Categories
شاعری

ہمیں اس جنگ سے کس دن مفر تھا

قسم رب کی
اور اس سب کی
جسے اس پالنے والے نے پالا ہے
ہمیں اس جنگ سے کس دن مفر تھا
مگر یہ کہ
عباؤں میں تمہارا اپنی تلواریں چھپانا
اور سجدوں میں ہمارا قتل ہو جانا
روایت ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ہمیں اس جنگ سے کس دن مفر تھا

[/vc_column_text][vc_column_text]

قسم ہے دوڑتے گھوڑے کے سم سے پھوٹتی چنگاریوں کی
سروں کو کاٹتے شانوں کو ان کے بوجھ سے آزاد کرتے شہ سواروں کی
جو اپنی ڈھال پر
دشمن کی تلواروں کی چوٹوں کو
ہتھیلی کی لکیروں کی طرح پہچانتے ہیں
قسم ہے ایسے نیزوں کی جو اپنی ہی انی کے بوجھ کے نیچے لرزتے ہیں
قسم اس خاک کی جو جنگ کے میدان میں اڑ کر زرہ کا زنگ بنتی ہے
قسم اس خوف کی جو موت سے پہلے کسی عارض کا روغن چاٹ جاتا ہے
قسم اس موت کی جو زندگی کی آنکھ میں دیکهے تو اس کو زرد کر دے
قسم رب کی
اور اس سب کی
جسے اس پالنے والے نے پالا ہے
ہمیں اس جنگ سے کس دن مفر تھا
مگر یہ کہ
عباؤں میں تمہارا اپنی تلواریں چھپانا
اور سجدوں میں ہمارا قتل ہو جانا
روایت ہے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

By سلمان حیدر

لکھاری تنقید میں ایک اردو ایڈیٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف ٹیکساس اور آسٹن میں وزٹنگ اسکالر اور ڈان اردو میں بلاگ نویس ہیں۔ انہیں تھئیٹر، ڈراما اور ثقافت سے گہرا شغف ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *