<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اردو ادب Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88-%D8%A7%D8%AF%D8%A8/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/اردو-ادب/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Sat, 01 Jun 2024 03:51:00 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>اردو ادب Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/اردو-ادب/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>آوازوں والا کردار (آخری حصہ) — تالیف حیدر</title>
		<link>https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-6/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-6/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[تالیف حیدر]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 25 Apr 2020 09:19:23 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Taleef Haider]]></category>
		<category><![CDATA[آوازوں والا کردار]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[تالیف حیدر]]></category>
		<category><![CDATA[طویل کہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25007</guid>

					<description><![CDATA[<p>جنگی صورت حال کے بعد وردی والوں نے شہر میں سخت ناکہ بندی کر دی تھی۔ کوئی شہر کےایک حصے سے دوسرے حصے میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ </p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-6/">آوازوں والا کردار (آخری حصہ) — تالیف حیدر</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><strong>اس طویل کہانی کی <a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/awazon-wala-kirdar/">مزید اقساط</a> پڑھنے کے لیے کلک کریں۔ </strong></p>
<p>اس کے پڑوسیوں نے اسے بتایا تھا کہ زمین کی تعمیر سات روز میں ہوئی تھی۔ جب زمین بنی تو اس کے پڑوسی وہاں تھے اور وہ بھی تھا۔ ہوا یہ تھا کہ جب زمین کا نام و نشان نہ تھا تو انسان اور دیو خلا میں رہا کرتے تھے، انسان اور دیو ایک دوسرے کے رشتے دار تھے، یہاں کی عورتیں وہاں اور وہاں کی عورتیں یہاں بیاہی جاتیں، دیو نیوں کے بچوں کو انسانی عورتیں دودھ پلاتیں اور پالتیں۔ انسانوں کے بچوں کو دیو خلا کی سیر کراتے۔ سب خوش حالی سے ساتھ میں رہتے تھے، پھر ایک روز دیو زاد مردوں نے دیکھا کے ان کے بچے غائب ہو رہے ہیں، پہلے ایک غائب ہوا پھر دوسرا ہوا پھر تیسرا ہوا۔ انہوں نے خلا میں دور دور تک انہیں ڈھونڈا مگر وہ کہیں نہ ملے۔ انہوں نے انسانوں سے اس بات کا تذکرہ کیا تو وہ بھی پریشان ہو گئے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا اور اپنے بچوں کی حفاظت مستعدی سے کرنے لگے۔</p>
<p>کچھ دنوں بعد جب یہ سلسلہ بہت بڑھ گیا تو دیو زادوں کے بڑے بڑے سرداروں نے انسانوں سے چند انسانی سراغ رساں خلا کے مغرب میں جہاں سورج کی حکومت تھی اور جہاں دیو زاد جاتے ہوئے گھبراتے تھے کیوں کہ انہیں روشنی سے بیر تھا بھیجنے کی خواہش ظاہر کی۔ انسانوں نے ادھر کا سفر کبھی نہیں کیا تھا، مگر دیو زادوں کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے حامی بھر لی۔ چند انسانی سراغ رساں چھ ماہ کی مسافت طے کر کے جب سورج کی بستی میں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں ایک بہت بڑا روشن آگ کا گولا ہے جس کے ارد گرد بے شمار سونے،چاندی، ہیرے، موتی کے پہاڑ ہیں جو خلا میں تیر رہے ہیں۔</p>
<p>جب وہ ذرا نزدیک گئے تو انہیں شیطانوں کی بستی نظر آئی۔ جہاں لاکھوں شیطان اور ان کی بیویاں اور بچے خلا میں سورج کی تپش میں دیو زاد بچوں کی لاشیں پکا رہے ہیں اور مزے لے لے کر کھا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ منظر دیکھا تو بہت حیران ہوئے۔ ابھی وہ یہ منظر دیکھ ہی رہے تھے کہ ایک شیطان کی ان پہ نگاہ پڑ گئی۔ وہ دوڑے مگر شیطانوں نے انہیں جا لیا۔ فوراً انہیں قید کر کے شیطانوں کے سردار کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس نے انسانوں کو دیکھا تو بہت خوش ہوا۔ ان کی بیڑیاں کھلوائیں اور ان کی تعظیم میں جھک گیا۔ انسان یہ منظر دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔ اس نے ان سراغ رساں انسانوں کی دعوت کی جس میں خلائی میوے، پھل، سبزیاں اور دیوزاد بچوں کا پکا ہوا گوشت ان کے سامنے سجا دیا۔ انہوں نے سارے کھانے قبول کر لیے اور بچوں کا گوشت لینے سے انکار کر دیا۔ تب شیطان کے سردار نے ان سے کہا کہ کیا تم دیوزاد بچوں کی خاطر یہاں آئے ہو۔ انہوں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ سردار بولا۔ تمہیں دیو زاد کیا دیتے ہیں جو تم ان کے دوست ہو اور اس خبر کوحاصل کرنے یہاں تک آ گئے ہو۔ انہوں نے بتایا کہ دیو زاد اور ہم ہزاروں سال سے ساتھ رہ رہے ہیں۔ ان کے بچے ہمارے بچے ہیں۔ تمہیں ان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کر نا چاہیے۔ اس پر شیطانوں کے سردار نے ان سے کہا کہ تم کیا جانو کہ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں۔ انسان بولے اپنی بھوک اور مزے کی خاطر۔ شیطان نے کہا ایسا ہرگز نہیں ہے۔ پھر وہ انہیں اپنے ساتھ ایک جگہ لے گیا جہاں سورج کی تپش بھی معتدل تھی اور خلا کی ٹھنڈ بھی۔ اس مقام کو دیکھ کر انسان حیران رہ گئے۔ پھر شیطان کے سرداروں نے ایک دیو زاد کا بچہ منگوایا اور کی گردن دھڑ سے الگ کر دی۔ یہ دیکھ کر انسان کانپ گئے۔ شیطان نے کہا کہ ڈرو نہیں اب جو میں دکھاتا ہوں وہ دیکھو۔ اس نے دیوزاد بچے کا پیٹ پھاڑا اور اس کا معدہ نکال کر سورج کےاس معتدل مقام پر اچھال دیا۔ جو آن واحد میں سوکھ کر اتنا سخت ہو گیا کہ انسان اسے ہلا نہ سکے پھر اس کے بیچ سے ایک ترل بہہ کر اس کے چاروں طرف پھیل گیا۔</p>
<p>شیطان کے سردار نے ایک اور بچہ منگوایا اور اس کابھی سر ڈھر سے الگ کر دیا اور اس کا پیٹ پھاڑ کے جوں ہی اس کا معدہ نکال کر اس معتدل مقام پر اچھالا تو انسان یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہ معدہ دوسرے معدے سے چپک گیا اور اسی طرح ٹھوس ہو گیااور پھر اس میں سے بھی ویسا ہی ترل بہہ کر اس کے چاروں طرف پھیل گیا۔ تب شیطان کے سرداروں نے کہا کہ اسے پتھر اور پانی کہتے ہیں جو صرف پوری کائنات میں دیوزاد کے پیٹ میں پایا جاتا ہے۔ اگر ہم کسی طرح تمام دیو زادوں کے پیٹ پھاڑ کر ان کے معدے اس معتدل مقام پر اچھال دیں تو ہمیں کبھی خلا کی ٹھنڈ میں نہیں رہنا پڑے گا۔ انہوں نے انسانوں سے کہا کہ دیو بہت طاقت ور ہیں اگر وہ کسی طرح انہیں یہاں تک لے آئیں اور شیطانوں کے ساتھ مل کر ان کا قتل کر دیں تو وہ اور شیطان ہمیشہ خوشی سے زمین کے مالک بن کر رہیں گے۔</p>
<p>انسانوں کے سراغ رساں اس پر فوراًراضی ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے سرداروں کو بھی اس پہ راضی کر لیں گے۔ پھر شیطانوں نے انسانوں کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ بنایا اور انسان وہاں سے روانہ ہو گئے۔ ایک رات جب تمام دیو زاد گہری نیند سو رہے تھے اور انسانی سراغ رسانوں نے انسانوں کے بڑے بڑے سرداوں کو بلا کر اس معتدل مقام، زمین اور پانی کے متعلق بتایا تو سارے سردار خوشی سے جھوم اٹھے پھر شیطانوں کا منصوبہ بتایا جس پہ عمل کرنے کے لیے انہیں دیو زادوں سے یہ کہنا تھا کہ ان کے بچے کس طرح کی پریشانیوں کا شکار ہو رہے ہیں اور انہیں یہ یقین دلانا تھا کہ وہ روشنی کی طرف چلیں جہاں ان کے بچے بھی ہیں۔ بنا ڈرے وہ اور انسان مل کر شیطانوں کا مقابلہ کریں گے اور انہیں ختم کر کے ان کے بچوں کو چھڑا لائیں گے۔سارے سرداروں نے ایسا ہی کرنے کی قسم کھائی۔ پھر دوسرے روز تمام انسانوں تک یہ خبر پہنچا دی گئی۔ دیو زادوں کو صورت حال سے آگاہ کیا گیا اور انہیں غیرت دلائی گئی کہ وہ اپنے بچوں کی خاطر وہاں چلیں اور انسان ان کے کندھے سے کندھا ملا کر چلیں گے۔ جب دیو زاد اور ان کی عورتیں سب اس پہ راضی ہو گئے تو انسانوں اور دیو زادوں کا ایک لشکر روشن نگری تک پہنچا۔</p>
<p>دیو زادوں کی مدد سے چھ ماہ کا راستہ دو دن میں طے ہو گیا۔ مگر جوں ہی وہ شیطانوں کی بستی تک پہنچے تمام انسانوں نے دیو زادوں سے بغاوت کر دی اور شیطانوں سے جا ملے۔ دیو زاد یہ صورت حال دیکھ کر بوکھلا گئے۔ انہوں نے انسانوں کے اور اپنے تعلقات کے ہزاروں برسوں کے واسطے دیے، رو ئے گڑ گڑائے مگر انسانوں نے ان کی ایک نہ سنی اور شیطانوں کے ساتھ مل کر ان کے سر دھڑ سے الگ کر کے ان کے پیٹ چا ک کیے اور ان کے معدے نکال کر اس معتدل مقام پر اڑا دیے۔ یہ قتل و غارت گری چھے روز تک چلتی رہی اور پھر ساتویں روز جب سارے دیو ختم ہو گئے تو خلا کا وہ معتدل مقام ایک شاندار زمین سے سج گیا۔</p>
<p>سارے انسان اور شیطان یہ منظر دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور باری باری زمین پر آنے لگے۔ جوں ہی ایک انسان یا شیطان زمین پہ قدم رکھتا تو ایک دھماکے کی آواز خلا میں بلند ہوتی جو دیو زاد کی چیخوں کی طرح ہوتی۔ دھیرے دھیرے انسان اور شیطان زمین تک پہنچتے رہے اور یہ چیخیں خلا میں گونجتی رہیں۔ پھر اچانک ان چیخوں نے ایک ساتھ اٹھنا شروع کر دیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ساری خلا چیخوں سے پھٹ جائے گی۔ آواز کی شدت جب بہت بڑھ گئی تو اس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔ اس کے ماتھے پہ پسینے کی بوندیں ابھر آئی تھیں۔ کچھ دیر کے لیے ان چیخوں کی آوازیں کم ہوئی اور پھر دوبارہ بڑھتی چلی گئیں۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے دیو زادوں کی چیخوں سے اس کا دماغ پھٹ جائے گا۔<br>
(13)<br>
بڑی مذہبی طاقت والوں کا جلوس پیتل منڈی سے نکلناشروع ہوا،ہزاروں کی تعداد میں لوگ ہاتھوں میں جھنڈے اور اپنا مذہبی ہتھیار لیے لال چوک کی طرف بڑھ رہے تھے۔ نعرے لگاتے، چیختے چلاتے۔ اپنے دشموں کو للکارتے۔ آج ان پہ ایسا جنون طاری تھا کہ اگر وردی والے بھی انہیں روکنے کی کوشش کرتے تو وہ انہیں بھی ختم کر دیتے۔ ان کا نشانہ دو سری مذہبی طاقت تھی، وہ اپنے نعروں میں انہیں گالیاں دیتے، ڈرپوک اور بزدل کہتے ہوئےآگے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اس جلوس میں ہر عمر کی مرد اور عورتیں شامل تھیں۔ عورتوں کے نعروں کی آواز سے محسوس ہوتا تھا جیسے وہ اپنی مد مقابل پارٹی والوں کا کلیجہ نوچ لیں گی۔ آج ان کا کوئی باپ،بھائی اور شوہر نہ تھا۔ سب ایک شدید غصے کی لہر میں شہر سے چھوٹی مذہبی طاقت کو ختم کر دینا چاہتے تھے۔</p>
<p>جلوس جوں جوں آگے بڑھتا گلیوں، کوچوں اور بازاروں سے لوگ اپنے مذہبی ہتھیاروں سمیت ا س میں شامل ہو تےجاتے۔ وردی والے اس جلوس کے آگے پیچھے بندوقیں لیے چل رہے تھے۔ نعرے بازوں کی آواز جلوس میں موجود لوگوں میں جوش پیدا کر رہی تھی۔وہ آگے، پیچھے اور درمیان میں بکھرے ہوئے تھے۔ پہلے آگے والا نعرہ لگاتا، پھر اس کے پیچھے والا اور پھر سب سے پیچھے والا۔ ابھی یہ جلوس شہر کی گلیوں سے گزر ہی رہا تھا کہ چھوٹی طاقت والوں نے دھیر ےدھیرے جنوبی علاقے میں ایک جگہ جمع ہونا شروع کر دیا۔ وردی والوں کو اس بات کا علم نہ تھا کہ چھوٹی طاقت والے اس جلوس کے دن شہر کے ہر حصے میں جمع ہو کر ایک جگہ آ کر ملیں گے۔ ان کا بھی رخ لال چوک کی طرف تھا۔ شہر کی چاروں سمتوں میں ایک اوربھیڑ اکھٹا ہونے لگی۔ وردی والوں نے جب مختلف علاقوں میں چھوٹی طاقت والوں کو اکھٹا ہوتے دیکھا تو دھیرے دھیرے پیچھے کی طرف کھسکنے لگے۔کیوں کہ چھوٹی طاقتیں ہاتھوں میں اپنے مذہبی جھنڈوں اور ہتھیاروں کے علاوہ بندوقیں بھی لیے ہوئے تھے۔ وردی والے وائر لیس پہ ہر علاقے کے ذمہ داروں کو اطلاع دیتے اور لال چوک کی طرف بڑھتے چلے جاتے۔</p>
<p>چھوٹی مذہبی طاقتیں جنوبی اور مغربی علاقوں سے نکل کردائرہ شاہراہ پہ مل گئیں۔ دونوں جماعتوں نے جب دیکھا کہ اتنی تعداد میں لوگ اسلحہ کے ساتھ ہیں تو ان کے حوصلے بلند ہو گئے۔ اب وہ بھی بڑی مذہبی طاقت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ دوسری جانب یہ بڑی طاقتوں کا جلوس بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ انہیں جلد ہی یہ خبر مل گئی کہ چھوٹی طاقتیں بھی لال چوک کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ یہ خبر سنے ہی وہ اس طرح آگ بگولا ہوئے جیسے ایک آٹھ برس کے بچے نے کسی پہلوان کو گالی دے کرللکار دیا ہو۔ ان کا مجمع تیزی سے آگے کی طرف بڑھ نے لگا۔ وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے اور وردی والے کہیں دور دور تک نظر نہیں آ رہے تھے، جیسے آج انہوں نے شہر کو اپنے حال پہ چھوڑ دیا ہو۔ بڑی مذہبی طاقتوں کا جلوس جب لال چوک سے ایک میل کے فاصلے پہ پہنچ گیا تو تمام وردی والے انہیں لال چوک پہ اکھٹا نظر آئے۔ وہ مائک ہاتھوں میں سنبھالے عوام سے چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے۔</p>
<p>” آپ لال چوک تک پہنچ گئے ہیں اس کے آگے مزدوروں کی جماعت کا علاقہ شروع ہوتا ہے، آپ یہاں سے لوٹ جائیں۔”</p>
<p>مگر بڑی مذہبی طاقتیں ٹس سے مس نہ ہوئیں اور مستقل آگے بڑھتی رہیں۔ دوسری جانب چھوٹی مذہبی طاقتوں کا جھنڈ بھی وہاں پہنچ گیا تھا۔ وہ شہر کی دوسری طرف سے آئے تھےاس لیے بڑی مذہبی طاقتیں اور مزدوروں کا جھنڈ ان کے بالکل سامنے تھا جن کے درمیان وردی والے گھڑے تھے۔ انہوں نے چھوٹی مذہبی طاقتوں کی طرف رخ کر کے بھی وہی اعلان کیا۔ مگر ان کے بھی سر پہ جیسے جنون سوار تھا۔ دونوں گروہ نعرے بازیوں کے ساتھ آگے بڑھتے رہے اور مزدور اس طرح کسمسا کر وردی والوں کے پیچھے دبک رہے تھے جیسے دونوں طاقتیں انہیں پیس کے رکھ دیں گے۔ ایسا لگتا تھا جیسے سارا شہر سڑکوں پہ اتر آیا ہے۔</p>
<p>وردی والوں نے حالات کو سنبھالنے کے لیے ایک آخری وارننگ دی کہ اگر اب کوئی آگے آیا تو وہ گولی چلا دیں گے۔ انہوں نے اتنا کہا ہی تھا کہ چھوٹی مذہبی طاقت والوں میں سے کسی نے ان پہ گولی داغ دی۔ وردی والے بلڈ پروف جیکٹ میں تھے، ہاتھوں میں ڈھالیں اور سر وں پہ ہیلمٹ پہنے۔وہ گولی کسی وردی والے کو لگی تو نہیں مگر اس حرکت نے ہر طرف ایک ہلچل مچا دی۔ وردی والوں نے بھی چھوٹی مذہبی طاقتوں پہ فائرنگ شروع کر دی۔ کئی لوگوں کی فلک شگاف چیخیں اٹھیں اور وہ وہیں ڈھیر ہو گئے۔ چاروں طرف بھگدڑ مچ گئی۔ چھوٹی مذہبی طاقت والوں میں جن کے پاس بندوقیں تھیں وہ وردی والوں پہ گولیاں برسا رہے تھے اور بقیہ ادھر ادھر دوڑ رہے تھے۔</p>
<p>بڑی مذہبی طاقت والوں میں سے بہت سے لوگ چیخ چیخ کر اپنے لوگوں کو آگاہ کر رہے تھے کہ چھوٹی مذہبی طاقت والوں کے پاس بندوقیں ہیں۔ وہ اپنے ہتھیار لے کر آگے بڑھ رہے تھے، جب بعض وردی والوں نے انہیں آگے کی طرف بڑھتے دیکھا تو فائرنگ کا رخ ان کی طرف بھی مڑ گیا۔ کچھ لوگ رخمی ہوئے اور کئی سو وردی والوں پہ ٹوٹ پڑے، اس ریلے نے کئی وردی والوں کی بندوقیں چھینیں اور ان پہ گولی چلا دی۔ ان کی آنکھوں سے شعلے برس رہے تھے۔ جب وردی والوں نے یہ ہنگامہ مزید بڑھتے دیکھا تو چاروں جانب سے گیس کے گولے برسانا شروع کر دیے۔ وہ بڑی مذہبی طاقتوں اور چھوٹی مذہبی طاقتوں کے درمیان کھڑے تھے مگر دونوں طاقتیں ا س کوشش میں تھیں کہ کسی طرح وہ ان دونوں کے اور مزدوروں کے منہ پر سے ہٹ جائیں۔ آنسو گیس کے گولے۔ پانی کے ٹینکر اور بندوقیں، مشین گنیں، یہ سب آزمایا گیا۔ جگہ جگہ لوگوں کی لاشیں پڑی تھیں۔ مگر دونوں جانب مرنے مارنے کا جنون سوار تھا۔ وہ کسی طرح ایک دوسرے میں گتھ جانا چاہتے تھے۔ ایسے جیسے کبھی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر نہ رہے ہوں۔ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے عرصے سےبے انتہا نفرت کرتے رہے ہوں۔ جیسے یہ واقعہ ایک بہانہ ہو جس نے ان دونوں کے اندر کی ساری مروت اور برداشت کو بالکل ختم کر دیا ہو۔ وہ ایک دوسرے سے لڑنا چاہتے تھے۔ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنا چاہتے تھے تاکہ اپنے مذہبی جذبات کو سچا ثابت کر سکیں۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ہی ایک موقع ہے جب وہ شہر کو دوسری گندگی سے صاف کر سکتے ہیں۔ اس وقت جب وہ دونوں ظاقتیں آمنے سامنے ہیں جب شہر ان کے لیے میدان جنگ بن گیا ہے۔</p>
<p>بڑی مذہبی طاقت اب اپنے مقدس جانور کی موت کے غم میں گرفتار نہ تھی، نہ اس کی عقیدت اور محبت اس کے دل میں باقی رہ گئی تھی۔ اس وقت وہ صرف ایک جذبے سے سرشار تھے اور وہ تھا اپنے مد مقابل سے نفرت کا جذبہ۔ اگر انہیں کسی سے عقیدت ہوتی تو وہ لوگوں کے خون کے پیاسے نہ ہوتے، یہ ہی حال چھوٹی مذہبی طاقتوں کا تھا جو اپنے اصلی رنگ پہ اتر آئے تھے۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ ویسے نہیں جیسے ان کے مد مقابل انہیں سمجھتے ہیں وہ ظلم کر کے ظلم کی شناخت کو مٹانے پر کمر بستہ تھے۔ بڑی طاقت والے ان کی جس خونی تاریخ سے نالاں تھے، جس الزام کو وہ یہ کہہ کر ایک عرصے سے ٹال رہے تھے کہ یہ جھوٹی تاریخوں کاپروپگنڈا ہے انہوں نے کبھی اپنے حریفوں پہ ظلم نہیں کیا ان کے گلے نہیں کاٹے۔ اس بات کا یقین دلانے کے لیے آج وہ شہر کے چاروں کونوں سے ایک جگہ جمع ہو کر سب کی گردنیں کاٹ دینا چاہتے تھے۔ ہر وہ شخص جو انہیں ظالم کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا وہ اس کی آنکھیں نوچ کر یہ ثابت کر نا چاہ رہے تھے کہ وہ ظالم نہیں ہیں انہیں ان نظروں سے نہ دیکھا جائے۔</p>
<p>مزدور اور غریب عوام جو نہ اس دل میں شامل تھے اور نہ اس دل میں وہ ان دونوں جماعتوں کے درمیان ان وردی والوں کے سائے میں زندہ تھے جن کے حکام نے ان کی حفاظت کا ڈھونگ رچانے اور دونوں جماعتوں کی نفرت کو ابھارنے کے لیے مقدس جانور کے ٹکڑے کروا کر سارے شہر میں پھیلوائے تھے۔ یہ ہنگامہ اسی طرح اس وقت تک جاری رہا جب تک ہزاروں کی تعداد میں مزید وردی والے لال چوک پہ نہ پہنچ گئے اور انہوں نے دونوں جماعتوں کے لوگوں کو وہاں سے کھدیڑ کر شہر بھر میں کرفیو نہ لگا دیا۔</p>
<p><strong>(14)</strong></p>
<p>آج پورا ایک ہفتہ گزر چکا تھا کہ وہ کار خانے نہیں گیا تھا۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ اب اس علاقے کے تمام کار خانوں کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ مگر وہ ان باتوں پہ دھیان دیے بنا تین دن سے روز ادھر جا رہا تھا اور روز اسے سارے کار خانے بند نظر آتے تھے۔ وہ اس دوران اکتا گیا تھا۔ دن بھر گھر میں پڑا رہتا۔ نہ کہیں جا سکتا تھا اور نہ کوئی ایسا تھا جسے بلا سکتا تھا۔ زیادہ سے زیادہ دوو قت کے کھانے کے علاوہ دن میں تین مرتبہ چائے خانے تک کا چکر لگا لیتا۔ وہ گھر میں دیر دیر تک بیٹھا سگر ٹوں کا دھواں اڑاتا رہتا اور کبھی اس لڑکی کے متعلق سوچتا جو حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ پہ نظر آئی تھی اور کبھی ان لڑکیوں کے بارے میں جنہیں وہ ان دنوں گھور گھور کے دیکھا کرتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ پہ جا کر روز شام کو وہاں کے چکر لگائے۔ مگر شہر ابھی تک معمول پہ نہ آیا تھا۔</p>
<p>جنگی صورت حال کے بعد وردی والوں نے شہر میں سخت ناکہ بندی کر دی تھی۔ کوئی شہر کےایک حصے سے دوسرے حصے میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ شہر کا سارا نظام ٹھپ پڑا تھا۔ ایک ہفتے سے نہ کوئی حکومتی ادارہ کھلا تھا اور نہ کوئی پرائیوٹ کمپنی۔ وردی والوں کے بڑے حکام شہر کے دونوں گروہوں کے سیاسی لیڈوں سے میٹنگیں کر رہے تھے اور شہر کے حالات کو معمول پہ لانے میں کوشاں تھے۔ لال چوک پہ اب تک خون کے دھبے جگہ جگہ چمک رہے تھے۔ مزدوروں کو شہر سے متصل شاہراہ کے کنارے ایک زمین کا ٹکڑا دے دیا گیا تھا، جہاں حکومت نے انہیں جھونپڑے بنانے کا ساز و سامان مہیاکر وا کے انہیں ان کی ذمہ داری پہ چھوڑ دیا تھا کہ وہ خود اپنے معاشی معاملات سنبھالیں۔ سیاسی لیڈروں کے بیانات لگاتار عوام کے غصے کو کم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جس کے لیے دونوں جماعتوں کے لیڈر کبھی ایک دوسرے سے گلے ملتے اور ایک دوسرے کو پھولوں کی مالا پہناتے ہوئے تصویریں جاری کرتے۔ کبھی ایک دوسرے کو کچھ میٹھا اور نمکین کھلاتے ہوئے۔ شہر والوں کا غصہ بھی اب دھیرے دھیرے کم ہو رہا تھا اور ان کو اپنے نقصان کا احساس ہو چلا تھا جو انہیں فساد کے حاصل کے طور پر مل رہا تھا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-6/">آوازوں والا کردار (آخری حصہ) — تالیف حیدر</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-6/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آوازوں والا کردار (پانچواں حصہ) — تالیف حیدر</title>
		<link>https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-5/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-5/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[تالیف حیدر]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 20 Apr 2020 14:36:20 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Taleef Haider]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[تالیف حیدر]]></category>
		<category><![CDATA[طویل کہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25000</guid>

					<description><![CDATA[<p>تالیف حیدر:  میں اس شہر میں پچپن برس سے رہ رہا ہوں اور اب سوچتا ہوں کہ بڑھاپے میں ایک فٹ پاتھ پہ لیٹ کر مروں گا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-5/">آوازوں والا کردار (پانچواں حصہ) — تالیف حیدر</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><strong>اس طویل کہانی کی <a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/awazon-wala-kirdar/">مزید اقساط</a> پڑھنے کے لیے کلک کریں۔ </strong></p>
<p>شہر کے اس علاقے کو وردی والوں کے آقاوں نے ایک عرصے سے اپنے منصوبوں کی ابتدا کہ لیے چن رکھا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہاں سے شروعات کرنا سب سے آ سان ہوگا۔ اس شہر میں دو بڑی طاقتوں کو ایک دوسرے سے لڑوانے کے لیے انہوں نے جنوبی علاقے میں فساد کا ماحول پیدا کر دیا۔ وہ لوگ جو ٹیلے کی بستی میں رہتے تھے ان کے گھروں کو جلا کر وردی والوں نے ان کے دلوں میں ایسی آگ لگا دی تھی جس کا بجھنا اب ممکن نہ تھا۔ اس ہنگامے کے بعد ٹیلے کی طرف کر فیو لگ گیا۔ مگر بستی سے بھاگے ہوئے لوگ جنوبی علاقے کے مختلف گھروں کے سامنے آ بیٹھے۔ وہاں سیاسی لیڈروں نے یہ افراتفری دیکھی۔ تو ہنگامہ مچانا شروع کر دیا۔ وہ اس بات پر شہر کے انتظامیہ سے ناراض سے تھے کہ انہیں کسی قسم کی اطلاع دیئے بغیر اتنا بڑا قدم کیوں اٹھایا گیا۔ وہ وردی والوں کے خلاف کچھ نہیں کہہ سکتے تھے اس لیے اپنی انتظامیہ کو گالیاں دے رہے تھے۔</p>
<p>شہر کے جنوبی حصے میں جگہ جگہ جلوس نکلنے لگے۔ لوگ اپنے اپنے سیاسی دلوں کی بیٹھک بلاتے۔ ان کے ساتھ میٹنگ کر کے بکھری اور بد حال عوام کو اپنے دل میں شامل کرنے کی کوششیں کرتے۔ نعرے لگاتے اور پر زور تقریریں کرتے۔ کچھ مقررین انتظامیہ سے مانگ کر رہے تھے کہ بے گھروں کو چھت دی جائے اور مصبت زدہ بیمار اور زخمیوں کا مفت علاج کیا جائے۔ ایک مقرر نے اپنی تقریر کے دوران اپنی مد مقابل طاقت کے لیڈوں کو گالی دیتے ہوئے انہیں وردی والوں کا دلال کہا شہر کی جنوبی حالت کا ذمہ دار انہیں بتایا تو ہنگامے نے مزید آگ پکڑ لی۔ اب دوسری طاقت ور پارٹیاں اپنا زور دکھانے کے لیے پہلی کو اس کا ذمہ دار بتا رہی تھیں۔ جس کی معقول وجہ انہوں نے مذہبی بنیاد کو بنایا۔ سب جانتے تھے کہ ٹیلے کے قریب جس مذہب کے ماننے والے آباد تھے شہر کا زیادہ تر حصہ انہیں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا تھا۔ اولاً تووہ شہر کی اقلیت تھی اور دوسری وجہ ان کی مذہبی تاریخ تھی جس نے دیگر مذہبی عقائد کے ماننے والوں کے ساتھ کئی سو سال تک ظالمانہ سلوک روا رکھا تھا۔</p>
<p>مقررین کی تقریریں روز صورت حال کو ایک نیا رنگ دیتی تھیں اور بد حال بے گھر مزدور شہر کی سڑکوں پہ زندگی بسر کر رہے تھے۔ وہ سیاست داں جو عوام کے غم کو سمجھنے کی بات کر تے تھے ان کے گھروں میں ایک کمرہ بھی ان بے گھروں کے لیے نہ نکلا تھا۔ انتظامیہ سے کچھ لوگ آئے تھے جنہوں نے صورت حال کا جائزہ لے کر جلد ہی سب کچھ ٹھیک ہو جانے کا یقین دلایا تھا۔ بے گھر عوام انہیں امید کی نگاہ سے دیکھتی، مگر وہ دن پہ دن بڑھائے جاتے۔ وردی والوں نے ایک ماہ کے بعد وہ علاقہ خالی کر دیا مگر ایک بورڈ وہاں چسپاں ہو چکا تھا۔ جس میں یہ اپیل کی گئی تھی کہ یہاں سے لنک روڈ سے الفسٹن روڈ تک جانے کی سیدھی شاہراہ بنے گی۔یہ رہائشی علاقہ نہیں ہے، اگر یہاں کسی نے رہائشی مکانات بنائے تو انتظامیہ اس کے خلاف سخت قدم اٹھائے گا۔ مزدور عوام نے اپنے جتنے ساتھیوں کو اس ہنگامے میں کھویا تھا اس کے بعد یوں بھی ان کی ہمت نہ تھی کہ ٹیلے کی طرف دوبارہ مڑ کر دیکھتے۔</p>
<p>ان میں سے زیادہ تر لوگ جنوبی علاقوں کے کار خانے میں مزدور تھے جہاں وہ بھ کام کیا کرتا تھا۔ اسے ٹیلے کے حشر پہ افسوس ہوا تھا، مگر اس سے زیادہ افسوس اس بات پہ تھا کہ مزدور بے گھر ہیں اور حکومت ان کے لیے گھروں کا انتظام نہیں کر رہی ہے۔ اس نے سوچا کہ ٹیلے پہ جو شاہراہ بنے گی کیا وہ ان ہزاروں لوگوں کی زندگی سے زیادہ قیمتی ہے۔ یہ لوگ جو دن بھر مزدوری کرتے ہیں اور شام کو کار خانوں سے نکل کر شہر کی فٹ پاتھوں پہ بکھر جاتے ہیں۔ ان دنوں کئی سیاسی مقررین کی تقریروں نے اس کی ڈھارس بندھوائی تھی۔ مگر آخر آخر وہی ڈھاک کے تین پات۔ نہ انہیں کوئی گھر ملتا اور نہ انتظامیہ کی طرف سے کچھ امداد آتی۔ مزدوروں نے اپنا جو یونین قائم کیا تھا اس کی میٹنگیں روز شام کو لال چوک کے پرانے کنویں والی عمارت میں ہوا کرتی۔ جہاں کار خانے کے تمام مزدور بھی جمع ہوتے تھے۔ وہ بھی گزشتہ تین روز سے ان میٹنگوں میں حصہ لے رہا تھا۔ یہاں نوجوان مزدور لیڈروں کی باتیں سن کر اور ان کا دکھ جان کر اس کا دل بھر آتا۔ وہ سوچتا کہ وہ جتنے لوگوں کو اپنے گھر لے جا سکتا ہے لے جائے۔ مگر پھر اسے اپنے گھر کی تنگی یاد آتی تو اس خیال پہ عمل نہ کر پاتا۔ آج اس میٹنگ میں اس کا چوتھا دن تھا۔ وہ نوجوان لیڈر جو کل تقریر کر رہا تھا آج خاموش ایک کونے میں کھڑا تھا اور اس کی جگہ ایک ادھیڑ عمر شخص مزدوروں سے مخاطب تھا۔</p>
<p>“یہ ہمارا غم نہیں سمجھ سکتے، اگر کبھی ان کا اپنا کوئی جلا یا مرا ہوتا۔ ان کا اپنا گھر توڑا یا ڈھایا گیا ہوتا تب یہ جانتے کہ ہم پہ کیا گزر رہی ہے۔ ہم نے انتظامیہ سے کھانے پینے کو نہیں مانگا۔ ان کے آگے ہاتھ پھیلا کے روپیہ یا دولت نہیں مانگی۔ ہم ایک جگہ اپنا سر چھپانے کے لیے زمین کا مختصر ٹکڑا مانگ رہے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ شہر میں زمین کی کمی ہے۔ جن زمینوں پہ ان انتظامہ کے دلالوں کی کوٹھیاں بنی ہوئی ہیں، ان کے لیے زمین کی کمی نہیں۔ ان کے رہنے، سونے، کھانے اور لوگوں سے ملنے، کھیلنے کودنے اور نہانے دھونے کے الگ الگ کمرے ہیں۔ ان کی حویلیوں میں جانوروں کے لیے اتنی زمین محفوظ کی جاتی ہے جس میں ہم جیسے لوگوں کے دس گھر بن جائیں گے۔ پھر ان وردی والوں کے رہنے کے لیے حکومت نے جو عالی شان کمرے تعمیر کیے ہیں، کیا یہ ہمارے اپنے ہیں۔</p>
<p>میں اس شہر میں پچپن برس سے رہ رہا ہوں اور اب سوچتا ہوں کہ بڑھاپے میں ایک فٹ پاتھ پہ لیٹ کر مروں گا۔ مجھے اس کا غم نہیں، مگر ہمارے بچے اور نوجوان لڑکے جنہوں نے ابھی اپنی زندگی کی شروعات کی ہے کیا وہ اسی طرح سڑکوں پہ زندگی گزاریں گے۔ ہم انتظامیہ سے روز ملنے کی کوشش کر تے ہیں، مگر انتظامیہ کے ذمہ دار ہمیں وقت نہیں دیتے۔ ہم پہ کیے جانے والے ظلم کو وہ انصاف سمجھتے ہیں کہ شہر سے نشے کی کالا بازاری ختم ہو گئی۔ کیا انتظامیہ اس بات کے لیے ذمہ دار نہیں کہ ہمیں پڑھنے اور بڑھنے کے مواقع نہیں ملتے۔ ہمارے بچوں کو ترقی کرنے کا راستہ ہی نظر نہیں آتا۔ہم نشے میں دھت ہیں تو وہ بھی نشے میں دھت ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ہم اپنے غموں کو بھلانے کے لیے نشہ کرتے ہیں اور یہ اپنی خوشیاں منانے کے لیے۔ بھائیوں! یہ ایک بڑا ظلم میں ہمارے ساتھ اور ہم جب تک اس کا احساس انتظامیہ کو نہیں دلاتے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہمارے کچھ نوجوان شہر کی ایک بڑی مذہبی طاقت کے خلاف غصے سے بھرے بیٹھے ہیں۔ میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جوش میں کوئی غلط قدم نہ اٹھائیں۔ ہم جانتے ہیں کہ نوجوانوں کا غصہ ٹھیک ہے، مگر سوجھ بوجھ سے کام لے کر ہم ایک ہو کر اس انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف لڑیں گے۔ جو سیاسی لیڈر ہماری طرف داریاں کرتے ہیں ہم نے ان کے حوصلے دیکھ لیے ہیں۔ اس سے کچھ نہیں ہوگا۔وہ ہمیں مذہبی بنیادوں پہ بانٹتے ہیں اور ہمارے نوجوانوں کو بھڑکاتے ہیں کہ وہ کوئی ایسا قدم اٹھائیں جس سے ہم اور ذلیل ہو ں اور انہیں چمکنے کا موقع ملے۔ ہم شہر کی سڑکوں پہ زندگی گزار لیں گے، مگر اس شہر کو جس نے ہمیں اتنے برسوں تک اپنے دامن میں محبت سے رکھا کبھی جلائیں گے نہیں۔ یہ کام وردی والوں اور ان کے ملک کے حکمرانوں کا ہے، ہمارا نہیں۔ مجھے امید ہے آپ سب میرا ساتھ دیں گے۔ کل ہم پھر کار خانوں سے آدھے دن میں لوٹ کر انتظامیہ کی عمارت تک جائیں گے۔ ان کے ذمہ داروں کو یہ احساس دلانے کی کوشش کریں گے کہ ہماری مجبوریوں اور پریشانیوں کو سمجھیں۔”</p>
<p>ادھیڑ عمر شخص کی تقریرجاری رہی اس نے سوچا کہ یہ کس مٹی کہ بنے لوگ ہیں کہ اس حالت میں بھی امن کی بات کر رہے ہیں۔ وہ جانتا تھا کہ اگر یہ دس برس بھی اسی طرح حکومت سے اپیل کرتے رہے تو بھی کچھ نہ ہوگا اور شائد اس کی عمر کے تمام لوگوں کا یہ ہی خیال تھا۔ مگر اس ادھیڑ عمر شخص کی باتوں سے اس کی عمر کے تمام لوگ متفق معلوم ہوتے تھے، کیوں کہ انہیں علم تھا کہ وہ اس وقت کتنے دبے کچلے حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر انہوں نے کوئی غلط قدم اٹھا یا تو ممکن ہے کہ انہیں شہر کی سرحد سے ہی باہر پھنکوا دیا جائے۔ جو کام وردی والوں کے لیے نہایت آسان تھا۔</p>
<p>(10)</p>
<p>رات کے تین بج رہے تھے۔ایک گاڑی شہر کے مختلف علاقوں میں سفر کرتی ہوئی انتظامیہ کی سرکاری عمارت کے پاس رکی۔ اس میں سے دو لوگ باہر آئے اورایک جانور کی لاش عمارت کی سیڑھیو ں پہ پھینک کر دوبارہ گاڑی میں سوار ہو گئے۔ گاڑی تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے شہر کی اس شاہراہ پہ آ گئی جہاں سے گاڑیاں شہر کے باہر جاتی تھیں۔ گاڑی کے اندر تین لوگ سوار تھے۔ اپنی اپنی جگہ پہ خاموشی سے بیٹھے ہوئے تینوں سوار باری باری اس طرح ایک دوسرے کو دیکھتے جیسے انہوں نے کسی سے بدلا لے کر اطمینان کا سانس لیا ہو۔ایک جگہ سڑک کے کنارے گاڑی رکی اوردو لوگ اس میں سے اتر گئے، ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا ہوا شخص گاڑی لے کر آگے نکل گیا۔</p>
<p>(11)</p>
<p>پچھلی رات وہ دیر تک جاگتا رہا تھا، مزدوروں کی پریشانیوں کو نزدیک سے جاننے کے بعد اسے یوں بھی دیر رات تک نیند نہ آتی تھی۔ اس نے سوچا کہ آج کار خانے نہ جائے، مگر دن بھر گھر میں پڑے پڑے اکتا جانے کے خیال سے اس نے یہ ارادہ ملتوی کر دیا۔ وہ کارخانے جانے کے لیے تیار ہو کر نیچے اترا تو اسے جگہ جگہ لڑکوں کے گروہ جمع نظر آئے۔وہ کسی بات پہ چہ مگویاں کر رہے تھے۔ اس نے ان کی باتوں پہ کان دھرے بنا چائے خانے کا رخ کیا۔ جہاں آج معمول سے زیادہ لوگ تھے۔ چائے خانے میں مزدور طبقے کے وہ دو چار نوجوان بھی بیٹھے ہوئے تھے جنہیں اس نے اکثر میٹنگوں میں دیکھا تھا۔ وہ خاموشی سےان کی طرف بڑھ گیا۔ ان میں سے ایک لڑکا دوسرے سے کہہ رہا تھا:</p>
<p>“یہ ہم کو کرنا ہوتا تو بہت پہلے کر چکے ہوتے۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ ہم میں سے کسی کا بھی کام ہے۔“اس نے جملہ مکمل کر کے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا۔</p>
<p>“تو ہمارے پاس کو ن سی دولت دھری ہے جو اتنے جانور خرید کے انہیں قربان کرتے پھریں۔”<br>
تیسرا بولا“اور خریدیں گے کہاں سے۔ کیا کہیں بک رہے ہیں۔”<br>
اسے لگا جیسے کوئی حادثہ ہوا ہے۔</p>
<p>“کیا یہ جانور ہمارے لیے مقدس نہیں۔بستی میں ہر طرح کے لوگ رہتے تھے۔یہ بات لیڈر بھی جانتے ہیں۔ وہ تو خود دن رات کہتے رہتے ہیں کہ کوئی غلط قدم نہ اٹھایا جائے۔”</p>
<p>“یہ ساری باتیں ایک طرف، مگر اس کا یقین عوام اور حکومت کیوں کرے گی۔ وہ تو یوں بھی ہمیں شہر سے نکال کر باہر پھینک دینا چاہتے ہیں۔”</p>
<p>“ہو نہ ہو یہ کام وردی والوں کا ہی ہے۔”</p>
<p>وہ اپنا ناشتا اور چائے ختم کر چکا تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر شہر پہ کوئی نئی مصیبت آئی تو ان غریبوں کی کمر پھر توڑی جائے گی۔اس نے انہیں باتیں کرتا چھوڑ کار خانے کی راہ لی۔ وہ کار خانے کی گلی میں پہنچا تو اسے سارے مزدور اپنے اپنے کار خانوں سے باہر کھڑے نظر آئے۔ لوگ مجمع لگائے اسی واقعے کا تذکرہ کر رہے تھے۔ وہ بھیڑ میں سے جگہ بناتا ہوا اپنے کار خانے تک پہنچا تو اس کے تمام ساتھی بھی باہر کھڑے دکھائی دیے۔اس نے سوچا ان میں سے تو کوئی بھی ٹیلے والی بستی کا نہیں ہے پھر یہ کیوں باہر ہیں۔ تھوڑی دیر میں ان کا مالک بھی آ گیا۔ وہ دو لڑکوں سے کہہ رہا تھا کہ کار خانے کو تالا لگا دو اور پھر اس نے سارے لڑکوں سے مخاطب ہو کر کہا:“دو روز تک کار خانہ بند رہے گا۔ یہاں کے حالات ٹھیک نہیں کسی بھی وقت وردی والے آ سکتے ہیں۔ بہتر یہ ہی ہے کہ تمام لوگ اپنے اپنے گھر لوٹ جائیں۔” یہ کہہ کر اس نے ایک لڑکے سے تالے کی چابی لی اور وہاں سے رخصت ہو گیا۔</p>
<p>مزدور اب زور زور سے نعرے لگا نے لگے تھے۔ وہ چیخ چیخ کرکہہ رہے تھی کہ اپنے خلاف انتظامیہ کی یہ سازش ہم برداشت نہیں کریں گے۔آج ہم پھر سب مل کر انتظامیہ کی عمارت کی طرف جائیں گے اور وہاں بھوکے، پیاسے بیٹھ کر انہیں اپنی پریشانی کا احساس دلائیں گے۔ اس نے سو چا کہ وہ یہاں رک کر کیا کرے گا۔وہ دن بھر گھر میں بھی پڑا رہنا نہیں چاہتا تھا اس لیے شہر کے وسطی علاقے کی طرف نکل جائے جہاں دریا کے قریب شہر کی انتظامیہ عمارتوں کے پاس اسے صحیح حالات کا علم بھی ہو جا ئے گا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اب تک شہر میں وردی والوں نے اپنے دستوں کو اتنا پھیلا دیا تھا کہ جگہ جگہ روک کر لوگوں کی تلاشی لی جارہی تھی۔ انہیں گھروں میں بند رہنے کی اپیل کی جا رہی تھی اور شہر کے وسطی علاقے میں کرفیو لگ گیا تھا۔ وردی والے مقدس جانوروں کی لاشوں کو ہٹوا چکے تھے، مگر اس کی خبر شہر میں آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔ مقدس جانور کی موت کا غم شہر کے طاقتور گروہ کی برداشت سے باہر تھا۔ انہیں اس بات سے قطعی لینا دینا نہ تھا کہ یہ کسی کی سازش ہے یا بے گھر مزدور کی حرکت۔ وہ تو اس کا ذمہ دار اپنے مذہبی حریفوں کو سمجھتے تھے۔ اس گروہ میں انتظامیہ کے بڑے افسران بھی شامل تھے۔ جن کی پہنچ وردی والوں کے آقاوں تک تھی۔ انہوں نے شہر میں ایک زور دار جلوس نکالنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ وہ اپنی مقدس ماں کی موت کا تماشا نہیں دیکھ سکتے تھے۔</p>
<p>اس نے جوں ہی کار خانے کے علاقے سے شاہراہ کی جانب جانے والی سواری کی اسی وقت وردی والوں کا ایک دستہ اسے کار خانے کی گلیوں کی طرف بڑھتا ہوا نظر آیا۔ جلد ہی اس دستے نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ وردی والے مائک پر لوگوں کے لیے حکم جاری کر رہے تھے کہ وہ اپنے گھروں کی طرف لوٹ جائیں۔ دو وردی والے جوا س کے قریب تھے انہوں نے اسے روک کر اس کی تلاشی لی اور ڈانٹ کر اسےگھر لوٹنے کا حکم دیا۔ وہ مزدور جن کا کوئی گھر نہ تھا وردی والے انہیں لال چوک پر جمع ہونے کا حکم دے رہے تھے۔ لال چوک کے قریب انتظامیہ نے ایک نیلی پلاسٹک کی چارد جس پر ہزاروں لوگ بیٹھ سکتے تھے بچھوا دی تھی۔ شہر کے حالات بگڑنے سے پہلے بے گھر مزدوروں کو ایک جگہ اکھٹا کیا جا رہا تھا، تاکہ وہ بڑی مذہبی طاقت کے غصے کا شکار نہ ہو جائیں۔ مزدوروں کو لال چوک کی طرف لے جانے لے لیے پورے جنوبی علاقے میں وردی والوں کو تعینات کر دیا گیا تھا۔اس مرتبہ وردی والوں کو یہ تاکید کی گئی تھی کہ کسی مزدور پہ ہاتھ نہ اٹھا ئیں۔ لاٹھی کے استعمال کے بنا انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ یہ قدم ان کی بھلائی کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔</p>
<p>مزدوروں کے گروہ کو وردی والوں نے جب لال چوک کا رخ کرنے حکم سنایا تو کئی نوجوانوں نے اس کی مخالفت کی۔ ان کی خواہش تھی کہ انتظامیہ کی عمارتوں کے درمیان وہ بھوکے پیاسے مظاہرہ کریں خواہ اس میں ان کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ مگر گروہ کے بعض بزرگ لیڈروں نے ان کی یہ تجویز مانتے ہوئے نوجوانوں کو ان کی بیویوں اور بچوں کی زندگیوں کے خطرے میں ہونے کا احساس دلایا۔ انہیں معلوم تھا کہ جس مقدس جانور کو کاٹ کر شہر کی مختلف عمارتوں کے باہر پھنکا گیا ہے اس سے شہر کی بڑی مذہبی طاقتیں کس درجہ ناراض ہیں۔ ایسے میں وہ مزدور جو خود کو اس کا ذمہ دار نہیں سمجھتے تھے، بلاوجہ شہر کی بڑی طاقت سے ٹکرانا غیر ضروری تصور کر رہے تھے۔ یوں بھی انہیں اگر شہر سے نکال بھی دیا جاتا تب بھی وہ حالت ان کی موت سے بہتر ہوتی۔ انہوں نے سوچا کہ اگر انتظامیہ اور شہر کی بڑی مذہبی طاقتوں کو وہ یہ یقین دلانے میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں کہ اس حرکت میں ان کا ہاتھ نہیں ہے تو فی الحال انہیں وردی والوں کی حفاظت میں ہی رہنا چاہیے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-5/">آوازوں والا کردار (پانچواں حصہ) — تالیف حیدر</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-5/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آوازوں والا کردار (چوتھا حصہ) — تالیف حیدر</title>
		<link>https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-4/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-4/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[تالیف حیدر]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 17 Apr 2020 15:04:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Taleef Haider]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu literature]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[تالیف حیدر]]></category>
		<category><![CDATA[طویل کہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24965</guid>

					<description><![CDATA[<p>تالیف حیدر: وہ خاص کر کسی ایک لڑکی کا پیچھا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اسے تو صرف مختلف خوشبووں کا تعاقب کرنا تھا، جس سے اسے مسرت ملتی تھی۔ </p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-4/">آوازوں والا کردار (چوتھا حصہ) — تالیف حیدر</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><strong>اس طویل کہانی کی <a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/awazon-wala-kirdar/">مزید اقساط</a> پڑھنے کے لیے کلک کریں۔ </strong></p>
<p>آج سرخ قمیض اور نیلی جینز والی لڑکی نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا اور اس کا راستہ روک کر کھڑی ہوگئی۔ اس کی آنکھوں میں خوف اتر آیا۔اس لڑکی کے چہرے پر غصے کی لہر صاف دیکھی جا سکتی تھی۔ اس کی ساتھی نے جب لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر آہستہ سے کان میں کہا۔ ” رہنے دو۔” تو لڑکی نے اپنی ساتھی کا ہاتھ جھٹک دیا۔</p>
<p>” کیوں رہنے دوں۔ انہیں بھی تو معلوم ہو کہ ہم پندرہ دنوں سے یہ تماشا دیکھ رہے ہیں۔ آخر کسی بات کی کوئی حد بھی ہوتی ہے۔”</p>
<p>اس کی ساتھی ذرا سہمی ہوئی تھی۔ مگر لڑکی کے انداز سے لگ رہا تھا کہ اسے کسی کا خوف نہیں ہے۔ اس نے لڑکے کی طرف غور سے دیکھا۔ وہ ایک صاف ستھراسفید رنگ کا شارٹ کرتا اور کالی پتلون پہنے ہوا تھا۔ اس کے بال گھنگریالے تھے اور رنگت سانولے پن سے ذرا زیادہ سیاہی مائل۔ لڑکے کے حلیے سے لگ رہا تھا جیسے وہ ابھی شاور لے کر آیا ہے۔</p>
<p>“کیوں بھئی آپ ہمارا پیچھا کیوں کر رہے ہیں۔ میں پچھلے پندہ روز سے دیکھ رہی ہوں کہ آپ روز ہمارے پیچھے پیچھے نئی سٹرک کے چوراہے تک آتے ہیں۔”<br>
اس نے محسوس کیا کے لڑکی کی آنکھوں اور لہجے میں غصہ ضرور ہے، مگر اس کے بولنے کا انداز بہت شگفتہ ہے۔ وہ جب پلٹی تھی تو اسے لگا تھا کہ آج تو شامت آ گئی۔ مگر اب جب کہ لڑکی اس سے اس کی حرکت کی شکایت کر رہی ہے تو اس کا خوف کچھ کم ہونے لگا تھا۔</p>
<p>“ہو سکتا ہے یہ ہمارا وہم ہو۔”</p>
<p>لڑکی کی ساتھی نے اس کا ہاتھ دباتے ہوئے اس کو چلنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔</p>
<p>“وہم! تمہارا داماغ تو ٹھکانے پر ہے۔ یہ مسٹر پچھلے پندرہ دنوں سے ہمارا پیچھا کر رہے ہیں اور تم کہتی ہو کہ یہ میرا وہم ہے۔ ”</p>
<p>لڑکی نے پھر سفید شارٹ کرتے والے لڑکے کی جانب دیکھا۔ “کیا آپ گونگے ہیں، میں آپ سے کچھ پوچھ ہی ہوں۔سنائی نہیں دیتا۔”</p>
<p>اس بات پر اسے ہنسی آ گئی۔ اس نے سوچا کہ یہ لڑکی شاید اتنے بھی غصے میں نہیں ہے جتنا میں اسے سمجھ رہا ہوں۔</p>
<p>لڑکی اور اس کی ساتھی نے جب اسے ہنستے ہوئے دیکھا تو حیرانی سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگیں۔ اس بار لڑکی کی ساتھی نے۔ تیزی سے اپنی دوست کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور یہ کہتے ہوئے نئی سٹرک کے چوراہے کی طرف بڑھنے لگی “ہو سکتا ہے کہ اس کا دماغ خراب ہو تم کیوں بلا وجہ کسی کے بھی منہ لگتی ہو۔ اگر پیچھا بھی کر رہا ہے تو کرنےدو کون سا ہمیں کھا لے گا۔ “لڑکی اس دوران اپنا ہاتھ چھڑا نے کی کوشش کرتی رہی۔ وہ پلٹ پلٹ کر اس لڑکے کی جانب بھی دیکھے جا رہی تھی جو ابھی تک اسی جگہ مبہوت انداز میں کھڑا تھا۔</p>
<p>وہ کافی دیر تک اسی جگہ کھڑا جاتی ہوئی لڑکی اور اس کی ساتھی کو گھورتا رہا۔ اسے اپنی بد اخلاقی کا بھی احساس ہو رہا تھا کہ اس نے لڑکی کی کسی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور یہ بھی کہ اس طرح کسی لڑکی کے پیچھے روز لپکناک ون سی اچھی بات ہے۔ حالاں کہ اسے آخری درجے تک یقین تھا کہ وہ دونوں لڑکیاں اس بات سے نا واقف ہیں کہ وہ ان کے پیچھے پیچھے حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ سے نئی سڑک کے چوراہے تک آتا ہے۔ لیکن اب جبکہ وہ یہ جان گیا تھا اسے ندامت کا احساس ہو رہا تھا۔ وہ خاص کر کسی ایک لڑکی کا پیچھا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اسے تو صرف مختلف خوشبووں کا تعاقب کرنا تھا، جس سے اسے مسرت ملتی تھی۔ مگر ہوا یہ تھا کہ جس روز اس نے اپنی سینٹ کی شیشی کھولی اور اس کی خوشبو اپنے بدن پہ لگائی اسی روز وہ لڑکیاں ایک ایسی خوشبو لگا کر حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ پر آئی تھیں جن خوسے اس کے سینٹ کی خوشبو مل کر ایک بالکل ہی انوکھی مہک پیدا کر رہی تھی۔ جس سے اسے ایسا سرور ملتا کہ وہ دوبارہ گھر پہنچ کر بھی اسی سرور میں کھویا رہتا۔ اس نے شائد گزشتہ پندرہ روز میں ایک دن بھی ٹھیک سے نہیں دیکھا ہوگا کہ اس کے خد و خال کیسے ہیں یا وہ کن رنگوں کے کپڑے پہن کر آتی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس نے ان لڑکیوں کے سامنے اپنی زبان نہیں کھولی۔ آخر وہ بولتا بھی تو کیا۔ اسے یہ بات سمجھا پانا بھی مشکل معلوم ہوئی تھی کہ وہ ان کا نہیں بلکہ ان کے اندر سے اٹھنے والی ایک خاص مہک کا پیچھا کر تا ہے۔ نئی سڑک پہ جب وہ لڑکیاں مڑ جاتیں تو وہ وہیں سواری لے کر اپنے گھر لوٹ آتا۔ اسے روز کے اسی روپے مل رہے تھے۔ اس لیے صبح سے شام تک اپنا کام کرنے کے بعد ایک نئی اور دلچسپ مصروفیت اس کے ہاتھ آ گئی تھی۔ پہلے تو چند روز تک وہ انہی پرانے کپڑوں میں حکومتی عمارتوں کے فٹ پاتھ تک جاتا تھا۔ پھر اس نےخود کو مزید سنوارنے کا عزم کیا اور ایک دن جب اس کی کارخانے کی چھٹی تھی وہ اپنے علاقے کے اختتام پر واقع بازار تک گیا اور اپنے لیے تین نئے شارٹ کرتے اور تین جینز خرید لایا۔ ان کرتوں کا آئیڈیا اسے اپنے مالک سے ملا تھا۔ ان دنوں وہ اسی طرح کے کرتے پہن کر کار خانے میں آیا کرتا تھا۔ وہ سلیقے سے اپنے تینوں جوڑ نئے کپڑوں کو اپنے بکس میں ایک سفید پنی میں رکھتا اور شام کو کا ر خانے سے لوٹنے کے بعد نہا دھو کر ان میں سےکسی ایک کو پہنتا اور حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ کے طرف روانہ ہو جاتا۔ واپسی پر اسی سلیقے سے انہیں تہہ کر کے پنی میں لپیٹ کر دوبارہ اپنے صدوق میں رکھ دیتا۔</p>
<p>دو ماہ سے یہ اس کا روز کا معمول تھا۔ مگر آج جب وہ لوٹا تو اس نے فیصلہ کیا کہ وہ کل سے ان فٹ پاتھوں کی طرف ہر گز نہیں جائے گا۔ اسے کسی انجان لڑکی کے پیچھے اس طرح سے ٹہلتے پھرنا ٹھیک نہیں لگا۔ اب اسے یقین تھا کہ اگر وہ دوبارہ ان لڑکیوں کے پیچھا گیا تو وہ سخت قدم اٹھائیں گی اور وہ اس شرمندگی کے لیے تیار نہ تھا۔ اس نے سوچا کہ ادھر جانا ترک کردینا ہی بہتر ہے۔ مگر آج اسے ایک اور نیا احساس نصیب ہوا تھا۔ اس نے کسی خوبصورت لڑکی کواتنی نازک آواز میں خود سےکبھی مخاطب ہوتے نہ سنا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر وہ غصے میں اتنے آہستہ لہجے میں بات کر ر ہی تھی تو اس کا محبت بھرا لہجہ کیسا ہو گا۔ اس خیال سے اس کے ہونٹوں پہ دوبارہ ہنسی بکھر گئی۔ پل بھر کے لیے اسے محسوس ہوا کہ اس لڑکی نے اپنی خفگی کا اظہار کر کے اس کے اندر کچھ بدل دیا ہے۔ مگر وہ بدلی ہوئی چیز کیا تھی ابھی وہ خود شناخت نہیں کر پا رہا تھا۔ اس کے چہرے کے آثار رہ رہ کر اس کے دماغ میں روشن ہوتے۔ گوراچہرہ، بڑی بڑی آنکھیں، پتلے پتلے ہونٹ، کھلی گردن اور بھرا بھرا سینہ جو اس قمیض سے باہر کی طرف کھنچا چلا آ رہا تھا۔ اسے لڑکی کا حلیہ اوپر سے نیچے تک رٹ گیا تھا اور جب وہ اس کے ہلتے ہوئے ہونٹ اور چلتی ہوئی سانسوں کو تصور کرتا جو خفگی کے باعث نمایاں ہو رہی تھیں تو ایک دم ہڑ بڑا جاتا۔</p>
<p><strong>(8)</strong></p>
<p>آج صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو تھکا ہوا پایا۔ بدن اس سے اصرار کر رہا تھا کہ وہ کچھ دیر اسی طرح آنکھیں میچے پڑا رہے، کل کی رات اس پہ نہ جانے کیسی گزری تھی۔ اس نے خود سے الجھنا ٹھیک نہیں سمجھا اور چادر منہ تک اوڑھ کر سو گیا۔ دوبارہ جب اس کی آنکھ کھلی تو محسوس ہوا کہ سورج سر پہ آ چکا ہے۔ آج وہ کارخانے نہیں گیا تھا۔ صبح آنکھیں موندتے وقت اسے اس بات کا احساس تھا کہ اگر وہ دوبارہ سو گیا تو اٹھ نہیں پائے گا۔ اس نے آنکھیں کھول کر چاروں طرف دیکھا۔ اب اس کی طبیعت میں وہ بوجھل پن نہ تھا جو وہ صبح میں محسوس کر رہا تھا۔ اس نے بستر سے اٹھ کر کھڑ کی سے منہ باہر نکالا تو سورج کی شعاعوں سے اس کی آنکھیں چوندھیا گئیں۔ کل شام کا منظر پھر اس کے ذہن میں تازہ ہونے لگا اور لڑکی کی شکل ذہن میں صاف ہوتے ہی اس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ دوڑ گئی۔ نہ جانے کیوں اس نے خوشی کے عالم میں سوچا کہ آج ٹیلے کی طرف چلا جائے۔ حالاں کہ وہ یہ فیصلہ کر چکا تھا کہ اب ٹیلے کی طرف کبھی نہ جائے گا۔ اس نے جلدی جلدی منہ دھویا۔ کھونٹی پہ ٹنگے کل شام والے کپڑے پہنے اور ٹیلے کی طرف نکل گیا۔ راستے میں ایک چائے خانے پہ رک کر اس نے چائے پی اور تھوڑا بہت ناشتہ کیا۔ ایک پان کے کھوکھے سے کچھ سگریٹیں خریدیں اور ٹیلے کی طرف چل دیا۔ راستے میں اسے احساس ہوا کہ آج اس طرف وردی والے کچھ زیادہ ہی نظر آ رہے تھے۔ اس نے کبھی اتنے وردی والوں کو اس علاقے میں گھومتے نہ دیکھا تھا۔ اسے کسی وردی والے نے روکا تو نہیں، مگر اس کی چھٹی حس اسے احساس دلا رہی تھی کہ ماحول کچھ بدلا بدلا سا ہے۔ وہ ٹیلے پہ پہنچا تو ٹیلا دھوپ کی تپش سے جل رہا تھا۔ ہر وہ چیز جس میں سے بد بو آرہی تھی وہ مزید بدبو دار محسوس ہو رہی تھی۔ وہ سیدھا زمین کے اس بنجر ٹکڑے کی طرف گیا جہاں سے سامنے کی شاہراہ صاف دکھائی دیتی تھی۔ وہاں بیٹھ کر اس نے سگریٹ جلا یا اور روڈ کی طرف دیکھ کر رات والی لڑکی کے خدو خال کے متعلق سوچنے لگا۔ کیا اگر میں اس سے دوبارہ جا کر ملوں تو وہ مجھے مارنے لگے گی ؟ اچانک اس سے ملنے کی خواہش کہیں اند ر ہی اندر سر ابھارنے لگی۔ لیکن وہ تو اسے جانتی تک نہیں ہے اور پھر اس کے لہجے میں لاکھ نرمی سہی، تھی تو وہ غصے میں ہی۔اسے یہ بات پسند نہ آئی تھی کہ وہ گزشتہ کئی دنوں سے اس کا پیچھا کر رہا تھا۔ لیکن وہ اس کا پیچھا کر ہی کہاں رہا تھا؟ وہ اس خاص خوشبو کے پیچھے تھا جس کی کشش اب اس کے خدو خال کے سامنے ماند پڑ گئی تھی۔ اگر اسی کا پیچھا کرنا ہے تو وہ اب کرے گا۔</p>
<p>وہ یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ ایک جوان عورت ہاتھ میں پلاسٹک کا لوٹا لیے دور سے آتی دکھائی دی۔ وہ جانتا تھا کہ ٹیلے کے قریب کے جھونپڑوں میں رہنے والے مرد، عورت اور بچے ٹیلے پہ رفع حاجت کے لیے آیا کرتے تھے۔ لیکن اس نے اس بات پہ کبھی غور نہیں کیا تھا کہ اس کی موجودگی میں کتنے مرد، عورتیں یا بچے ٹیلے کی بدبووں میں اضافہ کر رہے ہیں۔اس نے دیکھا کہ وہ عورت اس سے خاصے فاصلے پہ لوٹا لے کر بیٹھ گئی ہے۔ عورت کی پیٹھ اس کی طرف تھی۔ جس سے وہ اس کے کولہے اور اس سے نکلتا ہوا مل دیکھ سکتا تھا۔ وہ حالیہ دنوں جن خوشبووں کا عادی تھا اس کے پیش نظر اس عمل سے اس کا گھنا جانا لازمی تھا، مگر ایسا ہوا نہیں، نہ جانے کیوں اس کی نگاہ عورت کے پٹھے سے نکلنے والے مل کے بجائے اس کے کولہوں کی گولائی پہ جمی ہوئی تھی۔ اسے یہ منظر بہت لبھا رہا تھا۔ وہ تھوڑی دیر کولہوں کو دیکھتا رہا، پھر اپنی نگاہیں وہاں سے ہٹا کر شاہراہ کی جانب کر لیں۔سگریٹ کے دو تین کش لیے اور پھر کولہوں کی گولائی پہ نظریں جما دیں۔ اسے لگ رہا تھا جیسے یہ عورت اس بھری دوپہری میں صرف اسی لیے ٹیلے پہ ہگنے آئی ہے تاکہ اسے اپنے کولہے دکھا سکے۔ جب تک عورت بیٹھی رہی وہ اس کے کولہوں سے لطف اندوز ہوتا رہا اور عورت اس سے بے خبر اپنے عمل میں لگی رہی۔ پھر اس نے اپنے کولہوں پہ پانی ڈالا اپنے بائیں ہاتھ سے کولہوں کے بیچ کی گندگی صاف کی اور لوٹا اٹھا کر ادھر ادھر دیکھے بنا ٹیلے سے رخصت ہو گئی۔</p>
<p>وہ اب سے پہلے کبھی اس احساس سے دوچار نہیں ہوا تھا۔ ننگی عورتوں کے دیکھنے کا شوق تو کجا اسے لڑکیوں میں ہی کچھ خاص دلچسپی نہیں تھی، حالاں کہ اس کے بہت سے ساتھیوں نے بچپن سے اسے کئی بار ننگی عورتوں کی تصویریں اور پورن فلمیں دکھائی تھیں، لیکن وہ انہیں دلچسپی سے نہیں دیکھتا تھا۔اسے اس عمل سے ایک انجانی گھن کا احسا س ہوتا تھا۔ مگر کل شام کے واقعے سے اس کے اندر ایک بڑی تبدیلی پیدا ہوئی تھی۔ اس نے جب دوبارہ کل والی لڑکی کے خدو خال یاد کیے تو اس بار اس عورت کے کولہے بھی اس کے ذہن میں گردش کرنے لگے جن کی گولائیوں سے وہ محظوظ ہو رہا تھا۔ کچھ دیر بعد جب بدبو کی شدت بڑھنے لگی تو وہ وہاں سے اٹھ گیا۔ علاقے کی طرف لوٹا تو پھر اسے وردی والوں کی سر گرمیوں پر شبہ ہوا۔ وہ بڑ ھ رہے تھے ایسے جیسے وہ شہر کو اپنی گرفت میں لینا چاہتے ہوں۔ اس نے چائے خانے کے قریب سگریٹ کے کھوکے سے دو سگرٹیں اور خریدیں اور انہیں جیب میں ڈال کر اپنے گھر کی طرف بڑھ گیا۔<br>
آج شام تک وہ گھر کے اندر ہی رہا مختلف لڑکیوں اور عورتوں کے متعلق طرح طرح کی باتیں اس کے ذہن میں گردش کر رہی تھیں۔ کسی کسی صبح وہ جس دودھ والی دکان پہ بیٹھی موٹی لڑکی سے دودھ خریدا کرتا تھا یا کار خانے کے برابر میں رنگائی کی دکانوں پہ جو لڑکیاں اس کی نگاہوں سے روز گزرتی تھیں۔ اس نے سوچا کے وہ ان ساری لڑکیوں کو نہ جانے کتنی مرتبہ دیکھ چکا تھا، مگر آج ان کے متعلق سوچ کر جانے کیوں اسے لطف مل رہا تھا۔ اسی دوران اسے یاد آیا کہ جب وہ پچھلی مرتبہ کسی کام سے شہر کے باہر گیا تھا تو ایک بس اڈے پہ اسے ہتھا کھینچتی ہوئی ایک جوان اور خوبصورت لڑکی دکھی تھی۔وہ اپنے اطراف کے لیے ایک عجوبہ بنی ہوئی تھی جسے اس کے ارد گرد بیٹھے ہوئے سارے مرد گھور گھور کر دیکھ رہے تھے۔ جب اس نے اس لڑ کی کی ان دو بڑی بڑی چھاتیوں پہ نظر ڈالی تھی جو اس کے ہتھا چلانے کی وجہ سے رہ رہ کر ابھر رہی تھیں تو اسے عجیب سا محسوس ہوا تھا۔ اس نے ایک بھر پور نظر ڈالی تو اسے اس کی دونوں چھاتیوں کی ہری ہری رگیں جو دانوں کے مقام پر زور پڑنے کی وجہ سے ابھر رہی تھیں صاف نظر آئی تھیں۔ مگر وہ ان چھاتیوں کو ویسی للچائی ہوئی نگاہوں سے نہیں دیکھ رہا تھا جس طرح اس کے اطراف کے نوجوان لڑکے اور مرد دیکھ رہے تھے۔ ان کی شکلوں سے محسوس ہوتا تھا کہ اگر یہ چھاتیاں انہیں ایک لمحے کے لیے بھی مل جائیں تو وہ انہیں اتنی زور سے دبائیں کہ ان چھاتیوں میں موجود دیدار کی لذت ان کے بدن میں سرایت کر جائے۔ اس نے یہ سوچ کر آنکھیں میچ لیں۔ اس کے بدن میں ایک لہر سی دوڑ رہی تھی اس کا ہاتھ دھیرے دھیر اپنی پتلون کے اندر کھسک گیا۔ اچانک اس کا ہاتھ تیزی سے چلنے لگا۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ دونوں چھاتیاں کہیں خلا سے نمادار ہو کر اس کے ہاتھوں میں آ جائیں اوروہ انہیں مسل کر اپنی انجان اور دبی ہوئی خواہش کو پورا کر لے۔</p>
<p><strong>(9)</strong></p>
<p>وردی والے ہزاروں کی تعداد میں ٹیلے کے اطراف جمع تھے۔لوگوں کی چیخ پکار کی آوازیں پورے جنوبی شہر میں گونج رہی تھے۔ آسمان پہ کالے دھوئیں کے بادل بڑھتے جارہے تھے۔ ودری والوں نے ٹیلے کے آس پاس کی تمام جھونپڑوں میں اور ٹیلے کے کچرے میں آگ لگا دی تھی۔ اس کا حکم اس ملک کی انتظامیہ کی طرف سے آیا تھا جس کا قرض اس شہر پہ چڑھتا چلا جا رہا تھا۔ شہر کے جنوبی علاقے کو ایک عرصے سے نظر میں رکھا جا رہا تھا۔ یہاں نشے کا کاروبار زوروں پہ تھا اور عورتوں اور بچوں کی کالا بازاری بھی ہوتی تھی۔ مگر آگ لگانے کا فیصلہ ان وجوہات کی بنا پر نہیں لیا گیا تھا۔ یہ پورے شہر میں مذہبی جھگڑے بڑھانے کی شروعات تھی۔راتوں رات پورے شہر میں وردی والے چار گنا ہو گئے تھے۔ جنوبی علاقے میں آگ لگا کر یہاں کے وردی والوں نے ہزاروں کی تعداد میں مزدور اور غریب شہریوں کو بے گھر کر دیا تھا۔ ان کو اطلاع دی جا رہی تھی کہ اس کا آڈر سیدھا ان کے ملکوں سے آیا ہے۔ جنوبی علاقے کے عوام پریشان تو تھے مگر ان میں غصے کی شدید لہر دوڑ رہی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ جن ملکوں کے حکم پہ ان کے گھروں کو جلایا گیا وہاں کے عقیدت مندوں کے گھروں اور دکانوں کو بھی اسی طرح جلا کر راکھ کر دیا جائے۔ ایک طرف وردی والے لاٹھیاں اور بندوقیں لیے عوام کے ریلے کو دھیرے دھیرے ٹیلے سے شہر کی طرف دھکیل رہے تھے اور باری باری بستی کے چھونپڑوں پہ بلڈوزر چلا کر ان میں آگ لگا رہے تھے۔ دوسری طرف نوجوان لڑکے اور بستی کے غصے سے بھرے مرد یہ منصوبہ تیار کر رہے تھے کہ کسی طرح ان وردی والوں کی بندوقیں چھین کر اس تماشے کو روکنے کی کوشش کی جائے۔ عورتوں کی چیخ پکار تھمنے کا نام نہ لیتی تھی۔ بچے بلک بلک کر رو رہے تھے۔ ایک لڑکا جو ان مردوں اور نوجوانوں کی باتیں کا فی دیر سے سن رہا تھا اس نے دانت پیس کے ایک وردی والے کو گالی دی اور ایک پتھر اس پہ کھینچ مارا۔پتھر وردی والے کے جبڑے پہ لگا جس سےاس کی آنکھوں میں تارے ناچ گئے۔ اس کے منہ سے بھل بھل خون بہنے لگا۔ وہ اس صورت حال کی امید نہیں کر رہا تھا، لہذا اس نے اپنا ہیلمٹ اتار کرہاتھوں میں تھاما ہوا تھا۔ جوں ہی اسے ہوش آیا اس نے فوراً اپنا ہیلمٹ پہنا۔ اسی دوران اس کے اطراف کے وردی والے بھی سنبھل گئے۔ جس لڑکے نے پتھر پھینکا تھا۔ تین، چار وردی والے اس کی جانب ڈنڈے اور بندوقیں لے کر بڑھے جس کے جواب میں وہاں کھرے کئی نوجوانوں اور مردوں نے پتھروں کی بارش کرنا شروع کر دی۔ وردی والوں نے اپنی ڈھالیں سنبھال لیں اور آن واحد میں کئی سو وردی والے وہاں جمع ہو کر پتھراو کرنے والوں پہ ٹوٹ پڑے۔ پہلے کچھ گولیاں چلیں، پھر لاٹھیا ں برسی اور دیکھتے ہی دیکھتے آنسو گیس کے گولے اور پانی کے ٹینکروں سے وردی والوں نے چاروں طرف سے حملہ کر دیا۔ افراتفری کا ماحول تو پہلے ہی سے تھا۔ اس لاٹھی چارج نے ٹیلے کے اطراف کی بستی کو ویران بنا دیا۔ عورتیں اور مرد سب شہر کی طرف بھاگ گئے تھے۔ جو ڈٹے ہوئے تھے وہ خون سے لت پت تھے اور جگہ جگہ پڑے سسکیاں لے رہے تھے۔ وردی والوں نے بہت سے لڑکوں کو اٹھا کر اپنی گاڑیوں میں بند کر دیا تھا اور ان پہ گاڑی کے اندر لاٹھیا ں چل رہی تھیں۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-4/">آوازوں والا کردار (چوتھا حصہ) — تالیف حیدر</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-4/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آوازوں والا کردار (دوسرا حصہ) — تالیف حیدر</title>
		<link>https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-2/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[تالیف حیدر]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 12 Apr 2020 10:10:23 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Taleef Haider]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[تالیف حیدر]]></category>
		<category><![CDATA[جدید ادب]]></category>
		<category><![CDATA[طویل کہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24918</guid>

					<description><![CDATA[<p>تالیف حیدر: جب سے اس چمنی میں اس کی نوکری لگی تھی وہ شہر کو کچھ بدلا ہوا محسوس کر رہا تھا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-2/">آوازوں والا کردار (دوسرا حصہ) — تالیف حیدر</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><strong>اس طویل کہانی کی <a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/awazon-wala-kirdar/">مزید اقساط</a> پڑھنے کے لیے کلک کریں۔ </strong><br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
آوازوں والا کردار:حصہ دوم<br>
اس کار خانے میں اس کے علاوہ بارہ لڑکے اور کام کرتے تھے، کچھ اس سے عمر میں بڑے تھے اور کچھ چھوٹے۔ اس نے کسی سے جان پہچان بڑھانے کی کوشش نہیں کی تھی، لیکن اتنا ضرور محسوس کیا تھا کہ زیادہ تر لڑکے ایک دوسرے سے انجان ہیں۔ شائد سب صرف شام کے اس لمحے کے لیے اپنا اپنا کام سر جھکا کر کرتے رہتے تھے جب مالک انہیں مزدوری عطا کرے۔ جب کئی دن کام کرتے ہوئے ہو گئے تو ایک نئے لڑکے نے جو اس کے بعد کار خانے میں داخل ہوا تھا اس سے پوچھا تھا کہ “مالک روز پیسے کیوں دیتا ہے۔” جس کے جواب میں وہ خاموش رہا۔ نہ اس نے کوئی جواب دیا اور نہ پوچھنے والے لڑکے نے دوبارہ پوچھا۔</p>
<p>اس کی توجہ کار خانے میں کام کرنے والے تمام لڑکوں کے مقابے میں مالک پر زیادہ تھی، نہ جانے کیوں وہ اپنے مالک میں ایک خاص کشش محسوس کرتا تھا۔ اسے لگتا کہ یہ شخص جو روز شام کو ہم لوگوں میں روپیہ بانٹتا ہے خود کتنے عالی شان طریقے سے زندگی گزارتا ہوگا۔ وہ جب اپنے ساٹھ رپیہ کے شاہانہ خرچ کے متعلق سوچتا جس میں اس کی مزدوری، سگریٹ، بیڑی، الم غلم سمیت سب آ جاتا تھا تو مالک کا کردار اسے اور زیادہ متاثر کن لگتا۔ جو شخص روز کے ہزار دو ہزار بانٹ دے وہ کم سے کم پانچ ہزار روزانہ تو کماتا ہی ہوگا۔ یہ خیال اسے مالک کا دیوانہ بنا دیتا۔وہ کوشش کرتا کہ اور محنت سے کام کرےتاکہ مالک کی خوشنودی حاصل ہو سکے، مگر مستقل کئی روز کی محنت کے باوجود اسے محسوس ہوا کہ مالک کا اپنے لڑکوں سے صرف اتنا رشتہ ہے کہ وہ صبح میں ان کے داخلے کا وقت لکھے سب پر ایک نظر ڈالے کون آیا اور کون نہیں اسے نوٹ کرے اور شام کو تنخواہ دے کر رخصت کر دے۔ کبھی جب وہ کام پر نہ جاتا تو دوسرے روز مالک صرف اتنا اور پوچھتا کہ ” کل کیوں نہیں آیا تھا۔” وہ بتاتا اور مالک مطمئن ہو جاتا۔پھر شام کو پیسے دیتا اور روز والا سوال دہراتا “کل کتنے بجے آئے گا۔” وہ جواب دیتا اور مالک اگلے کی طرف متوجہ ہو جاتا۔</p>
<p>ہفتے میں ایک دن جب اس کی چھٹی ہوتی تو وہ اپنی جیب میں تین چار سگرٹیں بھر کر ٹیلے پر چلا جاتا۔ شفاف سڑک کو گھور کر دیکھتا رہتا اور سگرٹوں کے کش لے لے کر مالک کے متعلق سوچنے لگتا۔ اس نے کام کے دوران کئی مرتبہ دیکھا تھا کہ اس کا ما لک جو گورے رنگ کا ایک گگدے بدن والا چھوٹے قد کا شخص تھا وہ رنگین شرٹ اور نیلی جینز میں کتنا خوب رو معلوم ہوتا تھا۔ وہ اپنے احباب سے بھی خوب ہنس ہنس کر باتیں کرتا، اس کے دوست جو اس چمنی کے قریب واقع کار خانوں کے مالکان تھے اکثر دو پہر میں کھانے کے وقت اس کے پاس آ جاتے اوروہ ان سے ہنس ہنس کر باتیں کرتا۔ کسی لڑکے کی طرف آنکھ بھی اٹھا کر نہیں دیکھا۔ اسے یہ بات بہت ناگوار گزرتی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کا ملک جس طرح اپنے احباب سے بات کرتا ہے اس سے بھی کرے اور وہ بھی بتائے کہ وہ شہر کے کس حصے سے یہاں آتا ہے اور وہاں کیسی کیسی عجیب و غریب چیزیں پائی جاتی ہیں۔ مگرایسا ہوا نہیں تھا اس نے ایک آدھ مرتبہ اپنی روز کی مقررہ رقم کو لینے سے انکار بھی کیا تھا تا کہ اس کا مالک اسے اپنے بقیہ لڑکوں سے مختلف سمجھے،مگر اس نے ڈانٹ کر اس کے ہاتھ پر پیسے رکھے اور روز کا سوال داغ دیا۔ اس نے وقت بتا یا اور چل دیا۔</p>
<p>جب سے اس چمنی میں اس کی نوکری لگی تھی وہ شہر کو کچھ بدلا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ حالاں کہ اس دوران چمنی تک جاتے ہوئے اسے دو بار سڑک کے کنارے وردی والوں نے روکا تھا اوراس کی تلاشی بھی لی تھی۔ مگر اسے یہ ایک معمولی واقعہ لگا تھا۔ اسے محسوس ہورہا تھا کہ اس نے دھیرے دھیرے چمنی میں کام کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس قابل بنا لیا ہے کہ اس کارخانے والی گلے سے آگے بڑ ھ سکے۔ چمنی کی ملازمت کے دوران چھٹی کے روز وہ شہر کے جنوبی علاقے سے سواری کر کے خربوزے والی گلی تک بھی گیا تھا جہاں۔ شہر کا سب سے بڑا بازار لگتا تھا۔ یہ شہر کا ایسا واحد بازار تھا جہاں امیر و غریب ہر طرح کے لوگوں کے آنے کی اجازت تھی۔ ورنہ شہر میں جب سے وردی والوں کا قبضہ ہوا تھا انہوں نے غریبوں اور امیروں کے بازار الگ کروا دیے تھے تاکہ انہیں یہ شناخت کرنے میں آسانی ہو کہ شہر میں کن لوگوں کے پاس روپیہ ہے۔ غریبوں کے بازار کی اشیا نہایت خراب کوالٹی کی ہوتیں، جو متوسط طبقے کے لوگ بھی استعمال نہیں کر سکتے تھے۔ کپڑے سے لے کر کھانے تک ہر چیز تیسرے درجے کی تھی جو شہر والوں کے استعمال سے خارج ہو چکی تھی وہ یہاں پائی جاتی تھی۔ خربوزے والی گلی تک جانے والے غریب اس فرق سے اچھی طرح واقف تھے کہ شہر کے اصلی مالکوں سے کس طرح پیش آنا ہے۔</p>
<p><strong>(4)</strong></p>
<p>یہ گلی شہر کے شمال مغربی حصے میں تھی۔ اسے خربوزے والی گلی کیوں کہا جاتا تھا اس کا راز گلی کے اتیت میں کہیں دفن تھا اور لوگوں کو اتنی فرصت نہیں تھی کہ وہ ماضی کے پنّے پلٹ کر اس کی وجہ تسمیہ جاننے کی کوشش کرتے، یوں بھی گلی محلے کے ناموں کی تاریخ پہ اب لوگ کم ہی غور کرتے تھے۔ ان ناموں پہ زیادہ غور کیا جاتا تھا جو کسی طرح کا سیاسی فائدہ پہنچا سکتے ہوں۔ شہر کے اس حصے کو خربوزے والی گلی کہا ضرور جاتا تھا، لیکن یہ کوئی گلی نہ تھی بلکہ اسی سے سو فٹ چوڑا راستہ تھا جہاں مختلف اشیا کی دکانیں قطار اند قطار سجی ہوئی تھیں۔ خربوزہ یہاں صرف پھلوں کی دکانوں پر پایا جاتا تھا۔ یہ علاقہ وردی والوں کی نظر میں اس لیے بھی مشکوک نہ تھا کیوں کہ یہاں کی زیادہ تر دکانیں اس ملک کے مالکوں کی تھیں جن کے حکم سے شہر میں وردی والے داخل ہوئے تھے۔ وردی والوں کا رعب اس گلی کی سرحد کے اندر داخل ہوتے ہی کمزور پڑ جاتا تھا۔ یہ بازار خاصہ پرانا تھا تین طرف سے شہر کی شاہراہوں سے متصل اور ایک طرف شہر کا بیرونی راستہ۔ شہر کا ہرنیا تہذیبی رواج یہیں سے عام ہوتا تھا۔ کوئی بھی چیز جو مہنگے سے مہنگے اور سستے سے سستے داموں پر دوسرے شہروں سے یہاں آتی تھی بنا کسی مول بھاو کے بیچی جاتی۔ ہر شخص کو اپنی استطاعت کے مطابق اشیا خریدنے کی آزادی تھی۔ اس بازار کا سب سے بڑا عجوبہ یہاں کی رومال والوں کی دکانیں تھیں جہاں انسانی شکل کے رومالوں کی بھر مار تھی۔ کسی بھی شخص کی شکل کا کڑھا ہوا رومال یہاں دستیاب تھا۔ لوگ اپنی پسندیدہ شخصیات کے کڑھے ہوئے رومال درجنوں کی تعداد میں یہاں سے لے جایا کرتے تھے۔ یہ رومال نہ صرف اس شہر میں بلکہ دنیا کے مختلف شہروں میں یہاں سے منگوائے جاتے تھے۔ کسی شخص کو اگر اپنی شکل کا رومال کڑھوانا ہوتا تو وہ دس منٹ میں رومال کڑھوا لیتا۔ رومال کڑھائی کے درجنوں کار ی گر صبح سے شام تک رومال کی دکانوں کے درمیان لوگوں کی شکلوں والے رومال کاڑھتے اور بیس روپیہ فی رومال مزدوری لے کر خوشی سے جھوم اٹھتے۔ وردی والے بھی رومال کڑھائی کاریگروں سے اپنی شکلوں کے رومال کڑھواتے اور انہیں پوری قیمت ادا کرتے۔ اگر یہ کڑھائی والے شہر کے کسی اور علاقے میں پائے جاتے تو یقیناً انہیں وردی والوں کے لیے مفت میں یہ خدمت انجام دینا ہوتی، لیکن یہاں وہ وردی والوں سے پوری قیمت وصولتے تھے۔ رومال کے علاوہ اس بازار کا چاندی کازیور بھی پورے شہر میں مشہور تھا۔ چاندی کا اصلی زیور جس پہ چاہو تو سونے کے پانی کی قلعی بھی کروائی جا سکتی تھی۔ اس کام کے لیے دوسرے شہر سے لوگوں نے آ کر یہاں اپنا ڈیرہ جمایا تھا۔ مشرقی علاقوں کے شہر والے اس کام میں ماہر تھے جو اب خربوزے والی گلی کے سنار کہلاتے تھے۔</p>
<p>اس کا اس بازار میں آنے کا مقصد اپنی شکل کارومال کڑھوانا تھا اور ساتھ ہی وہ یہ جائزہ بھی لینا چاہتا تھا کہ اگر اس نے کارخانوں میں کام مانگنے والی ترکیب یہاں آزمائی تو اسے کس حد تک کامیابی مل سکتی ہے۔ بازار میں داخل ہونے کا شہر والا دروازہ بہت چوڑا تھا جہاں اندر داخل ہونے والوں کو اپنی اور اپنے سامان کی تلاشی کروانی ہوتی۔ اگر کسی کے پاس کوئی دھار دار چیز پائی جاتی خواہ وہ گلے میں لٹکی ہوئی چین سے جڑا ہوا چھوٹا دکھاوے کا خنجر ہی کیوں نہ ہو تو اسے جمع کروا لیا جاتا اور انہیں ایک ٹوکن دے دیا جاتا کہ واپسی پہ وہ ٹوکن دے کر اپنی چیز حاصل کر لیں۔ اس کے پاس ایسی کوئی چیز نہ تھی، وہ خالی ہاتھ آیا تھا۔ داخلے کے وقت جب اس کی تلاشی لی جا رہی تھی تو اس نے محسوس کیا کہ گذشتہ جتنی مرتبہ شہر میں اس کی تلاشی لی گئی ہے اس میں جو جبریہ رویہ پایا جاتا تھا وہ یہاں کے تلاشی لینے والوں میں نہ تھا۔ اس نے سکون سے اپنی جیبیں چیک کروائیں اور بازار میں داخل ہوگیا۔ شہر کے اندر آ کر وہ سیدھا رومالوں کی دکان کی طرف گیا اور ان میں ایک دکان کے سامنے پڑی پٹریوں پر بیٹھے کاری گر سے اپنی شکل کا رومال تیار کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ کاری گر خوشی خوشی اپنی جگہ سے اٹھا اور برابر میں رکھے ہوئے بستے میں سے دو تیلیاں نکال کر ایک سفید کپڑے پر رومال کڑھنے لگا۔ اس دوران وہ بڑی دلچسپی سے کبھی کڑھائی کو دیکھتا اور کبھی کڑھنائی کرنے والے کو۔ اگلے دس منٹ میں جب کڑھائی کاری گر نے اس کی تصویر رومال پر اتار کر رومال اس کے حوالے کیا تو وہ حیران رہ گیا۔ اس نے آج تک صرف ان کڑھنے والوں کا تذکرہ سنا تھا اور کچھ کڑھے ہوئے رومال دیکھے تھے۔ اسے لگتا تھا کہ یہ گھنٹوں کی محنت کا صلہ ہوگا کہ کسی شخص کی ہو بہو تصویر ایک کپڑے کے رومال پر اتار دی جائے۔ مگر دس منٹ کے وقفے میں اپنی نظروں کے سامنے خود کی تصویر کو رومال پر اترتا ہوا دیکھ کر اسے ایک انجانی خوشی کا احساس ہوا تھا جس میں حیرت کے آثار ملے جلے تھے۔ اس نے سوچا کہ یہ کتنا بڑا ہنر ہے کہ کسی کو دوچار مرتبہ دیکھا اور اس کی شکل کو رومال پر کڑھ دیا۔ اس کی قیمت صرف بیس روپیے تو ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ اس نے اپنی جیب سے چالیس روپے نکال کر اس کاری گر کو دیے تو اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ” اس کا صرف بیس روپیہ ہوتا ہے۔” اس پر اسے برا محسوس ہوا اور اس نے مالک کی طرح خفگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کاری گر کو چالیس روپے تھما دیے۔ کاری گر خوش بھی تھا اور حیران بھی۔جس سے نظریں ملا کر اسے پہلی بار مالک ہونے کا احساس ہوا۔ اس واقعے سے اس نے جانا کے کسی کو کچھ دینے کا سکھ بڑی سے بڑی چیز لینے سے ہزار گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اس احساس سے وہ پہلی بار دوچار ہوا تو اسے اپنے مالک پہ رشک آنے لگا جو اسے اور اس جیسے کتنے لڑکوں کو روز ساٹھ ساٹھ روپے دیا کرتا تھا۔</p>
<p>رومال کڑھوا کر وہ بازار کے دکانوں کے سامنے چکر لگانے لگا۔ مختلف اشیا کی دکانوں پر اسے روشنوں کے جھماکے نظر آئے جہا ں دن میں بھی مختلف سائزوں کے بجلی کے قمقمے روشن تھے۔کہیں اس میں سفید روشنی نکل رہی ہو تی اور کہیں پیلی۔ کانچ کی خوبصورت برتنوں، گھڑیوں، کپڑوں، الیکٹرانکس کی دکانیں جن میں صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے دکان دار اور ان کے ملازم موجود تھے۔ کئی دکانوں کے قریب سے گزرتے ہوئے اس میں اتنی ہمت بھی پیدا نہ ہو سکی کہ وہ ان میں داخل ہو کر کام مانگنے کی کوشش کرے۔ اسے اپنا ٹیلا یاد آیا جہاں دنیا جہان کے کچرے کا ڈھیر تھا وہا ں پہنچتے ہی اس کی خوداعتمادی کئی گنا بڑھ جاتی تھی۔ جہاں موجود لڑکوں سے وہ خود کو ہزار گنا بہتر سمجھتا تھا۔ مگر یہاں معاملہ بالکل الٹ تھا۔ یہاں اس کے منہ میں زبان لکڑی کی طرح سخت ہوگئی تھی۔ وہ دو چار کپڑے کی بنا شیشوں والے دروازے کی دکانوں پر رکا، مگر ان میں داخل ہو کر کام مانگنے کی جرات نہ کرسکا۔ اس نے سوچا کہ خربوزے والی گلی شائد ابھی اس کی پہنچ سے آگے کی دنیا ہے لہذ ا اسے اپنے مالک کی دنیا سے نکل کر کسی درمیانی دنیا میں جانا چاہیے جہاں سے وہ یہاں تک آنے کے آداب سیکھ سکے۔<br>
اس خیال کے بعد اسے خربوزے والے گلی میں رکنا بے سود معلوم ہونے لگا۔وہ وہاں سے نکلا اورداخلی دروازے سے اپنا سامان لیتا ہوا پیدل شہر کی سڑک پہ آ گیا۔ بازار کے سامنے کچھ عمارتیں تھیں جن پر نیلی تختیاں لگی ہوئی تھی اور مختلف زبانوں میں کچھ لکھا تھا۔ بڑی بڑی نئی طرز کی پرانی عمارتیں۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی سرکاری دفتر ہے جہاں حکومتی کام کاج آہستہ روی سے انجام دیا جاتا ہے تاکہ عمارت کی بوسیدگی مزید متاثر نہ ہو۔ عمارت گول چکر نما دائروں میں بنی ہوئی تھی جس کے گرد فٹ پاتھ تھا۔ وہ سڑک چھوڑکر اس فٹ پاتھ پر آگیا۔ شہر کی گلیوں میں گھومنا اسے یوں بھی پسند تھا لہذا بنا کسی مقصد کے وہ دیر تک ایک عمارت سے دوسری عمارت اور دوسری سے تیسری عمارت کی فٹ پاتھ پر چلتا رہا۔ کہیں کہیں پھلوں اور آئس کریموں کے ٹھیلے لگے دکھائی دیتے تو وہ رک کر کوئی پھل یا آئس کرئم خرید لیتا۔ الم غلم کھاتا ہوا وہ شہر کے جنوب کی جانب جا رہا تھا۔ مگر جنوبی حصہ یہاں سے خاصہ دور تھا۔ وہ چلتے چلتے ایک کالج کے سامنے سے گزرا تو چند خوبصورت لڑکیاں ہاتھوں میں کتابیں تھامے اس کےقریب سے گزریں۔ پھر کچھ لڑکے ۔ سب آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ وہ انہیں دیکھ کر خوش تھا۔ اس نے دیکھا کہ کالج کےگیٹ پہ کچھ لوگ جمع ہیں۔ ایک شخص چیخ چیخ کر بھیڑ سے کچھ کہہ رہا تھا۔ وہ تماشا دیکھنے آگے بڑھا تو آوازوں کا شور کچھ نزدیک آ گیا۔ جو لڑکا بھیڑ سے مخاطب تھا اس کی آواز میں اتنی کرختگی اور بھاری پن تھا کہ وہ اسے نئی معلوم ہوئی۔ اس نے آج سے پہلے ایسی آواز نہیں سنی تھی۔ اسے فوراً مجمعے کے نزدیک جانے کااپنا غلط فیصلہ لگنے لگا۔ وہ بھیڑ میں کھڑا ہو گیا اور اب چیختے ہوئے لڑکے کی آواز وہ صاف سن سکتا تھا۔ مگر وہ کیا کہہ رہا تھا اسے بالکل سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ زبا ن اس کے لیے اجنبی نہیں تھی مگر وہ جس موضوع پر بات کر رہا تھا وہ اس سے بالکل انجان تھا۔ اس نے محسوس کر لیا کہ یہ لڑکا کوئی سیاسی لیڈر ہے جو اپنے قریب کھڑے لوگوں کو جگانے کی کوشش کر رہا ہے یا پھر بڑھکانے کی۔ وہ اسے غصے میں دکھائی دے رہا تھا وہ بار بار ہاتھ اٹھا کر گیٹ کی طرف اشارہ کر تااور کچھ کہتا پھر ان چکردار حکومتی عمارتوں کی جانب اشارہ کرتا اور پھر کچھ کہتا۔ اس نے سمجھا کہ یہاں کسی پر ظلم ہوا ہے اور جو شخص چلا رہا ہے اس ظلم کو ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مگر تھوڑی ہی دیر میں وردی والوں کا ایک دستہ وہاں آن پہنچا۔ ان کے ہاتھوں میں لٹکی ہوئی بندوقیں دیکھ کر بھیڑ پوری طرح چھٹ گئی۔ وہ بھی راستے کی دوسری طرح گول چکر دار عمارتوں کی فٹ پاتھ پر آگیا۔ اب اس لڑکے کو پیٹا جا رہا تھا اور وہ اس پٹتے ہوئے عالم میں بھی چلا چلا کر پہلے کالج کے گیٹ کی طرف اشارہ کرتا اور پھر ان گول چکر دار عمارتوں کی جانب۔ وردی والے اسے کھنچتے ہوئے اپنی گاڑی تک لے گئے۔ اسے اس میں ڈالا اور گاڑی دوڑا دی۔ آخری بار اس کی نظر جب اس چیختے ہوئے لڑکے پر پڑی تو اس کے منہ سے ایک خون کی لکیر بہہ رہی تھی جس سے اس کی قمیض جگہ جگہ سے لال ہو گئی تھی۔ اس نے آسمان پر نظر ڈالی وہ بھی کہیں کہیں سے لال نظر آرہا تھا۔ اس نے سوچا کہ شام ہونے سے پہلے شہر کے جنوبی علاقے تک پہنچ جانا بہتر ہے ورنہ وردی والے سختی سے اس کی تلاشی لیں گے ۔یہ سوچ کر اس نے ایک سواری روکی اور اس پہ سوار ہو گیا۔</p>
<p>(جاری ہے)</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-2/">آوازوں والا کردار (دوسرا حصہ) — تالیف حیدر</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آوازوں والا کردار (پہلا حصہ) : تالیف حیدر</title>
		<link>https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-1/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[تالیف حیدر]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 11 Apr 2020 08:49:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Taleef Haider]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[تالیف حیدر]]></category>
		<category><![CDATA[طویل کہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24910</guid>

					<description><![CDATA[<p>تالیف حیدر: مگر اب شہر کا منظر تبدیل ہو چکا تھا لوگ کہتے تھے کہ نیا زمانہ آ گیا ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-1/">آوازوں والا کردار (پہلا حصہ) : تالیف حیدر</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><strong>اس طویل کہانی کی <a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/awazon-wala-kirdar/">مزید اقساط</a> پڑھنے کے لیے کلک کریں۔ </strong></p>
<p><strong>(1)</strong></p>
<p>کہانی کی ابتدا ہو چکی تھی۔ سارے کردار ایک دوسرے میں گندھے ہوئے زور زور سے چیخ رہے تھے، ایسا لگتا تھا کہ سب کو اپنے ہونے کا احساس دلانا ہے، کبھی گاڑی کے گزرنے کی آواز پس منظر سے ابھرتی تو کبھی ہوا میں جہازوں کے تیرنے کا شور سنا ئی دیتا۔ اچانک انسانی آوازوں کے درمیان سے گولی چلنے کی صدا بلند ہوئی۔ منظر میں لوگ تتر بتر ہونے لگے۔ جن کے ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں وہ زیادہ تیز ی سےدوڑ رہے تھے۔ شائد سبھی کوخود کوچھپنانے کے لیے ایک محفوظ مقام کی تلاش تھی۔ پھر اچانک دوبارہ گولی چلی اور چیخ و پکار اور تیز ہو گئی۔ اب آوازوں کا شور اتنا بڑھ گیا تھا کہ کان پڑے آواز نہیں ٹھہرتی تھی،اس بھگدڑ میں ٹین کے پتروں،لکڑی کے دروازوں، مرغیوں کی چیخوں اور کووں کی کائیں کائیں کہاں سے شامل ہو رہی تھی اس پہ غور کرنا مشکل تھا۔ بہت سے لوگوں نے اب خود کو پھوس کے ڈھیروں، مٹی کے تودوں، آدھی ٹوٹی ہوئی دیواروں، بیل گاڑی کے زنگ آلود چکروں کے پیچھے چھپا لیا تھا،پھر بھی وہ چیخے جا رہے تھے۔ گولی جب تیسری مرتبہ چلی تو لوگوں کی آواز اچانک رک گئی اور ہوا میں کسی کے پر پھڑ پھڑانے کی آواز تیز ہو نے لگی۔ کووں یا بازوں یا گدھوں کے پر یا کچھ ان سے بھی بڑے یعنی مور اور شتر مرغ کے پروں کی۔ اب منظر بھی بدل چکا تھا،لوگوں کی جگہ پرندوں سے بھرے آسمان نے لے لی تھی۔ یہ آوازیں انسانوں کی آواز سے زیادہ اکتا دینے اور ڈرانے والی تھی۔ پھر پرندے گرنے لگے اور ان کی آوازوں کے شور میں ایسی دھبدھباہٹ بڑھی کے اسے چونک کر چاروں طرف دیکھنا پڑا۔زمیں سمتل تھی، ہوامعتدل۔سورج کی تپش نے ہر شئے کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ دور دور تک نہ کوئی انسان تھا، نہ پرندہ۔ آسمان بالکل صاف تھا مگر پرندوں کے گرنے کی دھبددھباہٹ اب تک جارہی تھی۔ لمحے بھر کے لیے اس کا شور کچھ کم ہوا اور پھر بڑھتا چلا گیا۔ اس نے لاکھ چاہا کہ یہ آوازیں بند ہو جائیں مگر وہ جانتا تھا کہ یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی ایک منظر ابھرا اس منظر میں کچھ چہرے نمایاں ہوئے۔ کچھ دلکش تصویریں جن کی کشش نے اسے محو کر دیا۔ جیسے یہ منظر اور تصویریں ایک جال ہوں جو اسے آہستہ آہستہ اپنے پھندے میں پھانس رہی ہوں۔ پھر وہ ان میں کھوتا چلا گیا۔“نا عاقبت اندیش۔”</p>
<p>کسی نے گالی دی تو اسے لطف ملا، کسی نے منہ چڑایا تووہ مسکرا دیا اور پھر اسی طرح کبھی زمین پر الٹی رکابی کےرگڑنے کی آواز، کبھی شادیانوں کے بجنے کی صدا۔ کبھی بارش کی بوندوں کا شور اور کبھی بجلی کے تاروں میں دوڑتے ہوئے کرنٹ کا نغمہ۔ اس پر ایک رعشہ سا طاری ہو جاتا۔ وہ ان آوازوں سے اتنا خوف زدہ تھا کہ اب کسی بھی نئی آواز کو اپنے تجربے میں شامل کرنے سے بچنا چاہتا تھا۔ اس کے کانوں میں پڑنے والی ہر چھوٹی بڑی آواز اس کے لیے صدائے صور ثابت ہوتی تھی۔ اسے بچپن کی حکایت یاد آتی جو صور کے متعلق اس نے اپنے پڑوسیوں سے سنی تھی۔ وہ چاہتا کہ ہر طرف سے کان موڑ کر بیٹھ جائے۔ مگر پھر اچانک سب خود ہی ٹھیک ہو جاتا۔ ایسا کسی بھی وقت ہو سکتا تھا۔ کسی طے شدہ لمحے میں وہ آوازیں نہیں آتی تھی۔ بس وہ اٹھتیں، بڑھتیں اس کے خوف کو بڑھاتیں اس کی دل کی دھڑکنوں کو تیز کرتیں۔پھر اسے نڈھال کرتی ہوئی خود ہی ختم ہونے لگیں۔ وہ چاہے دیواروں سے سر مارے چاہے ان آوازوں کے پیداہونے اور بڑھتے چلے جانے پر غور کر ے، دونوں حالتوں میں اس کا انجام نڈھال ہوتابدن اور تھکادینے والا احساس ہی ہوتا۔ اس کی شدید خواہش تھی کہ وہ اب ان آوازوں کا عادی ہو جائے، مگر ایسا ہر گز نہ ہوااور اس کی وجہ ہر بار آوازوں میں پیدا ہونے والی تبدیلی ثابت ہوئی۔ اس مرتبہ جب اسے ہوش آیاتو اس نے سوچا کہ نہ جانے اگلی مرتبہ کون سا شور اس کے گلے پر چھری پھیرے گا۔</p>
<p><strong>(2)</strong></p>
<p>حفاظتی دستے شہر کے چاروں جانب پھیلے ہوئے تھے، ہر شئے اور ہر انسان کو مشکوک نگاہوں سے دیکھنے کے لیے انہیں حکومت ایک موٹی تنخواہ دیتی تھی۔ انہیں یہ حق حاصل تھا کہ وہ کسی بھی شخص کو روک کر اس کے کپڑے اتروائیں اس کے بدن کے سوراخوں کی جانچ کریں،جس کے لیے حکومت نے انہیں تربیت دی تھی، کچھ پائیں تو وہیں گولی مار دیں۔ شہر میں چتکبری وردی پہنے، چوڑے کندھوں والے بندوق لٹکائے سفاک چہروں کا زور اتنا بڑھ گیا تھا کہ اس کی آبادی متاثر ہونے لگی تھی۔ کہیں کوئی سیدھے منہ بات کرنے والا نوجوان وردی پوش کسی شہری سے ٹکرا جاتا تو شہر کے چند لوگوں پر ظاہرہوتا کہ یہ عہد ہی دہشت گردی کا ہے۔ ہر طرف ایک خوف ہے کہ لوگوں کو ایک ساتھ راکھ کا ڈھیر بنا دینے والی جماعتیں اپنے منصوبوں کو انجام تک پہنچانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں۔ ان دنوں شہر میں کئی حادثے بھی ہوئے تھے، مگر شہر والوں کو ایسا لگتا تھا کہ آگ کی لپٹوں میں ایک ساتھ بھسم ہو جانے والے لوگ ان سے زیادہ خوش نصیب تھے۔ انہیں جن نگاہوں کا سامنا کرنا تھا وہ ان کی روح میں ارتعاش پیدا کر دیتی تھیں۔ ہر شہری کو ایسا محسوس ہوتا کہ شائد وہ ہی اس دہشت گردی کے ماحول کو پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ وردی والے شہر کی گلیوں میں چکر لگاتے ہوئے کسی کے بھی گھر میں داخل ہو جاتے۔ ان گھروں کی بنا کسی کاغذ پتر دکھا ئے تلاشی لیتے اور اسی تلاشی کے دوران اپنے اندر چھپی حکومت کے خلاف نفرت کو گھر کے مکینوں پر انڈیل دیتے۔ اس آگ سے وہ ایک بار میں جل کر بھسم تو نہیں ہوتے تھے، مگر ان کے ہاتھ، پاوں ضرور جھلس جاتے۔ کسی بھی گھر میں برتنوں کے بجنے کی آواز بھی وردی والوں کو اس گھر میں داخل ہونے کا پرمٹ عطا کر دیتی تھی۔<br>
آخری مرتبہ پچھلے مہینے ایک دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا جس نے شہر کی تین عمارتوں کو مٹی کے ڈھیر میں بدل دیا تھا۔ شہر کے حفاظتی دستوں کو اس حادثے کی خبر اس وقت ملی جب دھواں آسمان میں تحلیل ہونے لگا۔ شہر کی خوبصورتی کی ذمہ داری اب ہاتھوں میں بندوق تھامے جمالیاتی حس سے نابلد انسانوں کے ہاتھوں میں تھی۔ وہ مجبور تھے، انہیں حکومت کا سونپا ہوا فرض پورا کرنا تھا اور حکومت کو عالمی منڈی میں اپنے جلتے ہوئے شہر کی جھولی پھیلا کر سرمایہ داروں سے رقم وصول کرنا تھی۔ اس لیے کبھی شہر بد نیتوں کی کار گزاریوں سے جلتا اور کبھی ہمدردوں کے بھوکے پیٹوں میں لگی ہوئی آگ سے۔یہ روز کا قصہ تھا۔ صبح سے شام تک شہر چھاونی بنا رہتا۔ اوپر سے لی ہوئی تصویروں میں یہ انجان وردی والے شہر کی حفاظت کرتے ہوئے معلوم ہوتے۔ مگر اس کے درمیان میں پلنے والے آٹھ، دس برس کے بچے انہیں دبے منہ گالیاں دیتے جو انہوں نے اپنے خاموش کمروں میں آدھی رات کو اپنے بڑوں کے منہ سے سنی تھیں۔</p>
<p>یہ زمانہ 9\11کے بعد کا تھا۔ وہ بھی اسی شہر میں رہتا تھا۔ شہر کے مغربی کونے میں جہاں تک خوش حالی کا سورج سب سے آخر میں پہنچتا تھا۔ شہر کا یہ حصہ بقیہ شہر سے مختلف تھا۔ یہاں خوبصورت عمارتیں کم نظر آتی تھیں۔ مگر چکنے اور چوڑے راستوں کی بھر مار تھی۔ جگہ جگہ مٹی کی کھچی چار دیواریوں پر کچی انیٹوں کی کھپریلیں پڑی تھیں۔ضرورت کی اشیا کے نیم تاریک کارخانے تھے۔ گھنی آبادی کے درمیان سلائی مشینوں کا بازار تھا اور کارچوبی کے اڈے جگہ جگہ لگے ہوئے تھے۔ شہر کا سب سے زیادہ تمباکو یہیں کھایا، چبایا اور اڑیاجاتا تھا۔ مختلف قسم کی نشہ آور چیزیں پان کے کھوکھوں اور پرچون کی دکانوں پر بکتی تھیں۔ جو زیادہ نظر میں آنے والی اشیا تھیں ان کا بازار ریت کے ٹیلے کی جانب تھا جہاں کا دریا اب بدبو دار نالا بن چکا تھا جس میں کوڑے کی مقدار اتنی بڑھ گئی تھی کہ دریا کی زمین کالی اور دلدلی ہوچکی تھی۔ اس دریا کے اطرف کی زمین جہاں بنجر کھیت نما مربعےابھرے ہوئے تھے ان میں نشے کا قیمتی کاروبار ہوتا تھا۔ اس کا گھر اس دریا سے تین کوس شمال کی جانب تھا۔ وہ بھی کبھی کبھی شہر کے وردی والوں سے اکتا کر ادھر چلا آتا جہاں کی دنیا اسے ملبے میں دبے سامان کی مانند لگتی تھی۔ جس پر اتنی گرد جم گئی تھی کہ اسے چھونے کا خیال بھی صاف اور دھلی ہوئی وردیوں میں ملبوس سپاہیوں کو نہیں آتا تھا۔ وہ یہاں اکثر ایک کونے میں بیٹھے دس، بارہ برس کے بچوں کو دیکھتا جو مہنگے نشے کا لطف لینے سے محروم دروازوں پہ کی جانے والی پالش کے رنگوں کو مٹھی بھر کپڑوں میں بھگو کر سونگھتے تھے۔جس سے انہیں ویسا ہی نشہ ملتا جیسا افیم اور چرس کے نشے میں ڈوبے جوان امیر زادوں کوحاصل ہوتا۔ انہیں میں کچھ کچرے کے ڈبوں میں پڑی ہوئی خالی وکس اور آیو ڈیکس کی شیشیوں کو جمع کر کے ان کو سونگھتے دکھائی دیتے اور کچھ کھانسی کے ایکسپائر سیرپوں سے اپنے نشے کی طلب کو بجھاتے ہوئے۔ وہ کبھی کبھی اسی بنجر زمین کے ٹکڑے پر بیٹھ کر ایک آدھا سگریٹ پیتا یا وہ دستیاب نہ ہوتی تو دو تین بیڑیاں پی کر شہر کےاس چوڑے راستے پر اپنی نظریں جما دیتا جہاں سے بڑی بڑی گاڑیاں ان بستیوں کو منہ چڑھاتے ہوئے تیزی سے گزر جاتیں۔</p>
<p>اسے بعض مرتبہ پورا شہر ایک بڑے کوڑے دان کی مانند لگتا تھا۔ جہاں گندگی اور غلاظت کا دھیر ہے اور طرح طرح کی بد بوئیں اٹھ رہی ہیں۔ وہ جانتا تھا کہ شہر اصل میں ویسا نہیں ہے جیسا اس کے جنوبی علاقے کے بعض حصے ہیں، مگر اس کے باوجودوہ اپنے اس خیال سے فرار حاصل نہیں کرپاتا تھا۔بس وہ یہ سوچ کر خوش ہو جاتا تھا کہ اس کا جواز اسے انسانوں کے اندر پلنےوالے خوف اور ڈر کی شکل میں بھی مل جاتا ہے۔ یہ شہر جہاں عالی شان کوٹھیاں بھی تھی اور فلک بوس عمارتیں بھی، صاف اور شفاف جھیلیں بھی تھیں اور خو ش فضا پہاڑی علاقے بھی وہ اسے اپنی طرح بنا نے کے لیے قدر مشترک کے طور پر ڈر کا استعمال کرتا۔ اسے معلوم تھا کہ گزشتہ برس اس ملک کی ایمبسی میں جس کا بہت سا قرض اس شہر پہ چڑھا ہوا تھا ایک دھماکے کے بعد یہ شہر خوف کی چپیٹ میں آ گیا تھا۔ عمدہ قالینوں اور صاف ستھر ےخوشبو دار کمروں میں رہنے والے نرم و نازک لوگ اب عام وردی والوں سے ویسے ہی ڈرتے تھے جیسے اس کے علاقے والے ان دکان داروں سے خوف کھاتے تھے جہاں سے ان کے گھروں میں ادھار اناج آتا تھا،وہ دکان دار اپنی موٹی توند لیے ہڈیوں سے بھری ہوئی شکلوں والے جوان، بوڑھے اور ادھیڑ عمر کے لوگوں کو موٹی گالیاں دیتے، ان سے اپنے قرض کی وصولیابی کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے اور پھر اگلا ادھار دیتے تاکہ ان کی حکومت قائم رہے۔ تھیلی بھر اناج اور ایک بوتل تیل کی بدبو میں لپٹے ہوئے اپنے اطراف کے لوگ اسے ان سیٹھوں کی طرح لگتے جن کا چہرہ بندوق کی نالیوں کو دیکھ کر پیلا پڑجاتا تھا۔ وہ امیر زادے اپنی گاڑیوں سے شہر کی صاف سڑکوں سے یوں گزرتے جیسے انہوں نے گاڑیاں خرید کر غلطی کی ہو۔ وردی والے انہیں کہیں بھی روک سکتے تھے۔</p>
<p>شہر کی حالت اب اپنے ماضی سے بالکل مختلف تھی، اس نے سوچا کہ یہ جنوبی علاقہ جس کے متعلق اس کے پڑوسیوں نے اسے بتایا تھا کہ کبھی یہ شہر کا دل ہوا کرتا تھا، مگر اب یہاں کچرے کا راج ہے اور وہ علاقہ جہاں تم اب لمبی اور چکنی عمارتیں دیکھتے ہو کبھی خاک کا ڈھیر تھا۔ وہ سوچتا کہ ایسا ہی ہوگا۔ کیوں کہ اس نے اکثر شہر میں داخل ہوتے ہوئے صاف ستھرے علاقوں کی سر حد پہ بھر بھرے لال مٹی کے میدان دیکھے تھے۔ اسے لگتا کہ یہ مٹی نئے شہر نے پرانے شہر کے گلی کوچوں سے چرائی ہے۔ وہ اسی مٹی سے نیا شہر تعمیر کر رہے ہیں اور جتنا شہراسے بد نما نظر آتا ہے وہ اس مٹی سے محروم ہونے کی وجہ سے ہی بد نما ہوا ہے۔ اس نے سوچا کہ اسی لیے ہم شہر کے جنوب میں آباد ہیں کیوں کہ شہر والوں نے انہیں نیچے کی طرف دھکیل دیا ہے جہاں مٹی نکلنے کی وجہ سے گڑھا بن گیا تھا۔ اسے اپنا علاقہ گڑھا نما لگتا اور پھر وہ جس سواری سے شہر میں داخل ہو رہا ہوتا وہ اچانک اسے نیچے کی طرف گرتی ہوئی معلوم ہونے لگتی۔ وردی والوں کے آنے سے پہلے اور بہت پہلے اس جنوبی علاقے میں ایک نہر تھی جس میں شفاف پانی بہتا تھا۔ پرانی طرز کی رنگین عمارتیں تھیں۔ چھوٹی گلیاں ایسے شہر کو سجائے ہوئے تھیں جیسے کسی مصور نے اپنے کینوس پر درخت کی پتلی شاخیں بنائی ہوں۔ گلیوں کے تنگ ہونے کا جواز یہ تھا کہ لوگ ایک دوسرے کے قریب رہنا چاہتے تھے۔ ان میں محبت تھی وہ صبح کے ناشتے سے رات کے کھانے تک کھڑکیوں سے منہ نکال کر ایک دوسرے سے باتیں کیا کرتے۔ رنگوں اور خوشیوں کے تہواروں میں گھر سے لگی کھڑکیوں سے ایک دوسرے کے گھروں میں داخل ہوتے۔ کسی کے گھر میں شادی بیاہ ہوتی تو پورا علاقہ اس گھر کو اپنی بانہوں میں لے لیتا۔ باہر مسجدیں تھیں، مندر تھے گرودوارے تھےاور بھی مختلف قسم کے عبادت گھر جو قطار اندر قطار آبادتھے۔ فقیرو ں کی ٹولیاں ان عبادت گھروں کے باہر جمع رہتی تھی، مگر لوگ انہیں حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے، بلکہ انہیں عبادت گھروں کا محافظ تصور کیا جاتا تھا۔ بازار اور چوراہوں پر قندیلیں اتنے سلیقے سے لٹکی ہوئی تھیں کہ پورا شہر رات میں نگار خانہ معلوم ہوتا تھا۔ لڑنے کے مواقع اور موضوعات کم تھے۔ جن کا پیشہ سپاہ گری تھا وہ بھی عوام کے گلوں میں ہاتھ ڈال کر گھومتے تھے۔</p>
<p>مگر اب شہر کا منظر تبدیل ہو چکا تھا لوگ کہتے تھے کہ نیا زمانہ آ گیا ہے۔ اسے اپنے بدبو دار علاقے میں نیا زمانہ کہیں نظر نہیں آتا تھا۔ نیا زمانہ ہی اس کے کانوں میں شور گھولتا تھا اس نئے زمانے کی ہیبت سے اس کا دل گھبرانے لگتا اور وہ اسی ٹیلے پر چلا جاتا جہاں سے صاف شفاف سڑک اور اس پر دوڑتی ہوئی رنگ برنگی کاریں نظر آتیں۔ وہ جب شاہراہ کے اس منظر کا لطف لے رہا ہوتا تو آسمان اسے پس منظر میں رقص کرتا نظر آتا جیسے سب کچھ ٹھیک ہے، ہر طرف امن ہے اور وردی والے یہاں سے کوسوں دور دور تک کہیں نہیں ہیں۔</p>
<p><strong>(3)</strong></p>
<p>آج صبح جب آنکھ کھلی تو اس کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا، اس نے خواب میں پھر ایک نئی قسم کی آوازوں کا شور سنا تھا، چمنی کے ٹوٹنے کی آوازیں۔ ان آوازوں نے اس کے کان میں ایسی قیامت برپا کی کہ اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے اپنے ماتھے پہ ابھرا ہوا پسینہ پوچھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ آواز اس کے تجربے کا حصہ کیسے بنی تھی۔ ابھی دو روز پہلے اس نے ایک چمنی کے کار خانے میں نوکری حاصل کی تھی جہاں چمنی بننے کے علاوہ کانچ کی مختلف چیزیں بنتی تھیں۔ یہ کا ر خانہ اس کے گھر سے اتنی ہی دور تھا جتنا وہ ٹیلا جہاں نشے کی دکانیں آباد تھیں۔ بس فرق یہ تھا کہ یہ ایک گھنے اور کاروباری علاقے میں تھا، جہاں شراب کی بوتلیں، کاغذ کے رنگین صفحے، پلاسٹک کے برتن اور لوہے کے اوزار بنتے تھے۔ اس نے یہ نوکری خود حاصل کی تھی۔ دو، چار روز قبل وہ اپنے گھر سے ٹہلتا ہوا ادھر آ نکلا تھا اور مختلف کارخانوں میں پوچھ تاچھ کرتے ہوئے اس کارخانے تک رسائی حاصل کر لی تھی جہاں سینٹ کی بوتلوں کو چمنی سے کھینچ کر نکالنے کے لیے ایک آدمی کی ضرورت تھی۔ جب چمنی کے مالک نے اسے کام کی نوعیت بتائی تو وہ نوٹ گن رہا تھا۔ اس نے کام بتایا، ایک لڑکے کو آواز دے کر اسے چمنی دکھوائی اور نوٹوں پر نظر یں جمائے ہوئے پوچھا کہ اس کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نے جھٹ سے اثبات میں سر ہلا دیا یہ جانے بنا کہ چمنی سے بوتلیں نکالنے اور انہیں لوہے کی کھپچیوں سے کھینچ کر گتے کے ڈبوں میں بند کرنے میں اسے کتنی مشقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جس کے عوض میں اسے ساٹھ روپیہ دن کا ملے گا۔ اس کی نگاہ چمنی کے مالک کے ہاتھوں میں پھنسے نوٹوں اور اپنے ساٹھ روپیوں پر تھی۔ یہ سوچنا بھی اس کے لیے غیر ضروری تھا کہ اسے کیا کرنا ہے۔ وہ کئی طرح کے ایسی ہی کام اس سے پہلے بھی کر چکا تھا لہذا اس کے لیے یہ کوئی بڑا مشکل مرحلہ نہ تھا۔</p>
<p>دوسرے روز سے اس نے کار خانے جانا شروع کر دیا تھا۔ دن بھر وہ کئی سو ڈگری سیلسیس گرم بھٹی کے منہ پر کھڑا رہتا ایک لوہے کے لمبے سریے سے جس کے منہ پر کسی مضبوط دھات کا کنڈہ جڑا ہوا تھا ان ریکوں کو باہر کھینچتا جن میں کانچ کی پکی ہوئی سینٹ کی بوتلیں لوہے کی کھپچیوں میں پھنسی ہوئی ہوتیں۔ ایک موٹے کپڑے کا جس کے منہ پر چمڑے نما تھیلی کا تلا بنا ہوا تھا دستانہ پہن کر اس ریک سے بوتلوں کو کھینچ کر دفتیوں کے ڈبوں میں ڈالتا اور انہیں بند کر کے آگے سرکا دیتا۔ صبح سے دو پہر اور دو پہر کے کھانے کے بعدسے شام تک وہ اسی کام میں جٹا رہتا تو شام کو چھے بجے اس چمنی کا مالک اس کی ہتھیلی پر ساٹھ روپیہ رکھتا۔ وہ ساٹھ روپیہ اسے اپنی اوقات سے زیادہ معلوم ہوتے۔ جب وہ مالک سے پیسے وصول کرتا تو اسے لگتا کہ چمنی کا مالک کتنا احمق ہے کہ اتنے ہلکے کام کے اسے ساٹھ روپیے روز دیتا ہے جب کہ یہ کام وہ اس سے آدھی رقم میں بھی کر سکتا ہے۔ چمنی کا مالک اسے روز پیسے دیتے وقت یہ پوچھنا نہیں بھولتا تھا کہ کل وہ کس وقت آئے گا۔ اسے یوں لگتا جیسے وہ ہر مرتبہ پوچھ کر یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ کل سے وہ کام پر آئے گا بھی یا نہیں۔ وہ دوسرے دن آنے کا وقت بتاتا اور مالک اگلے لڑکے کی طرف متوجہ ہو جاتا۔</p>
<p>(جاری ہے)</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-1/">آوازوں والا کردار (پہلا حصہ) : تالیف حیدر</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>زنجیر ( ایک کہانی ڈائجسٹ کے رنگ میں) — ذکی نقوی</title>
		<link>https://laaltain.pk/zanjeer/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/zanjeer/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ذکی نقوی]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 05 Apr 2020 15:20:26 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Haitham Adjina]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[zaki naqvi]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[ذکی نقوی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24876</guid>

					<description><![CDATA[<p>ذکی نقوی:<br />
تصور نے گود میں سوئی کم سن بیٹی کو سہلاتے ہوئے آہستہ سے سونیا کی طرف دیکھ کر کہا۔ سونیا نے کچھ جواب نہ دیا، بس ہاتھ کا اشارہ کیا جس کا مطلب تھا کہ سارہ کو اس کے برابر لٹادیا جائے۔ تصور نے ننھی سارہ کو اس کی ماں کے پہلو میں لٹا دیا۔ سونیا نے چہرہ گھما کر سوئی ہوئی بیٹی کی طرف دیکھنا شروع کر دیا اور مسکرانے لگی۔ </p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/zanjeer/">زنجیر ( ایک کہانی ڈائجسٹ کے رنگ میں) — ذکی نقوی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>تصور اور سونیا کی شادی بڑے پاپڑ بیلنے کے بعد ہوئی تھی۔ دسویں جماعت کے زمانے میں تصور علی کانونٹ اسکول میں پراکٹر بنا تو تب سونیا اسکول کی تمام تقاریب میں ملی نغمے، نعتیں اور مسیحی گیت سُنا کر داد سمیٹا کرتی تھی۔ اُس کی آواز کی تعریف تو سبھی کرتے تھے لیکن تصور علی تعریف سے تھوڑا آگے بڑھا اور اُس سے محبت کر بیٹھا۔ یہ عمر۔۔۔، دسویں گیارہویں جماعت کی طالب علمی کی عمر بڑ ی منہ زور ہوتی ہے۔ تصور نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ، سونیا سے اظہارِ محبت بھی کرمارا۔ لیکن گڑ بڑ یہ ہوئی کہ اظہارِ محبت کا خط، جو کہ جنونِ عشق کی سطور اور اس کی تائید میں اشعار سے خوب مرقع تھا، غلط ہاتھ میں جا پہنچا اور دونوں کی پیشی پرنسپل، چوہدری وکٹر ممتاز کے پاس ہوئی۔ پرنسپل موصوف اپنے بددماغ اور سخت ہونے کی وجہ سے طلبا میں مشہور، یا بدنام، جو کہہ لیں، تھے۔ سونیا تک تو یہ خط پہنچا ہی نہ تھا سو اس نے معصومیت سے روتے ہوئے قسم کھا لی کہ وہ اس معاملے سے مکمل لا علم اور بے قصور تھی، تصور نے چھاتی ٹھونک کر اقبال ِ جرم کر لیا! فلم اسٹار بنے کا شوق تو اسے تھا ہی، یہاں صورت حال بھی بڑی فلمی سی بن گئی تھی کہ محبوب سامنے اور الزامِ محبت کا ٹھینگا سر پر، جراتِ رندانہ کیوں نہ آتی۔ چوہدری صاحب نے ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کر کے جو تصور کا پراکٹر والا امتیازی سیش کھینچ اُتارا تو یہی سزا کافی سمجھی گئی۔ البتہ اس سے یہ ہوا کہ جو کام وہ خط بخوبی نہ کرسکا، یہ تھپڑ اور”تنزلی” کر گئے۔ سونیا کے کم سن اور بھولے بھالے دل میں تصور کے لئے ہمدردی اور محبت کے وہ جذبات پیدا ہوئے کہ شاید خط پڑھنے سے کبھی نہ ہوتے۔ یہ عمر جلد باز ہوتی ہے لہٰذا طرفین سے اظہار، اقرار اور پختہ عہد و پیمان کی منزلیں طے ہونے میں بہت کم وقت لگا۔ موٹی موٹی آنکھوں، سانولی رنگت، میانہ قد اور واجبی سی ذہانت کی مالک طالبہ سونیا اپنی ہم سنوں میں ماسوائے اپنے خوش گلو ہونے کے، کسی وجہ سے نمایاں بھی نہ تھی البتہ تصور خوش شکل، لائق اور اچھے قد قامت کا ہونے کی وجہ سے لڑکوں میں نمایاں تھا، تو سونیا نے بھی اس نعمت کا کفران نہ کیا اور اُسے دل و جان سے چاہا۔</p>
<p>اس محبت میں آنے والے سالوں میں بھی کمی نہ آئی۔ ادھر کبھی سونیا روٹھ جاتی تو تصور، جو اب شعر بھی کہنے لگا تھا، اس کے لئے کوئی غزل یا نظم کہہ کر اُسے سناتا تو وہ رام ہو جاتی۔تصور شعر اچھے کہہ لیتا تھا لیکن اگر اچھے نہ بھی ہوتے تو کیا، سونیا جو ایف۔اے سے آگے پڑھ سکی تھی نہ کوئی ادبی ذوق رکھتی تھی، اُس کے لئے یہ بھی بڑی بات تھی کہ کوئی اس کے لئے شاعری کیا کرتا تھا۔ تصور نے البتہ مشقِ سخن بھی جاری رکھی اورتعلیم بھی بی۔اے تک پہنچا کر وسط میں چھوڑی۔</p>
<p>دونوں کے لئے ایک اندیشہ ان برسوں میں جانکاہ سوال بن کر لٹکا رہا اور وہ یہ تھا کہ اب شادی کے بندھن میں بندھنا تو ناممکن نظر آرہا تھا، تو پھر یہ عمر کیونکر گزرے گی؟ تصور علی کے والد اگرچہ پابندِ شرع لیکن سمجھدار آدمی تھے تاہم ایک کرسچن لڑکی کو بہو بنانا اُن کے لئے یقیناً ناقابلِ قبول تھا۔ ادھر ماسٹر رحمت مسیح جو کہ ٹیچر نہیں بلکہ ہارمونیم کا اُستاد ہونے کی وجہ سے ماسٹر کہلاتا تھا، بہت مذہبی قسم کا کرسچن تھا لیکن اپنی بیٹی سے بھی بے پناہ محبت کرتا تھا۔ اس کے باوجود وہ بھی شاید کبھی ترکِ مذہب کے ساتھ اپنی بیٹی کے ہاتھ پیلے نہ کرتا۔</p>
<p>اُن دونوں کی اب تک کی داستانِ محبت میں سب سے کٹھن موڑ تب آیا جب سونیا کی شادی اُس کے دُور کے رشتے داروں میں طے ہونے لگی۔ سونیا کی بڑی بہن اُس کی ہمراز تھی، اُس نے بھانڈا پھوڑ دیا تو ایک بار تو ماسٹر رحمت مسیح کے گھر میں موت کا سا سناٹا چھا گیا۔ سونیا کی ما ں کا پھسر پھسر رونا ہی رُکنے میں نہ آرہا تھا اور حالت اُس کی اپنی بھی کم دگرگوں نہ تھی۔ ادھر تصور اُن لوگوں میں سے تھا جو زندگی میں ایک ہی دفعہ محبت کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں لیکن پھر اس محبت کے لئے سب کچھ کر گزرتے ہیں۔ وہاں جو ماسٹر رحمت مسیح کے گھر میں تناؤ کی صورتحال بڑھی تو یہاں تصور نے اپنے ماں باپ کے پاؤں آلیے۔ کافی طویل مباحث ہوئے، بزرگوار آدمی معقول تھے لیکن اسی شرط پہ مانے کہ لڑکی اسلام قبول کرلے تو انہیں کوئی اعتراض نہ ہو گا۔ تصور بصد مشکل ماسٹر رحمت مسیح کو اپنے باپ کے پاس لے آیا۔ ماسٹر نے بسیار سماجت کی کہ ملک صاحب، آپ تو سماج کا دباؤ اُٹھا سکتے ہیں، معزز آدمی ہیں میں غریب آدمی ہوں، مان لیجئے، سونیا کے ترکِ مذہب پہ زور نہ ڈالیں، پھر اسلام نے تو اس کی اجازت بھی دے رکھی ہے۔ پھر پاسٹر یعقوب بھی قرآن کی تفسیر اور سفید ڈاڑھی لے کر بیچ میں آئے تو بھی تصور کے ابا اسی صورت قائل ہوئے کہ اگر سونیا نے قبولِ اسلام نہ کیا اور تصور کی بیوی بنی تو وہ اس تمام معاملے سے لاتعلق ہوں گے اور بیٹے کو فارخطی دے دیں گے۔ اس بات کا کہیں ذکر نہ تھا کہ سونیا بیچاری تو اب قبولِ اسلام کیلئے بھی راضی تھی۔ خیر، قصہ مختصر، ماسٹر رحمت مسیح سے بیٹی کی مایوسی اور پژمردگی دیکھی نہ گئی اور وہ ایک شکستہ و آزردہ دل کے ساتھ سونیا کو خود مولوی کفایت اللہ کے پاس قبول اسلام کے لئے لے گئے اور بعدہ،اُس کا ہاتھ تصور کے ہاتھ میں تھما دیا۔ مختصر سی بارات کو مٹھائی کھلائی گئی، کھانے کا انتظام بھی تھا لیکن سوائے تصور، اس کے ابا اور شہبالے کے، کسی مسلمان باراتی نے عیسائی کے گھر سے کھانا کھانا مناسب نہ سمجھا البتہ سونیا کو سعدیہ فاطمہ بنا کر بڑے فاتحانہ جوش و خروش کے ساتھ بیاہ لائے۔</p>
<p>ماسٹر رحمت مسیح مدت سے کرائے کے مکان میں رہتے تھے، اب کرسچن کالونی میں رہنا ممکن نہ رہا تھا، وہاں سے تھوڑے ہی عرصے میں اپنے آبائی گاؤں چک ۵۷ کی طرف نقل مکانی کر گئے۔تاہم سونیا شادی کے بعد بھی مائیکے آتی جاتی رہی۔ ایک بات، جس کا شاید کسی کو علم نہ تھا، وہ یہ تھی کہ تصور علی کو اس سارے اہتمام کا دِلی دُکھ تھا لیکن وہ کسی سے اس کا اظہار نہ کرتا تھا۔اور اس نے شادی سے اگلی ہی صبح کہہ دیا تھا،</p>
<p>“سونی! تُم اس کمرے کی تنہائی میں سونیا ہی رہو گی، باہر دُنیا کی نظر میں سعدیہ فاطمہ بن کے رہو تو رہو۔۔۔”</p>
<p>اس کے بعد وہ جب بھی مائیکے جاتی، ماں باپ کے ساتھ مل کر مسیحی گیت بھی گاتی، بائبل مقدس بھی پڑھ لیتی اور یہاں سسرال میں گیارہویں کی نیاز بھی پکاتی اور عاشور کے جلوسوں میں بھی حاضری کی حد تک چلی جاتی تھی اور تصور نے کبھی اس پر اعتراض نہ کیا۔ ان کے کمرے میں جو چہار اصحاب کے ناموں والی لوح آویزاں ہے، اُس کے نیچے اب بھی سونیا کے ہاتھ کی لگائی پلاسٹر آف پیرس کی تختی لٹکی ہے جس پر لکھا ہے؛<br>
“GOD IS LOVE!”</p>
<p>اور وہ اس سب کے باوجود فتووں اور زجر و توبیخ سے اس لیے بچے رہے کہ کوئی ان کی ذاتی زندگی میں جھانکنے کی زحمت نہ کرتا۔ سعدیہ فاطمہ کو سسرالی رشتے داروں نے بھی سونیا ہی سمجھ کے نظر انداز کیا جس پر وہ بھی خوش تھی اور اپنے حال میں مگن۔</p>
<p>تصور شاعر کے طور پر تو خوب جانا جاتا تھا لیکن ایک چھوٹے سے اخبار سے وابستہ ایک صحافی کے طور پر کامیاب نہ تھا۔ ساتھ تصور نے آس پاس کے دیہی علاقوں میں سولر پلیٹیں بیچنے کا دھندا بھی آغاز کر دیا جو کہ بہت کامیاب تو نہ تھا لیکن فقط گزر بسر کے قابل ہی آمدن تھی۔ پھر سونیا نے ایک نجی اسکول میں پڑھانا شروع کر دیا تو چند ہزار روپے اس مد میں بھی ماہانہ گھر آنے شروع ہو گئے۔تصور عملی زندگی میں غریب ہی نہیں، کافی پھانک آدمی تھا لیکن سونیا نے اس کا احساس ہی نہ ہونے دیا کیونکہ وہ عورت مالی معاملات میں کمال کی سلیقہ شعار نکلی۔</p>
<p>زنجیر کا قصہ تو یہاں سے شروع ہوتا ہے کہ ایک زنجیر تھی۔۔۔ محبت کیلئے ذات پات، رنگ مذہب کی زنجیروں سے باغی ہونے والے تصور کو سونے کی اس باریک سی زنجیر سے وہ لگاؤ تھا کہ سونیا بھی حیران ہو کر ہنس دیتی۔ سونیا کی ماں نے پائی پائی جوڑ کر نجانے کتنے عرصے میں اُس کے جہیز کے لئے گلے میں پہننے کی ایک زنجیر بنوا رکھی تھی جسے ہم انگریزی میں ’چین‘ کہتے ہیں۔ شادی کے بعد ایک شب بہت قربت کے لمحوں میں تصور نے محسوس کیا کہ جب سونیا کے اُجلے، سانولے جسم پر، یعنی گردن میں فقط یہ سنہری زنجیر ہوتی ہے تو اُس لمحے اُس کا جسم کسی دیومالا کی دیوی کی طرح ایک پر اسرار سے، ملکوتی حُسن کا پیکر لگتا ہے۔ایسے میں وہ دیر تک ٹکٹکی باندھے اُس کے گلے اور سینے پر کسی خوابیدہ سی سنہری پٹڑی کی طرح بچھی پیچدار زنجیر کو دیکھتا رہتا حتیٰ کہ سونیا شرم سے سمٹنے لگتی اور اور اوڑھنی یا دوپٹے سے اپنا سینہ چھپا لیتی،</p>
<p>“پاگل ہو گئے ہو تصور؟” اور ہنس دیتی۔ “کتنے بے شرم ہوتے ہو تم شاعر لوگ!” اور تصور اسے بازوؤں میں سمیٹ لیتا لیکن اس کیفیت کا بیان جن الفاظ کا محتاج تھا، وہ االفاظ اس شاعر کے پاس ہنوز نہ تھے۔</p>
<p>شادی ہوئے دو سال ہونے کو آئے تھے اور ایک مرد کے لئے عورت کے جسم سے سیر ہوجانے کے لئے یہ عرصہ کافی ہوتا ہے لیکن تصور کے ہاں صورتحال مختلف تھی۔ دن بھر کے کام کاج کے دوران عام سی عورت، سعدیہ فاطمہ جب رات کو اُس کے پہلو میں سونیا بن کر آتی اور اُس کے سینے پر، جہاں سے چھاتیوں کے اُبھار آغاز ہوتے ہیں، ایک سنہری زنجیر، سانولے رنگ پر پیچ و تاب کھارہی ہوتی تو تو وہی عورت تصور کے لئے حُسن ِ انسان کا حرفِ آخر بن جاتی، اُس کے فکر سخن کیلئے مہمیز بنتی۔ اس کے برہنہ سینے پہ لوٹتی فقط ایک زنجیر میں تصور کے ذوقِ نظارہ کیلئے و ہ سیرابی تھی کہ ایک عرصے تک اُس کے جسم کے دیگر اُبھار اور خم تصور کی خصوصی توجہ حاصل نہ کر سکے تا آنکہ سونیا کا پیٹ اُمید کی بلندی تک اُبھرنے لگا؛ وہ ماں بننے والی تھی۔ دونوں بے حد خوش تھے کہ زندگی میں ایک معصوم سا غلغلہ اور ہنگامہ بہت سی رجائیت کا جواز بن کر آنے والا تھا۔</p>
<p>“سونیا! تُم اب بھی حسین ہو اور چار بچوں کی ماں بن کے بھی یونہی حسین رہو گی!” وہ اُس سنہری زنجیر کے پس منظر میں سونیا کے سینے پر نظریں جمائے کہتا اور سونیا سمٹ کر موضوع بدل جاتی جو اب زیادہ تر ان کے متوقع بچے کے بارے میں ہوتا۔ کبھی بچے کے نام کا مسئلہ زیرِ بحث آتا تو کبھی یہ کہ سوال کہ وہ بڑا ہو کر کیا بنے گا ؟ اور یہ سوال کہ وہ اپنی ماں کی طرح ہو گا یا باپ کی طرح ہو گا یا پھر یہ کہ بچے کی پیدائش کے بعد اُن کی محبت بَٹ جائے گی یا بڑھ جائے اور اختتام پہ کچھ دیر وہ ان سوالات کے احمقانہ ہونے پر ہنستے رہتے اور تصور کی نگاہیں پھر وہیں زنجیر پر جا رُکتیں جہاں سے بات آغاز ہوئی تھی اور سونیا پھر شرما کر اوڑھنی اوڑھ لیتی، “بے شرم شاعر”</p>
<p>ایک دفعہ قربت کے ایسے ہی ایک لمحے میں جب تصور اس کے سینے پر لوٹتی سنہری زنجیر کو سانولے سلونے ابھاروں کے درمیان پیچ در پیچ سمٹی ہوئی حالت میں دیکھے جا رہا تھا، اور سونیا نے اپنی چھاتیوں کو آدھا ڈھانپ رکھا تھا جبکہ وہ حسب معمول اپنے آنے والے بچے کے بارے میں باتیں کررہے تھے تو سونیا چونکی،</p>
<p>“تصور! تُم میرے ہونے والے بچے کیلئے ایک نظم لکھو، بچوں والی نظم”</p>
<p>“مجھے کیا خبر تمہارے بیٹی ہو گی یا بیٹا۔۔۔”</p>
<p>“ہوں۔۔۔ تُم وہ نظم لکھو جو بیٹے کیلئے بھی ہو اور بیٹی کیلئے بھی۔۔۔”</p>
<p>سونیا نے مسکرا کر کہا تو تصور بھی کچھ دیر گہری سوچ میں ڈُوبا مسکراتا رہا۔ بیچ میں وہ انگلی کی پوروں سے سونیا کے سینے پر لوٹتی سنہری زنجیر کو چھو کر گاہے بگاہے لمبی سی “ہُوں۔۔۔” کر دیتا۔۔۔ کچھ دیر بعد اُس نے اُٹھ کر قلم اٹھایا، لکھنے کا ایک بوسیدہ سا پیڈ تھاما اور چند اشعار لکھ کر سونیا کو تھما دئیے،</p>
<p>میری گُڑیا میری گُڑیا نین ترے کجرارے<br>
سب دُکھیا سنسار کے اندر، دھرتی، چاند ستارے<br>
میری گُڑیا میری گُڑیا تیرے گال گلابی<br>
کلجگ اندھیاری رینا ہے من اپنا مہتابی<br>
میری گڑیا میری گڑیا انگیا تیری دھانی<br>
سب مانس مجبور اس جگ میں کیا راجہ کیا رانی<br>
میری گُڑیا میری گُڑیا تیرے ہونٹ رسیلے<br>
جیون میلہ چار پہر کا کھالے،پی لے، جی لے!</p>
<p>سونیا یہ نظم پڑھ چکی تو اُس نے ایک دو لفظوں کے مطلب تصور سے پوچھے اور اُس کے بتانے پر جو سونیا کو نظم کی پوری سمجھ آئی تو اُس کو ہنسی کا وہ دورہ پڑا کہ تصور بھی کھسیانا سا ہو کررہ گیا۔ “میرے بچے خراب کرنے ہیں ایسی نظمیں سُنا کے؟” وہ خوب ہنسی اور تصور بھی اُسے ہنسانے کیلئے کج بحثی کرتا رہا۔ اور یوں اُمیدواری کا اُمیدوں اور خوشیوں سے بھرا عرصہ خوب گزر ا مگر پھر ایک پریشانی کے موڑ پر آ کر رُک گیا۔ اب نو ماہ بڑی مہارت اور مہنگی مہنگی ولایتی دواؤں سے سعدیہ کی زچگی کی دیکھ بھال کرنے والی لیڈی ڈاکٹر نے آٹھویں ماہ کے اختتام پر تصور کو زچگی کی ممکنہ پیچیدگیوں سے ڈرانا شروع کر دیا تھا۔ اب چند دن کی بات تھی، چند دن میں آپریشن کی فیس اور ڈاکٹر کے ممکنہ اخراجات، جو کہ ان کے میڈیکل اردلی کے مطابق ساٹھ ستر ہزار سے اوپر کے تھے، کہاں سے آتے؟ ؟ ڈاکٹر صاحبہ نے تو بچے کی موت کے امکان پر روشنی ڈال کر اُس کی عقل کو اتناماؤف کر دیا تھا کہ وہ کسی اور ڈاکٹر سے مشورہ تک کرنے کا نہ سوچ سکا۔۔۔ ان “مسیحا” لیڈیوں کی معاش ایسے ہی بزدلوں پر کھڑی ہے مگر اولاد کی محبت کسے بزدل نہیں بناتی؟ اب سوال تھا پیسے کا انتظام۔۔۔ اپنے رشتے داروں نے سونیا کے آنے کے بعد واجبی سا تعلق باقی رکھا تھا، سونیا کے رشتے داروں سے تو اتنا تعلق بھی نہ تھا۔ موٹر سائیکل بیچنے نکلا تو جس ڈیلر نے چند روز پہلے چالیس ہزار میں دی تھی، پوری بے لحاظی سے بائیس ہزار پہ اَڑ گیا بلکہ کلمہ طیبہ پڑھ کر قسم کھا لی کہ موٹر سائیکل کی مارکیٹ میں یہی چل رہا ہے۔ بالآخر جب ناُامید ہو کے بیٹھ رہا تو جیسا کہ مشرق کی کبھی نہ لکھے جانے والی ہزار سالہ تاریخ میں ہمیشہ گھر کی عورت نے کیا ہے، سونیا نے اپنے تھوڑے سے گہنے پیش کر دئیے۔ تصور انہیں بیچنے پہ ہرگز تیار نہ تھا۔ ایک زنجیر، کان کے بُندے، انگوٹھی اور ناک کی نتھلی سونیا کے والدین نے سالوں کی مشقت سے بنائے تھے اور اب بک جاتے تو ان کا نعم البدل کوئی نہ تھا۔ کم از کم تصور کے خیال میں ایسا ہی تھا ! پھر اسے زنجیر کا بکنا گوارا نہ تھا جس کی بدولت دُنیا بھر کا حُسن سونیا کے وجود میں سمٹ آیا تھا۔۔۔ پھر کسی بھلے آدمی نے مشورہ دیا کہ گہنے فروخت کر دینے سے بہتر ہے کہ کسی بینک میں گروی رکھ کر قرض لے لو۔</p>
<p>تصور کو یہ تجویز فقط اس لیے پسند آئی کہ اس میں گہنوں کے لوٹ آنے کی اُمید تھی۔ بھاگ دوڑ میں گہنوں کا سنار سے وزن کرایا گیا، پروانہ بنا، اورئینٹل بینک کے نمائیندے نے بہت سے کاغذوں پر دستخط کروائے، گہنوں کو کاغذوں کی جس تھیلی میں بند کر کے سر بمہر کیا تھا، اُس پر کچھ اعداد لکھے، دستخط کئے، کروائے اور یوں تصور علی کو پینسٹھ ہزار روپے کا قرض مل گیا۔</p>
<p>بیٹی کی پیدائش چونکہ شہر کی ایک مشہور گائناکالوجسٹ کے ہاں ہوئی لہٰذا سیزرئین آپریشن سے ہی ہوئی اور لگ بھگ قرض کے تمام پیسے اُس شام ڈاکٹر شازیہ رانا کے اکاؤنٹ میں جا پہنچے، تصور کی گود میں اس کی ننھی سی بیٹی کو ڈال دیا گیا۔۔۔ تب تو اسے ایک لحظے کوقدرت یا بندوں سے کئے گئے اس بے رحمانہ لین دین کا ہر تلخ پہلو بھول ہی گیا۔بچی کی ننہال سے خوشی اور تہنیت کے جذبات اور پیغامات زیادہ آئے۔ ددھیال کی طرف سے بھی ایک دو رسمی سی مبارک بادیں آئیں لیکن سونیا اور تصور کو خوشی کی وہ سرشاری تھی کہ انہیں اس امر کی پروا بھی نہ تھی کہ کس کی خوشی میں ریا تھی او ر کس کی خوشی میں صفا!! چند روز تو اسی خوشی اور سرشاری میں گزرے کہ تصور کو قرض کی بے رحم نحوست بھی بھول گئی۔</p>
<p>ننھی سارہ نے جہاں اُن دونوں کی باہمی محبت کو ایک نیا موڑ دیا، ایک مضبوط بنیاد فراہم کی، وہاں سونیا اور تصور کے درمیان باہمی توجہ کے دھاروں کو بڑی حد تک اپنی طرف کھینچ لیا۔۔۔ اور یہ بھی پہلوٹھی کے بچوں کا حق سمجھا جاتا ہے لہٰذا انہیں یہ بات کچھ اجنبی بھی نہ لگی کہ اب ان کے قرب کے لمحے مختصر بھی ہوتے تھے اور پہلے سی رومانوی روحانی احساسات سے بھرپور بھی نہ ہوتے۔ اب شاید اے سونیا کے سانولے جسم کے متناسب اور صحتمند نشیب و فراز میں حُسنِ انسان کا کوئی دیو مالائی رنگ جھلکتا دکھائی نہ دے سکتا تھا۔ وجہ یہ نہ تھی کہ سونیا کا حُسن ڈھل چُکا تھا یا ماند پڑ چُکا تھا، ایسا ہرگز نہ تھا۔ وجہ کا دراک تصور کو بخوبی تھا لیکن وہ اسے اپنے شعور کی سطح پر ابھرنے بھی نہ دیتا تھا۔ تصورات اور خیالات کی دُنیا میں رہنے والا تصور زندگی کی جن بے رحم حقیقتوں سے چشم پوشی اور فرار کا خواہاں تھا ان میں سے ایک وہ قرض بھی تھا جس کی بدولت اب سونیا کی گردن سے وہ سنہری زنجیر غائب ہو چکی تھی اور جس نظارے سے سے وہ اپنے ذوقِ جمال کی آبیاری کرتا تھا، اب اسے وہ نظارا کرنے کی ہمت نہ تھی۔سونیا کا اس زنجیر سے خالی سینہ اسے اس کی خالی جیب اور تنگ دستی کا احساس دلاتا رہتا کہ سارہ کی پیدائش کے کئی ماہ بعد تک بھی قرض کی پہلی قسط نہ دی جاسکی تھی اور اب یہ خالی پن تصور کیلئے سوہانِ روح بنتا چلا جا رہا تھا۔ اُسے اپنے پہلو میں لیٹی اپنی محبوب بیوی کا جو پہلو بہت بھاتا تھا اب اسی کو نظر انداز کرنا اس کی غیر ارادی سی عادت بن گیا۔ یوں بھی اب ننھی سارہ کی شیرخوارگی تصور کے رومان کی جاگیر پر قابض ہو گئی تو پھر کئی ماہ گزر گئے کہ وہ سونیا کو اپنی شیر خوار بیٹی کی ماں ہی کے طور پر دیکھنے لگا تھا۔ سارہ نے اپنے سہارے پر بیٹھنا اور معصوم غوں غاں سے سب کی توجہ حاصل کرنا شروع کی تو نہ چاہتے ہوئے بھی تصور علی کبھی اپنی سوچ کے دھارے کو سونیا کی طرف پوری طرح مرکوز نہ کر سکا۔ غریب کے بچے ہمیشہ ماں کی صحت سے خراج وصول کر کے ہی پلتے ہیں۔ سارہ ایک سال کی ہوئی تو سونیا کی صحت بہت ڈھل چکی تھی۔ کچھ اندرونی مسائل نے ایک غیر ضروری آپریشن کے دوررس اثرات کے طور پر سر اُٹھانا شروع کر دیا اور کچھ چھوٹے موٹے عارضے یونہی طبیعت کا مستقل حصہ بن گئے۔ سردرد تو اکثر رہتا تھا، بخار ہوتا تو کئی کئی روز تک رہتا۔ گلی محلے کے ہومیو فزیشنوں سے علاج معالجہ بھی چلتا رہا کہ تصور ان کی اُجرت تو جیسے تیسے ادا کر سکتا تھا، شہر کے ڈاکٹروں کی جیب بھرنے کی استطاعت اسے نہ تھی۔ پینسٹھ ہزار سے شروع ہونے والا قرض جو اب سود کے ہاتھوں ایک لاکھ تک پہنچ چکا تھا، اس کا خیال ہی اب شہر کے اچھے ڈاکٹروں سے دُور رکھنے کیلئے کافی تھا۔ یوں بھی زکام، سردرد اور بخار جیسی عامیانہ بیماریوں کا مقابلہ غریب لوگ اٹکل پچو، دیسی علاج اور حکیم یا ہومیو فزیشن کے سہارے ہی کر لیا کرتے ہیں۔ گرتی ہوئی صحت کے پیش نظر سونیا نے جب پرائیویٹ اسکول کی نوکری چھوڑی تو جو پانچ ہزار روپے ہر ماہ ایک بے قاعدہ سی با قاعدگی سے آیا کرتے تھے، آنا بند ہو گئے۔ سولر پلیٹوں کاکام ٹھپ ہو چکا تھا اور تصور اب ایک فوٹو اسٹیٹ مشین لے کر کچہری کے پاس بیٹھ گیا۔ سونیا بیما ر نہ پڑتی تو یہ معاش بھی روٹی کمانے کو کافی تھا۔</p>
<p>یہ موسمِ سرما نجانے کیسی ہوائیں لے کر آیا کہ اب کی بار جو شعر و شاعری کا مشغلہ ترک ہو چکا تھا اور جو گلی محلے کے مشاعروں میں جانا ترک ہو چکا تھا، وہ دوبارہ بحال ہو گیا۔ کچھ سونیا بھی بہتر نظر آنے لگی۔ سارہ بولنے لگی تو اپنی توتلی زبان سے گھر کی رونق کو چار چاند لگا دئیے۔</p>
<p>اس رات سونیا کھڑکی کے سامنے بچھے پلنگ پہ سوئی پورے چاند کی چاندنی میں کسی مرمریں بُت کی طرح دہک رہی تھی۔کرائے کے اس مکان میں دو ہی کمرے تھے، ایک پختہ اور ایک کچے اور پکے میٹیریل کا ملغوبہ جس کی چھت ٹین سے بنی تھی اور آنگن سارا کچا تھا۔ تصور نے اپنا چھوٹا پلنگ دانستہ پختہ کمرے کی کھڑکی کے ساتھ لگایا تھا کہ پورے چاند کی رات میں پلنگ کا نصف رقبہ چاندنی سے روشن ہو جاتا تھا، ایسے میں وہ بلب بند کردیتا۔ بجلی ہمسائے کے میٹر سے تار کھینچ کر خریدی گئی تھی۔</p>
<p>“سونیا!”۔ تصور نے اُسے متوجہ کرنے کیلئے اس کے بالوں میں اُنگلی سے مانگ بناتے ہوئے مخاطب کیا، وہ اچانک کسی سوچ میں ڈوب گئی تھی، چونک کر اس کی طرف متوجہ ہوئی۔ سونیا کی غزالی آنکھوں کا حُسن بیماری سے بھی مات نہ ہوا تھا بلکہ کمزور چہرے پر آنکھیں اور بھی نمایاں ہو گئی تھیں۔ البتہ اب ان میں ایک گہری اداسی نے ڈیرہ ڈال لیا تھا۔ وہ تصور کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔</p>
<p>“تُم ایسی شرمیلی کبھی نہ تھیں۔۔۔ سارہ کی ماں ہونے کا مطلب یہ تو نہیں کہ امّاؤں کی سی حیا کرنا شروع کر دو !”</p>
<p>تصور نے آہستہ سے اس کی ریشمی، جالی دار قمیص کو اپنی انگلی کی پوروں سے محسوس کیا۔ سونیا سمجھ گئی کہ وہی بحث جو روزانہ ہوا کرتی ہے۔</p>
<p>“نہیں تصور۔۔۔ تم سے کیا شرمانا اوراور حیا کرنا۔۔۔ بس اب جی نہیں چاہتا اتنی بے باکی کو۔۔۔”</p>
<p>اُس نے آہستہ سے اپنے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر باندھتے ہوئے نرمی سے کہا۔ تصور نے ایک سانس خارج کی جو واضح طور پر ناگواری کے اظہار میں تھی۔<br>
“تصور! سچ بتاؤں؟ میں یہ ضد کیوں کرنے لگی ہوں؟ میری چھاتیاں دُکھتی ہیں۔۔۔ اب مجھے اس سے گھبراہٹ سی ہوتی ہے۔۔۔مگر تم سے کب تک چھپاؤں گی۔۔۔”<br>
سونیا یہ کہہ کر خاموش ہو گئی، پھر اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے۔ تصور گھبرا تو گیا مگر کروٹ بدل کر سونے کی اداکاری کر گیا۔ وہ رات دونوں سو نہ سکے مگر آنکھیں بند کئے کروٹیں بدلتے رہے۔</p>
<p>جس دن خیراتی ہسپتال کی ڈاکٹروں نے انہیں لاہور بھیج کر تفصیلی طبی معائنے کے لئے کہا، اُس دن سونیا کی شرم و حجاب کے معنی واضح ہونے لگے۔ سونیا کو چھاتی کا سرطان (بریسٹ کینسر) تھا اور وہ ایک عرصے سے یہ بات تصور سے چھپائے ہوئے تھی۔ زنجیر کے چلے جانے کے بعد جس طرف تصور کی توجہ کم رہنے لگی تھی، وہیں سونیا اپنی زندگی کا سب سے کڑا درد چھپائے پھر تی تھی!! صبر کی فطرت اور شوہر کی غربت کے خیال نے سونیا کو یہ راز تب تک چھپائے رکھنے پر آمادہ رکھا جب تک اس کا علاج ممکن تھا۔ اگر چہ اس کی عمر کی عورتوں میں مرض کے اس خطرناک مرحلے تک پہنچنے کا تناسب انتہائی کم ہے لیکن غریبی یہ شماریات بھی کہاں پڑھتی ہے سو اب کافی دیر ہو چکی تھی مگر زندگی پھر بھی آخری لمحے تک نا اُمیدی سے لڑنے کا نام ہے۔ تصور نے قرض، قرضِ حسنہ، کمائی، امداد اور ہر طرح کی آمدن میں تمیز کیے بغیر سونیا پہ خرچ کرنا شروع کر دیا۔ لاہور کے خیراتی ہسپتال نے بھی، جو کچھ ہو سکا، مریضہ کیلئے کیا۔ بدقسمتی یہ تھی کہ ایک موذی مرض نے دو ایک درمیانی شدت کے دیگر امراض کو بھی شدید بنا دیا۔ یہ عرصہ ان کے لیے مسلسل سفر کا تھا،۔۔۔ مایوسی سے امید اور امید سے مایوسی تک کا سفر، چک ستاون سے لاہور کی طرف اور لاہور سے چک ستاون کی طرف جہاں ماسٹر رحمت مسیح کے پاس بے پناہ محبت، مخلصانہ دعاؤں اور حتی الوسع تواضع ملنے پر سونیا اپنی تکلیف میں راحت محسوس کرتی تھی۔ ملک مظہر علی کے دروازے اپنے بیٹے کے لئے کچھ کرسچن بہو کی وجہ سے بند ہو چکے تھے کچھ بیٹے کے کچھ برس سے والدین کی حالت سے مطلق غافل رہنے کی سزا کے طور پر۔ تاہم پھر بھی سعدیہ فاطمہ کے موذی مرض کی خبر سُن کر ملک صاحب ایک دفعہ تو بہت بے قرار ہوئے اور خود عیادت کیلئے بھی چلے آئے اور دو ایک دفعہ بیٹے کی دامے درمے مدد بھی کی لیکن یہ ابتلا کے آغاز کے دنوں کی بات ہے۔ سونیا کی تیمارداری کچھ آسان کام نہ تھا۔ جب علاج معالجے کی بھاگ دوڑ میں اُمید کی کوئی کرن پیدا ہوتی تو کوئی اسے بڑھانے کو ساتھ تھا نہ کبھی مایوسی پیدا ہونے کی صورت میں کوئی بے چارگی کم کرنے یا غم بانٹنے والا ہوتا۔ یہ شب و روز مصروف بھی بہت ہوتے تھے۔ روزی روٹی کے جھمیلوں سے چھوٹتے ہی تیمارداری کے جانکاہ مرحلے جن کی وجہ سے ان کی خلوتوں میں بھی دونوں اکیلے نہ ہوتے بلکہ ڈاکٹر، قرض خواہ اور مرض کا تذکرہ انہیں زندگی کے بے پناہ چوراہے پر لا پھینکتا۔ محبت کے دو بول تو شاید اس مصیبت نے ان کی زبانوں سے چھین ہی لیے تھے۔۔۔</p>
<p>اس ہفتہ اتوار کی درمیانی شب خیراتی ہسپتال کا زیادہ تر عملہ اور ڈاکٹر چھٹی پر تھے سوائے ڈیوٹی اسٹاف کے۔ کچھ سونیا کی حالت بھی ایسی تھی کہ رحم دل وارڈ انچارج نے تصور کو رات گئے تک اس کے پاس بیٹھنے کی اجازت دے دی۔ سارہ بھی ساتھ تھی۔</p>
<p>“سونیا!”</p>
<p>تصور نے پاس بیٹھے ہوئے، ذرا قریب ہو کر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑا اور نرمی سے مخاطب ہوا۔ سونیا نے اپنی کمزور سی پلکیں جھپکا کر تصور کی طرف دیکھا۔ اس کے ابرو اور پلکیں علاج کے سخت مرحلوں میں تباہ ہو چکے تھے اور اب پہلے سے گھنے بھی نہ رہے۔اس کے بیمار اور سانولے چہرے پہ یہ موٹی اور بجھتی ہوئی مگر پھر بھی کافی روشن آنکھیں زندگی کی آخری علامت رہ گئی تھیں۔ شاید اسے مرض سے زیادہ اُداسی نے گھُلا دیا تھا۔</p>
<p>“سونی! چُپ کیوں ہو؟ آج میرا دل بے حد اُداس ہے۔۔۔ تُم بھی ایسے چُپ ہو کہ میرا جی گھبرا ہے۔۔۔ کچھ بات کرو!”</p>
<p>تصور نے گود میں سوئی کم سن بیٹی کو سہلاتے ہوئے آہستہ سے سونیا کی طرف دیکھ کر کہا۔ سونیا نے کچھ جواب نہ دیا، بس ہاتھ کا اشارہ کیا جس کا مطلب تھا کہ سارہ کو اس کے برابر لٹادیا جائے۔ تصور نے ننھی سارہ کو اس کی ماں کے پہلو میں لٹا دیا۔ سونیا نے چہرہ گھما کر سوئی ہوئی بیٹی کی طرف دیکھنا شروع کر دیا اور مسکرانے لگی۔ آج سونیا کئی دنوں بعد مسکرائی تھی اور تصور کے لئے یہ اُمید افزا بات تھی۔ اسے لگا کہ یقیناً اس کے بعد ہمیں ہسپتال کا ایک آدھ چکر ہی کرنا پڑے گا، پھر علاج کے بہتر نتائج سامنے آنے لگیں گے۔ وہ بھی مسکرا کر ننھی سارہ کی طرف دیکھنے لگا۔ پھر اُس نے سونیا سے ادھر اُدھر کی باتیں شروع کردیں۔ بالخصوص ہائی اسکول کی یادیں، پرنسپل کی بددماغی، نئی نئی محبت کے جذبے اور کئی دلچسپ واقعے۔۔۔ سونیا بھی محظوظ ہوتی رہی، کبھی ایک تھکی سی ہنسی ہنس دیتی، کبھی مسکرا دیتی۔ اچانک تصور کو ایک خیال آیا؛</p>
<p>“سونی! میں تمہاری آواز پہ عاشق تھا”</p>
<p>“پتہ ہے۔۔۔”</p>
<p>لیکن ایک مسیحی گیت تمہاری آواز میں مجھے خاص طور پر بہت پسند تھا۔۔۔ اگرچہ مجھے سمجھ نہ آتا تھا”</p>
<p>تصور کی بات پر سونیا نے بھنویں سکیڑیں اور پھر مسکرا دی</p>
<p>“مجھے یاد ہے۔۔۔ سُناؤں؟ میرا جی چاہ رہا ہے کہ سُناؤں۔۔۔تصور۔۔۔”</p>
<p>سونیا آہستہ سے مسکرا کر بولی تو تصور آہستہ سے اُس کی طرف جھکا جیسے بہت اشتیاق سے اور پہلی بار سننے لگا ہو۔ سونیا کی آواز کا حُسن بھی اُس کی آنکھوں کی طرح آج تک ماند نہ پڑا تھا۔۔۔ یہ ایک مسیحی گیت تھا جو پنجابی میں تھا؛</p>
<p>چلو چلیے اج دُعا دے لئی، گتھ سمنی باغ دے ول یارو<br>
اج کٹھیاں وقت گزار لئیے جہڑے رہ گئے نیں دو پل یارو!</p>
<p>سونیا کی آواز نحیف تھی مگر سریلی اتنی ہی تھی اور درد اتنا کہ جیسے استاد کی سیکھی ہوئی گائیک ہو اور نجانے دل کی کس گہرائی سے گا رہی ہو۔۔۔ تصور کو یہ آواز سناٹے میں بھی گونجتی ہوئی محسوس ہوئی۔ جب گیت ختم ہوا اور سونیا نے خموش ہوکر آنکھیں بند کر لیں تو تصور چونکا، اُس کی آنکھوں میں اتنے آنسو بھر آئے کہ اس کے سامنے کا منظر ڈوب گیا۔ یہ گیت جناب عیسیٰؑ کے اپنے چاہنے والوں، حواریوں سے آخری خطاب کے الفاظ پر مشتمل تھا اور اسے سنتے ہی تصور کا دل بھر آیا۔۔۔ شاید پیغمبروں کے دکھوں کا رشتہ بھی آ کر غریبوں کے دکھوں سے ملتا ہے۔ وہ جلدی سے اُٹھ کر باہر آگیا اور برآمدے میں کھڑا ہو کر اپنے آنسو پونچھنے اور سسکیوں پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگا۔ اس طرف راؤنڈ پہ آئی ہوئی ٹرینی نرس نے جو اُسے دیکھا تو گھبرا اُٹھی اور تیزی سے سونیا کے بیڈ کی طرف لپکی جو اس بارک نما وارڈ کے ایک کونے میں تھا۔ چند لمحے بعد پہ تصور واپس سونیا کی طرف لپکا۔ بیڈ کے برابر کھڑی نرس نے سارہ کو اُٹھا کر سینے سے لگا رکھا تھا اور سونیا کے سرہانے کھڑی سسکیاں لے کر روئے جا رہی تھی۔ تصور بوکھلا کر جونہی قریب گیا تو نرس نے سارہ کو اس کے حوالے کی اور ڈیوٹی ڈاکٹر کو بُلانے کے لیے دوڑ گئی۔ تصور کو قصہ سمجھ آیا تو وہ چکرا کر زمین پر بیٹھ گیا۔۔۔ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھا گیا اور ٹانگیں جواب دے گئیں۔ ڈاکٹر اور عملے کے چند افراد وہاں آگئے، سونیا کی میت کو سفید اُجلی چادر سے ڈھانپ دیا گیا اور زاروقطار روتے اور دھاڑیں مارتے ہوئے تصور علی کو دلاسے دئیے جانے لگے۔ نیند سے چونکی سارہ نے بھی رونا شروع کردیا لیکن اُسے خبر نہ تھی کہ وہ کس لئے رو رہی ہے۔۔۔</p>
<p>سعدیہ فاطمہ، یعنی سونیا کو، جسے زندگی میں تو مسلمان معاشرے میں بڑی تنگ سی جگہ ملی تھی، موت کے بعد چک ستاون کے مسلمانوں کے قبرستان میں کشادہ قبر مل گئی۔ اس کی تدفین کے بعد تصور نے سارہ کو اس کی ننہال میں چھوڑا جہاں اس کی پرورش کی جانے لگی۔ فوٹو اسٹیٹ مشین بیچ کر اس نے تدفین و تکفین کے اخراجات کیلئے لیا گیا قرض چکایا اور دوبارہ چک ستاون چلا آیا۔ سونیا کے بہنوئی کو حال ہی میں ایک اچھی سرکاری نوکری ملی تھی، اُس نے قرض حسنہ کے طور پر اپنا آٹو رکشا تصور کو دے دیا تاکہ وہ زندگی کا پہیہ چلا سکے جسے چلانے کی واحد قوت اب فقط سارہ تھی۔۔۔ سونیا کے بعد اُسے جو اندھیرا نظر آرہا تھا، اس میں اُمید کی کرن فقط اس کی بیٹی ہی تھی۔ امید کی کرن کہیں یا زندگی کے جبر کو سہنے کا جواز۔۔۔ تصور رکشا لے کر شہر آگیا۔ رکشے کی کمائی سے وہ تھوڑا تھوڑا کرکے وہ قرض چکانے لگا جو سونیا کی بیماری میں اُٹھا رکھا تھا۔ اس دوران اورئینٹل بینک کے کئی ہرکارے آئے اور چلے گئے۔۔۔ اُن کا سود اب قرض کے برابر ہو چکا تھا سو اس نے اسے مجبوراً نظر انداز کرنا شروع کر دیا اور دوسرے قرضوں پر توجہ مبذول رکھی جو اس نے اپنی محنت اور جانفشانی سے آئیندہ دو سالوں میں لگ بھگ مکمل طور پر چکا لئے مگر پھر بھی سونیا کے گہنوں کا خیال اس کے دل و دماغ سے ہٹا نہ تھا۔ زنجیر تو گویا اس کے دل کا سب سے بڑا بوجھ بن چکی تھی۔</p>
<p>ایک دن اسے کوئی سواری اورئینٹل بینک اُتارنی تھی۔ اس نے سواری اتاری تو ایک خیال سا آیا۔ وہ رکشے سے اتر کر اس بوڑھی عورت کے پیچھے پیچھے ہی بینک کے اندر چلا گیا۔ وہاں ایک بابوُ سے چہرہ شناسائی تھی، اُسے جا کر سلام کیا لیکن تھوڑے تردد کے بعد ہی اسے یاد دلا سکا کہ وہ کون تھا۔ مصنوعی تپاک سے اسے بیٹھے کا کہا گیا اور آنے کا مقصد پوچھا گیا۔ اس نے اپنی مرحوم بیوی کے گہنوں کا ذکر کیا تو اسے پتہ چلا کہ وہ تو نیلام ہو چکے تھے۔ اسے کئی دفعہ بینک نے خطوط لکھے تھے، ہرکارے بھیجے تھے لیکن اس نے قرض مع سود کے واپس نہ لوٹایا تھا، سو آخری تنبیہہ اخبار میں شائع کروائی گئی، بالآخر نیلام کر دئیے گئے۔ وہ خاموشی سے وہاں سے اُٹھ آیا اور شہر کی سڑکوں پر بے مقصد رکشا چلانے لگا، اس دوراں وہ زاروقطاررویا۔ اس کی آواز شہر کے ٹریفک کے شور میں دب گئی۔ یہ ایک نیا زخم تو تھا ہی، تصور کے گذشتہ سبھی دُکھ جاگ اُٹھے۔ اُسے یوں لگا جیسے زندگی کے کی بے رحمیوں کا مقابلہ کرنے کی اس میں جو ہمت باقی تھی، سبھی بکھر گئی تھی۔ پھر بھی کئی دن گزر گئے اور کئی مہینے۔ زندگی چھوٹے چھوٹے دکھوں اور بڑی بڑی مشقتوں کے معمول پر آگئی۔ وہ زنجیر اس کے لاشعور کی کھونٹی پہ کہیں ٹنگی رہ گئی۔ نیا تعلیمی سال شروع ہوا تو سارہ اسکول کی عمر کو پہنچ چکی تھی۔ اسے اسی اسکول میں داخل کرایا گیا جہاں اس کے ماں باپ پڑھتے تھے اور جہاں وہ پہلی دفعہ ملے تھے۔ تصور اب صبح دم اسے ستاون چک سے، ہمراہ چند اور بچوں کے، رکشے میں بٹھاتا اور شہر لا کر اسکول چھوڑتا۔ شاید سارہ کی پیدائس کے بعد پہلی بار اسے کوئی پائیدار خوشی ملی تھی۔ اگرچہ یہ خوشی بھی دکھوں کے سرمئی سائے میں دھندلا گئی تھی۔ تاہم سارہ کو اسکول چھوڑنا اور اسے وہاں سے لینا اس کے لئے مسرت کے لمحات ہوتے تھے۔ یہ گذشتہ زمانے کی یادوں کی باز آفرینی کا ایک خوبصورت معمول بن گیا۔ چوہدری وکٹر ممتاز صاحب، پرنسپل بھی لگ بھگ اسی وقت اپنی کار سے اتر کو اسکول میں داخل ہو رہے ہوتے تھے جب وہ سارہ کو اسکول چھوڑتا تھا۔ پرنسپل صاحب اب بہت بوڑھے ہو چکے تھے، بال پہلے سے بھی روشن سفید اور رنگت پہلے سے بھی سیاہ۔ تصور اب بھی ان سے سے کتراتا البتہ ایک دفعہ جب وہ چھٹی کے بعد بدیر پہنچا تو چوکیدار نے بتایا کہ چند بچے پرنسپل صاحب کے دفتر میں ان کے پاس بیٹھے ہیں، آپ کی بچی وہاں ہو گی۔ یہ ان کا پرانا معمول تھا کہ پہلی جماعت کے چند بچوں کو دفتر بلوا کر ان سے باتیں کرتے تھے اور انہیں پیار بھی کرتے۔۔۔۔ بڑی جماعتوں کیلئے ان کی سختی مشہور تھی اور تصورکو فقط اسی کا پتہ تھا۔ اس پر اسے ان کے دفتر جانا ہی پڑا۔ پرنسپل صاحب نے اسے تعارف کی ابتدائی منازل میں ہی پہچان لیا او ر بڑی محبت سے پیش آئے۔ اساتذہ کا ایک روائیتی سوال ہی ایسے موقعے پر پہلا سوال ہوتا ہے</p>
<p>“تو آج کل کیا کررہے ہو؟”</p>
<p>جب تصور نے رکشا ڈرائیوری کا بتایا تو چودھری صاحب کافی پریشان سے ہو گئے۔ جب دفتر میں پرنسپل صاحب، ننھی سارہ اور تصور ہی رہ گئے تو انہوں نے پانی اور جوس منگوایا اور تصور کو کچھ دیر بیٹھنے کا حکم دیا۔ وہ نیازمندی سے بیٹھ گیا۔</p>
<p>“سُنا ہے ہماری اسی کرسچین لڑکی سے شادی کی تھی تُو نے! دُھن کا پکا ہے لڑکے!”</p>
<p>چودھری صاحب نے مسکرا کر کہا تو تصور نے نحیف سی مسکراہٹ کے ساتھ اثبات میں سر ہلا دیا۔ وہ اب کہیں سے بھی لڑکا نہیں لگتا تھا</p>
<p>“تبھی میں کہوں کہ تمہاری بیٹی بھی اتنی سریلی کیوں ہے! ابھی سے اسمبلی میں ملی نغمے سناتی ہے!”</p>
<p>اُنہوں نے ہنس کر سارہ کے سر پر ہاتھ پھیرا جو کہ اپنی ماں کے بچپن کا عکس تھی جسے صرف وکٹر صاحب نے ہی دیکھ رکھا ہو گا۔ تصور کے چہرے پر ایک طرفہ گھبراہٹ امڈ آئی جسے چودھری صاحب نے بھی بھانپ لیا۔</p>
<p>“کیوں تصور؟ پریشان سے لگ رہے ہو، گھر میں سب ٹھیک تو ہے ناں؟ ہماری سونیا بیٹی تو ٹھیک ہے ناں؟؟۔۔۔سوری یار اُس کا مسلم نام مجھے معلوم نہیں ہے !”<br>
اُنہوں نے تشویش بھرے لہجے میں پوچھا تو تصور کا جی بھر آیا مگر اب وہ بڑا با ہمت ہو چکا تھا۔</p>
<p>“سر وہ تو کب کی اللہ کو پیاری ہو چکی۔۔۔”</p>
<p>تصور نے سپاٹ سے لہجے سے کہا گویا فقط ایک خبر سنا رہا تھا لیکن چودھری صاحب ایک دم غمگین سے ہو گئے۔ انہیں چند منٹ میں یہ دوسرا صدمہ مل رہا تھا کہ ایک تو ان کا سابق پراکٹر اب رکشا ڈرائیور تھا، پھر اب ان کی طالبہ جو کہ ابھی جوانی ہی میں تھی، اس کا مرنا تو صدمہ ہی تھا۔ اب جب انہوں نے سوالات کرنے شروع کیے تو ایک ایک کر کے ان پر سارے واقعات آشکارا ہوئے۔ تصور کو خود یہ اندازہ نہ تھا وہ ان تمام مشکلات کے تذکرے میں سونیا کے گہنے بک جانے کی بات پر ہی رو دے گا۔۔۔ حالانکہ سانحہ اس کے مرنے کا بھی کم جانکاہ نہ تھا!چودھری صاحب تو جیسے پگھل سے گئے اور ان کی آنکھ میں نمی آ گئی۔ تصور نے ان کی شخصیت کا فقط سخت پہلو ہی دیکھا تھا، انہیں اس قدر غمگین اور اداس نہ دیکھا تھا۔ اس اثنا میں انہوں نے کھانا منگوا لیا جو تصور کو ان کے ساتھ ہی حکماً کھانا پڑا، جس پہ اندر ہی اندر سے وہ ان کی انسانیت کا قائل ہو گیا تھا۔ کافی دیر باتیں ہوتی رہیں۔ اسی دوران پرنسپل صاحب نے اسے بتایا کہ وہ اپنے تدریسی کیرئر میں ہمیشہ ایک یا دو بچوں کے تعلیمی اخراجات اپنے ذمے لیتے آئے ہیں لیکن یہ سلسلہ اب چند برس سے منقطع ہے۔ انہوں نے یہ بھی حکم دیا کہ اب سے سارہ کی تعلیم اُن کی ذمہ داری ہے اور تصور اس ضمن میں کسی بھی نوعیت کی فکر سے آزاد رہے۔ تصور کی آنکھیں اب کے ممنونیت کے احساس سے بھر آئیں۔ قدم قدم پر لوگوں کی بے اعتنائی اور خود غرضی سے سابقہ رہا تھا، زندگی کی اتنی تلخ حقیقتیں بھی دیکھ لی تھیں کہ اب اسے یقین نہ آرہا تھا کہ دُنیا میں ایسے مسیحا نفس انسان بھی ہوتے ہیں؟ اسے دعائیں دینے کا طور طریقہ نہ تھا، یا شاید جھجک کہ وہ چاہتے ہوئے بھی چودھری صاحب کو دعائیں نہ دے سکا۔ سہ پہر ڈھلنے لگی تو پرنسپل صاحب کا ڈرائیور انہیں لینے آ گیا اور یہ صحبت برخواست ہوئی۔</p>
<p>“تصور!”</p>
<p>کار میں بیٹھتے ہی چودھری صاحب کو اچانک جیسے ایک خیال سا آیا، اُنہوں نے تصور علی کو آواز دی جو کہ قریب ہی کھڑے اپنے آٹو رکشے میں بیٹھ چکا تھا۔ وہ لپک کر اترا اور کار کے پاس جا کر پرنسپل صاحب کے برابر جھک گیا۔</p>
<p>“تُو بتا رہا تھا کہ سونیا کے گہنے بھی نیلام ہو گئے۔۔۔ کیا کیا تھا اُن گہنوں میں؟”</p>
<p>وہ اس سوال پر چونکا۔</p>
<p>“سر باقی آئٹم تو کچھ خاص نہ تھے۔۔۔ ایک سونے کی زنجیر اچھے سے یاد ہے۔۔۔ اس سے ایک چھوٹا سا بُندہ لٹکا تھا اس پر حرف ’ایس‘ کندہ تھا۔۔۔” تصور نے آہستہ سے بتایا۔</p>
<p>“آہ۔۔۔ فرشتہ نفس بچی تھی، خداوند اس پر اپنی ابدی برکت کا سایہ کرے۔۔۔”</p>
<p>چودھری وکٹر ممتاز نے دردمندانہ لہجے میں کہا اور ڈرائیور کو چلنے کا اشارا کیا۔<br>
آج کی رات رکشا بڑھا کر وہ ایک اور شاعر دوست کے اپس چلا گیا جو کہ اسکول ٹیچر تھا۔ دیر تک وہ اپنی مرحوم بیوی کو یاد کرتا رہا، آج کی واردات بھی سنائی۔ دونوں چودھری وکٹر ممتاز کی شرافت اور خُدا رسیدگی کی داد دیتے رہے کہ غیر مسلم ہو کر بھی وہ دل رکھتا ہے کہ جو مسلمان کے سینے میں ہو تو وہ ولی اللہ کہلائے! خیر، اب اکثر وہ وکٹر ممتاز صاحب کے بارے میں سوچتا رہتا کہ چہار سمت سے نگل جانے کو تیار اس بستی میں ان جیسے مہرپرور انسان بھی ہیں۔۔۔ پھر وہ اسے بھی قدرت کی ستم ظریفی سمجھتا اور ہنس دیتا کہ یہ بھی آدمی کے ساتھ ایک مذاق ہے کہ اسے زندگی کی نامہربانیوں کے درمیان کوئی ایک آدھ امید کی کرن، کوئی ایک آدھ اچھا انسان دکھا کر اسے اس زندگی کے جبر کو گوارا کر لینے پر مجبور کرنا۔ پھر وہ کہتا کہ چودھری صاحب ایسے بڑے آدمی کیلئے کون سا اتنی مہربانی کوئی بڑی بات ہے، آخر بڑے آدمی بھی تو ہیں ناں! لیکن ایسا نہیں تھا، وہ اپنی تصحیح کرتا۔ چودھری صاحب واقعی ایک سچا مسیحی دل لے کر آئے تھے، یا یوں کہہ لیں کہ ایک حقیقی انسان کا سا شفاف دل! تصور کو اس کا اندازہ تب ہوا جب سونیا مرحومہ کے بہنوئی نے کسی ضرورت کے تحت اپنا رکشا بیچنے کا فیصلہ کیا اور تصور کو کچھ عرصے کی مہلت دی کہ وہ اپنا کچھ اور کام کاج تلاش کر لےاور معینہ تاریخ تک اس کا رکشا اسے لوٹا دے۔یہ عرصہ تصور کے لئے سخت پریشانی کا تھا۔ سونیا کے علاج کی غرض سے لیے گئے قرض ابھی کاملاً ادا نہ ہوئے تھے۔ ایک ککے زئی تاجر کے تقاضے تو اب پولیس اور تھانے کی حدود میں داخل ہو چکے تھے۔ محلے کے معززین میں سے دو ایک کی مداخلت اس تاجر نے اس کے خلاف دی گئی درخواست تو پولیس سے واپس لے لی مگر چھے ماہ کا الٹی میٹم تھا۔ تصور میں بھی تھانے کے اس ایک پہر کے قیام کے بعد مزید ہمت نہ تھی، سو اب رکشے کی فروخت کا مطلب سارے اندیشے اور خوف پورے ہونے کا تھا۔ پھر یہ ابتلا ننھی سارہ پر بھی منفی اثر ڈالنے والا تھا کہ اب وہ بھی بالکل چھوٹی نہ تھی۔</p>
<p>بآسانی سمجھ میں آجانے والا تو یہی حل تھا، سو تصور کے ذہن میں بھی یہی آیا کہ چودھری وکٹر ممتاز صاحب سے بات کرے۔ وہ اس دن دانستہ سارہ کو لینے بدیر پہنچا۔ چودھری صاحب کا سب کو علم تھا کہ دیر تک دفتر میں بیٹھتے ہیں۔ چپراسی سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ اندر سے پیغام آیا کہ تھوڑا سا انتظار کیا جائے، نظامت تعلیمات کے کچھ افسران اور لاہور سے ایک پادری صاحب آئے بیٹھے تھے۔ معزز مہمان جا چکے تو تصور کو اندر بلوایا گیا۔ واجبی احوال پرسی کے بعد تصور نے مدعا بیان کیا۔ چودھری صاحب نے تمام بات غور سے سُنی، چپراسی کو بلایا اور کھانا مگوایا۔ یہ ادا کمال تھی اُن کی، ہمیشہ ایسا ہی کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اچھا مسیحی کسی کو بھی کھانا کھلا کر خداوند کے قریب تر ہو جاتا ہے۔ ان کے گھر پر بھی فراخ دلی کا یہی عالم تھا۔ وہ خاموشی سے کچھ فائلیں دیکھنے بیٹھ گئے۔ کھانے تک وہ خاموش تھے، تصور بھی چُپ رہا لیکن اس کے چہرے پر اُمید و بیم کے تاثرات واضح تھے۔</p>
<p>“تصور بیٹا۔۔۔ آپ اپنے ہم زلف سے رکشا لوٹانے کی معینہ تاریخ میں کچھ توسیع لے لیں۔۔۔ ایک ماہ کی۔۔۔ پھر میرے لیے دعا کریں کہ جو کچھ میں کرنا چاہ رہا ہوں، خداوند خُدا مجھے اس میں کامیاب کریں۔۔۔”</p>
<p>تصور نے کھانے سے اپنی نظریں اُٹھائیں۔۔۔ چودھری صاحب دوپہر کا کھانا نہیں کھاتے تھے، وہ فقط چائے کی سست رو چسکیاں لے رہے تھے۔</p>
<p>“تصور بیٹا میں سوچ رہا ہوں کہ اپریل تک میرے دفتر میں نائب قاصد کی آسامی بن رہی ہے۔۔۔ بُوٹا ریٹائر ہو رہا ہے۔۔۔ میری پوری کوشش ہو گی کہ اس پہ تمہارا تقرر ہو۔۔۔ اگرچہ ایک مسلم کے لئے یہ فیور مانگنے میں مجھے بورڈ ممبرز میں کسی نہ کسی کی مخالفت مول لینا پڑے گی، پھر تم جیسے مسلم کے لئے جس نے ماضی میں ایک مومن لڑکی کو مسلم کیا ہو، کرسچن بہت نرم گوشہ نہ رکھتے ہوں گے۔۔۔ تُم سمجھ گئے ناں؟”</p>
<p>تصور نے زور سے کسی معصوم بچے کی طرح اثبات میں سر ہلایا۔</p>
<p>“خیر تُم پر امید رہو۔۔۔ خداوند ہمیں کامیاب کرے گا۔۔۔”</p>
<p>چودھری وکٹر ممتاز صاحب کے لہجے میں خلو ص اور عزم تھا۔ سو وقت آنے پر خداوند نے انہیں کامیاب بھی کیا۔ تصور کو اس نوکری نے صرف معاشی طور پر ہی نہیں بلکہ سماجی طور پر بھی کچھ سہارا دیا۔ کچھ مسلمان کمیونٹی میں اور کچھ عیسائی کمیونٹی میں۔ معمولات میں ایک روانی آئی، اگرچہ مفلسی تو نہ گئی مگر محتاجی سے بچ کو آبرو میں کٹنے لگی۔ قرض خواہوں کے تقاضوں میں شدت تو ہوتی مگر اب پہلے سی بدتمیزی نہ تھی۔ حاجی صاحب سے تعلقات بھی بحال ہو گئے۔ عید تہوار پہ سارہ نے بھی ددھیال جانا شروع کر دیا اور ننہال تو اس کا اصل ٹھکانا تھا۔ ماسٹر رحمت مسیح تو اسے دیکھ دیکھ کر جیتے تھے۔ تصور کا گزشتہ شعر وسخن کا سلسلہ بھی کچھ بحال ہوا مگر اب سامعین اس کے غم اور یاس سے بھرے اشعار سے اُکتا گئے تھے۔</p>
<p>پھر کچھ سال اسی باعزت غریبی میں گزر گئے۔ عمر گذشتہ کے دکھوں کا مداوا ہو سکا نہ کوئی بڑی خوشی ملی۔ تصور بھی اس پر صابر وشاکر تھا کہ بے شک کوئی اور خوشی نہ ملے، کیا یہ کم ہے کہ جو کچھ میسر ہے، اس کا دُکھ نہ دیکھنا پڑے۔ دوسری شادی کے لئے کئی دفعہ احباب، دوستوں کی طرف سے اصرار بھی ہوا مگر اب تصور اس خیال سے بھی گھبراتا تھا۔ اسے سونیا کی یادوں سے بھی دوری گوارا نہ تھی۔ اور یہ باب کچھ اس لئے بھی بند ہونے لگا کہ تصور کے سر میں وقت سے زرا پہلے چاندی اترنے لگی تھی۔ نوکری میں اگرچہ عیسائی رفقائے کار کے ساتھ کبھی کبھار رنجشیں بھی ہوئیں مگر ایذا رسانی کی حد تک کبھی نہ پہنچیں۔ کچھ چودھری وکٹر ممتاز صاحب کی شفقتوں نے بھی اسے مامون رکھا۔ البتہ اب چودھری صاحب کی ریٹائرمنٹ قریب تھی۔</p>
<p>ریٹائرمنٹ سے چند ہفتے قبل کی بات ہے، اس روز چودھری صاحب گھر جا کر دوبارہ شام کو دفتر آئے اور تصور کو بھی بلوا لیا۔ دفتر میں پا س بٹھا کر ادھر ادھر کی بات چیت کرنے لگے۔جب سے تصور ان کے ہاں ملازم ہوا تھا، اب اس کے لئے کھانا نہ منگواتے۔ چائے البتہ منگوا لی۔ باتوں باتوں میں اپنی بیٹی کی شادی کا قصہ چھیڑ دیا۔ سلویا ممتاز ان کی اکلوتی بیٹی تھی جس کی شادی چند سال قبل ہوئی تھی۔</p>
<p>“تصور۔۔۔ میں جب سلویا کی شادی کے کپڑے گہنے بنا رہا تھا تو مجھے اورنٹیئل بینک کے ایک دوست کی وساطت سے کچھ گہنے نیلام کی قیمت پہ بھی ملے تھے۔۔۔”<br>
وکٹر صاحب کے اس جملے پر تصور چونک اُٹھا۔ وہ لگ بھگ ساری بات سمجھ چکا تھا۔ ساتھ ہی چودھری صاحب نے کوٹ کی جیب سے ایک سنہری زنجیر نکال کر میز پر پھیلا دی۔ تصور اسے پہچان گیا کیونکہ یہ اس کے لئے فقط ایک زنجیر نہ تھی۔۔۔ اس کے دل کی ایک دھڑکن گویا قضا ہو گئی۔</p>
<p>“تصور۔۔۔ یہ زنجیر پہچانتے ہو؟”</p>
<p>وکٹر صاحب نے پوچھا۔ پتلی سی زنجیر کے ساتھ ایک چھوٹا سا بُندہ، جس پر حرف ’ایس‘ کندہ تھا، تصور کو خوب یاد تھی، خوب پہچانتا تھا۔ اس کی آنکھیں بے اختیار ڈبڈبا گئیں۔</p>
<p>“تصور۔۔۔ یہ زنجیر تمہاری مرحوم بیوی کی۔۔۔ سونیا کی۔۔۔ مجھے اس کے باقی گہنوں کا بہت افسوس ہے لیکن یہ زنجیر اتفاق سے میرے پاس تھی۔۔۔ جب پہلی بار میں نے تُم سے اورنٹئیل بینک کا سُن کر سونیا بیٹی کے گہنوں کی تفصیل پوچھی تھی تو تب تک میں یہ زنجیر سلویا کو دے چکا تھا لیکن تب سے اب تک یہ ایک پھانس بن کر میرے دل میں اٹکی تھی۔۔۔”</p>
<p>چودھری وکٹر ممتاز صاحب نے زنجیر تصور کی طرف بڑھائی تو اُس نے ڈبڈبائی آنکھوں اور رندھے ہوئے گلے کے ساتھ ایک نامکمل سا لفظ ادا کیا “شکریہ سر۔۔۔” لیکن اس کا ہاتھ اب بھی زنجیر کی طرف نہ بڑھا تھا۔</p>
<p>“شکریہ تو تُم سلویا کا ادا کرو جسے ابھی چند روز قبل بہت اندیشوں کے ساتھ اور بڑی ردوکد کے بعد میں نے سونیا کے گہنوں کا قصہ سُنایا تھا۔ اُسے بھی سونیا کے گہنوں کا بہت دُکھ ہے اور مجھے اس بات کی خوشی ہوئی کہ سلویا نے یہ سب سنتے ہی بنا کسی جھجک یا مزید سوال جواب کے، یہ زنجیر مجھے لاکر دی جو اُسے یقین تھا کہ سونیا کی ہو گی۔۔۔”</p>
<p>یہ رات اُس نے چک ستاون کے مسلمانوں کے قبرستان میں سونیا کی قبر کے سرہانے پہ بیٹھ کر گزاردی۔۔۔ سونیا کے گلے کی جس زنجیر نے اُسے ملکوتی حُسن عطا کیا تھا اور اس شاعر کی نظر میں اُسے دونوں جہانوں کے حُسن کا پیکر بنایا تھا، وہ زنجیر، سونیا اور یہ شاعر جو اول الذکر ہر دو پہ کبھی جان وارتا تھا، تینوں آج مدت بعد ایک جگہ تھے۔ اگرچہ ان کے مابین فاصلہ بھی وہ تھا جو کبھی عبور نہ ہونے والا تھا! جب رات کا آخری پہر ہونے آیا اور تصور کو نقاہت سی ہونے لگی تو اس نے قبر کو مخاطب کیا؛</p>
<p>“سونی! مجھے لگتا ہے میری غریبی نے ہی یہ دن دکھائے۔ شاید یہ زنجیر تُم سے جُدا نہ ہوتی تو تمہارا حُسن بھی سرطان کے بھیانک عفریت کی غذا نہ بنتا! کسے خبر تُم پر یہ ابتلا فقط غریبی کی وجہ سے آئی ہے۔ خیر، یہ رہی تمہاری زنجیر۔۔۔اسے تُم سے بہتر کوئی نہیں پہن سکتا! مجھے معاف کرنا کہ میں اسے واپس حاصل کرنے میں ناکام رہا لیکن دیکھ لو، مجھے بھی اس کٹھن سفر نے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا ہے۔۔۔خیر، یہ لو۔۔۔ تمہاری۔۔۔زنجیر۔۔۔”</p>
<p>تصور نے اس کی قبر کی بالیں کی جانب کافی گہرائی تک مٹی کھود کر اس میں زنجیر دبا دی۔۔۔وہ اس زنجیر کو سارہ کے جہیز کیلئے نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ تصور وہاں سے اُٹھا تو اس کے سفید بال اور چہرے کی جھریاں پسینے میں تر تھیں اور قریب بستی کے کسی بلب کی بھولی بھٹکی روشنی میں پسینے کے قطرے تھکی تھکی سے چمک دکھا رہے تھے۔۔۔</p>
<p>رِیت رسموں کی زنجیر توڑ پھینکنے والا تصور اس زنجیر کے بوجھ سے آزاد ی پا کر اپنے ٹھکانے کی طرف چل پڑا کہ اب نجانے کب تک اسے زندگی کے جبر کی زنجیر میں بھی ہاتھ پاؤں مارنے تھے۔۔۔</p>
<p>(سرگودھا، ۱۰ جولائی ۲۰۱۹)<br>
Image: Heitham Adjina</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/zanjeer/">زنجیر ( ایک کہانی ڈائجسٹ کے رنگ میں) — ذکی نقوی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/zanjeer/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ہندسوں میں بٹی زندگی اور دیگر کہانیاں (محمد جمیل اختر)</title>
		<link>https://laaltain.pk/hindson-mein-bati-zindagi-and-other-stories/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/hindson-mein-bati-zindagi-and-other-stories/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد جمیل اختر]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 09 May 2019 18:08:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Banksy]]></category>
		<category><![CDATA[jameel akhtar]]></category>
		<category><![CDATA[Micro Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[micro fiction urdu]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu literature]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[جدید ادب]]></category>
		<category><![CDATA[مائکرو فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[محمد جمیل اختر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24555</guid>

					<description><![CDATA[<p>ہندسوں میں بٹی زندگی ’’ وارڈ نمبر چار کے بیڈ نمبر سات کی مریضہ کے ساتھ کون ہے ؟‘‘ ’’ جی میں ہوں” ’’مبارک ہو ، آپ کا بیٹا ہوا ہے‘‘ اُس لڑکے کو کمیٹی کے اُس سال کے رجسٹر میں تین ہزار بارہ نمبر پردرج کردیا گیاتھا۔ سکول میں وہ لڑکا ۸۰ اور ۹۰ [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/hindson-mein-bati-zindagi-and-other-stories/">ہندسوں میں بٹی زندگی اور دیگر کہانیاں (محمد جمیل اختر)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">ہندسوں میں بٹی زندگی</div>
<p>’’ وارڈ نمبر چار کے بیڈ نمبر سات کی مریضہ کے ساتھ کون ہے ؟‘‘<br>
’’ جی میں ہوں”<br>
’’مبارک ہو ، آپ کا بیٹا ہوا ہے‘‘</p>
<p>اُس لڑکے کو کمیٹی کے اُس سال کے رجسٹر میں تین ہزار بارہ نمبر پردرج کردیا گیاتھا۔</p>
<p>سکول میں وہ لڑکا ۸۰ اور ۹۰ نمبر لینے کی دوڑ میں لگا رہا، نوکری حاصل کی تو بے تحاشا کامیاب رہا اور قریبی لوگ اُسے اُس کی تنخواہ کی رقم ، موبائل نمبر، گاڑیوں اور بنگلوں کی تعداد سے جانتے تھے، وہ رقم کی گنتی کو بڑھانے کے لیے دن رات دوڑتا رہا حتٰی کے بوڑھا ہوکرہسپتال میں داخل ہوگیا۔۔۔</p>
<p>’’ وارڈ نمبر ۵ کے بیڈ نمبر چھ کے مریض کے ساتھ کون ہے؟‘‘<br>
’’ جی فرمائیے‘‘<br>
’’ سوری ہم نے بہت کوشش کی لیکن۔۔۔۔۔‘‘</p>
<p>گورکن نے پلاٹ نمبر چھ میں قبر نمبر پانچ سو بارہ تیار کرلی۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">اصل چہرہ</div>
<p>گزشتہ دس سال سے اُس نے اتنے چہرے تبدیل کئے تھے کہ وہ خود بھی تقریباً بھول گئی تھی کہ اُس کا اصل چہرہ کون سا ہے۔ ہر کچھ عرصہ بعد وہ اپنے چہرے سے اُکتا جاتی یا پھر اُس کے اِردگرد موجود لوگ ایسی صورت حال پیدا کردیتے کہ اُسے نئے ماحول میں ڈھلنے کے لیے اپنا چہرہ بدلنا پڑتا۔<br>
گھر کے ایک کونے میں جہاں وہ اپنے بچوں کو نہیں جانے دیتی تھی، مختلف طرح کے چہروں کا ڈھیر پڑا رہتا تھا، وہ گھر سے نکلنے سے پہلے جگہ اور لوگوں کی مناسبت سے چہرہ پہن لیتی۔<br>
لیکن اب پچھلے دو ماہ سے وہ جس نئی کمپنی میں کام کررہی تھی وہاں اُسے مسلسل ایک ہی مسکراہٹ بھرا چہرہ سجائے کاونٹر پر بیٹھنا پڑتا تھا۔۔۔<br>
اُس کی تنخواہ کم تھی اور مسائل زیادہ تھے وہ وہاں بیٹھے اپنے مسائل کے بارے سوچتی رہتی لیکن اُسے ہر آنے والے کسٹمر کو مسکرا کر خوش آمدید کہنا پڑتا تھا۔<br>
ایک روز جب وہ بے حد پریشان تھی ، اُس نے چہروں کے ڈھیر سے اپنا اصل چہرہ نکالا اور پہن کر دفتر آگئی۔۔۔</p>
<p>اُس دفتر میں یہ اُس کا آخری دن تھا۔۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">دو منظر</div>
<p><strong>پہلا منظر:</strong></p>
<p>یہ ایک کوڑا کرکٹ کا ڈھیر ہے اور چند بچے اِس میں سے اپنا رزق تلاش کر رہے ہیں۔ بچوں کے بال گردآلود ہیں اور مَیل کی وجہ سے موٹی رسیوں کی مانند ہوگئے ہیں۔<br>
تلاش کے دوران ایک بچے کو جوس کا پیکٹ مل جاتا ہے ، جس کے استعمال کی مدت ختم ہوچکی ہے لیکن وہ بچہ یہ بات نہ جانتا ہے اور نہ پڑھ سکتا ہے سو فوراً جوس پینے لگ جاتا ہے۔۔۔باقی بچے اُس کی اچھی قسمت پر رَشک کرتے ہیں اور سوچتے ہیں ، کاش اُن کی نظر پہلے اِس ڈبے پر پڑجاتی۔۔۔۔</p>
<p><strong>دوسرا منظر : </strong></p>
<p>یہ شہر کی سب سے اونچی بلڈنگ ہے جس کا افتتاح آج وزیر اعظم صاحب نے کیا ہے ، اُنہیں بلڈنگ کے مختلف حصے دکھائے گئے ۔ جدید طرز کے ہوٹلز ، ہسپتال ، سینما۔۔۔غرض کیا تھا جو اُس بلڈنگ کے اندر نہیں تھا۔۔۔<br>
اب وزیر اعظم صاحب بلڈنگ کی چھت پر موجود ہیں اور شہر کا جائزہ لے رہےہیں۔۔۔ دور دور تک بڑی عمارتوں نے شہر کو گھیر لیا ہے اور کچی آبادیوں کے ڈھیر آنکھ سے اوجھل ہوگئے ہیں۔۔۔۔<br>
” سب کس قدر خوش گوار ہے ” وزیر اعظم صاحب نے کہا<br>
اور ارد گرد سارے لوگ تالیاں بجانے لگ گئے۔۔۔۔</p>
<p>مجھے دوسرے منظر سے فوراً پہلے منظر کی طرف لوٹنا ہوگا دراصل وہ بچہ کہ جس نے جوس پیا تھا وہ پیٹ پکڑے درد سے کراہ رہا ہے لیکن اُس بستی میں کوئی ڈاکٹر نہیں ہے۔۔۔</p>
<p>دوسرے منظر میں پرتکلف کھانے کا آغاز ہوچکا ہے۔۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">گونگا وائلن نواز</div>
<p>اُس شخص سے اُس کی زبان چھین لی گئی تھی سووہ بول نہیں سکتا تھا، اُس نے ایک وائلن خریدا اور شہر کی گلی گلی میں بجاتا پھرتا،ایسا اُس نے روزی روٹی کمانے اور اپنا دل بہلانے کی خاطر کیاتھا تاکہ وہ اپنا ماضی بھول جائے لیکن اُس کے وائلن سے ہمیشہ دُکھی ساز نکلتے تھے۔ جب وہ گلیوں میں سازبجاتا ہواچلتا تو لوگ غمگین ہوجاتے۔شہر کے لوگ اُسے ’’غمگین نغمہ ساز‘‘ کہہ کر بلاتے تھے اور کہتے کہ اِس کے وائلن میں کوئی خاص پرزہ ہے جس کی وجہ سے اِس سے نکلنے والے ساز اِس قدر دُکھی ہوتے ہیں۔</p>
<p>بہت دفعہ لوگوں نے اُس سے وائلن لے کر خود بجانے کی کوشش کی لیکن عجیب بے ڈھنگی آوازیں ہی برآمدہواکرتی تھیں۔<br>
’’اِس قدر دکھی نغمے ہم نہیں سُن سکتے ، یہ آوازیں ہمارے بچوں کے لیے نقصان دہ ہیں ‘‘ لوگوں نے اُس کے خلاف شکایت درج کرادی اور پولیس اُسے پکڑ کر لے گئی۔</p>
<p>عدالت میں معزز جج نے اُس کا پرانا ریکارڈ پڑھا اور کہا’’اِس سے پہلے بھی تمہیں زیادہ بولنے کے جرم میں اپنی زبان سے محروم ہونا پڑاتھا لیکن پھر بھی تم باز نہیں آئے اور اب دکھی نغمے چھیڑنے لگ گئے ہو، تمہیں نقصِ امنِ عامہ کے جرم میں مذید سزا ملے گی‘‘</p>
<p>چونکہ اُس کی زبان نہیں تھی سووہ اپنے دفاع میں کچھ نہ کہہ سکا حالانکہ وہ کہنا چاہتا تھا کہ قید میں لگائے گئے قہقہوں سے آزادی میں بہتے آنسوزیادہ معتبر ہیں لیکن وہ نہ کہہ سکا اور اگر وہ کہہ بھی دیتا تووہاں سننے والے کان نہیں تھے۔<br>
عدالت نے اُس سے وائلن چھین لینے کا حکم دیا اور ایک سال کی قید بامشقت کی سزا سنائی۔<br>
جب وہ جیل سے رہا ہوا تو گلی گلی گھومتا اور لوگ اُس سے خوف کھاتے کہ اب کی باراُس کے ہاتھ میں وائلن نہیں تھا۔۔۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">بوجھ</div>
<p>وہ ایک کلرک تھا جو فائلوں میں گُم ہوگیا تھا۔۔۔ردی کاغذ کی فائلیں جن کے اندر ایک پورا آدمی گُم ہوگیا تھا اور یہ بات کلرک کی بجائے فائلوں کو معلوم تھی ۔وہ سارا دن دفتر میں فائلیں اُٹھائے پھرتا اور اُن میں سے چندایک گھر بھی اُٹھا کر لے آتا۔دن رات فائلیں اُٹھانے کی وجہ سے اُس کے کندھے جُھک گئے تھے ۔دراصل اُس پرفائلوں کے علاوہ اور بھی بہت سے بوجھ تھے جن کو اُتارنے کے لیے وہ دن رات فائلوں میں گُم رہتا۔</p>
<p>کلرک کی چاربیٹیاں تھیں اوراُس پر معاشرے کے رسم ورواج کابوجھ تھا۔۔۔ وہ اکثر رات کو سونے سے پہلے سوچتا تھا کہ وہ کتنی دیر روز اوورٹائم کام کرے تو چار دفعہ جہیز کا انتظام کرسکتا ہے۔۔۔جواب میں اُسے اگلے کئی سال دن رات فائلوں کے بوجھ تلے دبے رہنا تھا۔</p>
<p>ایک شام کلرک اپنے گھر آیا تو اُس کی بیوی صحن میں بیٹھی رو رہی تھی، ایسا رونا کہ جس میں آواز شامل نہیں تھی لیکن آنسوندی کی مانند بہہ رہے تھے۔<br>
کلرک کے پوچھنے پر بیوی نے ایک کاغذ اُس کے ہاتھ تھمادیا،یہ اُس کی بڑی بیٹی کا الوداعی خط تھااوراُس نے لکھا تھا کہ<br>
’’میں اِس دن رات کی غربت سے تنگ آگئی ہوں ، اوراپنی مرضی سے شادی کرکے جارہی ہوں ۔برائے مہربانی مجھے مت ڈھونڈیں‘‘</p>
<p>کلرک جو دن رات دس پندرہ فائلیں بغل میں لیے گھومتا تھا ، ایک کاغذ کے بوجھ تلے دبتا چلاگیا۔۔<br>
حتٰی کہ اُس کی بیوی نے دیکھا کہ وہ زمین سے صرف ایک فٹ اوپر رہ گیا تھا۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">بوتل میں قید آدمی</div>
<p>محبت میں ناکامی کے بعد اُس نے سوچا کہ وہ ایک بوتل بنائے گا۔<br>
سو وہ ایک عرصے تک بوتل بناتا رہا، لوگ پاس سے گُزرتے تو اُسے سمجھاتے کہ یہ پاگل پن ہے سو اُسے یہ کام ترک کر دینا چاہیے لیکن وہ لگاتار بوتل بناتا رہا۔۔۔۔۔<br>
کئی سال گزرگئے ، اب اُس کے سینے میں سانس چلتی تھی تو کھر ، کھر کی آواز آتی تھی ، بال بڑھ گئے تھے اور لوگوں نے اُس پر افسوس کرنا چھوڑ دیا تھا۔<br>
جب بوتل مکمل بن گئی تو اُس نے خود کو اُس میں قید کرلیا، اب وہ بوتل میں سما گیا تھا۔<br>
کتنے موسم گُزرے ، کئی بارشیں آئیں اور بہت سی مئی ، جون کی تپتی دوپہریں گزریں ، وہ بوتل نالی کے پاس بنے ایک دکان کے تھڑے کے ساتھ پڑی رہتی اور آہستہ آہستہ ہلتی رہتی۔<br>
پھر ایک دن بوتل نے ہلنا چھوڑ دیا اور لوگوں نے بوتل اُٹھا کر سمندر میں پھینک دی اور ناک پر رومال رکھے واپس آ گئے۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>شعبدہ گر</p>
<p>وہ ایک شعبدہ باز تھا , سرکس میں منہ سے آگ نکال کر دکھاتا تھا۔۔۔ لوگ خصوصاً بچے اُس کا کرتب دیکھ کر خوب تالیاں بجاتے۔۔۔ شہر شہر ، قریہ قریہ سرکس کا تماشا چلتا رہتا۔ وہ سٹیج پر ہاتھ میں جلتی ہوئی لکڑی اور پٹرول کی بوتل تھامے نمودار ہوتا ، وہ جتنی دور تک آگ نکالتا اُتنی ہی تالیوں کی گونج میں اضافہ ہوجاتا ، پہلے پہل جب وہ ایک لڑکا تھا ، تالیوں کا شور اُس کے اندر بہت ہوا بھردیتا تھا اور وہ اور زور لگا کر آگ نکالتا تھا لیکن پھر رفتہ رفتہ اُس کی عمر بڑھتی گئی اور اُسے تالیوں کی آواز سنائی نہ دیتی تھی حتٰی کہ اُسے سامنے بیٹھے لوگ بھی دکھائی نہیں دیتے تھے ، اُسے صرف اور صرف داد میں آنے والے پیسوں سے غرض تھی تاکہ وہ اپنے بچوں کے خواب پورے کرسکے۔۔۔</p>
<p>وہ جب گھر لوٹتا تو اُس کے بچے اور بیوی اُس کے منتظر ہوتے ،اُس کا خواب تھا کہ اُس کے بچے پڑھ لکھ جائیں تاکہ انہیں منہ سے آگ نہ نکالنی پڑے ، اُس نے بچوں کو اپنے آگ نکالنے کے سامان کو ہاتھ لگانے سے منع کر رکھا تھا۔۔</p>
<p>اِسی شعبدہ گر کا بیٹا جس سکول میں جاتا تھا ، ہر سال اول پوزیشن حاصل کرتا تھا لیکن کوئی اُسے داد نہ دیتا ، وہاں سب لوگ اُسے منہ سے آگ نکالنے کا کہتے کہ اُس کے والد سے وہ یہ کرتب دیکھ چکے تھے۔۔۔<br>
آخر ایک روز جب شعبدہ باز گھر سو رہا تھا ، اُس کا بیٹا لکڑی اور پٹرول کی بوتل لے کر دوستوں کے پاس پہنچ جاتا ہے کہ وہ آج اُنہیں منہ سے آگ نکال کر دکھانا چاہتا تھا۔۔<br>
لیکن آگ نکالتے ہوئے اُس کا بازو جل جاتا ہے ، شعبدہ گر پریشانی میں اپنے بچے کو ہسپتال لےکر جاتا ہے۔۔۔مرہم پٹی کے بعد ڈاکٹر ، شعبدہ گر سے پوچھتا ہے کہ وہ کیا کام کرتا ہے۔<br>
” جی میں سرکس میں کرتب دکھاتا ہوں ” شعبدہ گر نے جواب دیا<br>
” کون سا کرتب ؟” ڈاکٹر نے پوچھا<br>
” جی وہ ، وہ منہ سے آگ نکالتا ہوں ” وہ کچھ شرمندہ ہوکر بولا<br>
” اوہ اچھا ! تو آپ کے بچے نے آپ ہی سے یہ ہنر سیکھا ہے”</p>
<p>ڈاکٹر نے کہا اور ایسے میں وہ شعبدہ گر کی آنکھوں کے خواب نہ دیکھ سکا۔۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>تقسیم</p>
<p>یہ ایک بڑا ہال ہے جہاں ایک مشہور فلاحی ادارے کا سیمینار ہورہا ہے۔ سٹیج پر بیٹھے دانشوروں نے معاشرے میں دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم پر بہت عمدہ گفتگو کی۔ اُن میں سے کئی افراد بیرونِ ملک سے آئے تھے سو وہاں کی مثالیں بھی پیش کیں۔<br>
سلیم ہال میں موجود ایک ویٹر ہے ، اُسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ وقت کی قید میں آگیا ہے ۔ وقت جو اُس کے پیدا ہونے سے پہلے بھی تھا اور بعد میں بھی رہے گا ، درمیان میں وہ قید بامُشقت کاٹ رہا تھا۔<br>
معزز دانشور نے تقریر کے دوران سٹیج پر بیٹھے چاروں مقررین سے سوال کیا<br>
’’کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ کتنے دن آپ کام کریں تو ایک اچھی گاڑی خرید سکتے ہیں ؟‘‘<br>
’’چار ماہ‘‘ پہلے دانشور نے جواب دیا۔<br>
’’چھ ماہ‘‘ دوسرا دانشور بولا<br>
’’مجھے شاید ایک سال لگ جائے‘‘ تیسرا دانشور بولا<br>
’’میرا خیال ہے کہ مجھے ڈیڑھ سے دو سال لگیں گے کہ میں ایک اچھی گاڑی خرید سکوں ‘‘چوتھا دانشور تھوڑا شرمندہ ہوکربولا<br>
’’ تو سامعین دیکھا آپ نے کہ یہاں چاروں مقررین کے جواب کس قدر مختلف ہیں ، ہم نے اِسی غیر منصفانہ تقسیم کو ختم کرنے کے لیے آج کا اجلاس بلایا ہے‘‘ مقرر نے کہا.<br>
’’ کتنے دن تم بطور ویٹر کام کرو تو ایک گاڑی خرید لو گے؟‘‘ سلیم نے خود سے سوال کیا۔<br>
’’ دو زندگیاں اور کچھ مذید دن——” اندر سے ایک آواز آئی جواُس کے علاوہ ہال میں کسی نے نہ سُنی۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">الزام</div>
<p>یہ کمرہِ عدالت ہے جہاں ایک چوری کا مقدمہ زیرِسماعت ہے۔ بشیر پر گاڑی چوری کا الزام ہے۔<br>
مُعزز جج نے مقدمے کا فیصلہ سنانے سے پیشتر بشیر کو نصیحت کرتے ہوئے کہا۔<br>
’’اِس سے پہلے کہ میں تمہیں اِس چوری کی سزا سُناؤں ، تمہیں سمجھانا چاہتا ہوں کہ چوری ایک بُرا فعل ہے, اب نہ صرف تم سزا پاؤ گے بلکہ تمہارے گھر والے بھی اِس سزا کی وجہ سے مشکل دن گزاریں گے، تمہیں ضرور وہ کام کرنا چاہیے تھا جو تم چور بننے سے پہلے کیا کرتے تھے۔ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ تم چوربننے سے پہلے کیا کام کرتے تھے ؟‘‘<br>
’’جی میں چور بننے سے پہلے بھی چور تھا‘‘ بشیر نے گھبرا کر کہا۔<br>
اُس کا جواب سُن کر معززجج سمیت کمرہِ عدالت میں موجود بیشترافراد ہنس پڑتے ہیں۔<br>
’’چوربننے سے پہلے چور بھلا کیسے بنا جاسکتا ہے؟‘‘ جج نے سوال کیا۔<br>
’’ جی دیکھیں یہ آج مجھے دوسری دفعہ سزا ہونے والی ہے، کئی سال پہلے میں ایک اسٹورمیں مُلازم تھا جہاں پر ایک رات چوری ہوگئی تو اسٹور کے مالک نے شک کی بنیاد پر مجھے پولیس کے حوالے کردیا، پانچ سال بغیرجرم کے جیل کاٹنے کے بعد جب میں واپس آیا تومجھے معلوم ہوا کہ ساری دنیا مجھے چور ہی سمجھتی ہے حالانکہ میں چور نہیں تھا لیکن رفتہ رفتہ مجھے محسوس ہوا کہ میں چور بننے سے پہلے بھی چورہی تھا… کیا میں چور نہیں تھا جج صاحب؟”<br>
’’ ٹھیک ہے، ٹھیک ہے ہم فیصلے کی جانب آتے ہیں، دفعہ تین سو اکاسی (اے) کے مطابق عدالت مُلزم بشیر کو پانچ سال قید بامشقت کی سزا سُناتی ہے ‘‘ معزز جج نے فیصلہ سنایا اور پولیس والے چورکو دھکا مارکر کمرہ عدالت سے باہر لے جاتے ہیں ۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">ایک نابینا محبت کی سرگزشت</div>
<p>میں نورالعین ہوں لیکن میری آنکھوں کا نور ختم ہو چکا ہے، مجھے خود کو اندھا کہتے ہوئے جھرجھری سی آ جاتی ہے سو خود کو نابینا نہیں کہتی ۔مجھے ہر وقت سوچتے رہنے کا مرض لاحق ہے۔ اگر کسی انسان کا دماغ سوچ کے مرض میں مبتلا ہو تو کیا وہ پھر بھی اندھا کہلائے گا ؟ میرا نہیں خیال لیکن دنیا والوں کو میں نے خود کو اندھا کہنے سے کبھی روکا نہیں۔۔۔</p>
<p>میں نورالعین ہوں اور پارک میں ایک بنچ پر بیٹھی ہوں ، میں نے تین سال قبل دنیا کو اِسی پارک میں ایک بنچ پر ایک اور شخص کی آنکھوں سے دیکھنا شروع کیا تھا۔۔۔<br>
یہ بتاتے ہوئے میں کچھ شرما رہی ہوں لیکن اب اِس بات کو چھپانے کا کچھ خاص فائدہ بھی نہیں ، زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب باتوں کا بتانا اور چھپانا ایک برابر ہوجاتا ہے اور اس کہانی کے اختتام پر یقیناً آپ خود کو میرا ہم خیال پائیں گے۔۔۔</p>
<p>میں نورالعین جو اب اِس بنچ پر بیٹھی ہوں اور تین سال قبل دنیا کو ایک اور شخص کی آنکھوں سے دیکھنا شروع کیا تھا۔ وہ مجھے کہتا تھا دنیا کس قدر حسین ہے ، تتلیوں کے رنگ نیلے ، سبز اور سرخ ہیں اور بنچ کے ساتھ درخت کے اوپر چڑیا جو گارہی ہے ،اس کا رنگ سنہرا یاقوتی ہے۔<br>
پارک کے سبھی راستوں کے گرد گیندے کے بڑے بڑے پیلے پھول کھلے ہیں اور جب خزاں آتی ہے تو درخت سوکھ جاتے ہیں ، پھولوں کی پتیاں بکھر جاتی ہیں لیکن ان کی خوشبو محبت کرنے والوں کے دلوں کو معطر کیے رکھتی ہے اور سنہری چڑیا اپنا گیت گانے کسی اور دیس کو اڑ جاتی ہے۔۔۔<br>
میں نے یہ سب کچھ اُس شخص کی آنکھوں سے دیکھا اور یقین کر لیا۔۔۔</p>
<p>میں نورالعین نابینا کہ جس نے دنیا کو ایک ایسے شخص کی آنکھوں سے دیکھا تھا جو ابھی ابھی یہاں بنچ سے اٹھ کر گیا ہے اور میرے ہاتھوں میں موجود سنہری بالوں والی لڑکی کی تصویر اُسی کی دی ہوئی ہے ، اس تصویر کو میں نے اُسی کی آنکھوں سے دیکھا ہے ، یہ وہ لڑکی ہے جس سے اُسے محبت ہے اور آپ سب کی آنکھیں ہیں سو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میرے بال سنہری نہیں ہیں۔۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">رُکا ہوا آدمی</div>
<p>رُکا ہوا آدمی</p>
<p>’’آنکھیں اور کان بند کرو اور چھتری تان لو، بارش سے بچ جاؤ گے اور بجلی کی چمک تمہاری آنکھوں میں نہ پڑے گی، کانوں میں روئی ڈال لو کوئی آواز نہ سنائی دے گی‘‘<br>
’’تو پھر میں آگے کیسے بڑھوں گا؟‘‘<br>
’’ چھتری بارش سے بچاتی ہے‘‘<br>
’’ لیکن وہ آگے کا سفر؟‘‘<br>
’’بجلی کی چمک سے آنکھیں چندھیا سکتی ہیں سو بند ہی رکھو‘‘<br>
’’ لیکن وہ میں کہہ رہا تھا کہ سفر؟‘‘<br>
’’ کان بند رکھو اور کسی بات پر دھیان نہ دو‘‘<br>
’’لیکن پھر؟‘‘<br>
’’بس تم چھتری تانے ، آنکھیں اور کان بند کیے یہیں کھڑے رہو‘‘<br>
’’ اخبار لے لو ، اخبار‘‘<br>
” آج کی تازہ خبر پڑھنے کے لیے<br>
اخبار لے لو ، اخبار”<br>
’’اخبار والے رکو، کیا نئی خبر ہے ؟‘‘</p>
<p>’’ تمہیں کیا، تم تو رُکے ہوئے آدمی ہو‘‘<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
Imzge: Banksy</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/hindson-mein-bati-zindagi-and-other-stories/">ہندسوں میں بٹی زندگی اور دیگر کہانیاں (محمد جمیل اختر)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/hindson-mein-bati-zindagi-and-other-stories/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>باجے والی گلی — قسط 2 (راج کمار کیسوانی)</title>
		<link>https://laaltain.pk/baje-wali-gali-ep-2/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/baje-wali-gali-ep-2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[آج]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 03 Feb 2019 13:01:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[ajmal kamal]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24174</guid>

					<description><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”] راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/baje-wali-gali-ep-2/">باجے والی گلی — قسط 2 (راج کمار کیسوانی)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[[blockquote style=“3”]
<div class="urdutext"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2019/01/raj-kumar-keswani-laaltain.jpg"><img decoding="async" class="alignleft size-full wp-image-24096" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2019/01/raj-kumar-keswani-laaltain.jpg" alt width="200" height="200" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2019/01/raj-kumar-keswani-laaltain.jpg 200w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2019/01/raj-kumar-keswani-laaltain-150x150.jpg 150w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2019/01/raj-kumar-keswani-laaltain-100x100.jpg 100w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2019/01/raj-kumar-keswani-laaltain-50x50.jpg 50w" sizes="(max-width: 200px) 100vw, 200px"></a>راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔<br>2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔<br>راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔<br>اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔<br>تعارف اور پیشکش: اجمل کمال</div>
[/blockquote]

سانولی سی شام کا رنگ گہراتے گہراتے جب شیام رنگ ہو جاتا ہے تو شہربھر میں ان ویران پٹیوں پر آہستہ آہستہ ایک سماجی مجمع سا لگ جاتا ہے۔ دن بھر کی دوڑ دھوپ کے بعد جو زندگی نے تھمنے کا موقع دیا تو سب ایک دوسرے سے ملنے کو مچلنے سے لگتے ہیں۔

ان پٹیوں کا اس شہر کی زندگی میں وہی مقام ہے جو آسمان کے وجود میں چاند کا ہے۔ دن بھر زندگی کی سلگتی بھٹی کی تپش سے باہر نکل کر ٹھنڈک کا احساس دیتے ان پتھر کے ٹکڑوں پر بیٹھ کر نہ جانے کتنی پیڑھیوں نے راحت پائی ہے۔ نہ جانے کتنے اتہاس کہے سنے اور نہ جانے کتنے اتہاس لکھے گئے ہیں۔

ایک صفت اور ہے یہاں کی۔ جدھر نکل جائیے گا، وہیں چائے اور ورقی سموسے پروستی چھوٹی چھوٹی ہوٹلیں پائیے گا۔ چائے بھی نمک والی چائے۔ سلیمانی چائے۔ اور وہ بھی فل بالائی مار کر۔ اب یہی تو ہے نا که یہاں دودھ کی ملائی ’بالائی‘ ہو جاتی ہے، ہرا دھنیا ’کوتمیر‘ ہو جاتا ہے، اروی ’گھئیاں‘، لوکی ’گڑیلی‘ اور سپاری کسی حسین دوشیزہ کا بھرم دیتی ‘چھالیہ‘ کہلاتی ہے۔

یہ سب اپنی جگہ، لیکن سب سے ضروری دو چیزیں جن پر سارا شہر اِتراتا ہے۔ ایک ہے یہاں کا بڑا تالاب اور دوسرا ہے بروکاٹ بھوپالی۔ اِترانا تو ٹھیک، میلوں میں پھیلے اس بڑے تالاب کو لے کر بھوپالیوں نے تو سارے زمانے کو چنوتی سی دے رکھی ہے:

تالوں میں تال تو بھوپال تال، باقی سب تلیّاں<br>رانیوں میں رانی تو کملا رانی، باقی سب گدھیّاں

کملا رانی بولے تو بھوپال کی گونڈ رانی کملاپتی، جس کو لے کر بھی ہزار داستانیں ہیں۔<br>اب رہی بات ’’بروکاٹ بھوپالی’’ کی تو اس کا ایسا ہے که یہ لقب اصل میں یہاں کے مُول نِواسیوں [اصل باشندوں] کے لیے ہے جنھوں نے چاروں اور پھیلے برو کے جنگل صاف کر کے شہر کی آبادی کے لیے میدان صاف کیا۔ لیکن آفرین بھوپال کے ان جیالوں کو جو بسے بسائے شہر میں آ بسے اور بے جھجک خود کو برو کاٹ بھوپالی کا تمغہ دے کر تیڑھے میڑھے ہوے پھرتے ہیں۔

کسی وقت پورا شہر پرکوٹے سے گھرا تھا اور شہر میں داخل ہونے کے لیے سات گیٹ تھے۔ کہتے ہیں رات میں شہر کوتوال خود ساتوں دروازوں پر تالا لگاتا تھا اور صبح خود اپنے ہاتھوں سے کھولتا تھا۔ پرکوٹا ٹوٹا تو گیٹ بھی غائب ہونے لگے، لیکن کچھ ابھی بھی زندہ ہیں۔ سو جہاں گیٹ ہیں یا تھے وہ علاقے اب بھی امامی گیٹ، پیر گیٹ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

یوں تو بتانے کو ابھی پورا شہر ہی باقی ہے، بلکہ جو بتایا ہے اس کے بارے میں بھی پورا پورا بتانا پوری طرح سے باقی ہے۔ لیکن اس وقت میں ذرا واپس اپنی باجے والی گلی کو لوٹنا چاہتا ہوں۔ بلکہ اپنے گھر لوٹنا چاہتا ہوں، جس نے مجھے باجے والی گلی کا باشندہ ہونے کا فخریہ حق دیا ہے۔ اور یوں بھی اس کہانی کو شروع بھی تو وہیں سے ہونا ہے۔

٭٭٭٭٭٭

اس گلی میں، جہاں نواب جنرل عبیداللہ خاں صاحب کی خالی پڑی ایک ’’بہوت بائی بہوت‘‘ سائز کی لمبی چوڑی پائیگاہ ہے، وہاں باقی بچے حصے میں دونوں طرف زیادہ تر پتھر کی چنائی والی دیواروں پر دیسی کویلُو والی کھپریلوں سے ڈھکے مکانوں کی قطاریں ہیں۔ گلی کے بیچ کئی گلیاں ہیں۔ پتلی سی مگر خوب گہرے تک جاتی ہوئی۔ ان پتلی سی گلیوں کے آخر اور بیچ میں کچھ دروازے ہیں۔ دروازوں کے پیچھے پردے ہیں۔ ان پردوں کو کوئی ایک ہاتھ جب اوپر اٹھاتا ہے تبھی معلوم ہوتا ہے که وہاں بھی گھر ہیں۔

ایسے سخت پردے والی مسلم آبادی کی گھنی بستی کے گھروں کے بیچ چھتوں کی اونچائی کو لانگھ کر گلی میں جھانکتے کچھ پیڑ بھی ہیں۔ ان میں ایک جامن کا پیڑ، دو پیپل کے اور لگ بھگ چھ نیم کے پیڑ ہیں۔ یوں امرود کے پیڑ تو یہاں ہر گھر میں ہیں لیکن ان سبھی کا قد ان باقی پیڑوں کے سامنے اتنا ہی ہے جتنا یہاں رہنے والے زیادہ تر لوگوں کا شہر کے قدآور اور آسودہ لوگوں کے سامنے بیٹھتا ہے۔

اس گلی کے لوگوں کی زندگی میں ان پیڑوں کی ایک خاص جگہ ہے۔ جامن کا پیڑ جب اپنے شباب پر آتا ہے اور خوشی میں جامن کے چھوٹے چھوٹے، کالے کالے پھلوں سے لد جاتا ہے، تب یہ خوشی الگ الگ مقدار میں گلی کے کم و بیش ہر گھر تک پہنچ جاتی ہے۔

گلی میں کوئی آدھا درجن گھروں میں لگے نیم کے پیڑوں کے بیچ کچھ کچھ دوری تو ہے لیکن پھر بھی جب ہوائیں چلتی تو جھوم جھوم کر ناچتے گاتے، ایک دوسرے سے باتیں کرتے معلوم ہوتے ہیں۔ دانت مانجنے کے لیے ہر صبح جب لوگ ان کی شاخیں توڑتے تو اس چھیناجھپٹی میں شاخوں سے ٹوٹ کر زمین پر ڈھیر سارے ہرے اور پیلے پتے بکھر جاتے ۔ ہوا کے ہلکے ہلکے جھونکوں کے ساتھ پوری گلی میں اڑتے گرتے پتے ایک بھینی سی مہک کے ساتھ ہی ساتھ ایک خوبصورت منظر بھی رچ دیتے۔ ایسا لگتا مانو کوئی پینٹر کینوس پر کام کر رہا ہے۔

اس سارے منظر کو ایک اَدبھُت گرما دینے کے لیے ہر صبح ایک آواز گونجتی ہے۔ یہ آواز ہے یہاں رہنے والے میواتی گھرانے کے گایک دو بھایئوں، گھسیٹا استاد اور مسیتا استاد کی۔

یہاں سے پاکستان کو ہجرت کر جانے والے تو چلے تو گئے لیکن اُن لوگوں کی حویلیاں یہیں رہ گئیں۔ ان حویلیوں میں سے ایک تھی اس شہر بھوپال کی مشہور ’نانی جی کی حویلی‘ جس کا ایک دروازہ باجے والی گلی کی طرف تو دوسرا دروازہ کوتوالی والی سڑک کی طرف کھلتا تھا۔ اس حویلی کی شان یہ تھی که اس حویلی میں یہاں کے نامور حکیم سلطان محمود اپنے پورے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔ اور ماشاءاللہ، جتنا بڑا خاندان تھا اور اتنی ہی بھری پُری جگہ حویلی میں تھی۔ اس کے نزدیک ہی بنا بڑے بڑے کالے پتھروں والا وشال کائے تبّا میاں کا محل بھی سونا رہ گیا تھا۔<br>تقریباً آدھا فرلانگ لمبی اس باجے والی گلی کی ہمیشہ سے ایک بہت بڑی خوبی یہ رہی ہے که یہاں پر غریبوں کا بڑا دبدبہ رہا ہے۔ چار چھ حیثیت والے لوگ بھلے ہی اس گلی میں رہتے رہے ہوں لیکن محلے کی صحت پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے که حیثیت والوں نے اپنی حیثیت کا وزن محلے پر ڈالنے کی کوشش کبھی نہیں کی۔ سو انسانی فطرت سے پیدا ہونے والے کچھ لاعلاج آپسی مسئلوں کے علاوہ یہاں اکثر امن چین قائم رہا ہے۔

اس گلی کی دوسری خوبی یہ ہے که یہاں آپ کو دہاڑی مزدور سے لے کر لُہاری اور پائپ فٹنگ، اخبار بانٹنے والے ہاکر سے لے کر الیکٹریشین جیسے طرح طرح کے پیشے کرنے والے لوگوں سے لے کر جنگل کے ٹھیکیدار اور کلاسیکل موسیقی کے استاد ایک ساتھ مل جاتے ہیں۔

گلی کے ایک مُہانے سے ایک موڑ بِرجیسیہ مسجد سے ہوتا ہوا اتوارا کی سبزی منڈی کی طرف جاتا ہے اور دوسرے ہاتھ والا موڑ جامع مسجد والے چوک کی طرف۔ یہاں پر چوک والی دِشا میں ایک لمبا چوڑا لکڑی کا ٹال ہے جو ’جلیل بھائی کا پیٹھا‘ کے نام سے مشہور ہے۔ یہی پیٹھا آگے چل کر میرا گھر بننے والا ہے۔

جلیل بھائی اس شہر کے خاصے معروف انسان ہیں۔ اس پیٹھے کے علاوہ آس پاس کے گاؤں میں خوب ساری زمینیں ہیں۔ ان میں ایک زمین وہ بھی ہے جہاں ہر سال راون کا وَدھ ہوتا ہے اور دشہرہ منایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ دشہرہ میدان کہلاتا ہے۔

پیٹھے کے بعد کوئی پانچ گھر چھوڑ کر اندر کی طرف ان کا گھر بھی ہے۔ ایک چھوٹے سے لکڑی کے دروازے کے پیچھے چھپے اس خاصے بڑے گھر کے اندر پورے دو درجن لوگ رہتے ہیں۔ آخر پورے سات بھایئوں کا کنبہ ہے، جن میں تین ابھی کنوارے ہیں۔<br>پیٹھے کے ٹھیک سامنے، ایک قدیمی انداز کے نام اور شکل صورت والا ایک گھر ہے – غریب خانہ۔ سیدھی سیدھی سفید چونے سے پتی ہوئی دیواریں، ایک گلی میں تو دوسرا سڑک کی طرف کھلتا ہوا دروازہ۔ سر پر وہی دیسی کویلُو کی چھت جو محلے کے زیادہ تر گھروں میں لگی ہے۔

اس غریب خانے کے مالک نصیب خاں ‘سوداگر‘ نہ جانے کتنے سودے نپٹانے کے بعد شہر کے بڑے سوداگروں میں شمار ہوتے ہیں۔ شہر کی معزز اولڈ بوائز کلب کے سیکرٹری ہیں۔ ہر شام وہاں پتے کھیلنے ضرور جاتے ہیں۔

نصیب خاں کی خوبی یہ ہے که سوداگر ہونے کے باوجود دل کے نیک اور طبیعت سے فیاض انسان ہیں۔ انھوں نے اپنے غریب خانے کے نام کو بامعنی کرتے ہوے باہر کی ایک چھوٹی سی کٹھریا گاؤں سے مزدوری کرنے آئی کھِمیا (شما) بائی کو بنا کرائے دے رکھی ہے۔ اسی سے لگا ایک کمرہ انھوں نے ایک نوجوان بیڑی مزدور صابر میاں کو دے رکھا ہے جس نے ایک چھوٹا سا چائے خانہ اور دو کیرم بورڈ لگا رکھے ہیں۔

یہ صابر میاں کنوارے ہیں۔ بڑے باغ و بہار انسان ہیں۔ انھوں نے اس کمرے کے باہر نکلے پتھر کے اوٹلے پر اپنے بیٹھنے کا ٹِھیا اور بغل میں ہی چائے بنانے کے لیے ایک سماوار لگا رکھا ہے۔ کیرم کھیلنے اور چائے پینے کی غرض سے اندر جانے یا باہر آنے کے لیے صابر میاں کو لانگھ کر ہی آنا جانا پڑتا ہے۔

صابر میاں اکثر کسی مداری کی طرح ایک ساتھ کئی کام کرتے ہوے نظر آتے ہیں۔ اپنی پیاری مونگیا رنگ کی کالر چڑھی مخملی جیکٹ اوڑھے وہ ایک لمحے پتی، تمباکو اور لال ڈوری والے گٹے سے بھرا سوپڑا گود میں لیے بیڑی بناتے دکھائی دیتے ہیں تو اگلے ہی پل وہ کیرم بورڈ پر بیٹھے اور چائے پی رہے گاہکوں پر نظر ڈالتے ہوے گیم اور چائے گنتے نظر آتے ہیں۔ اور جو اس سب سے من اُچٹا تو اندر رکھا بینجو نکال کر اس پر شروع ہو جاتے ہیں – ’’ہمیں تو لوٹ لیا مل کے حسن والوں نے، گورے گورے گالوں نے، کالے کالے بالوں نے۔‘‘ شاید انھیں ایک یہی گیت بجانا آتا تھا، کیونکہ انھیں دوسرا کوئی گیت کبھی بجاتے نہیں سنا گیا۔

یوں بھی یہ گیت ان کے کردار کے بہت قریب تھا۔ ان کی عادت میں ہر آتے جاتے کو کسی نہ کسی طرح ٹوکنا یا کوئی جملہ مارنا بےحد ضروری تھا۔ بنا مرد یا عورت کا فرق کیے، پہلا فقرہ اسمِ خاص میں ہی ہونا ہے۔ کسی ہم عمر کو سج دھج کر جاتے دیکھ لیا تو کہتے، “آئے ری، آج تو نبو میاں کی عید ہو گئی۔ اکنی زیادہ ملے گی۔‘‘ یا پھر کسی پر فقرہ کس دیا که ’’بھری جوانی، مانجھا ڈھیلا۔” غرض یہ که ہنسی ٹھٹھا چلتا ہی رہتا ہے۔

ان کے آگے والے گھر میں نگر پالیکا [میونسپلٹی] میں نل سدھارنے کی نوکری کرنے والے دو بھائی رہتے ہیں، جن کے کل جمع چھوٹے بڑے چار بیٹے بھی پرائیویٹ میں نل لگانے سدھارنے کا کام کرتے ہیں اور شام میں ہاکی سٹک لے کر کھیلنے نکل پڑتے ہیں۔ گھر کی عورتیں زیادہ تر زردوزی کا کام کرتی رہتی ہیں۔

ہاکی تو محلے کا کم وبیش ہر لڑکا کھیلتا ہے۔ کوئی لوکل تو نیشنل تو کوئی ’اولمپخ۔‘ غرض یہ که ’ہاکی ہے ایمان میرا‘ والی حالت ہے۔

اس گھر کے آگے والا گھر موسیٰ میاں کا، پھر چراغ حسین وغیرہ کے گھر، جن کے بارے میں ذرا بعد میں بات ہو گی۔ ابھی تو ذرا بس کچھ موٹی موٹی باتیں۔ مثلاً یہ که گلی کا سب سے زیادہ علاقہ کھانے والی چیز ہے جرنیل صاحب کی پائیگاہ۔ قاعدے سے تو پائیگاہ نوابوں کے ہاتھی گھوڑے باندھنے کے لیے ہوتی تھی لیکن سونگھنے پر بھی کبھی یوں نہیں لگا که یہاں کبھی کوئی جانور بھی رہا ہو گا، اور جو رہا ہو تو خدا جانے۔ اس وقت تو گلی کے ادھر والے حصے میں ایک بڑا سا دروازہ ہے جو ہمیشہ بند ہی رہتا ہے۔ البتہ اس کی پلٹ یعنی لیلیٰ برج والی سڑک کی طرف ضرور لڑکیوں کو سکول کالج لے جانے والی بسیں کھڑی ہوتی تھیں۔ پردے والی ان بسوں کو ہمارے صابر میاں نے ’حسینوں کا ڈبہ‘ کا نام دے رکھا ہے۔ ان میں سے سلطانیہ گرلز سکول والی ایک بس کے ڈرائیور صندل میاں اسی گلی میں رہتے ہیں۔ صابر میاں کے دوست بھی ہیں اور چائے پینے آتے تو صابر میاں ان سے چھیڑ میں لگ جاتے۔

پائیگاہ کی دیوار سے لگا اگلا مکان ہماری حویلی کے ٹھیک سامنے ایک مفلس شاعر کا گھر ہے۔ دو بھائی اور ہیں جو کچھ کام کرتے ہیں اور گھر چلاتے ہیں۔ شاعر صاحب، جن کا تخلص ’شرر‘ ہے، بس بچوں اور بڑوں کو فارسی اور اردو کے سبق سکھاتے ہیں اور حاصل رقم سے کچھ گھر والوں کو اور کچھ اپنی مرغیوں کو دے دیتے ہیں۔ شاید کچھ رقم وہ اپنے بالوں اور داڑھی میں مہندی لگانے میں خرچ کرتے ہوں گے، کیونکہ ان کے بالوں کا رنگ ہمیشہ کھلکھلاتا نظر آتا تھا۔

شرر صاحب صبح سے ہی اپنے مرغے اور مرغیوں کو گھر کے باہر لا کر دانہ ڈال دیتے تھے اور بڑے غور سے ان کو دیکھتے رہتے تھے۔ کمال یہ که وہ ان میں سے ہر ایک کو نام سے جانتے تھے اور انھیں بلاتے بھی نام سے ہی تھے۔ ہم بچوں کو اس بات پر ہنسی آتی تھی۔ ایک دن مرغے مرغیوں کو دانہ ڈالتے ہوے شرر صاحب نے سکھانے کی غرض سے پاس بلا کر ایک سوال پوچھا:

“بتاؤ ان میں سے مرغے اور مرغی کو الگ الگ کیسے پہچانو گے؟”

ہم بچوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور دبی دبی ہنسی کے ساتھ کھسیا کے، “ہمیں کیا معلوم” والی شکل بنا کر رہ گئے۔ شرر صاحب کو اس بات کا پہلے سے ہی اندازہ تھا۔ وہ مسکرائے اور مستی والے انداز میں بولے، “شکل سے پہچاننا ہو تو بڑی کلغی والا ہوا مرغا اور چھوٹی کلغی والی ہوئی مرغی۔ اور اگر اصل پہچاننا ہو تو ایک ہاتھ دل پہ اور دوسرا کان کے اوپر رکھو۔ کان سے سنو، دل سے پہچانو۔ مرغا ککڑوں کوں کرتا ہے اور مرغی صرف کوں کوں کرتی ہے۔”

ہم سب کو بڑا مزہ آیا۔ ایک کھیل سا بن گیا۔ اپنے ہاتھوں کو ڈاکٹر کے سٹیتھسکوپ کی طرح استعمال کرتے اور مرغےمرغیوں سے آگے بڑھ کر بکرے بکریوں تک کی آوازیں سن کر الگ الگ پہچان کی کوشش میں ایک دوسرے کی عجب سی بنی ہوئی مُدرائیں دیکھ کر خوب ہنستے۔ شرر صاحب بھی بیٹھے بیٹھے خوب مزے لیتے، مسکراتے رہتے تھے۔ شاید یہ سوچ کر که کیسے انھوں نے مذاق مذاق میں بچوں کو کان کے ذریعے دل سے چیزوں کو پہچاننے کی سیکھ دے دی۔

ایک بےحد خداداد کردار اور ہے اس گلی میں۔ نام ہے ممتاز میاں۔ شہر کی اکلوتی کپڑا مل میں مزدور ہیں۔ گلی کے ٹھیٹھ دوسرے کونے پر مٹی کی چِنائی سے کھڑی دو دیواروں اور باقی ٹٹوں سے ڈھکا ہوا گھر انھی کا ہے۔ ممتاز میاں کی گردن ٹیڑھی ہے اور چلتے میں کافی ہلتے بھی ہیں۔ شہر کی روایت کے مطابق ان پر کئی سارے قصے اور ڈھیر سارے لطیفے بننے چاہیے تھے لیکن ایسا ہے نہیں۔ الٹے ممتاز میاں کو بےحد عزت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کی ایک خاص وجہ ہے۔ وہ رمضان کے پورے مہینے صبح منھ اندھیرے اٹھ کر گلی اور آس پاس کی بستیوں میں گھوم گھوم کر سحری کے لیے جگانے کو آواز لگاتے ہیں: ’’ایمان والوں! اللہ کے پیاروں! جاگو! ۔۔۔ سحری کا وقت ہو گیا ہے۔

ایسے خوبصورت سے انسانوں کے بیچ ایک اور مزے کا کردار بھی ہے: ’لپک پٹھان۔‘ اصل نام تو راشد خاں ہے لیکن ان کی شخصیت میں پٹھانوں جیسی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ سنگل ہڈی فریم، ہر دم بکھرے بال، ساکیٹ سے باہر نکلتی آنکھیں، زبان سے ہر وقت خراش بھری آواز میں ہر دو لفظ کے بعد تازہ تازہ ایجادشدہ گالی ہوتی ہے۔ اپنے اسی لڑکھڑاتے جسم اور چلتے پھرتے اللہ واسطے کی لڑائیاں مول لینے کی عادت کی وجہ سے انھیں ’لپک پٹھان‘ کا یہ لقب حاصل ہوا تھا۔ حالانکہ بعد کو یہ نام بھی ٹکاؤ ثابت نہ ہوا۔ بعد کے برسوں میں رتن کھتری کے مٹکے والے سٹّے کا چلن ہوا تو اس کے پھیر میں بدنام ہو کر ’مما منڈی‘ کہلانے لگے۔

اب یوں تو یہاں میرے ڈھیر سارے دوست لتو پاگل، للن اور اس کی بہن ربّو، جنگل ٹھیکیدار شاہد میاں، ٹینٹ ہاؤس والے مجو میاں، دودھ والے نفیس بھائی، لائبریری والے سجاد صاحب اور ان کے دو بیٹے سلیم اور جاوید، اور نہ جانے کتنے لوگ ہیں،جن کا تذکرہ ابھی باقی ہے۔

٭٭٭٭٭

میں آپ کو بتا دوں که میں کس طرح اس باجے والے گلی میں آیا۔ 1947 میں جس دن ہندوستان کے بٹوارے کا اعلان ہوا، اس دن تک تو میں وجود میں نہیں تھا لیکن میری کہانی کا پہلا منظر میری غیرحاضری میں ضرور لکھا جا رہا تھا۔

میرے خاندان کا شجرہ بتاتا ہے که اس کی جڑیں دیش کے جنوب مشرق میں بسے پرانت [خطّے] سندھ میں ہیں۔ ملک کے بٹوارے کے سودے کی شرطوں کے مطابق یہ پرانت ہندستانی مسلمانوں کے لیے بننے والے نئے ملک پاکستان کا حصہ طے ٹھہرا۔ اس فیصلے سے میرے خاندان کو دکھ بھلے ہی ہوا ہو، لیکن فکر بالکل بھی نہ ہوئی۔ صدیوں سے یہاں ساتھ رہنے والی آبادی میں ہندو مسلمان تو ضرور تھے لیکن وہ سب سندھی پہلے اور ہندو یا مسلمان بعد میں تھے۔ اسی کے چلتے کچھ عرصے تک یہاں کا ماحول لگ بھگ تناؤ سے خالی بنا رہا۔ پنجاب سے ہر روز آنے والی قتل غارت کی خبروں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی چِنتاؤں کو صدیوں سے ساتھ رہنے والے مسلمان کاندھے پر ہاتھ رکھ کر ہوا میں اڑا دیتے۔ ماحول ایک بار پھر سامانیہ [نارمل] ہو جاتا تھا۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

<div class="urdutext">اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے <a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/baaje-wali-gali/" target="_blank" rel="noopener">کلک</a> کریں۔</div>



<p>The post <a href="https://laaltain.pk/baje-wali-gali-ep-2/">باجے والی گلی — قسط 2 (راج کمار کیسوانی)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/baje-wali-gali-ep-2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سمندر، ڈالفن اورا ٓکٹوپس (عامر صدیقی)</title>
		<link>https://laaltain.pk/samandar-dolphin-aur-octopus/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/samandar-dolphin-aur-octopus/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[عامر صدیق]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 01 Feb 2019 07:31:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[amir siddiqui]]></category>
		<category><![CDATA[Micro Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[urdu micro fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Vasko Taskovski]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[افسانچہ]]></category>
		<category><![CDATA[عامر صدیقی]]></category>
		<category><![CDATA[مائکرو فکشن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24134</guid>

					<description><![CDATA[<p>مزید مائیکرو فکشن پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔ ’’یوپی، ناگن چورنگی، حیدری، ناظم آباد، بندر روڈ۔۔۔۔۔۔۔۔ کرن۔۔” کنڈیکٹر کی تکرار سن کر اچانک وہ اپنے خیالات سے باہر نکل آیا۔ ’’کرن؟ کیا اس کی منزل آگئی۔۔ـ‘‘ اس نے سیٹ پر سیدھا ہوتے ہوئے باہر جھانکا۔۔۔۔ ’’بندر روڈ سے اگلا اسٹاپ بولٹن مارکیٹ کا ہی ہوتا [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/samandar-dolphin-aur-octopus/">سمندر، ڈالفن اورا ٓکٹوپس (عامر صدیقی)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urduexcerpt">مزید <a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/micro-fiction/" target="_blank" rel="noopener">مائیکرو فکشن</a> پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<p>’’یوپی، ناگن چورنگی، حیدری، ناظم آباد، بندر روڈ۔۔۔۔۔۔۔۔ کرن۔۔”<br>
کنڈیکٹر کی تکرار سن کر اچانک وہ اپنے خیالات سے باہر نکل آیا۔<br>
’’کرن؟ کیا اس کی منزل آگئی۔۔ـ‘‘ اس نے سیٹ پر سیدھا ہوتے ہوئے باہر جھانکا۔۔۔۔<br>
’’بندر روڈ سے اگلا اسٹاپ بولٹن مارکیٹ کا ہی ہوتا ہے۔ سمندر تو ابھی کچھ دور ہے۔۔۔ مگر پھر میرے ذہن میں کرن کا نام کیوں آیا۔ کیا کنڈیکٹر نے صدا لگائی تھی؟ یابس یوں ہی۔۔۔۔۔‘‘<br>
بس ابھی بھی بولٹن مارکیٹ پر ہی رکی ہوئی تھی۔۔۔ وہ دوبارہ سیٹ پر ڈھے گیا۔۔ پھر، ایک گہری سانس بھرتا ہوا۔۔۔ گہری سوچوں میں گم ہو گیا۔۔۔۔۔۔</p>
<p>’’تم تو سمندر تھے۔‘‘<br>
’’تم بھی تو اس سمندر کی واحد ڈالفن۔‘‘</p>
<p>’’تم سمندر نہ رہے۔‘‘<br>
’’تم نے اور پانیوں کی تلاش کر لی۔ اس سمندر کو چھوڑ کر۔ اور میں شاید بھول گیا تھاکہ سمندر کے اطراف آکٹوپس بھی تاک میں کھڑے ہیں۔‘‘</p>
<p>سیٹ یکایک، ایک ہائی ٹیک سیٹ میں اور بس خلائی راکٹ تبدیل ہوچکی تھی اور بے پناہ رفتار سے کرہ ارض سے باہر نکل کر اب چاند کے پاس سے گزر رہی۔۔۔۔۔۔<br>
“چاند۔۔۔۔۔۔۔کرن۔۔۔۔ چاند۔۔۔”<br>
اس نے بے اختیار ہو کر دروازہ کھولا اور باہر نکل کر اسے اپنی گرفت میں لینا چاہا۔۔۔۔۔۔ مگر چاند اس کا ارادہ بھانپ چکا تھا۔ وہ کنی کاٹ گیا۔۔۔ اورکچھ فاصلے پرجاکر طنزیہ انداز میں ہنسنے لگا۔۔۔۔۔اچانک خلا کی یخ بستہ تاریکی اس کے اندر سما گئی۔۔۔ وہ منجمد ہو گیا اور تیزی سے نیچے گرنے لگا۔۔۔۔<br>
“ٹاور۔۔ ٹاور ”<br>
وہ چونک پڑا۔منزل تک لے جانے والا اسٹاپ یعنی سمندر اب سامنے ہی تھا، وہ تیزی سے نیچے اتر گیا۔۔۔اسے نیچے اترتا دیکھ کر اس کے اور کرن کے درمیان حائل خون آشام آکٹوپس چاروں جانب سے اس کی سمت لپکنے لگے۔ اور اسے نگل گئے۔۔۔۔۔<br>
Image: Vasko Taskovski</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/samandar-dolphin-aur-octopus/">سمندر، ڈالفن اورا ٓکٹوپس (عامر صدیقی)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/samandar-dolphin-aur-octopus/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عقیدہ آدمی کا ہوتا ہے، لاش کا نہیں (ناصر عباس نیر)</title>
		<link>https://laaltain.pk/aqeeda-admi-ka-hota-hai-lash-ka-nahi/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/aqeeda-admi-ka-hota-hai-lash-ka-nahi/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ناصر عباس نیّر]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 21 Jan 2019 09:46:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[extremism]]></category>
		<category><![CDATA[Nasir Abbas Nayyar]]></category>
		<category><![CDATA[short story]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Urdy Short Story]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[انتہا پسندی]]></category>
		<category><![CDATA[سنسرشپ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24029</guid>

					<description><![CDATA[<p>اس کے جرموں کی فہرست طویل ہے، یہ تو ہمیں پہلے معلوم تھا لیکن یہ جرم اتنے سنگین ہوں گے، اس کا اندازہ ان کی زندگی میں ہمیں نہیں ہوسکا۔جس قاضی نے زہر کے ذریعے اس کی موت کا فیصلہ لکھا، وہ بھی اس کے جرائم کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کرنے سے قاصر رہا تھا۔ہمیں [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/aqeeda-admi-ka-hota-hai-lash-ka-nahi/">عقیدہ آدمی کا ہوتا ہے، لاش کا نہیں (ناصر عباس نیر)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>اس کے جرموں کی فہرست طویل ہے، یہ تو ہمیں پہلے معلوم تھا لیکن یہ جرم اتنے سنگین ہوں گے، اس کا اندازہ ان کی زندگی میں ہمیں نہیں ہوسکا۔جس قاضی نے زہر کے ذریعے اس کی موت کا فیصلہ لکھا، وہ بھی اس کے جرائم کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کرنے سے قاصر رہا تھا۔ہمیں یقین ہے کہ اگر اسے یہ اندازہ ہوتا کہ اس نے کتنے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا ہے تو وہ اس کی موت کے لیے زہر کا انتخاب نہ کرتا۔ اسے اندازہ ہوتا بھی کیسے؟۔۔۔۔لیکن اسے اندازہ ہونا چاہیے تھا۔۔۔ٹھیک ہے اس نے دستیاب شواہد کی روشنی میں فیصلہ لکھا، لیکن اگر قاضی جیسا شخص بھی دستیاب شواہد کے پار نہ دیکھ سکے اور یہ نہ سمجھ سکے کہ ہر جرم میں لذت ہوتی ہے جو بعد میں عادت میں بد ل جاتی ہے۔۔۔ تو اور کون سمجھے گا۔۔۔۔اہل علم؟۔۔۔۔انھیں تو آپس کے جھگڑوں سے فرصت نہیں۔۔۔۔۔خلیفہ؟۔۔۔۔اس کے لیے جرم صرف وہی ہے جس سے اس کے تخت کو خطرہ ہواور ان گناہ گار آنکھوں نے دیکھا ہے کہ ان کے تخت کے تین پائیوں کو انھی لوگوں نے سہارا دے رکھا ہوتا ہے جن کے کرتوتوں سے خلق خدا کی جان پربنی ہوتی ہے۔اسے بھی قاضی نے اس وقت طلب کیا تھا،جب خلیفہ کو اس کے جاسوسوں نے بتایاکہ اس نے شہر کے چوک میں اپنی نئی کتاب سے ایک صفحہ پڑھا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ جس کے کندھے پرلاکھوں جانوں کا بوجھ ہے،اسے رات کو نیند نہیں آتی۔قاضی کو کہا گیا کہ وہ اس کی ساری کتاب پڑھے۔ قاضی نے بس اسی بات پر عمل کیا جو خلیفہ نے کہی۔ اس کی دوسری کتابیں تو اب سامنے آئی ہیں۔ خدا کے نیک بندو، کھود ڈالو اس کی قبر،نکالو اس ملعون کو۔ ٹھوکریں مارو اس کے اس سر کو جو مجرمانہ باتیں سوچتا تھا، توڑ ڈالو ایک ایک انگلی جس سے مجرمانہ باتیں لکھتا تھا۔ روند ڈالو اس کے سینے کو جس میں ایک گناہ گار دل تھا۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
عصر کا وقت تھا۔ نماز کے فوراً بعد خبر جنگل کی آگ سے بھی تیز ی سے بستی میں پھیلی۔ سوائے دو لوگوں کے سب اشتعال میں آ گئے۔ سب کا رخ قبرستان کی طرف تھاجو بستی سے ایک میل کے فاصلے پر تھا۔</p>
<p>چار اشخاص ایک قطار بنا کر کھڑے ہو گئے۔ ابھی آگے نہ جاو، رکو۔ پہلے شیخ صاحب تقریر فرمائیں گے۔ وہ ان سب ہانپتے لوگوں سے کہہ رہے تھے جو ایک دوسرے سے پہلے پہنچنے کی کوشش میں تھے اور جن کے چہروں سے وہ ایمان افروزجلال نمایاں تھا، جس سے یہ بستی والے چند سال پہلے تک خود واقف نہیں تھے۔</p>
<p>’’ہم نے مشکل سے اپنی بستی کو ان کے پلید وجود سے پاک کیا تھا۔ ہمارے بزرگ بڑے بھولے تھے، انھیں یہ معلوم ہی نہ ہوسکا کہ روئے زمین پر ان سے بڑھ کر کوئی وجود ناپاک نہیں۔ انھوں نے انھیں یہاں رہنے کی اجازت دیے رکھی،ان کے ساتھ میل جول رکھا۔انھیں اپنے گھروں میں آنے جانے، دکانوں سے سودا سلف خریدنے کی اجازت دیے رکھی۔اس سے ان کے حوصلے بڑھ گئے۔ وہ خود کو ہم جیسا سمجھنے لگے۔ اکڑ کر چلنے لگے۔ انھوں نے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوادی۔ بڑے عہدوں پر پہنچ گئے۔ ہمارے بڑے، بھولے تھے، یہ احمق نکلے۔عہدہ بڑ اہوتا ہے یا عقیدہ؟ آگے حساب عہدے کا ہوگا یا عقیدے کا؟ بھائیو، مت بھولو، ہم سے پوچھا جائے گا کہ تم لوگوں نے دنیا کی دولت، طاقت، عہدے،اختیار کے لالچ میں آکر بد عقیدہ لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے کیا کیا؟ ہم سب نے،خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے، ان سب کو اپنی بستی سے نکال دیا۔الحمد للہ،ان کے گھروں کو آگ لگائی تاکہ ان کے وجود کی طرح نجس ملبے کا نشان بھی مٹ جائے۔ہم نے ان کے ٹھکانوں کی جگہ نئے گھر بنائے، سوائے ایک گھر کے جسے عبرت کی خاطر چھوڑ دیا گیا ہے۔ان گھروں کی تقسیم پر ہم آپس میں لڑے،مقدمہ بازی بھی ہوئی۔یہ سب ان کی بد روحوں کے اثرات تھے کہ ہم میں اتفاق نہ ہوسکا۔ ان کی دکانوں پر ہم میں جھگڑا ضرور ہوا، مگر خدا کا شکر ہے کہ دو جانوں کی قربانی کے بعد ہمیشہ کے لیے وہ جھگڑا ختم ہوگیا۔ اب وہاں اللہ کا گھر تعمیر کر دیا گیا ہے۔ان میں سے کچھ نے اپنا بد عقیدہ چھوڑ کر ہماری طرح صحیح العقیدہ ہونے کی پیش کش کی مگر ہم ان کے جھانسے میں نہیں آئے۔ ان کی ایک بڑی سازش کو ہم نے ناکام کیا۔ وہ اپنے چند لوگوں کو ہم میں شامل کرکے،ہمارے عقیدے خراب کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے بروقت ان کی توبہ میں ان کی بد نیتی کو بھانپ لیا۔ لاریب،خدا اپنے نیک بندوں کو گناہگاروں کی چالوں کو پہچاننے کی توفیق ارزاں فرماتا ہے۔ ہم نے اب ان کی نئی چال کو بھی بھانپ لیا ہے۔ وہ ہمارے قبرستان میں اپنا مردہ دفن کرکے واپس بستی میں آنے کا راستہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہم نہیں ہونے دیں گے۔ اس سے زیادہ ان کے عقیدے کے غلط اور گمراہ ہونے کا ثبوت کیا ہوگا کہ انھوں نے رات کی تاریکی میں ہمارے قبرستان میں اپنے ایک پلید وجود کو دفن کیا۔ یہاں ہمارے بزرگوں کی نیک روحیں بستی ہیں۔ ہم ان کو کیا جواب دیں گے؟ آئو، اس ناپاک وجود کو اس پاک مٹی سے نکال باہر کرو۔‘‘</p>
<p>شیخ صاحب کی تقریر ابھی جاری تھی کہ ایک بزرگ بولے۔’’ رات اور قبر سب عیب چھپاتی ہے، لیکن ایک بد عقیدہ وجود عیب تھوڑا ہے۔ پر ہم اسے کیسے نکالیں گے؟ اسے ہاتھ کیسے لگا سکتے ہیں؟‘‘<br>
سب نے اس بزرگ کی تائید کی۔<br>
’’اس کا بھی حل ہے‘‘۔ شیخ صاحب ترنت بولے۔’’ ہم اسے ہاتھ نہیں لگائیں گے۔ جوان لوگ کفن کو پکڑ کر کھینچیں گے۔بعد میں سات بار کلمہ شریف پڑھ کو خود کو پاک کر لیں گے‘‘۔<br>
’’ہم اسے کہاں پھینکیں گے‘‘؟<br>
’’کتوں کے آگے‘‘ ایک نوجوان جوش سے بولا۔<br>
’’ہماری بستی کے کتے بھی ناپاک ہوجائیں گے‘‘۔ایک اور نوجوان زیادہ جوش سے بولا۔<br>
اس پر قہقہہ پڑا۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
اس کی جس کتاب کا جو صفحہ کھولتے ہیں، اس میں کفر ہی کفر ہے۔ ایک شیطان ہمارے درمیان موجود رہا،اور ہم بے خبر رہے۔ اس کا دماغ آدمی کا تھا ہی نہیں۔اتنا کفر ایک شیطان کے ذہن ہی میں بھرا ہوا ہوسکتا ہے۔شیطان سے زیادہ ذہین کون ہوگا؟۔۔۔ذہین لوگوں سے زیادہ کوئی خطرناک نہیں ہوتا۔۔۔جو خود سوچتا ہے، وہ شر پھیلاتا ہے۔خلیفہ اور اس کے دربار میں موجود عالموں کے ہوتے ہوئے جو سوچتا ہے، وہ شر پھیلاتا ہے۔ اس کے شر سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اسے سوچنے ہی نہ دیا جائے۔۔۔۔ سنا ہے ایک دور کے ملک میں ایسے آدمی ہیں جو اسی کی طرح کی باتیں کہتے ہیں۔آپ سب اس بات سے اتفاق کریں گے کہ یہ بھی وہیں سے آیا ہوگا یا اس نے وہاں کی سیر کی ہوگی،جبھی وہ ہم سے مختلف تھا۔ ہم نے غور کیا ہی نہیں کہ وہ کس کس سے ملتا تھا،کہاں کہاں جاتا تھا۔ ہمارے خلیفہ نے بھی تو ظلم کیا، سب کے لکھنے پڑھنے کا انتظام نہیں کیا۔ بس چار آدمی پڑھ لیے، باقی سب ان کی مجلس میں جا کر ان کی باتیں سن لیتے تھے۔۔۔۔ آپ ٹھیک کہتے ہیں خلیفہ کے لیے یہی مناسب تھا۔ بس اپنا ایک خاص آدمی وہاں بٹھا دیا۔سب معلوم ہوگیا کہ عالم کیا سوچتے ہیں،عوام کس بات کی تائید،کس کی تردید کرتے ہیں۔۔۔۔ اگر وہ چوک والا واقعہ نہ ہوتا تو اس کی حقیقت کا پتا کس کو چلنا تھا۔۔۔۔ویسے خلیفہ کی حکمت کی داد دینی چاہیے۔ اسے ایک عام سی بات سے،اس شیطان کے ذہن میں چلنے والی خاص بات کا پتا چل گیا۔ خلیفہ اگر اشارے نہ سمجھ سکے تو اسے خلیفہ کون کہے اور کیسے وہ خلیفہ رہ سکے۔۔۔۔۔ابھی کل کی بات ہے،میں نے اس کی ایک کتاب کہیں سے حاصل کی۔۔۔۔آپ ٹھیک فرماتے ہیں کفر کی طرف ہر آدمی کھنچتاہے۔۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ اس کی سب کتابوں میں کفر کی باتیں ہیں، مگر میرا دل۔۔۔یا شاید میرا ذہن ان کی طرف کھنچا۔۔۔۔شیطان کے فریب میں ہم ایسے ہی تو نہیں آتے۔۔۔۔اس کی کتاب میں ایک حکایت تھی۔ ’’ ایک کوے نے دوسرے کوے سے پوچھا، ہم سب کالے کیوں ہیں؟ دوسرے کوے نے کہا: تو ضرور کسی ایسے دیس سے ہوکر آیا ہے جہاں سفید کوے بستے ہیں۔ پہلا بولا: تجھے کیسے معلوم ہوا؟ دوسرے نے جواب دیا: دوسروں کو دیکھے بغیر ہمیں اپنی اصل کا پتا نہیں چلتا۔ پہلے نے پوچھا، یہ علم تجھے کیسے حاصل ہوا؟ دوسرا بولا: میں اس دیس سے ہو کر آیا ہوںجہاں کے سب کوے سفید ہیں، مگر میں چپ رہا۔پہلا اس بات پر بھی چپ نہ رہ سکا۔پوچھا: تو اتنی بڑی بات جان کر کیسے چپ رہا؟ اس پر دوسرے کوے نے کچھ دیر خاموشی اختیار کی پھر گویا ہوا: میں نے پہلے آدھی بات بتائی۔اب پوری بات سن۔ یہ سچ ہے دوسروں کو دیکھے بغیر ہمیں اپنی اصل کا پتا نہیں چلتااور یہ بھی سچ ہے کہ دوسروں کو دیکھ کرہم اپنی اصل پر شر مندہ بھی ہوتے ہیں، جیسے تو‘‘۔وہ ہمیں اپنی اصل پر شرمندہ کرتا تھا۔ایسے بد طینت شخص کی لاش کو قبر سے نکال کر ہم نے نیکی کا کام کیا۔خلیفہ کے حکم سے اس کی ساری کتابیں جمع کی جارہی ہیں۔ ان کے بارے میں جلد ہی فیصلہ ہوگا۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
ہر چیز کی قیمت ہوتی ہے۔ آپ مجھ سے اس لاش کی منھ مانگی قیمت وصول کرلیں۔<br>
یہ تمھارا کیا لگتا ہے؟<br>
کچھ نہیں، مگر بہت کچھ۔<br>
تم اس بستی کے ہو،ہم تمھاری سات نسلوں کو جانتے ہیں، تمھیں اس سے کیا ہمددری ہے؟<br>
یہ آدمی نہیں لاش ہے۔ عقیدہ آدمی کا ہوتا ہے، لاش کا نہیں۔<br>
تم گمراہ کررہے ہو، یہ لاش اسی آدمی کی ہے جو بد عقیدہ تھا۔<br>
ویسے تم اس کا کیا کرو گے؟<br>
میں اسے کسی ہسپتال کو دے دوں گا،جہاں طب کی تعلیم دی جاتی ہے۔ طالب علموں کا بھلا ہوگا۔<br>
تم اگر اس بستی کے نہ ہوتے تو تمھیں اس قبر میں ا س کی جگہ دفن کردیتے، اسی وقت۔ شیخ صاحب گرجے۔ اس کے پلید وجود کو ہمارے ہم عقیدہ لوگ ہاتھ لگائیں گے؟ تم ہوش میں ہو؟<br>
تم ایمان کے جس درجے پر اس وقت فائز ہو مجھے زندہ اس قبر میں گاڑ سکتے ہو، مان لیا۔ لیکن یاد رکھو، تم اسی طرح کی قبر میں یہیں کہیں آئو گے۔<br>
لیکن میں بد عقیدہ نہیں ہوں۔<br>
اس کا فیصلہ تم نہیں، خدا کرے گا۔<br>
خد انے ہی ہمیں نیکی پھیلانے اور برائی روکنے کا حکم دیا ہے۔<br>
ایک لاش کیا برائی پھیلا سکتی ہے؟<br>
لاش ہے تو آدمی کی،جس کا عقیدہ۔۔۔۔؟<br>
تمھیں معلوم ہے،جس قبر پر تم کھڑے ہو کس کی ہے؟<br>
کس کی ہے؟<br>
ذرا قبر کی تختی پڑھو۔ یہ اسی کارشتہ دار ہے جو پچاس سال پہلے مرا۔ اور بھی قبریں یہاں ان کی ہیں۔<br>
ہم سب کو نکال پھینکیں گے۔کچھ پرجوش جوان بولے۔<br>
نکال پھینکو۔ اس سے بھی آسان حل ہے۔ ساری زمین کو بھی صحیح العقیدہ بنالو۔ وہ بد عقیدہ کو قبول ہی نہ کرے تمھاری طرح۔<br>
یہ چار جماعتیں پڑھ کر پاگل ہوگیا ہے۔ بھائیو، نکالوا س لاش کو اور اس کی بستی کے کتوں کے آگے پھینک آئو۔<br>
کچھ لوگ اس نوجوان کی طرف بڑھے۔ایک نے دھکا دیا۔ دوسروں نے اسے ٹھوکریں ماریں۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
موت سے بڑی سزا کیا ہوسکتی ہے؟<br>
کچھ دیر خاموشی چھائی رہی۔<br>
موت سے بڑی سزا ہوسکتی ہے، لیکن وہ سب کے لیے نہیں ہوتی۔ صرف ان کے لیے ہوسکتی ہے جنہوں نے زندگی بھر عزت کی آرزو کی ہو۔<br>
ہم سمجھے نہیں۔<br>
جو عزت کی آرزو کرتا ہے،وہ موت سے نہیں ڈرتا۔ جو موت سے نہیں ڈرتا، وہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔<br>
ہم اب بھی نہیں سمجھے۔<br>
عزت دو چیزوں میں ہے۔ علم میں اور عمل میں۔ علم نافع اور عمل صحیح میں۔جس نے یہ دونوں حاصل کر لیے وہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگیا۔ جو ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگیا،اسے موت سے بڑی اور موت کے بعد بھی سزا ہوسکتی ہے۔<br>
کچھ کچھ سمجھ میں آئی ہے تمھاری بات، آگے کہو۔<br>
جن لوگوں نے اس کے علم سے نفع حاصل کیا،ان کی عزت برباد کردو۔ سزا اسے ہوگی جس نے وہ علم پیدا کیا۔<br>
اس کی لاش کو ٹھوکریں مارنے سے کیا فائدہ؟<br>
وہ ٹھوکریں،ا س شخص کو نہیں،ان کے سینوںکو لگیں جنھوں نے اس کے علم سے نفع حاصل کیا۔ وہ بے عزت ہوئے۔ انھیں موت سے پہلے اور موت سے بڑی سزا ملی۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
یہ وہی چوک ہے جہاں اس نے کہا تھا کہ ’’ جس کے کندھے پرلاکھوں جانوں کا بوجھ ہے، اسے رات کو نیند نہیں آتی‘‘۔چند لوگ اس واقعے کے گواہ بھی موجود ہیں۔ شہر کے سب جوان اور کہن سال جمع ہیں۔ صرف چند بوڑھے گھروں میںرہ گئے ہیں،جنھیںان کے جوان بیٹے اس واقعے کی تفصیل بتائیں گے۔الاؤ روشن ہوچکا ہے۔ابھی شام ہے اورسخت سردی کا موسم ہے۔ الاؤ کی گرمی سب کو پہنچ رہی ہے۔ خلیفہ کے دربار کے سب بڑے عہدے دار یہاں موجود ہیں۔ شہر کے ایک ایک گھر، ایک ایک کونے، ایک ایک کتب خانے کو چھان کر اس کی سب کتابیں جمع کی گئی ہیں۔ اس کے کچھ شاگردوں کی کتابیں بھی لائی گئی ہیں، جن کے بارے میں باقاعدہ تحقیق ہوئی ہے۔ کچھ شاگردوں نے توبہ کی ہے، مگر ان کی توبہ اس شرط پر قبول کی گئی ہے کہ وہ آئندہ ساری زندگی کوئی کتاب نہیں لکھیں گے، کسی مجلس میں گفتگو نہیں کریں گے۔بقیہ زندگی صرف نیک لوگوں کی مجلس میں بیٹھ کر چپ چاپ بسر کریں گے۔ علما کی کسی بحث میں حصہ نہیں لیں گے۔ ایک درباری نے خلیفہ سے عرض کی کہ انھیں معاف کیوں کیا گیا ہے، خلیفہ خلافِ معمول طیش میں آنے کے بجائے مسکرایا اور کہا، معاف کہاں کیا ہے؟ اس سے کڑی سزا ان کے لیے کیا ہوسکتی ہے؟ درباری بھی بندر کی طرح مسکرا دیا، پر اسے پوری بات سمجھ میں نہ آئی۔ خلیفہ نے اپنے فرمان میں خاص طور پر یہ بات درج کروائی ہے تاکہ کوئی شک نہ رہے۔ جو شخص ایک بار دوسروں کی باتوں کو ماننے کے بجائے ان پر جرح کی عادت ڈالتا ہے، وہ اس سے باز نہیں رہ سکتا۔ (اس پر چوک میں کھڑے ایک شخص نے دوسرے سے سرگوشی کی۔ اب سمجھ آیا، اس کے شاگردوں کی سزا واقعی کڑی ہے)۔ ایسا شخص دین کی سچائی کے ساتھ ساتھ دنیا کے امن کے لیے بھی خطرہ ہوتا ہے۔ لہٰذا آئندہ کوئی شخص کسی عالم کی بات پر اور دربار کے حکم پر جرح کرتا پایا گیا تو اس کی سزا موت ہوگی۔۔۔۔۔پہلے خلیفہ نے فیصلہ کیا کہ پہلے ہر کتاب کا خلاصہ پڑھا جائے گا پھر اسے الاؤ میں پھینکا جائے گا، مگر پھر فیصلہ بد ل دیا۔کچھ کا خیال ہے کہ خلیفہ نے اس لیے فیصلہ بدلا کہ اسے لگا ہو گا کہ اس طرح وہ کتابوں کو جلانے کا جواز پیش کر رہا ہے۔ خلیفہ اگر اپنے عمل کا جواز پیش کرنے لگا تو کر لی اس نے حکومت۔ بعض کی رائے تھی کہ خلیفہ ڈر گیا۔ اس طرح تو سب لوگ اس کی کتابوں میں بھرے کفر سے واقف ہوجائیں گے اور کون نہیں جانتا کہ کفر طاعون کی طرح تیزی سے پھیلتا ہے۔ جب کہ کچھ کا یہ بھی خیال تھا کہ خلیفہ نے ان کتابوں میں کچھ ایسے علما کی کتابیں بھی شامل کر دی ہیں جو اس کے مسلک کے نہیں ہیں۔ نوبت بجنے لگی ہے۔ایک درباری اعلان کر رہا ہے کہ آج کی شام اس شہر کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ آج،بس تھوڑی ہی دیر بعد اس اس شر اور کفر کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجائے گا، جس سے اس شہر ہی کو نہیں آنے والوں کے دین وایمان کو بھی خطرہ تھا۔ ایک ایک کتاب اس الاؤ میں ڈالی جائے گی اور ہر کتاب کے جلنے کے ساتھ جشن منایا جائے گا۔کفر کے خاتمے کو یادگار بنایا جائے گا۔ سب ایک دوسرے کو مبارکباد دیں گے، گلے ملیں گے۔ تاشے بجائے جائیں گے۔شر پر فتح کے نعرے لگائے جائیں گے۔ آخر میں سب کی تواضع اس مشروب خاص سے کی جائے گی جسے خلیفہ اور اس کے خاص درباری نوش فرماسکتے ہیں۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
ہم صرف اس لاش کو جلانا چاہتے تھے جو رات کے ا ندھیرے میں دفن کی گئی تھی، اسے نہیں۔ شیخ صاحب نے بوڑھے باپ کو دلاسا دیتے ہوئے کہا۔اس سے کوئی ہماری کوئی دشمنی نہیں تھی۔ اسے ہم نے بہت سمجھایا مگر وہ ضدی نکلا۔ دین کے دشمن کے حق میں باقاعدہ جرح کرنے والوں کا نجام ہمیشہ سے یہی ہوتا آیا ہے۔ اس نے ایک دشمن کا ساتھ دے کر اپنے عقیدے کو بھی خراب کر لیا۔ ہم اب اس کی مغفرت کی دعا بھی نہیں کرسکتے۔البتہ خد اسے دعا کرتے ہیں کہ آپ کو صبر دے۔ آپ کا کوئی قصور نہیں۔آپ پانچ وقت ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/aqeeda-admi-ka-hota-hai-lash-ka-nahi/">عقیدہ آدمی کا ہوتا ہے، لاش کا نہیں (ناصر عباس نیر)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/aqeeda-admi-ka-hota-hai-lash-ka-nahi/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
