<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>جدید ادب Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/%d8%ac%d8%af%db%8c%d8%af-%d8%a7%d8%af%d8%a8/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/جدید-ادب/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Sep 2024 11:04:36 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>جدید ادب Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/جدید-ادب/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>تین(نظم گو: احمد رضا احمدی، ترجمہ: مدثر عباس)</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%aa%db%8c%d9%86%d9%86%d8%b8%d9%85-%da%af%d9%88-%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%af-%d8%b1%d8%b6%d8%a7-%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%af%d8%8c-%d8%aa%d8%b1%d8%ac%d9%85%db%81-%d9%85%d8%af%d8%ab%d8%b1-%d8%b9%d8%a8/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%aa%db%8c%d9%86%d9%86%d8%b8%d9%85-%da%af%d9%88-%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%af-%d8%b1%d8%b6%d8%a7-%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%af%d8%8c-%d8%aa%d8%b1%d8%ac%d9%85%db%81-%d9%85%d8%af%d8%ab%d8%b1-%d8%b9%d8%a8/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[مدثر عباس]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Jul 2021 16:18:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[ایرانی ادب]]></category>
		<category><![CDATA[ایرانی شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[جدید ادب]]></category>
		<category><![CDATA[جدید فارسی شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[شاعری کے تراجم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=26628</guid>

					<description><![CDATA[<p>&#160; میں نے ہمیشہ تین لفظوں کے ساتھ زندگی گزاری ہے راستوں پر چلا ہوں بہت سے کھیل کھیلے ہیں درخت، پرندہ اور آسمان میں نے ہمیشہ دوسرے لفظوں کی آرزو کی ہے میں ماں سے کہتا تھا کہ بازار سے لفظ خرید لائیں مگر ان کے بیگ میں جگہ نہیں ہوتی تھی وہ کہتی [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%aa%db%8c%d9%86%d9%86%d8%b8%d9%85-%da%af%d9%88-%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%af-%d8%b1%d8%b6%d8%a7-%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%af%d8%8c-%d8%aa%d8%b1%d8%ac%d9%85%db%81-%d9%85%d8%af%d8%ab%d8%b1-%d8%b9%d8%a8/">تین(نظم گو: احمد رضا احمدی، ترجمہ: مدثر عباس)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2021/07/71172356_157242958716985_1290039576777195520_n.jpg"><img fetchpriority="high" decoding="async" class="aligncenter wp-image-26629 size-medium" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2021/07/71172356_157242958716985_1290039576777195520_n-300x292.jpg" alt width="300" height="292" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2021/07/71172356_157242958716985_1290039576777195520_n-300x292.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2021/07/71172356_157242958716985_1290039576777195520_n.jpg 530w" sizes="(max-width: 300px) 100vw, 300px"></a></p>
<p>&nbsp;</p>
<p>میں نے ہمیشہ تین لفظوں کے ساتھ<br>
زندگی گزاری ہے<br>
راستوں پر چلا ہوں<br>
بہت سے کھیل کھیلے ہیں<br>
درخت، پرندہ اور آسمان</p>
<p>میں نے ہمیشہ دوسرے لفظوں کی آرزو کی ہے<br>
میں ماں سے کہتا تھا کہ بازار سے لفظ خرید لائیں<br>
مگر ان کے بیگ میں جگہ نہیں ہوتی تھی<br>
وہ کہتی تھی<br>
“انہی تین لفظوں کے ساتھ زندگی گزارو<br>
آپس میں بات کرو<br>
مل کر فال نکالو”</p>
<p>کم الفاظ کا ہونا غربت نہیں ہے<br>
میں جانتا تھا کہ رنگین پنسل کا نہ ہونا کم الفاظ کی نسبت بڑی غربت ہے</p>
<p>جب میں درخت کے ساتھ ہوتا تھا تو پرندہ کہتا تھا<br>
” درخت کو سبز رنگ میں لکھو تا کہ میں اڑنے کی آرزو کر سکوں”<br>
مگر میں درخت صرف زرد پنسل کے ساتھ لکھ سکتا تھا<br>
کیوں کہ میرے پاس صرف زرد پنسل تھی<br>
زرد رنگ میں لکھے درخت میں پرندے نے خزاں کو دیکھا<br>
اور وہ ناراض ہو گیا</p>
<p>آج صبح میں نے ماں سے کہا کہ<br>
احمد رضا کے لئے رنگین پنسلیں خرید لائیں<br>
میری ماں ہنستے ہوئے بولی: تمہارے درد کی دوا صرف لفظ ہیں</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%aa%db%8c%d9%86%d9%86%d8%b8%d9%85-%da%af%d9%88-%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%af-%d8%b1%d8%b6%d8%a7-%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%af%d8%8c-%d8%aa%d8%b1%d8%ac%d9%85%db%81-%d9%85%d8%af%d8%ab%d8%b1-%d8%b9%d8%a8/">تین(نظم گو: احمد رضا احمدی، ترجمہ: مدثر عباس)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%aa%db%8c%d9%86%d9%86%d8%b8%d9%85-%da%af%d9%88-%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%af-%d8%b1%d8%b6%d8%a7-%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%af%d8%8c-%d8%aa%d8%b1%d8%ac%d9%85%db%81-%d9%85%d8%af%d8%ab%d8%b1-%d8%b9%d8%a8/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آوازوں والا کردار (دوسرا حصہ) — تالیف حیدر</title>
		<link>https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-2/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[تالیف حیدر]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 12 Apr 2020 10:10:23 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Taleef Haider]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[تالیف حیدر]]></category>
		<category><![CDATA[جدید ادب]]></category>
		<category><![CDATA[طویل کہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24918</guid>

					<description><![CDATA[<p>تالیف حیدر: جب سے اس چمنی میں اس کی نوکری لگی تھی وہ شہر کو کچھ بدلا ہوا محسوس کر رہا تھا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-2/">آوازوں والا کردار (دوسرا حصہ) — تالیف حیدر</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><strong>اس طویل کہانی کی <a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/awazon-wala-kirdar/">مزید اقساط</a> پڑھنے کے لیے کلک کریں۔ </strong><br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
آوازوں والا کردار:حصہ دوم<br>
اس کار خانے میں اس کے علاوہ بارہ لڑکے اور کام کرتے تھے، کچھ اس سے عمر میں بڑے تھے اور کچھ چھوٹے۔ اس نے کسی سے جان پہچان بڑھانے کی کوشش نہیں کی تھی، لیکن اتنا ضرور محسوس کیا تھا کہ زیادہ تر لڑکے ایک دوسرے سے انجان ہیں۔ شائد سب صرف شام کے اس لمحے کے لیے اپنا اپنا کام سر جھکا کر کرتے رہتے تھے جب مالک انہیں مزدوری عطا کرے۔ جب کئی دن کام کرتے ہوئے ہو گئے تو ایک نئے لڑکے نے جو اس کے بعد کار خانے میں داخل ہوا تھا اس سے پوچھا تھا کہ “مالک روز پیسے کیوں دیتا ہے۔” جس کے جواب میں وہ خاموش رہا۔ نہ اس نے کوئی جواب دیا اور نہ پوچھنے والے لڑکے نے دوبارہ پوچھا۔</p>
<p>اس کی توجہ کار خانے میں کام کرنے والے تمام لڑکوں کے مقابے میں مالک پر زیادہ تھی، نہ جانے کیوں وہ اپنے مالک میں ایک خاص کشش محسوس کرتا تھا۔ اسے لگتا کہ یہ شخص جو روز شام کو ہم لوگوں میں روپیہ بانٹتا ہے خود کتنے عالی شان طریقے سے زندگی گزارتا ہوگا۔ وہ جب اپنے ساٹھ رپیہ کے شاہانہ خرچ کے متعلق سوچتا جس میں اس کی مزدوری، سگریٹ، بیڑی، الم غلم سمیت سب آ جاتا تھا تو مالک کا کردار اسے اور زیادہ متاثر کن لگتا۔ جو شخص روز کے ہزار دو ہزار بانٹ دے وہ کم سے کم پانچ ہزار روزانہ تو کماتا ہی ہوگا۔ یہ خیال اسے مالک کا دیوانہ بنا دیتا۔وہ کوشش کرتا کہ اور محنت سے کام کرےتاکہ مالک کی خوشنودی حاصل ہو سکے، مگر مستقل کئی روز کی محنت کے باوجود اسے محسوس ہوا کہ مالک کا اپنے لڑکوں سے صرف اتنا رشتہ ہے کہ وہ صبح میں ان کے داخلے کا وقت لکھے سب پر ایک نظر ڈالے کون آیا اور کون نہیں اسے نوٹ کرے اور شام کو تنخواہ دے کر رخصت کر دے۔ کبھی جب وہ کام پر نہ جاتا تو دوسرے روز مالک صرف اتنا اور پوچھتا کہ ” کل کیوں نہیں آیا تھا۔” وہ بتاتا اور مالک مطمئن ہو جاتا۔پھر شام کو پیسے دیتا اور روز والا سوال دہراتا “کل کتنے بجے آئے گا۔” وہ جواب دیتا اور مالک اگلے کی طرف متوجہ ہو جاتا۔</p>
<p>ہفتے میں ایک دن جب اس کی چھٹی ہوتی تو وہ اپنی جیب میں تین چار سگرٹیں بھر کر ٹیلے پر چلا جاتا۔ شفاف سڑک کو گھور کر دیکھتا رہتا اور سگرٹوں کے کش لے لے کر مالک کے متعلق سوچنے لگتا۔ اس نے کام کے دوران کئی مرتبہ دیکھا تھا کہ اس کا ما لک جو گورے رنگ کا ایک گگدے بدن والا چھوٹے قد کا شخص تھا وہ رنگین شرٹ اور نیلی جینز میں کتنا خوب رو معلوم ہوتا تھا۔ وہ اپنے احباب سے بھی خوب ہنس ہنس کر باتیں کرتا، اس کے دوست جو اس چمنی کے قریب واقع کار خانوں کے مالکان تھے اکثر دو پہر میں کھانے کے وقت اس کے پاس آ جاتے اوروہ ان سے ہنس ہنس کر باتیں کرتا۔ کسی لڑکے کی طرف آنکھ بھی اٹھا کر نہیں دیکھا۔ اسے یہ بات بہت ناگوار گزرتی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کا ملک جس طرح اپنے احباب سے بات کرتا ہے اس سے بھی کرے اور وہ بھی بتائے کہ وہ شہر کے کس حصے سے یہاں آتا ہے اور وہاں کیسی کیسی عجیب و غریب چیزیں پائی جاتی ہیں۔ مگرایسا ہوا نہیں تھا اس نے ایک آدھ مرتبہ اپنی روز کی مقررہ رقم کو لینے سے انکار بھی کیا تھا تا کہ اس کا مالک اسے اپنے بقیہ لڑکوں سے مختلف سمجھے،مگر اس نے ڈانٹ کر اس کے ہاتھ پر پیسے رکھے اور روز کا سوال داغ دیا۔ اس نے وقت بتا یا اور چل دیا۔</p>
<p>جب سے اس چمنی میں اس کی نوکری لگی تھی وہ شہر کو کچھ بدلا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ حالاں کہ اس دوران چمنی تک جاتے ہوئے اسے دو بار سڑک کے کنارے وردی والوں نے روکا تھا اوراس کی تلاشی بھی لی تھی۔ مگر اسے یہ ایک معمولی واقعہ لگا تھا۔ اسے محسوس ہورہا تھا کہ اس نے دھیرے دھیرے چمنی میں کام کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس قابل بنا لیا ہے کہ اس کارخانے والی گلے سے آگے بڑ ھ سکے۔ چمنی کی ملازمت کے دوران چھٹی کے روز وہ شہر کے جنوبی علاقے سے سواری کر کے خربوزے والی گلی تک بھی گیا تھا جہاں۔ شہر کا سب سے بڑا بازار لگتا تھا۔ یہ شہر کا ایسا واحد بازار تھا جہاں امیر و غریب ہر طرح کے لوگوں کے آنے کی اجازت تھی۔ ورنہ شہر میں جب سے وردی والوں کا قبضہ ہوا تھا انہوں نے غریبوں اور امیروں کے بازار الگ کروا دیے تھے تاکہ انہیں یہ شناخت کرنے میں آسانی ہو کہ شہر میں کن لوگوں کے پاس روپیہ ہے۔ غریبوں کے بازار کی اشیا نہایت خراب کوالٹی کی ہوتیں، جو متوسط طبقے کے لوگ بھی استعمال نہیں کر سکتے تھے۔ کپڑے سے لے کر کھانے تک ہر چیز تیسرے درجے کی تھی جو شہر والوں کے استعمال سے خارج ہو چکی تھی وہ یہاں پائی جاتی تھی۔ خربوزے والی گلی تک جانے والے غریب اس فرق سے اچھی طرح واقف تھے کہ شہر کے اصلی مالکوں سے کس طرح پیش آنا ہے۔</p>
<p><strong>(4)</strong></p>
<p>یہ گلی شہر کے شمال مغربی حصے میں تھی۔ اسے خربوزے والی گلی کیوں کہا جاتا تھا اس کا راز گلی کے اتیت میں کہیں دفن تھا اور لوگوں کو اتنی فرصت نہیں تھی کہ وہ ماضی کے پنّے پلٹ کر اس کی وجہ تسمیہ جاننے کی کوشش کرتے، یوں بھی گلی محلے کے ناموں کی تاریخ پہ اب لوگ کم ہی غور کرتے تھے۔ ان ناموں پہ زیادہ غور کیا جاتا تھا جو کسی طرح کا سیاسی فائدہ پہنچا سکتے ہوں۔ شہر کے اس حصے کو خربوزے والی گلی کہا ضرور جاتا تھا، لیکن یہ کوئی گلی نہ تھی بلکہ اسی سے سو فٹ چوڑا راستہ تھا جہاں مختلف اشیا کی دکانیں قطار اند قطار سجی ہوئی تھیں۔ خربوزہ یہاں صرف پھلوں کی دکانوں پر پایا جاتا تھا۔ یہ علاقہ وردی والوں کی نظر میں اس لیے بھی مشکوک نہ تھا کیوں کہ یہاں کی زیادہ تر دکانیں اس ملک کے مالکوں کی تھیں جن کے حکم سے شہر میں وردی والے داخل ہوئے تھے۔ وردی والوں کا رعب اس گلی کی سرحد کے اندر داخل ہوتے ہی کمزور پڑ جاتا تھا۔ یہ بازار خاصہ پرانا تھا تین طرف سے شہر کی شاہراہوں سے متصل اور ایک طرف شہر کا بیرونی راستہ۔ شہر کا ہرنیا تہذیبی رواج یہیں سے عام ہوتا تھا۔ کوئی بھی چیز جو مہنگے سے مہنگے اور سستے سے سستے داموں پر دوسرے شہروں سے یہاں آتی تھی بنا کسی مول بھاو کے بیچی جاتی۔ ہر شخص کو اپنی استطاعت کے مطابق اشیا خریدنے کی آزادی تھی۔ اس بازار کا سب سے بڑا عجوبہ یہاں کی رومال والوں کی دکانیں تھیں جہاں انسانی شکل کے رومالوں کی بھر مار تھی۔ کسی بھی شخص کی شکل کا کڑھا ہوا رومال یہاں دستیاب تھا۔ لوگ اپنی پسندیدہ شخصیات کے کڑھے ہوئے رومال درجنوں کی تعداد میں یہاں سے لے جایا کرتے تھے۔ یہ رومال نہ صرف اس شہر میں بلکہ دنیا کے مختلف شہروں میں یہاں سے منگوائے جاتے تھے۔ کسی شخص کو اگر اپنی شکل کا رومال کڑھوانا ہوتا تو وہ دس منٹ میں رومال کڑھوا لیتا۔ رومال کڑھائی کے درجنوں کار ی گر صبح سے شام تک رومال کی دکانوں کے درمیان لوگوں کی شکلوں والے رومال کاڑھتے اور بیس روپیہ فی رومال مزدوری لے کر خوشی سے جھوم اٹھتے۔ وردی والے بھی رومال کڑھائی کاریگروں سے اپنی شکلوں کے رومال کڑھواتے اور انہیں پوری قیمت ادا کرتے۔ اگر یہ کڑھائی والے شہر کے کسی اور علاقے میں پائے جاتے تو یقیناً انہیں وردی والوں کے لیے مفت میں یہ خدمت انجام دینا ہوتی، لیکن یہاں وہ وردی والوں سے پوری قیمت وصولتے تھے۔ رومال کے علاوہ اس بازار کا چاندی کازیور بھی پورے شہر میں مشہور تھا۔ چاندی کا اصلی زیور جس پہ چاہو تو سونے کے پانی کی قلعی بھی کروائی جا سکتی تھی۔ اس کام کے لیے دوسرے شہر سے لوگوں نے آ کر یہاں اپنا ڈیرہ جمایا تھا۔ مشرقی علاقوں کے شہر والے اس کام میں ماہر تھے جو اب خربوزے والی گلی کے سنار کہلاتے تھے۔</p>
<p>اس کا اس بازار میں آنے کا مقصد اپنی شکل کارومال کڑھوانا تھا اور ساتھ ہی وہ یہ جائزہ بھی لینا چاہتا تھا کہ اگر اس نے کارخانوں میں کام مانگنے والی ترکیب یہاں آزمائی تو اسے کس حد تک کامیابی مل سکتی ہے۔ بازار میں داخل ہونے کا شہر والا دروازہ بہت چوڑا تھا جہاں اندر داخل ہونے والوں کو اپنی اور اپنے سامان کی تلاشی کروانی ہوتی۔ اگر کسی کے پاس کوئی دھار دار چیز پائی جاتی خواہ وہ گلے میں لٹکی ہوئی چین سے جڑا ہوا چھوٹا دکھاوے کا خنجر ہی کیوں نہ ہو تو اسے جمع کروا لیا جاتا اور انہیں ایک ٹوکن دے دیا جاتا کہ واپسی پہ وہ ٹوکن دے کر اپنی چیز حاصل کر لیں۔ اس کے پاس ایسی کوئی چیز نہ تھی، وہ خالی ہاتھ آیا تھا۔ داخلے کے وقت جب اس کی تلاشی لی جا رہی تھی تو اس نے محسوس کیا کہ گذشتہ جتنی مرتبہ شہر میں اس کی تلاشی لی گئی ہے اس میں جو جبریہ رویہ پایا جاتا تھا وہ یہاں کے تلاشی لینے والوں میں نہ تھا۔ اس نے سکون سے اپنی جیبیں چیک کروائیں اور بازار میں داخل ہوگیا۔ شہر کے اندر آ کر وہ سیدھا رومالوں کی دکان کی طرف گیا اور ان میں ایک دکان کے سامنے پڑی پٹریوں پر بیٹھے کاری گر سے اپنی شکل کا رومال تیار کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ کاری گر خوشی خوشی اپنی جگہ سے اٹھا اور برابر میں رکھے ہوئے بستے میں سے دو تیلیاں نکال کر ایک سفید کپڑے پر رومال کڑھنے لگا۔ اس دوران وہ بڑی دلچسپی سے کبھی کڑھائی کو دیکھتا اور کبھی کڑھنائی کرنے والے کو۔ اگلے دس منٹ میں جب کڑھائی کاری گر نے اس کی تصویر رومال پر اتار کر رومال اس کے حوالے کیا تو وہ حیران رہ گیا۔ اس نے آج تک صرف ان کڑھنے والوں کا تذکرہ سنا تھا اور کچھ کڑھے ہوئے رومال دیکھے تھے۔ اسے لگتا تھا کہ یہ گھنٹوں کی محنت کا صلہ ہوگا کہ کسی شخص کی ہو بہو تصویر ایک کپڑے کے رومال پر اتار دی جائے۔ مگر دس منٹ کے وقفے میں اپنی نظروں کے سامنے خود کی تصویر کو رومال پر اترتا ہوا دیکھ کر اسے ایک انجانی خوشی کا احساس ہوا تھا جس میں حیرت کے آثار ملے جلے تھے۔ اس نے سوچا کہ یہ کتنا بڑا ہنر ہے کہ کسی کو دوچار مرتبہ دیکھا اور اس کی شکل کو رومال پر کڑھ دیا۔ اس کی قیمت صرف بیس روپیے تو ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ اس نے اپنی جیب سے چالیس روپے نکال کر اس کاری گر کو دیے تو اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ” اس کا صرف بیس روپیہ ہوتا ہے۔” اس پر اسے برا محسوس ہوا اور اس نے مالک کی طرح خفگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کاری گر کو چالیس روپے تھما دیے۔ کاری گر خوش بھی تھا اور حیران بھی۔جس سے نظریں ملا کر اسے پہلی بار مالک ہونے کا احساس ہوا۔ اس واقعے سے اس نے جانا کے کسی کو کچھ دینے کا سکھ بڑی سے بڑی چیز لینے سے ہزار گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اس احساس سے وہ پہلی بار دوچار ہوا تو اسے اپنے مالک پہ رشک آنے لگا جو اسے اور اس جیسے کتنے لڑکوں کو روز ساٹھ ساٹھ روپے دیا کرتا تھا۔</p>
<p>رومال کڑھوا کر وہ بازار کے دکانوں کے سامنے چکر لگانے لگا۔ مختلف اشیا کی دکانوں پر اسے روشنوں کے جھماکے نظر آئے جہا ں دن میں بھی مختلف سائزوں کے بجلی کے قمقمے روشن تھے۔کہیں اس میں سفید روشنی نکل رہی ہو تی اور کہیں پیلی۔ کانچ کی خوبصورت برتنوں، گھڑیوں، کپڑوں، الیکٹرانکس کی دکانیں جن میں صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے دکان دار اور ان کے ملازم موجود تھے۔ کئی دکانوں کے قریب سے گزرتے ہوئے اس میں اتنی ہمت بھی پیدا نہ ہو سکی کہ وہ ان میں داخل ہو کر کام مانگنے کی کوشش کرے۔ اسے اپنا ٹیلا یاد آیا جہاں دنیا جہان کے کچرے کا ڈھیر تھا وہا ں پہنچتے ہی اس کی خوداعتمادی کئی گنا بڑھ جاتی تھی۔ جہاں موجود لڑکوں سے وہ خود کو ہزار گنا بہتر سمجھتا تھا۔ مگر یہاں معاملہ بالکل الٹ تھا۔ یہاں اس کے منہ میں زبان لکڑی کی طرح سخت ہوگئی تھی۔ وہ دو چار کپڑے کی بنا شیشوں والے دروازے کی دکانوں پر رکا، مگر ان میں داخل ہو کر کام مانگنے کی جرات نہ کرسکا۔ اس نے سوچا کہ خربوزے والی گلی شائد ابھی اس کی پہنچ سے آگے کی دنیا ہے لہذ ا اسے اپنے مالک کی دنیا سے نکل کر کسی درمیانی دنیا میں جانا چاہیے جہاں سے وہ یہاں تک آنے کے آداب سیکھ سکے۔<br>
اس خیال کے بعد اسے خربوزے والے گلی میں رکنا بے سود معلوم ہونے لگا۔وہ وہاں سے نکلا اورداخلی دروازے سے اپنا سامان لیتا ہوا پیدل شہر کی سڑک پہ آ گیا۔ بازار کے سامنے کچھ عمارتیں تھیں جن پر نیلی تختیاں لگی ہوئی تھی اور مختلف زبانوں میں کچھ لکھا تھا۔ بڑی بڑی نئی طرز کی پرانی عمارتیں۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی سرکاری دفتر ہے جہاں حکومتی کام کاج آہستہ روی سے انجام دیا جاتا ہے تاکہ عمارت کی بوسیدگی مزید متاثر نہ ہو۔ عمارت گول چکر نما دائروں میں بنی ہوئی تھی جس کے گرد فٹ پاتھ تھا۔ وہ سڑک چھوڑکر اس فٹ پاتھ پر آگیا۔ شہر کی گلیوں میں گھومنا اسے یوں بھی پسند تھا لہذا بنا کسی مقصد کے وہ دیر تک ایک عمارت سے دوسری عمارت اور دوسری سے تیسری عمارت کی فٹ پاتھ پر چلتا رہا۔ کہیں کہیں پھلوں اور آئس کریموں کے ٹھیلے لگے دکھائی دیتے تو وہ رک کر کوئی پھل یا آئس کرئم خرید لیتا۔ الم غلم کھاتا ہوا وہ شہر کے جنوب کی جانب جا رہا تھا۔ مگر جنوبی حصہ یہاں سے خاصہ دور تھا۔ وہ چلتے چلتے ایک کالج کے سامنے سے گزرا تو چند خوبصورت لڑکیاں ہاتھوں میں کتابیں تھامے اس کےقریب سے گزریں۔ پھر کچھ لڑکے ۔ سب آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ وہ انہیں دیکھ کر خوش تھا۔ اس نے دیکھا کہ کالج کےگیٹ پہ کچھ لوگ جمع ہیں۔ ایک شخص چیخ چیخ کر بھیڑ سے کچھ کہہ رہا تھا۔ وہ تماشا دیکھنے آگے بڑھا تو آوازوں کا شور کچھ نزدیک آ گیا۔ جو لڑکا بھیڑ سے مخاطب تھا اس کی آواز میں اتنی کرختگی اور بھاری پن تھا کہ وہ اسے نئی معلوم ہوئی۔ اس نے آج سے پہلے ایسی آواز نہیں سنی تھی۔ اسے فوراً مجمعے کے نزدیک جانے کااپنا غلط فیصلہ لگنے لگا۔ وہ بھیڑ میں کھڑا ہو گیا اور اب چیختے ہوئے لڑکے کی آواز وہ صاف سن سکتا تھا۔ مگر وہ کیا کہہ رہا تھا اسے بالکل سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ زبا ن اس کے لیے اجنبی نہیں تھی مگر وہ جس موضوع پر بات کر رہا تھا وہ اس سے بالکل انجان تھا۔ اس نے محسوس کر لیا کہ یہ لڑکا کوئی سیاسی لیڈر ہے جو اپنے قریب کھڑے لوگوں کو جگانے کی کوشش کر رہا ہے یا پھر بڑھکانے کی۔ وہ اسے غصے میں دکھائی دے رہا تھا وہ بار بار ہاتھ اٹھا کر گیٹ کی طرف اشارہ کر تااور کچھ کہتا پھر ان چکردار حکومتی عمارتوں کی جانب اشارہ کرتا اور پھر کچھ کہتا۔ اس نے سمجھا کہ یہاں کسی پر ظلم ہوا ہے اور جو شخص چلا رہا ہے اس ظلم کو ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مگر تھوڑی ہی دیر میں وردی والوں کا ایک دستہ وہاں آن پہنچا۔ ان کے ہاتھوں میں لٹکی ہوئی بندوقیں دیکھ کر بھیڑ پوری طرح چھٹ گئی۔ وہ بھی راستے کی دوسری طرح گول چکر دار عمارتوں کی فٹ پاتھ پر آگیا۔ اب اس لڑکے کو پیٹا جا رہا تھا اور وہ اس پٹتے ہوئے عالم میں بھی چلا چلا کر پہلے کالج کے گیٹ کی طرف اشارہ کرتا اور پھر ان گول چکر دار عمارتوں کی جانب۔ وردی والے اسے کھنچتے ہوئے اپنی گاڑی تک لے گئے۔ اسے اس میں ڈالا اور گاڑی دوڑا دی۔ آخری بار اس کی نظر جب اس چیختے ہوئے لڑکے پر پڑی تو اس کے منہ سے ایک خون کی لکیر بہہ رہی تھی جس سے اس کی قمیض جگہ جگہ سے لال ہو گئی تھی۔ اس نے آسمان پر نظر ڈالی وہ بھی کہیں کہیں سے لال نظر آرہا تھا۔ اس نے سوچا کہ شام ہونے سے پہلے شہر کے جنوبی علاقے تک پہنچ جانا بہتر ہے ورنہ وردی والے سختی سے اس کی تلاشی لیں گے ۔یہ سوچ کر اس نے ایک سواری روکی اور اس پہ سوار ہو گیا۔</p>
<p>(جاری ہے)</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-2/">آوازوں والا کردار (دوسرا حصہ) — تالیف حیدر</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پیل دوج کی ٹھیکری (رفاقت حیات)</title>
		<link>https://laaltain.pk/pehl-dooj-ki-thekri/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/pehl-dooj-ki-thekri/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[رفاقت حیات]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 07 Jul 2019 08:51:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[mehwish iqbal]]></category>
		<category><![CDATA[Rafaqat Hayat]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[urdu short story]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[اردو فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[جدید ادب]]></category>
		<category><![CDATA[رفاقت حیات]]></category>
		<category><![CDATA[مہوش اقبال]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24734</guid>

					<description><![CDATA[<p>کتنے دنوں سے وہ روز خوابوں میں آجاتی ہے۔ رات کو نیند میں دن کو آرام کر تے ہوئے یا دوپہر کو قیلولے کے وقت۔ حتیٰ کہ جاگتے ہو ئے بھی ایسا لگتا ہے کہ میری آنکھیں اسے دیکھ رہی ہیں ۔ میرا جسم اس کی موجودگی کو محسوس کر رہا ہے۔ میں اس کی [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/pehl-dooj-ki-thekri/">پیل دوج کی ٹھیکری (رفاقت حیات)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>کتنے دنوں سے وہ روز خوابوں میں آجاتی ہے۔ رات کو نیند میں دن کو آرام کر تے ہوئے یا دوپہر کو قیلولے کے وقت۔ حتیٰ کہ جاگتے ہو ئے بھی ایسا لگتا ہے کہ میری آنکھیں اسے دیکھ رہی ہیں ۔ میرا جسم اس کی موجودگی کو محسوس کر رہا ہے۔ میں اس کی سرگوشیاں بھی سنتی ہوں۔ دھیمی، غمگین، مسرور۔ وہ ہر بار سرگوشیاں ہی کر تی ہے اور دھیمے قہقہے لگا تی ہے۔جیسے خوفزدہ ہو، کوئی سن نہ لے۔ میں اکثر خواہش کر تی ہوں کہ خوابوں میں تو وہ زور سے قہقہے لگا ئے، چیخ چیخ کر باتیں کرے اودھم مچائے۔</p>
<p>کل رات پھر اسے خواب میں دیکھا ۔سرخ لباس میں دلہن بنی ہوئی۔ گھونگھٹ کے نیچے آہیں بھرتی ہوئی۔ کوئی ڈھولک تھی نہ دف۔ کوئی قہقہہ تھا نہ کوئی ہنسی۔ بس نزدیک سے گزرتی ہوئی بوڑھیوں کی آوازیں تھیں۔ اسے دیکھ کر دعائیں دیتی ہوئیں اس کی بلائیں لیتی ہوئیں۔وہ بر آمدے میں بچھی رلی پر بیٹھی تھی۔ اس کے گرد لڑکیوں کا جمگھٹا تھا۔ وہ سب چپ چاپ تھیں، جیسے کسی سوچ میں ہوں۔ پھر وہ سر گوشیاں کر نے لگیں ان کی ہنسی کی بھنبھناہٹ ماحول پر چھانے لگی۔ وہ رات کا وقت تھا۔ شاید رخصتی سے پہلے کی رات۔ مسجدوں میں عشاء کی اذانیں تھم چکی تھیں لیکن وہ کون سی جگہ تھی۔ گھر نہیں وہ تو کھنڈر لگتا تھا۔ شاید چمگادڑوں کے پروں کی آوازیں بھی سنائی دی تھیں۔ کوئی سر پھری لڑکی ماہیاگانے لگی تھی۔ بول یاد نہیں رہے۔ بہت سریلی آواز تھی اس کی ۔اس نے اپنی گائیگی سے چپ کی چادر کو چاک کر دیا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے کبھی یہاں خاموشی تھی ہی نہیں۔ اس کی ہم جولیوں نے اسے روکا تھا۔ گانے سے منع کیا تھا ۔ پھر نہ جانے کہاں سے ابا آگئے تھے۔ ان کی آنکھیں سرخ تھیں۔ شاید ان کی نیند خراب ہو گئی تھی۔ ان کی دھونس کی باز گشت دیر تک میرے کانوں میں گونجتی رہی تھی۔ برآمدہ، صحن، کمرے اور دیواریں سب خاموش ہو گئے تھے۔</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>اب مجھے خواب یاد نہیں رہتے۔ اکثر گڈمڈ ہو جاتے ہیں۔ شاید کل والا خواب ادھورا تھا یا کوئی حصہ میں بھول گئی۔نہیں خواب ایسا تھا، پتہ نہیں۔ مجھے کیا ہو رہا ہے۔ نیند سے جاگتے ہی دل میں درد کی لہریں اٹھنے لگی ہیں، یہ ہم لوگ پوپھٹے ہی کیوں جاگ جاتے ہیں۔ وہ سب صحن میں ہیں۔ میں اکیلی یہاں پڑی ہوں ۔میں کیوں ہر وقت خواب کریدتی رہتی ہوں۔ رخصتی کی رات کیا ہوا تھا۔ کچھ نہیں۔کوئی خاص بات نہیں۔ یاد ہے مجھے سب۔خوب ڈھولک بجی تھی اور دف بھی۔ لڑکیاں تو چنچل ہوتی ہیں، بوڑھی عورتوں نے بھی مایئے اور پٹے گائے تھے۔ لڈی بھی ڈالی تھی۔ پھوپھو تو ابا کو کھینچ لائی تھیں۔ انہیں ڈھول گانا پسند تھا۔</p>
<p>خواب میں چیزیں کتنی بدل جاتی ہیں اس رات مجھے سونے کے لیے جگہ نہیں مل رہی تھی۔ نیند کی طلب میں سارا جسم اونگھ رہا تھا۔ کسی کی منت سماجت سے ایک کھاٹ مل گئی تھی۔ میں آنکھ میچتے ہی نیند کے غار میں گم ہو گئی تھی۔ پھر کوئی دھیرے سے میرے ساتھ لیٹ گیا تھا۔ واہمہ سمجھ کر میں نے خیال نہیں کیا لیکن وہ کوئی جیتا جاگتا انسانی جسم تھا۔ چپکے سے میری پشت سے چپک گیا۔ وہ جسم خوشبو سے اٹا تھا۔ میرے گرد بازوؤں کا حلقہ بنانے کی کوشش میں چوڑیاں کھنکی تھیں۔ کچھ ٹوٹ بھی گئیں ۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو نسرین نے دھیما سا قہقہہ لگا یا تھا ۔ میں نے خفگی سے ڈانٹا تھا لیکن وہ ہنستی رہی تھی۔</p>
<p>’’میں گھرسے ہمیشہ کے لیے اٹھنے والی ہوں اور آپ سو رہی ہیں۔‘‘ نیند کے بوجھل پن کے باوجود یہ فقرہ سن کر میں چونک گئی تھی۔ میں نے اس کے چہرے پر کچھ ٹٹولنا چاہا تھا مگر وہ میرے بالوں کی لٹیں ہٹارہی تھی اور کہہ رہی تھی۔ ’’شاید میں سو نہ سکوں اسی لیے لگ رہا تھا کہ وہ ابھی پھوٹ کر رودے گی، پھر مجھ سے لپٹ جائے گی لیکن وہ اس رات بالکل نہیں روئی۔ مسکراتی ہو ئی اپنے شوخ لہجے میں رات بھر باتیں کرتی رہی۔</p>
<p>یہ رنج ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا کہ اس رات نسرین کھلکھلا کر نہیں ہنسی۔ ان واقعات کو نہیں کر یدا جو ہماری مشتر کہ ملکیت تھے۔ میں اپنی آہوں کو چھپاتی رہی۔ ذہن میں بکھرے سوالوں کو پرے دھکیلتی رہی ۔ آنکھوں کی اداسی کو خوشی میں تبدیل کرتی رہی۔</p>
<p>اس کی زلفوں میں ہاتھ پھیر تی رہی جن کی ملائمت اور خوشبو مجھ سے بچھڑنے والی تھی۔ میں اس کے چہرے کی نر می کو اپنی انگلیوں کی پوروں میں بھر تی رہی تا کہ اس کے حسن کی یاد کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھ سکوں۔</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>امرود کے باغ کا واقعہ سن کر میں بھی بہت ہنسی تھی۔ ہم گوٹھ میں رہتے تھے۔ ایک دوپہر گھر کے سامنے سے اکتا کر ہم کسی کی اجازت کے بغیر کھیتوں کی طرف نکل گئے تھے۔ کپاس کے کھیتوں میں گھومتے ہو ئے ہم نے اپنے دوپٹے بہت سے پیلے اورسرخ پھولوں سے بھر لیے تھے۔ اس مشقت کی وجہ سے ہمیں پیاس لگ گئی تھی۔ گھر بہت دور تھا۔ میں نسرین کوبہلا کر چچا حاکم والے امرود کے باغوں کی طرف لے گئی تھی۔ کیوں کہ وہاں پانی کا نلکا بھی تھا اور سستا نے کے لیے جھونپڑی بھی۔ امرود کے باغوں کا رکھوالا اپنی سخت گیری کی وجہ سے مشہور تھا اس وقت وہ جھونپڑی میں سورہا تھا ۔ ہم نے آہستگی سے نلکے سے پانی پیا تھا اور ہاتھ منہ دھویا تھا۔ پھر ہم امرود کے باغوں کی طرف چلے گئے تھے۔ امرود کچے تھے لیکن پھر بھی ہم نے بہت سے توڑ لیے تھے اور بہت سے کھاکھا کر پھینک دیے تھے۔ شاید نسرین کسی بات پر زور زور سے ہنسنے لگی تھی۔ہنستے ہنستے امرود کے ذرے سانس کی نالی میں اٹک گئے تھے اور اس پر کھانسی کا دورہ پڑگیا تھا ۔ اسے دیکھ کر میں قہقہے لگا نے لگی تھی اور کچھ دیر بعد مجھے بھی کھانسی ہو گئی تھی۔ ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنستے اور کھانستے رہے تھے۔ حتیٰ کہ بے حال ہو کر زمین پر گر گئے تھے۔ واپسی پر نسرین نے سوئے ہوئے رکھوالے کو کچا امرود مار کر جگا دیا تھا ۔اور وہ ہمیں پکڑنے کے لیے پیچھے بھاگنے لگا تھا۔ ا س رات ہمارے پیٹ میں مروڑ اٹھے تھے اور ہم سو نہیں سکے تھے ۔ باغ کے رکھوالے نے ابا سے شکایت کر دی تھی۔ ڈانٹ کے علاوہ ہمیں مار بھی پڑی تھی۔</p>
<p>ہماری دادی کا مزاج بہت چڑ چڑا تھا ۔ بے ضررسی باتوں پر گالیاں دینے لگتی تھیں اور پتھر لے کے پیچھے دوڑ پر تی تھیں۔ ان سے چھیڑ خانی ہمیں لطف دیتی تھی۔ ایک بار میں انہیں نلکے پر نہلارہی تھی۔قریب ہی نیم کا چھدر اور درخت تھا۔ نسرین مٹی کے ڈھیلے اٹھائے درختوں کے پیچھے چھپ گئی تھی ۔ میں بھی سازش میں شریک تھی۔ اس لیے دادی کو نہیں بتایا۔ نسرین کا پہلا نشانہ چوک گیا۔</p>
<p>مگر دوسرا دادی کی لٹکی ہوئی چھاتی پر لگا اور وہ جگہ سیاہ پڑگئی تھی۔ دادی نے گالیوں کا طومار باندھ دیا تھا۔ میں نے اپنی ہنسی دبا رکھی تھی لیکن نسرین اپنے قہقہوں کو نہ روک سکی تھی۔ اس دن گھر والوں نے نسرین کو بہت پیٹا تھا۔</p>
<p>اس کے دھیمے لہجے کا رس اب بھی میرے کانوں میں موجود ہے۔ اس کی شدید ہنسی، مسکراہٹ مجھے یاد ہے۔ میں سوچتی ہوں اس رات وہ روئی کیوں نہیں۔ جو باتیں اسے کر نا تھیں، اس نے وہ بھی نہیں کیں۔ وہ صرف بچپن کی بے ریا با توں کو دہرا تی رہی تھی۔ وہ بار بار تاسف سے کہتی ’’اف باجی ! کتنے اچھے دن تھے وہ کتنی بے فکری ہو تی تھی۔‘‘</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>بے فکری جسے وقت چھین لیتا ہے۔ اس رات میں سوچتی رہی تھی ۔کچھ دن بعد وہ اپنے گھر کے لیے مہمان ہو جائے گی یہاں کی چیزوں سے اس کا تعلق ختم ہو جائے گا ۔پھر نئے تعلقات پیدا ہوں گے۔ وہ ان کی بھی عادی ہو جائے گی اور ان تکلیفوں اور مشکلوں کی بھی جو نئے گھر میں اس کی منتظر ہیں۔</p>
<p>رات بہت تھی۔ وہ مرے جسم کے ساتھ چپکی ہو ئی تھی۔پھر بھی مجھے ٹھنڈ محسوس ہو نے لگی تھی۔ اسی لیے نسرین کو چائے بنانے کی سوجھی تھی۔ میں نے روکا تھا ۔اگر کسی بزرگ کی آنکھ کھل گئی تو شور مچ جائے گا۔</p>
<p>اب مجھے خیال آتا ہے اگر وہ نصیر احمد سے ملاقاتوں کا حال مجھ سے کہہ دیتی توشادی کی رسومات میں اس کی شرکت ناممکن ہو جاتی ۔ شاید وہ رخصتی سے پہلے ہی کچھ کھالیتی ۔ یہ بات اکثر میری حیرت کو بڑھا دیتی ہے کہ شاید اسے معلوم تھا بلکہ یقین تھا کہ ایسا ہو جائے گا۔ اسی لیے اس نے اپنا دکھ کسی پر ظاہر نہیں کیا تھا۔ وہ سوچتی رہی تھی کہ ایسا ضرور ہو گا۔</p>
<p>چائے کی پیالی کے ساتھ وہ باورچی خانے سے ہیٹر بھی اٹھا لائی تھی۔ میں سونا چاہتی تھی مگر اس کی دل جوئی کے لیے بیٹھی رہی۔ ایک چسکی بھر تے ہو ئے اس نے پوچھا تھا ’’امجد بھائی دیکھنے میں تو اچھے نظر آتے تھے۔‘‘</p>
<p>’’وہ تو سب ہی نظر آتے ہیں۔‘‘ میں مضطرب ہو گئی تھی ’’لیکن وہ بہت اچھے آدمی تھے۔‘‘<br>
دو سال سے صائمہ کودیکھنے بھی نہیں آئے۔<br>
میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس موضوع پر بات کرے جب کہ اسے سب کچھ معلوم ہے ’’اب ان کے پاس دوسری صائمہ جو ہے۔‘‘<br>
’’تمہارے ساتھ کچھ نہیں ہو گا۔‘‘ میں نے جھوٹی تسلی دی تھی۔</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>شادی کی سب رسمیں نکاح اور رخصتی رواج کے مطابق ہوئی تھیں۔ کوئی بھی پھٹیک نہیں پڑی تھی۔ پھر خواب میں ان کا روپ کیوں بدل جاتا ہے ؟ انسانی شکلیں کیوں مسخ ہو جاتی ہیں ۔ کچھ دن پہلے خواب میں نکاح والے مولوی صاحب کو دیکھ کر میں کیوں ڈر گئی تھی۔ ان کی بڑی بڑی آنکھوں سے خون کیوں ٹپک رہا تھا؟ ان کے ہاتھ میں قلم کے بجائے تلوار کیوں تھی؟ ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ وہ نسرین کے سر پر وار کرنے ہی والے تھے کہ میری آنکھ کھل گئی تھی۔ ایسے خوفناک خوابوں کا ایک لمبا سلسلہ ہے جو میں نیند میں دیکھتی رہتی ہوں ۔ اب تو جاگتے میں بھی گردو پیش کی زندگی ایسی ہی نظر آنے لگی ہے۔</p>
<p>نکاح والے دن جب نسرین نے اماں سے کہا تھا کہ میں ریل سے سفر نہیں کروں گی۔ ڈر لگتا ہے ۔ان سے کہیں کہ دوسرا بندوبست کر وا دیں۔جب مجھے اس بات کا پتہ چلا تھا تو میں بہت ہنسی تھی۔ کتنی معصوم شرط ہے۔ میں نے اسے قائل کر نا چاہا تھا کہ ریل کا سفر آرام دہ ہو تا ہے مگر وہ ضد کی پکی تھی۔ ابا بھی دوڑے آئے تھے اور مجمع کے بیچ اسے برا بھلا کہنے لگے تھے۔ نسرین شاید پہلی بار ان کی دھونس میں نہیں آئی تھی۔ اس نے گھونگھٹ کو ہٹائے بغیر ان کی ہر بات کا جواب دیا تھا ۔ پھر اماں نے ابا کو راضی کر لیا تھا ۔ ریل کی سیٹیں منسوخ کروا دی گئیں اور ایک بس کا بندوبست ہو گیا تھا۔ اس نے زندگی بھر بس کا سفر نہیں کیا۔</p>
<p>گھر کی فضاؤں میں دکھ بھر گیا تھا۔ سب لوگ ایک دوسرے سے چھپ کر روتے رہے تھے۔ گھر کی مالکن جو چلی گئی تھی۔ سوگوار ی اس وقت بڑھ گئی جب کسی نے بس کے حادثے کی خبردی تھی ۔ گھر کے لوگ محلے والوں سے لپٹ کر بین کرنے لگے تھے۔</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>جب سے گھٹیا کا آزار میرے جسم سے چپکا ہے۔</p>
<p>سارا وقت لیٹ کر یا بیٹھ کر ہی گزارتی ہوں۔ جسم کے سارے جوڑا کڑ گئے ہیں ۔ جب تک کوئی اٹھانے والا نہ ہو، اٹھنا ممکن نہیں ہوتا ۔ آنکھ کھلنے کے بعد سے ایک ہی کروٹ سے لیٹی ہوں۔ ابا ریاض کے ساتھ مسجد گئے ہیں جبکہ اماں، فاطمہ اور صائمہ نماز پڑھ رہی ہیں۔ ریاض اور فاطمہ مجھے کھاٹ سے اٹھا کر صحن میں کرسی پر بٹھا دیتے ہیں۔ دھوپ آنے تک وہیں بیٹھی رہتی ہوں۔</p>
<p>ابا اور اماں کھاٹ پر بیٹھے چائے کا انتظار کر رہے ہیں۔ وقفے سے ابا کی افسردہ آنکھیں میری طرف اٹھتی ہیں ۔ میں نظریں جھکا لیتی ہوں یا کسی اور طرف دیکھنے لگتی ہوں ۔ میں نے کبھی ان کی آنکھوں میں نہیں جھانکا ۔چولہے پر چائے کا پانی چڑھا ہے۔ فاطمہ اور صائمہ سے سرگوشیوں میں چھیڑ خانی کر رہی ہوں۔</p>
<p>جب فاطمہ نے مجھے چائے کا پیالہ دیا تو میں نے اداسی سے اس کی طرف دیکھا۔ اس نے مسکرا کر نظریں جھکا لیں۔ میں سوچنے لگی۔ وقت کس طرح گزر جاتا ہے۔ فاطمہ اتنی بڑی ہو گئی کہ خانہ داری کے چھکڑے کو تنہا دھکیلنے لگی ۔ مجھے یاد ہے۔ شادی سے پہلے میں اسے نہلایا کر تی تھی۔ کپڑے پہناتی تھی اور بالوں میں کنگھی کر تی تھی۔ یہ اتنی ڈرپوک تھی کہ ڈانٹ سے پیشاب کر دیتی تھی اور جب روتی تو چپ کرانا ممکن نہیں ہو تا تھا۔ پرسوں فجر قضا ہو جانے پر جب ابا نے ڈانٹا تو وہ ہنسنے لگی تھی۔</p>
<p>میری بیٹی صائمہ مجھ سے لپٹ کر لاڈ کر تے ہو ئے بولی۔ ’’امی آج شام کو پڑوسیوں کی مہندی ہے۔ میں اور آنٹی فاطمہ جائیں گے۔ امی مجھے شادیوں میں جانا اچھا لگتا ہے۔‘‘ میں اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر تے ہو ئے مسکرانے لگی۔</p>
<p>اگر اس رات مجھے نیند آگئی ہو تی تو نسرین کے راز کا کبھی پتہ نہیں چلتا۔</p>
<p>وہ گندم کے پکنے کا موسم تھا۔ اسی لیے دن گرم ہو نے لگے تھے۔ راتیں خشک تو ہوتی تھیں مگر ہم لوگوں نے صحن میں سونا شروع کر دیا تھا۔<br>
رات کی ہوانے میری نیند کو بکھیر دیا تھا ۔ ٹھنڈ کے ہوتے میرا جسم تپنے لگتا تھا۔ پہلے تلوے، پھر ٹانگیں اور پھر سینہ اور ہونٹ۔ میں دیر تک ایک ہی کروٹ پڑی رہی تھی۔ پیاس لگ رہی تھی لیکن اٹھنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا ۔ذہن بھٹک رہا تھا ۔ایک سے دوسرے گھر تک ۔ پھر دوسرے سے پہلے تک۔ پہل دوج کی ٹھیکری کی طرح جسے پاؤں سے لڑھکا دیا جاتا ہے۔ ایک لہجے کے تیور مجھے یاد آجاتے تھے۔ پیار بھری باتیں، دعوؤں بھرے جملے اور جھاگ اڑاتی غلیظ گالیاں۔</p>
<p>جب کھاٹ کی ہلکی سی چر چراہٹ گو نجی، تو میں نے توجہ نہیں کی تھی، پھر کسی لباس کی سرسراہٹ اور زمین پر چلتے محتاط قدموں کی چاپ سنائی دی تھی۔ میں نے بوجھل نظروں سے ایک سائے کو دیکھا ۔ میں نے سوچا تھا کہ وہ گھڑونچی کی طرف جائے تو میں بھی پانی مانگ لوں گی لیکن وہ باورچی خانے کی طرف چلا گیا اور دیر تک لوٹا نہیں۔</p>
<p>میں حیران تھی کہ نہ ماچس جلی ۔ نہ بتی روشن ہو ئی اور نہ ہی سایہ باہر نکلا۔</p>
<p>چھت کے لیے سیڑھیاں باورچی خانے میں بنی تھیں، کہیں وہ ۔۔۔۔شاید میرے بے حرکت جسم میں کوئی جنبش نہیں ہوئی لیکن میری آنکھیں پاگل ہو گئی تھیں۔ اور صحن کی کھاٹوں سے ٹکرانے لگی تھیں۔ میری سماعت آوازوں کا تعاقب کر نے لگی تھی۔ ابا خراٹے لے رہے تھے، اماں کی سانسیں باہم الجھی ہوئی تھیں۔ ہوا کے جھکولوں کی سر سراہٹ تھی۔ کہیں دور کتے بھونک رہے تھے۔</p>
<p>دو دھیمے سے قہقہے سنتے ہی میری دھڑکن تیز ہو گئی۔ میں نے بمشکل کروٹ بدلی تھی۔ اب آسمان میرے مقابل تھا۔ چھوٹے بڑے تاروں سے اٹا آسمان، سنائی دینے والے قہقہوں نے میرے جسم پر بھی ستارے کھلا دیے تھے جس میں روشنی بھی تھی اور حرارت بھی۔ میں خود کو مسکرانے سے نہ روک سکی۔ میں نے آنکھیں پھیلا کر صحن کا جائزہ لیا۔ سب نیند میں غافل تھے۔ لیکن میری پور پور بیدار ہو گئی تھی۔ جی میں آیا پہرے دار بن جاؤں۔<br>
ہوا کی سرگوشیوں میں لپٹی نسرین کی آواز گونجی اور میرا جسم کسی یخ بستہ جھیل میں اتر نے لگا۔</p>
<p>میری سماعت کسی شور سے اٹ گئی اور آنکھوں کو اندھیرے میں روشنی سی نظر آنے لگی۔ اس لمحے میں نے سوچا تھا کہ اس حرا مزادی کو بالوں سے پکڑکر سیڑھیوں سے گھسیٹتے ہو ئے نیچے لے آؤں اور چیخ چیخ کر اس کے لچھن سب کو دکھاؤں ۔ لیکن میں لیٹی رہی ۔ دیر تک ان کی آواز نہ آئی۔<br>
میرا حلق سوکھ گیا تھا اور جسم جلتی ہو ئی لکڑی کی طرح چٹخنے لگا تھا۔</p>
<p>دو آوازوں کی بھنبھنا ہٹ سنائی دی۔ پھر مدہم قہقہے اور پھر سیڑھیاں اتر تے قدموں کی دھپ دھپ ۔وہ جب باورچی خانے سے نکل کر گھڑونچی کے پاس گئی تو اس کے تیز سانسوں کی آواز مجھے سنائی دی تھی۔ وہ پانی کے کٹورے غٹاغٹ چڑھاگئی تھی۔ پھر وہ کھاٹ پر آ بیٹھی اور میری طرف غور سے دیکھنے لگی۔</p>
<p>’’نسرین، پانی تو پلانا۔‘‘ میں بمشکل کہہ سکی تھی۔<br>
شاید وہ خوف کے گڑھے میں گری جا رہی ہو، اسی لیے پانی کا کٹورا تھماتے ہو ئے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔<br>
میں پانی پیتے ہی نڈھال ہو کر سو گئی تھی۔<br>
یہ ان کی آخری ملاقات تھی۔</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>میری یادداشت خراب ہونے لگی ہے۔ میں اصل واقعے کی جزئیات کو ذہن میں تازہ کر تی رہتی ہوں کہ وہ خوابوں سے گڈ مڈ نہ ہو جائیں۔ یہ عمل اذیت ناک ہے۔ سوچتے سوچتے اعصاب شل ہو جاتے ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ ساری یادیں ذہن سے محو ہو جائیں گی۔ صرف خوابوں کے ہیولے رہ جائیں گے۔ شاید حقیقت اور خواب ایک ہو جائیں۔</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>نصیر احمد ہمارے گاؤں کے مولوی صاحب کا بیٹا تھا۔ دسویں پاس کر کے وہ قصبے کے مدرسے میں عالم کو رس کر رہا تھا۔ وہ چھٹی کا دن گزارنے ہمارے پاس آجاتا تھا۔ ابا کو نصیر احمد سے ایک انسیت تھی۔ وہ پہروں اس کے ساتھ مسلم فاتحین کا ذکر کر تے رہتے تھے ۔ شرعی مسائل پر بھی گفتگو رہتی تھی۔ وہ گھر کے چھوٹے موٹے کام بھی کر دیتا تھا۔ مثلاً ٹال سے لکڑیاں لانا، چکی سے آٹا پسوانا وغیرہ ۔ گھر والے اس کے اتنے عادی ہو گئے تھے کہ بہت سے کام اس کی آمد تک ادھورے پڑے رہتے تھے۔ ابا کا حقہ گرم کر تے کرتے اسے بھی یہ لت پڑگئی تھی۔ وہ بہت جھینپوں تھا۔ اپنی نامکمل داڑھی کی وجہ سے مسخرہ نظر آتا تھا۔ ہر وقت سر پر ٹوپی اور کندھے پر رومال دھرا رہتا تھا۔ جیسے ابھی مسجد سے نماز پڑھ کے آیا ہو۔</p>
<p>عالم بنتے ہی وہ قصبہ چھوڑ گیا تھا ۔اسے دور دراز کسی قصبے میں امام کی نوکری مل گئی تھی۔ یہ شاید نسرین کی شادی سے دو مہینے پہلے کی بات ہے۔</p>
<p>شام کا وقت ہے۔ میں گلی کی آوازیں سن رہی ہوں ۔ صائمہ نئے کپڑے پہن کر صحن میں شور مچارہی ہے۔<br>
وہ میرے پاس آتی ہے ۔ میرے بالو ں میں ہاتھ پھیر تے ہو ئے کہتی ہے ’’امی، آپ بھی چلیں نا،بہت مزہ آئے گا، ڈھول بجائیں گے، گیت گائیں گے اور مٹھائی کھائیں گے۔‘‘</p>
<p>میں سوچنے لگتی ہوں کہ یہ کوئی خواب تو نہیں ہے نسرین بھی ایسی باتیں کرتی تھی۔<br>
Image: Mehwish Iqbal</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/pehl-dooj-ki-thekri/">پیل دوج کی ٹھیکری (رفاقت حیات)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/pehl-dooj-ki-thekri/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نعمت خانہ: تیسویں قسط (خالد جاوید)</title>
		<link>https://laaltain.pk/nemat-khana-ep-30/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/nemat-khana-ep-30/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[خالد جاوید]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 04 Jul 2019 16:46:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Khalid javed]]></category>
		<category><![CDATA[nemat khana]]></category>
		<category><![CDATA[urdu novel]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ناول]]></category>
		<category><![CDATA[جدید ادب]]></category>
		<category><![CDATA[جدید ناول]]></category>
		<category><![CDATA[خالد جاوید]]></category>
		<category><![CDATA[نعمت خانہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24714</guid>

					<description><![CDATA[<p>اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔ محمد ساجد یس سر عبدل معید یس سر شاہکار عالم وارثی یس سر انیل کمار سنگھ یس سر صابر علی صدیقی یس سر ہرش سچدیو ’’حفیظ الدین بابر‘‘ ’’یس سر۔‘‘ میں کھڑے ہوکر جواب دیتا ہوں۔ پروفیسر ایس پی یادو اپنی آنکھوں سے چشمہ اُتارتے [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/nemat-khana-ep-30/">نعمت خانہ: تیسویں قسط (خالد جاوید)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urduexcerpt">اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے <a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/nemat-khana/" target="_blank" rel="noopener noreferrer">کلک</a> کیجیے۔</div>
<p>محمد ساجد<br>
یس سر<br>
عبدل معید<br>
یس سر<br>
شاہکار عالم وارثی<br>
یس سر<br>
انیل کمار سنگھ<br>
یس سر<br>
صابر علی صدیقی<br>
یس سر<br>
ہرش سچدیو<br>
’’حفیظ الدین بابر‘‘<br>
’’یس سر۔‘‘ میں کھڑے ہوکر جواب دیتا ہوں۔</p>
<p>پروفیسر ایس پی یادو اپنی آنکھوں سے چشمہ اُتارتے ہیں۔ اُن کی دو لال لال ویران آنکھیں مجھے گھور رہی ہیں۔<br>
’’تمھارا نام حفیظ الدین بابر ہے۔‘‘ وہ مجھے غور سے دیکھ کر کہتے ہیں۔</p>
<p>’’جی۔‘‘<br>
’’والد کا نام۔‘‘<br>
’’ظہیر الدین بابر۔‘‘<br>
’’کیا کرتے ہیں؟‘‘<br>
’’جی، وہ اب اس دنیا میں نہیں۔‘‘<br>
’’اوہ مجھے افسوس ہے۔‘‘ پروفیسر یادو دوبارہ اپنی لال لال آنکھوں پر چشمہ لگا لیتے ہیں۔<br>
میں چاہوں بھی تو اس منظرسے میرا پیچھا کبھی نہیں چھوٹ سکتا۔ یہ مجھے یاد ہی رہتا ہے۔ ہمیشہ یاد، بلکہ اِسے یاد رہنا بھی کیسے کہا جائے؟<br>
کیا مجھے اپنا گُھٹنا، اپنا ناخن، اپنے کان کا میل یاد رہتا ہے؟مگر وہ ہیں میرے ساتھ۔ میرے جسم کے ساتھ، بالکل اسی طرح شہر میں۔ کالج کے پہلے دن کا یہ منظر میرے ذہن کے ساتھ ہے۔ بے وجہ اور — بغیر کسی مقصد کے ساتھ۔</p>
<p>یہ پالیٹیکل سائنس کی بی۔اے کی کلاس تھی۔ شہر کا یہ سب سے اچھا کالج تھا۔ اس کی عمارت لال رنگ کی اور گوتھک طرز کی بنی ہوئی تھی۔ یہ بہت قدیم کالج تھا اور کسی زمانے میں کلکتہ یونیورسٹی سے منسلک رہ چکا تھا۔ اس کالج کا ہوسٹل دور دور مشہور تھا۔ سچ بات تو یہ ہے کہ چند بڑی بڑی یونیورسٹیاں بھی اس کالج کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھیں۔ مجھے بہت آسانی سے ہوسٹل میں کمرہ الاٹ ہو گیا تھا۔</p>
<p>یہ بڑا شہر، ہمارے اُس قصبے نما چھوٹے سے شہر سے بہت دور نہ تھا۔ راستے میں صرف دو ندیاں پڑتی تھیں— ایک تو شہر چھوڑتے ہی قلعہ کی ندی اور دوسری، کچھ ا ٓگے جاکر رام گنگا۔</p>
<p>مگر یہاں آکر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں بہت دور آگیا ہوں۔ جیسے میرا گھر، بہت دور تھا۔ گزرے ہوئے واقعات مجھے اب ایسے بھیانک خواب کی طرح محسوس ہوتے تھے، جنہیں صبح کو جاگ جانے پر، ہنس کر بھلا دیا جائے۔</p>
<p>یہ کچھ قابل تعجب بات تھی۔ شہر آکر میں جیسے ایک ایسی آندھی کی زد میں تھا جو میرے آس پاس کی تمام اشیا یعنی وہ تمام یادیں جو میں اپنے گھر سے اپنے بدن پر چپکائے ہوئے لایا تھا، دھول کے پرُاسرار غبار میں اُڑاتی ہوئی بھیانک تیزی کے ساتھ، مجھ سے دور لے جارہی تھی۔<br>
اور حقیقت یہ ہے کہ مجھے کوئی افسوس بھی نہ تھا۔ شاید میرے لاشعور میں دبی ہوئی خواہش تھی کہ میں وہ سب بھول جائوں۔ وہ سب—؟</p>
<p>اور حقیقتاً، اُن دنوں، شہر میں نیا نیا اور کالج میں نیانیا میں تقریباً سب بہت بے رحمی کے ساتھ بھولنے لگا۔ کچھ دنوں بعد تو میں یہ بھی بھول گیا تھا کہ مجھے گھر پر گڈّو میاں کہا جاتا تھا۔ اب میں حفیظ الدین بابر تھا یا حفیظ الدین۔ یا پھر صرف حفیظ۔ مگر اب میں کسی کے لیے گڈّو میاں نہ تھا۔</p>
<p>یہاں آکر میرے دوستوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ میری شخصیت کا رُخ ہی بدل کر رہ گیا۔ میں چند ذہین لڑکوں کے گروپ میں شامل ہوگیا۔ کالج میں، لڑکیاں بھی ساتھ پڑھتی تھیں۔ اور لڑکوں کے ساتھ اُن کے معاشقے بھی چلتے تھے۔ مگر پابندیاں بہت تھیں۔ آج جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں (کیا واقعی لکھ رہاہوں؟) تو مجھے حیرت ہے کہ ساٹھ کی دہائی ہر لحاظ سے کتنی مختلف تھی اور زمانہ کسی قدر تیزی کے ساتھ بدلا ہے۔</p>
<p>مگر ٹھہریے! مجھے اپنی یادداشتیں اس طرح نہیں لکھنی چاہئیں۔ یہ تو محض بیان ہیں۔ اور بیان سے میرا کام نہیں چل سکتا۔ مجھے یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ میں اپنی سوانح وغیرہ نہیں لکھ رہا ہوں۔ میں تو دراصل کچھ عرض داشتیں، کچھ اپیلیں وغیرہ لکھ رہا ہوں۔ میرا مقصد تو اپنی عدالت کی تلاش ہے۔ اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اگر مجھے ڈھنگ کی ایک بھی سطر لکھنا آتی یا ایک تخلیقی جملہ بھی لکھ سکتا تو پھر تو میں ناول کا صدر دروازہ تیار کر ہی لیتا۔ پھر تو مجھے اور کہیں جانے کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔ میں اپنے ناول کے اندر ہی رہتا۔ میرا مقدمہ، میری عدالت، میرا انصاف اور میرا گھر سب ناول کے اندر رہتے۔ ناول چیز ہی ایسی ہے۔ بس آپ کو لکھنا آنا چاہئیے۔ اس کے بعد تو، سزا جزا، جنت، جہنم سب ناول کے اندر ہی مل جائیں گے۔</p>
<p>مگر ایک بار پھر افسوس اور صدہا افسوس کہ اس معاملے میں انتہائی بنجر واقع ہوا ہوں۔ اس لیے جو لکھ رہا ہوں، وہ ایک کے بعد ایک عرضیوں کی ڈھیریاں بنتی جارہی ہیں۔ عرض داشتوں کا پُلندہ لگتا جارہا ہے۔ مگر چونکہ ہر اپیل اور ہر عرض داشت میں کوئی نہ کوئی پہلو تو داخلی نوعیت کا ہوتا ہی ہے، بلکہ شاید سب سے زیادہ اہم اور فیصلہ کن پہلو تو لکھنے والے کی داخلی شخصیت ہی ہوتی ہے۔ قابل رحم انداز میں، بھیک کا کٹورا ہاتھ میں لیے کھڑے ہونے میں ہی ایک عظیم آرٹ پوشیدہ ہے۔ اس لیے میں ہر اُس بیان سے کترا رہاہوں جہاں میری اپنی ذات ایک فعال کردار نہ بن سکے۔ اور عرضیاں، اپیلیں سب میں الفاظ کی تعداد محدود ہوتی ہے۔ لفظوں کا پابند رہنا پڑتا ہے اگر لفظ زیادہ ہو جائیں یا بہت کم ہوں تو وہ کاغذ کے یہ ورق پھاڑ کر دھجّیاں دھجّیاں کرکے — تمھارے منھ پر مار دیتے ہیں اور تمھارے بس میں کچھ نہیںرہتا، سوائے اس کے کہ تم کاغذ کے ان چیتھڑوں کو فرش سے بین بین کر اُٹھائو اور خود ہی وہاں رکھے ایک بڑے اور منحوس کوڑے دان میں ڈال دو۔ اپنی عرض داشتوں کے ساتھ لگے ہوئے بیانِ حلفی اور اُن پر چسپاں ٹکٹ۔ لیجیے ایک ذرا سی غلطی پر سب گئے اُس کوڑے دان میں۔</p>
<p>وہ کوڑے دان تو اب ایک آرکائیو، ایک ریکارڈروم ہی بنتا جارہا ہے۔</p>
<p>اسی لیے میں غیر ضروری تفصیلات سے دامن بچانے پر مجبور ہوں۔ حالانکہ مجھے یہ احساس ہے کہ اس سے پہلے میں نے بے وجہ، غیر ضروری تفصیلات اوربے معنی جزئیات سے کام لیا ہے۔ مگر اتنے سنجیدہ قانونی معاملات میں، یہ شوقِ فضول بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کا احسا س بہرحال مجھے ہے۔<br>
بی۔اے میں میرے مضمون تھے معاشیات، سیاسیات، فلسفہ اور انگریزی ادب۔</p>
<p>میری ذہانت میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہاتھا۔ میں کسرِنفسی سے کام کیوں لُوں؟ اور وہ بھی اب جبکہ زندگی کی شام دُھند اور غبار میں لپٹی ہوئی سامنے ہی نظر آرہی ہے۔</p>
<p>میں اپنے — بی۔اے کے ساتھیوں سے بہت کم گفتگو کرتا، زیادہ تر ایم۔اے کے طلبا اور ریسرچ اسکالروں کے ساتھ ہی اُٹھتا بیٹھتا اور بحثیں کرتا۔</p>
<p>بحث، مباحثہ، کرنے کی تو بہت برُی لت پڑ گئی تھی مجھے۔ فلسفے میں منطق نے اس عادت کو اور بھی جلا بخشی تھی۔ حالانکہ فلسفے میں، میری دلچسپی اور مضامین کے مقابلے بہت کم تھی۔ کیونکہ سوائے مجرّد خیالات کے، وہاں کچھ تھا ہی نہیں، خاص طور پر مغربی فلسفہ تو بے ہنگم تصوّرات اور بچکانہ خیالات کے مجموعۂ اضداد کے علاوہ اور کچھ بھی نہ تھا۔</p>
<p>ہاں! مگر ہندوستانی فلسفے میں بعض باتیں اور بعض نکات ایسے تھے کہ جن پر ہمیشہ میں نے بہت سنجیدگی سے غور کیا۔ خاص طور پر روح اور جسم کے معاملات، حیات بعد الموت کے نظریات اور بہت سی چیزیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہندوستانی فلسفے میں نیائے درشن نے جو ترک شاستر پیش کیا ہے، ارسطو اُس کے عشر عشیر بھی کچھ نہ کر سکا۔</p>
<p>روح اور جسم کے باہمی رشتے اور تعلقات انسان کے لیے پوری طرح قابل فہم نہیں رہے۔ اس لئیے میری دلچسپی مجرّد خیالات میں نہ ہوکر، انسانوں میں رہی، میں دوسرے مضامین بہت لگن اور جی توڑ محنت سے پڑھتا رہا۔ اب جاسوسی ناولوں کا شوق بہت کم ہوگیا تھا۔ مگر روح اور جسم کا تعلق مجھے ہمیشہ ایک جاسوسی ناول کا پلاٹ محسوس ہوتا رہا اور اب — میں جو لکھ رہا ہوں، کاش کہ زمانۂ طالب علمی میں ہی اُسے سمجھ لیتا۔ ایک بار، پھر اُن سطروں کو لکھنے کو جی چاہ رہا ہے جو اِس سے پہلے بھی لِکھ چُکا ہوں۔</p>
<p>یہ دنیا ایک حقیر نقطے سے شروع ہوئی تھی۔ اب یہ کیسا شیطانی روپ اور حجم اختیار کر چکی ہے اوراس میں مرنے اور جینے کا سلسلہ چل رہا ہے۔ روح ایک ہوا کی مانند جسم کے اندر رہتی ہے۔ پھر ایک دن جسم کو چھوڑ کر ایک بے حد بے مروت اور خود غرض مہمان کی طرح وہاں سے چل دیتی ہے۔ اپنے اُس آبائی گھر کو چھوڑ کر جس میں اُس کا اتنا خیرمقدم کیا گیا۔ سر آنکھوں پر بٹھایا گیا۔ کتنی خاطر، کتنی تواضع کی گئی، کتنے ناز نخرے اُٹھائے گئے۔ مگر روح کی آنکھوں میں سور کے بال ہیں۔ وہ جسم کو چھوڑ کر اُسے زمانۂ گزشتہ کا واقعہ سمجھ کر رخصت ہوجاتی ہے۔ ایک دوسرے عالم کے لیے، شاید عالم لافانی کے لیے۔</p>
<p>مگر اُس کی روح ایسا نہیں کرے گی۔ وہ اپے میزبان کے گھر کو، بلکہ اپنے گھر کو نہیں بھولے گی۔ وہ عالم بالا کی طرف رُخ نہیں کرے گی، وہ اس دنیا سے، اس گھر سے، اپنے لوگوں سے رابطہ قائم رکھے گی۔</p>
<p>ممکن ہے کہ یہ اس کی روح کے لیے بڑی بدنامی کی اور ذلیل بات ہو جس کے لیے اُس پر لعنت ملامت کی جائے، جھاڑ پھونک کی جائے۔عاملوں کا سہارا لیا جائے، تعویذ اورگنڈے استعمال کیے جائیں۔</p>
<p>مگر اُس کی روح لعنت کے اس طوق کو، اپنی صلیب بناکر، اپنے گناہوں اور اپنے جرائم کواپنے غیر مرئی کاندھوں پر لاد کر، ادھر—یہیں جی ہاں، ادھر ہی بھٹکے گی۔ وہ کسی عالم لافانی کی طرف کوچ نہیں کرے گی۔ اِس کرب، بے چینی اور گھبراہٹ کو وہ اپنا دائمی مقدّر تسلیم کرے گی۔ اور ایک قندیل کی طرح ہوا میں اُڑتی بھٹکتی پھرے گی۔</p>
<p>روح اور جسم کے آپسی گٹھ بندھن نے ہی خوفِ مرگ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ دنیا جو ایک حقیرنقطے سے شروع ہوئی تھی، انسان کے لیے ایک معمہ بن کر رہ گئی۔</p>
<p>مگر اُس کے لیے یہ معمہ نہیں ہے۔ یہ کوئی سوال نہیں ہے، یہ محض ایک بے تُکے نقطے کا بے ہنگم انداز میںپھیلتے رہنا ہے، ایک مرض— ایک کینسر کی مانند۔</p>
<p>یہ دنیا جس میں انسان رہتے ہیں، بچّے رہتے ہیں اور ایک باورچی خانہ بھی اِسی نقطے میں چھپا رہتا ہے۔</p>
<p>ہاں، باورچی خانہ۔ ایک انتہائی — بھیانک اور خطرناک جگہ۔ اس شیطانی نقطے کو بڑھانے اور پھیلانے میں شاید سب سے زیادہ مدد اِسی باورچی خانے نام کے مقام نے کی ہے۔ یہی تو وہ جگہ تھی جہاںسے اُسے مستقبل کی تمام بدشگونیوں کی علامتیں اس طرح حاصل ہوتی تھیں، جیسے سرپر بارش ہورہی ہو۔</p>
<p>مگر یہ ’’اُس‘‘ کی کہانی ہے جو ابھی اپنے ’’میں‘‘ سے کٹ کر یا نکل کر باہر نہیں آیا۔ مگر یہ اُس ’’میں‘‘ کے صیغۂ غائب میں ایک حلفیہ بیان تو مانا ہی جاسکتا ہے۔ اور مناسب وقت آنے پر، اس کا جائز استعمال ہونے کے امکان سے بھی چشم پوشی نہیں کی جاسکتی۔ ابھی ’’اُس‘‘ کی کہانی سنانا یا بات سننا ذرا مشکل ہے۔ ابھی بڑا شور برپا ہے۔ ’’میں‘‘ نے بھیانک شور شرابا اور ہنگامہ برپا کرر کھا ہے۔ ابھی رُکی ہوئی ہوائوں اور سنّاٹوں کی آوازوں کو کوئی نہیں سن پائے گا۔ ابھی شور ہے، بہت شور</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/nemat-khana-ep-30/">نعمت خانہ: تیسویں قسط (خالد جاوید)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/nemat-khana-ep-30/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ہندسوں میں بٹی زندگی اور دیگر کہانیاں (محمد جمیل اختر)</title>
		<link>https://laaltain.pk/hindson-mein-bati-zindagi-and-other-stories/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/hindson-mein-bati-zindagi-and-other-stories/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد جمیل اختر]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 09 May 2019 18:08:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Banksy]]></category>
		<category><![CDATA[jameel akhtar]]></category>
		<category><![CDATA[Micro Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[micro fiction urdu]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu literature]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[جدید ادب]]></category>
		<category><![CDATA[مائکرو فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[محمد جمیل اختر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24555</guid>

					<description><![CDATA[<p>ہندسوں میں بٹی زندگی ’’ وارڈ نمبر چار کے بیڈ نمبر سات کی مریضہ کے ساتھ کون ہے ؟‘‘ ’’ جی میں ہوں” ’’مبارک ہو ، آپ کا بیٹا ہوا ہے‘‘ اُس لڑکے کو کمیٹی کے اُس سال کے رجسٹر میں تین ہزار بارہ نمبر پردرج کردیا گیاتھا۔ سکول میں وہ لڑکا ۸۰ اور ۹۰ [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/hindson-mein-bati-zindagi-and-other-stories/">ہندسوں میں بٹی زندگی اور دیگر کہانیاں (محمد جمیل اختر)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">ہندسوں میں بٹی زندگی</div>
<p>’’ وارڈ نمبر چار کے بیڈ نمبر سات کی مریضہ کے ساتھ کون ہے ؟‘‘<br>
’’ جی میں ہوں”<br>
’’مبارک ہو ، آپ کا بیٹا ہوا ہے‘‘</p>
<p>اُس لڑکے کو کمیٹی کے اُس سال کے رجسٹر میں تین ہزار بارہ نمبر پردرج کردیا گیاتھا۔</p>
<p>سکول میں وہ لڑکا ۸۰ اور ۹۰ نمبر لینے کی دوڑ میں لگا رہا، نوکری حاصل کی تو بے تحاشا کامیاب رہا اور قریبی لوگ اُسے اُس کی تنخواہ کی رقم ، موبائل نمبر، گاڑیوں اور بنگلوں کی تعداد سے جانتے تھے، وہ رقم کی گنتی کو بڑھانے کے لیے دن رات دوڑتا رہا حتٰی کے بوڑھا ہوکرہسپتال میں داخل ہوگیا۔۔۔</p>
<p>’’ وارڈ نمبر ۵ کے بیڈ نمبر چھ کے مریض کے ساتھ کون ہے؟‘‘<br>
’’ جی فرمائیے‘‘<br>
’’ سوری ہم نے بہت کوشش کی لیکن۔۔۔۔۔‘‘</p>
<p>گورکن نے پلاٹ نمبر چھ میں قبر نمبر پانچ سو بارہ تیار کرلی۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">اصل چہرہ</div>
<p>گزشتہ دس سال سے اُس نے اتنے چہرے تبدیل کئے تھے کہ وہ خود بھی تقریباً بھول گئی تھی کہ اُس کا اصل چہرہ کون سا ہے۔ ہر کچھ عرصہ بعد وہ اپنے چہرے سے اُکتا جاتی یا پھر اُس کے اِردگرد موجود لوگ ایسی صورت حال پیدا کردیتے کہ اُسے نئے ماحول میں ڈھلنے کے لیے اپنا چہرہ بدلنا پڑتا۔<br>
گھر کے ایک کونے میں جہاں وہ اپنے بچوں کو نہیں جانے دیتی تھی، مختلف طرح کے چہروں کا ڈھیر پڑا رہتا تھا، وہ گھر سے نکلنے سے پہلے جگہ اور لوگوں کی مناسبت سے چہرہ پہن لیتی۔<br>
لیکن اب پچھلے دو ماہ سے وہ جس نئی کمپنی میں کام کررہی تھی وہاں اُسے مسلسل ایک ہی مسکراہٹ بھرا چہرہ سجائے کاونٹر پر بیٹھنا پڑتا تھا۔۔۔<br>
اُس کی تنخواہ کم تھی اور مسائل زیادہ تھے وہ وہاں بیٹھے اپنے مسائل کے بارے سوچتی رہتی لیکن اُسے ہر آنے والے کسٹمر کو مسکرا کر خوش آمدید کہنا پڑتا تھا۔<br>
ایک روز جب وہ بے حد پریشان تھی ، اُس نے چہروں کے ڈھیر سے اپنا اصل چہرہ نکالا اور پہن کر دفتر آگئی۔۔۔</p>
<p>اُس دفتر میں یہ اُس کا آخری دن تھا۔۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">دو منظر</div>
<p><strong>پہلا منظر:</strong></p>
<p>یہ ایک کوڑا کرکٹ کا ڈھیر ہے اور چند بچے اِس میں سے اپنا رزق تلاش کر رہے ہیں۔ بچوں کے بال گردآلود ہیں اور مَیل کی وجہ سے موٹی رسیوں کی مانند ہوگئے ہیں۔<br>
تلاش کے دوران ایک بچے کو جوس کا پیکٹ مل جاتا ہے ، جس کے استعمال کی مدت ختم ہوچکی ہے لیکن وہ بچہ یہ بات نہ جانتا ہے اور نہ پڑھ سکتا ہے سو فوراً جوس پینے لگ جاتا ہے۔۔۔باقی بچے اُس کی اچھی قسمت پر رَشک کرتے ہیں اور سوچتے ہیں ، کاش اُن کی نظر پہلے اِس ڈبے پر پڑجاتی۔۔۔۔</p>
<p><strong>دوسرا منظر : </strong></p>
<p>یہ شہر کی سب سے اونچی بلڈنگ ہے جس کا افتتاح آج وزیر اعظم صاحب نے کیا ہے ، اُنہیں بلڈنگ کے مختلف حصے دکھائے گئے ۔ جدید طرز کے ہوٹلز ، ہسپتال ، سینما۔۔۔غرض کیا تھا جو اُس بلڈنگ کے اندر نہیں تھا۔۔۔<br>
اب وزیر اعظم صاحب بلڈنگ کی چھت پر موجود ہیں اور شہر کا جائزہ لے رہےہیں۔۔۔ دور دور تک بڑی عمارتوں نے شہر کو گھیر لیا ہے اور کچی آبادیوں کے ڈھیر آنکھ سے اوجھل ہوگئے ہیں۔۔۔۔<br>
” سب کس قدر خوش گوار ہے ” وزیر اعظم صاحب نے کہا<br>
اور ارد گرد سارے لوگ تالیاں بجانے لگ گئے۔۔۔۔</p>
<p>مجھے دوسرے منظر سے فوراً پہلے منظر کی طرف لوٹنا ہوگا دراصل وہ بچہ کہ جس نے جوس پیا تھا وہ پیٹ پکڑے درد سے کراہ رہا ہے لیکن اُس بستی میں کوئی ڈاکٹر نہیں ہے۔۔۔</p>
<p>دوسرے منظر میں پرتکلف کھانے کا آغاز ہوچکا ہے۔۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">گونگا وائلن نواز</div>
<p>اُس شخص سے اُس کی زبان چھین لی گئی تھی سووہ بول نہیں سکتا تھا، اُس نے ایک وائلن خریدا اور شہر کی گلی گلی میں بجاتا پھرتا،ایسا اُس نے روزی روٹی کمانے اور اپنا دل بہلانے کی خاطر کیاتھا تاکہ وہ اپنا ماضی بھول جائے لیکن اُس کے وائلن سے ہمیشہ دُکھی ساز نکلتے تھے۔ جب وہ گلیوں میں سازبجاتا ہواچلتا تو لوگ غمگین ہوجاتے۔شہر کے لوگ اُسے ’’غمگین نغمہ ساز‘‘ کہہ کر بلاتے تھے اور کہتے کہ اِس کے وائلن میں کوئی خاص پرزہ ہے جس کی وجہ سے اِس سے نکلنے والے ساز اِس قدر دُکھی ہوتے ہیں۔</p>
<p>بہت دفعہ لوگوں نے اُس سے وائلن لے کر خود بجانے کی کوشش کی لیکن عجیب بے ڈھنگی آوازیں ہی برآمدہواکرتی تھیں۔<br>
’’اِس قدر دکھی نغمے ہم نہیں سُن سکتے ، یہ آوازیں ہمارے بچوں کے لیے نقصان دہ ہیں ‘‘ لوگوں نے اُس کے خلاف شکایت درج کرادی اور پولیس اُسے پکڑ کر لے گئی۔</p>
<p>عدالت میں معزز جج نے اُس کا پرانا ریکارڈ پڑھا اور کہا’’اِس سے پہلے بھی تمہیں زیادہ بولنے کے جرم میں اپنی زبان سے محروم ہونا پڑاتھا لیکن پھر بھی تم باز نہیں آئے اور اب دکھی نغمے چھیڑنے لگ گئے ہو، تمہیں نقصِ امنِ عامہ کے جرم میں مذید سزا ملے گی‘‘</p>
<p>چونکہ اُس کی زبان نہیں تھی سووہ اپنے دفاع میں کچھ نہ کہہ سکا حالانکہ وہ کہنا چاہتا تھا کہ قید میں لگائے گئے قہقہوں سے آزادی میں بہتے آنسوزیادہ معتبر ہیں لیکن وہ نہ کہہ سکا اور اگر وہ کہہ بھی دیتا تووہاں سننے والے کان نہیں تھے۔<br>
عدالت نے اُس سے وائلن چھین لینے کا حکم دیا اور ایک سال کی قید بامشقت کی سزا سنائی۔<br>
جب وہ جیل سے رہا ہوا تو گلی گلی گھومتا اور لوگ اُس سے خوف کھاتے کہ اب کی باراُس کے ہاتھ میں وائلن نہیں تھا۔۔۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">بوجھ</div>
<p>وہ ایک کلرک تھا جو فائلوں میں گُم ہوگیا تھا۔۔۔ردی کاغذ کی فائلیں جن کے اندر ایک پورا آدمی گُم ہوگیا تھا اور یہ بات کلرک کی بجائے فائلوں کو معلوم تھی ۔وہ سارا دن دفتر میں فائلیں اُٹھائے پھرتا اور اُن میں سے چندایک گھر بھی اُٹھا کر لے آتا۔دن رات فائلیں اُٹھانے کی وجہ سے اُس کے کندھے جُھک گئے تھے ۔دراصل اُس پرفائلوں کے علاوہ اور بھی بہت سے بوجھ تھے جن کو اُتارنے کے لیے وہ دن رات فائلوں میں گُم رہتا۔</p>
<p>کلرک کی چاربیٹیاں تھیں اوراُس پر معاشرے کے رسم ورواج کابوجھ تھا۔۔۔ وہ اکثر رات کو سونے سے پہلے سوچتا تھا کہ وہ کتنی دیر روز اوورٹائم کام کرے تو چار دفعہ جہیز کا انتظام کرسکتا ہے۔۔۔جواب میں اُسے اگلے کئی سال دن رات فائلوں کے بوجھ تلے دبے رہنا تھا۔</p>
<p>ایک شام کلرک اپنے گھر آیا تو اُس کی بیوی صحن میں بیٹھی رو رہی تھی، ایسا رونا کہ جس میں آواز شامل نہیں تھی لیکن آنسوندی کی مانند بہہ رہے تھے۔<br>
کلرک کے پوچھنے پر بیوی نے ایک کاغذ اُس کے ہاتھ تھمادیا،یہ اُس کی بڑی بیٹی کا الوداعی خط تھااوراُس نے لکھا تھا کہ<br>
’’میں اِس دن رات کی غربت سے تنگ آگئی ہوں ، اوراپنی مرضی سے شادی کرکے جارہی ہوں ۔برائے مہربانی مجھے مت ڈھونڈیں‘‘</p>
<p>کلرک جو دن رات دس پندرہ فائلیں بغل میں لیے گھومتا تھا ، ایک کاغذ کے بوجھ تلے دبتا چلاگیا۔۔<br>
حتٰی کہ اُس کی بیوی نے دیکھا کہ وہ زمین سے صرف ایک فٹ اوپر رہ گیا تھا۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">بوتل میں قید آدمی</div>
<p>محبت میں ناکامی کے بعد اُس نے سوچا کہ وہ ایک بوتل بنائے گا۔<br>
سو وہ ایک عرصے تک بوتل بناتا رہا، لوگ پاس سے گُزرتے تو اُسے سمجھاتے کہ یہ پاگل پن ہے سو اُسے یہ کام ترک کر دینا چاہیے لیکن وہ لگاتار بوتل بناتا رہا۔۔۔۔۔<br>
کئی سال گزرگئے ، اب اُس کے سینے میں سانس چلتی تھی تو کھر ، کھر کی آواز آتی تھی ، بال بڑھ گئے تھے اور لوگوں نے اُس پر افسوس کرنا چھوڑ دیا تھا۔<br>
جب بوتل مکمل بن گئی تو اُس نے خود کو اُس میں قید کرلیا، اب وہ بوتل میں سما گیا تھا۔<br>
کتنے موسم گُزرے ، کئی بارشیں آئیں اور بہت سی مئی ، جون کی تپتی دوپہریں گزریں ، وہ بوتل نالی کے پاس بنے ایک دکان کے تھڑے کے ساتھ پڑی رہتی اور آہستہ آہستہ ہلتی رہتی۔<br>
پھر ایک دن بوتل نے ہلنا چھوڑ دیا اور لوگوں نے بوتل اُٹھا کر سمندر میں پھینک دی اور ناک پر رومال رکھے واپس آ گئے۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>شعبدہ گر</p>
<p>وہ ایک شعبدہ باز تھا , سرکس میں منہ سے آگ نکال کر دکھاتا تھا۔۔۔ لوگ خصوصاً بچے اُس کا کرتب دیکھ کر خوب تالیاں بجاتے۔۔۔ شہر شہر ، قریہ قریہ سرکس کا تماشا چلتا رہتا۔ وہ سٹیج پر ہاتھ میں جلتی ہوئی لکڑی اور پٹرول کی بوتل تھامے نمودار ہوتا ، وہ جتنی دور تک آگ نکالتا اُتنی ہی تالیوں کی گونج میں اضافہ ہوجاتا ، پہلے پہل جب وہ ایک لڑکا تھا ، تالیوں کا شور اُس کے اندر بہت ہوا بھردیتا تھا اور وہ اور زور لگا کر آگ نکالتا تھا لیکن پھر رفتہ رفتہ اُس کی عمر بڑھتی گئی اور اُسے تالیوں کی آواز سنائی نہ دیتی تھی حتٰی کہ اُسے سامنے بیٹھے لوگ بھی دکھائی نہیں دیتے تھے ، اُسے صرف اور صرف داد میں آنے والے پیسوں سے غرض تھی تاکہ وہ اپنے بچوں کے خواب پورے کرسکے۔۔۔</p>
<p>وہ جب گھر لوٹتا تو اُس کے بچے اور بیوی اُس کے منتظر ہوتے ،اُس کا خواب تھا کہ اُس کے بچے پڑھ لکھ جائیں تاکہ انہیں منہ سے آگ نہ نکالنی پڑے ، اُس نے بچوں کو اپنے آگ نکالنے کے سامان کو ہاتھ لگانے سے منع کر رکھا تھا۔۔</p>
<p>اِسی شعبدہ گر کا بیٹا جس سکول میں جاتا تھا ، ہر سال اول پوزیشن حاصل کرتا تھا لیکن کوئی اُسے داد نہ دیتا ، وہاں سب لوگ اُسے منہ سے آگ نکالنے کا کہتے کہ اُس کے والد سے وہ یہ کرتب دیکھ چکے تھے۔۔۔<br>
آخر ایک روز جب شعبدہ باز گھر سو رہا تھا ، اُس کا بیٹا لکڑی اور پٹرول کی بوتل لے کر دوستوں کے پاس پہنچ جاتا ہے کہ وہ آج اُنہیں منہ سے آگ نکال کر دکھانا چاہتا تھا۔۔<br>
لیکن آگ نکالتے ہوئے اُس کا بازو جل جاتا ہے ، شعبدہ گر پریشانی میں اپنے بچے کو ہسپتال لےکر جاتا ہے۔۔۔مرہم پٹی کے بعد ڈاکٹر ، شعبدہ گر سے پوچھتا ہے کہ وہ کیا کام کرتا ہے۔<br>
” جی میں سرکس میں کرتب دکھاتا ہوں ” شعبدہ گر نے جواب دیا<br>
” کون سا کرتب ؟” ڈاکٹر نے پوچھا<br>
” جی وہ ، وہ منہ سے آگ نکالتا ہوں ” وہ کچھ شرمندہ ہوکر بولا<br>
” اوہ اچھا ! تو آپ کے بچے نے آپ ہی سے یہ ہنر سیکھا ہے”</p>
<p>ڈاکٹر نے کہا اور ایسے میں وہ شعبدہ گر کی آنکھوں کے خواب نہ دیکھ سکا۔۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>تقسیم</p>
<p>یہ ایک بڑا ہال ہے جہاں ایک مشہور فلاحی ادارے کا سیمینار ہورہا ہے۔ سٹیج پر بیٹھے دانشوروں نے معاشرے میں دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم پر بہت عمدہ گفتگو کی۔ اُن میں سے کئی افراد بیرونِ ملک سے آئے تھے سو وہاں کی مثالیں بھی پیش کیں۔<br>
سلیم ہال میں موجود ایک ویٹر ہے ، اُسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ وقت کی قید میں آگیا ہے ۔ وقت جو اُس کے پیدا ہونے سے پہلے بھی تھا اور بعد میں بھی رہے گا ، درمیان میں وہ قید بامُشقت کاٹ رہا تھا۔<br>
معزز دانشور نے تقریر کے دوران سٹیج پر بیٹھے چاروں مقررین سے سوال کیا<br>
’’کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ کتنے دن آپ کام کریں تو ایک اچھی گاڑی خرید سکتے ہیں ؟‘‘<br>
’’چار ماہ‘‘ پہلے دانشور نے جواب دیا۔<br>
’’چھ ماہ‘‘ دوسرا دانشور بولا<br>
’’مجھے شاید ایک سال لگ جائے‘‘ تیسرا دانشور بولا<br>
’’میرا خیال ہے کہ مجھے ڈیڑھ سے دو سال لگیں گے کہ میں ایک اچھی گاڑی خرید سکوں ‘‘چوتھا دانشور تھوڑا شرمندہ ہوکربولا<br>
’’ تو سامعین دیکھا آپ نے کہ یہاں چاروں مقررین کے جواب کس قدر مختلف ہیں ، ہم نے اِسی غیر منصفانہ تقسیم کو ختم کرنے کے لیے آج کا اجلاس بلایا ہے‘‘ مقرر نے کہا.<br>
’’ کتنے دن تم بطور ویٹر کام کرو تو ایک گاڑی خرید لو گے؟‘‘ سلیم نے خود سے سوال کیا۔<br>
’’ دو زندگیاں اور کچھ مذید دن——” اندر سے ایک آواز آئی جواُس کے علاوہ ہال میں کسی نے نہ سُنی۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">الزام</div>
<p>یہ کمرہِ عدالت ہے جہاں ایک چوری کا مقدمہ زیرِسماعت ہے۔ بشیر پر گاڑی چوری کا الزام ہے۔<br>
مُعزز جج نے مقدمے کا فیصلہ سنانے سے پیشتر بشیر کو نصیحت کرتے ہوئے کہا۔<br>
’’اِس سے پہلے کہ میں تمہیں اِس چوری کی سزا سُناؤں ، تمہیں سمجھانا چاہتا ہوں کہ چوری ایک بُرا فعل ہے, اب نہ صرف تم سزا پاؤ گے بلکہ تمہارے گھر والے بھی اِس سزا کی وجہ سے مشکل دن گزاریں گے، تمہیں ضرور وہ کام کرنا چاہیے تھا جو تم چور بننے سے پہلے کیا کرتے تھے۔ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ تم چوربننے سے پہلے کیا کام کرتے تھے ؟‘‘<br>
’’جی میں چور بننے سے پہلے بھی چور تھا‘‘ بشیر نے گھبرا کر کہا۔<br>
اُس کا جواب سُن کر معززجج سمیت کمرہِ عدالت میں موجود بیشترافراد ہنس پڑتے ہیں۔<br>
’’چوربننے سے پہلے چور بھلا کیسے بنا جاسکتا ہے؟‘‘ جج نے سوال کیا۔<br>
’’ جی دیکھیں یہ آج مجھے دوسری دفعہ سزا ہونے والی ہے، کئی سال پہلے میں ایک اسٹورمیں مُلازم تھا جہاں پر ایک رات چوری ہوگئی تو اسٹور کے مالک نے شک کی بنیاد پر مجھے پولیس کے حوالے کردیا، پانچ سال بغیرجرم کے جیل کاٹنے کے بعد جب میں واپس آیا تومجھے معلوم ہوا کہ ساری دنیا مجھے چور ہی سمجھتی ہے حالانکہ میں چور نہیں تھا لیکن رفتہ رفتہ مجھے محسوس ہوا کہ میں چور بننے سے پہلے بھی چورہی تھا… کیا میں چور نہیں تھا جج صاحب؟”<br>
’’ ٹھیک ہے، ٹھیک ہے ہم فیصلے کی جانب آتے ہیں، دفعہ تین سو اکاسی (اے) کے مطابق عدالت مُلزم بشیر کو پانچ سال قید بامشقت کی سزا سُناتی ہے ‘‘ معزز جج نے فیصلہ سنایا اور پولیس والے چورکو دھکا مارکر کمرہ عدالت سے باہر لے جاتے ہیں ۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">ایک نابینا محبت کی سرگزشت</div>
<p>میں نورالعین ہوں لیکن میری آنکھوں کا نور ختم ہو چکا ہے، مجھے خود کو اندھا کہتے ہوئے جھرجھری سی آ جاتی ہے سو خود کو نابینا نہیں کہتی ۔مجھے ہر وقت سوچتے رہنے کا مرض لاحق ہے۔ اگر کسی انسان کا دماغ سوچ کے مرض میں مبتلا ہو تو کیا وہ پھر بھی اندھا کہلائے گا ؟ میرا نہیں خیال لیکن دنیا والوں کو میں نے خود کو اندھا کہنے سے کبھی روکا نہیں۔۔۔</p>
<p>میں نورالعین ہوں اور پارک میں ایک بنچ پر بیٹھی ہوں ، میں نے تین سال قبل دنیا کو اِسی پارک میں ایک بنچ پر ایک اور شخص کی آنکھوں سے دیکھنا شروع کیا تھا۔۔۔<br>
یہ بتاتے ہوئے میں کچھ شرما رہی ہوں لیکن اب اِس بات کو چھپانے کا کچھ خاص فائدہ بھی نہیں ، زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب باتوں کا بتانا اور چھپانا ایک برابر ہوجاتا ہے اور اس کہانی کے اختتام پر یقیناً آپ خود کو میرا ہم خیال پائیں گے۔۔۔</p>
<p>میں نورالعین جو اب اِس بنچ پر بیٹھی ہوں اور تین سال قبل دنیا کو ایک اور شخص کی آنکھوں سے دیکھنا شروع کیا تھا۔ وہ مجھے کہتا تھا دنیا کس قدر حسین ہے ، تتلیوں کے رنگ نیلے ، سبز اور سرخ ہیں اور بنچ کے ساتھ درخت کے اوپر چڑیا جو گارہی ہے ،اس کا رنگ سنہرا یاقوتی ہے۔<br>
پارک کے سبھی راستوں کے گرد گیندے کے بڑے بڑے پیلے پھول کھلے ہیں اور جب خزاں آتی ہے تو درخت سوکھ جاتے ہیں ، پھولوں کی پتیاں بکھر جاتی ہیں لیکن ان کی خوشبو محبت کرنے والوں کے دلوں کو معطر کیے رکھتی ہے اور سنہری چڑیا اپنا گیت گانے کسی اور دیس کو اڑ جاتی ہے۔۔۔<br>
میں نے یہ سب کچھ اُس شخص کی آنکھوں سے دیکھا اور یقین کر لیا۔۔۔</p>
<p>میں نورالعین نابینا کہ جس نے دنیا کو ایک ایسے شخص کی آنکھوں سے دیکھا تھا جو ابھی ابھی یہاں بنچ سے اٹھ کر گیا ہے اور میرے ہاتھوں میں موجود سنہری بالوں والی لڑکی کی تصویر اُسی کی دی ہوئی ہے ، اس تصویر کو میں نے اُسی کی آنکھوں سے دیکھا ہے ، یہ وہ لڑکی ہے جس سے اُسے محبت ہے اور آپ سب کی آنکھیں ہیں سو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میرے بال سنہری نہیں ہیں۔۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">رُکا ہوا آدمی</div>
<p>رُکا ہوا آدمی</p>
<p>’’آنکھیں اور کان بند کرو اور چھتری تان لو، بارش سے بچ جاؤ گے اور بجلی کی چمک تمہاری آنکھوں میں نہ پڑے گی، کانوں میں روئی ڈال لو کوئی آواز نہ سنائی دے گی‘‘<br>
’’تو پھر میں آگے کیسے بڑھوں گا؟‘‘<br>
’’ چھتری بارش سے بچاتی ہے‘‘<br>
’’ لیکن وہ آگے کا سفر؟‘‘<br>
’’بجلی کی چمک سے آنکھیں چندھیا سکتی ہیں سو بند ہی رکھو‘‘<br>
’’ لیکن وہ میں کہہ رہا تھا کہ سفر؟‘‘<br>
’’ کان بند رکھو اور کسی بات پر دھیان نہ دو‘‘<br>
’’لیکن پھر؟‘‘<br>
’’بس تم چھتری تانے ، آنکھیں اور کان بند کیے یہیں کھڑے رہو‘‘<br>
’’ اخبار لے لو ، اخبار‘‘<br>
” آج کی تازہ خبر پڑھنے کے لیے<br>
اخبار لے لو ، اخبار”<br>
’’اخبار والے رکو، کیا نئی خبر ہے ؟‘‘</p>
<p>’’ تمہیں کیا، تم تو رُکے ہوئے آدمی ہو‘‘<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
Imzge: Banksy</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/hindson-mein-bati-zindagi-and-other-stories/">ہندسوں میں بٹی زندگی اور دیگر کہانیاں (محمد جمیل اختر)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/hindson-mein-bati-zindagi-and-other-stories/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>“غزال اور بھیڑیے” کا تاثراتی جائزہ: ایک تخلیق تین جہتیں</title>
		<link>https://laaltain.pk/ghazaal-aurbherriay-tasuratijaiza/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/ghazaal-aurbherriay-tasuratijaiza/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[شین زاد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 09 Jun 2018 09:05:50 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Ali zeerak]]></category>
		<category><![CDATA[Sheen Zad]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[جدید ادب]]></category>
		<category><![CDATA[جدید اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[شین زاد]]></category>
		<category><![CDATA[علی زیرک]]></category>
		<category><![CDATA[کہانی آج کی]]></category>
		<category><![CDATA[کہانی میرے دور کی]]></category>
		<category><![CDATA[مائیکرو فکشن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23593</guid>

					<description><![CDATA[<p>شین زاد: ﺗﺨﻠﯿﻘﯽ ﭘﯿﺮﺍﺋﮯ ﮐﮯ ﭘﺮﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﻟﻐﺖ ﺳﮯ ﺑﺎﻻ ﺗﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺧﺬ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/ghazaal-aurbherriay-tasuratijaiza/">“غزال اور بھیڑیے” کا تاثراتی جائزہ: ایک تخلیق تین جہتیں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">شین زاد نے لالٹین قارئین کو اس دور کے فکشن سے روشناس کرنے کے لیے ایک ادبی سلسلہ “<a href="https://laaltain.pk/category/literature/kahani-mere-daur-ki/" target="_blank" rel="noopener">کہانی میرے دور کی</a>” شروع کیا ہے۔ اس سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<p>ﺍﯾﮏ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﺁﺷﮑﺎﺭ ﮨﮯ۔ ﻟﻔﻆ تب ﺗﮏ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻣﻌﻨﯽ ﺁﭖ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﻮﻟﺘﮯ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﭙﺮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ۔<br>
ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ <a href="https://laaltain.pk/author/ali-zeerak/" target="_blank" rel="noopener">ﻋﻠﯽ ﺯﯾﺮﮎ</a> ﮐﻮ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﻗﺮﯾﺐ آٹھ، دس ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻟﻔﻆ ﻭ ﻣﻌﻨﯽ ﺳﮯ ﻋﻠﯽ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﮐﺘﻨﺎ ﮔﮩﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺗﺼﻮﺭ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﻣﺤﺎﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻠﯽ ﻟﻔﻆ ﮐﮯ ﺯﺑﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﻨﻮﯼ ﺑﺮﺗﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﻧﺴﺘﮧ ﯾﺎ ﻏﯿﺮ ﺩﺍﻧﺴﺘﮧ ﻏﻠﻄﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ “ﻏﺰﺍﻝ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯿﮍﯾﮯ” ﺧﯿﺮ ﻭ ﺷﺮ ﮐﺎ ﺍﺳﺎﻃﯿﺮﯼ ﺑﯿﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺍﺋﺘﯽ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﮐﻮ ﺯﺑﺎﻥ ﻭ ﺑﯿﺎﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺁﺋﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﭘﺮﮐﮭﻨﮯ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺳﻌﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔</p>
<p>“ﻗﺮﻧﻮﮞ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﻮﺳﻮﮞ ﺩﻭﺭ ﮨﺮﮮ ﺑﮭﺮﮮ ﺟﻨﮕﻞ ﺳﮯ ﻟﻮﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﭘﮭﯿﻞ ﮐﺮ ﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﻥ ﺑﮭﺮ ﺍﻭﻧﮕﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻏﺰﺍﻝ ﮐﮯ ﻧﺘﮭﻨﻮﮞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﺳﮯ ﺳﺮ ﺟﮭﭩﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﻏﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﺸﯿﺪ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﻣﺘﺒﺮﮎ ﮐﺴﺘﻮﺭﯼ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﮮ ﻧﺎﻓﮯ ﭘﺮ ﻧﮕﺎہ ﮐﯽ”۔</p>
<p>ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺩﺭﺝ ﺑﺎﻻ ﺟﻤﻠﮯ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯﺟﻮ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﭼﺎﺷﻨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﻤﻮﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﮨﯽ ﻗﺎﺭﯼ ﺍﯾﮏ ﺳﺤﺮ ﮐﮯ ﺍﺛﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﭘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﻨﻮﯾﺖ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﻏﻮﻃﮧ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﯿﻦ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﻠﻮﮞ ﺩﻭﺭ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺮﮮ ﺑﮭﺮﮮ ﺟﻨﮕﻞ ﺳﮯ ﻟﻮﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺧوﺸﺒﻮ ﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﺮﻥ ﮐﯽ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﺳﮯ ﺟﮭﭩﮏ ﺩﯾﺎ ﮐﯿﻮﮞ؟</p>
<p>ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﻨﺖ ﮐﮯ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﺸﺒﻮ ﺳﮯ ﮐﺸﯿﺪ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﮐﺴﺘﻮﺭﯼ ﮐﺎ ﻧﺎﻓﮧ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻟﻮﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺧﺸﺒﻮ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺍﺏ ﺍﺱ ﺟﻤﻠﮯ ﮐﮯ ﻋﻼﻣﺘﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺳﮯ ﺟﺘﻨﯽ ﺟﮩﺘﯿﮟ ﺍﺧﺬ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮟ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﻣﺜﻼً ﺍﺳﮯ ﺗﻤﺪﻥ ﮐﯽ ﻣﺼﻨﻮﻋﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﻭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﻄﺮﺕ ﮐﮯ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺣﺴﻦ ﺳﮯ ﺟﻮﮌ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﻣﺼﻨﻮﻋﯽ ﺗﻤﺪﻧﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﯽ ﻓﻄﺮﺕِ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﮐﮯ ﺣﺴﻦ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﮐﯿﺎ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﮨﮯ؟ ﺩﮐﮭﺎﻭﮮ ﮐﮯ ﺍﻣﻦ ﻭ اﻣﺎﻥ ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﭼﺎﺭﮮ ﺗﮩﺰﯾﺒﯽ ﻭ ﺗﻤﺪﻧﯽ ﺭﮐﮫ ﺭﮐﮭﺎﺅ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﻣﻮﺍﺯﻧﮧ ﻓﻄﺮﺕِ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﮩﺎﮞ ﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻥ ﮐﺎ ﻏﺰﺍﻝ ﺳﺮﺷﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺳﺮ ﻣﺴﺖ۔</p>
<p>ﯾﮩﺎﮞ ﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻥ ﮐﺎ ﻏﺰﺍﻝ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮐﮯ طﻮر ﭘﺮ ﺍﺑﮭﺮﺍ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺳﺮﺍﺳﺮ ﺍﻣﻦ ﻭ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﻓﻼﺣﯽ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﺎ ﺩﺍﻋﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺮﮮ ﺑﮭﺮﮮ ﺟﻨﮕﻞ ﺟﯿﺴﯽ ﻣﺼﻨﻮﻋﯽ ﺗﻤﺪﻧﯽ ﻭ ﺗﮩﺰﯾﺒﯽ ﻟﻮﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺧﺸﺒﻮ ﺟﯿﺴﯽ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﻮ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻓﻄﺮﺕ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻣﯿﮟ ﺭﭼﯽ ﺑﺴﯽ ﮐﺴﺘﻮﺭﯼ ﮐﯽ ﺧﺸﺒﻮ ﺟﯿﺴﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﭘﺮ ﻧﺎﺯﺍﮞ ﮨﮯ‏۔</p>
<p>“ﻣﻐﻨﯽ ﮐﻬﯿﮟ ﺩﻭﺭ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﻫﺠﺮ ﮐﺎ ﺣﺎﻝ ﮔﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺩﻥ ﺑﮭﺮ ﺭﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﺑﮑﮯ ﭘﮍﮮ ﺣﺸﺮﺍﺕ ﺷﺎﻡ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﺑﺎﻫﺮ ﻧﮑﻞ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﺍﻭﺭ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﺳﺮﺍﮨﭧ ﭘﮭﯿﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ”</p>
<p>ﺩﺭﺝ ﺑﺎﻻ ﺳﻄﻮﺭ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺟﻮ ﻭﻗﺖ ﻭ ﺣﺎﻻﺕ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮨﯿﮟ ﻣﻐﻨﯽ ﮐﺎﺗﺐ ِ ﺗﻘﺪﯾﺮ ﮨﮯ ﺣﺸﺮﺍﺕ ﮐﺎ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﻨﺎ ﺳﺮﺳﺮﺍﮨﭧ ﭘﮭﯿﻠﻨﺎ ﺳﺐ ﻭﻗﺖ ﻭ ﺣﺎﻻﺕ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﺍﺷﺎﺭﮮ ﮨﯿﮟ۔</p>
<p>“ﺭﯾﺖ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﭨﯿﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺱ ﭘﺎﺭ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻧﺨﻠﺴﺘﺎﻥ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺳﺎﺭﺑﺎﻥ ﺍﻻﺅ ﻣﯿﮟ ﭼﺒﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﺎﺳﯽ ﻗﺼﮯ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺭﻫﮯ ﺗﮭﮯ”<br>
۔<br>
ﯾﮧ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﻨﻈﺮ ﻧﺎﻣﮧ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮨﮯ۔</p>
<p>“ﺍﻭﺭ ﻏﺰﺍﻝ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﻮﺍﮞ ﺑﺨﺖ ﻣﺴﺘﯽ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﮨﻤﮏ ﺭﻫﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﯾﮧ ﻭﮨﯽ ﻏﺰﺍﻝ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻓﺮﺯﺍﺩ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺎﮨﮑﺎﺭ ﻧﻈﻢ ﺍﻓﺮﯾﻨﺎ ﻟﮑﮭﯽ ﺗﮭﯽ”۔</p>
<p>ﻣﯿﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﺴﯽ ﺷﺎﻋﺮ ﺍﻭﺭ ﻧﻈﻢ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﻧﻈﻢ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺍﺳﺎﻃﯿﺮﯼ ﺭﻧﮓ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺏ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﻤﺎﻝ ﺑﮩﺖ ﻟﻄﻒ ﺁﯾﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﮔﻠﯽ ﺳﻄﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﯾﻮﻧﺎﻧﯽ ﺍﺳﻄﻮﺭﮦ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﺷﺎﺭﮮ ﻗﺪﯾﻢ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺣﺴﻦ ﮐﻮ ﺍﺟﺎﮔﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻣﮩﺰﺏ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﻤﺪﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻏﺰﺍﻝِ ﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻧﯽ ﺟﯿﺴﯽ ﺗﮭﯽ ﺣﺴﯿﻦ، ﺳﺮ ﻣﺴﺖ۔</p>
<p>ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻗﺼﮧ ﯾﻮﻧﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺳﻄﻮﺭﻩ ﮐﮯ ﮐﺮﺩﺍﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﻟﻔﺮﯾﺐ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺗﮭﺎ “۔<br>
ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ ﺑﮭﮍﮎ ﺍﭨﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻧﮧ ﺑﺪﻭﺵ ﮔﯿﻠﯽ ﻟﮑﮍﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﯿﺮ ﻫﻮﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ”۔<br>
ﺩﺭﺝ ﺑﺎﻻ ﺳﻄﺮ ﻧﺌﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﻟﮕﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻣﻦ ﻭ ﺷﺎﻧﺘﯽ ﺳﮑﻮﻥ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﭼﺎﺭﮦ ﮈﮬﻮﻧﮉﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﺘﻤﺪﻥ ﻣﮩﺰﺏ ﺩﻧﯿﺎ ﺁﮒ ﮐﯽ ﻟﭙﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔</p>
<p>“ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﺑﮭﯿﮍﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﻨﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﻘﺎ ﮐﺎ ﺁﺧﺮﯼ ﮔﯿﺖ ﮔﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﯿﺎ”۔<br>
ﯾﮩﺎﮞ ﺑﮭﯿﮍﯾﮯ ﻇﻠﻢ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩﯼ ﺷﺮ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﺑﮯ ﭼﯿﻨﯽ ﻇﺎﻟﻢ ﺳﺎﻣﺮﺍﺟﯽ ﻗﻮﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺑﮭﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺍﺏ ﺩﻧﯿﺎ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﻭ ﺑﺮﺑﺮﯾﺖ ﮐﺎ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﭘﮭﯿﻼ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔</p>
<p>“ﻏﺰﺍﻝ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻋﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﮔﯿﺘﻮﮞ ، ﻧﻈﻤﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻏﺰﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻫﻤﮑﺘﺎ ﻫﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯿﮍﯾﮯ ﻗﺼﻮﮞ ﮐﮩﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺮ ﮨﻮﮔﺌﮯ”</p>
<p>ﯾﮩﺎﮞ ﻏﺰﺍﻝ ﮐﮯ ﺷﺎﻋﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﮔﯿﺘﻮﮞ ﻧﻈﻤﻮﮞ ﻏﺰﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﮑﻨﮯ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﺍﺱ ﺣﺴﯿﻦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻗﺼﮧﺀ ﭘﺎﺭﯾﻨﮧ ﺑﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯿﮍﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﺼﻮﮞ ﮐﮩﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺩﻧﯿﺎ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﮐﮯ ﺭﺍﺝ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮨﮯ۔</p>
<p>ﻣﺼﻨﻒ ﺍﺱ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﮐﻮ ﻧﯿﺎ ﺑﺮﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﻧﺎﻗﺪﯾﻦ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﺳﮯ ﻟﻄﻒ ﮨﯽ ﻟﻄﻒ ﮐﺸﯿﺪ ﮐﯿﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﯽ ﺯﯾﺮﮎ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﮔﺰﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺑﺎﺩ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻓﻦ ﭘﺎﺭﮮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻗﻠﻢ ﺳﮯ ﺳﺮﺯﺩ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻗﻮﯼ ﺍﻣﯿﺪ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>ﮐﺴﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﮯ ﭘﺮﺕ ﮐﮭﻮﻟﻨﺎ ﺩﺭ ﺍﺻﻞ ﮐﺴﯽ ﻗﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﮨﻮﺗﺎ ہے ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻗﺎﺭﯼ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﭘﺘﺎ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮐﺲ ﺑﮭﺎﺅ ﺗﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻗﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﺳﮯ ﺧﻮﺩ ﻣﺼﻨﻒ ﮐﺎ ﯾﺎ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ﮐﺎ ﻣﺘﻔﻖ ﮨﻮﻧﺎ ﻻﺯﻣﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻗﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﺣﺘﻤﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﺗﺼﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﺧﻮﺩ ﻣﺼﻨﻒ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﻦ ﭘﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺭﺍﺋﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ﮐﻮ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔</p>
<p>“ﯾﮧ ﻣﺎﺋﯿﮑﺮﻭ ﻓﮑﺸﻦ ﮨﺮ ﮔﺰ ﮨﺮ ﮔﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ”<br>
ان ﮐﺎ ﯾﮧ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻨﻒ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺧﺪ ﻭ ﺧﺎﻝ ﺍﺑﮭﯽ ﻭﺍﺿﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﺣﺘﻤﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﻟﭩﮫ ﻣﺎﺭﻧﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﻭﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﻣﺴﻠﻂ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺑﺲ ﺭﺍﺋﮯ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺎﻧﮯ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺻﻮﺍﺑﺪﯾﺪ پر ﮨﮯ۔</p>
<p>ﻣﺎﺋﮑﺮﻭ ﻓﮑﺸﻦ ﮐﯿﺴﯽ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ؟<br>
اس سوال کا جواب ہے جیسی مغرب میں لکھی جا رہی ہے کیوں کہ یہ صنف بھی باقی بہت سی اصناف کی طرح مغرب سے درامد شدہ ہے اس لیے اسے بھی مغرب سے من و عن اٹھانے برتنے اور اپنانے میں کوئی مضائقہ نہیں بلکے ایسا کرنے سے وقت کی بچت ہو گی اور کسی قسم کے بے کار تجرباتی ادوار سے بھی نہیں گزرنا پڑے گا بلکہ لکھاری حضرات وہی وقت اس صنف میں اچھی اور معیاری تخلیقات پیش کرنے میں سرف کر سکیں گے۔<br>
ﻋﻠﯽ ﺯﯾﺮﮎ ﮐﯽ ﺩﺭﺝ ﺑﺎﻻ ﺗﺤﺮﯾﺮ مغربی مائکرو فکشن کے ﺳﺎﻧﭽﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﻓﭧ ﺑﯿﭩﮭﺘﯽ ﮨﮯ۔</p>
<p>ﯾﮧ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻦ ﺍﻟﺴﻄﻮﺭ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﮐﺎ ﺩﻓﺘﺮ ﭼﮭﭙﺎ ﮨﮯ ﺑﯿﻦ ﺍﻟﻤﺘﻦ ﮐﺌﯽ ﮐﮩﺎﻧﯿﺎﮞ ﻣﻮﺟﺰﻥ ﮨﯿﮟ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯿﮧ ﺍﺧﺘﺘﺎﻣﯿﮧ ﺍﻓﺴﺎﻧﻮﯼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻇﮩﺎﺭﯾﮧ ﻋﻼﻣﺘﯽ۔<br>
ﺍﺱ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺗﻔﮩﯿﻢ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺗﻔﮩﯿﻢ ﺗﺠﺮﺑﺎﺗﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﭘﯿﺶ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﺮﯼ مذکورہ مبصر ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺶِ ﻧﻈﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﯿﮕﭩﻮ ﮐﻮ ﭘﺎﺯﯾﭩﻮ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﻮ ان ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﺩﺏ ﻏﻠﻄﯽ ﮨﮯ۔</p>
<p>ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺗﺨﻠﯿﻘﯽ ﭘﯿﺮﺍﺋﮯ ﮐﮯ ﭘﺮﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﻟﻐﺖ ﺳﮯ ﺑﺎﻻ ﺗﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺧﺬ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﻟﻐﺖ ﮐﯽ ﻣﻌﻨﻮﯾﺖ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯽ ﺁﻓﺎﻗﯿﺖ ﮐﻮ ﭨﮭﯿﺲ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺧﯿﺮ ﺁﺋﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﭘﺲِ ﻣﺘﻦ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺟﺴﺖ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ۔<br>
ﺍﺏ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻔﮩﯿﻢ ﮐﺎ ﺭﺥ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺩﯾﮑﻬﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﺍﺧﺬ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔</p>
<p>ﻋﻼﻣﺘﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ:<br>
1۔ﻟﻮﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ۔<br>
ﺍﺱ ﻣﭩﯽ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﺎﺭﮦ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮐﺎ ﻇﮩﻮﺭ ﮨﻮا<br>
2۔ﻏﺰﺍﻝ<br>
ﺍﺑﻠﯿﺲ<br>
3۔ﻧﺎﻓﮧ<br>
شیطان ﮐﯽ ﺗﻔﻀﯿﻞ<br>
4۔ﺭﯾﮕﺴﺘﺎﻥ<br>
ﺩﻧﯿﺎ<br>
5۔ﻣﻐﻨﯽ<br>
ﺧﺪﺍ<br>
6۔ﺳﺎﺭﺑﺎﻥ<br>
ﻓﺮﺷﺘﮯ<br>
7۔ﺑﺎﺳﯽ ﻗﺼﮯ<br>
ﺗﮑﺮﺍﺭ ﻋﺒﺎﺩﺕ<br>
8۔ﺭﯾﺖ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﭨﯿﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺱ ﭘﺎﺭ<br>
ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺱ ﭘﺎﺭ<br>
9۔ﺧﺎﻧﮧ ﺑﺪﻭﺵ<br>
ﻭﮦ ﻣﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﺟﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﺎﭘﯿﺪ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮈﺍﺋﻨﺎ ﺳﻮﺭ ﻭﻏﯿﺮﮦ<br>
10۔ﺑﻬﯿﮍﯾﺌﮯ<br>
ﺍﻧﺴﺎﻥ</p>
<p>ﺍﻥ ﻣﺎﺧﻮﺫﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﮔﺮ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻋﻼﻣﺘﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺳﮯ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﺌﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﺿﻊ ﮨﻮﺗﯽ ۔ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﮍﯾﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺑﮭﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺍﻣﺮ ﮨﻮﻧﺎ ﭘﻮﺯﯾﭩﻮ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔</p>
<p>یعنی جب ابلیس جو اس کہانی میں غزال ہے کو علم ہوا کہ نبی صلعم کی تخلیق عمل میں لائی گئی ہے تو اس نے اپنی عبادات کستوری سے بھرا نافہ جس کی علامت کے طور پر ابھرا ہے کی طرف حقارت سے اپنا منہ پھیرلیا اسی تسلسل میں کہانی آگے بڑھائیں اور ایک اور معنوی جہت سے ملاقات کریں۔<br>
ﻧﻮﭦ: ﯾﮧ ﻣﻌﻨﻮﯼ ﺗﻔﮩﯿﻢ ﺑﮭﯽ ﺣﺘﻤﯽ ﻧﮩﯿﮟ<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
بے شک یہ بہترین تنقیدی انداز ہے کہ کسی کی بھی رائے کو مدلل انداز میں رد کیا جائے اور دلائل سے بات سمجھی سمجھائی جائے اب زرا آپ کے نکات کی طرف چلتے ہیں ابھی جواب لکھتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ میں اگر اس صوفیانہ نظریے سے (ابلیس نے آسمان پر کلمہ پڑھا تھا جو انسان کی تخلیق سے بھی پہلے آسمانوں میں درج تھا اور اس میں نبی صلعم کا زکر تھا) ہٹ کر اس کہانی کو آدم کی تخلیق سے جوڑ کر دیکھوں تو بات منطقی نظر آئے گی اسی وجہ سے میں اپنے درج بالا تجزیے کے کچھ حصہ سے رجوع کرتا ہوں یہ ایک سوال کی وجہ سے ہوا کہ میں ایک ایک علامت کو کھول کر دیکھوں اور تحریر کا ساختیاتی جائزہ لینے کی سعی کروں اب چلتے ہیں ایک بار پر اس کہانی کی طرف۔</p>
<p>“قرنوں پہلے کوسوں دور ہرے بھرے جنگل<br>
(وہ مقام جہاں آدم کی تخلیق ہوئی، اور اسے دنیا کی علامت کے طور پر بھی لیا جا سکتا ہے)<br>
سے لوبان کی خوشبو<br>
(اس مٹی کا استعارہ جس سے آدم کی تخلیق ہوئی)<br>
پھیل کر ریگستان<br>
(آسمان کا استعارہ)<br>
میں دن بھر<br>
(ابلیس کی گزشتہ عمر یا انسان کے تخلیق سے پہلے کا وقت)<br>
اونگھنے<br>
( عبادات کرنے)<br>
والے غزال<br>
(ابلیس)<br>
کے نتھنوں تک پہنچی تو اس نے حقارت سے سر جھٹکا اور<br>
جنت کے باغوں میں کھلنے والے پھولوں سے کشید کی گئی متبرک کستوری سے بھرے نافے پر نگاه کی<br>
(یہ آخری جملہ ابلیس کی تفضیل کی طرف اشارہ ہے کہ جب اسے پتہ چلا کہ زمین پر انسان کو مبعوث کیا جا رہا ہے تو اس نے تکبر کیا اور سوچا انسان مٹی سے بنا ہے اور میں آگ سے میں افضل ہوں انسان سے )<br>
۔ مغنی<br>
(خدا، خالق)<br>
کہیں دور بیٹھا ہجر کا حال گا رہا تھا<br>
(اس جملے کے کئی معانی ہو سکتے ہیں ہجر کا حال گانا کائنات کا نظام چلانے کے معنی میں بھی لیا جا سکتا ہے اور ہجر کے معنی کیوں کے دوری کے بھی ہیں اس لیے اس جملے کے معنی دور کی داستان سنانے دور کا قصہ سنانے پیشن گوائی کرنے کے معنی میں بھی لیا جا سکتا ہے جیسے اللہ نے فرشتوں سے کہا تھا تم وہ نہیں جانتے جو میں جانتا ہوں وغیرہ)<br>
دن بھر<br>
(یہ وہی زمانہ ہے جس کا زکر مصنف نے غزال کے ساتھ بھی کیا)<br>
ریت میں دبکے پڑے حشرات شام ہوتے ہی باہر نکل آئے تھے<br>
“شام ہوتے ہی” (یہ زمانہ بدلنے کی طرف اشارہ ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دن اب شام میں ڈھل چکا ہے یعنی زمانہ بدل چکا ہے اس جملے کا باقی حصہ میرے خیال میں کہانی میں بس رنگ پیدا کرنے کے لیے ہے)<br>
اور کی اور میں سرسراہٹ پھیل رہی تھی<br>
(ہر طرف تبدیلی آ رہی تھی )<br>
ریت کے بڑے ٹیلوں<br>
( باقی آسمانوں ،دوسرے آسمانوں) کے اس پار جہاں سے نخلستان<br>
(فرشتوں کا مقام ِ انہماک)<br>
شروع ہوتا تھا ، ساربان (فرشتے)<br>
الاؤ میں چبائے ہوئے باسی قصے<br>
(تکرار عبادات، ابلیس کی کل عبادات ) پھینک رهے تھے ۔ اور غزال<br>
(ابلیس)<br>
اپنی جواں بخت مستی کے سبب ہمک رہا تھا<br>
(ساربان سے بعد کا جملہ ظاہر کر رہا ہے کہ ایک طرف فرشتے ابلیس کی عبادات کو اس کے تکبر کے سبب آگ میں جھونک رہے تھے اور دوسری جانب ابلیس اپنے گھمنڈ غرور میں اوقات سے باہر ہوا جا رہا تھا)<br>
یہ وہی غزال تھا جس پر فرزاد نے اپنی شاہکار نظم افرینا لکھی تھی۔ اور جس کا قصہ یونانیوں کے اسطوره کے کرداروں سے بھی دلفریب اور مشہور تھا<br>
(درج بالا جملے میرے خیال سے کہانی میںصرف رنگ بھرنے کے لیے شامل کیئے گئے ہیں دوسری صورت میں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ قاری کو جھُل دینے اور بھٹکانے کے لیے یہ جملے یہاں شامل کیے گئے ہیں)<br>
جنگل<br>
(دنیا)<br>
میں آگ بھڑک اٹھی تھی اور خانہ بدوش<br>
(انسان کے دنیا میں آنے سے پہلے کی مخلوقات جیسے ڈائناسور وغیرہ)<br>
گیلی لکڑیوں کی تلاش<br>
(خوراک کی تلاش)<br>
میں ڈھیر هوچکے تھے<br>
(مر چکے تھے)<br>
اس رات<br>
(زمانہ بدلنے کا اشارہ بعثت کے وقت کا اشارہ)<br>
بھیڑیوں<br>
(انسانوں نے)<br>
نے ریگستان کی طرف منہ کر کے<br>
(آسمان کی طرف منہ)<br>
اپنی بقا کا آخری گیت گایا<br>
(یعنی انسانی زندگی کی ابتدا ہوئی)<br>
اور سارے میں دھواں پھیل گیا<br>
(دھواں پھیلنا زندگی چل پڑنے کی علامت کے طور پر لیا جا سکتا ہے)۔<br>
غزال آج بھی شاعروں کے گیتوں، نظموں اور غزلوں میں ہمکتا ہے<br>
(ابلیس آج بھی آزاد ہے اور اپنے گل کھلا رہا ہے اور اپنے تکبر کے سبب آج بھی وہ زندہ ہے)<br>
اور بھیڑیے قصوں کہانیوں میں امر ہوگئے۔<br>
(انسان فانی ہے اور قصوں کہانیوں میں رہ جانے والا ہے بس قصوں میں امر ہوتا ہے حقیقت میں اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے انسان کا وجود)</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/ghazaal-aurbherriay-tasuratijaiza/">“غزال اور بھیڑیے” کا تاثراتی جائزہ: ایک تخلیق تین جہتیں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/ghazaal-aurbherriay-tasuratijaiza/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>“اماں ھو مونکھے کاری کرے ماریندا” کا تاثراتی جائزہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/monkhay-kari-kray-marinda-tasurati-jaiza/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/monkhay-kari-kray-marinda-tasurati-jaiza/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[شین زاد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 26 Apr 2018 07:38:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[criticism]]></category>
		<category><![CDATA[Fariha Arshad]]></category>
		<category><![CDATA[Literary criticism]]></category>
		<category><![CDATA[Sheen Zad]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu literature]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[تنقید]]></category>
		<category><![CDATA[جدید ادب]]></category>
		<category><![CDATA[شین زاد]]></category>
		<category><![CDATA[فارحہ ارشد]]></category>
		<category><![CDATA[کہانی میرے دور کی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23432</guid>

					<description><![CDATA[<p>شین زاد: یہ کہانی صرف پسماندہ علاقے کی نہیں۔ تھر کی ہے جسی کی اپنی ثقافت ہے جس کی اپنی اقدار ہیں جس کی اپنی حدود ہیں تھر جہاں بیویاں شادی کے بعد تیس سال گزار دیتی ہیں لیکن اپنے خاوند کی موجودگی میں آنکھ اونچی نہیں کرتیں </p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/monkhay-kari-kray-marinda-tasurati-jaiza/">“اماں ھو مونکھے کاری کرے ماریندا” کا تاثراتی جائزہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">شین زاد نے لالٹین قارئین کو اس دور کے فکشن سے روشناس کرنے کے لیے ایک ادبی سلسلہ “<a href="https://laaltain.pk/category/literature/kahani-mere-daur-ki/" target="_blank" rel="noopener">کہانی میرے دور کی</a>” شروع کیا ہے۔ اس سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">تاثراتی جائزہ</div>
<p>مصنف جتنا کہنہ مشق اور تجربہ کار ہوتا ہے اس کی پکڑ بھی اتنی ہی سخت ہوتی ہے اور اس کی تخلیق کو اتنا ہی سخت شکنجے میں کس کر ناپا تولا اور پرکھا جاتا ہے۔</p>
<p>متن اساس تنقید کو اس سے ویسے تو بالکل بھی سرو کار نہیں ہوتا کہ مصنف کون ہے اس نے کیا کیا تخلیق کر رکھا ہے اور اسکا نام کتنا اونچا ہے اسے متن سے سر و کار ہوتا ہے میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ میں کسی بھی تخلیق کو مصنف سے جدا رکھ کر دیکھوں اور پرکھوں۔</p>
<p>یہاں ویسے تو یہ چلن عام ہے کہ دوستوں کے کمزور افسانوں کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اور ان کی تعریف میں آسمان کے قلابے ملا دیے جاتے ہیں اور جواب میں دوست بھی پھر خوب دوستیاں نبھاتے دکھائی دیتے ہیں اور احسان اتارتے نظر آتے ہیں خیر یہ ایک ضمنی بات تھی جو بالعموم ادب میں اور باالخصوص فیس بک پر دکھنے والے رویے کے بارے تھی۔</p>
<p>اب زرا چلتے ہیں مذکورہ تخلیق کی جانب</p>
<p>میں اپنی پوری ایمان داری برتتے ہوئے متن اساس تنقید کی ہی کوشش کروں گا اور مصنفہ کی ذات کو تخلیق سے جدا رکھ کر اپنا تجزیہ پیش کروں گا لیکن اس سے پہلے کچھ مصنفہ کے بارے میں محترمہ فارحہ ارشد کم و بیش بیس پچیس یا اس سے کچھ کم یا اوپر سالوں سے پاکستان کے مختلف ڈائجسٹوں میں لکھ رہی ہیں اور ڈائجسٹی لکھاریوں میں ایک بڑا نام اور اہم مقام رکھتی ہیں پچھلے قریب تین سالوں سے وہ فیس بک کے بہت سے فورمز پر بھی لکھ رہی ہیں اور ان کے “زمین زادہ” اور “حویلی مہر داد کی ملکہ” جیسے شاہکار افسانے بھی ہم نے پڑھ رکھے ہیں ان کے ایک اور افسانے کو پڑھتے ہوئے ان کے اس ہی معیار کی توقع رکھنا بے شک ان کے قاری کا حق ہے میں ان کے اس افسانہ پر انہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔</p>
<p>آئیں اب متن میں جھانکیں۔</p>
<p>میں ہمیشہ کہتا ہوں جب تک مصنف کا حسی تجربہ تخلیق کا حسی تجربہ بن کر نہیں ابھرتا تخلیق تحریر تو رہتی ہے فن پارہ نہیں بنتی ایسا ہی کچھ مذکورہ تحریر کا معاملہ بھی ہے۔</p>
<p>تھر جیسے پسماندہ علاقے میں بسنے والی چودہ پندرہ سال کی ایک لڑکی کی کہانی جو اول اول اپنے باپ کی زبانی ایک ڈاکٹر کا ذکر سن کر اسے اپنے من کا راجہ بنا بیٹھتی ہے اور پھر ایک مغالطے کی پاداش میں کاری کر دی جاتی ہے۔</p>
<p>میں اگر ایک جملے میں تخلیق کے مرکزی خیال کا احاطہ کروں تو وہ یہ ہو گا<br>
“معاشرہ اتنا پسمادہ نا خواندہ اور شدت پسند ہے کہ کسی کے تصور اور تخیل کو بھی بنیاد بنا کر اس کی جان لے لینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا”</p>
<p>بالکل درست ایسا ہی ہے لیکن اس بات کو فنی مہارت کے ساتھ تخلیق کا حصہ بنانا ہی ایک مشاق لکھاری کی مشاقی ہوتا ہے یہ تخلیق اپنی ابتداء سے ہی ایک مصنوعی تاثر لے کر ابھرتی ہے اور آخر تک وہ تاثر تخلیق کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔</p>
<p>“جانے کب اسے یہ لگنے لگا کہ کوئی اٹھتے، بیٹھتے، سوتے، جاگتے اس کے ساتھ سائے کی طرح جڑا رہتا ہے۔<br>
پانی بھرنے کے لئے مٹکا سر پہ رکھے وہ سہج سہج کر یوں زمیں پہ پاؤں دھرتی گویا انڈوں پہ چل رہی ہو<br>
من کے بھیتر کیا چل رہا تھا وہ تو خود بھی بڑی بے خبر تھی۔<br>
کنویں میں جھانکتی تو اپنا من اسے اس کنویں سے بھی کہیں گہرا لگنے لگتا۔</p>
<p>دانتوں پہ دانت جمائے سانس تک روک لیتی کہ من کی آواز سنے۔ جبڑے دُکھنے لگتے، سانس بند ہونے لگتی مگر کوئی آواز سنائی نہ دیتی۔<br>
سکھیاں سہیلیاں کیا کہہ رہی ہیں کس بات پہ دبے دبے قہقہے تھر کی کُھلی فضا میں گونجتے ہیں وہ بس گُم صم سی ان کی شکلیں دیکھنے لگتی۔<br>
چُنری کا گھونگھٹ اور گہرا کرتی۔ مٹکا بھر کے سر پہ رکھتی اور ریت میں قدم دھنسا کر آہستہ آہستہ چلنے لگتی۔”</p>
<p>اس ابتدائی پیرا گراف کا مطالعہ کریں تو ہمیں لگتا ہے یہ کسی وڈیرے کی پچیس سال کی خوبرو الہڑ بیٹی کا ذکر ہے جس کے ناز و انداز سے دوشیزگی اور دلبری ٹپک ٹپک پڑتی ہے لیکن کہانی کے درمیان میں جا کر کھلتا ہے کہ یہ کوئی پچیس سال کی بانکی ناری نہیں چودہ سال کی کم سن بچی کا ذکر ہے جس کا تعلق تھر جیسے پسماندہ علاقے کے ایک غریب گھرانے سے ہے۔</p>
<p>تھر جس کی زندگی پر میری نگاہ ایک تو اس لیے بہت گہری رہی کہ مجھے صحرا سے عشق ہے اور میں نے کچھ وقت وہاں گزارا ہے دوسرا تھر کے ایک بزرگ سے تعلق داری ہے جن کے توسط سے بھی تھر کو بہت قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا تھر میں شاید ہی ایسا کوئی غریب گھرانہ ہو جہاں تین وقت کی روٹی میسر ہو تھر کی عورتیں سخت جان اور کرخت مزاج ہوتی ہیں انہیں مردوں کے ساتھ برابر بلکہ شاید ان سے بھی زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اس لیے جس نازک ناری کا ذکر کہانی کی ابتداء میں کیا گیا ہے وہ کردار کسی تصوراتی تھر میں تو شاید بستا ہو حقیقت میں اس کے وجود کا تصور بھی محال ہے مرکزی کردار کا بنا گیا شخصی خاکہ کہانی کے پلاٹ سے میل نہیں کھاتا۔</p>
<p>“یہ کوئی بہت پرانا واقعہ نہیں تھا۔<br>
کچھ روز پہلے ابا نے ساتھ کے گاؤں کا واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ اردگرد کے گاؤں میں بچوں کی اموات کا ایک سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور آہستہ آہستہ سارے تھر میں پھیل رہا ہے۔ ایک تنظیم کسی بڑے شہر سے آئی ہے اور انہوں نے ساتھ والے گاؤں کے قریب ایک کیمپ لگایا ہے۔ وہ لوگ بچوں کی دیکھ بھال کے لئے بہت محنت کر رہے ہیں ان میں ڈاکٹر سانول مراد بھی ہے جو بہت تسلی سے بچوں کو دیکھتا اور انہیں دوا دیتا ہے۔ آرام نہ آنے کی صورت میں بچوں کو علاج کے لئے وہ ڈاکٹر اور اس کی تنظیم بڑے شہر کے ہسپتال لے جاتی ہے۔</p>
<p>بھائی کا بیٹا بیمار ہوا تو اسے بھی ڈاکٹر سانول کے کیمپ میں لے جایا گیا۔ کچھ روز کے بعد جب وہ صحتیاب ہو کر گھر آیا تو اٹھتے بیٹھتے سب کی زبان پہ ایک ہی نام تھا ڈاکٹر سانول مراد۔</p>
<p>داکٹر سانول مراد ایسا خوبرو جوان ہے۔ ڈاکٹر سانول مراد ایسے محبت سے بچوں کو دیکھتا ہے۔<br>
ڈاکٹر سانول مراد ایسے پہنتا ایسے باتیں کرتا ہے۔”<br>
درج بالا پیرا پڑھتے ہوئے شدت سے احساس ابھرتا ہے کہ ڈاکٹر سانول کا ذکر شامل کرنے کے لیے کس مصنوعی انداز میں یہ حصہ لکھا گیا ہے جو حقیقت میں اس پوری تخلیق کی بنیاد ہے لیکن اس حصے کی شدید مصنوعی فضا نے پوری تخلیق کو گہن لگا دیا اور تحریر ایک ڈائجسٹی کہانی بن کر رہ گئی<br>
اس کے بعد چودہ پندرہ سال کی تھر کی باسی اس کمسن لڑکی کے خوابوں خیالوں اور تصورات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو اس کردار کی بنت کو مزید کمزور بنا دیتا ہے جس سے تحریر بے جا طوالت کا بھی شکار ہو گئی ہے اور روائتی سطحی بھی ایسے خوابوں خیالوں اور تصورات کی داستانوں سے ڈائجسٹوں کے پیٹ بھرے پڑے ہیں دکھانا مقصود ہے کہ اس نے خیالوں میں ایک سانول کا کردار گھڑا ہے لیکن اس کا بیان اتنا روائیتی ہے کہ قاری سوچے بنا نہیں رہ پاتا کہ ادب کس رخ بڑھ رہا ہے اسے ادب کی تنزلی پر منتج نہ کیا جائے تو کیا کیا جائے آخر؟؟</p>
<p>رہی سہی کسر اس ٹکڑے نے پوری کر دی<br>
زرا دیکھیں کس غیر حقیقی اور مصنوعی انداز میں یہ حصہ تحریر کیا گیا ہے جس کے منطقی جواز کی کوئی صورت مجھے تحریر میں نہیں ملی<br>
“چارہ سر پہ اٹھائے باہر سے آئی تو بھائی کو مرغ کو مکھن کھلاتے دیکھ کر اس پہ پل پڑی۔<br>
یہ تُو کیا ہر وقت بے کار کی چیزوں میں پڑا رہتا ہے تیری بیوی، ماں اور بہن سارا دن کام میں جُتی رہتی ہیں اور تُو یہاں بیٹھ کر مرغ کو مکھن کھلا رہا ہے۔ بیوی تیری چوتھا بچہ جننے والی ہے اسے کھانے کو خشک روٹی مشکل سے ملتی ہے اور تُو یہاں میلے ملاکھڑے کے لیے مرغ کو مکھن کے نوالے کھلا کر تیار کر رہا ہے۔<br>
وہ بھائی کے ساتھ بیٹھے جمن اور شناور کو بھی ماتھے پہ سو بل ڈال کر غصے سے دیکھنے لگی۔”</p>
<p>کیا ایک چودہ پندرہ سال کی کم سن لڑکی خود سے پانچ آٹھ سال بڑے بھائی پر یوں پل پڑنے کی جرات کر سکتی ہے وہ بھی جہاں ایک طرف یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہو کہ عورت کتنی جکڑی ہوئی اور مجبور و لاچار ہے اور اپنی تکلیف پر بھی اف نہیں کر سکتی تھر جیسے علاقے میں تو چچا زاد تایا زاد کےلڑکی کی تنہائی میں گھر میں آ جانے پر بھی لڑکی کو کاری کر دیا جاتا ہے وہاں جمن کا بھائی کے سامنے اسے دبوچ لینا کتنا حقیقی یا مصنوعی ہے اس کا فیصلہ قاری خود کر سکتا ہے</p>
<p>“چل ری۔۔۔ دو ہتڑ لگاؤں گا۔ میرے سامنے ایک لفظ نہ بولنا۔<br>
اورہم مردوں کی یہ شان نہیں کہ گھر کے کام کریں تم عورتیں کس لیے ہو۔ اور بھرجائی تیری کو چوتھا بچہ جنوا رہا ہوں تو یہ بھی تو میری مردانگی ہے ”<br>
“۔ وہ آخری جملہ آہستہ سے کہہ کر جُمن اور شناور کے ہاتھ پہ ہاتھ مار کر ہنس دیا تو سُکھاں کے تو مانو تلووں میں لگی اور سر پہ جا بجھی۔ ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا لے کر اس کی طرف لپکی”<br>
کون سا بے غیرت بھائی ہے جو چودہ سال کی بہن کو غیر مردوں کے سامنے اپنی مردانگی کا پاٹ پڑھا رہا ہے اور اس پر اوباش لفنگوں کی طرح کزن کے ہاتھ پر ہاتھ مار رہا ہے<br>
” آ تیری مردانگی بتاؤں۔۔۔ ”<br>
اور کون سی چودہ سال کی بہن ہے جو جواب میں ڈنڈا لے کر بھائی کو مردانگی بتانے دوڑ کھڑی ہوئی ہے یہ کردار کسی الٹرا موڈ شہری سوسائٹی کے کسی مغرب زدہ گھرانے کے تو ہو سکتے ہیں تھر کے کسی غریب گھر کے نہیں کم سے کم مجھے یہ ماننے میں عار ہے۔<br>
“جمن نے اسے بھائی کی طرف بھاگتے دیکھ کر اسے پیچھے سے جا لیا۔ نرم نرم گداز بدن میں انگلیاں دھنس کر رہ گئیں<br>
” تُو تو چھوڑ۔۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک ناکارہ۔ ” وہ اس سے اپنا آپ پوری طاقت سے چھڑانے لگی مگر جمن کی بانہوں کا گھیرا بہت مضبوط تھا۔<br>
” تم سب ایک سے ناکارہ۔ اور ایک وہ سانول ہے۔۔۔۔ ”<br>
” اے ری کون سانول ؟۔۔۔۔ ” وہ اسے چھوڑ کر سینہ تان کر سامنے کھڑا ہوگیا<br>
کیا کوئی کسی غیر حقیقی تصوراتی کردار کا موازنہ کسی حقیقی شخص کے ساتھ یوں کر سکتا ہے کردار کی تحلیل ِ نفسی کریں تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ایک پسماندہ علاقے کی چودہ پندرہ سال کی کمسن لڑکی نارمل حالات میں ایسا نہیں کر سکتی کہ وہ کسی حقیقی شخص کے ساتھ یوں برملا کسی تصوراتی کردار کا موازنہ کرے اور اس کردار کا یوں بر ملا اظہار کرے وہ بھی ایک ایسے ماحول میں جہاں کاری کیے جانے کے واقعات عام ہوں اور کمسنی سے ہی لڑکیاں اپنی حدود و قیود جانتی ہوں۔</p>
<p>” جا جا تیرا کوئی کام نہیں۔ اور میرے منہ نہ لگنا اسی ڈنڈے سے تیرا پنجرچُورا بنا کے پھانک جاؤنگی ”<br>
درج بالا جملہ دیکھیں کیا تو تڑاخ ہے کیا اعتماد ہے واہ وہ بھی سندھ کے ایک دیہی علاقے کی ایک کم سن لڑکی کا<br>
مجھے ایسی نڈر لڑکی سے تو ملنے کا اشتیاق ہو چلا اب ساری لڑکیاں اتنی نڈر اور بے باک ہو جائیں یہ میری دعا ہے</p>
<p>لیکن یہ کیا آگے چل کر بکری کی طرح سب مان گئی یہ لڑکی اور اف تک نہیں کی یہ کیا تضاد ہے ایسی اعتماد والی لڑکی کو تو شادی سے ہی انکار کر دینا چاہیے تھا اور خوابوں کے سانول کے ساتھ بیاہی جانے کی ضد کرنی چاہیے تھی لیکن ایسا تو کچھ نہیں ہوا وہ باغی نڈر لڑکی شوہر کے ہاتھوں دھنکی جاتی رہی لیکن اس کے آگے بغاوت نہ کی۔ کاری ہو گئی لیکن جرگے کے سامنے آواز نہ اٹھائی اور دوسری طرف وہ ڈنڈا اٹھا کر بڑے بھائی پر پل پڑی اور ڈنڈے سے جمن کا پنجر چورا بنا کر پھانک جانے کی باتیں؟؟؟</p>
<p>اپنا تجزیہ آگے بڑھانے سے پہلے زرا عنوان کی طرف چلتے ہیں<br>
جیسا کہ تحریر کے آخر میں عنوان جو کے سندھی زبان میں ہے اور اس کا ترجمہ بھی درج ہے<br>
اگر اس ترجمہ کو درست مان لیا جائے تو پھر اصل عنوان کے الفاظ یہ ہونے چاہیں<br>
امان ھو مون کی کاری کری ماری چھڈیندا<br>
یا<br>
امان اُنھن مون کی کاری کری ماری چھڈیندو<br>
اور اگر عنوان کے الفاظ کو درست لیا جائے تو ترجمہ بنے گا<br>
اماں وہ مجھے کاری کر کے مارتا ہے<br>
میرے خیال میں اتنے تردد میں پڑنے کے بجائے اگر تحریر کا عنوان ترجمہ کو ہی کر لیا جاتا<br>
یعنی<br>
“اماں وہ مجھے کاری کر کے مار دیں گے”<br>
تو بہترین ہوتا<br>
اور زبان کا بگاڑ بھی نہ در آتا</p>
<p>ہر مبصر اور ناقد کا مشاہدہ بھی رائے دیتے ہوئے اتنا ہی گہرا ہونا چاہیے جتنا کہ تخلیق کار کا تخلیق کرتے ہوئے۔</p>
<p>یہ کہانی صرف پسماندہ علاقے کی نہیں۔ تھر کی ہے جسی کی اپنی ثقافت ہے جس کی اپنی اقدار ہیں جس کی اپنی حدود ہیں تھر جہاں بیویاں شادی کے بعد تیس سال گزار دیتی ہیں لیکن اپنے خاوند کی موجودگی میں آنکھ اونچی نہیں کرتیں بیٹیاں جوان ہو جائیں تو چچا تایا تو کجا باپ کے سامنے آنے سے بھی گریز برتنے لگتی ہیں اور بہنیں چھوٹے بھائیوں کے سامنے بھی اونچی آواز میں بات نہیں کرتیں بڑا بھائی تو دور کی بات۔</p>
<p>تھر میں کیوں کہ بے حد خشک سالی رہتی ہے اور تھر واسی خانہ بدوشوں جیسی زندگی بسر کرتے ہیں اس لیے ان کے رہن سہن اور بودو باش عام دیہی زندگی سے بہت مختلف ہوتی ہے۔</p>
<p>ایسے میں بھائی کا جوان بہن کو مردانگی کا پاٹ پڑھانا اور بہن کا ڈنڈا لے کر اس پر پل پڑنا کسی صورت ایڈجسٹ ایبل نہیں وہ بھی غیر مردوں کی موجودگی میں<br>
ایسا تو شہری غریب یا مڈل کلاس گھرانوں میں بھی ہونا بعید از قیاس ہے۔<br>
اور اس کا کوئی منطقی جواز نہیں<br>
ریئر کیسز میں شاید ایسا ہو لیکن افسانہ اجتماعی معاشرتی رویوں کا عکاس ہوتا ہے۔</p>
<p>قصے کی ابتدا میں ڈاکٹر سانول کا ذکر جس طرح کیا گیا ہے اور اس کا نام زبان زدِ عام و عوام دکھایا گیا ہے تو اتنے مشہور ڈاکٹر کے تصور سے لڑکی عشق کر بیٹھتی ہے لیکن جب وہ بھائی کے اور جمن کے سامنے سانول کا ذکر کرتی ہے تو حیرانگی کی بات ہے کہ ان کا دھیان گاؤں کی مہان اور مشہور ہستی ڈاکٹر سانول کی طرف نہیں جاتا جب کہ اتنی مشہور اور ایسی ہستی کا نام تو استعارہ بن کر گردش کرنے لگتا ہے چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں میں یہ بات بھی بڑی غیر منطقی لگی۔</p>
<p>اس کے بعد کا باقی سارا پلاٹ بھی مصنوعی اور فطری بہاؤ سے خالی سوچ سوچ کر لکھا ہوا ہے<br>
میری رائے میں یہ تحریر بارِ دگر لکھی جانے کی متقاضی ہے<br>
ہم نے مصنفہ کے اچھے افسانے بھی پڑھ رکھے ہیں اور امید ہے کہ وہ اس افسانے کو بھی وقت کے ساتھ پکا کر کچھ بہتر بنا لیں گی<br>
اس دعا کے ساتھ کہ مصنفہ کا قلم جاری و ساری رہے رد و قبول تسلیم<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">اماں ھو مونکھے کاری کرے ماریندا</div>
<p>جانے کب اسے یہ لگنے لگا کہ کوئی اٹھتے، بیٹھتے، سوتے، جاگتے اس کے ساتھ سائے کی طرح جڑا رہتا ہے۔<br>
پانی بھرنے کے لئے مٹکا سر پہ رکھے وہ سہج سہج کر یوں زمیں پہ پاؤں دھرتی گویا انڈوں پہ چل رہی ہو<br>
من کے بھیتر کیا چل رہا تھا وہ تو خود بھی بڑی بے خبر تھی۔<br>
کنویں میں جھانکتی تو اپنا من اسے اس کنویں سے بھی کہیں گہرا لگنے لگتا۔<br>
دانتوں پہ دانت جمائے سانس تک روک لیتی کہ من کی آواز سنے۔ جبڑے دُکھنے لگتے، سانس بند ہونے لگتی مگر کوئی آواز سنائی نہ دیتی۔<br>
سکھیاں سہیلیاں کیا کہہ رہی ہیں کس بات پہ دبے دبے قہقہے تھر کی کُھلی فضا میں گونجتے ہیں وہ بس گُم صم سی ان کی شکلیں دیکھنے لگتی۔<br>
چُنری کا گھونگھٹ اور گہرا کرتی۔ مٹکا بھر کے سر پہ رکھتی اور ریت میں قدم دھنسا کر آہستہ آہستہ چلنے لگتی۔<br>
یہ کوئی بہت پرانا واقعہ نہیں تھا۔<br>
کچھ روز پہلے ابا نے ساتھ کے گاؤں کا واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ اردگرد کے گاؤں میں بچوں کی اموات کا ایک سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور آہستہ آہستہ سارے تھر میں پھیل رہا ہے۔ ایک تنظیم کسی بڑے شہر سے آئی ہے اور انہوں نے ساتھ والے گاؤں کے قریب ایک کیمپ لگایا ہے۔ وہ لوگ بچوں کی دیکھ بھال کے لئے بہت محنت کر رہے ہیں ان میں ڈاکٹر سانول مراد بھی ہے جو بہت تسلی سے بچوں کو دیکھتا اور انہیں دوا دیتا ہے۔ آرام نہ آنے کی صورت میں بچوں کو علاج کے لئے وہ ڈاکٹر اور اس کی تنظیم بڑے شہر کے ہسپتال لے جاتی ہے۔<br>
بھائی کا بیٹا بیمار ہوا تو اسے بھی ڈاکٹر سانول کے کیمپ میں لے جایا گیا۔ کچھ روز کے بعد جب وہ صحتیاب ہو کر گھر آیا تو اٹھتے بیٹھتے سب کی زبان پہ ایک ہی نام تھا ڈاکٹر سانول مراد۔<br>
داکٹر سانول مراد ایسا خوبرو جوان ہے۔ ڈاکٹر سانول مراد ایسے محبت سے بچوں کو دیکھتا ہے۔<br>
ڈاکٹر سانول مراد ایسے پہنتا ایسے باتیں کرتا ہے۔۔۔۔<br>
سُکھاں چپ چاپ سر نہوڑائے ڈاکٹر سانول مراد کا سراپا من ہی من میں مجسم کرتی رہتی۔<br>
کنویں پہ لڑکیاں ایک دوسرے کو ڈاکٹر سانول مراد کا نام لے لے کر چھیڑنے لگیں تو جانے اسے کیوں حسد سا محسوس ہونے لگا۔<br>
اسے لگتا ڈاکٹر سانول مراد صرف اسی کے خوابوں کا جوان ہے۔<br>
ڈاکٹر سانول مراد سے اس کے خوابوں کے جوان، سانول تک پہنچانے میں جہاں اس کے اردگردکی عورتوں اور لڑکیوں کا قصور تھا اس سے کہیں زیادہ اس کی اپنی چڑھتی ندی جیسی عمر بھی خطاکار تھی۔<br>
کب چال میں ٹھمریاں جاگیں اور کلائیوں میں مرداروں کی ہڈیوں سے بنی سفید چوڑیاں بجنے لگیں وہ سمجھ نہ پاتی اورخود بھی سب کے ساتھ حیران اور بولائی پھرتی۔<br>
اماں کے ساتھ مویشیوں کو ہانکتے، لکڑیاں چُنتے، گج میں شیشے ٹانکتے جانے کب وہ ان ہاتھ سے بنائے گج کے شیشوں میں اپنا عکس دیکھ کر مسکرانے لگی۔<br>
ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی کہ وہ سمجھ پاتی۔<br>
اب تو وہ اسے سنائی بھی دینے لگا تھا اور دکھائی بھی۔<br>
جانے کس شہر کا باسی تھااور کہاں سے آیا تھا وہ مارے حیا کے، کسی سے پوچھ تک نہ پاتی۔<br>
آٹا گوندھتے روٹیاں پکاتے وہ مسلسل مسکراتی رہتی اور گھونگھٹ کو اور لمبا کھینچ لیتی۔<br>
وہ ادھر ہی اس کے پاس پیڑھی کھینچ کے بیٹھ جاتا اور اس سے میٹھی میٹھی سرگوشیاں کرتا۔<br>
پانی بھرتے ہوئے وہ اس کے قریب آتا اور سرگوشیوں میں ایسا کچھ کہہ دیتا کہ وہ سارا وقت لجاتی اور سمٹتی رہتی۔<br>
جڑی بوٹیاں توڑنے جاتی تو وہ وہاں بھی پہنچ جاتا۔ اس کی خوشبو ان جنگلی بوٹیوں کی مہک کے باوجود پہچان لیتی۔<br>
میٹھی اورمن اندر مدھ جگانے والی ایسی خوشبو جس نے اسے چودہ سال کی کم سنی میں ایک دم جوان عورت کا روپ دے دیا تھا۔<br>
قحط بھرے وقت میں جب سب کا روپ اور حُسن کُملا گیا تھا اور لڑکیوں کے منحنی وجود سُکڑنا شروع ہوگئے تھے ایسے میں وہ بھر پور انگڑائی لے کر پُر زور شباب کو چولی کے اندر قابو نہ کر پا رہی تھی۔<br>
چولی کیا تنگ ہوئی کہ چُنری کا گھونگھٹ بھی اسے چھپانے میں ناکام نظر آنے لگا۔<br>
ماں نے اسے مسکراتے، لجاتے اور خود سے باتیں کرتے دیکھا تو جھٹ دو چار صلواتیں سنا ڈالیں اور گھر کے مردوں کے سامنے بیر بہوٹی بننے کے سارے ازبر گُر اسے چوٹی سے پکڑ<br>
کے سکھانے لگی۔<br>
بھابھی تو جیسے بے ہوش ہوتے ہوتے بچی کہ وہ اتنی دیر سے گج میں شیشے ٹانکتے ہوئے کس سے باتیں کر رہی ہے اور کس کی باتوں پہ زور زور سے کھلکھلا کے ہنس رہی ہے۔ اردگرد دور تک گہری مشکوک نگاہ سے تاڑنے کے بوجود جب کوئی نظر نہ آیا تو گھبرا کر ساتھ والے گھر اپنی سہیلی کے پاس جا کر داستان کو مرچ مصالحہ لگا کر سنانے لگی۔<br>
وہ تو خود کسی اور جہان میں تھی ماں کے غیض وغضب بھرے چہرے پہ اسے بس لب ہلتے نظر آتے<br>
بھابھی کی مشکوک نگاہوں پہ تو اسے ہنسی آنے لگتی۔<br>
سب گونگے بہرے لگنے لگے کیونکہ ایک منٹھار سی سرگوشی اس کے من اور تن کا احاطہ کئے رکھتی۔ وہ کسی وقت ذرا سا دور ہوتا تو بھٹائی کی وائی اور سچل سر مست کے اشعار سنائی دینے لگتے۔<br>
صبح طلوع فجر سے پہلے اٹھ کر چکی پیسنے اور جانوروں کو چارہ ڈال کر ان کا دودھ دوہنے تک وہ اس کے آگے پیچھے ہنستا، باتیں کرتا رہتا۔<br>
ویرو کی شادی پہ اس نے یوں لہک لہک کر گیت گائے کہ سب حیرت زدہ سے اسے دیکھتے رہ گئے۔<br>
اور جھک کر گول گول دائرے میں رقص کرتے وہ اس کی بلائیں لیتا رہا اور وہ یوں گھومی جیسے سارے تھر کو انگلیوں کی پوروں پہ گھما نے کا عزم کئے بیٹھی ہو۔<br>
سہیلیاں اسے ٹہوکے دے کر چھیڑتیں تو وہ گلنار سی ہنس ہنس کر دوہری ہونے لگتی۔<br>
ماں اور بھابھی کی طرح گھر میں مردوں کے حصے کے بھی کام کرتی اور بھائی کو مُرغ اور بکرے لڑانے کے لیے تیاریاں کرتے دیکھتی تو آگ بگولہ ہو جاتی۔<br>
” میرا سانول تو ایسا نہیں ہے۔ میرے ہر کام میں میرے ساتھ ہاتھ بٹاتا ہے۔ وہ جُمن، سارنگ، رامن سب سے زیادہ مختلف ہے اور سوہنا جوان بھی۔”<br>
وہ اتراتی ہوئی انہیں گھور کر یوں دیکھنے لگتی جیسے وہ سب کیڑے مکوڑے ہوں۔<br>
چارہ سر پہ اٹھائے باہر سے آئی تو بھائی کو مرغ کو مکھن کھلاتے دیکھ کر اس پہ پل پڑی۔<br>
” یہ تُو کیا ہر وقت بے کار کی چیزوں میں پڑا رہتا ہے تیری بیوی، ماں اور بہن سارا دن کام میں جُتی رہتی ہیں اور تُو یہاں بیٹھ کر مرغ کو مکھن کھلا رہا ہے۔ بیوی تیری چوتھا بچہ جننے والی ہے اسے کھانے کو خشک روٹی مشکل سے ملتی ہے اور تُو یہاں میلے ملاکھڑے کے لیے مرغ کو مکھن کے نوالے کھلا کر تیار کر رہا ہے۔ ”<br>
وہ بھائی کے ساتھ بیٹھے جمن اور شناور کو بھی ماتھے پہ سو بل ڈال کر غصے سے دیکھنے لگی۔<br>
” چل ری۔۔۔ دو ہتڑ لگاؤں گا۔ میرے سامنے ایک لفظ نہ بولنا۔<br>
اورہم مردوں کی یہ شان نہیں کہ گھر کے کام کریں تم عورتیں کس لیے ہو۔ اور بھرجائی تیری کو چوتھا بچہ جنوا رہا ہوں تو یہ بھی تو میری مردانگی ہے<br>
“۔ وہ آخری جملہ آہستہ سے کہہ کر جُمن اور شناور کے ہاتھ پہ ہاتھ مار کر ہنس دیا تو سُکھاں کے تو مانو تلووں میں لگی اور سر پہ جا بجھی۔ ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا لے کر اس کی طرف لپکی<br>
” آ تیری مردانگی بتاؤں۔۔۔ ”<br>
جمن نے اسے بھائی کی طرف بھاگتے دیکھ کر اسے پیچھے سے جا لیا۔ نرم نرم گداز بدن میں انگلیاں دھنس کر رہ گئیں<br>
” تُو تو چھوڑ۔۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک ناکارہ۔ ” وہ اس سے اپنا آپ پوری طاقت سے چھڑانے لگی مگر جمن کی بانہوں کا گھیرا بہت مضبوط تھا۔<br>
” تم سب ایک سے ناکارہ۔ اور ایک وہ سانول ہے۔۔۔۔ ”<br>
” اے ری کون سانول ؟۔۔۔۔ ” وہ اسے چھوڑ کر سینہ تان کر سامنے کھڑا ہوگیا<br>
” جا جا تیرا کوئی کام نہیں۔ اور میرے منہ نہ لگنا اسی ڈنڈے سے تیرا پنجرچُورا بنا کے پھانک جاؤنگی ”<br>
وہ اس وحشی عورت کی طاقت سے ایسا دم بخود ہوا کہ اسے گرا کر اپنی طاقت آزمانے کے خواب دیکھنے لگا۔<br>
” بڑا آیا پوچھنے کہ سانول کون ہے۔ ”<br>
وہ گدرے جسم پہ چبھے اس کے ناخنوں سے خون بھری خراشیں دیکھ کر نتھنے پھلائے سو سو بل کھاتی رہی۔<br>
” تُو ہے سہی اس کا مقابلہ کرنے والا۔ اور تُو کیا پورے تھر کی زمین پہ<br>
اس جیسا چھورا کوئی نہیں۔ ”<br>
۔۔۔۔ وہ خود سے جانے کتنی دیر ہمکلام رہی۔ سانول اس کی خون بھری خراشوں کو بوسے دیتا رہا اور بند دروازے سے کھلکھلانے کی آواز باہر آتی رہی۔ بچے کو کھانا کھلاتی بھابھی کے ہاتھ خوف سے کانپتے رہے اور ماں ایک سوچ بھری نگاہ سے دروازے کو گھورتی رہی۔<br>
اکیلی جھومتی، گاتی اور اکیلی ہی باتیں کرنے لگی تو تھر کی عورتیں انگلیاں دانتوں تلے چبانے لگیں۔<br>
ماں نے ابا سے مشورہ کر کے اپنے بھائی کے بیٹے جمن سے اس کی پدھری (بات پکی) کر دی۔<br>
ماموں نے بیٹے کے لئے سنگ ہی نہیں مانگا بیاہ کی تاریخ بھی رکھ دی۔<br>
وہ جمن کی ساری چالیں سمجھتی تھی۔ مگر کیا کرسکتی تھی۔<br>
اس روز اسے لگا جیسے سانول روٹھ گیا ہو وصال کی وائیں لبوں کے اندر دم توڑنے لگیں۔ اور ہجر کے آنسوؤں سے بھری آواز ریت کے ٹیلوں میں یوں سرسرانے لگتی جیسے اس کی آواز نہیں ریت میں سرسراتی بلائیں ہوں۔<br>
جُمن کی دولہن کے روپ میں سانول کی طلب نے اور بھی بیقرار کر ڈالا۔<br>
عشق کی اڑان تو تلور طیور سے بھی تیز نکلی۔<br>
جسم نے عشق کا بوجھ اٹھانے سے بے بسی ظاہر کی تو روح تھر کے ریگستانوں میں، صحراؤں میں ببول کے درختوں کی ٹہنیوں پہ ننگے پاؤں بھاگتی لہولہان ہونے لگی۔<br>
کلائی میں بندھے دھاگے کو کلائی کے چوگرد پھیرتی صرف ایک ہی جملہ دہراتی رہی۔ ’ تمہاری ہوں سانول’<br>
عشق کی طلب، بھٹکتے ہوئے پنکھوؤں کی طرح اس کے من منڈیر پہ منڈلانے لگی۔<br>
ایک خوشبو کا جھونکا آیا اور وصل کی سرگوشیاں کرتا اس کی بلائیں لینے لگا۔<br>
وہ سہاگ کی پہلی رات تھی اور وہ بندِ قبا کھولے اسانول کے سامنے تھی۔ وہ اس کی قبا کے اندر وجود میں اتر کرپنکھ بن کر اڑنے لگا۔ وصل کی بارش نے پر بھگوئے تو وہ بھاری بھیگے پروں سمیت وہیں کہیں اس کے اندرہی بیٹھ گیا اور اڑنا بھول گیا۔<br>
سرگوشیوں میں جمن نے اپنے نام کی بجائے سانول کا نام سنا تو ایک دم الگ ہو کر دور جا کھڑا ہوا۔<br>
“کون ہے ری یہ سانول۔۔۔۔” وہ غصے سے پوچھتا رہا اور وہ انجان بنی آنکھوں پہ بازو دھرے نیم خوابیدہ سی خاموش لیٹی رہی۔<br>
رات کے کسی پہر اس کے بدن کی حدت جمن کوایسی تپش دینے لگی کہ اس نے خود کو بہتیرا روکا مگر اسے لگتا اس کا غصہ اس کے سوا نکل نہیں سکتا۔<br>
ہر رات ہی وہ پہلے سے بڑھ کر اس کا جسم روئی کی طرح دھنکنے لگا۔<br>
کاہل مرد تھا۔ چھپڑ ہوٹلوں پہ فحش فلمیں دیکھتا اور ہر بار نت نئے طریقوں سے اس کا جسم جھنجھوڑ کے رکھ دیتا۔ اسے اذیت دیتا۔<br>
ہمرچو اور ملہار گاتے طالب و مطلوب کے درمیان ہجر آن کھڑا ہوا۔ تھر باسیوں نے دیکھا کہ کارونجھر کے پہاڑاسے پکارتے تھے اور وہ عشق کی آتش سے راکھ ہوتی اُدھر دوڑنے لگتی۔<br>
نہ سمجھ تھی نہ خبر۔۔۔۔۔۔۔ راز رکھنا یا راز ہونا کیا ہوتا ہے وہ بے خبر ان باریکیوں کو جانتی ہوتی تو یوں من موہنی رانی بنی، سات سنگھار کر کے کہیں دور چھوٹے ٹیلے کے پار جاتی بھلا؟۔۔۔۔۔<br>
سونے جیسی ریت پہ بھاری اور تھکے قدموں سے واپس آتی تو چونرے (ہٹ نما گھر) کی دیوار سے کان لگائے تھر کی عورتیں غضبناک نگاہوں سے اسے دیکھ کر منہ پھیر لیتیں۔<br>
مگر اسے کب کسی کی پرواہ تھی۔ انجانی راہیں اور اس پہ عمر کا پندرہواں سال۔ اس پہ عشق کی آتش ایسی کہ بڑوں بڑوں کو منہ کے بل گرا کر جلا دے، راکھ کر ڈالے اور پھر راکھ کو بھی ہواؤں میں اڑا دے، فنا کر ڈالے۔<br>
جمن کمرے میں آتا تو اس کی دبی دبی سرگوشیاں سن کر مونچھیں مروڑتا۔ اس کو ساری رات روئی جیسا دھنکتا، وہ جتنی طاقت خود کو چھڑانے میں لگاتی اس سےزیادہ اس کی مردانگی کو ہاتھ پڑتا اور اسے تھر کی ریت جیسا پیس ڈالنے کے سارے ہنر آزما ڈالتا۔<br>
وہ سارا دن اس کے گھر والوں اور مویشیوں کی چُپ چاپ دیکھ بھال میں لگی رہتی۔<br>
اور وہ مرغ بغل میں دبائے میلوں ملاکھڑوں میں اپنا مرغ لڑانے کے لئے گاؤں کے دوسرے جوانوں کی طرح سارا سارا دن مارا مارا پھرتا۔<br>
من مٹی کے تھیلے میں قید بلکتا، کراہتا۔ وہ ٹیلے کی طرف لپکتی۔ ریت پاؤں کے تلوے چاٹتی اور جُمن ٹیلے کے سارے رستے بند کئے اس پہ کسی کتے کی طرح غرانے لگتا۔<br>
ماں بننے کی خبر سن کر اماں اس کے لیے بھوگاڑو بنا لائی۔ بسری پکائی تل کے لڈو بانٹے اور دبا دبا غصہ نکالتی بار بار ایک ہی جملہ دوہراتی رہی<br>
’ لوئی لج کی پرواہ کر۔۔۔۔۔ ری’۔۔۔۔<br>
لوئی لج کی پرواہ کسے یاد تھی وہ تو صحراؤں کی ریت کا بگولہ بنی کبھی یہاں ہوتی تو کبھی وہاں۔<br>
جمن کی جب تک جسم تک رسائی رہی خاموش رہا اور جی بھر کے اس کے جسم کو روئی کی مانند دُھنکا مگر کب تک ؟۔۔۔۔<br>
جب وہ تن کر کھڑی ہوئی کہ اب اسے تکلیف ہوتی ہےتو بالوں سے پکڑ گھسیٹتا ہوا اس کے باپ اور بھائی کے قدموں میں جا پھینکا<br>
” بہت برداشت کر لیا۔ اس سے زیادہ بے غیرت نہیں ہو سکتا۔ تیری بیٹی کسی کے ساتھ<br>
چھوٹے ٹیلے پہ منہ کالا کرتی ہے”۔۔۔۔<br>
اماں سر پکڑ کے بیٹھ گئی، باپ اور بھائی کی نگاہیں برچھیاں بن کراس کے وجود کے آر پار ہوئیں، بھرجائی نے طعنوں کی زد میں آ لیا۔<br>
جسم اپنے اندر پلتے نئے وجود کے بوجھ سے گریزاں۔ ناتوانی اور آٹھ ماہ کا تشدد الگ۔<br>
اور اس پہ ہجر کا طوفان۔<br>
مصیبتوں اور آزمائشوں کا سورج سوانیزے پہ آکے دہکنے لگا۔<br>
پہرے سخت ہوئے اورٹیلے پہ جا کر دن رات سب کسی کو ڈھونڈتے رہے۔ مگر نہ ملنے والا کسی کو نہ ملا۔<br>
جُمن اور اس کے سسرال والے بات جرگے تک لے گئے۔<br>
جمن کسی اور نئی نویلی کلی کو مسلنے کا شوق پورا کرنا چاہتا تھا اور سسرال والے اس کے کردار پہ گاؤں والوں کی اٹھی انگلیوں کے نیچے دب گئے۔<br>
جب اسے مجرموں کی طرح جرگے کے میدان میں لے جایا جا رہا تھا توپھولے ہوئے پیٹ کے ساتھ اس کا چلنا دوبھر ہو رہا تھا۔<br>
اس کا دل تو محبت کا استعارہ تھا اور وہاں بھٹائی کی وائی اور سچل سر مست کے نغمے پھوٹتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کب جانتی تھی کہ اس راہ میں کڑی آزمائشیں ہیں۔ اور جو جانتی بھی تو کیا خود کو روک پاتی؟۔۔۔۔<br>
عورتیں اس کا تماشا دیکھنے میدان کی طرف بھاگیں۔ بھاگ بھری، بھیلنی اور ویرو سب کی گواہیاں ہوئیں کہ کب کب انہوں نے اسے سانول سے ملنے جاتے دیکھا<br>
وہ خاموش رہی۔<br>
اسے تو خود یہ سفر روز اول سے اب تک حیران کرنے والا لگا تھا۔<br>
جانے سانول کون تھا کہاں سے آیا تھا۔۔۔<br>
تھا بھی کہ نہیں۔۔۔ تو کیا من مندر کی مورت ہی تھا سانول۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ زور زور سے رونے لگی<br>
سانول۔۔۔ سانول<br>
وہ پوری قوت سے بند لبوں سے سانول کو پکار رہی تھی اس یقین کے ساتھ کہ ابھی ٹیلے کے پیچھے سے سانول آجائے گا۔ مگر سب کے ساتھ اس کی نگاہیں بھی مایوس لوٹ آئیں<br>
وہ تو بس ایک ہیولہ تھا۔۔۔۔ محض ایک خوابیدہ تصور۔۔۔۔۔۔<br>
وہ نڈھال ہو کر درد سے تڑپنے لگی<br>
جانے دل کا درد تھا یا جسم کا۔ وہ سراپا درد بنی کراہ رہی تھی۔<br>
حقیقت جان لیوا تھی۔ اسے یوں لگنے لگا جیسے سب نے مل کر اس کا سانول مار ڈالا ہو۔<br>
باگڑی، بھیل، کولہی مردوں سے میدان بھرا تھا چہ میگوئیاں عروج پہ تھیں۔<br>
سب یوں اکٹھے تھے جیسے میلے ملاکھڑے میں مرغ لڑتے دیکھنے آئے ہوں۔<br>
وہ تو ابھی پوری طرح سانول کو بھی رو نہ پائی تھی جب اس نے سنا۔<br>
جرگے کا سردار دوسرے پنچائتیوں کا اور اپنا متفقہ فیصلہ سنا رہا تھا<br>
“ایسی بد چلن لڑکی کو کاری کرنے کا حکم دیا جاتا ہے “۔۔۔۔۔۔ !!<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
٭اماں ھُو مونکھے کاری کرے ماریندا<br>
(اماں وہ مجھے کاری کر کے مار دیں گے)</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/monkhay-kari-kray-marinda-tasurati-jaiza/">“اماں ھو مونکھے کاری کرے ماریندا” کا تاثراتی جائزہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/monkhay-kari-kray-marinda-tasurati-jaiza/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نعمت خانہ — انیسویں قسط</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[خالد جاوید]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 19 Aug 2017 08:17:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Khalid javed]]></category>
		<category><![CDATA[Modern Literature]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[جدید ادب]]></category>
		<category><![CDATA[خالد جاوید]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=21937</guid>

					<description><![CDATA[<p>خالد جاوید: مایّوں میں اُنہیں نمک دینا بھی بند کر دیا گیا تھا۔ وہ صرف میٹھا کھا سکتی تھیں۔ زیادہ تر دودھ جلیبی۔ جو بھی عورت اُن سے ملنے آتی، تو کسی برتن میں دودھ جلیبی لے کر ضرور آتی۔ ورنہ انجم باجی کے ہاتھ میں ایک دو روپے دودھ جلیبی کے نام پر تھماکر چلی جاتی۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">نعمت خانہ — انیسویں قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urduexcerpt">اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے <a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/nemat-khana/" target="_blank" rel="noopener">کلک</a> کیجیے۔</div>
<p>انجم باجی کو مایّوں بٹھا دیا گیا۔ باہر والے دالان کے مشرقی کونے والا برآمدہ جس کے سامنے باورچی خانے کی جالی تھی، داسے میں دو تین رنگین چادریں لٹکا کر پردہ کر دیاگیا۔ انجم باجی باندوںکے ایک پلنگ پر پیلے کپڑے پہنے بیٹھی تھیں۔ پیلا جمپر، پیلی شلوار اور پیلا دوپٹہ — اُن کے پاس صرف لڑکیاں اور عورتیں ہی بیٹھی رہتی تھیں۔ محرم مرد تو کبھی کبھی اندر جاسکتے تھے۔ مگر نامحرم مرد کا اندر آنا بالکل منع تھا۔ حالانکہ گھر کے وہ مرد بھی جن سے انجم باجی کا پردے کا رشتہ نہیں تھا، اُن کے پاس نہیں آتے تھے۔ تمیزن نام کی ایک بہت موٹی گوری اور تقریباً بڑھیا نائن اُن کو روز صبح و شام اُبٹن ملنے آتی اور انجم باجی کا رنگ واقعی روز بروز نکھرتا جاتا۔ میراثنیں بھی آتیں۔ وہ ڈھولک پر گیت گاتیں اور حرارے بھی دیتیں تاکہ انجم باجی کے اوپر کسی آسیب یا جن کا سایہ نہ پڑ سکے۔</p>
<p>انجم باجی کا مجھ سے پردہ نہ تھا۔ میں تو چودہ پندرہ سال کا ایک نابالغ بچّہ تھا۔ میں آزادی اور بے فکری کے ساتھ انجم باجی کے پاس پردوں میں گھسا بیٹھا رہتا تھا۔ میرا رنگ تھوڑا سانولا ہے، اس لیے میں نے بھی اُبٹن لگایا۔ اُس ابٹن کی مہک مجھے آج تک یاد ہے۔ پیلے کپڑوں میں انجم باجی سونے کی بنی ایک دمکتی ہوئی مورتی سے مشابہہ تھیں۔ اپنی سہیلیوں کے ساتھ وہ کبھی کبھی ہی مسکراتیں ورنہ اپنی ازلی پاکیزگی کی اُداسی میں گم رہتیں۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا جب وہ اکیلی رہ جاتیں اور صرف میں اُن کے پاس بیٹھا رہ جاتا۔ ایسے لمحات میں، انجم باجی اپنے اُبٹن لگے گورے پیلے ہاتھ میرے سر پر پھیرتیں اور زیادہ تر ایک ہی بات دہراتیں۔</p>
<p>’’گڈّو میاں! میں چلی جاؤں گی تو تم رونا مت۔ بتاؤ رو ؤگے تو نہیں؟‘‘ میں اُن کی آواز میں بھی پیلاپن محسوس کرتا۔<br>
’’نہیں۔‘‘</p>
<p>مگر پھر ہوتا یہ کہ وہ خود ہی آہستہ آہستہ رونے لگتیں۔ ایک بے آواز سا رونا جیسے ایک خاموش بارش درختوں پر گرتی ہے۔ جب درخت ساکت و جامد ہوتے ہیں۔ آس پاس کہیں کسی ہوا کا گزر نہیں ہوتا۔</p>
<p>صرف اُن کے آنسو گرتے۔ ان آنسوؤں کو وہ اتنی جلدی جلدی اپنے پیلے دوپٹّے سے پونچھ دیتیں کہ وہ ٹھیک سے نظرہی نہیں آتے، یا اگر نظر آتے ہوں گے تو دوپٹّے کے زرد لہرئیے، اُن آنسوؤں کو بھی جذب کرکے پیلا کر دیتے تھے۔<br>
اور یہ سب تو ہونا ہی تھا۔ آخر اُن کے ہاتھ پیلے ہونے والے تھے۔</p>
<p>ایک دن آفتاب بھائی نے مجھے پیار سے اپنے پاس بلایا۔ ’’گڈّو میاں۔‘‘<br>
میں نفرت سے بھرا ہوا اُن کے پاس پہنچا۔ اُنھوں نے اپنی جیب سے دو کتھئی رنگ کی گولیاں نکالیں اور کہا، ’’گڈّو میاں! یہ گولیاں اپنی انجم باجی کو دے آؤ، کہنا کہ گرم دودھ سے کھانی ہیں۔‘‘<br>
’’کیا اُن کی طبیعت خراب ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔<br>
’’ہاں! اُن کے سر میں شدید درد رہتا ہے۔ یہ سر درد کی دوا ہے۔ فوراً جاکر دے آؤ۔‘‘<br>
آفتاب بھائی محلّے کے ایک ڈاکٹر کے یہاں کمپاؤنڈری کرنے لگے تھے اور اکثر گھر والوں کو چھوٹی موٹی بیماری میں مفت دوائیاں لاکر دیتے رہتے تھے۔</p>
<p>میں نے اُن دو کتھئی گولیوں کو حقارت اور نفرت کے ساتھ دیکھا۔ مجھے ایک بار پھر انجم باجی پر شدید غصہ آیا۔ اُن کے سرمیں درد تھا تو وہ مجھ سے کہتیں۔ میں اُن کا سردبا دیتا۔ آفتاب کی لائی ہوئیں یہ ذلیل گولیاں بھلا کیا کریں گی؟ مگر طوعاً وکرہاً مجھے وہ گولیاں لے جاکر انجم باجی کو دینی ہی پڑیں۔ اُس وقت وہ واقعی اپنا سر پکڑے بیٹھی تھیں۔ نہ جانے کیوں مجھے انجم باجی پہلے سے زیادہ دُبلی بھی نظر آئیں۔<br>
’’دودھ لاؤں؟‘‘ میں نے پوچھا۔</p>
<p>’’نہیں۔ بعد میں کھاؤں گی۔‘‘ انجم باجی نے گولیاں اپنے زرد دوپٹّے میں باندھ کر گانٹھ لگا لی۔<br>
مگر دودھ کے نام پر مجھے دودھ جلیبیاں یاد آگئیں۔ میں بچپن سے ہی تھوڑا چٹورا بلکہ بدنیت تو تھا ہی۔<br>
’’لو دودھ جلیبی۔‘‘ انجم باجی نے ایک کٹوری میری طرف بڑھا دی۔</p>
<p>مایّوں میں اُنہیں نمک دینا بھی بند کر دیا گیا تھا۔ وہ صرف میٹھا کھا سکتی تھیں۔ زیادہ تر دودھ جلیبی۔ جو بھی عورت اُن سے ملنے آتی، تو کسی برتن میں دودھ جلیبی لے کر ضرور آتی۔ ورنہ انجم باجی کے ہاتھ میں ایک دو روپے دودھ جلیبی کے نام پر تھماکر چلی جاتی۔ یہ ایک رسم تھی جس کا سب سے زیادہ فائدہ میں اُٹھا رہا تھا۔ میں شکم سیر ہو ہوکر دودھ جلیبی کھا رہا تھا۔ دسمبر کی راتوں میں تیز ہوائیں چلتی ہیں۔ بے حد سرد، ان ہواؤں میں مایّوں کے پردے زور زور سے پھڑپھڑاتے۔ برآمدے میں ہاتھ پیر گلا کر رکھ دینے والی سردی چلی آتی۔ انجم باجی پیلے غلاف اور پیلے استر والی رضائی میں سکڑی بیٹھی یا گھٹنے موڑے لیٹی رہتیں۔ ان کی سہیلیاں بھی اپنی اپنی رضائیوں میں گھسی پتہ نہیں کون کون سی باتیں کرتیں رہتیں۔ ہنسی اور ٹھٹھولے کرتی رہتیں پھر رات جب زیادہ گزر جاتی اور باہر آنگن میں کہرا اتنا شدید پڑنے لگتا کہ داسے میں لٹکی ہوئی لالٹین کی روشنی تک کالی نظر آنے لگتی تو سب اونگھنے لگتے۔<br>
مجھے بھی نیند آنے لگتی اور میں وہاں سے اُٹھ کر اندر والے دالان میں اپنی چارپائی پر آکر لیٹ جاتا اور لحاف اوڑھ لیتا۔ جہاں میرا کن کٹا خرگوش لحاف میں گھسا پہلے سے ہی میرا انتظار کر رہا ہوتا۔<br>
مگر اُس رات مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔ ایک تو یہ کہ رات کے کھانے میں قورمہ تیار کیا گیا تھا اور یہ پتہ چلتے ہی میرا دل دھڑکا تھا اور میں ایک جاسوس کتّے کی مانند چوکنّا ہو گیا تھا۔ آج قورمہ پکناشاید ایک بدشگونی ثابت ہو۔ مگر پھر میں نے یہ بھی سوچا کہ کسی تقریب میں تو ایسے کھانے پکتے ہی ہیں۔ تو یہ میرا محض وہم بھی ہو سکتاہے اور دوسری بات یہ کہ ان دنوں میری چھٹی حس زیادہ متحرک اور فعال نہ تھی۔ میں اپنی تمام تر ذہنی اور جسمانی توانائیوں کے ساتھ محض انجم باجی کی شادی میں ہی مگن تھا۔<br>
انجم باجی کی شادی میں صرف تین دن باقی بچے تھے۔ میں اپنے لحاف میں کبھی ایک طرف کروٹ بدلتا، کبھی دوسری طرف۔ پورے گھر میں سناٹا تھا۔ شاید اس لیے بھی کہ کل رَت جگے کی رسم ہونی تھی۔ انجم باجی کی طرف، مایوں میں بھی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اُن کی سہیلیاں بھی تھک کر سوگئی تھیں۔</p>
<p>باہر دسمبر کی ہواؤں کے سرد اور وحشت ناک جھکّڑ چل رہے تھے۔ ان ہواؤں میں، داسے میں لٹکی لالٹین کبھی اِدھر ڈولتی کبھی اُدھر۔ جس کے سبب دالان میں دیواروں پر پڑنے والی، اشیا کی پرچھائیاں باربار اپنا رُخ بدلتیں، اور ہر رُخ مجھے پُراسرار اور ڈراؤنا محسوس ہوتا۔</p>
<p>اچانک مجھے کچھ آہٹ سی محسوس ہوئی۔ جیسے کوئی اُٹھ کر آنگن میں جارہا ہیو۔ مجھے تھوڑا خوف محسوس ہوا،مگر میں اپنے آپ کو روک نہیں سکا۔ جاسوسی ناول پڑھتے پڑھتے میرے اندر ایک بے تُکا، بے محل اور بچکانہ تجسّس بہت پیدا ہوگیا تھا۔</p>
<p>میں دبے پاؤں اُٹھا، کہرے میں ایک سایہ، باورچی خانے کے دروازے پر نظر آیا۔ میں تو انجم باجی کے تاریک سائے کو بھی پہچان سکتا تھا۔ اُن کے ہاتھ میں کوئی برتن تھا۔ کچھ ہی لمحوں میں میں نے اُس برتن کو بھی پہچان لیا۔ یہ دودھ جلیبی کی ایک چھوٹی سی بالٹی تھی۔ وہ اِسے باورچی خانے میں رکھنے جارہی ہیں۔ میں نے سوچا۔ مگر یہ مایوں کے پردے سے اُٹھ کر باہر کیوں آرہی ہیں اور وہ بھی باورچی خانے میں؟</p>
<p>مگر نہیں۔۔۔! میں ٹھٹک گیا۔ باورچی خانے کی دہلیز پر ایک اور سایہ بھی موجود تھا۔<br>
طویل القامت سایہ، جس نے انجم باجی کا ہاتھ پکڑ کر زور سے اندر کھینچا تھا۔ پھر باورچی خانے کا دروازہ اندر سے بند ہوگیا۔<br>
میں جلدی سے زینے کی چوتھی سیڑھی کی طرف پہنچا۔</p>
<p>یہاں بیٹھ کر باورچی خانے کی جالی میں سے اندر کا منظر نظر آسکتا تھا۔ میں نے دیکھا— باورچی خانے میں اندھیرا ہے بھی اورنہیں بھی۔ مٹّی کے تیل کی ڈبیہ جل رہی ہے جس کی دھندلی روشنی اندھیرے سے بہت مشابہ ہے۔<br>
آفتاب بھائی نے انجم باجی کو بری طرح جکڑ رکھا ہے۔ وہ اُن پر ایک آدم خور درندے کی طرح چھائے ہوئے ہیں۔<br>
’’تم کتّے ہو، کتّے، ذلیل کتّے۔‘‘ انجم باجی کے منھ سے آواز نکلتی ہے۔ آفتاب بھائی نے ایک زور دار تھپّڑ اُن کے گال پر رسید کیا۔<br>
’’کتّے— تونے مجھے وہ گولیاں کیوں کھلائیں؟‘‘ انجم باجی رونے لگیں۔<br>
’’اس لیے۔۔۔ اس لیے کہ تیرا خصم پہلی رات کا مزہ نہ لوٹ سکے۔‘‘</p>
<p>’’مگر مجھے پرواہ نہیں۔ میں اسی حالت میں تجھے ابھی اسی وقت۔۔۔‘‘ آفتاب بھائی کی آواز ایک شیطانی آواز تھی۔<br>
پھر وہ انجم باجی کو دھکا دے کر فرش پر گرا دیتے ہیں۔ مٹّی کے تیل کی ڈبیہ کی روشنی میں، مایّوں کے پیلے پاکیزہ لباس میں اُبٹن سے مہکتا ہوا اُن کا جسم، باورچی خانے کے کھرنجے کے فرش پر بے سدھ پڑا ہے۔</p>
<p>آفتاب بھائی اس جسم پرجھکتے ہیں۔ اب منظر صاف نہیں ہے۔ میں زینے کی چوتھی سیڑھی پر اُچک اُچک کر دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مجھے کچھ نظر نہیں آتا— مگر نہیں مجھے آواز نظر آتی ہے۔ میں آواز دیکھتا ہوں، آواز نہیں بلکہ آوازیں جیسے کوئی کسی بکری کو ذبح کرتا ہے۔تیز تیز سانسیں، دبی دبی چیخیں جو دسمبر کی کالی سردی کی وحشت ناک ہواؤں میں کبھی اُبھرتی ہیں، کبھی دب جاتی ہیں۔ آم کا درخت اِن ہواؤں میں لگاتار جھومے جارہاہے جیسے پاگل ہو گیاہو۔</p>
<p>میری کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ مجھے زور کی سردی لگ رہی ہے۔ میرے دانت کٹکٹا رہے ہیں۔ چھت کی ویران منڈیروں پر سے گھومتی، چکراتی ہوئی ہوا زینے کی سیڑھیوں پر ہوک رہی ہے۔ میں اپنی پیٹھ پر اِس ہوا کے بھیانک وار کو محسوس کرتا ہوں، جیسے کوئی میری پیٹھ پر دوہتّڑ مار مار کر بین کر رہا ہو۔ سنّاٹے میں ایک رونے کی آواز۔۔۔شاید زمانہ گزر گیا ہے۔ جب جاکر باورچی خانے کا دروازہ کھلا ہے۔ وہاں سے باہر آکر طویل القامت سایہ تاریک آنگن میں کہیں غائب ہوگیا ہے۔</p>
<p>میں اپنے سُن ہو گئے، برف جیسے پیروں سے لڑکھڑاتا ہوا ٹھوکریں کھاتا ہوا، زینے کی چوتھی سیڑھی سے نیچے اُترتا ہوں۔ میں آرہا ہوں— بغیر کچھ سوچے سمجھے، بنا کسی ارادے کے، میں باورچی خانے میں آرہا ہوں اور میرے دانت زور زور سے بج رہے ہیں۔ پیٹ میں اینٹھن ہو رہی ہے۔</p>
<p>میں آگیا — میں باورچی خانے میں آگیا۔<br>
مٹّی کے تیل کی ڈبیہ کی اُس منحوس کالی روشنی میں، میں دیکھ رہا ہوں۔ انجم باجی چولہے سے پیٹھ لگائے گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی ہیں۔</p>
<p>اُن کے لمبے کالے بال کھل کر فرش کو چھو رہے ہیں۔ ان کی پیلی، مایّوں کی شلوار پر قورمے کے دھبّے ہیں، کیا قورمے کی دیگچی اُلٹ گئی ہے؟</p>
<p>قورمہ۔۔۔؟ نہیں، اب مجھے صاف دکھائی دینے لگا ہے۔<br>
یہ قورمہ نہیں ہے۔۔۔ یہ خون ہے، یہ خون کے تازہ دھبّے ہیں۔ یہ دھبّے اُن کے دوپٹّے پر بھی ہیں۔ جو مڑا تڑا، بے چارگی کے ساتھ چولھے پر پڑا ہوا ہے۔ اور۔۔۔ اور جمپر پر بھی ہیں۔ مایّوں کے کپڑے خون سے سن گئے۔</p>
<p>فرش پر دودھ جلیبی کی بالٹی کھل کر ایک طرف لڑھک گئی ہے۔ دودھ کی ایک سفید لکیر کھرنجے پر آگے رینگتے رینگتے، اچانک رُک گئی ہے۔ ایک کاکروچ اُس لکیر پر بیٹھا ہے۔ مجھے دھوکہ ہوا ہے، جیسے دودھ جلیبی میں بھی خون مل گیا ہے۔<br>
باورچی خانے میں اُبٹن کی خوشبو ہے، مگر اب اس میں خون کی بو بھی تیزی سے شامل ہوتی جارہی ہے۔</p>
<p>خون۔۔۔ یہ کیسا خون ہے؟ کون سا خون ہے؟<br>
وقت سے پہلے شروع ہو گئی ماہواری کا؟<br>
کنوارے پن کے ضائع ہوجانے کا؟<br>
یا دونوں کا؟</p>
<p>شاید دونوں خون آپس میں اس طرح گھل مل گئے تھے جیسے دُکھتی آنکھوں سے نکلنے والے پانی میں آنسو۔<br>
کچھ نہیں معلوم— یہ ایک ایسا بھید ہے جس کا علم کسی کو نہیں۔<br>
’’گڈّو میاں۔۔۔‘‘ انجم باجی گُھٹی ہوئی آواز میں چیختی ہیں۔</p>
<p>وہ اُٹھتی ہیں اور مجھ سے لپٹ کر زاروقطار رونے لگتی ہیں۔ اُن کے رونے کی آواز باہر چلنے والی سرد اور دانت کٹکٹا کر رکھ دینے والی ہوا معلوم ہوتی ہے۔<br>
’’تم کسی سے کچھ کہوگے نہیں، تمھیں میری قسم ہے۔‘‘ وہ ہچکیاں لیتی ہیں۔<br>
میں چپ رہتا ہوں۔<br>
’’اگر تم نے کسی سے کچھ بھی کہا، تو میں مرجاؤں گی۔ سنا تم نے گڈّو میاں! تمھاری انجم باجی مرجائے گی۔‘‘ وہ مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔<br>
میں رونے لگتا ہوں۔</p>
<p>انجم باجی چولھے پر پڑا اپنا پیلا، خون سے سنا دوپٹّہ اُٹھاتی ہیں اورمیرے آنسو پونچھنے لگتی ہیں۔ دوپٹّے میں خون ملے اُبٹن کی بو آتی ہے جو سیدھی میری آنکھوں میں اُتر جاتی ہے۔ مگر وہ آنکھوں تک ہی نہیں ٹہرتی، آنکھوں سے آگے بھی ایک دنیا ہے، وہ اُسی دنیا میں پھیل جاتی ہے۔</p>
<p>وہ ڈگمگاتے ہوئے پاؤں کے ساتھ، میرا ہاتھ پکڑے پکڑے باہر آتی ہیں۔ مجھے لپٹا کر پیار کرتی ہیں۔<br>
’’گھبرانا نہیں۔۔۔ مجھے ذرا سی چوٹ آگئی ہے۔ میں ٹھیک ہوجاؤں گی۔ یہ خون اُسی چوٹ سے نکلا ہے۔‘‘<br>
انجم باجی نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا ہے۔ اور اُسی طرح کانپتے،لرزتے پیروں کے ساتھ غسل خانے کی طرف چلی گئی ہیں۔ جہاں سے تھوڑی دیر بعد باہر آکر وہ واپس چپکے سے مایّوں جاکر بیٹھ جائیں گی۔</p>
<p>میں آنگن میں خاموش کھڑا ہوں۔ میرے اوپر کہرا گر رہا ہے۔ میں آسمان کی طرف نظر اُٹھا تا ہوں۔ سوائے سیاہی کے مجھے کچھ نظر نہیں آتا۔</p>
<p>میں اپنے بالوں کو چھوتا ہوں۔ کہرے نے اُنہیں گیلا کر دیا ہے۔ میرے ہاتھ بھی گیلے ہوجاتے ہیں۔ میں ان ہاتھوں کو سونگھتا ہوں۔ وہاں ایک عجیب بو ہے۔ ایسی بو جس میں اُبٹن، مہندی، پھول، قورمہ، دودھ جلیبی اور خون تک کی بُو شامل ہے۔<br>
باہر اندھیری گلی میں کوئی آوارہ بلّی زور سے چیختی ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">نعمت خانہ — انیسویں قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سوال یہ ہے کہ۔۔۔۔۔ کیا تم قاتل ہو ناترک کر سکتے ہو؟</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%db%8c%db%81-%db%81%db%92-%da%a9%db%81%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94-%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%aa%d9%85-%d9%82%d8%a7%d8%aa%d9%84-%db%81%d9%88-%d9%86%d8%a7%d8%aa%d8%b1%da%a9/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%db%8c%db%81-%db%81%db%92-%da%a9%db%81%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94-%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%aa%d9%85-%d9%82%d8%a7%d8%aa%d9%84-%db%81%d9%88-%d9%86%d8%a7%d8%aa%d8%b1%da%a9/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد حمید شاہد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 08 Aug 2017 12:34:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Modern Literature]]></category>
		<category><![CDATA[Muhammad Hameed Shahid]]></category>
		<category><![CDATA[ادب اور سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[جدید ادب]]></category>
		<category><![CDATA[زندہ قوم]]></category>
		<category><![CDATA[محمد حمید شاہد]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=21825</guid>

					<description><![CDATA[<p>محمد حمید شاہد: "دیکھو قوم اور بھیڑ میں بڑا فرق ہوتا ہے"۔۔۔۔اس کی شہادت کی انگلی میرے کندھے کو کاٹ رہی تھی۔"قوم منظم ہوتی ہے۔۔۔۔ ایک" اس کی انگلی اب اوپر فلک کو اٹھ رہی تھی اور۔۔۔۔ اور۔۔۔۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے ہی اس کی ساری انگلیاں پھیل کر ہوا میں بھٹکنے لگیں۔۔۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%db%8c%db%81-%db%81%db%92-%da%a9%db%81%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94-%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%aa%d9%85-%d9%82%d8%a7%d8%aa%d9%84-%db%81%d9%88-%d9%86%d8%a7%d8%aa%d8%b1%da%a9/">سوال یہ ہے کہ۔۔۔۔۔ کیا تم قاتل ہو ناترک کر سکتے ہو؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>ٹیلی وژن کی سکرین جگمگا رہی تھی، اور ایک نغمہ گونج رہاتھا۔</p>
<p>“ہم زندہ قوم ہیں۔۔۔۔ پائندہ قوم ہیں”<br>
میں خوش ہو رہا تھا اور سردھن رہا تھا۔<br>
ایک صاحب ‘ جو میرے پہلو میں بیٹھے گوشہ چشم سے سکرین سے امنڈتی روشنیوں کو جھانک رہے تھے یکدم بھڑک اُٹھے اور لگ بھگ چیخ کر کہا</p>
<p>“خاک۔۔۔۔ خ۔۔۔۔خ۔۔۔۔خااااک”<br>
میں چونکا‘ ادھر ادھر بیٹھے لوگوں کے بھی کان کھڑے ہو گئے۔</p>
<p>شعلہ بنا شخص ابھی ابھی تو دم سادھے بیٹھا تھا ۔روز کے معمول کی طرح اسی کونے میں جہاں وہ بیٹھا کرتا تھا۔ چپ چاپ‘ یوں جیسے مردم بیزار ہو اور جس نےکبھی نہ بولنے کی قسم اٹھا رکھی ہو۔ اسےکبھی بولنا پڑتا توایک سرگوشی ہی دوسرے کے کان تک پہنچ پاتی تھی۔<br>
مگر۔۔۔۔۔</p>
<p>اب جو بھڑک اٹھا تھا تو یوں کہ جلتی پر تیل کا کنستر الٹ گیا تھا وہ کھڑا تھا اس کی بھنچی ہوئی مٹھیاں ہوا میں لہرا رہی تھیں نتھنے پھڑ پھڑا رہے تھے وہ بول رہا تھا اور اس کے منہ سے جھاگ بہے چلی جاتی تھی<br>
“زندہ قوم۔۔۔۔؟”<br>
“ایسی ہوتی ہے زندہ قوم؟”</p>
<p>چوروں‘ لٹیروں اور ڈاکوﺅں کو کھل کھیلنے کی سند دینے والی زندہ قوم!<br>
غیر ملکی قرضوں کے شکنجے میں جکڑی ہوئی زندہ قوم!<br>
لیڈروں‘ حکمرانوں اور رہنماﺅں کی عیاشیوں کے لئے خام مال بنی ہوئی زندہ قوم!<br>
صوبائی‘ لسانی‘ گروہی‘ نسلی اور فرقہ وارانہ تعصبات کی ڈسی ہوئی زندہ قوم مہنگائی‘ ناانصافی‘ بدانتظامی ‘ تذلیل اور بے حیائی کے ریلے کی زد میں آئی ہوئی زندہ قوم!<br>
ماضی قریب سے نادم‘ لمحہ حال سے شاکی اور مستقبل سے مایوس زندہ قوم!<br>
غیر جمہوری‘ غیر مہذب اور ناکام ریاست کے منتشر افراد کہلانے والی زندہ قوم!<br>
کشکول اٹھائے آج کی ضرورتوں اور عیاشیوں پرکل کو رہن رکھنے والی زندہ قوم!<br>
انصاف کے نام پر حکومتیں گرانے کاسرکس دیکھ کر تالیاں پیٹنے والی زندہ قوم !</p>
<p>درپردہ آمریت کو برقرار رکھنے اورآئین کو پامال کرکے عدالتوں کے مجہول فیصلوں سے اسناد حاصل کرنے والوں کا خیر مقدم کرنے والی زندہ قوم!</p>
<p>“مخالف نظریات رکھنے والوں کو مکالمے کی میز پر لانے کی بہ جائے ان کے عدم پتہ ہونے پر مطمئن ہو جانے والی زندہ قوم!<br>
دہ مکے فضا میں برسا برسا کر اور گلا پھلا پھلا کر بولے ہی چلا جا رہا تھا جیسے اس کے اندر ایک ایک جملہ ترتیب سے رکھا تھا یوں‘ کہ اب دوسرے جملے کو راہ دے کر اپنی باری پر برآمد ہو رہا تھا ایسے جیسے جملے نہ ہوں پستول کے میگزین میں ترتیب سے بھری گولیاں ہوں تڑ‘ تاڑٍ تاڑ۔۔۔</p>
<p>میں مسلسل اس کی شرٹ کو پکڑے کھینچ کر بیٹھنے کو کہہ رہا تھا مگر وہ دھیان ہی نہ دے رہا تھا‘ میں اٹھا دونوں ہاتھ اس کے کاندھے پر رکھ کر سارے بدن کا بوجھ اس پر ڈال دیا اور اتنی ہی آواز سے چیخ کر کہا جتنی میں وہ چیخ رہا تھا۔<br>
“پروپیگنڈہ ہے یہ مغرب اور دشمن کا پروپیگنڈہ”</p>
<p>اس نے میری طرف پہلی بار غور سے دیکھا‘ اور دھڑام سے اپنی نشست پر یوں بیٹھا کہ کرسی چر چرانے لگی‘ اس کے دونوں گھٹنے سامنے پڑی میز سے ٹکرائے اور چائے کی پیالیاں اچھل کر لڑھکنے لگیں۔۔۔۔ اس کی آواز قدرے دھیمی پڑ گئی۔۔۔۔ میرے کہے کو دہرانے لگا۔۔۔</p>
<p>“دشمن کاپروپیگنڈہ۔۔۔۔ مغرب کا پروپیگنڈہ”<br>
“ہم بچوں اور بچیوں کو اسکولوں میں مار دیتے ہیں ۔۔۔ یہ پروپیگنڈہ ہے<br>
ہم نے یونیورسٹی میں مذہب کی بے حرمتی کے جھوٹے الزام میں ایک بے گناہ طالب علم کا سر پتھر وں سے کچل دالا۔ ۔۔۔ یہ پروپیگنڈہ ہے۔</p>
<p>ہم عورت کو بولنے نہیں دیتے ، بولنے تو اسے فاحشہ قرار دیتے ہیں ۔۔۔ یہ پروپیگنڈہ ہے<br>
ہم ثنا خوان تقدیس مشرق ہیں اور مشرقی روایات کا بھرکس نکال رہے ہیں ۔۔۔یہ سب مغرب کا پروپیگنڈہ ہے ۔۔۔ ”<br>
اس کا لہجہ تیکھا ہو گیا تھا ۔</p>
<p>میں نے ادبدا کر کہا ” جھوٹ ہے اس میں بہت کچھ ” اس نے پہلو بدل کر اپنی آنکھیں میرے چہرے پر گاڑ دیں اور مجھے یوں تکنے لگا جیسے اس کی تیز نظر میرے بھیجے کو اڑا کر پار ہو جائے گی۔</p>
<p>میں لڑکھڑا گیا‘ “شاید سارا سچ نہ ہو۔۔۔۔ میڈیا تو ان کا آلہ کارہے جن کے مکروہ عزائم کی تکمیل میں ہماری سلامتی اور ہمارا وجود آڑے آرہا ہے”۔۔۔۔ لڑکھڑاتی زبان سنبھل گئی۔۔۔۔ نغمے کے بول آخری بار دہرائے جا رہے تھے جو ہماری چیخ چیخ میں دب رہے تھے۔<br>
“ہم زندہ قوم ہیں۔۔۔۔ پائندہ قوم ہیں”</p>
<p>“دیکھو قوم اور بھیڑ میں بڑا فرق ہوتا ہے”۔۔۔۔اس کی شہادت کی انگلی میرے کندھے کو کاٹ رہی تھی۔<br>
“قوم منظم ہوتی ہے۔۔۔۔ ایک” اس کی انگلی اب اوپر فلک کو اٹھ رہی تھی اور۔۔۔۔ اور۔۔۔۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے ہی اس کی ساری انگلیاں پھیل کر ہوا میں بھٹکنے لگیں۔۔۔</p>
<p>“اور۔۔۔۔ بھیڑ میں جس کا منہ جدھر ہوتا ہے وہ ادھر ہی کو بھاگے چلا جاتا ہے دوسروں کو روندتا ہوا‘ کچلتا ہوا‘ لتاڑتا ہوا۔”<br>
اب وہ لفظ چبا چبا کر نکال رہا تھا۔۔۔۔ اس نے ایک سوال اچانک میری سمت اچھالا۔</p>
<p>“بتاؤ کیا زندہ قومیں برضارغبت مسلسل ذلت کی کھائی میں گرے چلی جاتی ہیں؟۔۔۔۔ آہ”۔۔۔<br>
لمبا سانس نکال کر اس نے میرے جواب کا انتظار نہ کیا اور خود ہی خود سے کہنے لگا:</p>
<p>“حیف کہ ہم من حیث القوم تحت الثری میں گرنے کو تیار بیٹھے ہیں اور حیرت ہے نیچے گرے جاتے ہیں‘ نیچے اور نیچے۔۔۔۔ اور رقص بھی کئے جاتے ہیں‘ گائے جاتے ہیں۔</p>
<p>ٹیلی ویژن پر پروگرام بدل چکا تھا ایک مقبول نغمہ ابرارالحق تھرک تھرک کر گا رہا تھا۔</p>
<p>“کنے کنے جاناں بلو دے گھر۔۔۔”<br>
“لائن بناؤ نالے ٹکٹ کٹاؤ۔”<br>
وہ بڑ بڑایا۔۔۔۔ لائن بنانے کی فرصت کہاں!<br>
میں چپ رہا۔۔۔۔ مناسب یہی تھا کہ چپ ہی رہوں ۔۔۔۔<br>
مگر جسے لائن بنا کر ٹیکسٹ کیے گئے تھے وہ چپ نہیں رہی تھی ۔<br>
شکر ہے اس کا دھیان ادھر نہیں گیا تھا اور ممکن تھا وہ خود ہی بک جھک کر خاموش ہو جاتا مگر اس نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف کھڑی کی اور پھر آہستہ آہستہ یوں میری چھاتی کی طرف موڑنے لگا جیسے نشانہ باندھ رہا ہو۔۔۔۔ یکدم اس کے ہونٹ تھرائے اور باہم یوں ٹکرائے کہ پورے ہال میں ان کا زپاٹا گونج گیا‘ پھر وہ زچ بچ بولے چلا گیا</p>
<p>بلو کا گھر۔۔۔۔ نیچے بہت نیچے۔۔۔۔ لائن بناؤ۔۔۔۔ نہیں بھاگو۔۔۔۔روندو۔۔۔۔ کچلو<br>
اس کے گلے میں خراش ہونے لگی لفظ پھنس پھنس کربر آمد ہونے لگے حتی کہ اس کا پورا بدن بارش اور طوفان کی زد میں آئی کشتی کے بادبان کی طرح لرزنے لگا‘ آنکھیں بھیگنے لگیں اور مجھے یوں لگنے لگا کہ جو وہ کہہ رہا تھا یا پھر نہیں کہہ پا رہا تھا اس کا لفظ لفظ میرے دل کے بیچ گر رہا تھا۔</p>
<p>اس واقعے کو کئی دن بیت چکے ہیں۔۔۔۔ مگر وہ شخص جو بظاہر معزز تھا اور اندر سے گولی کی طرح بارود سے بھرا ہوا تھا اب بھی میری یادداشت کے گوشے سے عین اس وقت اٹھ کر منہ سے جھاگ پھین جھاڑنے لگتا ہے جب بھی میں اکیلا ہوتا ہوں۔<br>
میں اسے انتہائی باحوصلہ‘ مہذب اور دانشمند کے طورپر جانتا رہا ہوں‘ سفید پوش ہے اپنے وسائل کے بیچ گزر بسر کرنے والا‘ ذمہ داری سے اپنے فرائض ادا کرنے والا اور دوسروں سے بھی یہی توقع رکھنے والا۔</p>
<p>میں جانتا ہوں کہ اس کی بچیاں اور بچے ابھی سکولوں میں ہیں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے تعلیمی اخراجات کا بوجھ ابھی اس پر نہیں پڑا۔۔۔۔ تاہم بچوں کی یونیفارم کتابیں ‘ کاپیاں‘ بسوں کے کرائے‘ فیس اور دوسرے لوازمات کے لئے اسے اپنی تنخواہ سے اچھی خاصی رقم الگ کر دینی ہوتی ہے اس کے پاس موٹر سائیکل ہے گاڑی نہیں لہذا پیٹرول کا خرچ کم ہی ہے تاہم روز روز بڑھتی پیٹرول کی قیمت پھر بھی اس کے بجٹ کو متاثر ضرور کرتی ہے۔ وہ اکثر بجلی ‘ گیس‘ ٹیلی فون وغیرہ کے بلوں کی شکایت کرتا رہتا ہے مہنگائی سے شکوہ بھی اس کے لبوں پر رہتا ہے بیوی کی بیماری اور اس کے لئے دواؤں کا حصول بھی اس کے اعصاب پر سوار رہتا ہے۔ انکم ٹیکس اور دوسرے ایڈوانسز کی کٹوتیاں بھی اسے کھٹکتی ہیں۔ وہ اکثر چیلنج کیا کرتا ہے کہ اس کے کنبے جیسے مختصر خاندان والے سرکاری ملازم کی گزر بسر کا بجٹ موجودہ تنخواہ سے کوئی بھی ماہر اقتصادیات بنا دے تو وہ ملازمت ہی سے مستعفی ہو جائے گا ۔یہ سب کچھ وہ یوں بتا تا رہا ہے جیسے اسے بس معمولی سے رنجش ہو کبھی ہنستے ہوئے کبھی یونہی کندھے اچکا کر مگر یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اس کا دماغ پوری طرح الٹ گیا تھا۔</p>
<p>میں نے اسے دیکھا تھا اور حیران ہوا تھا<br>
حیران ہوا تھا اور اسے دیکھتا چلا گیا تھا۔<br>
بہت پہلے ایک جملہ پڑھا تھا ”لفظ بھرے ہوئے پستول ہوتے ہیں“<br>
اس جملے کے اصل معنی سمجھ نہ آئے تھے۔<br>
مگر اب جب کہ یہ شخص مجھے اکیلا پا کر میری یادداشت کے پہلو سے اٹھ کر لفظوں کی بوچھاڑ کرنے لگتا ہے تو مجھے بہت پہلے پڑھا ہوا جملہ پوری طرح سمجھ آ جاتا ہے اب تو وہ خود بھی مجھے گولی کی طرح لگنے لگا ہے تانبے کا اور بارود سے بھرا ہوا۔<br>
ایسی گولی‘ جو کسی بھی پستول کی میگزین میں ڈالی جا سکتی ہے۔</p>
<p>جہاں منصوبہ سازوں کی منصوبہ بندی کا یہ عالم ہو کہ وہ تبدیل ہوتے موسموں کو دیکھیں مگر آنکھیں بند کر لیں ، جہاں ملک کے ایک حصے میں تو خشک سالی کا عفریت روز انسانوں اور مویشیوں کے تر لقمے نگلے اور دوسری طرف منرل واٹر کے بغیر پانی کا تصور ہی محال ہو۔۔۔۔ جہاں ایک طرف تعلیم کو سارے وسائل مہیا ہوں حتی کہ تعلیم کے بعد حسب منشا مناصب بھی اور دوسری طرف عین سوانیزے پر سورج ہو تو بھی درختوں کی چھدری چھاؤں تلے ننگی زمین کے سوا ایک دونی‘ دونی ‘ دو‘ دونی چار کے لئے کوئی اور جگہ میسر نہ ہو۔۔۔۔ جہاں غریب اتنی قدرت نہ رکھتا ہو کہ انصاف پانے کورٹ کے دروازے تک پہنچ سکے‘ ظلم اس لئے برداشت کرتا جائے کہ وکیل کی فیس ‘ کوٹ فیس کلرکانہ‘ فوٹوسٹیٹ‘ آمدورفت کا کرایہ اور دوسرے اخراجات کہاں سے لائے گا۔۔۔۔ تاریخیں بھگتے کہ محنت کر کے پیٹ کا ایندھن کا بندوبست کرے گا اور یہ سب کچھ ہمت کر کے کر بھی لے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ انصاف ملنے تک اس کی آنکھیں پتھرا نہیں جائیں گیں اور دوسری طرف یہ عالم ہو کہ اہل زر کے پاس چمک ہی چمک ہو۔۔۔۔ آنکھوں کو خیرہ کرنے والی چمک‘سارے ضابطوں اور قوانین کو انصاف کی عدالت میں پہنچنے سے پہلے ہی خزاں زدہ سوکھے پتوں کی طرح چرمراکر رکھ دینے والی چمک۔۔۔۔ جہاں عدالتوں کے جج آئین اور قانون کے حوالے دینے کی بجائے ناولوں اور ڈکشنریوں کو بنیاد بناتے ہوں ۔جج خبرکی اشتہا کے اسیر ہو جائیں اور عدالتیں عام آدمی کے مقدمات کو اگلی تاریخوں پر ٹالنے لگیں تو ایسے معاشرے میں بے وسیلہ لوگوں کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہو جایا کرتی ہے۔</p>
<p>نوجوان تعلیم پاکر بھی بے روز گار رہتے ہیں۔</p>
<p>اپنوں کے طعنے سنتے ہیں ۔ وہ اپنی جان کے دشمن ہو جاتے ہیں‘ جو برداشت نہ کر سکیں باغی ہو جاتے ہیں اور اندھیرے میں اسی ظالم سماج سے اپنا حصہ بزور حاصل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔۔<br>
جس قوم کا پیدا ہونے والا ہر بچہ مقروض ہو<br>
آگے سمندر ہو اور پیچھے دیوار<br>
ایسی قوم کے ہر بے وسیلہ شخص کے مقدر میں گولی بننا لکھ دیا جاتا ہے مجھے خدشہ ہے وہ تانبے کے بدن والا ایک شخص نہیں ہے ادھر ادھر اور بھی ہیں جن میں بارود بھرا ہو اہے۔<br>
گولی جیسے لوگ۔۔۔۔<br>
جو کسی بھی پستول کی میگزین میں بھرے جا سکتے ہیں۔۔۔۔</p>
<p>نسلی تفادت۔۔۔۔ علاقائی تعصب۔۔۔۔ لسانی جکڑ بندی۔۔۔۔ صوبہ پرستی۔۔۔۔ فرقہ واریت۔۔۔۔ دہشت گردی، غرض کسی بھی پستول کی میگزین میں۔۔۔۔ اور پھر جسے جو چاہیے جب چاہے تاڑ‘ تڑ‘ تڑ‘ تاڑ چلالے ۔میں بے وسیلہ لوگوں کے چہروں کی سمت دیکھتا ہوں تو مجھے جان اگارڈکی وہ نظم یاد آ جاتی ہے جو عباس رضوی کی وساطت سے مجھ تک پہنچی تھی۔۔۔۔ نظم کا عنوان ہے ” بندوق کی گولی کی جانب سے ایک سوال۔۔۔۔ نظم پڑھیں اور اس کی آخری سطر کو ہم خود سے کیا گیا ایک سوال جانیں۔</p>
<p>“میں بندوق کی گولی نہیں رہتا چاہتا<br>
میں بہت عرصے سے بندوق کی گولی ہوں<br>
میں ایک معصوم سکہ بننا چاہتا ہوں<br>
جو ایک بچے کے ہاتھ میں ہو<br>
اور جسے ایک ببل گم مشین میں ڈال دیا جائے<br>
۔۔۔۔ میں بندوق کی گولی رہنا نہیں چاہتا<br>
میں بہت عرصے سے بندوق کی گولی ہوں<br>
میں ایک نیک شگون والا بیج بننا چاہتا ہوں<br>
جو کسی کی جیب میں بےکار پڑا رہے<br>
یا کوئی معمولی سا پتھر<br>
جسے کسی کان کے بندے میں لگنا ہو<br>
یا بہت سارے پتھروں کے درمیان<br>
بے شناخت پڑا رہے<br>
۔۔۔۔ میں بندوق کی گولی رہنا نہیں چاہتا<br>
میں بہت زیادہ عرصے سے بندوق کی گولی ہوں<br>
سوال یہ ہے کہ<br>
کیا تم قاتل ہو ناترک کرسکتے ہو؟”۔۔۔۔</p>
<p>Image: S. M. Mansoor</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%db%8c%db%81-%db%81%db%92-%da%a9%db%81%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94-%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%aa%d9%85-%d9%82%d8%a7%d8%aa%d9%84-%db%81%d9%88-%d9%86%d8%a7%d8%aa%d8%b1%da%a9/">سوال یہ ہے کہ۔۔۔۔۔ کیا تم قاتل ہو ناترک کر سکتے ہو؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84-%db%8c%db%81-%db%81%db%92-%da%a9%db%81%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94-%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%aa%d9%85-%d9%82%d8%a7%d8%aa%d9%84-%db%81%d9%88-%d9%86%d8%a7%d8%aa%d8%b1%da%a9/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نولکھی کوٹھی —  انیسویں قسط</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%86%d9%88%d9%84%da%a9%da%be%db%8c-%da%a9%d9%88%d9%b9%da%be%db%8c-%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%86%d9%88%d9%84%da%a9%da%be%db%8c-%da%a9%d9%88%d9%b9%da%be%db%8c-%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[علی اکبر ناطق]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 02 Jul 2017 18:26:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ناول]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[تقسیم ہند]]></category>
		<category><![CDATA[جدید ادب]]></category>
		<category><![CDATA[علی اکبر ناطق]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=21496</guid>

					<description><![CDATA[<p>علی اکبر ناطق: پچھلی دو پیشیوں پر سردار سودھا سنگھ نے نہ جا کر سخت غلطی کی تھی۔ عدالت نے واضح کر دیا تھا کہ آئندہ سردار صاحب عدالت میں حاضر نہ ہوئے تو اُن کے خلاف عدالت سخت کارروائی کے حکم جاری کر دے گی۔ </p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d9%88%d9%84%da%a9%da%be%db%8c-%da%a9%d9%88%d9%b9%da%be%db%8c-%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">نولکھی کوٹھی —  انیسویں قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urduexcerpt">علی اکبر ناطق کے ناول “<a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/nau-lakhi-kotthi/" target="_blank" rel="noopener">نولکھی کوٹھی</a>” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<p><strong>(34)</strong></p>
<p>پچھلی دو پیشیوں پر سردار سودھا سنگھ نے نہ جا کر سخت غلطی کی تھی۔ جس کے نتائج نہایت غلط برآمد ہو رہے تھے اور عدالت نے واضح کر دیا تھا کہ آئندہ سردار صاحب عدالت میں حاضر نہ ہوئے تو اُن کے خلاف عدالت سخت کارروائی کے حکم جاری کر دے گی۔ جس میں کسی طرح بھی رو رعایت نہیں رکھی جائے گی۔ اگر سردار سودھا سنگھ واقعی بیمار ہے اورحاضر نہیں ہوسکتا،تو اُس کے معائنے کے لیے باقاعدہ عدالت ایک ڈاکڑبھیج دیتی ہے۔ وہ رپورٹ کرے گا۔ اس کے بعد اُس کا میڈیکل سر ٹیفیکیٹ قبول کیا جائے گا۔ کیونکہ عدالت اُس کی بیماری کے متعلق جاننا چاہتی ہے۔ عدالت کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ مقدمے کوزیادہ عرصہ روکے رکھے۔ اُدھر عبدل گجر اور شریف بودلہ عدالت میں حاضر ہو کر اپنے اُوپر لگائے گئے الزامات کا دفاع کامیابی سے کر رہے تھے۔ اُن کے علاوہ وکیلوں نے بھی سردار سودھا سنگھ کو تسلی دی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ غلام حیدر کا کیس بہت کمزور ہے۔ ا ُس نے ایف آئی آر میں آپ کا نام دے کر سخت غلطی کی ہے۔ وہ کسی بھی طرح ثابت نہیں کر سکے گاکہ آپ حملے میں با قاعد ہ ساتھ تھے اور چراغ دین آپ ہی کے ہاتھوں سے قتل ہوا ہے۔ لہذا چار چھ تاریخوں میں ہی آپ باعزت بری ہو جائیں گے۔ لیکن عدالت میں حاضر نہ ہونے کا مقصد ہے،آپ پر لگائے گئے الزامات سچ ہیں۔ دوسر ی طرف مہاراجہ پٹیالا تو صرف اتنا ہی کر سکتا تھا،اُس نے آپ کے عدالت میں حاضر ہوئے بغیر ہی عبوری ضمانت کے بعد پکی ضمانت بھی کروا دی،لیکن اب کیس تو بہر حال آپ کو لڑنا ہی پڑے گا۔ جس کے لیے مہاراجہ کچھ نہیں کر سکتا۔ پھر یہ بھی ہے کہ آپ عدالت جائیں گے تو بری ہوں گے۔ گھر بیٹھے تو سزا کی ہی توقع کی جاسکتی ہے۔ رہی بات غلام حیدر کی،تو اُس میں اتنا زور نہیں کہ ڈانگ سوٹے کی لڑائی لڑ سکے۔ اُس کی رائفل پچھلے تین ماہ سے پولیس نے ضبط کی ہوئی ہے۔ ویسے بھی رائفلیں چلاناپڑھاکووں کا کام تھوڑا ہی ہے؟اس کے لیے جگرے والے لڑاکو چاہییں۔ اگر اُس کے گٹوں میں پانی ہوتا تو وہ آج سے چار مہینے پہلے ہی کچھ کر دیتا۔ مان لیا ملک بہزاد اُس کا ساتھ دے رہا رہے مگر بوڑھا شیر تو سردار جی بھیڑ سے بھی سستا ہو تا ہے۔ اُس کے لڑنے مرنے کے دن اب گئے۔ ویسے بھی پرائی آگ میں کون جلتا ہے۔ اِس لیے اُس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ قانونی نکتے بتانے کے سوا اب کچھ نہیں کرسکتا۔ البتہ سنا ہے،نواب افتخار ممدوٹ غلام حیدرکے ساتھ اُدھر لاہور کے ملک میں پڑھتا رہا ہے اور دونوں متر ہیں۔ مگر مہاراجہ کی طاقت کے سامنے اُس کی کیا حیثیت ہے؟ جب عبدل گجر اور شریف بودلے کا کچھ نہیں کر سکا۔ وہ اپنے بندوں کے ساتھ دیدہ دلیری سے کوٹ کچہری میں آتے جاتے ہیں تو پھر آپ تو سردار سودھا سنگھ ہیں۔ جس کے سائے سے پوری تحصیل کانپتی ہے۔</p>
<p>اِن تمام نکتوں کو دیکھتے ہوئے سردار سودھا سنگھ نے بالآخر اِس پیشی پر جانے کا فیصلہ کر ہی لیا اور اِس کا انتظام سردار صاحب نے ہرے سنگھ کے ہاتھ میں دے دیا۔ سردار ہرے سنگھ سودھا سنگھ کا خاص مِتر رنگا کے بعد لڑائی بھڑائی کے علاوہ عدالت کچہری سے بھی پوری طرح واقف تھا اور دس برچھیوں والے بندوں کا اکیلا مقابلہ کرنے میں ہر طرح سے طاق۔ ایک بنیے کی ٹانگیں توڑنے کے سلسلے میں کچھ عرصہ کے لیے جیل جانا پڑا۔ چراغ دین کاقتل اور شاہ پور پر حملہ کے دنوں میں یہ منٹگمری جیل میں تھا۔ ہرے سنگھ جیل سے نکلا تو سردار سودھا سنگھ میں نئے سرے سے جان پیدا ہو گئی۔ کیونکہ رنگا کے مارے جانے کی وجہ سے سودھا سنگھ کی طاقت آدھی رہ گئی تھی۔ اِس بار پیشی پر جانے کے لیے تیار ہوجانااصل میں سردار ہرے سنگھ ہی کی و جہ سے بھی تھا لیکن ابھی یہ طے نہیں ہو پایا تھا کہ فیروز پور جانے کے لیے کون سی سواری اختیار کی جائے۔ سردار سودھا سنگھ نے سب متروں کو جمع کر کے صلاح کے لیے بلا لیا،جس میں فوجا سیؤ نے آنے سے انکار کر دیا۔ اُس کی اب ویسے بھی کسی کو پروا نہیں تھی کہ پچھلے ایک دو واقعات کی وجہ سے وہ سردار سودھا سنگھ کی نظروں سے گِر چکا تھا۔ اب بھی اگر اُسے بلایا تھا تو مروتاً اور اگر وہ نہیں آیا تھا تو اچھا ہی ہوا کیونکہ ہر بار کوئی نہ کوئی بُزدلی کا مشورہ دیتا۔ بیدا سنگھ،رتا سنگھ،پیت سنگھ،جگبیر،ہرے سنگھ اورسودھا سنگھ کا سگا بھتیجا شمشیر سنگھ الغر ض فوجا سیؤ کو چھوڑ کر باقی سب ہی لوگ حویلی میں موجود تھے اور تین دن بعد والی پیشی پر جانے کے لیے غور ہونے لگا۔ بیدا سنگھ نے کرپان کا پٹا دائیں پہلو کی طرف موڑتے ہوئے،اُس کا کڑا سیدھا کیا اور کہا،سردار صاحب،یہ بات سچ ہے کہ غلام حیدر ایک نا تجربہ کار منڈاہے پَر مُسلے کاکوئی اعتبار نئیں۔ اپنی حفاظت کرنا گرو جی نے لازم قرار دیا ہے۔ اس لیے فیروز پور عدالت میں حاضری دینے کا پرو گرام اِس طرح بناؤ کہ دشمن دانتوں سے انگلی نہ نکال سکے۔ اِس کے ساتھ یہ بھی طے کر لوکہ فیروزپور میں رہنے اور وہاں سے واپسی کا کیا پروگرام ہونا چاہیے کہ دشمن کسی طرح کا وار نہ کر سکے۔ بیدا سنگھ اِتنی ہی بات کر کے بیٹھ گیا۔ اُس کے بعد جگبیر سنگھ اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اور اپنی بڑی بڑی مونچھوں کے درمیان سے بولا،سردار سودھا سنگھ،سب سے بڑا خطرہ غلام حیدر کی طرف سے نہیں عدالت سے ہے۔ مُسلے میں اِتنی جان نہیں آپ پر ہاتھ اُٹھائے۔ ہم تیس بندے ڈانگوں اور برچھیوں سے لد کر نکلیں گے تو غلام حیدر کے بندوں کے پد نکل جائیں گے۔ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بس ہر طرح سے اسلحہ ساتھ بنھ لو اور واہگرو کو یاد کر کے چل پڑو۔ یہ کہ کر جگبیر سنگھ بھی بیٹھ گیا پھر دو تین متروں نے مزید اپنی صلا ح دی۔ جب سب لوگ مشورہ دے چکے تو آخر ہرے سنگھ بولا،سردار جی میری صلاح ہے کہ ہم فیروز پور چار تاریخ کو پیشی پر جانے کی بجائے پرسوں ہی نکل جاتے ہیں اور ریل کے ذریعے ہی جاتے ہیں۔ منڈی گرو ہرسا سے دوبجے گاڑی نکلتی ہے۔ ہم اگر جھنڈووالا سے صبح دس بجے نکلیں تو آرام سے ساڑھے بارہ بجے اسٹیشن پر پہنچ جائیں گے۔ وہاں سے سیدھا صادق والا کے راستے سے فیروز پور جا پہنچیں۔ یہ رستہ محفوظ بھی ہے اور غلام حیدر کی جونہہ سے بھی دور پڑتا ہے۔ اگرچہ لمبا کاٹ کے آنا پڑتا ہے مگر ہے یہی رستہ مناسب۔ اِس راہ سے ہم پانچ بجے شام تک فیروز پور میں داخل ہو جائیں گے اور بھائی پھجا سئیوں کے ڈیرے پر جا کر آرام کریں گے۔ پھر اگلے دن سویرے ہی عدالت کی چوکی پر جا بیٹھیں گے۔ کرپانیں ہماری ڈھبوں میں ہوں گی اور ڈانگیں ہاتھوں میں۔ اگر ذرا بھی خطرہ نظر آیا تو فوراً نکال کر ڈانگوں پر چوڑیاں کس لیں گے۔ پر میرا خیال ہے،یہ نوبت نہیں آئے گی۔ کیونکہ غلام حیدر کی ریفل فرنگیوں نے اپنے قبضے میں کی ہوئی ہے،جو میری اطلاع کے مطابق ابھی تک اُسے واپس نہیں ملی اور اُس کا اصل ہتھیار ہے۔ ڈانگ سوٹا وہ چلانا نہیں جانتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ غلام حیدر عدالت میں حملہ کرنے کی حماقت نہیں کرے گا۔ اِس صورت میں موقع پر ہی پکڑا جائے گا۔ اگر اُس نے یہ پاگل پن کر ہی دیا تو سردار جی واہگروکے صدقے سے ہم چھویاں چلانا جانتے ہیں۔ پھر مُسلوں کے ساتھ میدان کے بیچ اُسی عدالت میں جپھا ڈال دیں گے ُ۔ سرداروں کے سینے بھی مجھًوں کے جگرے لے کے پیداہوتے ہیں۔ میرا تو یہی مشورہ ہے۔ سردار جی،اِسی طرح واپسی بھی اِسی رستے سے پیشی کے اگلے دن کریں گے۔ پیشی والے دن فیروز پور ہی رہیں لیکن واپسی میں گرو ہرسا تک جانے کی بجائے پہلے ہی ورکاں خورد اسٹیشن پر اُتر جائیں۔ جہاں ہمارے بندے اسواریاں لے کے کھڑے ہوں گے۔ یہاں سے جھنڈو والا تک فاصلہ کچھ زیادہ طے کرنا پڑے گالیکن یہی مناسب ہو گا۔ باقی گرو جی شرماں رکھو۔</p>
<p>اُس پروگرام میں ہر ایک نے اپنی اپنی صلاح مزید پیش کی اور بیدا سنگھ نے ریل کے سفر سے اجتناب کرنے کا کہااور بجائے گرو ہرسا کے فرید کوٹ کی طرف سے فیروز پور جانے کا مشورہ دیا مگر یہ ناممکن تھا۔ گرمی زیادہ تھی اور جانور وں کے لیے ساٹھ ستر میل کا سفر طے کرنا ممکن نہیں تھا۔ اِس لیے ریل کے ذریعے ہی فیروزپور جانے کا پرو گرام بنا۔ البتہ بیس بندوں کی بجائے اُن کی تعداد تیس کر لی گئی،جو ہر قسم کی ڈانگوں اور برچھیوں سے لیس سردار سودھا سنگھ کے ساتھ ہوں۔ اُن کی کمان ہرے سنگھ کے ہاتھ میں دینے کا فیصلہ ہوا۔ اِس کے بعد سب متروں کو اپنی اپنی تیاری کرنے کا کہ کرسردار سودھا سنگھ حویلی کے اندرونی حصے میں چلا گیا،جہاں بینت کور اُس کا بے چینی سے انتظار کر رہی تھی۔ بینت کور سردار سودھا سنگھ کو دیکھتے ہی اُٹھ کر کھڑی ہو ئی اور بھاگ کرقریب آگئی۔ سودھا سنگھ اُس کی طرف دیکھ کر فقط مسکرا دیا لیکن بولا کچھ نہیں۔ مسکراہٹ سودھاسنگھ کے دل سے نہیں نکلی تھی۔ اُس میں ایک طرح سے اُکتاہٹ کا رنگ نمایاں تھا،جسے بینت کور محسوس کیے بغیر نہ رہ سکی۔ سردار سودھا سنگھ آگے بڑھ کر پلنگ پر پاؤں لٹکا کر بیٹھا تو بینت کور سردار صاحب کے پاؤں سے کھسًہ اُتارنے لگی۔</p>
<p>رات کا ایک پہر گزر چکا تھا۔ سودھا سنگھ پر نیند کے کہیں آثار نہیں تھے۔ گرمی کی وجہ سے پلنگ کمرے کی بجائے صحن میں موجود تھے اور صحن بھی کافی کھُلا تھا۔ جس میں بینت کو ر اور سردار سودھا سنگھ کے پلنگوں کے علاوہ کوئی دوسری چارپائی نہیں تھی۔ ہوا چل رہی تھی مگر سودھا سنگھ کو اپنی سانس گھٹتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ بینت کو ر سردار جی کے جوتے اُتار چکی تو سودھاسنگھ کو بینت کور پر ایک دم پیار آگیا۔ سردار نے اُسے بازووں سے پکڑ کر سینے پر لٹا لیا اور اُ س کا منہ چومنے لگا۔ اِس رویے سے مغلوب ہو کر بینت کور مکمل طور پر سردار جی کے پہلو میں دبک گئی اور لیٹے ہی لیٹے سردار جی کی پگڑی اُتار کر جُوڑے کے بل کھولتے ہوئے بولی،سودھے،کیا ایسا نہیں ہو سکتا تُو پیشی پر نہ جائے؟</p>
<p>بینت کورنے التجا کچھ ایسے غمگین لہجے میں کی کہ سردار سودھا سنگھ کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور وہ بولا،بنتو دل تو میرا بھی یہی کرتا ہے کہ نہ جاؤں،پر کیا کروں یہ فرنگی نہیں مانتے۔ سچ پوچھو تو اب میرا دل یہی کرتا ہے حویلی ہی سے باہر نہ نکلوں۔</p>
<p>بینت کور سردار جی کے جُوڑوں میں ہاتھ پھیرتے ہو ئے دوبارہ بولی،سردارا،آج تیرے آنے سے تھوڑی دیر پہلے میری کچھ دیر کے لیے آنکھ لگ گئی تھی اور میں خواب دیکھ کر ڈر گئی۔ کیا دیکھتی ہوں،تیرے جُوڑے کھُلے ہوئے ہیں اورتجھے کوئی بگھیاڑ کھینچ کے لے جا رہا ہے۔ یہ دیکھ کر میں چیخ مار کے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ سودھے،اگر تو نے فیروز پور جانا ہی ہے تو مجھے ساتھ لیتا جا ور نہ نہ جا۔</p>
<p>سردار سودھا سنگھ کا دل بنتو کا خواب سُن کا کانپ گیا،لیکن جی کو سنبھالا دیتے ہوئے بولا،او کملیے حوصلہ رکھ،واہگرو شرماں رکھے گا،تو اُدھر کیا کرے گی؟ میرے ساتھ میرے بڑے متر ہیں۔ گامے (غلام حیدر) دی اینی تڑ نہیں کہ وہ مجھ پر حملہ کرے۔ ہرے سنگھ، جگبیر، بیدا سنگھ اور دوسرے سب مِتر میرے ساتھ ہیں نا۔</p>
<p>سردار جی تسُیں ناراض نہ ہو تو میں ایک بینتی کرتی ہوں،بینت کور نے اب کے سردار جی کی داڑھی میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔<br>
دس بنتو،سردار بولا۔</p>
<p>سردار جی،میں کہتی ہوں،یہ لڑائی بھڑائی اب چھوڑ ہی دے۔ دیکھ،کیکروں کے تُکلے دوبارہ گرنے والے ہو گئے،پَر اپنی اولکھ نہیں گئی۔ آرام سے بیٹھ کے بستے ہیں اور یہ جو من من روٹیاں کھانے والے تیرے متر ہیں نا،ان کو کہہ دے،اب اُن کا اور تیرا کوئی لین دین نہیں ہے اور غلام حیدر سے صلح کر لے۔ یہ مُسلے مَر جانے بڑے بُرے اور چیڑ پھاڑ کر کھا جانے والے کُتے ہوتے ہیں۔ سُنا ہے دشمنی اورلڑائی بھڑائی میں اِن کا کوئی مقابلہ نہیں۔</p>
<p>سودھا سنگھ کو بینت کور کی یہ بات بُری لگی لیکن آج وہ کسی بھی طرح سے بنتو کو کڑوا بول نہیں کہنا چاہتا تھا۔ وہ غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے بولا،بنتو،ایسی بات نہ کیا کر جس سے مجھے غصہ آتا ہے۔ غلام حیدر سے صلح کرنے کا مطبل اُس سے معافی مانگنا ہے اور یہ بات سرداروں کو مِہنا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ ایک بار اِس رولے سے جان چھوٹ جائے تو بنتو تیرے سر کی سونہہ دوبارہ کسے نوں تنگ نہیں کروں گا۔ یہ کہ کر سردار سودھا سنگھ نے ایک ہاتھ سے پاس ہی تپائی پر جلتی ہوئی لالٹین کی بتی مروڑ کر اندھیرا کر دیا اور دوسرے ہاتھ سے بینت کور کی شلوار کا ازار بند کھینچ دیا۔</p>
<p><strong>(35)</strong></p>
<p>جون کا آغاز ہو چکا تھا،سخت گرمی اور دھوپ نے تمام کام معطل کردیے تھے۔ اِس کے باوجود ولیم نے بہت سی چیزوں کو اس طرح منضبط کردیا کہ اکثر تحصیل میں شروغ کیے گئے کام چل رہے تھے۔ ولیم کے دماغ میں ایک بات بڑی شدت سے چکر کھا رہی تھی۔ مون سون کی بارشوں کا زمانہ قریب تھا،جس میں قریباً سارے پنجاب میں ہر طرف پانی کے غبارے چھوٹ پڑتے تھے اور یہ سارا پانی بے کا ر ہی چلا جاتا۔ ولیم اِس پانی سے کچھ کام لینا چاہتا تھا،جس کے لیے اُس نے ایک ترکیب سوچی تھی۔ جلال آباد کے مضافات میں وہ تمام زمین جو ابھی تک زیرِ کاشت نہیں تھی اور گورنمنٹ کے حساب میں پڑی ہوئی تھی۔ اُسے پہلے مرحلے میں جلال آباد کے کم ازکم ایک ہزار خاندان میں تقسیم کرنے کا فرمان جاری کرنا تھا،جس کے لیے صرف اُن خاندانوں کا انتخاب کرنا تھا،جو بے زمین ہوں اور کاشت کاری میں بھی تجربہ رکھتے ہوں۔ اِس منصوبے پر ولیم پچھلے تین مہینوں سے خفیہ طور پر کام کر رہا تھا اوراب جا کر اُس کی منظوری ہوئی تھی۔ وہ یہ تقسیم اپنی نگرانی میں کروانا چاہتا تھا تاکہ منصوبہ فیل نہ ہو۔ اُسے خاندانوں کے کوائف اور اُن کی صلاحیتوں کو جاننے میں گزٹ نے بڑی سہولت فراہم کی تھی لیکن مختلف اوقات میں لوگوں کو بلا کر بات چیت کرنے سے بھی کئی باتیں سمجھ میں آئی تھیں۔ اِس سلسلے میں اُس نے کسی سفارش اور رعایت کوا ستعمال نہ ہونے دینے پرارادہ کر رکھا تھا۔ اسی لیے آج اُس نے محکمہ مال کے تمام افسروں کا اجلاس طلب کیا ہواتھا اور صبح سے اُس پر عمل کرانے کے سلسلے میں صلاح مشورہ جاری تھا۔ دراصل ولیم نے اوکاڑہ چھٹی گزار کر آنے کے بعد بہت ہی گرم جوشی سے فرائض انجام دینے کی طرف دھیان دیا اور تحصیل کی معاشی ترقی کے لیے خاص کر متوجہ ہوا۔ جس میں کچھ کام کی طرف تو اُس نے آتے ہی دماغ لڑا دیا تھا۔ ان کے علاوہ ولیم کو آٹھ نو ماہ یہاں گزارنے کے بعد احساس ہو رہا تھا کہ تحصیل کی اکثر عوام ایسی ہے جن کے پاس نہ زمین ہے اور نہ ہی ایسا کاروبار،جو اُن کے دال پانی کا سہارا بن سکے۔ وہ محض بڑے زمین داروں کے باجگزار ہی بن کر رہ گئے تھے۔ اِس کی وجہ سے اپنے آپ کو چوری اور ڈکیتی میں بھی ملوث کر کے جرائم کا سبب بنتے تھے۔ اِن کا موں میں خاص کر ضلع فیروزپور مشہور ہو چکا تھا اور اُس میں بھی تحصیل جلال آباد سرِ فہرست تھی۔ گزٹ کی تمام رپورٹ میں یہ بات واضح تھی کہ تحصیل جلال آباد میں ایک طرح سے انگریزی قانون نافذ العمل نہیں ہے۔ ستلج کے قریبی جنگلات اِن مجرمانہ کاروائیوں کے لیے بڑی محفوظ پناہ گاہیں تھیں۔ جہاں پولیس کو کارروائی کرنے میں نہ صرف مشکل پیش آتی بلکہ اُن کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو جاتا۔ اس لیے پولیس اِن علاقوں میں جانے سے گریز کرتی۔ چور اور ٹھگ وغیرہ اکثر اسی بات سے فائدہ اُٹھاتے۔ یہی وجہ تھی کہ مال مویشی کی چوریاں معمول بن چکی تھیں۔ آئے دن گورنمنٹ کے لیے مسائل پیدا ہو جاتے اور چوری کا پیشہ نہایت ترقی کر گیا۔ بار بار کی تنبیہ اور سرزنش کے باوجود جب معاملہ بڑھتا ہی گیا تو ولیم نے خاص کر پندرہ بیس اُن زمینداروں کو دفتر میں طلب کر لیا جن کے متعلق خاص کر رپورٹیں تھیں کہ وہ رسہ گیری کرتے ہیں اور چوروں کو پناہ دیتے ہیں۔ بلکہ غریب اور بے روزگار لوگوں کو چوری اور ڈکیتی پر یہی لوگ لگاتے ہیں۔ یہ زمین دار زیادہ تر اِٹھاڑ کے علاقوں سے تعلق رکھتے تھے،جن پر ہاتھ ڈالنا پولیس کے لیے سر دردی کا باعث تھا۔ دو پہر کی گرمی میں تحصیل کمپیلیکس کے لان میں موجود برگد کے نیچے یہ زمیندار آج صبح آٹھ بجے ہی آ کر بیٹھ گئے تھے۔ ان کی سفید پگڑیوں پر پفیں لگی تھیں اور پگڑیوں کے کنارے اس طرح ہوا میں لہرا رہے تھے،جیسے سانپوں کے پھن جھول رہے ہوں۔ یہ سب چوہدری اپنے اپنے علاقے کے وائسرائے تھے لیکن برگد کے پیڑ تلے بیٹھے طویل انتظار کے باوجود ان کو کسی قسم کی اُکتاہٹ محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ انہیں نہ صرف خود بلکہ ان کے عزیزو اقربا کو بھی احساس تھا کہ یہ اُن کی زندگی کا پہلا موقع تھا جب کسی انگریز افسر نے انہیں اپنے دربار میں بلا کر ملاقات کا شرف بخشا تھا۔ اب جتنی دیر تک زندہ رہیں گے،یہ فخر اُن کے ساتھ چلے گا۔ اِس لیے انگریز بہادر کا اتنا انتظار کروانا اُن کے لیے زیادہ تکلیف کا باعث نہیں تھا۔ پھر ایک ہی تو دن کی بات تھی۔ اِن میں زیادہ تر زمیندار وٹو،بودلے،بھٹی راجپوت اور کھرل قبیلوں سے تھے اور سب کے سب مسلمان تھے۔ ویسے بھی ایک دوسرے کے واقف ہونے کی وجہ سے اِن کا آپس میں کھل کر باتیں کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں تھی۔ یہ سب چودھری برگد کی ٹھنڈ ی چھاوں میں لکڑی کی بنچوں پر بیٹھے حقوں کی گڑگڑاہٹ سے کسیلے دھویں کی لہریں چھوڑ رہے تھے۔ اِن کے حقے نہایت شاندار اور بڑی بڑی چلموں اور پیندوں والے تھے۔ جن کی نڑیاں نوکروں نے تھامی ہوئی تھیں۔ زمین دار اپنے ساتھ یہ چرب زبان نوکر اِس لیے لائے تھے کہ حقہ پکڑنے کے ساتھ دوسروں کو اپنے مالک کے سچے جھوٹے قصے بھی نون مرچ لگا کر سنائیں۔ یہ فریضہ وہ اچھے طریقے سے ادا کر رہے تھے اور ایسی دور دور کی ہانک رہے تھے کہ خدا کی پناہ۔ ہر ایک نوکر اپنے مالک زمین دار کو دوسرے پر فوقیت دینے میں ایسی لمبی چھوڑتا کہ اگلے نوکر کے لیے مشکل پیدا کر دیتا مگر جب دوسرا بات شروع کرتا تو وہ بھی اِس مشکل کو عبور کر کے اپنی زبان دانی اور چرب زبانی کا ثبوت مہیا کر ہی دیتا۔ اِن گپوں اور زبان کے چٹخاروں میں کسی کو کچھ پتا نہ چلا کتنا وقت نکل گیا ہے۔ اِسی طرح ان کو گیارہ کا وقت ہو گیا۔ اِدھر تو یہ بیٹھے ان شغلوں میں تھے اُدھر ولیم مال افسروں کے ساتھ منصوبہ بندی میں مشغول تھا۔ میٹنگ کے دوران ہی اچانک ولیم نے اپنے منہ کا ذائقہ تبدیل کرنے کے لیے نجیب شاہ کوکمرے میں طلب کیا اور پوچھا،نجیب شاہ کیا اِٹھاڑ کے سب لوگ آ گئے ہیں؟</p>
<p>نجیب شاہ نے جواب دیا،سر وہ تو صبح آٹھ بجے سے سرکار کے دفتر میں حاضری کے لیے برگد کی چھاؤں میں بیٹھے ہیں۔ اگر حکم ہو تو میں اُن کو حاضر کر دوں؟</p>
<p>نہیں اندر بلانے کی ضرورت نہیں۔ ہم اُن سے وہیں جا کر بات کر لیتے ہیں۔ اس کے بعد ولیم اُٹھ کر کمرے سے باہر نکلا اور کمپلیکس کے لان میں اُسی طرف چل پڑا جہاں یہ سب بیٹھے تھے۔ اُس کے پیچھے نجیب شاہ اور چار پانچ پولیس سنتری بھی تھے۔</p>
<p>انگریز سرکار کو اپنی طرف آتے دیکھ کر سب اپنی بنچوں سے اُٹھ کر کھڑے ہو گئے لیکن ولیم نے سب کو ہاتھ کے اشارے سے بیٹھے رہنے کے لیے کہا اور خود وہیں کھڑا ہو گیا۔ سب بیٹھ گئے تو ولیم نے ایک ایک سے اُس کا نام اور علاقہ پوچھا اور وہ جواب دیتے گئے۔ چند لمحے اسی تعارف میں گزرنے کے بعد ولیم نے اُن کی طرف ایک بھرپور نظر ماری اور بولا،حضرات شاید تم کو یہ نہیں بتایا گیاکہ تمھیں یہاں کس لیے زحمت دی گئی ہے اور گورنمنٹ تم لوگوں سے کیا چاہتی ہے؟ میں تم کو زیادہ دیر اِس جگہ بے زاری اور تجسس کی حالت میں نہیں رکھنا چاہتا۔ نہ ہی مَیں ایسی فرصت کی حالت میں ہوں کہ تم سے لمبی چوڑی گفتگو کے لیے وقت نکال سکوں۔ تم سب لوگ اپنے کانوں سے پگڑیوں کے کونے اُٹھا کر میری بات سُن لو۔ مَیں جلال آباد میں امن و امان اور خوش حالی چاہتا ہوں۔ مجھے تم سب کی کارگزاریوں کی مکمل رپوٹ ہے،جو حوصلہ افزا نہیں۔ تم جانتے ہو،تمھارے علاقوں میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں عروج پر ہیں۔ جو عوام اور گورنمنٹ کے لیے مستقل پریشانی کا باعث ہے۔ گورنمنٹ آپ کی رسہ گیریوں سے خوش نہیں ہے اور چاہتی ہے آپ اُس کا ساتھ دیں (اس کے بعد ولیم مزید آگے ہوا اور اپنا ہیٹ سر سے اُتار کر سخت لہجے میں بولا ) اگر آئندہ مجھے پتا چلا کہ مویشی چوروں پر تمھاری شفقت ابھی تک موجود ہے تو میں تمھاری گردنیں اِنہی پگڑیوں سے باندھ دوں گا،جن کو پان دینے پر اتنا خرچہ آتا ہے جتنا تمھارے سال بھر کے آٹے پر۔ یہ کہ کر ولیم واپس مُڑا اور اپنے کمرے کی طرف چل پڑا۔ نہ تو اُس نے کسی کی بات سنی اور نہ مزید کچھ کہا۔ انگریز افسر کو اِس طرح آتے اور جاتے دیکھ کر تمام زمینداروں اور چوہدریوں کے سر گھوم گئے۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ملاقات اتنی مختصر اور تلخ ہو گی۔ اب وہ ایک دوسرے سے نظریں بھی ملانے کے قابل نہیں رہے تھے۔ ادھر ولیم اُن کو سرزنش کرنے کے بعد ایک پل میں یہ جا وہ جا۔ دفتر کی راہداریوں سے ہوتا ہوا کمرے میں غائب ہو گیا۔ اُس کے پیچھے دفتر کا دوسرا عملہ بھی غائب ہو چکا تھا۔ اِدھر ِاٹھاڑ کے زمیندار اپنا سا منہ لے کر لکڑی کے بنچوں سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور کپڑے جھاڑ کا آہستہ آہستہ باہر کی طرف نکلنے لگے،جہاں اُن کے گھو ڑے بندھے تھے۔ اب اُنہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ بھی کوئی بات نہیں کی اور آرام سے نکل گئے۔ اُن کو اپنے آپ پر تو غصہ آہی رہا تھا مگر اپنے سے زیادہ اُن نوکروں پر تھا جو اس رسوائی پر خوامخواہ موقع کے گواہ بن گئے تھے۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا،سوائے اِس کے،کہ اُن نوکروں کو ایک دوسرے سے جدا ہو کر تنبیہ کرتے کہ علاقے میں جا کر اِس بات کو مشتہر نہ کریں۔ بلکہ ہو سکے تو اُن کی انگریز بہادر کے ساتھ آبرومندانہ گفتگو کے جھوٹے واقعات سنائیں۔ مگر ہر ایک یہ بھی جانتا تھا کہ اُس کے متعلق دوسرا اپنے علاقے میں جا کر سارا پول کھول دے گا۔</p>
<p>اِس میں کوئی شک نہیں کہ ولیم کی طبیعت میں شاعرانہ قباحتیں موجود تھیں لیکن یہی وہ قباحتیں تھیں جو بعض اوقات کام کے سلسلے میں مفید ثابت ہوتی تھیں۔ اُن کی وجہ سے وہ اپنی مرضی سے کیے گئے کاموں میں زیادہ پائدار ثابت ہوتا تھا۔ اِسی کے تحت اُس نے جلال آباد کو ایک طرح سے برطانیہ کا ایک قصبہ بنانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ جس کے لیے اُس کے ذہن میں عجیب عجیب ترکیبیں ایجاد ہونے لگیں۔ اِس سلسلے میں ولیم نے اپنی طرف سے کچھ دفتری حکم نامے جاری کیے۔ مثلاً ہر ایک پر لازم کر دیا گیاکہ وہ اپنے گھروں کے صحنوں اور بازاروں اور جلال آباد کے مضافات میں شہتوت کے پودے لگائے۔ اِس کے علاوہ کمپلیکس سے ایک کلو میٹر دورپچیس ایکڑ رقبہ کی جگہ کا انتخاب کیا گیا،جہاں شہتوت کے پودوں کی کاشت کا بندوبست کیا جاناتھا تاکہ جلال آباد تحصیل میں ریشم کے کیڑوں کا کاروبار چلایا جا سکے۔ اِس کی تر کیب ولیم کے ذہن میں اُس وقت آئی جب اُسے فاضل کا بنگلہ جاتے ہوئے ایک جگہ پر بہت سے شہتوت کے درخت دکھائی دیے۔ اِس مقصد کے لیے ولیم نے بدر دین کی ڈیوٹی لگا دی اور فنڈ مختص کر دیا،جو اِس سے پہلے بھی نجی سطح پر یہی کام کرتا تھا۔ علاوہ ازیں جلال آباد کی گلیوں اور بازاروں کی نئی سکیم تیار کر کے اُن کی تعمیر کا حکم جاری کیا گیا اور بلدیہ کو شہر کی توسیع کے لیے ایک نیا منصوبہ بنانے کا حکم جاری کیا۔ اِس سلسلے میں تحصیل کے بڑے زمین داروں سے رابطہ کر کے اُنہیں شہر میں اپنے گھر تعمیر کرنے کی طرف متوجہ کیا اور تاجرپیشہ لوگوں کو،جو زیادہ تر ہندو تھے،اِس بات پر اُکسایا کہ وہ اپنا سرمایہ یا پیسہ کپڑے،قالین بافی یا زرعی پیداوار کی خریدو فروخت پر لگائیں۔ جس کے لیے گور نمنٹ اُنہیں آسانیاں فراہم کرے گی۔ اگرچہ ولیم نے جانسن صاحب کی ہدایات کے مطابق اپنے رویے میں احتیاط کو بہت دخل دینا شروع کر دیا تھالیکن جن کاموں کو وہ کسی طرح سے شروع کر بیٹھا تھا،اُن کی انجام دہی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ خاص کر تعلیم اور نہری نظام کے سلسلے میں کسی قسم کی رو رعایت سے کام نہ لیا۔ جو کام اُس نے انتہائی پھرتی سے مکمل کروا دیے اور کسی کو اُن کاموں پر اعتراض بھی نہیں ہو سکتا تھا،اُن میں سب سے پہلے ولیم نے تحصیل کمپلیکس میں دو تین رہٹ لگوا کر پانی کا انتظام کروا کے کمپلیکس کی راہداریوں اور ارد گرد دور تک ہزاروں ہی درخت لگوا دیے،جو پھل دار بھی تھے اور اور سایہ دار بھی۔ سایہ دار درختوں میں ولیم کو برگد،پیپل اور نیم کے درخت بہت پسند تھے۔ اس لیے اُنہی کے پودے ہر طرٖف فروری کے مہینے میں ہی لگوا ئے تاکہ بہار اور پھر مون سون کے موسموں میں اُن کی نمو کا عمل جاری رہے۔ اِس کے علاوہ تمام مالی اور نہری پٹواریوں سے زمینوں کے گوشوارے منگوا کر مال افسروں کے ذریعے زمین داروں تک ہدایات پہنچا دی گئیں کہ اگر اُنہوں نے دیے گئے ٹارگٹ کے تحت اپنی زمینوں میں فصل کی کاشت اور شجرکاری نہ کی تو اُن کو جرمانے اور زمینوں کی ضبطی کی سزا دی جائے گی۔ اِن احکام کا خاطر خواہ نتیجہ جلد ہی سامنے آنے لگا۔</p>
<p>حکم کے مطابق ایک دو زمینداروں کی جب زمین واقعی ضبط کر لی گئی تو دوسروں نے ہدایات پر پورا پورا عمل کرنے کی طرف توجہ دی۔ ولیم نے بذات خود کئی جگہ کا دورہ کر کے حالات کا جایزہ لیا،جس پر تحصیل کے تمام عملے کو کان ہو گئے۔ ایک اور بات جو ولیم کے کہے ہوئے کام کو پورا کرنے کے لیے مفیدہو رہی تھی،وہ اُس کی یادداشت تھی۔ ولیم ایک دفعہ جو کام کہ دیتا پھر اُسے بھولتا نہیں تھااور گاہے گاہے اُس کے متعلق پوچھتا رہتا۔ محکمہ تعلیم کے بارے میں مولوی کرامت کی خدمات پر بھی ولیم کی تلسی داس سے بات ہو چکی تھی۔ مسلمان بچوں کی تعداد بڑھانے میں مولوی کرامت نے معجزانہ طور پر کردار ادا کیا تھا۔ اُس نے صرف دو ماہ کے اندر سو بچوں میں اضافہ کر دیا۔ مولوی کی اس کامیابی پر ولیم نے تلسی داس کو مولوی کرامت کا خاص خیال رکھنے کا بھی کہا اور ہدایت کی کہ اُسے ایک رہائشی مکان تحصیل کمپلیکس میں الاٹ کر دیا جائے اور اسی طرح کے چار مولو ی مزید بطور منشی رکھ کر اُن سے بھی یہی کام لیا جائے۔ لڑکوں کے لیے نئے اسکولوں کے قیام،بچیوں کے لیے بھی کچھ اسکول کھولنا اور نئے منشیوں کی بھرتی کے علاوہ بنگلہ نہر کے بارے میں جو کیس تیار کر کے ولیم نے اسٹبلشمنٹ کو بھجوائے تھے،اُن پر بھی اپروول آ چکی تھی اور اُن پر کام کروانے میں ولیم کاکسی بھی قسم کی نرمی کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔ اسی وجہ سے اُن پر انتہائی تیزی سے کام شروع ہو چکا تھا۔ ڈپٹی کمشنر ہیلے بھی ولیم سے اس بارے میں مکمل تعاون کر رہا تھا جس کے متعلق پہلے پہل ولیم کو بعض اندیشے تھے لیکن اب وہ اندیشے بھی ختم ہو چکے تھے۔ البتہ امن و امان کے حوالے سے اپنے آپ کو ثانوی حیثیت میں رکھ کر یہ کام لوئیس صاحب کے حوالے ہی رکھا اور کبھی زیادہ پوچھ گچھ کی ضرورت محسوس نہ کی۔ لوئیس صاحب غلام حیدر اور سودھا سنگھ کے بارے میں ضروری معلومات ولیم صاحب تک پہنچاتا رہا جس میں غلام حیدر سے اسلحہ کی ضبطی سے لے کر سردار سودھا سنگھ کی ضمانت کے متعلق تمام خبریں شامل تھیں۔ ولیم کو ہر چند سودھا سنگھ کی پکی ضمانت ہو جانا کافی گراں گزرا لیکن اب وہ عدالتی نظام میں مہاراجاؤں کی دخل اندازیوں کا کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اِس لیے ولیم نے لوئیس کی زبانی یہ خبر سُن کر فقط سر ہلا دیا اور کہا،لوئیس،اب تمھاری ذمہ داری ہے کہ اِس طرح کے ناخوشگوار واقعے دوبارہ اس تحصیل میں جنم نہیں لینے چاہیئں۔</p>
<p>لوئیس نے ولیم کو اطمنان دلاتے ہوئے کہا،سر آپ آئندہ سکون رکھیں۔ اس کے ساتھ ہی لوئیس نے ولیم کے سامنے ایک فائل رکھ کر بتا دیا کہ عدالت نے غلام حیدر سے ضبط کیا گیا اسلحہ اُسے واپس کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے جس پر اُن کے دستخط ہونا ضروری ہیں۔ ویسے بھی قانون کے مطابق اسلحے کی ضبطی کو تین مہینے ہوچکے تھے اور غلام حیدر کے ذاتی ریکارڈ کے حوالے سے بھی یہ رپورٹ اطمنان بخش تھی۔ ولیم نے اُس فائل پر دستخط کر کے غلام حیدر کی رائفل لوٹانے کی اجازت دے دی۔</p>
<p>ولیم نے کیتھی کو جانسن صاحب کے حکم کے مطابق اُسی دن ہی تار بھجوا دیا تھا،جس کے جواب میں کیتھی نے جولائی کے مہینے میں ہندوستان آنے کی خوشخبری سنا ئی تھی۔ ویسے بھی ولیم سے شادی کرنا کیتھی کے لیے کسی پرنس کا ہاتھ آجانے سے کم نہ تھا۔ جس کا خواب انگلستان کی اکثر لڑکیاں وہاں دیکھتی رہ جاتیں۔ ہندوستانی سول سروس میں کسی انگریز کے ساتھ بیاہ کرنا ایسے ہی تھا جیسے شاہی خاندان کی بہو بن جانا ہو۔ اِس لیے انگلستان میں رہنے والی نو عمر لڑکیاں اِس تاک میں رہتیں کہ کسی طرح سی ایس ایس کرنے والے لڑکے کو پھانس لیا جا ئے۔ ایک دفعہ ایسا لڑکا ہاتھ میں آجاتا تو اُس کی زندگی سنور جاتی۔ پھر وہ ہندوستان پہنچ کر ایک دم میم بن جاتی اور واپس اپنی سہیلیوں کو یہاں کے واقعات اور عیش و عشرت کی زندگی کے عجب عجب قصے لکھ کر بھیجتیں،جن کو پڑھ کر اُن کے کلیجوں میں سیخیں لگتیں۔ چنانچہ کیتھی کسی طرح اِس موقعے کو ضایع نہیں کر سکتی تھی۔ اُس نے فوراً ہی لکھ بھیجا کہ وہ ہمیشہ کے لیے ولیم کے پاس ہندوستان آ رہی ہے۔ کیتھی کے ٹکٹ کا انتظام ہوائی کمپنی ہی کے ذریعے کر دیا گیا تھا۔ اب وہ بیس جولائی یعنی دس دن بعددہلی پہنچ رہی تھی۔ ولیم کا اُسے وہاں سے خود جا کر وصول کرنے کا ارادہ تھا۔ جس کے لیے اُس نے اپنے قریبی دوست جان لیور کو پیغام بھیج دیا کہ وہ اگلے پیر کو دہلی آرہا ہے۔ یہ سفر اُس نے ریل پر ہی کرنے کا ارادہ کیا تاکہ کیتھی کو لے کر سیدھا لاہور چلا جائے،جہاں تمام رسوم کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مال روڈ کے کیتھڈرل چرچ میں نکاح پڑھ لے۔ اُس کے بعد دوستوں کو غیر رسمی دعوت پر بلا کر معاملہ جلد نپٹا دے۔ اِس سلسلے میں ولیم نے ایک ماہ کی چھٹیوں سمیت چند مزید انتظامات کر لیے کہ اپنی نولکھی کوٹھی کی کافی آرائش کروا دی،جو پہلے بھی کسی طرح کم نہیں تھی۔ اِس بات کا بھی خیال رکھا کہ اگر اُسے چھٹیوں کے بعد جلال آباد منتقل ہوناپڑے تو اُس لحاظ سے بنگلے کی بھی درستی کر دی جائے۔ جس پر کام جاری تھا۔ اِس کے علاوہ ولیم نے اوکاڑہ میں چرچ روڈ پر ایک کرسٹان مشنری سکول کی بنیاد رکھنے کا بھی منصوبہ بنا لیا اور اُس کا انتظام اپنے دوست ڈینی کے ہاتھ میں دے دیا۔ اِس کو چلانے کے لیے رقم کا بندوبست بھی دونوں دوستوں نے مل کر کرنا تھا لیکن سرِدست کیتھی سے شادی کرنا سب سے اہم معاملہ تھا اور اُس کا موقع انتہائی قریب تھا جس کا خیال ہی ولیم کو سرشار کر دینے کے لیے کافی تھا۔ غرض یہ کہ پچھلے دس دن کے دوران ولیم نے اپنے ماتحت تمام تحصیل کی سطح کے انتظامی شعبوں کا فرداً فرداً جائزہ لیا اور اُن پرمختلف ہدایات جاری کیں۔ جس کی تفصیلی رپورٹ اُسے چھٹی کے دوران بھی پہنچانے کا پابند بنایا تا کہ کام تعطل کا شکار نہ ہوں۔ اِس طرح اپنا کام نپٹا کر اور ہر طرح سے دفتری امور سے مطمئن ہو کر ولیم پانچ بجے اپنے کمرے سے نکلا۔ شام کا وقت قریب آگیا تھا لیکن گرمی میں ابھی بھی اتنی شدت تھی کہ جلد جھلس جانے کا اندیشہ ہو رہا تھا۔ ولیم کو لگا ابھی لو لگ جائے گی لیکن آج اُسے اس طرح کی گرمی کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ کیتھی کا خیال ہی اُس کی طبیعت میں بہار پیدا کر دینے کے لیے کافی تھا۔ ولیم آہستہ آہستہ چلتا ہوا اپنے بنگلے پر آیا اور دہلی کے لیے اپنے ملازموں کو ہدایات دیں۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d9%88%d9%84%da%a9%da%be%db%8c-%da%a9%d9%88%d9%b9%da%be%db%8c-%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">نولکھی کوٹھی —  انیسویں قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%86%d9%88%d9%84%da%a9%da%be%db%8c-%da%a9%d9%88%d9%b9%da%be%db%8c-%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
