Categories
فکشن

سرخ شہر اور دوسری کہانیاں

مزید مائیکرو فکشن پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

سرخ شہر

 

وہ سرخ شہر تھا، وہاں یا تو درندے بستے تھے یا پھر نابینا انسان۔

 

اور وہ واحد ان نابینا لوگوں کے بیچ بینا بچا تھا جو بہت سالوں سے نابینا بنا ان کے بیچ زندگی بسر کر رہا تھا، ظلم دیکھ رہا تھا اور سہہ رہا تھا۔

 

اس سے بہتر کون جان سکتا تھا کہ ظلم دیکھنا ظلم سہنے سے کتنے گنا زیادہ کربناک ہے مگر اب تو انتہا ہی ہو گئی تھی۔ اب تو ان درندوں نے بچوں کو بھی ذبح کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہ اگر مزید چند دن ان کے درمیان رہتا تو خدشہ تھا کہ چیخ ہی اٹھتا اور وہ درندے اس کی بھی آنکھیں نوچ لیتے۔ اس لیے اس نے سوچا کہ وہ وہاں سے چلا جائے گا ۔ اور آج موقع ملتے ہی وہ ان درندوں کی نظروں سے بچ کر شہر سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔

 

صحرا کا یہ کنارا شہر سے تقریباً ملا ہوا تھا۔ یہ وہی صحرا تھا جس کے بارے میں ہزار داستانیں مشہور تھیں۔ جس کا نام لینے سے بھی لوگ ڈرتے تھے ۔ مگر جس انسان نے ڈر کو بہت سالوں تک آٹھوں پہر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو اس کے لیے ڈر کے معنی بدل جاتے ہیں۔ سو اس کے لیے بھی ڈر کے معنی اب وہ نہیں رہے تھے جو عام لوگوں کے لیے ہوتے ہیں۔
اس نے بدن سے لباس اور پاوں سے جوتے اتارے اور صحرا کی نیم گرم ریت پر چلنے لگا۔ ایسا اس نے اس لیے کیا کیوں کہ وہ سرخ شہر سے کچھ بھی اپنے ساتھ آگے نہیں لے جانا چاہتا تھا۔ یوں ہی چلتے چلتے اس نے تقریباً پانچ چھ میل کا فاصلہ طے کیا۔

 

رات کا قریب دوسرا پہر، سیاہ آسمان، پاؤں کے نیچے نیم گرم ریت، جسم تھکن سے چُور اور رہ پاپیادہ۔۔

 

اچانک اسے لگا جیسے اس کے دائیں کندھے کے ساتھ کوئی اور بھی کندھا ملا کر چل رہا ہے۔ اس نے رفتار بڑھا دی اور بڑے بڑے ڈگ بھرنے لگا۔ مگر یہ احساس شدید تر ہوتا گیا کہ کوئی ہے جو اس کے ساتھ چل رہا ہے۔ جب کوئی چارہ نہ رہا تو اس نے اپنا چہرہ دائیں اور گھمایا اور جیسے ہی اس کی نظر اس ہیولے پر پڑی وہ چند قدم اچھل کر پیچھے ہٹ گیا۔ سیاہ رات میں پانچ چھ میل صحرا میں تنہا سفر کرنے کے بعد یوں کی کو اچانک اپنے سامنے ک دیکھ کر کوئی بھی چونک جاتا۔ اگر وہ سرخ شہر کا باسی نہ ہوتا تو شاید بے ہوش ہی ہو جاتا، لیکن اس نے اگلے لمحے خود کو سنبھالتے ہوئے اس سے پوچھا: “کون ہے تو؟”

 

اس ہیولے نے جس کی آنکھیں زردی مائل تھیں اور چہرے پر ہونٹ ندارد تھے، کہا: ” ہم اس صحرا کے اسیر ہیں، کچھ ہزار سال پہلے ہم نے اپنے نبی کو کاٹ کھایا تھا۔ ہم تب سے یہاں اسیر ہیں۔۔۔۔۔”
“اب ہم بھوت ہیں” یہ کہتے ہوئے ہیولے کی آنکھیں سرخ ہو گئیں جیسے ابھی آگ یا لہو اگلنے لگیں گی۔
وہ ننگ دھڑنگ اسے دیکھ کر مسکرایا تو وہ سیخ پا ہو کر بولا:
“یہاں کوئی نہیں آتا، آج تو آیا ہے، تو کون ہے؟ جو مجھے دیکھ کر مسکراتا ہے؟”
اس ننگ دھڑنگ نے ہیولے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا:
“میں ان میں سے ہوں جن میں آج اگر کوئی نبی ہوتا تو شاید۔۔۔۔”
اس نے جملہ دانستہ ادھورا چھوڑا، ایک پل کو رکا اور پھر بولا “میں سرخ شہر کا باسی ہوں۔”
“میں ہوں سرخ دور کا ‘انسان۔۔۔۔۔'”

 

ہیولے نے جیسے ہی یہ سنا اس کے بدن پر کپکپی طاری ہو گئی، کوئی ساعت ہی آگے بڑھی تھی کہ وہ دھواں بنا اور صحرا کی ریت میں جذب ہو گیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

“ایک خود کلامی”

 

لوگ منافق ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اور تنہائی؟؟؟؟؟
کیا تنہائی بھی منافق ہوتی ہے؟؟؟
نہیں تنہائی منافق نہیں ہوتی تنہائی تو منافقین سے بچنے کی ڈھال ہوتی ہے ایک مضبوط ڈھال۔
تو جب تم منافقین میں گھرے ہوتے ہو تو تنہائی کو ڈھال بناتے ہو؟؟؟؟
ہاں۔۔
اچھا ایک بات بتاؤ منافقین کیا بہترین دشمن ہوتے ہیں؟
نہیں منافقین بد ترین دوست ہوتے ہیں جو بظاہر تمہارے ساتھ رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم سے اپنی دوستی کا دان وصولتے ہیں اور تمہارے دوستی کا خراج منافقت سے دیتے ہیں۔
اچھاااا اور گواہی کے وقت کیا کرتے ہیں؟
گواہی کے وقت ؟؟ گواہی کے وقت تمہارے دشمنوں کا ساتھ دیتے ہیں اور تمہیں غلط ثابت کرنے میں اپنی پوری قوت لگا دیتے ہیں۔۔۔۔۔
پھر کیا ہوتا ہے؟
پھر تم غلط ثابت ہو جاتے ہو اور وہ سرخ رو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک بار پھر گھرے ہومنافقین میں پھر اب تمہارا کیا ارادہ ہے؟
تنہائی کو ڈھال بناؤں گا اس کی اوٹ میں چلا جاؤں گا ۔۔۔۔۔ گھٹ گھٹ کے نہیں جیوں گا کھل کے مروں گا کہانی امر کروں گا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

“عیسوی 3016”

 

اس نے محسوس کیا اس کا قد مسلسل بڑھ رہا ہے اور پھر چند ہی دہائیوں میں دیکھتے دیکھتے اس کا سر آسمان سے جا لگا وہ جب چاہتا آسمان کی دوسری طرف جھانک سکتا تھا لیکن ڈرتا تھا۔۔۔۔۔ ڈرتا کس سے تھا یہ اسے خود بھی نہیں پتا تھا اس کے لحیم شحیم جُثے کے ساتھ پیوند کاری کے ذریعے ایک جہان منسلک کیا جا چکا تھا جن سے اسے ایسی خدائی طاقتیں ملی تھیں کہ وہ خود بھی خود کو خدا سمجھنے لگا تھا اور سمجھتا بھی کیوں نہ فلک اس کے سامنے خاک تھے وقت اس کی مٹھی میں قید تھا فاصلے اس کے قدموں میں ڈھیر تھے اور موسم اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے تھے اس نے دھیرے دھیرے کائنات الٹ پلٹ کرنا شروع کی اور یہ بھول گیا کہ اس کا اپنا بھی کوئی خالق ہے اس نے اپنی بڑھتی ہوئی سر کشی کو خدائی جانا اورخوف کی چھاتی کو چیر کر ایک دن آسمان کی دوسری طرف جھانکنے کے لیے سر اٹھایا جیسے ہی اس نے آسمان کی دوسری طرف جھانکا کائنات میں ایک ارتعاش پیدا ہوا اور اس کے پورے وجود میں دراڑیں پڑنے لگیں دیکھتے ہی دیکھتے اس کا جسم خلاء میں تیرنے لگا اس نے اپنا سر آسمان سے باہر کھینچنے کی کوشش کی تو وہ دھڑ سے جدا ہو گیا کہنے والے کہتے ہیں کے اب بھی اس کا سر کٹا جسم خلاء میں تیر رہا ہے کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ دنیا اس کا کٹا ہوا سر ہے اور کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ سر بہت جلد اپنے دھڑ سے دوبارہ ملنے والا ہے اور پھر”دوبارہ” دنیا آسمان کی دوسری طرف جھانکنے کے قابل ہو جائے گی۔
Categories
فکشن

دکانداری اور دوسری کہانیاں

دکانداری

 

اس ملک میں ہڑتال کرا دینا معمولی سی بات تھی۔ چھوٹی چھوٹی بات پرہڑتال کرا دی جاتی تھی۔ ہڑتال کے دوران دکانیں جبراً بندکرائی جاتی تھیں اور اخباروں میں شائع کرایاجاتاتھاکہ ہڑتال دکانداروں کی رضامندی سے ہوئی۔ ملک میں کبھی حکمران جماعت کی طرف سے تو کبھی حزبِ اختلاف کی طرف سے ہڑتال کرائی جاتی تھی۔ ایسی ہی ایک ہڑتال کے دوران دکانیں زبردستی بندکرانے کے لیے آنے والے سیاسی کارکن سے ایک دکاندار اور وہیں کھڑے ہوئے کچھ مزدوروں نے پوچھا ”بھلا ہڑتال سے کیاحاصل ہوتا ہے۔ سوائے نقصان کے؟“ اس پر اس کارکن نے ٹیڑھی مسکراہٹ کے ساتھ کہا ”ہڑتال کے دوران ہماری دکانیں کھل جاتی ہیں۔“
“اب کیاکریں اپنی اپنی دکانداری ہے بھائی”۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

عابد

 

“اپنے باس کتنے شریف ہے نا؟ ہمیشہ بیٹابیٹاکہہ کر بات کرتے ہیں۔ بالکل ہی عابد رجحان کے ہیں۔“نوکری میں نئی نئی لگی ایک لڑکی نے اپنے ہی دفتر میں ساتھ میں کام کرنے والی ادھیڑعمر کی عورت سے کہا۔
“ارے تمہیں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔یہ بڑھؤ ایک نمبرکا ٹھرکی رہاہے۔ اپنی کھوئی ہوئی طاقت اور جوانی واپس پانے کے لیے اس نے کچھ دوائیاں لیں جن کے ری ایکشن سے یہ نامرد ہوگیا۔ تبھی سے یہ سبھی عورتوں کو بیٹابیٹا کہتا ہے۔ ارے اس پر تو چھیڑچھاڑکے کئی مقدمے درج ہیں۔ اس عورت نے عابد کی اصلیت سے اسے واقف کرایا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

غیرمحفوظ

 

“کیوں میاں، کافروں کے ساتھ گنیش کے چندے کی رسیدیں کاٹتے گھوم رہے ہو۔ کیاتمہیں معلوم نہیں کہ اسلام میں بت پرستی کی مناہی ہے؟”
“جناب، میں تواس پر صرف اتناہی کہوں گا کہ جان ہے توجہان ہے۔”

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

تماشائی
تیزقدموں سے آفس جاتے ہوئے میرے قدم ایک جگہ لگی بھیڑ کودیکھ کر رک گئے۔ میں نے دیکھا کہ دوآدمی ایک دوسرے کاکالر پکڑے آپس میں گالی گلوچ کرتے ہوئے لڑرہے تھے۔
اور لوگوں کی طرح میں بھی رک کر انہیں دیکھنے لگا، اور ان کے بیچ جھگڑابڑھنے کاانتظار کرنے لگا۔ تھوڑی دیربعد مجھے لگنے لگاکہ یقینی طور پر دونوں میں سے کوئی ایک چاقو نکالے گا، یا ہو سکتا ہے پستول ہی نکال لیں۔ اگر ایسے حالات بنے تومیں کیاکروں گا۔ کیاان میں صلح کرانے کی کوشش کروں گا، یاتیزی سے بھاگ لوں گا۔ میں یہ سب سوچ ہی رہاتھاکہ دونوں نے ایک دوسرے کا کالر چھوڑ دیا اور ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہوئے اپنے اپنے راستے چلے گئے۔ تماش بینوں کی بھیڑبھی چھٹ گئی۔ میں بھی بڑبڑاتے ہوئے نکلا: “سالے ہجڑوں کولڑنے کابھی شعورنہیں ہے۔ پھوکٹ میں ٹائم برباد کردیاجبکہ مجھے آج آفس جلدی پہنچنا تھا”۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

بازار

 

“ابھی توبازارمیں ٹماٹر اتنے سستے ہیں کہ ایک روپے کلو، یاروپے میں دوکلو تک مل رہے ہیں اور تم یہ سو گرام ٹماٹر سوپ کے پاؤچ کاپیکٹ52روپے میں خرید لائے ہو۔ بیوقوف کہیں کے”
“اس میں بیوقوفی والی کیابات ہے؟ ہم اسے تب پئیں گے جب بازارمیں ٹماٹر کی قیمتیں آسمان چھونے لگے گی۔”