Categories
فکشن

فہیم عباس کی کہانیاں

Pic 1 (Small)

مرگ مسلسل
باہر ابھی اندھیرا تھا میں معمول سے قبل جاگ اٹھا تھا۔ بستر پر لیٹے میں کھڑکی سے باہر اندھیرے کو گھورنے لگا۔ پرندے بھی ابھی خاموش تھے۔ اجنبیت کی ایک کیفیت مجھ پر طاری تھی، یہ وہی کمرہ تھا جس میں رہتے مجھے دو برس بیت چکے تھے۔ میرے ساتھ رہنے والا،ساتھ کے بستر پر ہمیشہ کی طرح سورہا تھا لیکن آج کچھ مختلف تھا، کچھ بدل چکا تھا۔
میں یہاں کیوں ہوں؟؟
یوں لگ رہا تھا جیسے میں کبھی اس کمرے میں آیا ہی نہیں تھا، یہ ساتھ بستر پر سویا ہوا شخص کون ہے؟ کیا میں اسے جانتا ہوں یا وہ مجھے جانتا ہے؟؟
میں اس صبح کسی اجنبی جگہ جاگا تھا، پھر میں نے خود کو خود میں سے اٹھتے دیکھا۔ کوئی ہوبہو مجھ سا ہی مجھ میں سے اٹھ کر میرے کپڑوں میں ملبوس ہو کر باہر جانے کی تیاری کررہا تھا۔ تیار ہو کر اس نے بستر پر نظر ڈالی ۔۔۔۔ کچھ دیر اس کی نگاہ مجھ پر بھی ٹکی رہی اور پھر وہ سر جھٹک کر دروازے سے باہر نکل گیا۔
میں بستر سے کودکر اس کے پیچھے ہولیا، مجھے اس کا پیچھا کرنا تھا۔ وہ اسی راستے پر ہولیا جس پر چل کر میں روز بس سٹاپ تک جاتا تھا۔ ہر روز کی طرح ہم بس سٹاپ پر کھڑے تھے، ویگن میں سوار ہورہے تھے۔ ہم دونوں ویگن میں تھے ، وہ کسی گہری سوچ میں گم تھا۔
لبرٹی گول چکر پر ہم دونوں حسب معمول اترے اور سڑک پار کرنے لگے۔ سڑک کے پار پہنچ کر میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ سڑک کے بیچ منجمد کھڑا تھا۔ میں اسے چیخ چیخ کر پکار رہا تھا، پر میری آواز اس تک نہیں پہنچ رہی تھی ، وہ اپنےآپ میں محو تھا۔ ۔۔۔۔پانچ نمبر ڈائیوو اسے کچل کر جا چکی تھی ، وہ سڑک پرخون میں لت پت پڑا تھا اور گاڑیاں اس کے اوپر سے رواں دواں تھیں۔ درد میرے پورے وجود کو چیر رہا تھا جیسے میری تمام ہڈیاں ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو چکی ہوں اور خون میرے کچلے ہوئے جسم سے ہر سُو بہہ رہا ہو۔
میں فٹ پاتھ پر کھڑا اسے مرتا دیکھ رہا تھا ، اس کا درد میرا تھا لیکن مجھ پر کہیں خون کا کوئی چھینٹا نہیں تھا۔ میں نے منہ موڑا اور اپنے دفتر کی طرف چل پڑا۔

<Pic 2 (Small)

تحلیل
بسوں کا اڈا تاریکی میں ڈوب کر اپنے شکستہ پن کو تقویت دے رہا ہے۔ زرد بلب کی روشنی اس اندھیرے سے لڑنے کی بے سود کوشش میں جھول رہی ہے، بلب ہوا سے پل رہا ہے۔
“بس ملے گی اس وقت؟ گاوں کے لیے؟”
“بابو بس آخری ٹیم رہ گیا ہے، بارہ بجے نکلے گا۔”
“یعنی ابھی انتظار کرنا ہوگا”
“جی جناب۔۔۔ آج تو شاید آپ ہی اکلوتی سواری ہیں۔”
“پوری بس لے جاو گے اکیلی سواری کے لیے؟”
“لے جانا ضروری ہےچاہے ایک ہی کیوں نہ ہو۔ مجھے تو جانا ہی ہے تو ساتھ ایک اور سہی۔ ہاہاہا”
بینچ کی لکڑی اپنی اصل رنگت کھو چکی ہے۔ میل اور پیلی روشنی کے اشتراک سے ایک بھورا بینچ میری آنکھوں میں منعکس ہورہا ہے۔ تاریکی اور خاموشی ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔لاری اڈا تاریک خلا میں معلق ایک تاریک مگرہموار زمینی ٹکڑے کی طرح معلوم ہوتا ہے۔
جہاں روشنی کی حد ختم ہوتی ہے اس کے پار کیا ہے؟؟
خاموشی۔
اندھیرا۔
دووجود۔
اور لوہے کا ایک پھٹیچر ڈھانچہ۔
اور یہ سب خلا میں معلق ایک تاریک قطعے پر
“بارہ بج گئے بابو۔ تو آج ہم دو ہی ہیں بس۔ چلو بسم اللہ!”
