Categories
شاعری

میں ایک ایسی لڑکی ڈھونڈ رہا ہوں

تصنیف حیدر: میں ایک ایسی لڑکی ڈھونڈ رہا ہوں
جو وقت بے وقت
اپنی رانوں کو کھجلا سکتی ہو

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

میں ایک ایسی لڑکی ڈھونڈ رہا ہوں

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں ایک ایسی لڑکی ڈھونڈ رہا ہوں
جو وقت بے وقت
اپنی رانوں کو کھجلا سکتی ہو
جس کی ناک میں بال ہوں
جسے دھوپ میں پسینہ آئے
جس کے ہونٹ پیاس سے سوکھ کر
پپڑیوں کی شکل لے لیتے ہوں
جس کی بغل میں وہ خاکی لکیریں موجود ہوں
بالکل زندہ اور متحرک
جن پر کبھی کبھار کالک جم جاتی ہے
ایک ایسی لڑکی
جس کی کمر پر میری توقعات کا بھاری بوجھ نہ ہو
تھوڑی کے نیچے کسی تل کی گنجائش نہ ہو
ماتھا کشادہ نہ ہو
اور بال ناگن کی طرح ٹخنوں سے نہ ٹکراتے ہوں
مگر لگتا ہے
معاشرے میں ایسی لڑکیاں پیدا ہی نہیں ہوتیں
وہ چاند کے تھال میں جنم لیتی ہیں
دودھ کی ڈلیا میں مر جاتی ہیں
ان کی آنکھوں میں ہرنیوں کا سا قدرتی کاجل ہوتا ہے
کمر کسی جھولتی ہوئی نازک ڈالی جیسی
بال جنگل کی اداسی کی طرح بے انت
اور پتھروں پہ ڈالی گئی خراش کی طرح ان کی مانگ میں رہتا ہے سیندور
بلب کی طرح اگائی ہوئی ایک بندی
میں ایک ایسی لڑکی ڈھونڈ رہا ہوں
جس کا بدن محض خوشبو نہ ہو
جس کے پاس اپنے ہونے کی بھرپور بدبوئیں ہوں
اور وہ جعلی نہ ہو
میری طرح

Image: Pabelo Picasso
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

By تصنیف حیدر

تصنیف حیدر ادبی دنیا کو چلاتے ہیں۔ وہ ایک فری‌لانس اسکرپٹ رائٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں اور اردو ادب کے انٹرنیٹ پر فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *