Categories
شاعری

آدمی بیوپار ہے

آدمی ہو یا کتا
جو روٹی دیتا ہے
وہ مالک ہوتا ہے

آدمی بیوپار ہے
آدمی کا دل بیوپار ہے

آدمی شاپنگ بیگ لیے بازار جاتا ہے
آدمی شاپنگ بیگ میں گھر واپس آجاتا ہے

خالی جیب آوارہ کتے کی طرح بھونکتی ہے

کتے کے جسم پر جیب نہیں
کتے کے سامنے پیالہ ہے

کتا صرف گالی دے سکتا ہے
آدمی نہیں بن سکتا!
جس آدمی کی جیب نہیں ہوتی
اس کے پاس پیالہ ہوتا ہے

آدمی ہو یا کتا
جو روٹی دیتا ہے
وہ مالک ہوتا ہے

جب پیالہ نہیں تھا
میں آزاد تھا
اب پیالہ بھرا ہوا ہے
بیوپار ہو رہا ہے
اب میں پالتو ہوں
Image: Banksy

By زاہد امروز

زاہد امروز ایک شاعر، لکھاری اور ماہر طبیعیات ہیں۔ ان کی نظموں کی دو کتب شائع ہو چکی ہیں۔ وہ فزکس کے استاد ہیں اور عالمی امن و سلامتی پر بھی کام کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *