Categories
اداریہ

چکوال اور نارووال میں گجرات یونیورسٹی سب کیمپس کے قیام کی مخالفت

گجرات یونیورسٹی کی توسیع و ترقی کے وفاقی منصوبہ کے تحت مقامی کالجز کے پروفیسرز نے چکوال اور نارووال میں نئے ذیلی کیمپسز کے قیام کی مخالفت کی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کی جانے والی رقوم کے تحت نئے ذیلی کیمپس بنانے کے لئے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج چکوال، گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ناروال اور گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین سٹلائٹ ٹاون راولپنڈی کو منتخب کیا گیا تھا تاہم نارووال اور چکوال کے کالج پروفیسرز نے اس منصوبہ کی مخالفت کی ہے۔
چکوال کالج کے اساتذہ نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعہ اس منصوبہ کی مخالفت کرتے ہوئے کالج کو گجرات یونویرسٹی کا ذیلی کیمپس بنانے کی بجائے علیحدہ یونیورسٹی بنانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق گجرات یونیورسٹی کے اساتذہ نے اس منصوبہ کی مخالفت مقامی طلبہ کو سستی تعلیم کی فراہمی برقرار رکھنے کے لئے کی ہے۔ چکوال کالج کے اساتذہ نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعہ اس منصوبہ کی مخالفت کرتے ہوئے کالج کو گجرات یونویرسٹی کا ذیلی کیمپس بنانے کی بجائے علیحدہ یونیورسٹی بنانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ چکوال کالج کے اساتذہ کے مطابق کالج کو ذیلی کیمپس بنانے سے نہ صرف فیس میں اضافہ ہوگا بلکہ کالج کی تاریخی حیثیت بھی مجروح ہو گی۔
گجرات یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد نظام الدین نے اس منصوبہ کا دفاع کرتے ہوئے اسے سب کے لئے فائدہ مند قرار دیا ہے،”تینوں کالج اپنی علیحدہ شناخت اور انتظامی حیثیت برقرار رکھ سکیں گے ۔” تحریک انصاف چکوال کے سیاسی رہنما راجہ یاسر ہمایوں سرفراز، جن کے دادا کی زمین پر چکوال کالج قائم ہے نے اس منصوبہ کو عدالت میں چیلنج کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہے۔
Categories
خصوصی

گجرات یونیورسٹی کے پروفیسر کا قتل؛ مشتبہ افراد کی تلاش جاری

نیٹ نیوزcampus-talks

رواں ہفتے گجرات یونیورسٹی کے پروفیسر اور سٹوڈنٹ سروسز ڈائریکٹر شبیر حسین شاہ کی نامعلوم افراد کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے ہاسٹلز اور ہوٹلز میں مشتبہ افراد کی تلاش کا عمل جاری ہے۔ پروفیسر شبیر حسین اور ان کے ڈرائیور کو یونیورسٹی جاتے ہوئے موٹر سائیکل سوار نا معلوم افراد نے جلال پور روڈ پر منگل 19نومبر کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ جائے وقوعہ سے مبینہ طور پر لشکرِ جھنگوی کی طرف سے ملنے والی پرچی کے مطابق یہ واقعہ عاشورکے دوران پنڈی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فساد کا بدلہ لینے کے لئے کیا گیا ہے۔
گجرات یونیورسٹی کے ترجمان شیخ عبدالراشد کے مطابق پروفیسر شبیر حسین مسلک کے لحاظ سے شیعہ تھے۔یونیورسٹی کے ایک اور پرفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں اس سے پہلے بھی دھمکیاں موصول ہوتی رہی ہیں۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے جاری تلاشی مہم کے دوران مختلف پرائیویٹ ہاسٹلز اور ہوٹلز کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق اس دوران بعض مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے اور مزید کی تلاش جاری ہے۔
دہشت گردی کے واقعات میں اس سے پہلے اسلامیہ کالج کراچی کے پروفیسر غلام نبی پر بھی فائرنگ کی جا چکی ہے اور پروفیسر اظفر رضوی اور لیاقت آباد کالج کے پروفیسر سبطِ جعفر کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا جاچکاہے۔