Categories
شاعری

اسٹریٹ تھیٹر

وجیہہ وارثی: کتیا کے سر پر پتھر مارنے والی کو
دادوتحسین کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے
اور پلے اپنی دمیں چھپائے پھرتے ہیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

اسٹریٹ تھیٹر

[/vc_column_text][vc_column_text]

ایک ننھے پلے کو
چار شریر بچے
دم سے پکڑ کے دائرے میں گھمارہے ہیں
(پلا سمجھ رہا ہے دنیا گھوم رہی ہے)
دوسرا کان
تیسرا پچھلی ٹانگ
چوتھا منتظر ہے اپنی باری کا
ان کی مائیں تماشہ دیکھ رہی ہیں
تالیاں بجا رہی ہیں
پلے کی ماں دور کھڑی
بے بس نظر آتی ہے
اس کے پاس احتجاج کے لیے لفظ نہیں
وہ محبت کے مفہوم سے نا واقف
دبوچ لیتی ہے ایک بچے کو
بچے کی ماں
بڑا سا پتھر اٹھاتی ہے
پاگل کتیا کا نعرہ لگاتے ہوئے
مارتی ہے
کتیا کے سر پر
کتیا مر جاتی ہے سات پلوں کو چھوڑ کے
کوئی ماتم نہیں کرتا
کتیا کے سر پر پتھر مارنے والی کو
دادوتحسین کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے
اور پلے اپنی دمیں چھپائے پھرتے ہیں

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

By وجیہ وارثی

وجیہ وارثی ایک تھئیٹر ایکٹیوسٹ ہیں۔ وہ 1988ء سے مختلف تھئیٹر گروپس کے ساتھ اسٹیج پر فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ وہ بانگ، سیوک اور ناؤ تھئیٹر ورکشاپ کا انعقاد کر چکے ہیں۔ وہ ٹی‌وی ڈرامہ نگار اور شاعر بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *