Categories
شاعری

عاصمہ جہانگیر کے نام

رضوان علی:کہاں چلی ہو؟
ابھی تو وقتِ مفارقت میں
بچی ہیں گھڑیاں
ابھی سے جانے کی ٹھان لی ہے؟

کہاں چلی ہو؟
ابھی تو وقتِ مفارقت میں
بچی ہیں گھڑیاں
ابھی سے جانے کی ٹھان لی ہے؟
ابھی تو رسمِ عزا کا ماتم نہیں ہوا ہے
علَم کُھلا ہے
نہ چار نیزے پہ آکے سورج ٹکا ہوا ہے
ابھی سے تم کو جانے کی پڑ گئی ہے؟
ابھی تو رنگِ حنا میں ڈوبے
لہو کے دھبےنہیں دُھلے ہیں
ابھی تو زینب پکارتی ہے
کہاں چلی ہو؟
اگر پلٹ کر نہ آئیں تم تو
کسے بلائے گی وہ مدد کو
کہاں سے امید
صبح سویرے
ہمارے آنگن میں
آ سکے گی؟
ہمارے کل کو سجا سکے گی
کہاں چلی ہو

By رضوان علی

ڈاکٹر رضوان علی کراچی کی ادبی سرگرمیوں میں کئی برس تک مصروف رہے۔ اب گزشتہ کئی برس سے امریکہ کی ریاست ورجینیا میں مقیم ہیں اور وہاں کی تین یونیورسٹیوں میں نفسیات کے پروفیسر ہیں۔ ادب کے ساتھ ساتھ تھیٹر اور موسیقی سے بھی خاص لگاؤ ہے۔ گزشتہ کئی سال سے ایک معتبر ادبی فورم "لٹرری فورم آف نارتھ امریکہ" کے نام سے چلا رہے ہیں۔ نظم اور غزل دونوں اصنافِ سخن کو اظہار کا ذریعہ گردانتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *