Categories
اداریہ

72 میڈیکل کالجز تدریسی عملہ کی کمی کا شکار

پی ایم ڈی سی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر مسعود کے مطابق کونسل موجودہ کالجز میں معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے معائنہ کا عمل شروع کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل کی تعلیم فراہم کرنے والے 72 ادارے تدریسی عملہ کی کمی کا شکار ہیں جنہیں وارننگ جاری کردی گئی ہے۔ڈاکٹر مسعود نے ذرائع ابلاغ سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک ناکافی سہولیات کے باعث 9 کالجز میں داخلوں پر پابندی عائد کی جاچکی جب کہ محکمہ صحت کی جانب سے 5 کالجز بند کر دیے گئے ہیں۔
پی ایم ڈی سی ذرائع کے مطابق اس وقت ملک بھر کے 128 منظور شدہ کالجز میں10846 اساتذہ تدریس کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں جبکہ 4343مزید اساتذہ کی ضرورت ہے۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے تدریسی عملہ کی کمی کے باعث نئے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کے قیام پر عائد پابندی میں دوسال کی توسیع کر دی ہے۔ پی ایم ڈی سی ذرائع کے مطابق اس وقت ملک بھر کے 128 منظور شدہ کالجز میں10846 اساتذہ تدریس کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں جبکہ 4343مزید اساتذہ کی ضرورت ہے۔
2011 میں اساتذہ کی کمی کے باعث لگائے نئے کالجز کی رجسٹریشن پر لگائی جانے ولی پابندی کے بعد سے اب تک پابندی کے نفاز سے قبل موصول ہونے والی درخواستوں کی بناء پر محض چار کالجز کی رجسٹریشن کی گئی ہے۔ کونسل کے مطابق بہت سے میڈیکل کالجز نے وزٹنگ فیکلٹی کے ذریعہ اس مسئلہ پر قابو پانے کی کوشش کی ہے تاہم اب تک طلبہ کی تعداد کے مطابق اساتذہ دستیاب نہیں ہیں۔ میڈیکل کونسل کے اہلکاروں کے مطابق رواں تعلیمی برس کے دوران میڈیکل کالجز کو اپنے تدریسی عملہ کی رجسٹریشن کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ اس ضمن میں بدعنوانی کو روکا جا سکے۔
Categories
اداریہ

نصاب سازی کی ایک اور مشق

ہائرایجوکیشن کمیشن کے زیر اہتمام وزیراعظم کی ہدایت پر نصاب سازی کے پہلے مرحلے کے طور پر موجودہ نصاب کی نظرثانی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔اس سلسلے میں چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا کو نصاب میں ترامیم تجویز کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعظم کی ہدایت پر آئینی جمہوریت، عدلیہ کے کردار،قانون کی حکم رانی اور پارلیمان کی برتری سے متعلق مواد اردو، انگریزی اور مطالعہ پاکستان میں شامل کیا جائے گا۔
نصاب کی تشکیل نو کے عمل میں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، فاٹا اور گلگت بلتستان کی تجاویز موصول ہونے کے بعد قومی نصابی کونسل نصاب سازی کا عمل شروع کرے گی۔
اجلاس میں شریک جوائنٹ ایجوکیشن ایڈوائزر رفیق طاہر کے مطابق اجلاس کے دوران نصاب کی ازسرنو تشکیل کے لیے مختلف کمیٹیاں قائم کی گئی اور موجودہ نصاب سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ موجودہ نصاب میں مناسب تبدیلیوں کی گنجائش ہونے کی صورت میں ترمیم شدہ نصاب اگلے تعلیمی سال میں متعارف کرا دیا جائے گا۔
نصاب کی تشکیل نو کے عمل میں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، فاٹا اور گلگت بلتستان کی تجاویز موصول ہونے کے بعد قومی نصابی کونسل نصاب سازی کا عمل شروع کرے گی۔ نصاب کی تشکیل نو کے حوالے سے لالٹین سے بات کرتے ہوئے علم التعلیم کے استاد الطاف علی کا کہنا تھا کہ نصاب کی تشکیل نو تعلیم کے جدید تقاضوں کو پورا کرنے کے قابل نہیں ہے،”شہریت اور جمہوریت کے جدید تصورات سکھانے کے لیے سرکاری سرپرستی میں نصاب سازی ناکافی ثابت ہو گی۔ “الطاف علی کے مطابق جمہوریت کے تسلسل کے لیے نصاب میں ترامیم ضروری ہیں تاہم موجودہ حکومت ایسا کرنے کی اہل نہیں ہے،”ماضی میں ہر حکومت نصاب تبدیل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے اور یون لگتا ہے کہ یہ بھی نصاب سازی کی ایک اور مشق کے سوا کچھ نہیں۔
Categories
اداریہ

پاکستان بھر کے 12 میڈیکل کالجز میں داخلوں پر پابندی

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ( پی ایم ڈی سی)نے پاکستان کے 12 میڈیکل کالجز میں غیر معیاری تدریس اور سہولیات کی عدم موجودگی کے باعث داخلوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پی ایم ڈی سی نے یہ فیصلہ انسپکشن ٹیم کی رپورٹس کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔ پابندی کا سامنا کرنے والے کالجز میں پاک کریسنٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج لاہور، ویمن میڈیکل کالج ایبٹ آباد، انڈیپنڈنٹ میڈیکل کالج فیصل آباد، ایبٹ آباد انٹرنیشنل میڈیکل کالج ایبٹ آباد، محی الدین اسلامک میڈیکل کالج میرپور آزاد کشمیر، حشمت میڈیکل کالج گجرات، بھٹائی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میرپور خاص سندھ، محمد بن قاسم ڈینٹل کالج کراچی، ساہیوال میڈیکل کالج ساہیوال، الرازی میڈیکل کالج پشاور ، اے جے کے میڈیکل کالج مظفر آباد اور ایم بی بی ایس میڈیکل کالج میر پور آزاد کشمیرشامل ہیں۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے یہ پابندی تعلیمی سال2014-15 کے لئے لگائی ہے تاکہ طب کی معیاری تعلیم کو یقینی بنایا جا سکے۔ گزشتہ چند برس کے دوران نجی شعبہ میں بننے والے غیر معیاری تدریسی اداروں کے قیام کے باعث میڈیکل جیسے اہم شعبہ میں تدریس کا معیار گرا ہے۔ میڈیکل کالجز میں داخلہ کے خواہش مند طلبہ کے مطابق غیر معیاری تدریسی اداروں پر پابندی مستحسن ہے تاہم طلبہ نے میڈیکل کالجز پر پابندی سے معیاری کالجز پر داخلوں کے دباو میں اضافہ کا اندیشہ بھی ظاہر کیا ہے۔