Categories
نان فکشن

تنقیدی روایت کا آغاز (تحریر: کارل پوپر، ترجمہ: ڈاکٹر ساجد علی)

بیسویں صدی کے مشہور فلسفی کارل پوپر کے آٹھ مضامین کا اردو ترجمہ جلد عکس پبلی کیشنز لاہور سے شائع ہو گا۔ اس مجموعے سے ایک اقتباس لالٹین کے قارئین کے لیے مترجم ڈاکٹر ساجد علی کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے۔ 

انسانی عقل کے بنیادی فرائض میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اس کائنات کو جس میں ہم رہائش پذیر ہیں، ہمارے لیے قابل فہم بنائے۔ یہ سائنس کا وظیفہ ہے۔ اس وظیفے کے دو مختلف اجزائے ترکیبی ہیں جو تقریباً یکساں اہمیت کے حامل ہیں۔
پہلا جز شعری اختراع کا ہے یعنی قصہ گوئی یا اسطور سازی: کائنات کی توجیہہ بیان کرنے والے قصوں کی اختراع۔ ابتداً، یہ (اساطیر) اکثر و بیشتر یا شاید ہمیشہ تعدد الٰہ کو تسلیم کرتی ہیں۔ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ وہ نادیدہ قوتوں کے قبضے میں ہیں، اور ان قوتوں کے متعلق قصے یا کہانیاں گھڑ کر وہ کائنات اور حیات و ممات کو سمجھنے اور اس کی توجیہہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پہلا ترکیبی جز اتنا ہی قدیم ہے جتنا خود انسانی زبان، اور یہ بے حد اہمیت کا حامل اور غالباً آفاقی ہے۔ تمام قبائل اور اقوام میں ایسی توجیہی کہانیاں، بالعموم پریوں کی کہانیوں کی صورت میں، پائی جاتی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ توجیہہ اور توجیہی کہانیوں کی اختراع انسانی زبان کے بنیادی وظائف میں شامل ہے۔

دوسر ا ترکیبی جز، مقابلتاً زیادہ قدیم نہیں۔ یہ خالصتاً یونانی دکھائی دیتا ہے، اور یونان میں تصنیف و تالیف کے رائج ہونے کے بعد وجود میں آیا تھا۔ اس کا آغاز آیونیا کے دوسرے فلسفی انکسیمینڈر سے ہوا۔ یہ دوسرا جز تنقید کی ایجاد ہے، یعنی مختلف توجیہی اساطیر پر تنقیدی بحث کرنا، اور اس کا شعوری مقصد ان کی اصلاح و ترقی ہے۔

بلاشبہ وسیع پیمانے پر توجیہی اسطور سازی کی بڑی مثال ہیسیوڈ کی کتاب دیوتاؤں کا شجرہ (Theogony ) ہے۔ یہ یونانی دیوتاؤں کی پیدائش، ان کے اعمال اور بد اعمالیوں کی داستان ہے۔ کوئی بھی شخص دنیا کی سائنسی توجیہہ کے ارتقا کے ضمن میں دیوتاؤں کا شجرہ کو پیش کرنا، بمشکل ہی پسند کرے گا۔

تاہم میں نے یہ تاریخی قیاس پیش کیا ہے کہ اولین انتقادی کونیاتی فلسفی انکسیمینڈر نے ہیسیوڈ کی دیوتاؤں کا شجرہ کے ایک پیرے کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا، جس کی پیش بینی ہومر کی ایلیڈ میں بھی ملتی ہے۔

میرے اس قیاس کی توجیہ یہ ہے۔ روایت کے مطابق، انکسیمینڈر کے استاد، قرابت دار، اور کونیاتی فلاسفہ کے آیو نیائی مکتب کے بانی، تھیلیز، کی تعلیم یہ تھی کہ “زمین پانی پر قائم ہے جس پر یہ جہاز کی مانند تیر رہی ہے۔” تھیلیز کے شاگرد، عزیز اور پیروکار، انکسیمینڈر نے اس خام قصے سے انحراف کیا (تھیلیز کا مقصد زلزلوں کی توجیہہ بیان کرنا تھا)۔ اس کا نیا نظریہ حقیقی انقلابی کردار کا حامل تھا، کیونکہ اس کا کہنا تھا، “زمین کسی چیز کے سہارے پر قائم نہیں، بلکہ زمین اس وجہ سے ساکن ہے کہ یہ تمام دوسری اشیا سے یکساں فاصلے پر واقع ہے۔ اس کی صورت ڈرم کی طرح ہے۔ ہم اس کی بالائی ہموار سطح پر چلتے پھرتے ہیں جبکہ دوسری سطح مخالف سمت میں واقع ہے۔”

اس جرات مندانہ خیال نے ارسٹار کس اور کوپرنیکس کے تصورات کوممکن بنایا، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ یہ تصور نیوٹن کی (بیان کردہ) قوتوں کی پیش بینی بھی کرتا ہے۔ یہ تصور کس طرح وجود میں آیا؟ میرا قیاس ہے کہ یہ تھیلیز کی اسطور کے خالصتاً منطقی انتقاد سے ظہور پذیر ہوا۔ یہ تنقید بہت سادہ ہے: اگر ہم کائنات میں زمین کے مقام و قیام کے مسئلے کو یہ کہہ کر حل کریں کہ یہ سمندر کے سہارے قائم ہے، جیسا کہ ایک جہاز پانی پر ٹھہرا ہوتا ہے، تو نقاد کے مطابق، کیا ہم ایک اور مسئلہ اٹھانے پر مجبور نہیں ہو جاتے کہ سمندر کس کے سہارے قائم ہے؟ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ سمندر کے لیے بھی کوئی سہارا تلاش کیا جائے، اور پھر اس سہارے کے لیے کوئی اور سہارا۔ ظاہر ہے اس طرح لامتناہی تسلسل لازم آئے گا۔ اس تسلسل کو کس طرح ختم کیا جا سکتا ہے؟

بظاہر ایسا دکھائی دیتا تھا کہ کوئی بھی متبادل توجیہہ اس خوفناک الجھن سے بچنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی تھی، لیکن اس الجھن سے پاک توجیہہ کی تلاش میں، میرا قیاس ہے، انکسیمینڈر کے ذہن میں ہیسیوڈ کا ایک اقتباس ہو گا جس میں وہ ایلیڈ میں پائے جانے والے ایک تصور کو بہتر صورت میں بیان کرتا ہے۔ اس اقتباس میں وہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ طارطارس زمین سے بالکل اتنی ہی گہرائی میں واقع ہے جتنا کہ یورینس یا آسمان اس سے بلندی پر۔

ہیسیوڈ کا اقتباس اس طرح ہے: ”نو دن اور نو راتیں ایک برنجی سندان آسمانوں سے اترے گا اور دسویں روز زمین پر پہنچے گا، اور نو دن اور راتیں ایک برنجی سندان زمین سے گرنا شروع ہو گا اور دسویں دن طارطاس پر پہنچے گا۔“ اس عبارت سے ہی انکسیمینڈر کے ذہن میں یہ بات آئی ہو گی کہ ہم کائنات کا نقشہ اس طرح بنا سکتے ہیں کہ زمین وسط میں ہو اور آسمانی محراب نصف کرے کی مانند اس کے اوپر۔ تناسب کا تقاضا ہے کہ ہم طارطاس کو اس کرے کا نصف زیریں قرار دیں۔ اس طرح ہم انکسیمینڈر کی اس تعبیر تک پہنچ جاتے ہیں جو ہم تک منتقل ہوئی ہے۔ یہ تعبیر لامتناہی تسلسل کے عقدے کوحل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔

میرا خیال ہے کہ اس عظیم الشان اقدام کی ایسی ہی قیاسی توجیہہ کی ضرورت ہے جس کی بناء پر انکسیمینڈر اپنے استاد تھیلیز پر بازی لے گیا۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرا قیاس اس اقدام کو زیادہ قابلِ فہم اور ساتھ ہی ساتھ زیادہ مرعوب کن بھی بنا دیتا ہے کیونکہ اب اسے ایک نہایت مشکل مسئلے کے عقلی حل کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے-یعنی زمین کے قیام و مقام کا مسئلہ۔

تاہم تھیلیز پر انکسیمینڈر کی تنقید اور اس کی ایک نئے قصے کی تنقیدی تشکیل بے ثمر ہی رہتی اگر اس روایت کو جاری نہ رکھا جاتا۔ ہم اس حقیقت کی توجیہہ کس طرح کر سکتے ہیں کہ اس روایت کی پیروی کی گئی تھی؟ تھیلیز کے بعد آنے والی ہرنسل ایک نئی اسطور کیوں وضع کرتی رہی؟ میں نے ایک اور قیاس کی مدد سے اس کی توجیہہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ تھیلیز اور انکسیمینڈر نے مل کر ایک نئی مکتبی روایت- انتقادی روایت- کی داغ بیل ڈالی تھی۔

یونانی عقلیت پسندی اور یونانی انتقادی روایت کو انتقادی دبستان کی حیثیت دینے کی میری کوشش سراسر قیاسی ہے۔ دراصل، یہ بجائے خود ایک نوع کی اسطور ہے۔ تاہم یہ ایک بے نظیر مظہر -آیونیائی دبستان- کی توجیہ بیان کرتی ہے۔ اس دبستان میں چار یا پانچ نسلوں تک ہر نسل نے پچھلی نسل کی تعلیمات پر انتہائی ذہانت سے نظر ثانی کا کام جاری رکھا۔ نتیجتاً اس دبستان نے اس روایت کی بنا ڈالی جسے ہم سائنسی روایت کا نام دے سکتے ہیں: تنقید کی روایت جو پانچ صدیوں تک زندہ رہی، جس نے چند خطرناک یلغاروں کا مقابلہ کیا لیکن بالآخر شکست سے دوچار ہو گئی۔

تنقیدی منہاج تب تشکیل پاتا ہے جب ہم کسی موصولہ حکایت یا توجیہہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور ازاں بعد ایک نئی، بہتر اور زیادہ فکر انگیز حکایت کی جانب پیش قدمی کرتے ہیں، نیز اس نئی حکایت کو بھی تنقید کی سان پر چڑھایا جاتا ہے۔ میرا دعویٰ ہے کہ یہی سائنسی منہاج ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ انسانی تاریخ میں ایک ہی مرتبہ ایجاد ہوا۔ مغرب میں اس کا خاتمہ اس وقت ہوا جب فتح یاب اور متعصب مسیحیت نے ایتھنز میں درسگاہوں کو بند کر دیا، اگرچہ مشرقِ وسطیٰ میں اس کا چلن کچھ عرصے تک باقی رہا۔ قرونِ وسطیٰ کے دوران میں اس پر نوحہ خوانی ہوتی رہی اور نشأۃ ِثانیہ میں اسے دوبارہ ایجاد نہیں کیا گیا بلکہ یونانی فلسفے اور یونانی سائنس کی بازیافت کے ساتھ اسے ایک بار پھر (مشرق سے) درآمد کیا گیا۔

ہمیں دوسرے ترکیبی جز – انتقادی بحث کا منہاج- کی یکتا ئیت کا ادراک مکاتب، خصوصا ً مذہبی اور نیم مذہبی مکاتب، کے قدیمی مسلمہ وظیفے پرغور کرنے سے ہوتا ہے۔ مذہبی مکاتب کا کارِ منصبی مکتب کے بانی کی تعلیمات کو خالص شکل میں محفوظ رکھنا رہا ہے۔ لہٰذا، تعلیمات میں ترامیم شاذ و نادر ہی کی جاتی ہیں اور اکثر و بیشتر ان کا سبب غلطی یا غلط فہمی کو قرار دیا جاتا ہے۔ جب یہ ترامیم شعوری طور پر کی جاتی ہیں تو انھیں بطور قاعدہ چوری چھپے عمل میں لایا جاتا ہے کیونکہ بصورت دیگر ان ترامیم کا نتیجہ نفاق اور فرقہ بندی کی صورت میں نکلتا ہے۔
لیکن آیونیائی دبستان میں ہمارا سامنا ایک نئی مکتبی روایت سے ہوتا ہے جس نے اساتذہ کی تعلیمات کو ہر نئی نسل کے لیے محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ ان سے کھلا انحراف بھی کیا۔

اس بے مثال مظہر کی میری قیاسی توجیہہ یہ ہے کہ بانی مکتب تھیلیز نے اپنے عزیز، شاگرد اور بعدازاں اپنے جانشین، انکسیمینڈر کی حوصلہ افزائی کی کہ کیا وہ زمین کے قیام ومقام کے بارے میں اس کی اپنی پیش کردہ توجیہہ کی بہ نسبت کوئی بہتر توجیہہ پیش کر سکتا ہے۔

ممکن ہے ایسا ہی ہوا ہو، لیکن انتقادی منہاج کی ایجاد ثقافتی تصادم کے اثرات کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ اس کے نتائج بے پناہ اہمیت کے حامل تھے۔ چار پانچ نسلوں کے عرصے میں ہی یونانیوں نے یہ دریافت کر لیا کہ زمین، چاند اور سورج کرے ہیں، یہ کہ چاند زمین کے گرد گھومتا ہے اور ہمیشہ سورج کو ”حسرت“ سے تکتے ہوئے۔ اس بات کی توجیہہ اس مفروضے کی مدد سے کی جاتی تھی کہ وہ روشنی سورج سے مستعار لیتا ہے۔ کچھ مدت بعد ہی انھوں نے یہ مفروضہ بھی پیش کیا کہ زمین گھومتی ہے اور یہ سورج کے گرد گردش کرتی ہے۔ لیکن یہ متاخر مفروضے، جو افلاطونی مکتب اور بالخصوص ارسٹارکس کی جودتِ فکر کا نتیجہ تھے، بہت جلد فراموش کر دیے گئے۔

ان کونیاتی یا ہیئتی تحقیقات پر مستقبل کی سائنس کی بنیاد استوار ہوئی۔ انسانی علم کا آغاز ہماری دنیا کو انتقادی طور پر سمجھنے کی جرات مندانہ اور امید افزا سعی سے ہوا۔ اس دیرینہ خواب کی تکمیل نیوٹن کی صورت میں ہوئی۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ نوع انسانی کو مکمل شعور صرف نیوٹن کے وقت سے حاصل ہوا ہے- یعنی کائنات میں اپنے مقام کا شعور۔

یہ بات ثابت کی جا سکتی ہے کہ یہ اسطور سازی پر تنقیدی بحث کے منہاج کے اطلاق کا نتیجہ ہے: اسطور سازی ہماری ان کوششوں کا نام ہے جو ہم دنیا کو سمجھنے اور اس کی توجیہہ بیان کرنے کی خاطر کرتے ہیں۔”

Categories
نان فکشن

روشن خیالی کا نمائندہ: کارل پوپر (ترجمہ: ڈاکٹر ساجد علی)

میں پہلے اپنا تعارف کرانا پسند کروں گا۔ میں روشن خیالی کی اس تحریک کا آخری پسماندہ راہرو ہوں جس کا رواج مدتوں پہلے ختم ہو گیا تھا اور جس کی سطحیت بلکہ ابلہہ پن کو کراہت انگیز تکرار کی حد تک بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں عقلیت پسند ہوں اور صداقت اور انسانی عقل پر یقین رکھتاہوں۔ اس سے بلاشبہ یہ مراد نہیں کہ میں عقلِ انسانی کی قدرت کاملہ پر اعتقاد رکھتا ہوں۔ عقلیت پسند ویسا ہرگز نہیں ہوتا جیسا عقلیت پسندی کے مخالفین ہمیں باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں: ایسا شخص جو صرف اور صرف عقل پر بھروسہ رکھتا ہو اور دوسروں کو بھی ویسا ہی بنانا چا ہتا ہو۔ یہ انتہائی غیر عقلی بات ہو گی۔ لہٰذا مجھے امید ہے کہ ہر معقول شخص، اور عقلیت پسند بھی، اس بات سے بہت اچھی طرح آگاہ ہوتا ہے کہ انسانی زندگی میں عقل کا کردار بس واجبی سا ہے اور یہ کردار تنقیدی تفکر، تنقیدی مباحثے کا ہے۔ عقل یا عقلیت پسندی کا تذکرہ کرنے سے میرا مقصد اس یقین کے اظہار کے سوا کچھ نہیں کہ ہم تنقید کی مدد سے یعنی دوسروں کے ساتھ تنقیدی مباحثے کے ذریعے اور خود انتقادی سے سیکھ سکتے ہیں: ہم اپنی غلطیوں سے سیکھ سکتے ہیں۔ عقلیت پسند ایسا شخص ہوتا ہے جو دوسروں سے سیکھنے پر آمادہ ہو، (دوسروں سے سیکھنے سے مراد) محض ان کی آرا کو قبول کر لینا ہی نہیں بلکہ انھیں اپنے خیالات پر تنقید کی اجازت دینا اور ان کے افکار پر تنقید کرنا بھی ہے: بالفاظ دیگر تنقیدی مباحثے کے ذریعے سیکھنا مراد ہے۔ سچا عقلیت پسند یہ یقین نہیں رکھتا کہ وہ یا کوئی اور حکمت کا اجارہ دار ہے۔ وہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے کہ ہمیں ہر لحظہ نئے افکار کی ضرورت رہتی ہے اور تنقید نئے خیالات کو جنم دینے سے قاصر ہوتی ہے۔ مگر وہ یہ یقین بھی رکھتا ہے کہ تنقید گندم کو بھوسے سے الگ کرنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔ وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ ہوتا ہے کہ کسی خیال کا رد و قبول محض عقل پر ہی مبنی نہیں ہوتا۔ لیکن صرف تنقیدی مباحثہ ہی کسی تصور کو مختلف جہات سے دیکھنے اور اس کے متعلق درست فیصلہ کرنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔ عقلیت پسند یہ دعویٰ بھی نہیں کرتا کہ تمام انسانی تعلقات کی مکمل جانکاری تنقیدی مباحثے کے ذریعے ممکن ہے؛ کیونکہ یہ بھی بہت غیر معقول بات ہو گی۔ عقلیت پسند اس نقطے کو اجاگر کرتا ہے کہ تنقیدی مباحثے کی تہہ میں کار فرما ”کچھ لو اور کچھ دو“ کا رویہ خالصتاً انسانی معاملات میں بھی سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ عقلیت پسند اس بات کو بآسانی سمجھ لے گا کہ اس کی عقلیت دوسروں کی مرہونِ منت ہے۔ وہ تسلیم کرتا ہے کہ تنقیدی رویہ بھی دوسروں کی تنقید کا نتیجہ ہوتا ہے اور انسان اپنا نقاد بھی اسی وقت ہو سکتا ہے، جب وہ دوسروں پر تنقید کرے اور ان کی تنقید کو برداشت کرے۔ عقلی رویے کا شاید سب سے عمدہ بیان یہ ہو سکتا ہے: ممکن ہے آپ درست ہوں، ممکن ہے کہ میں غلطی پر ہوں اور اگر ہماری بحث وتمحیص اس حتمی فیصلے پر پہنچنے میں ہماری مدد نہ بھی کر سکے کہ کون صحیح ہے، تب بھی امید ہے کہ ہم بحث کے بعد معاملات سے زیادہ بہتر طور پر آگاہ ہو چکے ہوں گے۔ ہم ایک دوسرے سے سیکھ سکتے ہیں تاوقتیکہ ہم اس نکتے کو فراموش نہ کریں کہ یہ بات اہم نہیں کہ کون سا فریق درست ہے، بلکہ اہمیت اس بات کی ہے کہ ہم معروضی صداقت سے کس قدر قریب ہوئے ہیں۔ یہ معروضی صداقت ہی ہے جس کی خاطر ہم دونوں کوشاں ہیں۔

مختصراً میں اسی مفہوم میں اپنے آپ کو عقلیت پسند قرار دیتا ہوں۔ جب میں اپنے آپ کو روشن خیالی کا آخری پسماندہ راہرو کہتا ہوں تومیرے ذہن میں کچھ اور باتیں بھی ہوتی ہیں۔ میرے دل میں وہی آس ہے جس نے پیسٹالوٹسی کے جذبوں میں روح پھونکی تھی کہ علم ہمیں معاشی اور روحانی غلامی سے رہائی دلاسکتا ہے؛ میں یہ امید بھی رکھتا ہوں کہ ہم اذعان کی گہری نیند سے بیدار ہو سکتے ہیں، جیسا کہ کانٹ نے کہا تھا۔ میرے پیش نظرایک اہم ذمے داری بھی ہے جسے بیشتر دانشور قابلِ اعتنا نہیں سمجھتے خصوصاً جب سے بعض فلسفیوں، مثلاً فختے، شیلنگ اور ہیگل نے ہماری فکری دیانت کو سبوتاژ کرنا شروع کیا ہے۔ میرا اشارہ اس ذمے داری کی طرف ہے کہ ہمیں کبھی بھی پیغمبروں کا روپ نہیں دھارنا چاہیے۔

اس فریضے کو ادا نہ کرنے کی سنگین کوتاہی کے سب سے بڑھ کر جرمن فلاسفہ مرتکب ہوئے ہیں۔ بلاشبہ انھوں نے ایسا اس لیے کیا کہ ان سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ اپنے آپ کو ان پیغمبروں یا مذہبی متجددین کے طور پر پیش کریں جو کائنات و حیات کے عمیق ترین اسرار کی پردہ کشائی کا ملکہ رکھتے ہوں۔ زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح یہاں بھی مسلسل طلب بدقسمتی سے اپنا سامانِ رسد بھی فراہم کر لیتی ہے۔ لوگ پیغمبروں اور لیڈروں کی تمنا کرتے تھے اور وہ انھیں مل بھی جاتے تھے۔ اس کے ردِ عمل میں، خصوصاً جرمن زبان میں، جو کچھ تخلیق ہوا وہ ہرگز لائقِ اعتماد نہیں۔

Categories
نان فکشن

فلسفہ کیا نہیں ہے؟ (تحریر: کارل پوپر، ترجمہ: ڈاکٹر ساجد علی)

(زیر نظر اقتباس کارل پوپر کے ایک مضمون کا جز ہے۔ پوپر چونکہ اپنے زمانے کے ہر غالب اور مقبول فلسفیانہ رجحان اور فیشن کا مخالف تھا، اس لیے یہ سب نکات کسی نہ کسی فلسفیانہ مکتب فکر کی نمائندگی کرتے ہیں جن کو پوپر ناقابل قبول قرار دیتا ہے۔)

“میں اب فلسفے کے بارے میں مختلف نقطہ ہائے نظر اور ایسی سرگرمیوں کو بیان کروں گا جو عام طور پر فلسفے کا مآخذ سمجھی جاتی ہیں اور جنہیں میں غیر تسلی بخش سمجھتا ہوں۔ اس حصے کو یہ عنوان بھی دیا جا سکتا ہے: میرے نزدیک فلسفہ کیا نہیں ہے۔

(1 ) میں نہیں سمجھتا کہ فلسفے کا کام لسانیاتی معموں کو حل کرنا ہے، اگرچہ بعض اوقات غلط فہمیوں کو رفع کرنا ضروری ابتدائی قدم بن سکتا ہے۔

(2 ) میرے نزدیک فلسفہ فن پاروں، دنیا کی حیران کن اور بدیع تصاویر یا دنیا کو بیان کرنے کے تیز فہم اور غیر معمولی طریقوں کی حیثیت نہیں رکھتا۔ میرا خیال ہے کہ فلسفے کے بارے میں اس طرح کا نقطہَ نظر اپنا کر ہم عظیم فلاسفہ کے ساتھ صریح نا انصافی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ عظیم فلاسفہ کسی جمالیاتی کاوش میں منہمک نہیں تھے۔ وہ فکری نظاموں کے معمار بننے کے لیے کوشاں نہیں تھے بلکہ عظیم سائنسدانوں کی طرح، ان کا اولین مقصد صداقت کی تلاش تھا;245; حقیقی مسائل کے صحیح حل کی تلاش۔ ہرگز نہیں۔ میں فلسفے کی تاریخ کو لازمی طور پر صداقت کی تلاش کی تاریخ کا حصہ سمجھتا ہوں اور میں اس کے خالصتاً جمالیاتی نقطہَ نظر کو مسترد کرتا ہوں، اگرچہ حسن فلسفے کے ساتھ ساتھ سائنس میں بھی اہم ہے۔
میں مکمل طور پر فکری بےباکی کے حق میں ہوں۔ ہم بیک وقت فکری اعتبار سے بزدل اور صداقت کے متلاشی نہیں ہو سکتے۔ صداقت کے متلاشی میں زیرک ہونے کی ہمت ہونی چاہیے۔۔۔ اس کے اندر میدانِ فکر میں انقلابی ہونے کی جرات ہونی چاہیے۔

( 3) میں فلسفیانہ نظاموں کی طویل فکری تاریخ کو ایسے فکری قلعوں کی قبیل سے نہیں سمجھتا جن میں تمام ممکنہ خیالات کو آزمایا جاتا ہے اور جن میں صداقت ایک ضمنی پیداوار کی حیثیت سے سامنے آ سکتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم ماضی کے عظیم فلاسفہ سے نا انصافی کے مرتکب ہوں گے اگر ہم ایک لمحے کو بھی یہ شک کریں کہ ان عظیم فلسفیوں میں سے ہر ایک اپنے نظام کو رد کر دیتا (جیسا کہ اسے کرنا چاہیے تھا) اگر وہ اس بات کا قائل ہو جاتا کہ اس کا نظام صداقت کی راہ پر ایک قدم آگے لے جانے والا نہیں خواہ اس کا نظام کیسا ہی شاندار کیوں نہ ہو۔ (اسی بنا پر میں فختے یا ہیگل کو سچا فلسفی نہیں مانتا۔ صداقت کے لیے ان کی لگن پر مجھے قطعاً اعتبار نہیں ہے)۔

( 4)۔ میرے نزدیک فلسفہ تعقلات، الفاظ یا زبانوں کی تصریح، تجزیے، یا توضیح کی کوشش کا نام نہیں۔
تعقلات یا الفاظ قضایا، قیاسات اور نظریات کو وضع کرنے کے محض آلات ہیں۔ تعقلات یا الفاظ بذاتِ خود صادق (یا کاذب) نہیں ہو سکتے، وہ صرف انسان کی بیانیہ اور استدلالی زبان کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ ہمارا مقصد معانی کا تجزیہ نہیں بلکہ دلچسپ اور اہم صداقتوں کی تلاش ہونا چاہیے، یعنی صادق نظریات کی تلاش۔

(5 )۔ میں نہیں سمجھتا کہ فلسفہ ہمیں تیز طرار اور ہوشیار بنانے کا وسیلہ ہے۔

(6 )۔ میں فلسفے کو فکری معالجہ کی ایک قسم (وٹگنسٹائن) نہیں سمجھتا جو لوگوں کو فلسفیانہ گورکھ دھندوں سے باہر نکلنےکی سعی کا نام ہو۔ میرے خیال میں وٹگنسٹائن نے (اپنی متاخر کتاب میں ) مکھی کو بوتل سے باہر نکلنے کا راستہ نہیں دکھایا۔ بلکہ بوتل سے فرارنہ ہو سکنے والی مکھی میں مجھے وٹگنسٹائن کا ذاتی مرقع دکھائی دیتا ہے۔ (وٹگنسٹائن ایک وٹگنسٹائنی مریض تھا جس طرح فرائڈ ایک فرائڈین مریض تھا)۔

(7 )۔ میرے نزدیک فلسفہ اس مشق کا نام نہیں کہ کسی بات کو زیادہ ایجاز یا زیادہ صحتِ الفاظ کے ساتھ کیسے ادا کیا جائے۔ ایجاز اور صحتِ الفاظ بذات خود فکری اقدار نہیں اور ہ میں زیرِ بحث مسئلہ پر ضرورت سے زیادہ ایجاز یا الفاظ کے درست ہونے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

(8 )۔ اسی طرح، میرے خیال میں فلسفہ مستقبل قریب یا بعید میں ظہور میں آنے والے مسائل کو حل کرنے کے لیے بنیادیں فراہم کرنے یا تعقلاتی سانچے مہیا کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ جان لاک نے یہی کیا، وہ اخلاقیات پر ایک مقالہ لکھنا چاہتا تھا، اور اس نے یہ ضروری جانا کہ وہ پہلے تعقلاتی تمہیدات فراہم کرے۔
اس کا مقالہ اِنھی تمہیدی کلمات پر مشتمل ہے اور اسی وقت سے برطانوی فلاسفہ (چند ایک مستثنیات کو چھوڑ کر مثلاً ہیوم کے بعض سیاسی مقالات) ان تمہیدات میں الجھے ہوئے ہیں۔

(9 )۔ میرے نزدیک فلسفہ روح عصر کا اظہار بھی نہیں۔ یہ ایک ہیگلی تصور ہے جو تنقید کا سامنا نہیں کر سکتا۔ فیشن فلسفے میں بھی پائے جاتے ہیں جیسا کہ سائنس میں بھی۔ لیکن صداقت کا سچا متلاشی فیشن کے پیچھے نہیں بھاگے گا، وہ فیشنوں کو شبہ کی نظر سے دیکھے گا بلکہ ان کا مقابلہ کرے گا۔

II

تمام مرد و زن فلسفی ہوتے ہیں۔ اگر انھیں فلسفیانہ مسائل کے حامل ہونے کا شعور نہ ہو تو بھی وہ فلسفیانہ تعصبات کے حامل ضرور ہوتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر (تعصبات) نظریات کی صورت میں ہوتے ہیں جنہیں وہ بلا تامل قبول کیے ہوئے ہوتے ہیں : انھوں نے یہ نظریات اپنے فکری ماحول یا روایت سے جذب کیے ہوتے ہیں۔

چونکہ ان میں سے چند ہی نظریات کو شعوری طور پر قبول کیا گیا ہوتا ہے، لہٰذا یہ ان معنوں میں تعصبات ہوتے ہیں کہ انھیں تنقیدی پرکھ کے بغیر تسلیم کر لیا جاتا ہے، درانحالیکہ یہ نظریات لوگوں کے اعمال اور ان کی ساری زندگی کے لیے نہایت اہم ہو سکتے ہیں۔ پیشہ ورانہ فلسفے کے وجود کا یہی جواز ہے کہ ایسے لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے جو ان مقبولِ عام اور با اثر نظریات کو تنقیدی طور پر جانچ سکیں۔

اس نوع کے نظریات ہر طرح کی سائنس اور فلسفے کے لیے غیر محفوظ نقطہَ آغاز ہوتے ہیں۔ فلسفے کو غیر تنقیدی فہمِ عامہ کے غیر معتبر اور بالعموم مضرت رساں خیالات سے آغاز کرناچاہیے۔ اس کا مقصود روشن خیال اور انتقادی فہمِ عامہ تک رسائی ہے: ایسے نقطہَ نظر تک رسائی جوصداقت سے قریب تر ہواور جس کے اثرات انسانی زندگی کے لیے کم سے کم نقصان دہ ہوں۔”