Categories
شاعری

کلیشے

چار سو مرے پھیلی
زندگی کلیشے ہے
آپ ٹھیک کہتے ہیں
میں جو روز لکھتا ہوں
یہ ادب کلیشے ہے
سب کا سب کلیشے ہے
یہ گھسے پٹے مضمون
یہ سنی ہوئی سطریں
سب کہی ہوئی باتیں
لیکن اے مرے نقاد
مسئلہ کچھ ایسا ہے
عشق پہلے جیسا ہے
حسن پہلے جیسا ہے
اور تڑپ بھی پہلی سی
آج کا مرا محبوب
خال و خد میں صورت میں
سر سے پا کلیشے ہے
ہر ادا کلیشے ہے
وصل بھی کلیشے ہے
ہجر بھی کلیشے ہے
حسن کی طلب مجھ میں
یہ طلب کلیشے ہے
آگ ہے مرے اندر
آگ بھی کلیشے ہے
رات رات سنا ٹا
شام شام تنہائی
دل پہ جو گزرتا ہے
سب کا سب کلیشے ہے
سب کا سب بدل دیجے
میں جدید لکھوں گا
چار سو مرے پھیلی
زندگی کلیشے ہے
ظلم بھی کلیشے ہے
بھوک بھی کلیشے ہے
حکمراں رعایا کا جیسے خون پیتے ہیں
اہل ۔ زر غریبوں پر جو ستم گراتے ہیں
یہ سبھی کلیشے ہے
یہ سبھی بدل دیجے
زندگی بدل دیجے
میں جدید لکھو ں گا

By افتخار حیدر

افتخار حیدر اردو کے منفرد لب و لہجہ کے شاعر ہیں اور کراچی میں مقیم ہیں۔ ان کی غزلیات کا ایک مجموعہ "تمثیل"، نظموں کا مجموعہ "زندگی کلیشے ہے" اور سوز وسلام کا مجموعہ "پرسہ" شائع ہو چکا ہے۔

One reply on “کلیشے”

بہترین۔
داد قبول کیجیے۔

اسی نوع کی ایک اور نظم پڑھی تھی کبھی شیئر کرنا چاہوں گی

آپ سے عرض ملاقات نئی بات نہیں
ہے مرے لب پہ وہی بات نئی بات نہیں
دل بے تاب یہ ہلچل یہ قیامت کیسی
آج کچھ ان سے ملاقات نئی بات نہیں
آپ آ جائیں تو رم جھم کی صدا ناچ اٹھے
ورنہ یہ رات یہ برسات نئی بات نہیں
ہے یہی فرقہ ارباب وفا کا مقسوم
یہ پریشانی حالات نئی بات نہیں

سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ھے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *