Categories
نان فکشن

پریم سنگ

علی زریون

premsang

تخلیق کاری کائنات کا خوبصورت ترین منصب ہے

میں جب جب ان تخلیق کاروں کے گروہ کی طرف دیکھتا ہوں کہ جن کا کام محض نقالی رہ گیا ہے تو سوچتا ہوں کہ طلب – شہرت ،اس غیرت – تخلیق کو کیسے کھا جاتی ہے جسے ایک سچا تخلیق کار کسی بھی حال میں ترک نہیں ہونے دیتا ..اردو شاعری میں چربے اور نقالی کی بھونڈی ترین مثالیں جیسی اب آ رہی ہیں ،کبھی ایسا نہیں تھا ..ذریعہ – ابلاغ کی ہر کس و نا کس تک رسائی نے جہاں بہت سے مفید عوامل پیدا کئے ہیں ،وہیں ایک ایسا بنیاد
ی خلا بھی برپا کر دیا ہے کہ جس میں شاعروں کی ایک لمبی قطار نظر آتی ہے جو اپنے جز وقتی اور کچے پکے خیالات کو جلد سے جلد “مقبول و معروف ” کروانے کے چکر میں بے حال ہوئے نظر آتے ہیں ..
محض کوئی چمکتی ہوئی ردیف سامنے آنے کی انتظاری ہے اور بس پھر چل سو چل ..جو زمین میں غزل نہیں کہ سکے گا وہ سب سے آسان طریقہ ڈھونڈھ لے گا ،کہ ردیف کو بدل لو اور غزل ارشاد فرما لو ..چلو جن لوگوں کی عمریں اسی دشت کی سیاحی میں بیت گئیں ،انھیں تو آپ کہ سکتے ہیں کہ تخلیقی آگ ٹھنڈی پڑ گئی سو اب جواں خیالات کی خیرات کھا کر اپنا گزارا کرتے ہیں (جب کہ ایسے کئی بزرگوں کو میں جانتا ہوں جو آج بھی تخلیقی طور پر نوجوان ہیں ) مگر ان نو جوانوں کو کونسی بلا پھر گئی کہ بجائے اپنی الگ فکری رو تلاش کرنے کے ،اسی ڈگر پہ چل پڑے کہ “ہیں ؟؟ ایسی اچھی ردیف ؟ ایسی عمدہ زمین ؟ بس کرو اس میں تبدیلی اور کہو ایک دھانسو غزل “..حد ہے ..
تخلیق کار کا محض تخلیقی ہی نہیں ،کیفیتی طور پر بھی غیرت مند ہونا سب سے بلند مرتبہ ہے ! عزت تو سوائے سائیں کے اور کسی کے لئے ہے ہی نہیں ،تو جب اختیار ہی سارا اس کا ہے تو آپ کس چکر میں حال سے بے حال ہوئے جاتے ہیں ؟ مجھے میرے سائیں جی کی بات یاد آتی ہے کہ سرکار نے بہت واضح طور پر فرمایا تھا کہ “علی ! خبردار ! خود کو دھوکہ مت دینا ! ” ..بھلا اس سے بڑا دھوکہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ آپ کو ہے کہ آپ غلط کر رہے ہیں ،آپ کو پتا ہے کہ آپ جس بات پر یہ “داد و دہش ” وصول کر رہے ہیں یہ تو آپ کی ہے ہی نہیں ! لیکن آپ کی آنکھیں بند ہیں ،میرے بادشاہ ! یہی خود کو دھوکہ دینا کہلاتا ہے ..! اس کا سب سے بڑا نقصان ہی یہ ہوتا ہے کہ آپ وقتی طور پر تو ایک شور مچا لیتے ہیں ،لیکن وہ شور محض انہی کی نظر میں اہمیت رکھتا ہے جنھیں “اصل ” کی خبر نہیں ہوتی ،اور وہ جو “اصل ” کو جانتے ہوتے ہیں وہ ہنس رہے ہوتے ہیں کہ کیا اس شخص سے زیادہ بھی کوئی اندھا ہوگا کہ جو کسی کا مانگا ہوا لباس پہن کر یہ سمجھ رہا ہے کہ مجھ سے زیادہ خوش لباس اور کوئی نہیں ! کیوں کہ اگر محض کسی جاگی ہوئی روح کی کہی ہوئی بات دہرا دینے سے کوئی صوفی ہو جاتا تو “قوالوں ” سے بڑا صوفی اور کوئی نہ ہوتا ! تخلیق کاری کائنات کا خوبصورت ترین منصب ہے ! اگر آپ تخلیق کار ہیں تو آپ کا اور کچھ ہونا ضروری ہو یا نہ ہو لیکن تخلیقی طور پر غیور ہونا بہت لازمی ہے ..!! محبّت اور خیر

محبت کے بارے میں سب سے مہلک بکواس

خدا کے بارے میں سب سے خطرناک جھوٹ “تصوّف ” اور محبّت کے بارے میں سب سے مہلک بکواس “شاعرى” کی ذیل میں کی گئی ہے ..یہ دونوں الہی و روحی منطقے ،نام نہاد متقیوں اور بغیر از علم “منطقیوں” کے ہاتھوں ہرغمال بنائے گئے اور بنے ہوئے ہیں ..آج کے اس عہد – لا کیفیت میں سب سے آسان کام ،”صوفی و شاعر” بننا رہ گیا ہے ..”تصوّف ” صافیوں کا “حال ” تھا ،جس میں مداری آ گئے ..شاعرى ،محبین کا قال تھا ،جس میں اداکاروں اور منافقوں نے شرکت شروع کر دی ..کیسی عجیب بات ہے کہ “ہجر ” وہ بیان کر رہا ہے جسے “وصال ” کا علم ہی نہیں …بھلا جو کبھی نگاہ – یار کو موصول ہی نہیں ہوا وہ “فراق” کیا بیان کر سکے گا ..!! .میں آج جس لفظ – امیر و اسم – کبیر کی دھجیاں اڑتے ہوئے دیکھ رہا ہوں وہ “عشق ” ہے ..عشق خود خدا ہی کا اسم – کبیر ہے ،یہ اس قدر خالص اسم ہے جس کی تحقیق میں کئی “حق زدگاں” اپنے وصال کو پہنچے ..تصوّف اور بیان – فقر کبھی بھی ایسا ارزاں تو نہ ہوا تھا جیسا آج کر دیا گیا ہے .ادب اتنا ذلیل تو کبھی نہ رہا تھا جیسا آج کر دیا گیا ہے .اور یہ تمام جہالت کا پھیلاؤ در حقیقت “بیرون ” کا پھیلاؤ اور “اندرون ” سے دوری کے سبب ہے .اپنے قرب اور ارادے کی پہچان کا سب سے بڑا فائدہ ہی یہی ہوتا ہے کہ آپ “جاہل ” نہیں رہتے ! کیوں کہ جھوٹ اور بکواس صرف اور صرف جاہلین کیا کرتے ہیں ،عارفین نہیں ..!! محبّت اور خیر

Categories
نان فکشن

پریم سنگ

شناخت
تمہاری سب سے پہلی پہچان اور شناخت “انسانیت” ہے ..تمہارا سب سے پہلا مذہب “انسانیت” ہے ..دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں کہ جس میں انسانیت کا سبق نہ ہو ! اور اگر تم یہ سبق بھول چکے ہو تو جان رکھو کہ تم کسی مذہب کا نہیں ،دکھاوے کا شکار ہو ..! تمہارا سب سے پہلا سبق انسانیت ہے ..تمہارا سب سے پہلا “ہونا ” انسانیت ہے!
تم خدا سے ہو اور خدا تمھارے بعد ہے ! اور اس بات پر مہر بھی اسی کی ثبت شدہ ہے،کہ اس نے یہ تمام کائنات تمہارے لئے تخلیق کی ! تا کہ تم جان سکو ،دھیان کر سکو ! اور تم الجھ گئے ! کیوں ؟ صرف اور صرف اس لئے کہ تم ہاتھ دھو کر “خدا ” کے پیچھے پڑ گئے ،کہ کسی طرح خدا ہاتھ آ جائے .کوئی سراغ ،کوئی پتا مل جائے ! اور یہیں سے تمہاری الجھن کی مسافت کا آغاز ہو گیا کہ جس نے اپنی نشانیاں تمہارے اپنے وجود میں پنہاں رکھیں ،اسے تم نے باھر ڈھونڈھنا شروع کر دیا!
بات تو تمھاری تھی ! بات تو تمہاری پہچان کی تھی ! تم نے “اپنی ” چھوڑ دی اور اس کی پہچان کے پیچھے پڑ گئے ! تم چاہتے ہو کہ خدا ہاتھ آ جائے ،نہیں آے گا ! کیسے ہاتھ آئے گا بھلا ! یقین جانو کہ تم دنیا کے کسی بھی منطقے پر چلے جاؤ تمہیں “بندہ ” نظر آئے گا ! انسان نظر آئے گا ! انسانیت جو تمہارا خوبصورت ترین “ہونا” ہے ! ایسا ہونا کہ جس پر تمہیں مخلوقات سے اشرف ترین قرار دیا گیا! وہ ہونا کہ جو تمہارا تمہاری ماؤں کے پیٹ میں تھا ! با الکل خالص ترین ہونا..
تمہیں ہندو برے لگتے ہیں جب ک تم بھی تو محض اس لئے مسلمان ہو کہ مسلمان کے گھر پیدا ہوئے ہو ..ہندوؤں کو مسلمان برے لگتے ہیں ،جب کہ وہ بھی رام رام اسی لئے کرتے ہیں کہ انہوں نے پیدا ہوتے ہی اپنے سامنے رام رام ہوتے دیکھی!
مذہب تمہیں کیا سکھاتا ہے ؟ کیا کبھی جانا ؟ کیا تم نے کبھی ایک مرتبہ بھی محض لفظی طور پر ہی سہی دھیان کیا کہ مذہب اور “مہذب” میں محض اور محض ایک حرف کا ہی تو فرق ہے ! مہذب مذہب ہی میں چھپا ہوا ہے ،بلکول اسی طرح جس طرح “راہ” ہار میں چھپی ہوئی ہے!
اگر آج تم اپنے اپنے مذہب کے ہوتے ہوئے بھی غیر مہذب ہو تو سبب صرف یہی ہے کہ تم نے جانا ہی نہیں کہ مہذب در اصل ہے کیا!!
تم اتنے برے مذہبی اسی لئے ہو کہ تمہیں پہچان ہی نہ ہو سکی کہ مذہب ہے کیا ! کیسی عجیب بات ہے کہ تم کہتے ہو کہ میں فلاں کا ماننے والا ہوں اور نہ اسے تمہاری خبر ہے اور نہ تمہیں اس کی ! تمہاری ساری الجھنیں اسی وقت تک تمھاری ہیں جب تک تم خود کو “پہچان “نہیں لیتے .تم نے خدا کو مسلہ بنا لیا جب کہ خدا سواے “معاملے” کے اور ہے ہی کچھ نہیں ! ایک خالص ذاتی معاملہ ! ایک نہایت دلی اور روحی معاملہ!
تمہیں موت سے بہت ڈر لگتا ہے ..لگتا ہے ناں !ایک ذرا سی زمین کانپی اور تم لرز جاتے ہو .. جانتے ہو ؟ کہ آدمی موت سے کب اور کس وقت ڈرا کرتا ہے ؟ اس وقت کہ جب اسے یہ علم نہ ہو کہ آیا کہاں سے ہے اور اسے جانا کہاں ہے ! کیا تمہیں کبھی پردیس سے دیس آتے ہوئے ڈر لگا ؟ کوشش کرتے ہو کہ جلد سے جلد گھر پہنچ سکو ..جتنی جلد ممکن ہو گھر چلا جاؤں تو [پھر بھلا اس گھر جانے سے کیوں ڈرتے ہو جہاں سے آئے ہو ..وہی تو اصل گھر ہے!
موت اس وقت تمہارے لئے بہت آسان ہو جائے گی جب تم اپنے ہونے کو پہچان لو گے ! اور جس وقت موت آسان ہو جائے گی، زندگی خود بخود سہل ہو جایا کرتی ہے۔ اور بادشاہ سوہنہا ! تمہارا سب سے خوبصورت ،سب سے سوہنا اور پہلا “ہونا” انسانیت ہے ! صرف اور صرف انسانیت!!
انسانوں سے پریمتا ،سب سے بڑی عبادت
اپنے من کو کھوجنا ،سب سے بڑا جہاد!
خیر ہو..

 

تیرے لیے .۱
تو چاہتا ہے کہ تجھ پر آثارِ کائنات اور ‘ذات’ کا بھید کھول دیا جائے۔۔۔ جب کہ تیرے سینے میں رقت اور ذہن میں وسوسے ہیں۔۔۔ کیسے ممکن ہے؟؟ تو چاہتا ہے کہ تجھے وہ علم بتایا جائے جو علمِ کبیر کہلاتا ہے۔۔۔ جب کہ تو اپنے ساتھ اپنا معروضی اور سوالوں سے بھری سلیٹ لے کر آیا ہے۔۔۔ کیسے ممکن ہے؟؟ تو چاہتا ہے کہ تیری نگاہ پر وہ رازِ ہست ظاہر کیا جائے، جس کی شیرینی اور تلخی اپنے مقام اور کیفیات میں نہایت تیز ہے اور جسے اندھے ہوئے بنا نہیں دیکھا جا سکتا۔۔۔ اور تو آنکھیں لے کر دیکھنا چاہتا ہے۔۔ کیسے ممکن ہے؟؟
تو چاہتا ہے۔۔۔ اور بھلا بتا کہ پھر تجھ میں اپنی چاہت کیسے ظاہر کر دوں کہ جو ملتی ہی تب ہے جب ہر چاہت سے خالی ہو جایا جائے۔۔ تو کیسے ممکن ہے؟؟ تو میرا ہونا چاہتا ہے۔۔ اور اِس حال میں جب کہ تو خود ابھی ‘ہے’۔ کیسے ممکن ہے؟؟
اے نادان!! اے نہ جاننے والے!! اے میری جانب، دنیا کا معروضی علم لے کر آنے والے!! تو نہیں جانتا کہ علم سے بڑا حجاب، میں نے پیدا ہی نہیں کیا۔۔۔ تو تو یہ تک نہیں جانتا کہ علم کا علم کیا ہے؟؟؟ اگر یہی ایک راز تجھ پر فاش کر دیا جائے تو تو اپنا پیراہن تار تار کر دے اور اپنا جسم نوچ ڈالے…

 

تیرے لیے .۲
(ایک صوفی حکایت)
وہ سخت عاجز آ چکا تھا… اور اسے کہیں پناہ نہیں مل رہی تھی… آج چالیسویں رات تھی… اور انتہا کی سرد.. اُس کا پہرا بہت سخت تھا… اور وہ مستقل مزاج.. وہ رو رہا تھا… اُسے شدید طیش آ رہا تھا.. اُس کی نسیں تنی ہوئی تھیں اور چہرہ سرخ.. جسم جیسے آگ ہو.. وہ جل رہا تھا.. تپ رہا تھا.. بھڑک رہا تھا.. لیکن آگ بڑھتی جا رہی تھی.. اُس نے یکبارگی اپنا ہاتھ بڑھایا اور قریب پڑا ہوا تیز دھار خنجر اٹھا لیا.. اُس کا ہاتھ دھیرے دھیرے اپنے نچلے دھڑ کی جانب حرکت کر رہا تھا… قریب تھا کہ وہ ایک ہی وار کرتا اور خود کو اُس حصے سے محروم کر دیتا جو اُس کے نزدیک سارے فساد کی جڑ تھا..
“ہاں! یہ حصہ ناپاک ہے.. یہ گوشت کا لوتھڑا میرا دشمن ہے… ہاں یہی ہے جس کی وجہ سے میرا دھیان پکا نہیں رہ پا رہا.. آج میں اسے کاٹ ڈالوں گا… پھر کوئی وحشت نہیں رہے گی اور میں “شہوت” سے پاک ہو جاؤں گا”..
اُس کی زبان پر یہ جملے تھے.. اُس نے خنجر نزدیک کیا اور اس سے قبل کہ وہ اپنا ارادہ پورا کرتا.. فضا ایک با رعب آواز سے گونج اُٹھی..!!
ندا آئی “یا عبدی!.. اے میرے بندے!”، اور اُس کی آنکھیں یک لخت کھل گئیں.. اُسے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اُس کے جلتے ہوئے وجود پر گلابوں سے بارش کر دی ہو.. اُس نے آنکھیں کھولیں تو فضا نور سے بھر چکی تھی… آواز نے اپنے لہجے کا دائرہ مکمل کر دیا.. اور پھر گونجی..
“اے نادان! تو سمجھتا ہے کہ یہ حصہ ناپاک ہے… تیرے جسم کا یہ حصہ جسے تو کاٹ دینا چاہتا ہے، کاٹ دیا جائے تو تو آرام پا جائے گا؟؟ نہیں!! ہرگز نہیں.. یاد رکھ.. کہ اگر تو نے اِسے کاٹ دیا تو میں تیرے بال بال میں شہوت بھر دوں گا.. پھر تو کیا کرے گا؟؟”۔
سالک سجدے میں گر چکا تھا.. زار و قطار آنسو تھے اور اُس کی جلتی ہوئی آنکھیں.. اُس کا سینہ خیر سے بھر چکا تھا.. آواز پھر آئی.. “نادان! اِس جذبے کو جاننے کی کوشش کر!! کہ اِس کا منبع و مرکز کہاں ہے؟؟ نادان اِس کا تعلق تیرے اس حصے سے نہیں جسے تو قصور وار گردان رہا ہے”… “دھیان کر!!”