Categories
نقطۂ نظر

مادری زبان کا عالمی دن

جدید سائنس کہتی ہے کہ تمام جاندار اشیاء اپنی نوع کے دیگر جانداروں اور اپنے ماحول کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتی ہیں۔ اس رابطے کے لئے ان کے اندر مخصوص صلاحیتیں اور اور ان کے اپنے مخصوص طریقے ہیں۔ انسانی تہذیب میں زبان رابطے کا سب سے اہم اور موثر ذریعہ ہے۔ زبان انسانی رابطے کا ایسا نظام ہے جس میں مخصوص الفاظ، آوازوں یا علامتوں کے ذریعے، خواہ وہ تحریری ہوں یا زبانی، انسانی جذبات، احساسات، خیالات، مشاہدات، افکار اور باہمی معاملات کے لئے ضروری معلومات کا تبادلہ ہوتا ہے۔ زبان انسان کو دیگر مخلوقات کے مقابلے میں ممتاز کرتی ہے۔ اپنی منطق سے سوچنے سمجھنے، پرکھنے اور بولنے کی صلاحیت کی بناء پر انسان دوسرے جانداروں کی نسبت آپس میں بہتر ابلاغ پر قادر ہے۔

 

پاکستانی ماہرینِ لسانیات کے مطابق ملک میں مختلف لہجوں کے فرق سے 74 زبانیں بولی جاتی ہیں۔
معاشرتی تنوع میں بلاشبہ زبان کا بہت اہم کردار ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ بہت سی نئی زبانیں تشکیل پاتی ہیں تو اسی طرح بہت سے زبانیں ختم بھی ہوتی جا رہی ہیں۔ تاریخ انسانی کے آغاز سے لے کر آج تک ان گنت زبانیں معرضِ وجود میں آئیں اور صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ مادری زبان کسی بھی شخص کی وہ زبان ہوتی ہے جو اسے ورثے میں ملتی ہے یعنی جس گھرانے اور خاندان میں وہ پیدا ہوتا ہے اس کی زبان بچے کی مادری یا ماں بولی زبان کہلاتی ہے۔

 

دنیا بھر میں 21 فروری 2000ء سے ہر سال مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد مادری زبان اور اس سے وابستہ ثقافتی و تہذیبی پہلووں کو اجاگر کرنا ہے۔ پاکستانی ماہرینِ لسانیات کے مطابق ملک میں مختلف لہجوں کے فرق سے 74 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ دنیا میں کتنی ہی قومیں ہیں اور ہر ایک قوم زبان کے اعتبار سے اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تقریبا 6912 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ زمانے کی جدت اور سرکاری زبانوں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے مادری زبانوں کی اہمیت ماند پڑ رہی ہے۔ مادری زبان انسان کی شناخت، ابلاغ، تعلیم اور ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے لیکن جب زبان ناپید ہوتی ہے تو اس کے ساتھ مختلف النوع ثقافتیں اور روایات کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔ یونیسکو کے مطابق 1950ء سے لے کر اب تک 230 مادری زبانیں ناپید ہوچکی ہیں۔ ”اٹلس آف ورلڈ لینگویج ان ڈینجر 2009ء“ کے مطابق دنیا میں 28 پاکستانی زبانوں سمیت دنیا کی 36 فیصد (2498) زبانوں کو اپنی بقاءکے لیے مختلف النوع کے خطرات لاحق ہیں، 24 فیصد (607) زبانیں غیر محفوظ جبکہ 25 فیصد (632) ناپیدی کے یقینی خطرے سے دوچار ہیں، اس کے علاوہ 20 فیصد (562) زبانوں کو خاتمے کا شدید خطرہ لاحق ہے۔ 21.5 فیصد (538) زبانیں تشویش ناک حد تک خطرات کا شکار ہیں جبکہ 230 تقریباً 10 فیصد زبانیں متروک ہوچکی ہیں۔ یوں دنیا میں بولی جانے والی 57 فیصد زبانوں کو محفوظ گردانہ جاتا ہے۔ ہر زبان اپنے مطالب اور گرائمر رکھتی ہے اور ہر زبان کی ادائیگی اور لہجہ بھی مختلف ہے۔ یہ زبانیں زیادہ تر قوموں اور خطوں کے حوالے سے پہچانی جاتی ہیں ۔

 

ہر زبان اپنے مطالب اور گرائمر رکھتی ہے اور ہر زبان کی ادائیگی اور لہجہ بھی مختلف ہے ۔ یہ زبانیں زیادہ تر قوموں اور خطوں کے حوالے سے پہچانی جاتی ہیں ۔
دنیا میں سب سے زیادہ 860 زبانیں پاپوا نیوگنی میں بولی جاتی ہیں جو کل زبانوں کا 12 فیصد ہے جبکہ 742 زبانوں کے ساتھ انڈونیشیائی دوسرے، 516 کے ساتھ نائیجیریا تیسرے، 425 کے ساتھ بھارت چوتھے اور 311 کے ساتھ امریکا پانچویں نمبر پر ہے۔ آسٹریلیا میں 275 اور چین میں 241 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی مادری زبان چینی ہے جسے 87 کروڑ 30 لاکھ افراد بولتے ہیں جبکہ 37 کروڑ ہندی، 35 کروڑ ہسپانوی، 34 کروڑ انگریزی اور 20 کروڑ افراد عربی بولتے ہیں۔ پنجابی 11ویں اور اردو 19 ویں نمبر پر ہے۔ عالمی سطح پر زبانوں کی تعداد اور ان کو بولنے والوں کا تناسب انتہائی غیر متوازن ہے۔ صرف 57 زبانیں ایسی ہیں جن کو بولنے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے زائد ہے اور صرف 8 زبانیں ایسی ہیں جن کو بولنے والے افراد کی تعداد 10 کروڑ سے زائد ہے جو کل عالمی آبادی کا 40 فیصد بنتا ہے۔ عالمی سطح پر صرف 100 زبانوں کا استعمال تحریری شکل میں کیا جاتا ہے۔

 

پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں سے متعلق معلوماتی چارٹ
پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں سے متعلق معلوماتی چارٹ
سی آئی اے ورلڈ فیکٹ بک کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان پنجابی ہے جسے 48 فیصد افراد بولتے ہیں جبکہ 12 فیصد سندھی، 10 فیصد سرائیکی، انگریزی، اردو، پشتو 8 فیصد، بلوچی 3 فیصد، ہندکو 2 فیصد اور ایک فیصد براہوی زبان کا استعمال کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم و ثقافت کی تحقیق کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقہ جات، صوبہ سرحد، بلوچستان، کشمیر، بھارت اور افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں بولی جانے والی 27 چھوٹی مادری زبانوں کو ختم ہونے کا خطرہ لاحق ہے، ان میں سے 7 زبانیں غیر محفوظ گردانی جاتی ہیں جن کو بولنے والے 87 ہزار سے 5 لاکھ تک ہیں، اس کے علاوہ 14 زبانوں کو خاتمے کا یقینی خطرہ لاحق ہے جن کو بولنے والوں کی تعداد کم سے کم 500 اور زیادہ سے زیادہ 67 ہزار ہے جبکہ 6 زبانیں ایسی ہیں جن کو بولنے والے 200 سے 5500 کے درمیان ہیں، یہ زبانیں ختم ہونے کے شدید خطرے کا شکار ہیں۔ مادری زبانوں کو لاحق خطرات کے حوالے سے پاکستان دنیا میں 28 ویں نمبر پر ہے جبکہ سب سے زیادہ 196 زبانوں کو بھارت میں خطرات لاحق ہیں، امریکہ کی 191 برازیل کو 190 انڈونیشیا کی 147 اور چین کی 144 زبانوں کی بقا کو خطرہ ہے۔

 

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم و ثقافت کی تحقیق کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقہ جات، صوبہ سرحد، بلوچستان، کشمیر، بھارت اور افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں بولی جانے والی 27 چھوٹی مادری زبانوں کو ختم ہونے کا خطرہ لاحق ہے
انگریزی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی اور سمجھی جانے والی زبان ہے، یہ دنیا بھر میں رابطے کی زبان سمجھی جاتی ہے ۔ دنیا بھر میں انگریزی بولنے والے افراد کی تعداد ایک ارب سے زیادہ ہو گئی ہے۔ تقریباً 35 کروڑ 40 لاکھ افراد کی مادری زبان انگریزی ہے جبکہ باقی لوگ ثانوی زبان کی حیثیت سے انگریزی بولتے ہیں۔ زبانوں پر تحقیق کرنے والے امریکی ادارے Ethnologue کے مطابق ملکوں کے حوا لے سے انگریزی سب سے زیادہ 112 ممالک میں بولی جاتی ہے، اس کے بعد 60 ممالک میں فرنچ، 57 میں عربی، 44 میں ہسپانوی اور جرمن بھی 44 ممالک میں بولی جاتی ہے جبکہ اردو 23، ہندی 20 اور پنجابی 8 ممالک میں بولی جاتی ہے۔

 

مادری زبان کی تعلیم سے خود زبان کی ترویج واشاعت میں مدد ملتی ہے، زبان کی آبیاری ہوتی ہے، نیا خون داخل ہوتا ہے اور پرانا خون جلتارہتا ہے جس سے صحت بخش اثرات اس زبان پر مرتب ہوتے ہیں۔ انسانی معاشرہ ہمیشہ سے ارتقاء پذیر رہا ہے چنانچہ مادری زبان اگر ذریعہ تعلیم ہو تو انسانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ اس علاقے کی مادری زبان بھی ارتقاء پذیر رہتی ہے، نئے نئے محاورے اور روزمرہ متعارف ہوتے ہیں، نیا ادب تخلیق ہوتا ہے، استعمال میں آنے والی چیزوں کے نئے نئے نام اس زبان کا حصہ بنتے رہتے ہیں۔ مگر نہایت افسوس کی بات ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام، عدالتی نظام اور دفتری نظام سب کا سب انگریزی زبان میں ہے۔ ہم کب تک انگریزی کا پیچھا کریں گے؟ ہمیں اردو زبان کے فروغ کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اردو کا مواد انٹرنیٹ پر برائے نام موجود ہے، اسے فروغ دینے کے لئے بلاگ نویسی کے رجحان کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ قوم پوری شدت سے چاہتی ہے کہ مقابلے کے امتحانات قومی زبان میں منعقد کیے جائیں، ابتدائی تعلیم مادری و علاقائی زبان میں اور ثانوی و اعلی تعلیم قومی زبان میں دی جائے۔ علاقائی اور قومی زبانوں کے ادباء، شعرا اور محققین کو سرکاری سرپرستی دی جائے ان کی تخلیقات کو سرکاری سطح پر شائع کیا جائے اور ان کے لیے بھی سرکاری خزانے کے دروازے کھولے جائیں۔ دیگر عالمی زبانوں کی کتب کو تیزی سے قومی و علاقائی زبانوں میں ترجمہ کیا جائے تاکہ ہماری قوم اندھیروں سے نکل کر وقت کے ساتھ ساتھ دنیا میں اپنا آپ منوا سکے۔
Categories
اداریہ

مادری زبان کو تسلیم کرنے کی ضرورت – اداریہ

Pakistan ethnic map.svgPakistan ethnic map” by ArnoldPlaton, .svg based on this map (from UTexas under Public Domain “Courtesy of the University of Texas Libraries, The University of Texas at Austin.”) – Own work. Licensed under Public domain via Wikimedia Commons.

[spacer color=”B2B2B2″ icon=”fa-exchange” style=”3″]

ایک خبر کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے رکن پارلیمان ماروی میمن کی اس قرارداد پر بحث کرنے سے انکار دیا ہے جس میں پاکستان کی علاقائی زبانوں کو سرکاری طور پر قومی زبانیں تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے بھی مختلف بنیادی نوعیت کی بہتریوں کے لیے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اٹھائی جانے والی کئی تدبیریں، کسی ایک آدھ رکن پارلیمان کی انفرادی کاوش سے آگے نہیں بڑھ سکیں۔ حالیہ اقدام بحیثیت ادارہ، ہماری پارلیمان کے سیاسی تدبر اور قومی مسائل میں سنجیدگی کی سطح کا آئینہ دار ہے بھی ہے اور اس بات کا غماز بھی ہے کہ ریاستی ادارے اپنے تاریخی تجربوں سے سبق سیکھنے پر بالکل بھی آمادہ نہیں ہیں۔
پاکستان کے لسانی سیاسی حلقوں میں 6 فیصد شہریوں کی زبان، اردو کو اکیلی سرکاری زبان رکھنے کے حامی اس وقت ہو بہو وہی دلائل پیش کر رہے ہیں جو کوئی دو صدی قبل برطانوی نوآبادکاروں کے عہد میں پنجاب کی تعلیمی اور سرکاری زبان کے تعین کی بحثوں میں پیش کیے تھے۔
اٹھارہویں ترمیم میں بہت سے بنیادی اختیارات کی صوبوں کی طرف تنزیل کے بعد قومی اسمبلی کی طرف سے ایسے اقدام کو صریحاً آئینی وعدہ خلافی سمجھا جانا چاہیے۔ ایسے میں یوں لگ رہا ہے کہ قائد اعظم کی مختلف مواقع پر اردو کو قومی زبان بنانے کی تجویز، ملک کے عبوری دور کا ایک سمجھوتہ اور قومی تاریخ کا حصہ سمجھے جانے کی بجائے، الہامی حکم کا درجہ پانے جا رہی ہے۔ جبکہ زیر بحث مطالبے میں اردو سے قومی زبان کا درجہ چھیننے کی تجویز بھی شامل نہیں ہے۔ آزادی کے بعد اب جبکہ پاکستانیوں کی پانچ چھ نسلیں جوان ہو چکی ہیں اور چاروں صوبوں کے مقامی لوگ قومی دھارے کا حصہ بن چکے ہیں، اور اپنی اپنی زبانوں میں روزمرہ اور پیشہ ورانہ امور میں مقامی زبانوں کا استعمال غیر سرکاری طور پر پہلے سے ہی کر رہے ہیں۔ لیکن دفتری امور میں مادری زبان میں ابلاغ کی سرکاری طور پر بجائے حوصلہ افزائی کے، ہمیشہ حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔
ادھر پڑوسی ملک بھارت میں 22 زبانوں کو قومی زبان کا درجہ حاصل ہے جبکہ دوسرے پڑوسی افغانستان میں پشتو اور فارسی کو سرکاری قومی شناخت میں برابر کا حصہ دیا گیا ہے۔ پاکستان کے لسانی سیاسی حلقوں میں 6 فیصد شہریوں کی زبان، اردو کو اکیلی سرکاری زبان رکھنے کے حامی اس وقت ہو بہو وہی دلائل پیش کر رہے ہیں جو کوئی دو صدی قبل برطانوی نوآبادکاروں کے عہد میں پنجاب کی تعلیمی اور سرکاری زبان کے تعین کی بحثوں میں پیش کیے تھے۔ مقام افسوس ہے کہ ایک آزاد ملک کی آزاد پارلیمنٹ ابھی تک اسی نوآبادیاتی رنگ ڈھنگ سے چل رہی ہے، جس میں ‘حکمرانی’ حلیے کے ارکان کے لیے چائے بیڑی ڈھونے والے خدمتگاروں کے سر پر ثقافتی شکوہ کی علامت طرے دار پگڑیاں ابھی تک دھری ہوئی ہیں، اور ثقافتی طور پر خادم اور مخدوم کے رشتے اسی نوآبادیاتی علامتی نظام کے تحت اپنا کام کر رہے ہیں۔ پنجاب اس معاملے میں ایک تشویشناک مثال ہے جہاں صوبائی اسمبلی کے رکن فضل راہی کو محض اس بات پر اسپیکر نے اسمبلی سے بے دخل کر دیا تھا کہ انہوں نے اپنی تقریر پنجابی میں کرنے کی جسارت فرمائی تھی۔
اگرچہ علاقائی زبانوں کو علمی، سیاسی اور پیشہ ورانہ ابلاغ کی زبانیں بنانے کی سبھی کوششیں اب تک صرف انفرادی یا معمولی ادارہ جاتی سطحوں پر ہوئی ہیں، لیکن ان سبھی ادبی یا لسانیاتی کوششوں کی روشنی میں اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ہماری مقامی زبانوں میں ایک جدید قوم کی زبانیں بننے کی پوری استعداد ہے۔ دوسری طرف اعلی سطحی اور وفاقی سطح پر اردو کے نفاذ کا نصف صدی پر محیط تجربہ کسی بھی طور پر انگریزی کے غیر ضروری استعمال کو پچھاڑنے میں ناکام نظر آیا ہے۔ دفتری دستور العمل اور علمی کاموں کے لیے وضع کی گئی اردو لغات اور اصطلاحاتی نظام ابھی تک لائبریریوں سے نکل کر قومی زندگی کا حصہ نہیں بن سکے۔
سبھی پاکستانی لوگوں کی مادری شناخت کو تسلیم کرنا سیاسی و انتظامی مصلحت کا تقاضا بھی ہے اور وقت کی آواز بھی۔
اٹھارہویں ترمیم کے بعد ناراض اور غیر ناراض صوبے، سبھی اس قابل ہوتے نظر آ رہے ہیں کہ اپنے دیرینہ مطالبات اور مفادات حاصل کرنے کے لیے اپنے پارلیمانی نمائندوں پر جمہوری دباؤ ڈال سکیں۔ لیکن یہ نہایت بنیادی حقوق پانے کے لیے بھی عوامی سطح پر کسی قسم کی لہر مرکزی سیاسی دھارے میں نظر نہیں آ رہی۔ اب، جبکہ جمہوری ادارے اپنی اپنی پٹڑیوں پر جیسے تیسے پڑ چکے ہیں، ہماری ذمہ داری ہے کہ “کیا ہم آزاد ہیں” کے سالانہ مذاکروں کی سمت اور زاویے درست کریں۔ پاکستانی اپنے روزمرہ اور قومی سطح کے ابلاغ اور ثقافتی پہچان وضع کرنے میں زندہ اور ترقی یافتہ اقوام عالم سے سبق سیکھیں اور سن 71ء جیسے سانحوں کے لسانی محرکات پر غور و فکر کریں۔ ایسے میں سبھی پاکستانی لوگوں کی مادری شناخت کو تسلیم کرنا سیاسی و انتظامی مصلحت کا تقاضا بھی ہے اور وقت کی آواز بھی۔ کیونکہ اس کے بعد ہم نے اقوام متحدہ کے مطابق آئندہ چند سالوں میں معدوم ہو جانے والی ڈھائی ہزار زبانوں میں سے ستائیس پاکستانی زبانوں کو بچانے کے لیے بھی کچھ کرنا ہے، لیکن شرط ہے کہ ایسی نیک شگون خبروں کے کچھ آثار بھی تو نظر آئیں۔