیں نکل رہی ہیں۔

 

فون پر سیکس کرنے کے بعد نارمل ہوجانے والی آواز سے ڈرنے کا مطلب ہے کہ آپ اگلی بار کی خواہش سے ڈررہے ہیں، ایک فطری خواہش سے ، جس کا پلٹ کر آنا لازمی بھی ہے اور ضروری بھی۔
میرے اپنے ایسے تجربوں میں ایک خاتون کا قصہ بھی شامل ہے، ان سے اتفاقاً شام کو فیس بک پر بات ہونے لگی، رات ہوتے ہوتے ہم نے ایک دوسرے کے نمبر تبدیل کیے اور ٹیلی فون پر سیکس کیا گیا، مگر دوسرے دن انہوں نے مجھے بلاک کردیا۔فیس بک اور واٹس ایپ دونوں جگہوں سے۔بہرحال ، وہ ان کی مرضی تھی۔لیکن اپنی کسی بھی خواہش سے اس قدر گھبرانا کہ اگر آپ نے کسی کے ساتھ اسے پورا کرلیا ہے تو خود کو آئینے میں دیکھنے سے ڈرنا ایک قسم کی بے وقوفی ہے۔یہ ایک خوشی اور pleasure کا معاملہ ہے، اس سے شرمانے یا گھبرانے کا مطلب ہے کہ آپ نے کوئی جرم کیا ہے یا آپ اپنی ذات کو جرم سمجھتے ہیں۔ فون پر سیکس کرنے کے بعد نارمل ہوجانے والی آواز سے ڈرنے کا مطلب ہے کہ آپ اگلی بار کی خواہش سے ڈررہے ہیں، ایک فطری خواہش سے ، جس کا پلٹ کر آنا لازمی بھی ہے اور ضروری بھی۔اور آوازوں کی دنیا میں انسان کا یہ اختلاط اتنا خوبصورت ہے کہ اس سے نہ کسی قوم کو نقصان ، نہ کسی سماج کو، نہ کسی مذہب کو نقصان نہ کسی مادیت کو۔بلکہ ممکن ہے کہ یہ ہمیں اور زیادہ سماجی، مذہبی یا مادی ہونے کے لیے ہمارے اندرون کی بھری ہوئی بالٹیوں کو خالی کرنے میں مدد دینے والا ایک آسان طریقہ ہو، جس میں دو لوگ رات کے اندھیرے میں ایک دوسرے کے بدن سے لپٹے ہوں، مرد کی مٹھیوں میں عورت کے گہرے گلابی یا کانسہ زدہ پستان زرد سے سبز ہوتے جارہے ہوں، آنکھیں بند ہوں، سانسوں کا عمل تیز اور خواہشوں کی ایک ایسی دنیا ہو، جس میں کوئی جھجھک اور پریشانی نہ ہو، یہ سیکس ہماری ایسی تربیت کرسکتا ہے، جس میں ہمیں بستر میں ایک دوسرے کی ترجیحات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ علم ہوسکے۔

 

میرے خیال میں تو ہر صحت مند شادی کے خواہش مند جوڑے کو فون سیکس ضرور آزمانا چاہیے، اس سے کم از کم ہم بستری کے مرحلے تک پہنچتے پہنچتے ان کی جنسی خواہشات و ترجیحات ایک دوسرے پر آسانی سے اور زیادہ بہتر طور پر کھل کر سامنے آسکیں گی۔ اسی طرح کاروبار زندگی کے مختلف شعبوں میں الجھے ہوئے لوگوں کو جنسی گفتگو کے لیے خود کو تیار رکھنا چاہیے کہ ا س سے کم از کم ان کا جسمانی و ذہنی فرسٹریشن کسی حد تک کم ہوسکتا ہے۔فون کے ذریعے کیے جانے والے سیکس کی ایک خوبصورت بات یہ ہے کہ یہ آوازوں کی دنیا ہے، یہاں چہروں کی خوبصورتی، رنگوں کی ترجیحات زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں۔ یہاں صرف سانسوں اور لفظوں کی حکمرانی ہے، چنانچہ یہ ایک بہتر اور اچھی دنیا کا چھوٹا سا متبادل تو بہرحال ہے۔اور اس کے ذریعے جذباتی و ذہنی قسم کے نقصانات کا اندیشہ بھی کم سے کم ہے۔

Image: yourtango.com