پھٹے فوم کی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے چھوٹے بلب کی خفیف روشنی میں اس نے پہلی بار غورسے دیکھا ، سیاہ بال، سیاہ داڑھی اور سیاہ لباس۔۔۔تاریکی کے اس مجسم وجود میں اس کی پیشانی، ناک اور اسٹیئرنگ پر چپکے ہاتھ اس قدیمی اور ازلی سیاہی میں ایک زندہ وجود کی موجودگی کی شہادت دے رہے تھے ۔
چارسو پھیلے گھپ اندھیرے میں ہیڈلائٹ تاریکی کے کینوس پر بجری اور تارکول کا راستہ تخلیق کررہی ہے۔ بس اپنی ہی تخلیق کردہ تصویر کو اپنے ہی پہیوں تلے کچل کر اسے تاریکی میں فنا ہونے کے لیے اپنے پیچھے چھوڑتی چلی جارہی ہے۔
کھڑڑ کھڑڑ۔۔۔گرڑ گڑ گڑ۔۔۔کھب۔۔۔۔
“بس خراب ہو گئی بابو!!”
مکمل تاریکی مجھے گھیرے ہوئے ہے، لمس موجودات سے میرا واحد رابطہ ہے۔ ڈرائیور بس سے نکل کر تاریکی میں تحلیل ہو چکا ہے۔ لمس کے سہارے میں نے سیٹ سے دروازے اور سڑک کو محسوس کیا۔
بس میرے باہر نکلتے ہی دھوئیں کی طرح فضا میں تحلیل ہو گئی ہے، دہشت میری سوچ کو جکڑ چکی ہے، میں ساکن کھڑا اپنے وجود کو لمحہ بہ لمحہ اس قدیم اورازلی تاریکی میں تحلیل ہوتے محسوس کر رہا ہوں۔۔۔۔
Categories
فکشن

احتلام

رات گئے تک شام ڈھلنے میں نہیں آئی تھی اور آتی بھی کس طرح کہ آج کے دن کا افق ٹیڑھا ہو گیا تھا جس کے کسی کونے میں سورج کچھ اس طرح پھنسا کہ دوبارہ ابھرنے کے تمام ارادے ڈوبے مگر وہ نہ ڈوب پایا۔ میرے کان آج کی شام کا یہ شکوہ سن کر پک چکے تھے کہ کبھی کبھی تو نہ مٹ سکنا بھی اذیت ہے۔
رات گئے تک شام ڈھلنے میں نہیں آئی تھی اور آتی بھی کس طرح کہ آج کے دن کا افق ٹیڑھا ہو گیا تھا جس کے کسی کونے میں سورج کچھ اس طرح پھنسا کہ دوبارہ ابھرنے کے تمام ارادے ڈوبے مگر وہ نہ ڈوب پایا۔
میز پر ورق تو بستر پر سلو ٹیں بکھری پڑی ہیں اور کھڑکی سے جھانک جھانک کر اندر آنے والی ہوا مجھ سے کہتی ہے کہ کچھ تو کہہ۔
نہیں ابھی کھیل تو ختم نہیں ہوا۔ نجانے کس لمحے کا اختتام اس خیال پر ہوا تھا۔
میں بہت اداس ہوں مگر اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دوبارہ سے کہو۔ میں بہت اداس ہوں اتنا اداس کہ اداس تک نہیں ہوں۔
اور یہ سچ ہے کہ آج وہ بہت اداس تھا۔ اگرچہ وہ آئے روز اداسی کا کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ ہی لیا کرتا تھا مگر آج کا الم تو اپنے بہانے سے بھی بہلنے کو تیار نہیں تھا۔ بہت دیر سے وہ اپنے کمرے میں بند بیٹھا کچھ بھی نہ سوچنے کی حالت میں بس اداس ہونے کے سہارے موجود تھا۔
وہ ایک خوش باش نوجوان ہے جسے بظاہر کوئی پریشانی نہیں ہے۔ تنہا رہتا ہے اور کبھی کبھی اپنے والدین سے بھی ملتا ہے۔ اچھی آمدنی نے اسے ایک آسان زندگی عنایت کی ہے جسے اس نے کتاب اور شراب سے بھر لیا ہے۔ دن بھر دفتر میں کام کرتا ہے اور شام کو اپنے پالتو کتے کو ساتھ لیے پارک میں چہل قدمی کرنے جاتا ہے۔ اس نے زندگی کو گزارنے سے زیادہ سوچنے کے لئے برتا ہے اور اب بھی وہ ایسے ہی کیے جا رہا ہے۔ اس کا حلیہ فرانس کے ناول نگاروں جیسا ہے ۔ اوور کوٹ پہننے کا عادی ہے اور عموماً کسی سے بات نہیں کرتا مگر جو بات اسے سب سے منفرد بناتی ہے وہ اس کا ایک طبع زاد اور بہترین فحش نگار ہونا ہے۔ فحش کہانیاں لکھنا اس کا واحد مشغلہ ہے جسے اس نے کسی تکان کے بغیر جاری رکھا ہوا ہے ۔ شہر میں فحش نگاروں کی ایک خفیہ انجمن ہے جس کا ماہانہ اجلاس ہوا کرتا ہے جہاں تمام فحش نگار اپنی تخلیقات پیش کرتے ہیں۔ وہ اس حلقے کا سر کردہ اور معزز ترین رکن ہے کیونکہ اس کی فحش نگاری حقیقت سے بھی زیادہ بیساختہ ہے۔ اس نے اپنے فن کی داد تمام اہل ِ فن سے پا رکھی ہے اور فحش نگاری اس کی زندگی کا آزمودہ تر ین رویہ ہے۔
مگر آج رات وہ بہت اداس ہے۔ کمرے میں لیمپ کی مدھم روشنی سے میز پر پڑے ورق نیم روشن ہیں سو دور سے ہی ان کا خالی ہونا صاف دکھائی دیتا ہے۔ وہ بہت دیر سے کرسی پر بیٹھا سگریٹ پیے جا رہا ہے۔ کچھ یاد کرنے کے لئے آنکھیں موند لیتا ہے اور نتیجہ جو بھی ہو کچھ لمحے بعد بہر حال اپنی آنکھیں ضرور کھول لیتا ہے اور سارے کمرے کو ایک بار پھر نئے سرےسے دیکھتا ہے۔ اس مسلسل مشقت کے باوجود کمرے کی ظاہری کیفیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوپاتی۔ ٹہلنے لگتا ہے مگر اس آسان کام میں بھی الجھ جاتا ہے اور پھر سے کرسی پہ جم جاتا ہے۔ وہ آج بہت اداس ہے۔
یہی سب ہو رہا ہوتا ہے کہ اسے یونہی ایک خیال آتا ہے۔
“کچھ لمحوں تک یہ اداسی واقعی اداس کرنا شروع کر دے گی”۔
مجھے آج ایک نئی کہانی لکھنی چاہیے ۔ مجھے آج ایسی فحش نگاری کرنی چاہیے کہ جسے پڑھ کر خود میں بھی شرما سکوں۔
وہ میز کے قریب آ کر بیٹھ گیا اور بہت دیر لکھنے کی کوشش کرتا رہا مگر کچھ بھی نہ لکھ پایا۔ شاید آج میں لکھ نہ پاؤں گا۔ آج مجھے اپنی ہی کہانیاں پڑھنی چاہئیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ میں اپنے وقت کا بہترین فحش نگار ہوں؟ میری ہوس جب تخیل کی سیاہی میں گھلتی ہے تو میرے قاری شدت ِ احساس سے پھٹے جاتے ہیں۔ میرے الفاظ عریانی کی با وقار تر ین شرح ہیں اور میرے کردار زفافِ خیال کی تمام رنگینوں کی سرخی سے تابندہ ہیں۔ ہاں آج مجھے اپنی ہی کہانیاں پڑھنا چائیں۔ کیا میرا خلا میری تخلیق جتنا وزنی ہے؟
یہ سوچتے ہی وہ اٹھا اور الماری سے ایک موٹی سی فائل اٹھا ئی اور اس میں سے صفحات کے مجموعے علیحدہ کرنے لگا۔ یہ سب وہ کہانیاں تھیں جو اس نے انجمن کے پچھلے سات ماہ کے اجلاسوں میں سنائی تھیں۔ ان میں اکثر کہانیاں تو بہت پسند کی گئی تھیں۔
آج مجھے اپنی ہی کہانیاں پڑھنی چاہئیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ میں اپنے وقت کا بہترین فحش نگار ہوں؟ میری ہوس جب تخیل کی سیاہی میں گھلتی ہے تو میرے قاری شدت ِ احساس سے پھٹے جاتے ہیں۔
صفحے پلٹ کر اس نے پڑھنا شروع کر دیا اور تسلسل سے پڑھتا رہا۔ اسے کچھ بھی اچھوتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ بہت دیر تک وہ ایک کے بعد دوسری کہانی پڑھتا گیا مگر اس کی کوئی بھی تحریر اسے مطمئن نہ کر پائی۔ جوں ہی ایک کہانی ختم ہوتی تو وہ اسے دوبارہ فائل میں رکھنے کی بجاۓ بے دھیانی سے فرش پر پھینک دیتا۔ یونہی وہ بہت دیر تک پڑھتا اور پھینکتا رہا مگر کہیں بھی اسے رمق بھر لذت بھی نصیب نہ ہوئی یہاں تک کہ فائل کی تمام کہانیاں ختم ہو گئیں۔
یہ کیا حماقت ہے ؟ کیا میری کہانیاں مجھے ہی لذت نہیں دے سکتیں؟ کیا میں اتنا ہی فضول لکھتا ہوں ؟ تو کیا یہ سب پاگل ہیں جو مجھے عظیم فحش نگار سمجھتے ہیں۔ اف یہ حالت کس قدر جھنجلا دینے والی تھی۔ وہ اٹھا اور اپنے سرہانے پڑے وہ مسودے اٹھا لایا جو وہ ان دنوں میں مکمل کر رہا تھا۔ اب اس نے ایک ایک کر کے ان مسودات کو پڑھنا شروع کر دیا۔ اس صفحے کی امید پر کہ جس کی کسی سطر میں اسے اپنا ہی تخیل کسی قدر بیگانہ اور نئی صورت میں ملے کہ وہ لذت لے سکے۔ مگر ایسا بھی نہ ہوا۔ اس سے اپنے سر کے بال نوچے اور دل ہی دل میں کہا۔
آج کل تو مجھے لکھنا ہی نہیں چاہیے۔
اداسی کا تسلسل مزید اداسی نے توڑا تو اس نے ایک نیا سگریٹ سلگا لیا اور کرسی سے سر ٹیک کر آنکھیں موند لیں۔ اب وہ اس بات سے بھی اداس تھا کہ وہ بہت بے کار کہانیاں لکھتا رہا ہے۔ مجھے کہانیاں لکھنا ہی نہیں چائیں۔ میں کبھی وہ کہانی نہیں لکھ سکتا جو مجھے لذت دے سکے۔ جس کا پلاٹ میرے اندرون کی تجسیم ہو جس کے تمام کردار میری الجھنوں میں لپٹی شہوت کو اماں دے سکیں۔ آہ ! میں قطعا” ایک عظیم فحش نگار نہیں ہوں۔
کھڑکی میں آ کر اس نے شہر پر اتنی نگاہ ضرور ڈالی کہ کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ خود اس کے سوا کسی کو بھی اس کے عظیم فحش نگار نہ ہونے سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔
آہاں ! اچانک اسے یاد آیا کہ اس کے ناقابل ِ اشاعت کلیات تو ابھی تک کسی نے بھی نہیں پڑھے۔ ان میں موجود کسی کہانی پر کسی قاری کی لذت آمیز داد کی تحریف نہیں ہو پائی۔ ہاں مجھے وہ سب آج رات پڑھنا چاہیے۔ وہ میری بہترین کہانیاں ہیں۔
تیزی سے وہ الماری کی طرف کی طرف بڑھا اور غلاف میں لپٹی کاغذوں کی ایک دبیز تہہ اٹھا لایا۔ چشمہ درست کر کے وہ میز پر بیٹھا اور نہایت امید سے اپنی کلیات میں سے ایک کہانی نکالی اور پڑھنا شروع کر دی۔ پڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ وہ ختم ہو ئی اور فرش پر بکھرے اوراق کے ڈھیر میں شامل ہو گئی۔ کوشش کر کے اس نے اپنی امید بحال کی اور دوسری کہانی شروع کی۔ اب وہ دوسری کہانی پڑھ رہا ہے۔ کہانی جاندار ہے مگر پڑھتے ہوۓ اسے خیال آتا ہے کہ اس سے کرداروں کے چناؤ میں غلطیاں ہوئی ہیں جس سے کہانی کی تکمیل نہیں ہو پائی۔ تیسری کہانی شروع ہوئی مگر اس کے پلاٹ میں کہیں کہیں جھول پڑتا ہے جو لذت آزمائی پر پانی پھیر دیتا ہے۔
میری مکمل ترین کہانی کہاں ہے ؟ میرا وہ تخیل کہاں ہے جو مجھے مطمئن کر سکے؟ میری تکمیل محض میرے قلم سے ہی سر زد ہو سکتی ہے۔ وہ کہاں ہے؟
اب تو اس پر پاگل پن کا دورہ پڑ چکا ہے۔ صفحے بہت تیزی سے الٹے جا رہے ہیں مگر ہر کہانی میں کوئی نقص نکل آتا ہے۔ میری کہانی کہاں ہے؟ میری مکمل کہانی کہاں ہے ؟ کلیات تمام ہوئی اور فرش پر صفحات کا اژدھا م لگ گیا۔
میں نے زندگی میں کبھی مکمل کہانی نہیں لکھی ! میرا تخیل کبھی میرا ہی ہمسر نہیں ہوا۔ میں کس قدر تنہا ہوں کہ مجھے اپنا سہارا بھی نہیں ہے۔
وہ میز کے سامنے دھری کرسی پر ہی پڑا یہ سب سوچ رہا ہے۔ آج کا دکھ کس قدر ناقابل ِ تحریر ہے۔ یہ میری کسی کہانی کے کسی باب میں نہیں آیا۔
رات بیتی جا رہی ہے اور وہ یہ سب سوچتے سوچتے نجانے کب سو گیا۔
خواب میں وہ کیا دیکھتا ہے کہ ایک بہت بڑا آڈیٹوریم جس میں کچھا کھچ لوگ بھرے ہیں اور سامنے اسٹیج پر ایک بڑے سے میز کی ایک سمت میں کاغذوں کا کافی بڑا پلندہ پڑا ہے اور میز کے دوسرے کنارے سفید موٹی کنپٹیوں اور سپاٹ چہرے کا ایک بوڑھا کچھ پڑھے جا رہا ہے۔ لوگ اتنے انہماک سے سن رہے ہیں کہ بوڑھے کے الفاظ پورے ایوان میں گونج رہے ہیں۔ وہ سب لوگوں کو حیران ہو کے دیکھتا ہے کیونکہ وہ کسی کو بھی نہیں جانتا۔ اسٹیج پر روشنی زیادہ ہے جب کہ باقی حصے میں مدھم ہے۔ اتنی دیر میں سب تالیاں بجانے لگتے ہیں اور وہ بوڑھے کی طرف دیکھتا ہے جو تالیوں کے وقفے کے بعد کچھ یوں کہہ رہا ہے۔
” بہت شکریہ معزز لکھاریو ! یہ کہانی ساتویں صدی قبل مسیح کے ایک مصری فحش نگار کی تخلیق تھی۔ میں آپ کو بتاتا چلوں کہ آج یہاں تاریخ کے تمام فحش نگار جمع ہیں اور آپ باری باری ان سب کی تخلیقات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ”
یہ کہہ کر بوڑھا کاغذوں کے پلندے سے ایک اور کہانی نکالتا ہے اور سنانا شروع کرتا ہے ۔ ایک کے بعد ایک کہانی شروع ہوتی ہے اور تالیوں کی گونج پر ختم ہو جاتی ہے۔ اب اسے ماحول سے کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہو رہی بلکہ وہ بھی بوڑھے کو سن رہا ہے مگر وہ کسی بھی کہانی میں اپنی دلچسپی اور توجہ برقرار نہیں رکھ پاتا۔ ساتویں صدی قبل مسیح سے شروع ہو کر اور مصر و نینوا ، یونان و روم ، عرب و ایران اور ہند و چین کے تمام فحش نگاروں کا کلام مسلسل پڑھا جا رہا ہے مگر وہ اپنے خیالوں میں گم ہے یہاں تک کہ وہ بوڑھے کے اس اعلان پر چونک اٹھتا ہے کہ اب آپ کے سامنے فلاں دور کے فلاں فحش نگار کی کہانی پیش کی جاتی ہے۔ چونک اٹھنے کی بات یہ ہے کہ اس کا نام لیا گیا ہے اور اس کی کہانی پڑھی جانے والی ہے۔ وہ متوجہ ہو کر کرسی پر اکڑوں بیٹھ جاتا ہے۔
وہ سنتا رہا اور اپنی لذت کی سرشاری میں اس تکمیل سے حظ اٹھاتا رہا جو تمام تر کہانی کا موضوع بنی رہی۔ ایک دم سے اس کی سانسیں تیز ہونا شروع ہوئیں اور تمام بدن کانپنے لگا ، یقیناً وہ اپنی کہانی میں داخل ہو چکا تھا۔
کہانی شروع ہوتی ہے مگر اسے صحیح طرح یاد نہیں کہ یہ کہانی اس نے کب لکھی تھی۔ تمام ایوان پر سکوت طاری ہے اور بوڑھے کی آواز میں اس کی کہانی اس طرح آگے بڑھتی جا رہی ہے کہ کرسی کے بازوؤں پر اس کی گرفت کی ڈھیلی پڑ جاتی ہے اور ٹانگیں نیم دراز ہو جاتی ہیں۔ آنکھیں پھٹنے کو آرہی ہیں اور تعجب کسی آن کم نہیں ہو پاتا۔ کرداروں کی تقسیم ، پلاٹ کی ترتیب اور مکالمات کی برجستگی اسے بہت لذت دے رہی ہے۔ اف یہ کس قدر مکمل کہانی ہے۔
ایوان میں موجود لوگ کہانی میں یوں گم ہیں کہ گویا موجود ہی نہیں۔ بوڑھا پڑھتا جا رہا ہے اور کہانی سے اس قدر لذت ٹپک رہی ہے کہ پہلی بار اس کی آواز بھی کہیں کہیں کانپ جاتی ہے۔
لیکن وہ نجانے کہاں گم ہے۔ اس کی نگاہوں سے سب لوگ ہٹ گئے ہیں اور ایوان کی دیواریں ایک دم جیسے غائب ہو گئی ہوں۔ بس اب ایک آواز رہ گئی ہے جو کہانی کی مسلسل تلاوت کیے جا رہی ہے اور کچھ دیر بعد یہ آواز بھی گم ہو جاتی ہے اب بس ایک کہانی ہے جو چل رہی ہے۔ وہ سنتا رہا اور اپنی لذت کی سرشاری میں اس تکمیل سے حظ اٹھاتا رہا جو تمام تر کہانی کا موضوع بنی رہی۔ ایک دم سے اس کی سانسیں تیز ہونا شروع ہوئیں اور تمام بدن کانپنے لگا ، یقیناً وہ اپنی کہانی میں داخل ہو چکا تھا۔ اچانک اس کی آنکھ کھل گئی۔ وہ کرسی پر نیم دراز ہے اور اسے انزال ہو چکا ہے۔ خواب میں بوڑھے کی زبانی اس کی تحریر کردہ کہانی شاید مکمل نہیں ہوئی تھی۔ وہ تیزی سے اٹھتا ہے اور فرش پر پڑے تمام کاغذ اکٹھے کر کے کھڑکی سے باہر پھینک دیتا ہے۔ دراز سے نیا کاغذ نکالتا ہے اور لکھنا شروع کر دیتا ہے۔