Categories
اداریہ

بہاوالدین زکریا یونیورسٹی میں امتحانی بدانتظامیوں کے خلاف طلبہ کا احتجاج

بہاوالدین زکریا یونیورسٹی کے تحت امتحانات کے انعقاد میں بد انتظامی کے خلاف طلبہ نے احتجاج کرتے ہوئے یونیورسٹی کے مرکزی دروازہ کو بند کردیا جس کے باعث کئی گھنتے تک یونیورسٹی میں آمدورفت کا سلسلہ متاثر رہا اور کئی ڈیپارٹمنٹس میں تدریس کا عمل معطل ہوگیا۔ زکریا یونیورسٹی کے طلبہ انتطامیہ کی طرف سے سال 2012 کے سپلیمنٹری اور سال 2013 کے سالانہ امتحانات 28 فروری سے اکٹھے لئے جانے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرہے تھے۔
بہاوالدین زکریا یونیورسٹی کے تحت امتحانات کے انعقاد میں بد انتظامی کے خلاف طلبہ نے احتجاج کرتے ہوئے یونیورسٹی کے مرکزی دروازہ کو بند کردیا جس کے باعث کئی گھنتے تک یونیورسٹی میں آمدورفت کا سلسلہ متاثر رہا اور کئی ڈیپارٹمنٹس میں تدریس کا عمل معطل ہوگیا۔
بہاوالدین زکریا یونیورسٹی گزشتہ برس مختلف ڈگری پروگرامز کےسالانہ اور ضمنی امتحانات کے انعقاد اور نتائج کے اعلان میں ناکام رہی تھی ۔ اس انتظامی خلا کو پر کرنے کے لئے یونیورسٹی نے گزشتہ برس رہ جانے والے امتحانات اس برس منعقد کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس پر طلبہ نے احتجاج کرتے ہوئے اس معاملے کے مناسب حل پر زور دیا۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ ایک ساتھ دو امتحانات کی تیاری اور ان میں شرکت ممکن نہیں اس لئے امتحانات کانیا شیڈول جاری کیا جائے۔ طلبہ نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور گورنر پنجاب محمد سرور سے اس صورت حال کا نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ سے مذاکرات کر کے نیا شیڈول جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔ کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر محمد فاروق کا کہنا تھا کہ سپلیمنٹری امتحانات 2012 اور سالانہ امتحانات 2013 فروری میں جبکہ طلبہ کی سہولت کے لئے سالانہ امتحانات 2012 اور سپلیمنٹری امتحانات 2013 کا انعقاد جولائی میں کیا جائے گا۔ تاہم وہ طلبہ جنہیں سالانہ اور ضمنی دونوں امتحانات میں شرکت کرنا ہے وہ فروری میں ہونے والے امتحانات میں بھی شرکت کر سکیں گے۔
لالٹین سے گفتگو کرتے ہوئے احتجاج کرنے والے ایک طالب علم نے نام نہ بتانے کی شرط پر یونیورسٹی انتطامیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “یونیورسٹی اپنی انتظامی کوتاہیوں کا بوجھ بھی طلبہ پر ڈال رہی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے زکریا یونیورسٹی اور ا سے منسلک کالجز کے طلبہ کی ڈگریاں تاخیر سے مکمل ہوں گی جس سے انہیں آگے داخلہ حاصل کرنے اور ملازمت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔”
ایک اور طالب علم نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر لالٹین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے احتجاج ختم کرنے کے لئے جو وعدے کئے وہ تاحال پورے نہیں کئے گئے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کو احتجاج سے روکنے کے لئے دباو ڈالنے کے لئے سخت کاروائی کی دھمکیاں دیں۔
بہاوالدین زکریا یونیورسٹی کی انتظامی غفلت کے باعث دوسالہ ماسٹر پروگرام ، ایل ایل بی اور بی ٹیک کے سیکنڈ اینول سپلیمنٹری 2012 اور فرسٹ اینول 2013 کے امتحانات منعقد نہیں کئے جا سکے تھے ۔ ماسٹرز پروگرام کے تحت عربی، نباتیات(Botany)، حیوانیات(Zoology)، کیمیا(Chemistry)، انگلش، معاشیات، علم التعلیم (Education) ، فائن آرٹس، جغرافیہ، تاریخ، اسلامیات، ریاضی، شماریات، عمرانیات(Sociology)، اردو اورمطالعہ پاکستان جبکہ بی ٹیک ڈگری کے کیمیکل، الیکٹریکل، مکینیکل،سول اور الیکٹرونکس کے مضامین کے امتحانات مقررہ وقت پر شروع نہیں کئے جا سکے۔
Categories
اداریہ

کوئی پرسان حال نہیں

مدیرِ محترم
لالٹین یوتھ میگزین
ایک چینی کہاوت ہے:
“اگر ایک سال کیلئے کامیاب ہونا ہے تو چاول اُگاؤ ،اگر دس سال کے لئے کامیاب ہو نا ہے تو درخت اُگاؤ اور اگر ایک سو سال کے لئے کامیاب ہو نا ہے تو اپنےبچوں کو تعلیم دلاؤ۔”مگر افسوس صد افسوس کے ہمارے ملک میں تو ایک سال کی کامیابی حاصل کرنے کے لئے کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں تو صاحب! یہا ں تعلیم کس کھاتے میں آئے گی ؟؟؟ہم آپ سب قارئین کی توجہ ایک نہایت اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں۔ ہم بہاوالدین زکریا یونیورسٹی کے ماتحت گورنمنٹ کالج شہباز شریف کے متعارف کرائے گئے BS پروگرام (چارسالہ) کے طلبہ کو جون 2013 میں موسمِ گرما کی تعطیلات دی گئیں جس کےے بعد سے اب تک ہماری کلاسز شروع نہیں کی گئیں۔ ہمارا کالج اور تمام متعلقہ متاثرین B.Z.U ملتان سے اس بدنظمی اور تعلیم دشمن اقدام سے متعلق کسی بھی قسم کی معلومات حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔بہاولدین زکریا یونیورسٹی کے تحت انے والے پانچ کالجز کے آنرز کے طلبہ اس مسئلے سے دوچار ہیں اور کالج انتظامیہ کی طرف سے کی جانے والی تما م کاوشیں بھی یونیورسٹی انتظامیہ کی دادرسی سے محروم رہی ہیں۔ انہیں ہماری مشکل کا احساس تک نہیں۔ جناب ! کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ پچھلے 6 مہینوں سے اپنے گھروں میں بے کار بیٹھے ہیں اور ہمارے امتحانات مسلسل ملتوی کیئے جارہے ہیں ہمارا قیمتی وقت برباد ہو چکا ہے۔
تعلیمی سرگرمیوں کے تعطل کے باعث ہمارے کالج میں آنرز پروگرام کے چوتھے سمسٹر کے امتحانات نہیں ہوئے۔ جبکہ B.Z.U ملتان اور باقی تمام منظم تعلیمی اداروں طلبہ چوتھے سمسٹر کے فائنلز کے بعد پانچویں سمیسٹر کے امتحانات کی تیاری میں مصروف ہیں اور جنوری میں دیگر طلبہ کا اگلا سمسٹر بھی شروع ہو چکا ہوگا۔ B.Z.U ملتان سے آنے والی امتحانات کی ڈیٹ شیٹ 3 دفعہ منسوخ ہو چکی ہے
تعلیمی سرگرمیوں کے تعطل کے باعث ہمارے کالج میں آنرز پروگرام کے چوتھے سمسٹر کے امتحانات نہیں ہوئے۔ جبکہ B.Z.U ملتان اور باقی تمام منظم تعلیمی اداروں طلبہ چوتھے سمسٹر کے فائنلز کے بعد پانچویں سمیسٹر کے امتحانات کی تیاری میں مصروف ہیں اور جنوری میں دیگر طلبہ کا اگلا سمسٹر بھی شروع ہو چکا ہوگا۔ B.Z.U ملتان سے آنے والی امتحانات کی ڈیٹ شیٹ 3 دفعہ منسوخ ہو چکی ہے اس سلسلے میں طالب علموں نے ہڑتال بھی کی لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا،اگر یہی حال رہا تو آپ اُمید کر سکتے ہیں کہ یہ BS-4 year پروگرا م 8 سالوں میں ہی مکمل ہو گااور شہباز شریف صاحب جو Laptop کی تقسیم سے نوجوانوں میں مقبولیت حاصل کر رہے تھے بتدریج اپنی مقبولیت کھو دیں گے اور اُن کی محنت افسر شاہی خاک میں ملا کر رکھ دے گی۔ B.Z.U ملتان کے چانسلراور وائس چانسلر اور دیگر متعلقہ انتظامی عہدیداران سے گزارش ہے کہ اگر طلباء و طالبات کی بڑھتی ہوئی تعداد اور عملے کی کمی کی وجہ سے آپ صاحبان یہ ذمہ داری اُٹھانے سے قاصر ہیں تو براہ کرم ہم طالب علموں پر رحم فرما کر یہ معاملات کالجز کے سربراہان کے حوالے کر دیں اور وزیراعلیٰ صاحب سے عرض ہے کہ ہمیں بتایا جائے کہ ہمارا اتنا قیمتی وقت برباد کرنے کا ذمہ دار کون ہے اس کا مداوا کون کرے گا ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سے گزارش ہے کہ ہزاروں طلباء و طالبات کے مستقبل کو تباہ ہونے سے بچائیں تا کہ پتہ چل سکے کہ آپ حقیقی معنوں میں تعلیم دوست ہیں۔
منجانب:
طلبا و طالبات گورنمنٹ کالجز
ماتحت B.Z.U ملتان