<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ناصر عباس نیر Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/%d9%86%d8%a7%d8%b5%d8%b1-%d8%b9%d8%a8%d8%a7%d8%b3-%d9%86%db%8c%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/ناصر-عباس-نیر/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Sat, 01 Jun 2024 04:00:31 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>ناصر عباس نیر Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/ناصر-عباس-نیر/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>نثری نظم کا فن (اویس سجاد)</title>
		<link>https://laaltain.pk/nasri-nazm-ka-fun/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/nasri-nazm-ka-fun/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[اویس سجاد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 30 May 2021 18:39:29 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[افضال احمد سید]]></category>
		<category><![CDATA[اویس سجاد]]></category>
		<category><![CDATA[ساحر شفیق]]></category>
		<category><![CDATA[سعادت سعید]]></category>
		<category><![CDATA[سید کاشف رضا]]></category>
		<category><![CDATA[ناصر عباس نیر]]></category>
		<category><![CDATA[نثری نظم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=26356</guid>

					<description><![CDATA[<p>نثری نظم کا فن اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس ہیئت /صنف کے لیے مروجہ اوزان یا بحور کی جو قربانی دی جاتی ہے وہ کسی صورت رائیگاں نہیں جا سکتی۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/nasri-nazm-ka-fun/">نثری نظم کا فن (اویس سجاد)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>نوٹ: یہ مضمون راجوری (ہندوستان) سے شایع ہونے والے رسالے “تفہیم” کے تازہ شمارے (جون ۲۰۲١) میں بھی شامل ہے۔</p>
<p>شاعری کا تعلق تخیل، حسیات، جذبات اور کیفیات سے جڑا ہوا ہے۔ یہ ہمارے شعوری اور لاشعوری خیالات کو مہمیز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسے وحدت یا کلیت میں ڈھلنا پڑتا ہے۔ یہ عمل شاعری کی ہئیتی ضرورت کو مکمل کرتا ہے اور اس سے وہ آہنگ بھی جنم لیتا ہے جو سامع یا قاری پر اثر انداز ہو۔ نفیس اور پُراثر شاعری زمانی یا مکانی قیود کی پابند نہیں ہوتی بلکہ بڑا شاعر اسے آفاقیت کا درجہ دیتا ہے۔ رامائن، مہابھارت، اوڈیسی یا ایلیڈ جیسے شاہکار اگر آج بھی ہمیں لطف پہنچاتے ہیں تو ان باریکیوں کو تلاش کرنا چاہیے جس کی وجہ سے یہ فن پارے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔</p>
<p>شاعر کو اختصاص حاصل ہے کہ وہ تخیل اور اسلوب سے نئے جذبات اختراع کرتا ہے۔ ایسا نہیں کہ شاعری جذبات و احساسات کے دائرے میں مقید رہتی ہے بلکہ وہ تو انسان کے باطن کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ اچھی شاعری انسان کو مایوسی کی طرف دھکیلنے کی بجائے ؛اس سے چند قدم آگے چلتی ہے۔ شاعری قاری کو ایسے راستے پر چلنے پر مجبور کرتی ہے جو بالکل نیا اور منفرد ہوتا ہے؛ یہ ایسا ساز ہے جس کے پردوں میں جذبات کے نغمے خوابیدہ ہوتے ہیں۔ (1)</p>
<p>شاعری کو مختلف اصناف میں منقسم کیا جا سکتا ہے۔ یہ تمام اصناف اپنے اپنے عہد کی پیدوار ہیں۔ نظم شاعری کا اہم سانچہ ہے۔ اس میں مختلف موضوعات کو ہیئتی اور تکنیکی تجربات کے ساتھ پرویا جا سکتا ہے۔ ہیئت اور مواد کی سطح پر نظم میں بے شمار تجربات ہوئے۔ مواد کا تعلق چونکہ ہیئت اور تکنیک سے ہے ، اس لیے نظم کے فنی معیارات طے کرنا مشکل عمل ہے۔ پابند نظم سے نثری نظم تک کا سفر اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نظم میں لامختتم امکانات پوشیدہ ہیں۔ نظم میں انسان کی نفسیاتی الجھنوں اور تمام معاملات زندگی کی بہترین عکاسی ہوتی ہے۔ نظم کسی بھی فرد کے انفرادی جذبات کو آشکار کرتی ہے اور انسان خود کو نئے سرے سے تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ عمل شاعری کی دیگر اصناف کے مقابلے میں زیادہ ٹھوس، جامع اور وسعت یافتہ ہے(2)</p>
<p>بعض اوقات نئے عمل کو منکشف کرنے کے لیے نظم میں ایسے اساطیری یا تاریخی حوالے آ جاتے ہیں جو قاری سے گہرے شعور کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ راشد اور میرا جی کی نظموں کو سمجھنے کے لیے قدیم اساطیر کی جانب مراجعت کرنا پڑتی ہے۔ سپاٹ اور کیفیت سے خالی بیانیہ نظم کا لطف زائل کر سکتا ہے۔ نظم میں استعاروں اور علامتوں کے ذریعے جو تخلیقی فضا قائم ہوتی ہے وہ قاری کو سوچنے پر مجبور کر تی ہے۔ ہر نظم اپنے ساتھ خارجی تکنیک ضرور لے کر آتی ہے جو مواد (داخلی تکنیک) سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔ اس متعلق ناصر عباس نیئر نے اپنی کتاب ’’نظم کیسے پڑھیں؟‘‘ میں سیر حاصل بحث کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ شاعر کے لیے ہیئت کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں کرتی۔ وہ اس بات سے آگاہ ہوتا ہے کہ کون سی ہیئت اس کے مواد کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں شاعر ’کیا‘ کے بارے میں لاعلم ہو سکتا ہے مگر ’کیسے‘ کے سلسلے میں نہیں۔ (3)</p>
<p>نثری نظم میں یہ معاملہ مختلف ہے۔ یہاں تو تخلیق کار اسی وجہ سے نثری نظم کا انتخاب کرتا ہے، کیونکہ اس کے لیے نظم کی باقی ہیئتیں رکاوٹ بنتی محسوس ہوتی ہیں۔ نثری نظم خلق کرنے والے کے سامنے ہیئت کی بجائے مواد (اظہار) اہم ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ اس ہیئت کا انتخاب کرتا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ مواد اور ہیئت کی اہمیت اپنی اپنی جگہ پر قائم ہے۔</p>
<p>نظم کی روایت پر ایک مختصر سی نگاہ دوڑائیں تو پابند نظم قصیدہ، مثنوی یا رباعی کا ارتقاء معلوم ہوتی ہے۔ نظیر اکبر آبادی نے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا جو عام آدمی کی محرومیوں اور خواہشوں کو سامنے لاتے ہیں۔ نظم نے ہر عہد میں انسان کی نئی قدروں کو منکشف کرنے پر زور دیا ہے۔ اسی لیے ان کی نظموں میں وہ تمام اقدار دکھائی دیتی ہیں جن کو بعد میں ترقی پسند ادیبوں نے موضوع بنایا۔ نظیر کی نظمیں زندگی کے مختلف رنگوں سے ہم آہنگ ہیں۔ ’’الٰہی نامہ، بنجارہ نامہ‘‘ اور ’’برسات کی بہاریں‘‘ چند ایسی نظمیں ہیں، جو عام آدمی کے خدشات کو ظاہر کرتی ہیں۔ انہوں نے سماجی روّیوں، مذہبی اعتقادات کو نظموں میں خوبصورتی سے پرویا۔ ان کی نظموں میں ایک خاص رنگ دکھائی دیتا ہے جو لوک گیتوں کے قریب تر ہے۔</p>
<p>۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد جب سماج کے روایتی بیانیے ٹوٹے تو اس کے ساتھ منطقی روّیوں نے جنم لیا۔ لوگوں نے استدلالی انداز میں سوچنا شروع کیا۔ یہ وہی دور تھا جب ہندوستانی سماج نئے حالات اور مغربی اثرات سے متاثر ہو رہا تھا۔ جدید نظم کا آغاز ہوا تو اس میں ہیئت اور تکنیک کے تجربات بھی ہوئے۔ ۱۸۵۷ء کے بعد جدید نظم نگاری نے اپنی جڑوں کو مضبوط کیا ۔ سماجی، سیاسی اور تہذیبی تغیرات کی وجہ سے سر سید، آزاد اور حالی نے اصلاحی کوششیں کیں۔ جدید نظم کو پروان چڑھانے میں ان تینوں کا حصہ شامل تھا۔ ۱۸۸۷ء کے پاس حالی کے ایک شاگرد پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی نے تجربہ کیا جو انگریزی شاعری کی مخصوص ہیئت ’’اسٹنزا‘‘ فارم کے قریب تر تھا۔ آزاد اور حالی نے جدید نظم کا جو تصور پیش کیا تھا، اس نے نہ صرف انیسویں صدی کے شعراء کو متاثر کیا بلکہ اس کے اثرات بیسویں صدی کے شعراء بھی پر بھی مرتب ہوئے۔ یہاں سے نظم نگاروں کی ایک نئی پود نے جنم لیا جن کے موضوعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ نظم وہ صنف ہے جس نے خود کوبدلتے سماج کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔</p>
<p>اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پابند، معریٰ اور آزاد نظم کے بعد نثری نظم کیوں وجود میں آئی؟ ایسا کیا ہوا کہ پابند اور معریٰ نظم طاقِ نسیاں کی نذر ہو گئیں، حالانکہ ہیئتی اعتبار سے پابند اور معریٰ نظم یہ صلاحیت رکھتی تھی کہ اسے شعری روایت میں بلند درجے پر فائز کیا جائے۔ لیکن ہمارے سامنے جدید زندگی نے جو صورتحال پیدا کی اس کا بوجھ تو پابند نظم بھی نہیں سہار سکتی تھی۔ نظیر اکبر آبادی کی روایت کو حبیب جالب، ساقی فاروقی اور فیض احمد فیض وغیرہ نے زندہ رکھنے کی سعی کی مگر یہ ہیئت پنپ نہ سکی۔ انہوں نے لسانی تجربات بھی کیے مگر زیادہ سفر نہ کر سکے۔ جدید نظم کی جو بنیاد آزاد اور حالی نے رکھی تھی وہ شرر، طباطبائی اور اقبال سے ہوتی ہوئی مجید امجد تک ٹھہری۔ جدید نظم میں شعراء کی بڑی تعداد تجربات کر رہی تھی۔ ۱۹۶۰ء کے قریب ’’لسانی تشکیلات‘‘ کی تحریک نے اردو ادب کے دروازے پر دستک دی جو جدیدیت کی پیداوار تھی۔ اس تحریک میں افتخار جالب اور شمس الرحمن فاروقی نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ ’شعریت‘ کو موضوع یا تجربہ کی بنیاد پر نہیں ماپا جا سکتا بلکہ ’فارم‘ کے ذریعے جو لفظوں کی عمارت وجود میں آتی ہے وہی شاعری ہے۔ یہ عمل لاشعوری نہیں ہوتا بلکہ شاعر ارادی طور پر تمام فیصلے کرتا ہے۔</p>
<p>اسی دوران ’’نثری نظم‘‘ کا وجود بھی عمل میں آیا۔ اس نے ہیئت وزن اور بحر کے تمام معاملات کو ازکارِ رفتہ قرار دیا۔ نثری نظم لکھنے والوں کا ماننا تھا کہ آہنگ ہی وہ بنیادی شرط ہے جس سے ’’شعریت‘‘ کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یہ اردو ادب کے لیے نیا مگر مغرب کے لیے پرانا تجربہ تھا۔ اردو میں آزاد نظم کی طرح نثری نظم لکھنے والوں نے کوئی تحریک نہیں چلائی۔ بلکہ کئی تخلیق کاروں نے اس تجربے کو کشادہ دل کے ساتھ تسلیم کیا۔ فرانسیسی شاعر ’’بودلیئر‘‘ نے سب سے پہلے نثری نظم کی اصطلاح استعمال کی۔ بودلیئر سے کئی ہم عصر شاعر بھی متاثر ہوئے جن میں راں بو، ملارمے وغیرہ شامل ہیں۔</p>
<p>جب اردو میں نثری نظم لکھنے کا چلن عام ہوا تو جہاں اس ہیئت کا خیر مقدم کیا گیا وہیں مخالف روّیے بھی سامنے آئے۔ ان کے بقول یہ صنف چونکہ مروجہ اصنافِ شاعری کی طرح موزوں نہیں ہے، اس لیے یہ تجربہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ حالانکہ ناقدین اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ مغرب میں بڑے پیمانے پر اس صنف میں طبع آزمائی کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے ’’اوراق‘‘ میں اسے صنفِ شعر تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ انہوں نے اس صنف /ہیئت کو ’’اوراق‘‘ میں جگہ دی بھی تو اپنے پسندیدہ ناموں کے ساتھ، اسے نثم، نثرِ لطیف جیسے نام دینے کی کوشش کی مگر یہ جدو جہد کار آمد نہ ہو سکی۔ ان کا موقف تھا کہ شاعری تو خارجی اور عروضی آہنگ سے مملو ہے۔ چونکہ نثری نظم عروضی پیرائے پر پورا نہیں اترتی لہٰذا اسے شاعری کے دائرے سے خارج کرنے پر کوئی افسوس نہیں ہونا چاہیے۔</p>
<p>ذوالفقار تابش نے بھی نثری نظم کو رد کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ نثر اور نظم دو مختلف اصناف ہیں۔ ان کا یکجا کرنا کسی نئے بیانیے کو جنم دینے کے مترادف ہے۔ نثری نظم کے نام پر جو کچھ تخلیق کیا جا رہا ہے وہ نظم سے زیادہ نثر کے قریب ہے۔ انہوں نے نثری نظم کو سہل نگاری کی گھٹیا مثال قرار دیا۔</p>
<p>فیض احمد فیض کا بھی یہی خیال تھا کہ نثری شاعری بحور اور اوزان کے پیمانے پر پورا نہیں اترتی، اسے شاعری قرار دینا کسی گناہ سے کم نہیں ۔ ان ناقدین کے مقابلے میں وہ لوگ بھی سامنے آئے جنہوں نے نثری نظم کو عصرِ حاضر کے لیے ضروری صنف قرار دیا۔ احمد اعجاز نے تو یہاں تک کہا کہ نئی اور جدید شاعری کے امکانات اسی ہیئت یا صنف میں پوشیدہ ہیں۔ اس کے علاوہ شہر یار، قمر جمیل، انیس ناگی، مبارک احمد، مخدوم منور، فہیم جوزی اور سعادت سعید وغیرہ وہ نام ہیں جنہوں نے نثری نظم کی بھرپور حمایت کی۔ اس تمام پس منظر کے بعد اب ان فنی پیمانوں کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں جو نثری نظم میں موجود ہو سکتے ہیں یا اس کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ صنف آج بھی رد و قبول کے مرحلے سے گزر رہی ہے، اس لیے فنی معیارات طے کرنا یا کچھ لکھنا قبل از وقت ہو گا۔ اس سب کے باوجود نثری نظم کے نام پر جو کچھ لکھا جا رہا ہے وہ اسے مضبوط بنانے کی بجائے شک و شبہات میں مبتلا کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں چند پیمانے وضع ہونے چاہییں جو اس صنف کے ارتقاء میں معاون ثابت ہو سکیں۔ اس ضمن میں نثری نظم کے ان شاعروں کا بھی ذکر کیا جائے گا جن کی نظمیں فنی معیارات طے کرتی ہوئی ماڈل (نمونہ) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لیکن اس سے پہلے ان عناصر کا جائزہ لیتے ہیں جو نثری نظم میں شعریت پیدا کر سکتے ہیں۔</p>
<p>تخلیق میں شعریت اسی وقت پیدا ہو سکتی ہے جب فکر و احساس میں لطافت اور بیان کرنے کے انداز میں کوئی انوکھا پن ہو۔ اس حوالے سے ہیئت یا مواد کی جمالیاتی فضا بھی موثر ثابت ہو سکتی ہے۔ اسے تخلیقی فکر یا جذبے کی ہم آہنگی کے بغیر پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں عناصر مل کر پُراثر فضا کو تشکیل دیتے ہیں جس کا تعلق ہماری حسیات یاتجربے سے ہے۔ جدید نظم کی لفظیات، استعارے اور تشبیہات شعریت کو جنم دیتے ہیں۔ جبکہ نثری نظم میں تمثیلی، تجریدی اور امیجری مناظر شعریت پیدا کرنے کے لیے موثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ موضوع اور ہیئت میں ہم آمیزی مخصوص شعریت کو ابھارتی ہے۔ جب کوئی لفظ کسی مخصوص استعارے کا لباس پہنتا ہے تو اس میں موسیقی کی فضا پیدا ہوتی ہے جو دراصل شعریت ہی ہے۔ استعاروں کے ذریعے نئی دنیا خلق کی جا سکتی ہے۔ اساطیری کرداروں کی بازیافت ہوسکتی ہے۔ بہرحال شعریت پیدا کرنے کے لیے بنیادی اہمیت استعارے کو دی جا سکتی ہے اور اسی کے ذریعے نئے خیالات وجود میں آتے ہیں۔ نثری نظم میں چونکہ ’’لفظ‘‘ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، اس لیے لفظ کو نظر انداز کر کے ہم معنی کی جانب جست نہیں بھر سکتے۔ نثری نظم میں لفظ کے ذریعے جو شعریت جنم لیتی ہے وہ قاری کو اپنے حصار میں لے سکتی ہے۔</p>
<p>نثری نظم مروجہ نظام سے انحراف کرتی ہے۔ اس کی سطروں میں داخلی آہنگ پایا جاتا ہے جو پڑھنے والے یعنی خارجی آہنگ سے متشکل ہوتا ہے۔ نثری نظم امیجز (Images) پر اپنی بنیاد استوار کرتی ہے۔ اس میں واقعیت کی بجائے تجریدیت کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ لیکن آج کی نثری نظم بیانیہ اسلوب بھی اختیار کرتی نظر آتی ہے اور اس کی مختلف شکلیں ظہور پذیر ہو چکی ہیں۔ نثری نظم کا تعلق چونکہ ہمارے لاشعور سے ہے اس لیے مختلف شہروں میں جو نظمیں لکھی گئیں وہ مختلف فنی معیارات طے کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ جب کراچی کے حالات کشیدہ ہوئے، ٹارگٹ کلنگ ہونے لگی، تشدد کی فضا چھانے لگی اور بوری بند لاشوں کا ملنا معمول بن گیا تو اس صورت میں نثری نظم بیانیہ اسلوب، براہ راست یا واقعیت کے قریب نظر آئی۔ <a href="https://laaltain.pk/author/afzal-ahmed-syed/" target="_blank" rel="noopener">افضال احمد سید</a>، ثروت حسین، ذی شان ساحل، <a href="https://laaltain.pk/author/syed-saeeduddin/" target="_blank" rel="noopener">سعید الدین</a>، <a href="https://laaltain.pk/author/tanveer-anjum/" target="_blank" rel="noopener">تنویر انجم</a> اور <a href="https://laaltain.pk/author/syed-kashif-raza/" target="_blank" rel="noopener">کاشف رضا</a> کی نظموں میں ایسی فضا محسوس کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>افضال احمد کی نظم سے چند سطریں دیکھئے جو ’’مٹی کی کان‘‘ میں شامل ہے:<br>
’’میرا پسندیدہ کھلونا<br>
چوہے دان رہا ہو گا<br>
میری دوپہریں وباؤں کی بستیوں میں آہ و بکا سننے میں گزری ہوں گی<br>
شام کو جب منحوس پرندے شور مچانے لگتے<br>
میں گھر آ جاتا<br>
اور اپنے پاؤں سے زمین کریدنے لگتا<br>
کوئی خزانہ ہمارے گھر کے نیچے دفن ہے<br>
مگر میرا باپ مجھے لہو لہان کر دیتا ہے‘‘ (4)</p>
<p>ان سطروں میں کوئی تجریدیت یا بھاری بھر کم لفظ نہیں ملتا بلکہ یہ کسی واقعے کی جانب اشارہ ہے۔ لاشوں کی بات ہے، قید کا ذکر ہے اور آہ و بکا سننے کے عمل کو بیان کیا گیا ہے۔ جب انسان سماج کے مکروہ چہرے سے خوفناک ہو جاتا ہے تو وہ نیا جہان بسانا چاہتا ہے۔ یہ موت کی خواہش بھی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی قبر تیار کر رہا ہے۔</p>
<p>کاشف رضا کی شاعری کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی نظموں میں لاپتہ افراد کا دکھ اور قتل کیے جانے والے معصوم لوگوں کی ہُوک سنائی دیتی ہے۔ اگر ان کی نظموں کے عنوان بھی دیکھے جائیں تو وہ بھی کسی مجموعی واقعے کو ہی جنم دے رہے ہیں۔ ’’ممنوعہ موسموں کی کتاب‘‘ سے ایک نظم ’’کراچی ڈیتھ سروس‘‘ کی چند سطریں دیکھئے:<br>
’’ زندگی سے موت تک<br>
اک کڑی مسافت ہے<br>
ہم اسے سہولت سے طے کراتے ہیں<br>
اور آپ سے تیس روپے فی گولی<br>
قیمت بھی نہیں لیتے</p>
<p>آپ کے لیے ہم<br>
پٹ سن کی گانٹھوں سے<br>
کفن تیار کرتے ہیں<br>
جس کی خوشبو نیند آور ہوتی ہے</p>
<p>ہمارے رضا کار<br>
آپ کی لاش اٹھاتے ہیں<br>
اور ہماری ایمبولینس<br>
آپ کے لیے ٹریفک کو چیرتی ہوئی نکلتی ہے‘‘ (5)</p>
<p>ان سطروں میں وہ دکھ واضح ہے جو پچھلی کئی دہائیوں سے کراچی کے عام لوگوں میں سرایت کر چکا ہے۔ ان کے کان صبح و شام کا فاصلہ اذانوں کی بجائے گولیوں کی آواز سے ماپتے ہیں۔ ’’کراچی ڈیتھ سروس‘‘ دراصل کسی ایک فرد یا سماج کے لیے کہی جانے والی نظم نہیں ہے، بلکہ اس میں مجموعی فضا کا ذکر ہے۔</p>
<p>اسلام آباد کے منفرد اور نفیس شاعر <a href="https://laaltain.pk/author/naseer-ahmed-nasir/" target="_blank" rel="noopener">نصیر احمد ناصر</a> کی نظمیں فطرت (نیچر) کے زیادہ قریب ہیں۔ وہاں کے موسموں کا ذکر ملتا ہے اور خوبصورتی کی عکاسی ہوتی ہے۔ ان کی نظم ’’<a href="https://laaltain.pk/main-parindon-ki-tarah-tulu-hona-chahta-hon/" target="_blank" rel="noopener">میں پرندوں کی طرح طلوع ہونا چاہتا ہوں</a>‘‘ ملاحظہ ہو:<br>
’’ میں جانتا ہوں<br>
میرا سفر ختم ہونے والاہے<br>
نیند آنکھوں میں پڑاؤڈال چکی ہے<br>
اور اندھیرے کی ساکن آواز<br>
کہیں بہت قریب سے سنائی دے رہی ہے<br>
لیکن میں سونا نہیں چاہتا<br>
نظم، کچھ دیر اور میرے ساتھ رہو<br>
مجھ سے باتیں کرو<br>
مجھے تنہا مت چھوڑو<br>
میں اس رات کی صبح دیکھنا،<br>
اور پرندوں کی طرح<br>
تمہارے ساتھ طلوع ہونا چاہتا ہوں‘‘ (6)</p>
<p>اس نظم میں استعاراتی زبان اختیار کی گئی ہے۔ یہ نظم فطرت سے مکالمہ کرنا چاہتی ہے۔ اس میں جمالیاتی فضا بھی واضح ہے۔ ۲۰۰۰ء کے بعد جو نثری نظم کے شعراء سامنے آتے ہیں، ان کے ہاں نئی بوطیقا ملتی ہے۔ جس میں زندگی کی لایعنیت، فرد کی تنہائی اور کم مائیگی کا اظہار ملتا ہے۔ ایسے شعراء میں ساحر شفیق، <a href="https://laaltain.pk/author/zahid-imroz/" target="_blank" rel="noopener">زاہد امروز</a> اور <a href="https://laaltain.pk/author/qasim-yaqoob/" target="_blank" rel="noopener">قاسم یعقوب</a> کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ <a href="https://laaltain.pk/author/sahir-shafique/" target="_blank" rel="noopener">ساحر شفیق</a> کا تعلق ملتان سے ہے۔ ان کی نظموں کا مجموعہ ’’خودکشی کا دعوت نامہ‘‘ ۲۰۱۰ء میں طبع ہوا۔ ساحر کی نظموں میں ایک ایسا فرد نظر آتا ہے جو ہر چیز سے بیزار ہو چکا ہے۔ وہ کسی نئے جہان کی طرف نکل جانا چاہتا ہے۔ ان کی نظم سے یہ سطریں دیکھئے:<br>
’’ میرے پاس ایک گیت تھا/ جسے میرے ملازم نے چُرا کر کباڑی کو بیچ دیا<br>
میرے پاس ایک بات تھی/جو مجھ سے کہیں گِر گئی<br>
میرے پاس ایک دن تھا/ جسے میں ایک سفر میں گنوا آیا<br>
میرے پاس ایک دعا تھی /جو چڑیا کی طرح اُڑ گئی<br>
میرے پاس ایک تعویز تھا / جسے میں نے بہت سالوں بعد کھولا تو اس میں گالیاں لکھی ہوئی تھیں<br>
میرے پاس ایک حیرت تھی/جو ہمسائے کے کُتے کے کاٹنے سے مر گئی<br>
میرے پاس ایک پری تھی/جو خود دیو کے ساتھ بھاگ گئی<br>
میرے پاس وقت تھا/ جو ناراض ہو کر چلا گیا<br>
میرے پاس ایک شام تھی/ جو چائے کے ساتھ پی گئی<br>
___ اور ___<br>
میرے پاس میں خود تھا/ جسے میں نے قتل کر دیا‘‘ (7)</p>
<p>اس نظم میں نثری نظم کی نئی جہت دریافت ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایسا بیانیہ نظم میں بہت کم ملتا ہے۔ ان لائنوں کی ترتیب نثری نظم کی نئی تکنیک بھی متعارف کروا رہی ہے۔ ساحر کی نظمیں، جون ایلیاء کی شاعری کی طرح کسی نوجوان کو کھانے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ نظموں میں یہ اسلوب اب دقیق ہو چکا ہے۔ جو نوآموز خود کو اس رنگ میں رنگنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں وہ صرف نقالی کر رہے ہیں۔</p>
<p>زاہد امروز کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ ان کی نظموں کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ زاہد امروز کی نظمیں تہہ دار ہیں مگر مشکل نہیں۔ بظاہر تو ان میں زندگی کا عامیانہ رنگ دکھائی دیتا ہے مگر بین السطور میں انسان کو زندگی کی گھمبیرتا سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ ان کی نظم ’’ <a href="https://laaltain.pk/main-teri-khushi-mein-khush-ho-jaun/" target="_blank" rel="noopener">میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں</a>‘‘ بھی ایسی کیفیت کو آشکار کرتی ہے۔<br>
’’میں تیرے ساتھ لپٹ کر<br>
تیرے جُوڑے میں مہکے مہکے پھول سجانا چاہتا ہوں<br>
لیکن تُو چہرے پر غلاظت مَل لیتی ہے<br>
تُو اپنی عیار ہنسی سے<br>
شفاف دلوں کی ننھی خوشیاں ڈس لیتی ہے<br>
چم چم کرتی بھربھرائی دنیا!<br>
تیری سنگت بڑی ہی ظالم دشمن ہے<br>
میں تجھ کو گلے لگا لوں لیکن<br>
تیری قبا میں پوشیدہ ہے<br>
سب چوری کا مال<br>
تیری جھلمل سطح کے نیچے<br>
پھیلا ہے مایا کا جال</p>
<p>اگر ترے سینے پر گولائیاں<br>
گوتم کے سَر جیسی ہوں<br>
میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں ‘‘ (8)</p>
<p>زاہد امروز کی نظموں میں فنی حوالے سے یہ بات بھی قابل غور ہے کہ انہوں نے شعریت پیدا کرنے کے لیے ایک مختلف استعاراتی نظام وضع کیا ہے۔ عصرِ حاضر میں نثری کے متعلق یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ اسے نثر کے زیادہ قریب ہونا چاہیے تا کہ اس صنف کے تخلیقی جواز کو وسعت مل سکے۔ اس مختصر جائزے سے سمجھانے کی سعی کی گئی ہے کہ نثری نظم کسی ایک موضوع تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ عمرانی شعور سے مکمل ہم آہنگ ہے اور مستقبل کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے۔ دراصل یہ موضوعات ہی نثری نظم کے فنی پیمانے بھی طے کرتے ہیں۔</p>
<p>نثری نظم کا موضوع اپنا اسلوب خود وضع کرتا ہے۔ ساحر کی نظمیں نیا اسلوب اختراع کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ جب کوئی اسلوب چرانے کی کوشش کی جاتی ہے تو موضوع کی پیشکش میں فاصلہ حائل رہتا ہے جو کمزوری بھی ہے نثری نظم زیادہ تر صیغہ واحد متکلم میں لکھی جاتی ہے۔ ایسی نظموں میں خود کلامیہ تکنیک سے معاملہ کیا جاتا ہے۔ انجم سلیمی کی بیشتر نظموں میں یہ کیفیت دکھائی دیتی ہے۔ ان کی نظم ’’اذیت کا شجر ہوں‘‘ دیکھئے:<br>
’’ مجھ پر بے موسم کا بُور آتا ہے<br>
بہت بے صبرے ہو<br>
ہنسی کو پکنے تو دو<br>
میری خوشیاں ابھی بالغ نہیں ہوئیں<br>
اور دکھ کن اکھیوں سے مجھے دیکھتے ہیں<br>
یہ کوئی بددعا نہیں کہ تم پر میرا صبر پڑے<br>
یہ تو ایک ذائقہ ہے جسے تم نے کبھی چکھ کر نہیں دیکھا<br>
چھوٹے چھوٹے دکھوں نے مجھے چھوٹا کر دیا ہے<br>
عجیب دکھ ہے<br>
خود کو جی بھر کے برباد نہیں کر سکا<br>
ایک بڑے سانحے کے انتظار میں<br>
رائیگاں جا رہا رہوں !‘‘ (9)</p>
<p>نثری نظم میں ایک نیا رویہ یہ بھی سامنے آیا کہ خود کوکسی کردار کا روپ دے کر ایک علامتی وجود خلق کیا جائے۔ ایسی نظمیں تنویر انجم کے ہاں ملتی ہیں۔ مثلاً ان کی نظم ’’میں اور نیلوفر‘‘ اس کی بہترین مثال ہے۔<br>
’’ دنیا میں کوئی نیلوفر کا مقابل ہے اور نہ متبادل<br>
ایسا ہو سکتا ہے<br>
میں اس کا پیچھا کرتے دور نکل جاؤں<br>
میں اس کا پیچھا کرتے مٹی میں دھنس جائوں<br>
میں اس کا پیچھا کرتے عالمِ انبساط میں مر جاؤں‘‘(10)</p>
<p>ناقدین کا یہ اعتراض بھی سامنے آتا ہے کہ نثری نظم کے نام پر جو کچھ تخلیق کیا جا رہا ہے وہ اس سے پہلے آزاد، نیاز فتح پوری یا یلدرم اپنی شاعرانہ نثر میں پیش کر چکے تھے۔ یہ اعتراض بہت سطحی سا ہے۔ نثری نظم اور ایسے شاعرانہ ٹکڑوں میں بہت تفاوت ہے۔ شاعرانہ نثر قطعیت اور جامعیت پر مبنی ہوتی ہے۔ ایسا اظہار خود میں نامکمل ہوتا ہے۔ شاعرانہ نثر شروع سے لے کر آخر تک مبہم اور معنویت سے خالی ہوتی ہے۔ جبکہ نثری نظم کا معاملہ مختلف ہے۔ اس میں تو شاعر کے ذہن میں پوری کہانی چل رہی ہوتی ہے۔ وہ اس کے کردار بھی ڈھونڈ لیتا ہے۔ یوں وہ اول تا آخر ایک کلی تجربے کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ پھر اس میں برتے جانے والے استعارے، علامتیں اور امیجز(Images) اسے آرٹ کے قریب تر کر دیتے ہیں جو اپنا تخلیقی جواز فراہم کرتے ہیں۔ نثری نظم پیرگراف میں بھی لکھی جاتی رہی ہے۔ یہ بھی اس کا فن اور تکنیک ہے۔ بودلیئر نے جب نثری نظم لکھنے کا آغاز کیا تو اسے پیراگراف میں لکھا۔ ہمارے ہاں بھی چند نظم نگاروں نے اس میں تجربہ کیا۔ ثروت حسین کی یہ نظم دیکھئے:<br>
’’ پرندوں اور بادلوں سے خالی آسمان کے نیچے کسی دور دراز اسٹیشن کے برآمدے میں ریت بھری بالٹیاں اور ایک بھاری زنجیر ۔۔۔ جنگلے کو تھام کر پھیلتی ہوئی بیلیں، رُکی ہوئی مال گاڑی کے پہیے اور پتھروں کی ابدی خاموشی میں قریب آتی ہوئی یاد، کبھی کبھی چمکنے والی بجلی کی چکا چوند میں آبائی مکان کی جھلک، جہاں کیاریوں کے پاس ایک بیلچہ بارشوں میں بھیگ رہا ہے۔۔۔۔<br>
کوئی ہمارا نام لے کر پکارتا ہے، کیا وہ لڑکی اب بھی کسی کھڑکی پر کہنیاں ٹکائے ہمیں اداسیوں کے سرسراتے جھنڈ سے گزرتے دیکھ سکتی ہے ۔۔۔ یہاں تک کہ شام ہو جاتی ہے۔‘‘ (11)</p>
<p>یہ نظم پیراگراف میں ہونے کے باوجود کسی قطیعت یا جامعیت کا اعلان نہیں کر رہی، نہ ہی اس نظم کی سطروں کے مفاہیم کو کسی دائرے میں مقید کیا جا سکتا ہے۔ نثری نظم کا یہ فن اسے باقی اصناف سے ممیز کرتا ہے۔</p>
<p>فنی اعتبار سے نثری نظم کو یہ اختصاص بھی حاصل ہے کہ اس ہیئت /صنف کے موضوعات خود کو عالمی شخصیت، کسی بحران یا جنگ سے بھی جوڑتے ہیں۔ نثری نظم اپنا رشتہ بین الاقوامیت کے ساتھ مضبوط کرتی ہے۔ وہ علاقائی سرحدوں کو توڑتے ہوئے ہر موضوع کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ نازی حکمران نے جب پولینڈ کو تباہ کر دیا تو بعد میں ہمارے ہاں کئی باشعور شاعروں نے اس درد کو محسوس کیا اور کافی عرصہ گزر جانے کے بعد بھی انہیں نظموں کا موضوع بنایا۔ کاشف رضا نے چارلی چپلن کے لیے نظم لکھی جو پڑھنے کے قابل ہے:<br>
’’ چارلی چپلن نے کہا<br>
اُسے بارش میں چلنا پسند ہے<br>
کیونکہ تب کوئی اس کے<br>
آنسو نہیں دیکھ پاتا</p>
<p>اس نے چار شادیاں کیں<br>
اور بارہ معاشقے<br>
عورتیں اس پر فدا تھیں<br>
وہ انہیں کسی بھی وقت<br>
جوائے رائڈ دے سکتا تھا‘‘ (12)</p>
<p>نثری نظم میں تکنیکی اور فنی لحاظ سے بے شمار امکانات پوشیدہ ہیں جنہیں تلاش کیا جانا چاہیے۔ نثری نظم میں مکالماتی انداز بھی اختیار کیا جاتا ہے۔ یہ مکالمہ کسی فرد یا سماج سے ہو سکتا ہے۔ نثری نظم کی یہ تکنیک نئے فنی پیمانے وجود میں لاتی ہے۔ ثروت حسین کی نظم ’’ایک پل بنایا جا رہا ہے‘‘ سے چند سطریں ملاحظہ ہوں:<br>
’’ میں ان سے پوچھتا ہوں:<br>
پُل کیسے بنایا جاتا ہے؟<br>
پُل بنانے والے کہتے ہیں:<br>
تم نے کبھی محبت کی<br>
میں کہتا ہوں:محبت کیا چیز ہے؟<br>
وہ اپنے اوزار رکھتے ہوئے کہتے ہیں:<br>
محبت کا مطلب جاننا چاہتے ہو<br>
تو پہلے دریا سے ملو ___ ‘‘ (13)</p>
<p>نثری نظم کا فن اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس ہیئت /صنف کے لیے مروجہ اوزان یا بحور کی جو قربانی دی جاتی ہے وہ کسی صورت رائیگاں نہیں جا سکتی۔ یہاں تو شاعر کا کڑا امتحان ہوتا ہے کہ اس نے کسی خارجی مدد کے بغیر داخلی آہنگ کو تشکیل دینا ہوتا ہے جو دراصل شعریت کو جنم دینے کا سبب بنتا ہے۔ نثری نظم لکھنے کا عمل سرکس کے اس جوکر جیسا ہے جو باریک رسی پر چل کر اپنا فاصلہ طے کرتا ہے ۔ اس میں جہاں کہیں جھول آ گیا نظم اپنے فن کو مشکوک کرے گی اور شاعر منہ کے بل گرے گا۔</p>
<p>مندرجہ بالا بحث سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ صنف فنی جہات میں متنوع پہلو رکھتی ہے۔ اسے لکھنے کے اتنے ہی طریقے ہیں جتنے اس دنیا میں موجود نثری نظم نگار ۔ نثری نظم اپنے ساتھ تخریب اور تعمیر کا سامان خود لے کر وارد ہوتی ہے۔ اس کو چند پیمانوں پر ماپنا ناانصافی ہو گی۔ اس حوالے سے نئے لکھنے والوں کی تربیت ضروری ہے تا کہ وہ اس غلط فہمی سے پاک رہیں کہ جو کچھ انہوں نے تخلیق کیا ہے وہ نثری نظم کے زمرے میں شمار ہو گا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر آزاد نظم سے بحر حذف کر دی جائے تو وہ نثری نظم کہلائے گی۔ ایسا ہرگز نہیں نثری نظم تو لکھنے والے سے گہرے شعور اور مکمل کمٹمنٹ کا مطالبہ کرتی ہے۔ نثری نظم لکھنے والے کے ذہن میں چند فنی پیمانے ضرور ہونے چاہییں تا کہ وہ ان کی پابندی کرتے ہوئے کوئی لایعنی یا بے معنوی نظم خلق کرنے سے گریز کرے۔</p>
<p><strong>حوالہ جات</strong></p>
<p>۱۔ محمد ہادی حسین، شاعری اور تخیل، مجلس ترقیء ادب، لاہور ، ۲۰۱۵ء، ص ۲۱<br>
۲۔ سعادت سعید، اردو نظم میں جدیدیت کی تحریک، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۱۷ء، ص ۶۲<br>
۳۔ ناصر عباس نیئر، ڈاکٹر، نظم کیسے پڑھیں، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۱۸ء، ص ۱۵۶<br>
۴۔ افضال احمد سید، مٹی کی کان، آج کی کتابیں، کراچی، ۲۰۰۹ء، ص ۲۰<br>
۵۔ کاشف رضا، سید، ممنوعہ موسموں کی کتاب، شہر زاد، کراچی، ۲۰۱۲ء، ص ۳۰<br>
۶۔ نصیر احمد ناصر، سرمئی نیند کی بازگشت، بک کارنر، جہلم، ۲۰۱۷ء، ص ۱۳<br>
۷۔ ساحر شفیق، خود کشی کا دعوت نامہ، دستک پبلی کیشنز، ملتان، ۲۰۱۰ء، ص ۷۸<br>
۸۔ زاہد امروز، کائناتی گردش میں عریاں شام، سانجھ، لاہور، ۲۰۱۳ء، ص ۳۱<br>
۹۔ انجم سلیمی، ایک قدیم خیال کی نگرانی میں، دست خط مطبوعات، فیصل آباد، ۲۰۱۷ء، ص ۸۳<br>
۱۰۔ تنویر انجم، نئی زبان کے حروف، آ ج کی کتابیں، کراچی، ۲۰۲۰ء، ص ۱۱۳<br>
۱۱۔ ثروت حسین، کلیات، آج کی کتابیں، کراچی، ۲۰۱۵ء، ص ۳۵<br>
۱۲۔ کاشف رضا سید، ممنوع موسموں کی کتاب، شہرزاد، کراچی، ۲۰۱۲ء، ص ۷۳<br>
۱۳۔ ثروت حسین، کلیات، آج کی کتابیں، کراچی، ۲۰۱۵ء، ص ۷۲</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/nasri-nazm-ka-fun/">نثری نظم کا فن (اویس سجاد)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/nasri-nazm-ka-fun/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یاد اور بھول کا کھیل (ناصر عباس نیر )</title>
		<link>https://laaltain.pk/yad-aur-bhol-ka-khel/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/yad-aur-bhol-ka-khel/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ناصر عباس نیّر]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 28 Jun 2020 06:21:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Nasir Abbas Nayyar]]></category>
		<category><![CDATA[urdu short story]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[ناصر عباس نیر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25357</guid>

					<description><![CDATA[<p>میں یا تم عجوبے نہیں، ہماری یادیں عجوبہ ہیں۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/yad-aur-bhol-ka-khel/">یاد اور بھول کا کھیل (ناصر عباس نیر )</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>فرض کرو پانچ لوگ تمہاری جان کے در پے ہوں۔ جوتا گانٹھنے والا، ہوٹل کا بہرا، بندر کا تماشا دکھانے والا، گلی کا چوکیدار اور گھر میں کام کرنے والی ادھیڑ عمر کا شوہر۔ فرض کرو ان میں سے ایک کو قتل کرکے ہی تم اپنی جان بچا سکتے ہو تو کس کی گردن دبوچو گے؟</p>
<p>مشکل سوال ہے۔ اس نے کافی دیر سوچنے کے بعد اپنے دوست شہریار کو جواب دیا جو اسے کئی دنوں بعد ملنے آیا تھا—-مگر یہ غریب بے چارے میری جان کے دشمن کیوں بنیں گے؟ اس نے سوال سے جان چھڑاناچاہی۔</p>
<p>دشمن بننے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے؟بس ذرا سی بات، ایک لفظ، ایک خیال اور ایک یاد۔شہر یار نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔<br>
ہونہہ—-وہ سوچنے لگا۔</p>
<p>چلو بتاو، ان پانچوں میں سے کسے قتل کرو گے۔ شہر یار نےاسے چائے پیش کرتے ہوئے اصرار کیا۔</p>
<p>فرض کیا اگر مجھے کسی کی جان لینی ہی پڑی تو وہ بندرکا تماشا دکھانے والا ہوگا۔اس نے ہنستے ہوئے کہا۔اب تم پوچھو گے کہ اسے ہی کیوں؟ تو جناب اس لیے کہ مجھے بندر پسند نہیں ہیں۔ اور یہ مجھے ابھی سوچتے ہوئے یاد آیاہے۔میں یہی کوئی چار سال کا ہوں گا،جب تماشا دکھانے والے کے ایک بندر نے مجھے اس وقت زخمی کیا تھا،جب میں نے اس کی طرف ادھ کھایا کیلا بڑھایا تھا۔</p>
<p>تو میر اخیال ٹھیک تھا۔ شہر یار نے گہری سنجیدگی سے کہا۔</p>
<p>کون سا خیال ؟<br>
بعد میں بتاتا ہوں۔صرف بندروالے ہی کو قتل کروگےیا—شہر یار نے کریدا۔</p>
<p>نہیں۔میں گلی کے چوکیدار کو بھی قتل کرسکتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے ہمارے گھر میں کام کرنے والی ماسی نے میری بیوی کو بتایا کہ وہ اپنی بیوی کو روز مارتا ہے۔ کہتا ہے،میں رات کو پہرہ دیتا ہوں،کون ہے جو تمہارے پاس آتا ہے؟ تب میں نے چوکیدار کے لیے دل میں نفرت محسوس کی تھی،اوراس عورت کے لیے،جسے کبھی نہیں دیکھا، ہمدردی موجزن محسوس کی تھی۔</p>
<p>تم جوتے گانٹھنے والے، ہوٹل کے بہرے اور گھر میں کام کرنے والی عورت کے شوہر کو بھی قتل کرسکتے ہو۔ شہریار نے کہا۔</p>
<p>نہیں، میں جوتے گانٹھنے والے کو نہیں جان سے مار سکتا۔</p>
<p>کیوں؟</p>
<p>میں نے کبھی جوتے مرمت نہیں کروائے۔ لیکن،نہیں۔ ٹھہریے۔ مجھے یاد آیا۔میرے چھوٹے بھائی نے ایک بارایک پٹھان سے جوتے مرمت کروائے تھے۔ اس نے پوچھے بغیر نئے اندرونی تلوے ڈال دیے تھے اور دونوں میں پیسوں پر تکرار ہوئی تھی۔ میں نے اسے دیکھے بغیر اسے موٹی سی گالی دی تھی۔اسے بھی میں قتل کرسکتاہوں۔ اور ہوٹل کے بہرے کو قتل کرنے کا جواز ہے میرے پاس۔ اس نے ایک بار مجھے نظر انداز کرکے دوسری ٹیبل پر بیٹھی ایک خوب رو لڑکی کی بات پہلے سنی تھی اور اس لڑکی نے فاتحانہ نظر سے مجھے دیکھاتھا جس میں حقارت بھی تھی۔</p>
<p>اور گھر میں کام کرنے والی کے شوہرکو؟ شہر یا رنے پوچھا۔</p>
<p>وہ چوکیدار کی طرح بیوی پر شک تو نہیں کرتا مگر کام والی ماسی میری بیوی کو بتاتی ہے کہ ان کے پاس ایک ہی کمرہ ہے جس میں ان کی تین جوان بیٹیاں اورایک بیٹا سوئے ہوتے ہیں۔ اس کا شوہر زبردستی اس کے بستر میں گھس جاتا ہے اور صبح اس کی بیٹیاں ا س کا مذاق اڑاتی ہیں۔ مجھے وہ نظر آجائے تو میں اس کا گلا دبادوں۔ اس نے واقعی سنجیدگی سے کہا۔</p>
<p>تو میرا خیال ٹھیک تھا۔</p>
<p>کیا؟</p>
<p>تم —اور میں —یا کوئی بھی کسی کو کبھی بھی قتل کرسکتا ہے۔شہر یار بولا۔</p>
<p>لیکن تم نے یہ نہیں پوچھا کہ کیا تمہیں میں قتل کرسکتا ہوں؟ اس نے شہر یا ر سے کہا۔</p>
<p>وہ پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ تم یہ نیک کام ابھی کرسکتے ہو۔کچھ بھی یاد کرکے۔مثلاً مجھے سر نصیر نے فائنل ٹرم میں زیادہ نمبر دیے تھے اور تم ان سے شکایت کرنے پہنچ گئے تھے۔ شہر یار نے ہنستے ہوئے کہا۔</p>
<p>وہ بھی ہنس پڑا۔</p>
<p>فرض کرو تمہیں ان میں سے کسی ایک کی جان بچانی ہو تو کس کی بچاو گے؟ شہریا ر نے نیا سوال داغا۔</p>
<p>ابھی انہیں ٹھکانے لگانے سے فارغ نہیں ہو اور تم نئی بات کررہے ہو؟اس نے چائے ختم کرتے ہوئے کہا۔</p>
<p>بندر والے نے ابا سے معافی مانگی تھی۔ چوکیدار نے ابھی چند دن پہلے اپنی جان پر کھیل کر ڈاکٹر شفیع کے گھر ڈاکے کو ناکام بنایا۔ چھوٹے بھائی نے اس پٹھان کے کام کی تعریف کی تھی۔آخر ہوٹل کا بہرہ ایک نوجوان لڑکا تھا، وہ کیسے اس حسینہ کوا نکارکرتا۔کام والی ماسی کا گھر ہے ہی ایک کمرہ۔ پھر اس کا شوہر کسی اور عورت کے پاس بھی تو نہیں جاتا۔ میں ہر ایک کی جان بچا سکتا ہوں۔اس نے کہا۔</p>
<p>تو مان لو کہ تم اس دنیا کا سب سے بڑ اعجوبہ ہو۔ شہریار نے کسی گہری سچائی کے انکشاف کرنے کے انداز میں کہا۔</p>
<p>میں یا تم عجوبے نہیں، ہماری یادیں عجوبہ ہیں۔ وہ بولا۔</p>
<p>تو پھراس میں ایک اور بات کا اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ شہر یار نے کہا۔جان لینا اور بچانا، یاد اور بھول کا کھیل ہے !</p>
<p>کوئی اس کھیل کو کھلانے والا بھی تو ہوگا۔ دونوں پہلے ہنسے اور پھر سنجیدہ اور ساتھ ہی کسی نامعلوم بات پر رنجیدہ ہوئے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/yad-aur-bhol-ka-khel/">یاد اور بھول کا کھیل (ناصر عباس نیر )</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/yad-aur-bhol-ka-khel/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایک پرانی تصویر کی نئی کہانی (ناصر عباس نیر)</title>
		<link>https://laaltain.pk/ek-purani-tasveer-ki-kahani/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/ek-purani-tasveer-ki-kahani/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ناصر عباس نیّر]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 11 Jan 2019 16:18:50 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Celestin Faustin]]></category>
		<category><![CDATA[Nasir Abbas Nayyar]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[اردو فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[جدید افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[ناصر عباس نیر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23967</guid>

					<description><![CDATA[<p>تصویر کے آدھے حصے کے غائب ہوجانے کا انکشاف اس زلزلے سے بڑھ کر تھا جو پندرہ سال پہلے آیا تھا اورجس کے نتیجے میں آدھی سے زیادہ آبادی پہلے چھتوں اور صحنوں سے محروم ہوئی اور پھر اس نے دریافت کیا کہ قہر، بربادی اور بے چارگی کیا ہوتی ہے۔ زلزلے کے بعد مہینے [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/ek-purani-tasveer-ki-kahani/">ایک پرانی تصویر کی نئی کہانی (ناصر عباس نیر)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>تصویر کے آدھے حصے کے غائب ہوجانے کا انکشاف اس زلزلے سے بڑھ کر تھا جو پندرہ سال پہلے آیا تھا اورجس کے نتیجے میں آدھی سے زیادہ آبادی پہلے چھتوں اور صحنوں سے محروم ہوئی اور پھر اس نے دریافت کیا کہ قہر، بربادی اور بے چارگی کیا ہوتی ہے۔ زلزلے کے بعد مہینے بھر میں نئی چھتیں اور نئے صحن بن گئے تھے، البتہ بربادی کی یادداشت باقی رہی اور ان کے دلوں میں ایک ان دیکھی طاقت کی ہیبت ابھارتی رہی جو کسی بھی وقت، کسی سمجھ میں نہ آنے والی وجہ کے بغیر انھیں برباد کرسکتی ہے، لیکن تصویر کے آدھے حصے کا اچانک غائب ہوجانا ایک ایسا سانحہ تھا جس کا خیال انھیں کبھی نہ آیا تھا۔ یہ بات سانحے کوان کی برداشت سے باہر بناتی تھی۔ انھوں نے صدیوں کے تجربے سے سیکھا تھا کہ جو بات وہ سن چکے ہوں یا جس کا خیال ان تک پہنچا ہو، وہ ان کی برداشت کی حد میں ہوتی ہے۔ بستی کے تین لوگوں کے ذمے بس یہ کام تھا کہ وہ سوچیں کہ اس بستی، اس کے رہنے والوں، اس کے پرندوں ، جانوروں ،درختوں ،گھروں کے ساتھ کیا کیا ہوسکتا ہے،اور پھر سب بستی کو اپنے خیال میں شریک کریں۔ اس سے کبھی کبھی سب لوگ ڈر جایا کرتے تھے اور کچھ تو رات بھر سو نہ سکتے تھے، مگر اس بات پر بستی کے سردار سمیت بڑوں کا اتفاق تھا کہ جس بات کا خیال ڈر پیدا کرے، اس کا سامنا ضرور کیا جائے۔ ایسی باتیں اندھیرے کی مانند ہوتی ہیں۔ اندھیرے کا ڈر ہوتا ہی اس لیے ہے کہ اس میں کچھ دکھائی نہیں دیتا ،اورجہاں کچھ دکھائی نہ دے ،وہاں کچھ بھی، غیر متوقع دکھائی دے سکتا ہے اور یہی بات خوف ناک ہے۔ سردار سمیت سب لوگ حیران تھے کہ کسی کے خیال میں یہ بات کیوں نہ آئی کہ تصویر کا آدھا حصہ کسی دن اچانک گم ہو سکتا ہے۔</p>
<p>وہ تصویر بستی کے لیے کس قدر اہم تھی، اس کا اندازہ انھیں پہلے بھی تھا، مگر وہ اس کے بغیر مفلوج ہو کر رہ جائیں گے، اس کا علم انھیں اب ہوا۔ یہ تصویرصدیوں سے چلی آتی تھی۔ اس کے بارے میں بس ایک ہی کہانی مشہور تھی، جس کی جزئیات پر تھوڑا بہت اختلاف تھا۔ یہ تصویر پہلے ایک غار کی اندرونی دیوار پر بنائی گئی تھی۔ دو لوگوں نے یہ تصویر بنائی تھی۔ وہ غار میں کیسے پہنچے، اس کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ بس یہ معلوم تھا کہ انھوں نے پوری عمر صرف کر کے یہ تصویر بنائی تھی۔ ان کی عمر کے بارے میں اختلاف تھا۔ کوئی چالیس سال کہتا، کوئی اسی سال۔ کوئی سو سال۔ غار کے دروازے پر کچھ پرندے ہر وقت موجود رہتے، جو پھل اور میوے لایا کرتے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ جب تک غار میں رہے، کسی سے نہیں ملے۔ ان کا خیال تھا کہ انھوں نے عمر کے جو بیس بائیس سال غار سے باہر کی دنیا میں گزارے تھے، اس کی یادداشت میں کسی کو خلل انداز نہیں ہونے دینا چاہتے تھے ۔وہ کہتے تھے یادداشت اگر بے خلل رہے تو معجزے دکھا سکتی ہے۔ ان کی تصویر کو دیکھنے والے اس بات پر فوراً یقین کر لیتے تھے۔ یہ بھی مشہور تھا کہ جیسے ہی انھوں نے تصویر مکمل کی، دونوں غار سے غائب ہو گئے۔ اس کہانی میں یقین کرنے والوں میں ایک گروہ کا خیال تھا کہ جیسے جیسے وہ تصویر مکمل کرتے، ان کے جسم تصویر میں تحلیل ہوتے جاتے۔ ادھر تصویر مکمل ہوئی، ادھر وہ دونوں غائب ہوگئے۔ دوسرے گروہ کاماننا تھا کہ وہ کسی اور دنیا سے آئے تھے ،صرف ایک مقصد کی خاطر، اس لیے جیسے ہی تصویر مکمل ہوئی، وہ واپس چلے گئے۔ کئی صدیوں بعد یہ تصویر دو اور لوگوں نے اس شیر کی کھال پر منتقل کی جس کی موت اس غار کے دروازے پر ہوئی۔ اگلی کئی صدیاں وہ تصویر ایک اور غار میں محفوظ پڑی رہی۔ اسے ایک چرواہے نے دریافت کیا۔ وہ چرواہا اس بستی کی پہلی اینٹ رکھنے والا تھا۔ اس کی چوتھی پیڑھی میں سے ایک شخص نے اس تصویر کو اس طویل وعریض’ کاغذ‘ پر منتقل کیا ، جسے اس نے درخت کی چھال، پتوں اور کچھ پودوں کے ڈنٹھل کو پیس کربنایا تھا۔ غار کی دیوار سے کاغذ پر منتقلی کے دوران میں تصویر میں کیا تبدیلیاں ہوئیں، اس بارے میں دو رائیں تھیں۔ ایک یہ کہ کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔کسی اور دنیا سے آنے والوں کی بنائی ہوئی تصویر میں کوئی تبدیلی کیسے کرسکتاہے۔ دوسری رائے یہ تھی کہ ایک شے سے دوسری شے پر تصویر کی منتقلی، اس شخص کی پوری ہستی کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس سے کبھی کبھی جھگڑا بھی ہوتا تھا، جس کا حل ایک تیسرے گروہ نے یہ کہہ کر نکالا کہ پہلی تصویر ہم میں سے کسی نے دیکھی ہی نہیں، اس لیے وثوق سے کون کہہ سکتا ہے کہ وہ کیسی تھی۔ ہم صرف اس تصویر کے بارے میں وثوق سے کچھ کہہ سکتے ہیں جو ہمارے سامنے ہے۔ چوں کہ اس تصویر نے ہمیں اس بستی میں جینے کا ڈھنگ سکھایا ہے، اس لیے اسے اس ہستی نے بنایا ہے جو اس بستی میں رہنے والوں کے دلوں کے بھید سے واقف تھی۔ اس بات پر کبھی کبھی گفتگو ہوتی تھی کہ جب یہ بستی وجود ہی میں نہیں آئی تھی، اور اس میں بسنے والے پیدا ہی نہیں ہوئے تھے تو کوئی کیسے ان کے دلوں کے بھید سے واقف ہوسکتا ہے۔ اس کا جواب بستی کی ایک بوڑھی عورت دیا کرتی تھی ۔ وہ کہتی تھی۔ جب میرے بچے ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے، میں ان کی شکلوں اور مزاجوں کے بارے میں جان گئی تھی۔ اس بستی کی بھی کوئی ماں تو ہوگی۔ اس بوڑھی کی تکرار اکثر ایک نوجوان سے ہوا کرتی تھی جو ایک کسان کا بیٹا تھا اور زمینوں کی کاشت میں جس کا دل نہیں لگتا تھا۔وہ کہا کرتا، ماں اپنے ہر بچے کے مزاج کے ساتھ ڈھل جاتی ہے، اس لیے اسے لگتا ہے کہ وہ ہر بچے کے مزاج سے اس کی پیدائش ہی سے پہلے واقف تھی۔ وہ بوڑھی اسے ڈانٹ دیتی اور کہتی تم ماں کو صرف پالنے والی مخلوق سمجھتے ہو، جاننے والی نہیں۔ بستی میں کچھ اور بحثیں بھی اس تصویر کے تعلق سے ہوا کرتی تھیں۔مثلاً یہ کہ یہ تصویر ہماری روحوں سے مخاطب ہوتی ہے۔ اگر یہ باہر سے آئی ہے تو اس بستی کی روحوں سے کلام کیسے کر لیتی ہے۔کیا خبر ہم اس سے کلام کرتے ہوں اور تصویر بس ٹکر ٹکر ہمیں دیکھتی ہو۔ کوئی سرپھرا کہتا۔ کوئی دوسرا اٹھتا اور کہتا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ ہماری روحیں اس بستی کی مٹی سے پیدا ہوئی ہیں یا کسی اور مقام سے یہاں رہنے کے لیے وارد ہوئی ہیں؟ وہ طنزاً کہتا، کیسا ستم ہے کہ روح کے بارے میں وہ لوگ بھی بات کرتے ہیں جو ایک پہر چپ نہیں رہ سکتے۔ لیکن یہ بحث صرف چند لوگ ہی کیا کرتے تھے،اور اس کا اثر تصویر کی عام طور پر مشہور کہانی پر نہیں پڑتا تھا۔ وہ لوگ یہ بحثیں اس لیے بھی کیا کرتے کہ ان کا ذہن کہیں اور نہ بھٹکے۔ انھیں یقین تھا کہ جس دن ان کا ذہن اس تصویر سے بھٹک گیا اور اس سے ہٹ کر باتیں کرنے لگا ،وہ اس بستی کی مخلوق نہیں رہیں گے۔</p>
<p>اس تصویر کو بستی میں ایک خاص مقام پر خاص طور پر تیارکیے گئے صندوق میں رکھا گیا تھا، جس کا ڈھکنا دن کو کھلا رہتا،مگر رات کو بند کردیا جاتا ۔اس بات کا خاص خیال رکھا گیا تھا کہ اس جگہ روشنی تو رہے، مگر تصویر پر نہ پڑے۔ اس جگہ کے درجہ حرارت کو بھی یکساں رکھا گیا تھا۔ وہاں ہر ایک کو آنے جانے کی اجازت تھی، مگر اسے ہاتھ کوئی بھی نہیں لگاسکتا تھا۔ اس بستی کے سارے امور اس تصویر کی مدد سے چلائے جاتے۔ وہ چار فٹ چوڑی اور اتنے ہی فٹ لمبی تصویر تھی۔ اس میں شکلیں اور علامتیں تھیں۔ کسی مکمل انسان کی شکل اس میں نہ تھی۔ زاویہ بدلنے سے شکلیں اور علامتیں دونوں بدل جایا کرتیں۔ بستی میں سردار کا انتخاب کیسے ہو گا، اس کا فیصلہ تصویر میں موجود اس شکل سے کیا جاتا جسے دائیں طرف سے دیکھنے سے ہلال کی شکل بنتی اور بائیں طرف سے دیکھنے سے تلوار نظر آتی۔ اس کا سیدھاسادہ مطلب یہ تھا کہ بستی میں وہی شخص سردار ہوگا جس کا چہرہ روشن اور بازو مضبوط ہوں گے۔ ان دونوں باتوں کا فیصلہ ان کھیلوں سے ہوتا رہتا جو بستی میں مسلسل جاری رہتے۔ سردار کو اختیار ہوتا کہ وہ بستی کے امن اور خوشحالی کے لیے فیصلے کر سکے اور لوگوں سے خراج وصول کر سکے۔ اگر سردار زیادتی کرتا تو اسے ہٹانے کا طریقہ بھی اسی تصویر میں درج تھا۔ اسی تصویرکے عین بیچ ایک علامت تھی ،جسے بالکل سامنے کھڑے ہو کر دیکھنے سے وہ ایک ہرن کے سینگوں کی مانند نظر آتی تھی۔ اس کامطلب سب کے نزدیک یہ تھا کہ ہٹائے جانے والے سردار کو کاندھوں پر بٹھا کر بستی سے باہر چھوڑ آناہے۔ کم ازکم پانچ سال کے بعد اسے واپس بستی میں آنے کی اجازت تھی۔ کسی دوسری بستی سے جنگ کی صورت میں تصویر میں موجود اس شکل کو راہ نما بنایا جاتا جس کا چہرہ کچھ کچھ آدمی کاسا اور باقی دھڑ بھیڑیے کا تھا۔ اس کا صاف مطلب تھا پہلے دماغ کو استعمال کرکے بات چیت کی جائے پھر لڑ اجائے۔ بستی کی کوئی مستقل فوج نہیں تھی۔ کھیلوں میں حصہ لینے والے تمام جوان لوگ جنگ کے سپاہی بن جایا کرتے۔ ہر گھر کے لیے ایک گھوڑا، ایک خچر، بیلوں کی ایک جوڑی رکھنی لازم تھی۔بھالے ،تلوار ، خنجراور دوسرے جنگی ہتھیار صرف سردار کے پاس ہوا کرتے۔</p>
<p>پورا ہفتہ خوف کی حالت میں بے بس رہنے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ پہلے تصویر کے غائب حصے کا کچھ کیا جائے۔ لیکن پہلے یہ تو معلوم کرو کہ وہ حصہ غائب کیوں کر ہوا؟ سردار کے ایک قریبی مشیر نے سوال اٹھایا۔ سردار نے کہا کہ یہ وقت اس سوال کا نہیں۔ اگر ہم اس سوال کے جواب کی تلاش میں نکلیں گے تو ہمارے دل اس کے خلاف رنج، غصے اور انتقام سے بھر جائیں گے، جس نے یہ انہونی کی ہے۔ جسے ہم جانتے نہ ہوں، مگر اس کے لیے تشدد آمیز موت کے جذبات رکھتے ہوں، ہم اس کا کچھ نہیں بگاڑتے، صرف اپنی شکلیں بگاڑتے ہیںاور روحیں مسخ کرتے ہیں۔ اس لیے سب نے فیصلہ کیا کہ تصور کے غائب حصے کو مکمل کرنے کا کوئی حل نکالا جائے۔</p>
<p>ایک بوڑھے کی رائے تھی کہ وہ تصویر سب کے حافظے میں ہے، اس لیے کوئی بھی مصور اسے مکمل کر دے۔ یہ بات اوّل اوّل سب کے دل کو لگی، لیکن جب ایک مصور نے بتایا کہ وہ ایک مقدس تصویر کی نقل کو دنیا کا سب سے بڑا پاپ سمجھتا ہے تو سب کے ماتھے ٹھنکے۔ اس مصور کا یہ بھی خیال تھا کہ انسانی تخیل الوہی تصویر کی نقل کر ہی نہیں سکتا۔ الوہی تخیل کس طرح کام کرتا ہے اور اس کی حدیں کہاں کہاں ہیں یا سرے سے حدوں سے ماورا ہے، اسے انسانی عقل سمجھ سکتی ہے نہ انسانی تخیل۔ کچھ مورکھ یہ بات نہیں سمجھتے ،اس لیے وہ الوہی تخیل کی نقل کی کوشش کرتے ہیں، جس کی سزا انھیں بھگتنا پڑتی ہے۔ وہ پہلے وحشت پھر جنون کا شکار ہوتے ہیں۔ اس نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ جتنے لوگ وحشت اور جنون میں مبتلا ہوتے ہیں، اس کی وجہ لازماً الوہی مملکت میں جانے کی جسارت ہوتی ہے۔ اس نے اسی تصویر سے متعلق اپنا ایک خواب بھی سنایا۔ اس نے دیکھا کہ وہ تصویر چوری ہوگئی ہے۔ پوری بستی پر رات چھا گئی ہے۔ سب لوگ سو گئے ہیں۔ صدیاں گزر گئی ہیں۔ رات ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ پھر اچانک وہ تصویر خود بستی میں آن موجود ہوتی ہے۔ لوگ جاگتے ہیں تو ایک دوسرے کو پہچان نہیں پاتے۔ اس مصور کی باتیں اور خواب لوگوں کے پلے نہیں پڑا ۔ اس نے یہ بھی کہا کہ لیے آدمی کو اپنی اوقات میں رہنا چاہیے، جس کا مطلب بھی اس نے بتایا کہ وہ بس الوہی تصویر کو دیکھے اور اس کے آگے سیس نوائے ۔ لوگوں نے اسے خبطی اور جنونی قرار دیا اور اس سے مزید بات نہیں کی۔دوسرے مصور نے ایک اور عذر پیش کیا کہ اسے صرف عورتوں کی تصویریں بنانا آتی ہیں کیوں کہ وہ عورت کے جسم کو دنیا کی تمثیل سمجھتا ہے۔جو عورت کے جسم کے ایک ایک خط ، قوس، دائرے، لکیر کو مصور کرنے کے قابل ہوتا ہے، وہ دنیا کو سمجھ لیتا ہے۔ جسے عورت سمجھ آجائے اسے سب سمجھ میں آنے لگتا ہے۔</p>
<p>تیسرے مصور نے بتایا کہ وہ تصویر کا غائب حصہ بنا دے گا، مگر کم ازکم دو لوگ اس کی مدد کرنے کو موجود ہوں۔اس نے بتایا کہ جب وہ تصویر بنانے لگتا ہے تو ذہن میں موجود پرانی شکلیں غائب ہو جاتی ہیں۔ ایک بالکل نئی تصویر ذہن میں اچانک ابھرتی ہے، جسے وہ کینوس پر اتار دیتا ہے۔ جسے وہ اکثر خود بھی نہیں پہچان پاتا۔ اب سوال یہ تھا کہ وہ دو لوگ کون سے ہوں جن کی یادداشت تصویر کے حوالے سے مکمل اور بے خطا ہو۔ پہلے تو سب یہی سمجھتے تھے کہ ہر ایک کے حافظے میں وہ پوری تصویر محفوظ ہے ، مگر جب سوچنے لگے تو معلوم ہوا کہ ایسا نہیں۔ سردار نے بستی کے دس لوگوں کو سامنے بٹھایا اور کہا کہ بتائیں غائب ہونے والے حصے میں کیا کیا تھا۔ یہ دیکھ کر سب کی گھگھی بندھ گئی کہ ان دسوں نے الگ الگ بتایا۔ کسی نے کہا کہ تین شکلیں اور چار علامتیں غائب ہوئی ہیں۔ کسی نے تعداد دوسری بتائی۔ اسی طرح شکلوں اور علامتوں کے سلسلے میں بھی رائیں مختلف تھیں۔ سب لوگ جب تصویر کے غائب حصوں کو یاد کرنے لگتے توان میں کچھ نہ کچھ ان چیزوں کی شکلیں شامل کر دیتے جو ان کی روزمرہ زندگی میں شامل تھیں۔ سردار کے لیے یہ بات اچنبھے کی تھی کہ کوئی بھی شخص تصویر کو اس کی اصل کے ساتھ یاد نہیں کرسکتا تھا۔اسے یہ بات اس بستی کا سب سے بڑا فریب محسوس ہوئی اور حیرت بھی ہوئی کہ اتنی صدیوں سے پوری بستی فریب کے تحت جیتی رہی اور لاعلم رہی۔ سردارنے اس تصویر کے بارے میں پرانی کہانیوں کے سلسلے میں دل میں شک محسوس کیا، لیکن اس کا اظہار نہیں کیا۔</p>
<p>سردار کئی دن پریشان رہا۔ بالآخر چوتھے دن ایک عجب واقعہ ہوا۔اسے اپنی پریشانی کا سبب اور حل ایک ساتھ معلوم ہوا۔ اس نے ایک نئے مصور کو بلایاجس نے اس تصویر کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اسے سمجھایا کہ تصویر کیسے مکمل کرنی ہے۔ جب مکمل تصویر بن گئی تو سب بستی والوں کو بلایا گیا۔سب نے کہا کہ یہ تو بالکل وہی تصویر ہے۔ سردار کو دلی اطمینان ہوا۔ سردار نے رفتہ رفتہ اسی مصور سے ایک نئی تصویر پر کام شروع کروایا جس کا کچھ حصہ پہلی تصویر سے ملتا جلتا تھا۔ ایک رات اس نے پرانی تصویر کی جگہ نئی تصویر رکھوادی۔ جب وہ سردار مرا۔ نئے سردار کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہوا۔ تصویر کو دیکھا گیا تو دائیں طرف سے ہلال تو تھا، بائیں جانب سے تلوار نہیں تھی۔ سردار کا بڑا بیٹا روشن چہرے والا تھا، اس لیے وہی سردار چنا گیا۔ اس کے بعد سردار کے انتخاب کے لیے تصویر کو دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔</p>
<p>Image: Celestin Faustin</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/ek-purani-tasveer-ki-kahani/">ایک پرانی تصویر کی نئی کہانی (ناصر عباس نیر)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/ek-purani-tasveer-ki-kahani/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ہاں، یہ بھی روشنی ہے!</title>
		<link>https://laaltain.pk/%db%81%d8%a7%da%ba%d8%8c%db%8c%db%81-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%b1%d9%88%d8%b4%d9%86%db%8c-%db%81%db%92/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%db%81%d8%a7%da%ba%d8%8c%db%8c%db%81-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%b1%d9%88%d8%b4%d9%86%db%8c-%db%81%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ناصر عباس نیّر]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 25 Aug 2017 17:07:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Nasir Abbas Nayyar]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[جدید افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[سدھارتھ]]></category>
		<category><![CDATA[گوتم بدھ]]></category>
		<category><![CDATA[ناصر عباس نیر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22029</guid>

					<description><![CDATA[<p>ناصر عباس نیر: مجھے بسواس ہے کہ یہ رات ایک نئے سویرے کو جنم دے گی،اور اس مرتبہ تم اسے اپنی روشنی پانے کے سفر میں اکیلا نہیں چھوڑ گے!</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%db%81%d8%a7%da%ba%d8%8c%db%8c%db%81-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%b1%d9%88%d8%b4%d9%86%db%8c-%db%81%db%92/">ہاں، یہ بھی روشنی ہے!</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>کچھ نہیں بدلا۔ سب کچھ بدل گیا۔ اس محل میں اس نے انتیس برساتیں گزاری تھیں۔ بارہ سال بعد محل پر پہلی نگاہ پڑی تو لگا کہ کچھ نہیں بدلا، دوسری نظر سے معلوم ہوا، کچھ پہلے جیسا نہیں۔کتنی برساتیں گزریں تب کہیں جاکر دوسری نظر حاصل ہوئی۔ بوڑھے باپ کی التجا اسے محل میں لائی تھی۔باپ سے دیکھا نہیں گیا کہ شاہی قبیلے کا وارث اپنی رعایا کے دروازے پر کھڑا ہو۔باپ نے بیٹے کو دیکھا۔سمجھا پھر بھی نہیں،بیٹااس کا وارث نہیں۔ بیٹے نے وراثت کا اصول بدل دیا تھا۔باپ، بیٹے کو نام دے سکتا ہے، وراثت بیٹاخود بناتاہے۔راجہ کا بیٹا، راج کوگردکی طرح جھاڑ دیتاہے، اور ننگے پاؤں چلتے ان زمانوں میں پہنچ جاتا ہے، جہاں کی خبر بھی باپ کو نہیں ہوتی۔وہ اپنا حسب نسب نئے سرے سے ترتیب دیتا ہے۔باپ اور اس کے پرکھوں کا شجرہ الگ ہوجاتاہے۔</p>
<p>اس کو محل کی سیر کی ہو س نہیں تھی۔وہ جہاں چاہتا سیر کے لیے جاسکتا تھا۔محل میں اس کی نظریں سیکڑوں لوگوں پر پڑ رہی تھیں۔وہ سب اسے تعظیم و پرستش کے جذبات سے دیکھ رہے تھے،مگراس وقت اس کی نظریں کسی کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ رفیق خاص نے پہلی بار اس کی آنکھوں کو بے چین دیکھا تو پریشان ہوا۔وہ سمجھ گیا۔رفیق خاص سے کہا:سنو،ایک بے چینی ایسی بھی ہے جوصرف یاددلانے کے لیے ہے کہ وہ اب بھی آدمی ہے۔آدمی ہونا ایک بات ہے، اور آدمی رہنا دوسری بات ہے۔رفیقِ خاص نے عرض کی،آدمی رہنا بڑی بات ہے۔</p>
<p>سب اشارہ پاکر رخصت ہوئے۔</p>
<p>وہ دونوں،اسی کمرے میں ہیں، جس میں اس نے چند گھنٹو ں کے بچے اور اپنی ہم عمربیوی کو چھوڑ کروفادار غلام کے ساتھ جنگل کا راستہ لیا تھا۔کیا میں اس کے دل کو پڑھ سکتا ہوں؟ اس نے سوچا۔وہ جہاں چاہتا تھا،چھن بھر میں پہنچ جاتا تھا۔وہ خود کو ہزاروں صورتوں میں،سب کی صورتوں میں ڈھال سکتا تھا، وہ آدمی سے بڑھ کر تھا،اس کے پاس وہ ساری روشنی تھی،جو آدمی میں ظاہر ہوسکتی ہے،اور جسے آدمی کی ہستی سہار سکتی ہے۔کیاوہ اس روشنی کے ساتھ،عورت کے دل میں اتر سکتاہے؟ اس نے ایک لمحے کو سوچا۔</p>
<p>تم چپ کیوں ہو؟ کچھ بولو۔<br>
اس نے آنکھیں اس کے چہرے پر ٹھہرادیں۔ لو پڑھ لو۔<br>
وہ اس کے دل میں تھا۔گزرے عالم کی سیر کرنے لگا۔</p>
<p>جب تم اس رات رخصت ہورہے تھے،ایک عجب بے قراری تمھارے قدموں میں تھی۔ تم تین مرتبہ کھڑکی تک گئے،باہر جھانکا،قدم آگے کیے،پھرواپس آئے۔ میرے پیروں کو پہلے چھوا،پھر ان پرپلکیں رکھیں،پھر ہونٹ رکھے۔تپش،نمی،مہک،لرزش،کچھ دوسری ان کہی چیزیں پاؤں کے راستے میرے دل میں اتر گئیں۔میرے پیروں پر ہونٹ تم نے رکھے،زمین میں،مَیں گڑ گئی۔تم نے میرے گال یا ماتھا یا ہونٹ اس لیے نہیں چومے کہ کہیں میں جاگ نہ جاؤں۔ تم بارہ سالوں میں یہ تک نہ جان سکے کہ میں تمھیں آنکھوں سے زیادہ،تمھارے بدن کی خوشبواور بدن کے گرد روشنی کے ایک ہالے سے پہچانتی ہوں۔۔۔۔جانے تم کس روشنی کو ڈھونڈنے گئے تھے۔۔۔۔تم جوں ہی کمرے میں داخل ہوئے تھے، میں نے تمھاری خوشبو محسوس کرلی تھی،حالاں کہ میں اس رات نڈھال تھی،اور خود اپنے جسم سے اٹھتی ایک اور طرح کی مہک محسوس کررہی تھی۔ تم نے سمجھا تم نے مجھ سے معافی مانگ لی،انتظار نہیں کیا کہ میں بتاسکوں کہ مجھ میں معاف کرنے کی سکت ہے بھی یا نہیں۔شاید تمھیں عورت کی استعدادکا خیال بھی نہیں آیا۔ یہ کیسی معافی تھی؟ تمھارادھیان میری طرف تھا کب؟ تم نے پالنے میں سوئے ننھے کو بارباردیکھا،جس کے آنے کا ہم نے بارہ سال۔۔۔پورے بارہ سال۔۔۔۔ہم دونوں نے انتظار کیا۔جب وہ آیا تو تم اسے بارہ گھنٹے بھی نہ دیکھ سکے۔تم نے ثابت کیا،منش کے لیے دنیا ہے،ناری کے لیے منش اور اس کا دیا ہوا تحفہ یعنی بچہ۔ایک نیا منش، جو کوکھ سے سیدھا چھاتی پر آجاتا ہے، پھر سینے میں۔ وہ ایک نئی قید میں آجاتی ہے۔ منش نہیں دیکھتا۔۔۔منش کچھ نہیں دیکھتا کہ کوکھ اور چھاتیاں سوکھتی ہیں تو عورت پر کیا گزرتی ہے،وہ تو دنیا کے لیے نکل چکا ہوتا ہے۔ اس کے دل میں ساری دنیا کے راز جاننے کا جنون ہوتا ہے،نہیں ہوتا تو عورت کے دل کو جاننے کا جنون۔وہ عورت کے دل کوجیتنے،اور آگے بڑھ جانے سے پرسن ہوتاہے۔<br>
وہ دونوں اپنے کمرے میں تھے۔</p>
<p>تم وہ نہیں ہو، کوئی اور ہو۔تم کیسے اس دل کو پڑھ سکتے ہو؟تم پرائے بن گئے ہو۔تمھیں کہاں معلوم ہوگا،میں نے چھ سال تک تمھارے پل پل کی خبر رکھی۔ تم ایک جنگل سے دوسرے جنگل میں گئے، ایک کے چرنوں میں بیٹھے، دوسرے کی بندگی میں پیش ہوئے۔سب کو چپ چاپ چھوڑا، اور آگے چلتے رہے۔تم نے بھوک پیاس کاٹی، بھوگ بلاس ترک کیا۔ بدن سو کھ کر کانٹا بن گیا، مانو یہ کانٹا میرے دل میں چبھ گیا۔اس کے بعد کی مجھے خبر نہیں۔ میں سوچتی تھی،تم ضرور واپس آؤ گے۔مجھے خود معلوم نہیں،مجھے یقین کیوں تھا۔شاید اس لیے کہ میں اس زندگی کو دھیان میں بھی نہیں لاسکتی، جس میں تم نہ ہو۔تم آئے ہو،پر کوئی اور بن کر۔ میں غلط سوچتی تھی،مجھے کہاں خبر تھی کہ جو سدھار جاتاہے،وہ واپس نہیں آتا۔وہ آتابھی ہے تو اور بن کر آتاہے۔</p>
<p>یہاں بیٹھو، میں تمھیں سمجھاتا ہوں۔اس نے اشارے سے بلایا،اور کہا:نہ میں وہ ہوں،نہ تم وہ ہو۔<br>
کیا میں تمھارے بچے کی ماں نہیں ہوں؟</p>
<p>تم میرے ہی بچے کی ماں ہو، مگروہ نہیں ہو، جو پہلے تھیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہم وہی ہیں جو بارہ سال پہلے تھے،یہ دھوکا ہے،ایک بھول ہے،اور اس بسواس کا نتیجہ ہے کہ ہم سدا موجودتھے،اور سدا موجود رہیں گے۔<br>
میں تو وہی ہیں،مگر تم واقعی بدل گئے ہو۔اس نے اپنی آواز میں اعتماد پیدا کرتے ہوئے کہا۔<br>
اچھی بات ہے کہ تم مجھے پہچاننے لگی ہو۔خود کو بھی پہچان جاؤ گی۔ کوئی شے دائم نہیں،مگر دائم ہونے کا مسلسل دھوکا دیتی ہے،یہ گیان کی طرف پہلا قدم ہے۔</p>
<p>سب لوگ تمھیں سب سے بڑی آتما کہتے ہیں،تمھاری پرستش کرتے ہیں، میں تو پہلے دن سے تمھاری پوجا کرتی تھی۔میں نے سب سے پہلے تمھیں پہچانا تھا۔اس نے پرتیت سے کہا۔</p>
<p>آتما؟ کون سی آتما؟ آتما دھوکاہے۔ آتما ہوتی تو تم یوں نراش ہوتیں؟ آتما ہوتی تو میں اس طرح مارا مارا پھرتا؟<br>
تم بدل گئے ہو، یہ تو تمھارے ان گیروے کپڑوں،ننگے پاؤں،ہاتھ میں کاسے ہی سے ظاہر ہے،مگر تم کاٹھ کے بن جاؤ گے،اس کا مجھے بسواس نہیں ہورہا۔اس کا دل جیسے زخمی تھا۔</p>
<p>اِس پراُس نے خاموشی اختیار کی۔ اس کا چہرہ اب بھی مطمئن تھا۔ اس نے پہلی مرتبہ کمرے کی دیواروں کو دیکھا، اس کھڑکی کو دیکھا،جہاں سے وہ اس رات روانہ ہوا تھا۔ڈھلتے سورج کی زرد کرنیں کمرے کی دیواروں پر پڑرہی تھیں۔کمرہ پہلے ہی کی طرح تھا۔اسے کچھ راتیں یاد آئیں،لیکن رات میں پرچھائیوں کی طرح گزرگئیں۔ اْس نے،اِس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔اسے وہ پھول یاد آئے جنھیں وہ باغ میں بیٹھ کر دیکھا کرتا تھا،ایک لمحے کو کھلے ہوئے،روشن،حسین نظر آتے،اگلے لمحے مرجھاجاتے،اس سے اگلے سمے زمین پر سوکھی زرد پتیاں ہوتیں۔ عورت کا چہرہ بھی پھو ل ہی ہے۔ عورت کا جسم بھی پھول ہے۔ مرد کا جسم بھی پھول ہے۔ اس جہالت کے دور ہونے میں وقت لگتا ہے کہ پھول کا کھلنا، اس کے مرجھانے کی طرف اس کا سفر ہے۔ہر ابتدا، اپنے انت کی طرف بڑھتی ہے۔<br>
تم دنیا کے بڑے بڑے سوالوں کے جواب دیتے ہو، مجھے ایک سوالی سمجھ کر ایک سوال کے جواب کی بھکشا دے دو۔<br>
پہلی بار اس کے دل میں جنبش سی ہوئی۔<br>
پوچھو۔</p>
<p>تمھارے پاس روشنی ہے جو سب کی جہالت دور کرتی ہے۔کیا میرے دل کااندھیرا دور نہیں کرسکتی؟<br>
تم نے صحیح سوال پوچھا۔صحیح سوال،صحیح راستے کی طرف قدم ہے۔<br>
وہ ڈرتے ڈرتے آگے بڑھی۔اس کے ہاتھ کو چھونا چاہا۔اُس نے روک دیا۔وہ تڑپ اٹھی۔میرے صحیح قدم کو تم نے کیوں روک دیا؟ کیا میرا صحیح<br>
قدم،تمھارے صحیح راستے سے ٹکراتاہے؟</p>
<p>تم ہر سوال پوچھو۔پر قدم اٹھانے سے پہلے صحیح راستہ چنو۔صحیح راستہ یہ ہے کہ تمھارے دل کا اندھیرا میں دور نہیں کرسکتا۔ہاں، تم خود چاہو تو دورکرسکتی ہو۔اس نے کمرے کے ننگے فرش پر بیٹھتے ہوئے کہا۔</p>
<p>اِس مرتبہ اُ س نے،اُس کے پاؤں کی طرف ہاتھ بڑھایا۔بنتی کی،مجھے اپنے دل کااندھیرا دور کرنے سے نہ روکو۔پاؤں پر مٹی جمی تھی،اس کا جی چاہامٹی کا ایک ایک ذرہ پہلے ہاتھ کی لکیروں میں جذب کرے،پھر یہ ہاتھ وہ اپنی آنکھوں کو لگائے،پھراپنے بدن پر پھیرے۔اسے ایک لمحے میں یقین حاصل ہوگیا کہ صرف ایک پل میں معجزہ ہوسکتاہے، وہ دوبارہ جی سکتی ہے۔سالوں سے سوکھی کھیتی،بس پل بھر میں ہری ہوسکتی ہے۔ اس نے لمبی پتلی انگلیوں والے سوکھے پاؤں سے ہولے ہولے مٹی کی تہ ہٹائی۔لمس کاایک تیز سیل اس کے سارے بدن میں سرایت کرگیا۔ہلکی سی روشنی پھیلی۔اندھیرا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔پرندے پہلے پھڑپھڑائے،پھر چہکنے لگے۔سارے میں تازہ پھول کھل اٹھے۔سویا ہوا شہر جاگ پڑا۔اس نے سہج سہج دونوں پاؤں پہلے ہاتھوں سے صاف کیے،پھر دھوئے۔اس نے ان کھردرے پاؤں پر آنکھیں رکھ دیں۔آسمان پر تارے اگ آئے تھے۔کمرے میں مشعل جلادی گئی تھی۔</p>
<p>اس نے پاؤں کو ذراسی جنبش دی۔</p>
<p>جب تم پاؤں پراپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیرتے ہوئے،اپنے بدن کے شہر کو جاگتے ہوئے محسوس کررہی تھیں تو جو روشنی پھیلی تھی،وہ میں تھا، جو پرندہ چہچہایا تھا، وہ میں تھا، جو پھول کھلے تھے،وہ بھی میں تھا۔تم اپنے بدن میں لمس کے جس دھارے کو محسوس کررہی تھیں،وہ بھی میں تھا۔ تمھیں جاننے میں وقت لگے گا کہ تمھارے دل کا اندھیرا اس وقت تک دور نہیں ہوسکتا،جب تک میں تمھارے اندر ہوں۔</p>
<p>میں تمھیں اپنے دروازے کی چوکھٹ سمجھتی ہوں،اور تم خود کو میرے راستے کا پتھر کہتے ہو؟وہ نہیں چاہتی تھی کہ اتنی مدت بعد جاگنے والا شہر دوپہر بھی نہ دیکھے۔<br>
ہر دوسرا، راستے کا پتھر ہے۔تم اپنی روشنی کو خود آکارکرو۔</p>
<p>میں خود کو دوسرا سمجھتی ہوں،اور تمھیں اپنی روشنی محسوس کرتی ہوں۔مجھے میری روشنی سے کیوں دور کرتے ہو؟<br>
تم بھول کا شکار ہو،اس بھول کا،جس کا آغاز تمھارے جنم سے ہوا۔ اسی جنم میں اپنی بھول ختم کرو۔ تمھارے بدن کا شہر کئی سالوں بعد جاگا ہے،تم اس کی سب آوازوں کو سننا چاہتی ہو۔ سنو، ہر آواز شروع ہوتے ہی،اپنے انت کی طرف سفر کرتی ہے۔ہر صبح جب دوپہر کی طرف بڑھتی ہے تو پہلے صبح کا زوال ہوتا ہے،پھر دوپہر کا۔بے بس کر دینے والے لہو کی تپش ٹھنڈی ہوکر رہتی ہے۔کوئی آگ سدا نہیں جلتی۔ہر آگ جلنے بجھنے، شعلے سے راکھ ہونے کا سلسلہ ہے،اور یہ سلسلہ دکھ دیتا ہے۔ تم مجھ میں اپنی روشنی نہیں دیکھ رہیں، اپنا دکھ دیکھ رہی ہو،مگر نہیں جانتی ہو۔اس نے کھیم کے کہانی دہرائی۔ اس نے دیکھا، اس کے سامنے وہ خود کھڑی ہے،ایک موہنی بچی کی صورت، تھوڑی ہی دیر میں خوبرو لڑکی، اگلے چند لمحوں میں کہن سال عورت، پھر لاٹھی ٹیکتی بورھی عورت۔کیاتمھاری آنکھوں پہ بندھی پٹی اب بھی باقی ہے؟ اس نے فتح مندی کے احساس کے ساتھ سوال کیا۔<br>
اس نے سوچا،اگر وہ آج بھی نہ کَہ سکی تو کبھی نہ کَہ سکے گی۔</p>
<p>تمھیں یہ کیوں گھمنڈ ہے کہ تمھارا گیان مکمل ہے؟ تمھارے گیان میں صرف تم ہی تم ہو،کوئی دوسرا نہیں۔ تم نے بارہ سال جنگلوں میں گزارے۔ میں نے بھی بارہ سال اس قید خانے میں گزارے، کاٹھ کی طرح نہیں۔ تم نے اپنے لیے ساری کائنات کو چن لیا، مجھے اس محل کے بندی خانے میں ڈال دیا۔ تمھیں خیال آیا کہ جس سفر پر تم نکلے تھے، اس کی آرزو مجھے نہیں ہوسکتی تھی؟تم بھی یہ سوچتے تھے کہ عورت میں آتما نہیں ہوتی؟ کیا تنہائی میں عورت پراس بات کی یلغار نہیں ہوتی کہ دنیا میں دکھ کیوں ہے،بڑھاپا کیوں ہے، موت کیو ں ہے؟ تم اپنی کھوپڑی کو میری کھوپڑی سے بڑاسمجھتے ہوگے،مگر تمھارا دل،میرے دل سے بڑا نہیں ہے۔تمھاری کوکھ ہوتی تو پھر بھی جنگل جاتے؟کوکھ بھی سوچتی ہے۔تم ہر زمانے میں،ہر جگہ،کوئی بھی صورت اختیار کرکے جاسکتے ہو۔تم اس زمانے میں بھی گئے ہو،جب تم اپنی ماں کی کوکھ میں قوس بنے ہوئے تھے؟ میں تمھیں بتاتی ہوں کہ کوکھ بھی سوچتی ہے،اور وہاں موجود جیو بھی سوچتا ہے۔باہر آکر سب بھول بھال جاتاہے۔جانتے ہوجیو کیاسوچتا ہے؟ وہی سوچتا ہے جو کوکھ سوچتی ہے،اور جو کوکھ سوچتی ہے وہی جیو سوچتا ہے۔یہ بھی سنو،کوکھ اور جیو سے پہلے ایک پل ایسا آتا ہے، جب دو سانسیں ایک سانس بنتی ہیں۔ایک نہ بن سکیں تو جیو اور کوکھ میں جھگڑا شروع ہوجاتاہے۔مانو جیو پہلے پل ہی جلاوطن ہوجاتاہے،اور آگے جلاوطن ہوتا رہتا ہے۔لڑتا جھگڑتا رہتا ہے۔تم دوسانسوں کے ایک سانس بننے کو بھول چکے ہو۔اس لیے تمھیں یاد نہیں کہ پریم،گیان سے بڑا ہے۔تم کہتے ہو،ہرشے اپنے زوال کی طرف بڑھتی ہے۔میں کہتی ہوں،ہر شے اپنی تکمیل کی طرف بڑھتی ہے۔ شہر کو آنکھیں کھولنے کے بعد انگڑائی لینی چاہیے، چلنا چاہیے،دوڑنا چاہیے۔ دوپہر ہو، رات ہو،تاکہ پھر ایک صبح ہو۔</p>
<p>یہ ایک چکر ہے۔یہ چکر دکھ دیتاہے۔یہ چکر ختم کروگی تو بریت ہو گی۔ اس نے اپدیش کے انداز میں کہا۔</p>
<p>تم کہتے ہو لہو کی تپش شروع ہوتے ہی خاتمے کی طرف بڑھتی ہے۔ یہ ہے تمھار اگیان! گیان میں اتنی بزدلی،اتنا ڈر بھی ہوتا ہے، مجھے بسواس نہیں آتا۔ جسے تم چکر کہتے ہو، اسی چکر نے تمھیں،مجھے جنم دیا اور پھر ہم نے اُسے جنم دیا۔<br>
تم اور طرح سمجھ رہی ہو۔میں آدمی کے پیدا ہونے کے خلاف نہیں۔</p>
<p>لہو کی تپش کے بغیر آدمی پیدا ہوسکتاہے؟</p>
<p>وہ لاجواب ہوگیا۔ وہ ڈر گیا۔ بارہ سال محل کی چاردیواری میں رہنے والی،کیسے اس کے آنند کے لیے خطرہ ہوسکتی ہے؟ اس نے سوچا۔<br>
لوہا گرم تھا۔</p>
<p>سنو، جب تم چلے گئے تو میں چھ سال روئی۔ پھر میں نے ایک خواب دیکھا۔ اپنی کھوپڑی میں بھرے سارے جہان کی شکتیوں کو بلالو تاکہ اس خواب کو سنتے ہوئے،تمھار اآنند برقرارہے۔ ساتویں سال کی پہلی رات تھی۔ وہ محل کے دوسرے کمرے میں سونے لگا تھا۔ میں نے آدھی رات سے پہلے کنیزوں کو جانے کے لیے کَہ دیا۔ نیند خواب کی طرح تھی۔ میرااس پر اختیار نہیں تھا۔ ذراذراسی دھند پھیلنا شروع ہوئی۔مدھم سرکا آغاز ہوا۔ خیال کا سلسلہ ٹوٹنے لگا،اور ایک نئی دنیا کا دروازہ معمولی چیں کے ساتھ کھلنے لگا۔پھر مکمل بے خبری۔ پھر ایک نئی دنیا میں تھی۔جیسے بیج پھوٹتاہے تو دھرتی کی ناف پر ایک لکیر سی ابھرتی ہے۔ مدت کے بعد وہ لکیر ابھر ی۔بیج نے اودھم مچایا۔مانو دھرتی کی گہرائی میں بھونچال آیا۔ بالآخر بیج ٹوٹ گیا،اور بھونچال کو قرار آگیا۔ بے خبری سے پہلے کی حالت لوٹ آئی۔ اتنی سرشاری۔</p>
<p>اس نے دیکھا، اس کا ہاتھ اس کے کاندھے تک آیا۔ لگا،جیسے اس کی گردن دبوچ ڈالے گا۔ کیا یہ خواب تھا اور بیج کس درخت کا تھا؟ اس کی آواز میں عجب درد تھا۔</p>
<p>وہ اس کی ڈاڑھی میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہنے لگی۔ تم نے ہی تو کہا ہے کہ تم سب صورتوں میں ڈھل جاتے ہو۔ وہ درخت تم ہی تھے۔ جب اس نے اس کے سینے کے بالوں پر ہاتھ رکھا تو اس نے محسوس کیا کہ اس نے اطمینان کا سانس لیاہے۔ اس نے مزاحمت ترک کردی تھی۔وہ اس کے سینے سے ہونٹوں تک پہنچی۔ اِدھررات آدھی ہوئی تھی،مشعل بجھادی گئی تھی،اُدھر دونوں کے بدن دہک رہے تھے۔ آگ آگ سے ٹکرا رہی تھی۔سمندر ہچکولے کھارہا تھا۔بارش تھی کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ وہ بھول چکا تھا کہ بارش ختم ہونے کے لیے شروع ہوتی ہے۔بارش کتنی اچھی ہے،اس نے محسوس کیا، لیکن بارش بالآخر تھم گئی۔دونوں کے جسم بارش میں نہائے درخت کی طرح چمک رہے تھے۔دوسانسیں،ایک سانس بننے کے بعد ہموار تھیں۔</p>
<p>مجھے بسواس ہے کہ یہ رات ایک نئے سویرے کو جنم دے گی،اور اس مرتبہ تم اسے اپنی روشنی پانے کے سفر میں اکیلا نہیں چھوڑ گے!</p>
<p>اس نے آنکھیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا،مسکرایا،اور کہا :ہاں! یہ بھی روشنی ہے۔<br>
وہ دوسری مرتبہ مسکرایا تھا۔اس کے گواہ دیوتا نہیں تھے، اکیلی وہ تھی۔<br>
اس نے وہ مسکراہٹ جس پتھر میں قید کی،اسے ابھی کسی نے دریافت نہیں کیا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%db%81%d8%a7%da%ba%d8%8c%db%8c%db%81-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%b1%d9%88%d8%b4%d9%86%db%8c-%db%81%db%92/">ہاں، یہ بھی روشنی ہے!</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%db%81%d8%a7%da%ba%d8%8c%db%8c%db%81-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%b1%d9%88%d8%b4%d9%86%db%8c-%db%81%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ولدیت کا خانہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%88%d9%84%d8%af%db%8c%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%88%d9%84%d8%af%db%8c%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ناصر عباس نیّر]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 29 Jun 2017 15:14:18 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Modern Urdu Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Nasir Abbas Nayyar]]></category>
		<category><![CDATA[Rabia Zuberi]]></category>
		<category><![CDATA[urdu short story]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[پدرسری]]></category>
		<category><![CDATA[جدید اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[جدید افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[ناصر عباس نیر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=21417</guid>

					<description><![CDATA[<p>ناصر عباس نیر: اس نے باپ کی شکل ذہن میں لانے کی کوشش کی،مگر اس کے ذہن میں باپ کا مراہوا چہرہ ابھرا۔ </p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%88%d9%84%d8%af%db%8c%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81/">ولدیت کا خانہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>وہی ایک قصہ تھا جو گھروں، دکانوں اورنماز کے بعد مسجد کے باہر کچھ دیر کے لیے جمع ہونے والے زیادہ تر بوڑھے لوگوں کے درمیان چل رہا تھا ؛اور ماسی جنداں اور دادی سداں کے تنوروں پر اکٹھی ہونے والی عورتوں کی زبان پرتھا۔مہنگائی، دوسروں کی غیبت، چھوٹی موٹی چوریوں،نوجوانوں کے معاشقوں،پاس پڑوس کے بیماروں، یہاں تک کہ مرجانے والوں کا ذکر اذکارسب تھم ساگیا تھا۔وہ قصہ ہی ایسا تھا۔ کسی کو یہ جاننے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ اس قصے کا ابتدائی خاکہ کیسے،اور کس کے ذریعے یہاں پہنچا تھا۔ انھیں قصے سے دل چسی تھی، قصے کی تاریخ سے نہیں۔البتہ قصے کے راوی سے دل چسپی ضرور تھی کہ اس نے ایک ایسا قصہ ان تک پہنچایا تھا،جس کو جتنی بار دہرایا جاتا، اتنا ہی لطف آتا۔ہر بار اس قصے کا راوی بدل جاتا اور ہر بار اس قصے میں نئے واقعات شامل ہوجاتے تھے،اور ہر بار اسے نئے،زیادہ قابل یقین طریقے سے بیان کیا جاتا۔وہ قصہ اپنے راوی کے اندر عجب جوش بھر دیتا تھا۔وہ اس جوش کی رو میں بَہ جاتا،کچھ اس طرح جیسے اسے کوئی خزانہ ہاتھ آگیا ہو، اور اسے سمجھ نہ آرہا ہو کہ وہ اس خزانے کا کیا کرے،جس نے اسے ایک دم اہم آدمی بنادیاہے۔وہ بڑے آدمی کی طرح ہی سب کو قصہ سناتا۔ایک بات اس گاؤں کے سب لوگوں نے بھی دریافت کی تھی کہ وہ قصہ پرانا ہوتا ہی نہیں تھا۔اس میں بہ یک وقت میٹھے اور نمکین چاولوں جیسا ذائقہ تھا۔ہر روز یہ قصہ دہرایا جاتا،نئے انداز میں کئی کئی بار دہرایا جاتا،اور ہر بار پہلے سے زیادہ دل چسپ اور پہلے سے زیادہ قابل یقین لگتا تھا۔ایک دن عصر کی نماز کے بعد مسجد کے دروازے پرجمع بوڑھوں سے،چھٹی پر آئے ہوئے ماسٹر احمد نے یہ تبصرہ کیا کہ اب یہ قصہ رہ ہی نہیں گیا، ہمارے گاؤں کا ایک جیتا جاگتا فرد بن گیا ہے۔سب نے حیرت سے منھ پھاڑے ماسٹر کی طرف دیکھا،جیسے اس قصے میں ایک نیا موڑ اچانک آیا ہو، اور کوئی شخص قصے سے نکل کر،ان کے درمیان آکھڑا ہواہو۔سب نے ایک دوسرے کی طرف شک اور دل چسپی سے دیکھا۔</p>
<p>کوئی دو ہفتے تک قصہ دل چسپ بھی رہا،اور حیرت انگیز بھی۔اس قصے کا ایک عجب طلسمی ہالہ سب کو اپنی گرفت میں لیے رہا۔پھر آہستہ آہستہ ایک خوف نے انھیں آلیا۔انھیں یہ جاننے میں وقت لگا کہ اس قصے نے ایک طرح سے ان کی اجتماعی روح پر قبضہ کرلیا تھا۔سب کو اس قبضے کا مدھم سا احساس تھا۔ وہ سب ایک زنجیر میں بندھ گئے تھے۔ایک دوسرے کے قریب آگئے تھے۔ ڈرے ہوئے تھے۔ ایک دوسرے سے ڈرے ہوئے تھے۔ پہلی بار ایک دوسرے کے اس قدر قریب آئے تھے۔مگر زنجیر کو توڑنے کی کسی میں ہمت نہیں تھی۔<br>
کل کی بات ہے۔ دوپہر کا وقت تھا۔ بارہ ایک کا ٹائم تھا۔ چک مراد کی ایک لڑکی کو سائیں شریف کے پاس لایا گیا۔وہ بارہ سال سے بیمار تھی۔ اس کی بیماری کسی نے سنی نہ دیکھی۔اسے بخار آتااور ہچکی لگ جاتی۔ دس دس دن ہچکی لگی رہتی۔ نہ کچھ کھا پی سکتی، نہ سو سکتی۔کوئی دوا اثر نہیں کرتی تھی۔سائیں شیشم کے درخت تلے دری بچھا کر بیٹھے تھے۔ وہاں کوئی خلقت تھی۔ایسا لگتا تھا کہ گڑ کے بھورے کے گرد چیونٹیاں جمع ہوگئی ہوں۔مگر کوئی کھسر پھسرتک نہیں تھی۔ایک پتھرجیسی چپ تھی،اور انتظار تھا۔کافی دیر تک سائیں نے آنکھیں بند رکھیں۔پھر اچانک کھولیں۔ عورت کو دیکھا۔ فوراً آنکھیں بند کرلیں۔ سر کو جھٹکا دیا۔ جیسے آدمی کو کرنٹ لگتا ہے۔ سب مخلوق ڈر گئی۔ یااللہ خیر۔ سب کو منھ سے ہولے سے نکلا۔ساری خلقت کی آنکھیں سائیں کی طرف اٹھی تھیں۔ انتظار تھا کہ کیا فرماتے ہیں۔ بالآخر انتظار تمام ہوا۔ ارشاد ہوا۔ چٹا، گنجا،کیکر۔</p>
<p>جانتے ہو،اس کا مطلب کیاتھا؟شام کے وقت ہوٹل پر جمع لوگوں کی طرف خاصے مرعوب کن انداز میں دیکھتے ہوئے،یعقوب نے پوچھا۔<br>
تمھیں معلوم ہے،سائیں شریف کا مطلب کیا تھا؟ گاؤں کے حکیم کی دکان پر بیٹھے لوگوں سے غلام محمد نے پوچھا۔</p>
<p>پتہ ہے، سائیں نے کیا بتایا؟ تنور پر آنے والی عورتوں سے فاطمہ نے کہا۔</p>
<p>چٹا، گنجا،کیکر سے سائیں کا مطبل کیا تھا؟ سار دن جانور کی طرح کام کرنے والی نوراں نے اپنے گھرپڑے نکھٹو شوہر سے پوچھا۔<br>
ان سب میں یعقوب ہی مستند راوی تھا،کیوں کہ وہ سائیں شریف کی مجلس میں موجود تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ ایک دم بتادے کہ ان تین لفظوں کا کیا مطلب تھا۔ اسے لگا تھا کہ اس کے پاس خزانہ ہے۔اس خزانے پر صرف اس کا اختیار ہے۔اس اختیار نے اس میں طاقت بھر دی ہے،اوریہ طاقت عجب طرح کی ہے۔اس طاقت کا اسے قطعاً تجربہ نہیں تھا۔ وہ اس طاقت سے کچھ کچھ ڈرا ہوا تھا۔وہ اس طاقت کے نئے پن سے ڈراہوا تھا۔اس ڈر کے دوران میں اسے محسوس ہوا کہ اس کے پاس خزانہ نہیں، ایک راز ہے۔نہیں خزانہ بھی تو ایک راز ہے۔ڈر کے ساتھ وہ ایک طرح کی لذت بھی محسوس کررہا تھا۔وہ ڈر اور لذت کے تعلق سے واقف نہیں تھا،مگر دونوں کو ایک ساتھ محسوس کیے جارہا تھا۔یعقوب نے پہلی دفعہ دریافت کیاکہ کوئی ایسا خزانہ اور راز بھی ہوسکتا ہے،جس کا تعلق لفظ کے مطلب سے ہو۔ سائیں لفظ بولتا تھا اورایک گہری خاموشی میں چلا جاتا تھا۔ پاس ہی اس کا ایک خاص مرید بیٹھا ہوتا جو سائیں کے لفطوں کا مطلب بتاتا تھا۔مجلس میں تو سب لوگ مرید کی بات تسلیم کرلیتے تھے،مگر بعد میں کچھ کچھ شک کرنے لگتے تھے۔لیکن یہی شک،گاؤں میں دہرائے جانے والے قصوں کی بنیاد تھا۔کچھ خود سر نوجوان کھلے لفظوں میں یہ تک کہہ دیا کرتے تھے کہ شک کی ذمہ داری خود سائیں پر ہے۔آخر وہ پورا جملہ کیوں نہیں فرماتا تھا۔</p>
<p>یعقوب نے کافی دیر سے منتظر لوگوں پربالآخر یہ راز کھول دیا کہ سائیں کے خاص مرید نے چٹا، گنجا،کیکر کا مطلب یہ بتایا تھاکہ چٹے دن کو ایک گنجے آدمی نے کیکر کے درخت کے نیچے اس لڑکی سے زیادتی کی تھی۔ آدمی اور کیکر سے تعلق تو سب کی سمجھ میں آتاتھا، مگر ’زیادتی ‘ کہاں سے ٹپک پڑی تھی؟مرید کا کہنا تھا کہ سائیں کو ہر آدمی کے گرد ایک ہالہ نظرآتا ہے،جس میں وہ سب لوگ، جگہیں، واقعات دکھائی دیتے ہیں، جن سے آدمی کا تعلق رہا ہے۔ مرید سے بھی کسی کو اختلاف کی جرأت نہیں تھی۔حقیقت یہ تھی کہ جس چیز نے لوگوں کو حیرت میں ڈالا تھا،اور خوف زدہ کیا تھا، یہی ہالے کا نظر آنا تھا۔ شاید لوگوں کو یقین نہ آتا۔ لیکن ایک دن ایسا واقعہ ہو اکہ سب کو یقین آگیا۔ اس روزسائیں نے اپنی مجلس میں بیٹھے گاؤں کے مولوی صاحب کی طرف دیکھا اور ایک دم کَہ ڈالا: کالی، نکاح۔ مرید نے وضاحت کی کہ مولوی صاحب نے ایک کالے رنگ کی عورت سے نکاح کیاہے۔ مولوی صاحب نے بھی اقرار کرلیا کہ انھوں نے چند ہفتے پہلے دوسرا نکاح کیا ہے۔ اس سے اگلے دن گاؤں کے لائن مین شرافت کو دیکھ کر سائیں نے کہا : دو، بیس، ایک۔ کسی کے پلے نہیں پڑا۔ سائیں کے مرید خاص نے بتایا کہ اس شخص کے دو باپ ہیں،ایک وہ جس نے جنم دیا،اور ایک وہ جس نے اسے پالا، اوربیس سال پہلے پالا،اور وہ ایک ہے ماں باپ کا۔ شرافت کو اس کے چچا نے پالا تھا،جب شرافت کے ماں باپ بیس سال پہلے ایک حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ سائیں کی کرامت پر لوگوں کا یقین اپنی آخری حد کو پہنچ گیا،اور وہ ڈر گئے۔</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>اب لوگ وہاں جانے سے کترانے لگے تھے۔ وہ اپنے ہالے سے ڈرنے لگے تھے،نہیں اس ہالے کے پہچانے جانے سے ڈرنے لگے تھے۔جس بات کو قدرت نے راز رکھا ہے،سائیں اس کو سب کے سامنے لے آتے ہیں، وہ قدرت کے کاموں میں دخل دیتے ہیں۔ اب لوگ سائیں کے حوالے سے نئی تاویلیں کرنے لگے تھے۔</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>وہ شام کے قریب سائیں کی مجلس میں پہنچا۔ کم لوگ رہ گئے تھے۔ وہ ذرا دور ہوکر بیٹھ گیا۔ وہ چاہتا تھا،جب سب چلے جائیں تو سائیں کے سامنے جائے،اور اس کے دل کا حال جانیں،اور اسے اذیت سے نجات دلائیں۔سائیں نے سر کو ایک جھٹکا دیتے ہوئے کہا: مولا۔خاص مرید سمجھ گیا کہ سائیں اب خلوت چاہتے ہیں۔’ سب لوگ چلے جائیں۔سائیں کی عبادت کا ٹیم ہوگیا ہے‘۔اس نے ملتجی نظروں سے خاص مرید کی طرف دیکھا،جسے لوگ شاہ صاحب کہنے لگے تھے۔ شاہ صاحب نے اسے قریب آنے کا اشارہ کیا۔’ہاں کیہ گل اے‘(کہو کیا بات ہے)۔شاہ صاحب نے سرگوشی کے انداز میں کہا۔اس نے شاہ صاحب کی مٹھی اپنی مٹھی میں لی،اور رقت سے کہا۔’ اکیلے میں بات کرناچاہتاہوں ‘۔شاہ صاحب نے سب کو جانے کا کَہ دیا۔‘ہاں ہنھ دس‘ (اب بتاؤ)۔اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔اس نے ایک نظر سائیں کے چہرے پرڈالی۔ گیسوؤں میں آدھا چہرہ چھپا ہواتھا۔ آنکھیں بند تھیں۔لمبوتری ناک جیسے سجدے کی حالت میں تھی۔</p>
<p>میں کیسے کہوں۔ دماغ پھٹ رہاہے۔ پندرہ سالوں سے ہر دن لگتا ہے،دماغ پھٹ جائے گا۔ میں جی نہیں رہا۔ مرنہیں رہا۔پندہ سالوں سے لگتا ہے کوئی میری گردن پر چڑھا بیٹھا ہے۔میرا دم گھٹ رہا ہے۔</p>
<p>قصہ لمبا نہ کر، مطلب کی بات کر۔</p>
<p>ہاں حضور۔ مجھے مافی دے دو۔ میں گناں گار ہوں۔سائیں مجھے بس اتنا بتادیں۔ اکرو، کس کا بیٹا ہے۔ اسے جنا میری زنانی نے ہے،مگر وہ میرا نہیں۔ اس کی شکل صورت میرے سے،یا میرے خاندان کے کسی بندے سے نہیں ملتی۔ وہ رنگ کا کالاہے۔ قد چھوٹا ہے۔ ناک پتلی ہے۔ یہ میری ناک دیکھوپکوڑے جیسی ہے۔ میرے بھائی،والد سب کی ناکیں ایسی ہیں،لیکن اکر و،مادر چود کی ناک۔۔۔۔ سائیں مجھے بتاؤ۔۔۔۔۔وہ کس کے تخم سے جنا ہے۔وہ میرے گھر میں، کس خنزیر کی اولادہے۔جس وقت میں نے اس کی شکل دیکھی تھی، اس وقت سے میرا جینا حرام ہے۔</p>
<p>پریشان نہ ہو۔سائیں تجھے ضرور بتائیں گے۔ پر یہ بتا تو کرے گا کیا؟<br>
میں اس کے باپ کو قتل کروں گا۔<br>
ٹھیک ہے۔ پر اکرو۔۔یہی بتایا نہ اپنے بیٹے کا نام۔۔۔۔۔<br>
نہیں وہ میرا بیٹا نہیں۔بس اس کا ان پانی میرے گھر لکھا تھا۔پر اب میں۔۔۔۔<br>
اکرو کا کیا کرے گا۔<br>
اسے بھی مارڈالوں گا۔<br>
اب تک مارا کیوں نہیں</p>
<p>وہ چپ ہوگیا۔ اس کے منھ سے پہلی مرتبہ اکرم کو مارنے کے ارادے کا اظہار ہوا تھا۔وہ حیران ہوا کہ اسے آج تک اسے مارنے کا خیال کیوں نہیں آیا۔وہ اسے آج تک پیار نہیں کرسکا،مگر اسے مارڈالنے کی خواہش بھی نہیں ہوئی۔<br>
لیکن اب میں مارڈالوں گا۔</p>
<p>ٹھیک ہے۔تمھارا مال ہے۔۔۔۔میرا مطلب ہے،تمھارے پاس وہ جی ہے، جیسے تمھارا جی کرے۔<br>
سائیں نے ایک دفعہ پھر سر کو جھٹکا دیتے ہوئے کہا۔ مولا۔ شاہ صاحب نے اسے چلے جانے کو کہا۔کل آنا،سائیں آج نہیں بتائیں گے۔</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>اگلے دن پورے گاؤں میں اکرم کی ولدیت کا قصہ گردش کررہا تھا،قصہ کیا تھا، بگولہ تھا جس کی لپیٹ میں پوراگاؤں تھا۔کسی کی چادر، کسی کا برقع، کسی کے قمیص کا دامن اس بگولے سے اترا جارہا تھا۔تنور سے لے کر مسجد تک،حکیم کی دکان سے حجام کی دکان تک، ہر جگہ ہرگھر میں یہ سوال نما قصہ تھا کہ اکرم، شیخ اسمٰعیل کا بیٹا نہیں تو کس کا ہے؟ کون کس کا ہے، کون کس کا یار ہےکون کیا کرتا رہا ہے۔ بگولے سے گاؤں کی کتاب کے ورق پھٹے جارہے تھے اور ادھر ادھر اڑے جارہے تھے۔ہائے کیا زمانہ آگیا ہے،اب قیامت آئے کہ آئے۔عورتیں حرام کے بچے پیدا کرکے اروڑی پر نہیں پھینکتیں،گھر میں پالتی ہیں۔تمھیں یاد ہوگا، جب سیلاب آیا تھا تو نہر میں ایک ایک دو دوروز کے کتنے بچوں کی لاشیں ملی تھیں۔سب حرام کے تھے۔پر ان کی ماؤں کی لاشیں بھی تو تھیں۔ایک عورت تو مری پڑی تھی،مگر اس کا پیٹ سانس لے رہا تھا۔دائی صاباں کہتی تھی،اس کے پیٹ میں زندہ بچہ ہے،پر کون حرامی بچے پالتاہے۔ نی،تمھیں بھول گیاہے کہ کرم مسور کا بیٹا جو پولس میں ہے، وہ شمو مراثن کا ہے،جسے کرم نے ایک کھولے سے اٹھایا تھا۔نہیں وہ صاحباں بھروانی کا ہے،جسے شمو مراثن کھولے میں پھینک گئی تھی۔جس کا بھی ہے،وہ نیک بچاہے۔سب کو سلام کرتا ہے۔ توبہ ہے۔اس نے تو ایک حرام کے بچے کو اپنا بیٹا بنالیا،پر شیخ اسمٰعیل اپنے سگے بیٹے کو حرام کابتاتاہے۔اللہ قیامت کیوں نہیں آتی۔ اتنے سال اسے خیال نہیں آیا۔ اس کی بیوی دیکھنے میں تو شریف لگتی ہے۔پر عورت ذات کا کیا بھروسا۔ جب اس کی شادی نہیں ہوئی تھی تو برقع پہن کر اسی سڑک سے گزر کر شہر جاتی تھی۔ شریف عورتیں اکیلی شہر نہیں جاتیں۔ خد اکا خوف کرو، اس کی نوکری تھی۔ شادی کے بعد شیخ اسمٰعیل نے نوکری چھڑوائی تھی۔ماسٹر پہلے دن سے شکی مزاج تھا۔ ہوسکتاہے وہ اس کے کسی چکر وکرسے واقف ہو،ورنہ کون نہیں چاہتا کہ گھر میں چار پیسے آتے رہیں۔ بھائی صاحب،یہ چودھویں صدی ہے۔نہیں جناب پندرھویں صدی ہے۔ہاں ہاں جو بھی ہے،ان ٹیچروں کے سب سے زیادہ یار ہوتے ہیں۔انھیں آزادی بھی تو ہوتی ہے۔ گھر میں اتوار کے دن بھی کہتی ہیں کہ ای ڈی او کے دفتر جانا ہے۔اور اپنے یاروں سے ملنے جاتی ہیں۔ دو مہینے پہلے ٹیچر صائمہ نے سول ہسپتال سے ابارشن کروایا تھا،مجھے خود اسلم ڈرائیورنے بتایا جس کی وین میں سب ٹیچریں سکول جاتی ہیں۔کیا ضروری ہے کہ وہ ہسپتا ل ابارشن کروانے گئی ہو؟ میں نے تو اسے اس کی چال سے پہچان لیا تھا کہ وہ پیٹ سے ہے۔ یاریہ تما م ٹیچریں برقعے کیوں پہنتی ہیں بھولے بادشاہوتمھیں نہیں معلوم،وہ نہیں چاہتیں کہ پہچانی جائیں۔ شیخ اسمٰعیل کے واقعے سے ان ٹیچروں کا کیا تعلق؟ بس ان کے ذکر سے لذت ملتی ہے۔ تمھاری ایک کزن بھی تو ٹیچر ہے۔ اس کانام نہ لو۔ وہ میری بھابھی بننے والی ہے۔ سنا ہے،سب سے زیادہ ابارشن مراثنوں اور مصلنوں کے ہوتے ہیں۔ یارسب کے ہوتے ہیں۔ زمینداروں کی عورتوں کے گناہ بھی یہ بیچاریاں اپنے سرلے لیتی ہیں۔ اکرم دیکھنے میں کتنا شریف اور پڑھاکو لگتاہے۔ اس نے کبھی کرکٹ تک نہیں کھیلی۔ سناہے حرام کے تخم قہاری ہوتے ہیں،لیکن یہ تو کبھی گلیوں میں چلتا پھرتا بھی نظر نہیں آیا۔ اگر قہاری لڑکے حرام کے ہوتے ہیں تو تمھارا بھائی تو پکا حرامی ہے۔ ماں سے پتا کرو،کس کے ساتھ سوئی تھی۔ تڑاخ۔ یار تم تو جذباتی ہوگئے۔ ہر ماں کسی نہ کسی کے پاس تو سوتی ہے۔ نہیں ماں،صرف بچے پیدا کرتی ہے اور پالتی ہے۔ یار یہ سمجھ نہیں آتی۔اگر بچہ حرامی ہوتا ہے تو عورت اور مرد کیا ہوتے ہیں ہم نے دونوں کو معاف کردیا،پر بچے کو نہیں۔ لیکن سنا ہے شیخ اسمٰیعل دونوں کو مارنے پر تلا ہوا ہے۔سائیں اور شاہ صاحب آگ لگا کر رہیں گے۔ کتنے امن سے رہ رہے تھے۔ حالاں کہ پتا تھا کہ کون آدھی رات کیاکرتا ہے اور کہاں جاتاہے۔کچھ باتیں چھپی رہنی چاہییں۔ خدا نے آخر رات کس لیے بنائی ہے۔ سائیں رات کو دن بنانے لگاہے۔ لوگو،خدا کے کاموں میں دخل نہ دو۔لیکن اس کا کیا قصور ہے۔ کیا وہ کسی کو بلا بھیجتا ہے؟ سب اپنی خوشی سے جاتے ہیں۔ تم چھپی باتوں کو جاننا بھی چاہتے ہو،اور ڈرتے بھی ہو۔ یار معلوم کرو، سائیں آیا کہاں سے ہے؟ یہ شاہ صاحب کون ہیں سناہے، شہامند زمیندار کے پاس آئے تھے، اسی نے انھیں بوہڑ تلے بیٹھنے کی اجازت دی۔کیا پتا شہامند کو کچھ حصہ ملتاہو۔ تمھیں یاد ہے، شہامند کے کینڈیڈیٹ کو ہمارے ٹھٹھے کے ووٹ نہیں ملے تھے۔ کیا وہ اتنا گھٹیا ہوسکتا ہے۔ آہستہ بولو،یہ زمیندار بہت ہی گھٹیا ہوتے ہیں۔ یادہے، اسی نے جانو ماچھی کے چھوہر (لڑکے)پر کتے چھوڑدیے تھے۔ غریب کا قصوریہ تھا کہ وہ تیز تیز سائیکل چلا رہا تھا کہ آگے شہامند آگیا تھا، جس پر کچھ گھٹا پڑ گیا تھا۔ چوری کا الزام لگا کر اپنا بولی کتا اس پر چھوڑ دیا تھا۔یار آج کل تو اس کی ویڈیو بنا کر کسی ٹی وی والے کو دے دینی چاہیے۔ شاباش اے،پھر اس غریب کی خیر نہیں۔ شیخ اسمٰعیل اور شہامند کی لڑائی بھی تو ہوئی تھی۔ ووٹوں کی وجہ سے۔شہامند سے کس کی لڑائی نہیں ہوئی۔ لیکن بھائی،یہ سائیں وائیں سمجھ میں نہیں آتا۔ اگر اس نے یسو پنجو ہار کبوتر ڈولی جیسی زبان میں کچھ کہہ دیا اور شاہ صاحب نے اس کا مطلب یہ بتادیا کہ اس ٹھٹھے کے سارے مرد حرامی ہیں تو کیا ہوگا۔ ہوگا کیا،مزا آجائے گا۔حرامی مرد تو زبردست چیز ہے۔ بھڑوا مرد برا ہوتا ہے۔ہاں ہاں تمھیں تجربہ جو ہے۔بکواس مت کر۔میں نے سنا ہے کہ حرامی کو کسی بات کا ڈر نہیں ہوتا۔سب بڑوں کو،پیسے والوں کو،تھانیدارکو،تحصیل دار،ایم پی اے،ایم این اے،وزیر کو بلاوجہ تو حرامی نہیں کہتے۔ حرامی ہونا تو بڑے آدمی کا رینک ہے۔ تمھار امطلب ہے، اکرم بڑا ٓدمی بنے گا۔ ہاں،بالکل اگر واقعی حرامی ہے۔ شریف ہوا تو زہر کھالے گا۔ دفعہ کرو،ان باتوں کو ہمیں کیا لینا دینا۔ دیکھو اس بار بھی بال خراب کاٹے تو اس قینچی سے۔۔۔۔نہیں بھائی پریشان نہ ہو۔۔۔میں پانچ سال کراچی یہی کام کرتا رہا ہوں۔اب اللہ کے واسطے، وہاں کے قصے نہ سنانا۔</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>کل شام شیخ اسمٰعیل کوامید بندھی تھی کہ پندرہ سالوں سے وہ جس سوال کی آگ میں خاموشی سے جل رہا ہے، اسے اس کا جواب مل جائے گا۔ گھر پہنچ کر اس نے اکرم کو کھاناکھاتے دیکھا تو پہلا خیال یہ آیا کہ بچّو،اب نوالے گن لو۔اگلے ہی لمحے اس نے خود کوایک نامعلوم آدمی کا گلا گھونٹتے ہوئے دیکھا،اور دل کو مدتوں بعد مطمئن محسوس کیا۔ لیکن اگلا دن اس کے لیے ایک نئی مصیبت لایا۔اسے لگا کسی نے اس کا سینہ چیر ڈالا ہے۔۔۔۔نہیں۔۔ اسے محسوس ہوا کسی نے اس کا ستر چوراہے کے بیچ کھینچ ڈالاہے۔کسی نے کہا تو پاگل ہوگیا ہے۔کسی نے کہا،ماسٹر بے غیرت ہے۔پندرہ سالوں بعد آج اسے پتا چلا ہے۔ کسی نے کہا ماسٹر خدا تمھیں صبر دے،جو بھی ہے، بچے کا کیا جرم؟ چاچے رمضو نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا،پتر میں تیر ا دکھ سمجھتا ہوں۔ پر شکل پر مت جا۔شکلیں دھوکا دیتی ہیں۔ آدمی دھوکا دیتا ہے۔ ہاں چاچا۔عورتیں بھی دھوکا دیتی ہیں۔ پر ماسٹر پتر، عورت مرد کے ساتھ مل کر دھوکا دیتی ہے۔نہیں چاچا، ایک مرد کے ساتھ مل کر دوسرے مرد کو دھوکا دیتی ہے۔تو یوں کہہ نا۔مرد عورت دونوں دھوکا دیتے ہیں۔ ٹھیک کہا،مجھے سائیں۔۔۔۔نہیں۔۔۔شاہ صاحب نے دھوکا دیا ہے۔ کیا کہا؟ نہیں چاچا کچھ نہیں۔</p>
<p>گھر میں عجب خوف ناک خاموشی طاری تھی۔اس کی بیوی نے سوجی آنکھوں سے اس کی طرف یوں دیکھا،جیسے وہ اس کی آنکھوں میں جوتوں سمیت اتر جائے گی۔دونوں بیٹے اور چھوٹی بیٹی اسے نظر نہیں آئے۔وہ خاموشی سے گھر کی چھت پر الانی (بغیر بستر کے)چارپائی پر ڈھ گیا۔ اسے یہ جاننے کی تڑپ ہوئی کہ وہ کون حرام زادہ ہے،جس نے شاہ صاحب کے ساتھ رازداری کی گل بات کو گلی گلی پہنچا دیا۔ اس نے کل شام کے واقعات یاد کرنے شروع کیے۔عصر کی نماز اداکرنے کے کوئی آدھ گھنٹہ بعد اس نے موٹر سائیکل کو کک ماری تھی۔’میں ذرا بھٹے تک جارہا ہوں ‘ کسی کو مخاطب کیے بغیر،سر پر پگڑی باندھتے ہوئے،کہا تھا،اور مغرب کی سمت جانے والی سڑک پر موٹر سائیکل ڈال دیا تھا۔دس منٹ میں وہ نواز کی بستی پہنچ گیا تھا۔اسے یاد آرہا تھا۔۔۔بستی کے عین بیچ بوہڑ کا درخت۔۔۔ سائیں کی ڈاڑھی کی طرح زمین کی طرف لٹکی شاخیں۔۔چاروں طرف گھر۔۔۔کچھ کچے،کچھ پکے۔۔۔۔۔مٹیالے سرخ رنگ کی دری۔۔۔سبز جانماز۔۔۔۔پھل فروٹ، کپڑے،مڑے تڑے روپوں کی ڈھیری۔۔۔سائیں کی زمین کو سجدہ کرتی ناک۔۔۔۔شاہ صاحب۔۔۔مٹھی۔۔۔کوئی اور نہیں تھا۔۔۔۔ہاں،ایک شخص آیا تھا، سائیں کے پاؤں کوہاتھ لگایاتھا،چلا گیا تھا۔۔۔نہیں وہ یقین سے نہیں کَہ سکتا۔۔۔وہ تو سرجھکائے، سائیں اورشاہ صاحب کے آگے دل کا حال بیان کررہا تھا۔وہ کون تھا؟ اُس کے گاؤں کا ہوتا تو وہ پہچان لیتا۔یوں بھی وہاں اب جانے کہاں کہاں سے لوگ آنے لگے تھے۔اس شخص کے لیے اس کا دل غصے سے بھر گیا۔میرے سامنے تو آئے،میں اس حرامی کو اکرو کے باپ سے پہلے اگلے جہان نہ پہنچاؤں تو میں اپنے باپ کا نہیں۔ایک خیال اچانک اس کے دھیان میں کوندا۔ میرے پاس کیا ثبوت ہے کہ میں اپنے باپ کا ہوں وہ ڈٖرگیا،مگر جلد ہی اس نے اپنے ڈر پر قابوپالیا۔ ہاں میرے پاس ثبوت ہے۔ میری ماں ایک شریف عورت تھی۔ اس کا دماغ چکرانے لگا۔ اسے پہلی دفعہ پوری وضاحت سے محسوس ہوا کہ اس کی بیوی،اس کی ماں کی طرح شریف نہیں ہے۔ایک دم اس کے ذہن میں غبار بھر گیا۔<br>
اسے یقین تھا کہ اکرو،اس کا بیٹا نہیں۔ اس نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اسے کیوں یقین ہے۔ بس اکرو کا ناک نقشہ اس سے نہیں ملتا۔ پھر ایک خیال اس کے ذہن میں ابھرا۔ کیا میرا ناک نقشہ میرے اپنے باپ سے ملتاہے؟ اس نے باپ کی شکل ذہن میں لانے کی کوشش کی،مگر اس کے ذہن میں باپ کا مراہوا چہرہ ابھرا۔ مغرب کی نماز کے بعد اس نے باپ کو قبرمیں ڈالا تھا۔ اور ٹارچ کی روشنی میں آخری باراس کا چہرہ دیکھا تھا۔ سانولا،لمبوترا چہرہ،جلد اکڑی ہوئی اور جلی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ اسے اپنے باپ کا یہ چہرہ کبھی نہیں بھولا تھا۔ وہ بھول ہی گیا کہ وہ اپنے چہرے کو باپ کے چہرے میں ڈھونڈنا چاہتا تھا۔ وہ ڈربھی گیا تھا۔ مرے چہرے میں اپنا ناک نقشہ دیکھنے کی اسے ہمت نہیں پڑرہی تھی۔ اس نے یہ سوچ کر دل کو تسلی دی کہ اسے باپ نے ہمیشہ اپنا پتر کہا۔</p>
<p>’ابا،اماں پوچھ رہی ہے روٹی اوپر ہی لے آؤں ‘۔وہ چھوٹے بیٹے اسلم کی آواز پر چونک پڑا۔’ہاں،ادھر ہی لے آ‘۔اس نے جیسے جان چھڑانے کے لیے کہا۔اسے پرانی باتیں یاد کرنے میں باقاعدہ لذت مل رہی تھی۔ آٹھویں یا نویں کے چاند کی دودھیا چاندنی میں اس نے اسلم کی پشت کو دیکھا، جب وہ سیڑھیاں الانگتے ہوئے نیچے جارہا تھا۔ بالکل اکر و کی طرح چلتا ہے۔</p>
<p>اس کا دھیان اس بات پر اٹکا تھا کہ اس کا اپنا چہرہ کیسا ہے؟اسے یاد آیا۔لڑکپن کے دن تھے۔وہ سکول سے آنے کے بعد جانگیہ پہن لیتا تھا،اور گلیوں میں دوڑنے لگتاتھا۔ گرمیوں کی ایک سہ پہراس کا دادادکان کے موڑھے پر بیٹھا تھا۔دو آدمی پاس پڑی ہوئی چارپائی پر بیٹھے تھے۔خدا جانے کیا باتیں کررہے تھے۔دکان کے سامنے اینٹوں کے فرش پرپانی کے چھڑکاؤ کیاگیا تھا۔مٹی کی سوندھی باس اٹھ رہی تھی۔ یہ باس اس وقت بھی،اتنے سالوں بعد،اسے محسوس ہورہی تھی۔دادا نے اسے گود میں بٹھا لیا تھا،حالاں کہ اس کا سر دادے کی ناک کو چھو رہا تھا۔’ تمھیں دیکھتے ہی مجھے اپنا دادا یاد آجاتاہے۔تمھاراہاڑ اس کی طرح ہے‘۔دادا نے بھی نہیں بتایا کہ اس کا چہرہ کس سے ملتاہے۔اس کا دھیان ماں کی طرف گیا،لیکن اسے ماں کی کوئی ایسی بات یاد نہیں آئی۔ہاں ایک بار اس کی چاچی نے کہا تھا،سماعیل تیرا متھاتیرے چاچے کی طرح ہے۔لیکن میری شکل؟ اتنی دیر میں اسلم روٹی لے آیا تھا۔ وہ چارپائی پر سرہانے کی جانب اٹھ بیٹھا۔ اسلم نے گلاس میں پانی ڈالا،تاکہ وہ ہاتھ دھولے۔ ’اماں پوچھ رہی ہے، چائے ابھی بنائے یا۔۔۔۔؟‘اسلم نے باپ کے ہاتھ دھلواتے ہوئے پوچھا۔ ’ہاں ابھی بنادے‘۔</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>اگلے دن وہ کسی سے بات کیے بغیر سکول چلا گیا۔ اس نے شکر کیا کہ اس کا سکول دس میل دور گاؤں میں تھا۔اس کے گاؤں میں چلنے والی آندھی سے ا س کی آنکھوں میں کئی ذرے پڑ گئے تھے،جوکانٹوں کی طرح اسے چبھ رہے تھے۔اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ کس طرح نوکری،جسے سب لوگ اپنی آزادی کے لیے پھندا سمجھتے ہیں، ایک پناہ گاہ ہوتی ہے،اتنی بڑی پناہ گاہ کہ ریٹائر منٹ کے بعد لوگ بَولاجاتے ہیں،اور کچھ کو تو سوائے مرنے کا انتظار کرنے کے کچھ نہیں سوجھتا۔شیخ اسمٰعیل کو ماسٹر نور یاد آئے جو ریٹائر ہونے کے دو سال بعد اس وقت گزر گئے،جب وہ حج کی تیاری کررہے تھے۔ اس نے سامنے سے آنے والی دھول اڑاتی کاردیکھ کر موٹر سائیکل کو کچے راستے پر ڈالتے ہوئے،دل میں فیصلہ کیا کہ وہ ریٹائر ہونے سے پہلے حج کر لے گا۔ لخ لعنت ای۔ کار کی دھول سے آنکھوں میں پڑنے والے ذروں کی چبھن محسوس کرتے ہوئے،اس کے منھ سے بے ساختہ نکلا۔وہ آج اپنی عینک اٹھانا بھول گیا تھا۔ وہ سکول کی پناہ میں آکر اپنی آنکھیں صاف کرنا چاہتا تھا۔ وہ پرائمری سکو ل دوکمروں اور دوہی استادوں پر مشتمل تھا۔دوسرے استاد ہفتے میں صرف دو دن آتے تھے۔آج نہیں آئے تھے۔شیخ اسمٰعیل نے ان کی غیر حاضری پر خدا کا شکر ادا کیا۔ شیخ اسمٰعیل نے دو کلاسوں کوسبق یاد کرنے اور باقی تین کلاسوں کو پہاڑے یاد کرنے کے لیے کہا۔ ہر کلاس کا ایک مانیٹر بنا کر،وہ خود سکول کے صحن میں موجود شیشم کے درخت تلے چارپائی بچھوا کر لیٹ گئے۔اپریل کے شروع کے دنوں میں دھوپ ذرا ٹھنڈی محسوس ہوئی۔ پانچویں کے ایک طالب علم کو گھر سے چائے بنوالانے کا کہا۔</p>
<p>وہ رات بھر سو نہیں سکاتھا۔ لیٹنے پر انھیں آنکھیں بند ہوتی محسوس ہوئیں،لیکن تھوڑی ہی دیر بعد لگا کہ جیسے ان کا ذہن خاموش ہونا بھول چکا ہے۔ سنسناہٹ کی آواز سے لگتا تھا کہ کوئی تیز لہر ان کی کھوپڑی کو چٹخاتے ہوئے باہر نکل آئے گی۔بند آنکھوں سے سنسناہٹ کو مسلسل سننا عذاب تھا۔میرے اللہ۔اس کی آنکھوں میں نمی تیر آئی۔پنج ایکم پنج،پنج دونی دس۔ہم سب ایک ہیں۔ نو پنجا پنتالی،نو چھ چرنجا۔ ہندو،مسلمان کا دشمن ہے۔تن ایکم تن۔ بچوں کی آوازوں سے ذرا دیر کے لیے لگا کہ سنسناہٹ کچھ کم ہوئی ہے۔ استاد جی، اجی نے میری کتاب پھاڑ دتی ہے۔ اس بے غیرت کوایک تھپڑ جڑ دو،اور میرے پاس کوئی شکایت لے کر نہ آئے۔اوئے، بالے جا، شانی ڈسپنسر کی دکان سے ایک پیناڈال لے آ۔جی استاد جی۔</p>
<p>ایک حرامی بچے کا باپ ہونے سے بڑا بھی کوئی عذاب ہوگا دنیا میں اس نے جیسے اپنی صورتِ حال کو پہچانا۔دوزخ۔ میں نے تو اسی دنیا میں دیکھ لیاہے۔اس کا دماغ کی سنسناہٹ بڑھ گئی۔ شاید بلڈ پریشر بڑھ رہا ہے۔ اسے خیال آیا۔ پانی کا گلاس منگوا کرایک ہی سانس میں پی لیا۔ ان بچوں میں سے کتنے اپنے باپ کے ہوں گے؟ اس نے ایک نگاہ ان سب بچوں پر ڈالی جو کھڑے ہو کر سبق اور پہاڑے یاد کررہے تھے۔سب کی شکلیں ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔ اس کے ذہن میں اچانک ایک خیال کوندا۔ اس نے چوتھی جماعت کے مانیٹر کو پکارا۔ جاؤ، گلام کمہار کے دونوں بھائیوں کو بلا لاؤ۔ایک پانچویں اور دوسرا شاید تیسری یا دوسری میں ہے۔ جی، استاد جی۔ دونوں بچے ڈرتے ڈرتے سامنے آکھڑے ہوئے۔ ایک کی ناک کی بھینی ہے۔ دوسرے کا ماتھا چوڑاہے۔ ایک کی آنکھیں بڑی اورکالی،دوسرے کی سرمئی اور بڑی ہیں۔رنگ میں بھی فرق ہے۔ ایک کاسیاہ اور دوسرے کا گندمی ہے۔ تمھارے باپ کا رنگ کالا ہے یا گورا؟ دونوں طالب علم بوکھلا گئے،انھیں اس سوال کی توقع ہی نہیں تھی۔</p>
<p>استادجی،کالاہے۔ نہیں استاد جی گوراہے۔<br>
ایک بات کہو،کیا کبھی اپنے باپ کو غور سے نہیں دیکھا۔<br>
نہیں استاد جی میں روز دیکھتا ہوں۔ وہ آپ کی طر ح تھوڑے تھوڑے کالے ہیں۔ بڑے نے کہا۔<br>
چھوٹا ڈر گیا،اور خاموش ہوگیا۔<br>
اچھا،اب جاؤ۔</p>
<p>چائے کا گرم گھونٹ حلق میں اترا تو شیخ اسمٰعیل کو اپنی طبیعت ذرا بحال ہوتی محسوس ہوئی۔ اس نے خود کو اندر سمٹتے محسوس کرنا شروع کیا،اوراس کے ساتھ ہی اسے لگا کہ کچھ گرد ہٹنے لگی ہے۔سارے فساد کی جڑہی عورت ہے۔عورت ہی بتا سکتی ہے کہ اس کے پیٹ میں کس کا تخم ہے۔عورت کو تخم سے غرض ہے،کسی کا ہو۔ نکاح کے ساتھ ہو، نکاح کے بغیرہو۔یہ عورت بھی کتنی واہیات ہے،بغیر نکاح کے بھی تخم ٹھہرا لیتی ہے۔تف ہے تجھ پر۔یہ تخم بھی تو نہیں دیکھتا کہ۔۔۔کہاں۔۔۔۔کیسے۔۔۔۔۔یہ تخم باپ ہے؟۔۔۔۔میں نہیں۔۔۔۔ہائے کیاتماشا ہے۔۔۔۔میں اور تخم۔۔۔تخم مرد کا،مگر مردہی کو خبر نہیں۔۔۔۔اپنے تخم کی خبر نہیں۔۔۔۔۔یامیرے مالک۔میں پاگل ہوجاؤں گا۔ماسٹر اسمٰعیل کی زندگی میں یہ پہلا لمحہ تھا،جب اسے اپنے اند ر کی اس تنہائی کا سامنا ہوا،جس میں آدمی اپنی تقدیر سے آگاہ ہوتاہے،اور اسے چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے کچھ کڑوی حقیقتوں کے روبرو ہونا پڑتا ہے۔ آدمی پر وہی لرزہ طاری ہوتا ہے جو قدیم زمانے میں دیوتاؤں جیسی آسمانی مخلوق یا ان کے قاصدوں کے اچانک سامنے آجانے پر طار ی ہوجایا کرتا تھا۔ ماسٹر اسمٰعیل کے ماتھے پر پسینہ نمودار ہوا۔ اس نے صافے سے پونچھتے ہوئے سوچاکہ شاید یہ گرم چائے کا اثر ہے۔اس نے خود کو ایک غار میں محسوس کیا، جہاں تھوڑے تھوڑے وقفے سے ایک چمک سی پیدا ہوتی تھی اور وہ مزید ڈر جاتاتھا۔اس چمک میں کچھ سوالات اسے غراتے محسوس ہوتے۔ باپ ہونے کا مطلب کیا ہے؟میرا باپ ہونا میرے تخم سے ہے؟ اتنی غلیظ شے سے میں پیدا ہوا،اور باپ کی حقیقت اس میں ہے؟ چلیں غلیظ سہی،پر میں اس کو اولاد میں محسوس کیوں نہیں کرسکتا؟ میں تو ان کے چہرے دیکھتا ہوں۔ہونہہ، یہ چہرہ،بال،قد کاٹھ، کھوپڑی سب اسی سے۔۔۔۔واہ میرے مالک،تیرے کام۔۔۔۔آدمی کی یہی اوقات ہے۔۔۔۔باپ اور بچے کا رشتہ۔۔۔۔کہاں سے شروع ہوتا ہے؟۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔اس لمحے تو خیال بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔اگر یہ خیال آجائے کہ دونوں کے بیچ بیٹی یا بیٹا۔۔۔۔تو خدا کی قسم آدمی شرم سے پانی پانی ہوجائے۔۔۔خیال سے یاد آیا۔۔۔۔اس لمحے،صرف اسی لمحے کا خیال تھوڑی ہوتا ہے۔۔۔۔ہاں شروع شروع میں کوئی خیال ہی نہیں آتا تھا،لگتا تھا کھوپڑی میں سوچنے والی مشین ہے ہی نہیں۔۔۔۔پھر دو ایک ماہ بعدیہ مشین چلنا شروع ہوئی۔۔۔جسم ایک جگہ مصروف اور مشین دوسری جگہ۔۔۔۔ماسٹر اسمٰعیل کیا یہ سچ نہیں کہ تم ہانپ یہاں رہے ہوتے تھے،مگر دھیان کسی اور کی طرف ہوتا تھا؟۔۔۔۔ہونہہ۔۔۔۔۔تو کیا اس کا دھیان بھی کسی اور کی طرف ہوتا تھا۔۔۔۔اللہ،کتنا ظلم۔۔۔۔کتناچھل ہے۔۔۔خودمیری بانہوں میں اور دھیان کسی اور کا۔۔۔۔اولاد حرامی نہیں ہوگی تو اورکیا؟۔۔۔۔اللہ۔۔۔۔قیامت کیوں نہیں آجاتی۔۔۔۔مرد کی بات اور ہے۔۔۔وہ سارا دن باہر دھکے کھاتا ہے،اس لیے اسے نماز میں بھی طرح طرح کے خیال ستاتے رہتے ہیں،مگر عورت تو کہیں نہیں جاتی،پھر اس کا دھیان۔۔۔۔اسی لیے تو میں نے نوکری چھڑوادی تھی۔۔۔۔باہر جاتی رہتی تو جانے کس کس کودیکھ کر اس کا دھیان کرتی۔۔۔یاد آیا۔۔۔۔چھوٹی چاچی مجھ سے کوئی آٹھ دس سال بڑی تھی۔۔۔۔سماعیلے میں چاہتی ہوں میرا بیٹا تیری شکل صورت کا ہو۔۔۔۔وہ ہر وقت میرا چہرہ دیکھتی رہتی اور میرے ماتھے پر چومتی ہوئی مجھے دعائیں دیتی تھی۔۔۔۔اس کا بیٹا واقعی میرا چھوٹا بھائی لگتا ہے۔۔۔۔عورت کے دھیان میں اتنی طاقت !!۔۔۔شیماں کس کا دھیان لاتی رہی ہے۔۔۔۔اگر دھیان سے بچے کی صورت پر اثرپڑ سکتا ہے تو۔۔۔۔آدھا باپ وہ بھی ہوتا ہے۔۔۔میں آدھا باپ ہوں۔۔۔۔۔ماں پوری ہوتی ہے۔۔۔۔پر باپ آدھا بھی ہوسکتا ہے؟۔۔۔۔اللہ۔۔۔مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ میں آدھا باپ بھی ہوں کہ نہیں۔۔۔۔بچے کو باپ دینے کا سارا اختیار عورت کے پاس کیوں ہے؟۔۔۔۔قدرت مردکو اندھیرے میں کیوں رکھتی ہے؟۔۔۔۔نہیں،قدرت نہیں،عورت رکھتی ہے۔۔۔۔وہ قدرت کا نام لینے ہی سے ڈر گیا تھا۔اچانک وہ چارپائی سے اٹھ کھڑا ہوا،اور ایک نامعلوم طاقت کے زیراثر سکول سے باہر کھیتوں کی طرف چل پڑا،اور ایک پگڈنڈی پر ہولیا۔اس کا دل خوف سے بھرا تھا۔اس کا جی چاہا وہ اپنی ساری طاقت بروے کار لاکر بھاگے۔اس دنیا سے کہیں دور نکل جائے۔ پھر جانے کیا سوچ کر وہ آہستہ آہستہ شمال کی طرف چلنے لگا۔شمال کی جانب دور تک کوئی نظر نہیں آتا تھا۔ کسی انسان پر کسی بھی طرح کی ذمہ داری ڈالنا کتنا آسان ہے۔اس نے سوچا۔مگر قدرت پر ذمہ داری۔۔۔نہیں۔۔۔یہ گستاخی ہوگی۔۔۔نہیں یہ گناہ ہوگا۔۔۔۔اس کے ذہن میں قدرت کا مطلب خدا تھا۔اس نے محسوس کیاکہ اس معاملے میں خدا کاذکر گناہ ہے۔پانی کی کھال کوڈگ بھر کر عبور کرتے ہوئے،اسے گناہ کا خیال آیا، اور اپنے ساتھ خوف کی ایک لہر لے کر آیا،مگر وہ پوری طرح نہیں سمجھ سکا کہ وہ خدا کے ڈر کی وجہ سے،اس معاملے میں اس کا ذکر نہیں لانا چاہتا تھا،یا اس کے ذہن میں اکرو کا معاملہ ہی گناہ کا تھا،اور اس کے لیے یہ ناممکن تھا کہ گناہ کے ساتھ کہیں بھی خدا کا حوالہ آئے۔ ایسا نہیں کہ وہ اپنی چھوٹی سی دنیا میں خدا کا عمل دخل نہیں دیکھتا تھا۔وہ خدا کے بغیر اپنا اور اپنی چھوٹی سی دنیاکا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا، سچ تو یہ ہے کہ ایسا سوچنے سے بھی وہ ڈرتا تھا، مگر وہ اس بات سے بھی ڈرتا تھا کہ کہیں وہ غلطی سے شیماں کے گناہ کو۔۔۔۔۔اسے اکرو کوشیماں کا گناہ کہنے میں عار نہیں تھی۔۔۔۔ خدا کی رضا نہ سمجھ لے۔اس نے جلدی جلدی توبہ کی۔اچانک قدرت۔۔۔۔اور خدا کا خیال،اسے نئی مصیبت میں ڈال گیا۔اسے محسوس ہوا کہ ایک بار کسی بات میں خدا کا ذکر آجائے تو اسے خارج کرنا ممکن نہیں رہتا۔خدا کو کسی بات میں سے خارج کرنے کا خیال ہی اسے سخت کافرانہ محسوس ہونے لگا۔اس کے ساتھ ہی اسے محسوس ہوا کہ وہ اس مصیبت سے نکل سکتا ہے۔ہاں یہ سب خدا کی مرضی تھی۔نہ نہ، توبہ توبہ، حرامی بچے خدا کی مرضی نہیں ہوسکتے۔۔۔لیکن خدا کی مرضی کے بغیر پتا تک نہیں ہلتا،پھر بچہ بننا۔۔۔ایک عورت خود۔۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔اس کے قدم ڈگمگانے لگے۔۔اس نے کسی نامعلوم طاقت ور جذبے کے تحت،اچانک ایک کھیت کی مینڈھ پر سر سجدے میں گرادیا،اور پورے خلوص سے استغفار کا ورد کرنا شروع کردیا۔</p>
<p>اس کی غیر موجودگی میں بچے کھیل رہے تھے یالڑ رہے تھے۔ خلاف معمول اس نے انھیں گالی نہیں دی۔انھیں،ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ چائے کا ایک اور کپ تھرموس سے انڈیلا۔یااللہ،مجھے معاف کرنا۔ چائے سے لائچی کی خوشبو کے ساتھ گاڑھے پن کی ذرا سی ناگوار باس آرہی تھی،مگر اسے لگا کہ چائے کے گھونٹ بھرتے ہوئے،وہ اپنے خیالات میں گم رہ سکتا ہے۔ اس نے پندرہ سال پہلے کا ایک بھولا بسرا لمحہ یاد کیا۔اسے پرائمری سکول میں استاد بھرتی ہوئے پانچواں سال تھا۔دو سال پہلے شادی ہوئی تھی۔اسے یاد تھا،اس نے کبھی باپ بننے کی خواہش نہیں کی تھی۔باپ بننا کون سا تیر مارنا ہے، اسے اکثر خیال آتا۔باپ نہ بن کر آدمی کون ساتیر مار لیتا ہے۔ اس کے ساتھی استاد نے ایک بار کہا تھا۔ہاں، صحیح کہا،آپ نے،خود آدمی ہوکر کون سا تیر مارتے ہیں ہم۔ تم تو فلسفی ہوتے جارہے ہو شیخ صاحب! ساتھی استاد نے تبصرہ کیا تھا۔ اسے ان لوگوں پر حیرت ہوتی تھی،جو شادی کے اگلے مہینے ہی میں اس باپ بننے کی خبر سننے کے منتظر رہتے تھے۔گرمیوں کی چھٹیاں تھیں۔شاید اگست کا مہینہ تھا۔ سہ پہر کا وقت تھا۔ ایک دن پہلے بارش ہوئی تھی، اور ایسا حبس تھا کہ سانس لینا دشوار ہورہا تھا۔گاؤں کی دائی،اپنی بڑی بہو کے ساتھ، صبح سے ان کے گھر میں تھی۔دوپہر کو ڈسپنسر نے شیماں کو گلوکوز کی بوتل لگادی تھی۔چار یا پانچ کا ٹائم ہوگا،جب اسے بتایا گیاکہ بیٹا ہوا ہے۔اسے دیکھنے کی جلدی نہیں تھی۔ وہ نماز پڑھنے مسجد چلا گیا تھا۔ واپسی پر اس نے بچے کو دیکھاتھا۔اسے یاد آیا جب بچے کو پہلی بار روتے سناتھا،تب اسے لگا کہ وہ باپ بن گیا ہے۔کوئی روتا ہوا بچہ تمھاری گود میں ڈالتا ہے تو تمھیں علم ہوتا ہے کہ تم باپ ہو۔ماں ہونا،اور بات ہے۔ ماں کو کوئی اور نہیں بتاتا کہ تم ماں ہو۔ اس کا جسم اسے بتاتا ہے کہ وہ ماں ہے۔ جسم سے بڑی گواہی کیا ہوسکتی ہے؟اسے ان لوگوں پر حیرت ہوئی جو دلیل کو جسم کی گواہی کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ بہت سی چیزیں گڈ مڈ ہورہی تھیں۔وہ پوری طرح سمجھ نہیں پارہا تھا کہ آیااگست کی ایک سہ پہر کے واقعات یاد کررہا تھا،یا ان واقعات کو نئے معانی پہنا رہا تھا۔اسے محسوس ہورہا تھا کہ اسے دائی پر ہلکا سا غصہ آیا تھا۔کیاتو مجھے بتائے گی کہ میں اس بچے کا باپ ہوں اپنی حیثیت تو پہچان،احمق کہیں کی۔دائی کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے دانت کچکچائے تھے۔تو مجھے اس لیے اس بچے کا باپ بتا رہی ہے کہ تو نے اپنی آنکھوں سے بچے کو اس جسم سے بر آمد ہوتے دیکھا ہے،جس پر مجھے قانوناً اختیار حاصل ہے؟تف ہے،اس قانونی اختیار پر بھی۔ ایک جسم پر قانونی اختیار،کیا اس جسم پر۔۔۔۔اور اس کے ذہن۔۔۔۔اس کے دل پرکسی دوسرے کو مکمل اختیاردے سکتا ہے؟۔۔۔۔تو اس لمحے کی گواہی دے سکتی ہے کیا،جب۔۔۔۔جب۔۔اس لمحے کی گواہی کون دے سکتا ہے؟ اس کا دل بے بسی کے احساس سے ڈوبنے لگا۔</p>
<p>اسے یاد آرہا تھا۔ دائی نے کہا تھا ماسٹر تمھیں خوشی نہیں ہوئی۔ وہ ہڑبڑا گیا تھا،اور جلدی جلدی بچے کے کان میں اذان انڈیلی تھی۔لے،آج تو مسلمان ہوگیا۔ کم ازکم ایک آدمی کو تو میں نے بھی مسلمان کیا۔ یا اللہ تیر اشکر ہے،تو نے مجھے یہ توفیق دی۔ تجھے بچے سے زیادہ اسے مسلمان بنانے کی خوشی ہوئی ہے دائی نے چوٹ کی، جو شیرینی کی توقع میں کھڑی تھی۔آج وہ پوری دیانت داری سے اس اوّلین لمحے کو یاد کررہا تھا کہ جب اس نے پہلی دفعہ اسے دیکھا تھا۔ اسے واقعی خوشی نہیں ہوئی تھی۔افسوس بھی نہیں ہوا تھا۔وہ یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ اس نے سرے سے کچھ محسوس ہی نہیں کیا تھا،مگر کیا محسوس کیا تھا، اسے یاد نہیں آرہا تھا۔خوشی اور دکھ تو یاد رہتے ہیں،پر کسی شے کا آدمی پر اثر ان دونوں سے ہٹ کر بھی تو ہو سکتا ہے۔ یہی تو مصیبت ہے کہ اسے نہ تو سمجھا جاسکتا ہے،نہ اس کو کوئی نام دیا جاسکتا ہے۔ البتہ اسے یاد تھا کہ اسے بچے کو دیکھتے ہی لگا تھا کہ۔۔۔۔یہ سب بچے جب پید اہوتے ہیں تو ایک جیسے ہوتے ہیں۔۔۔ کچھ دنوں بعد جب اس کا ناک نقشہ واضح ہوا تو معلوم ہوا کہ۔۔۔۔نہیں،ہر بچے کی اپنی شکل صورت ہوتی ہے،اور تبھی اس کا دل نفرت سے بھر گیا تھا۔ اکرو میرا تخم کیسے ہوسکتاہے،جب وہ میری طرح ہے ہی نہیں۔نیا نیا اس نے چلنا شرو ع کیا تھا۔اس کا دوست ماسٹر احمد آیا تھا۔دونوں بیٹھک میں چائے پی رہے تھے۔اکرو ننگے پاؤں بیٹھک میں آیا تھا۔ماسٹر احمد نے کہا تھا۔اسمٰعیل یار اس کی شکل تم پر تو بالکل نہیں۔اسے یاد آیا۔اسے لگا تھا کہ جیسے کسی نے اس کے دل کی بات سر عام کہہ دی ہے۔ وہ پہلا لمحہ تھا،جب اس نے اپنے اندراکرو کے لیے گھناؤنے پن کو محسو س کیا تھا۔اس کے منھ سے بے ساختہ نکلا تھا۔ حرامی پتا نہیں کس پر گیا ہے۔اس کے بعد اس نے ان سب مردوں کو غور سے دیکھنا شروع کیا تھا،جو اس کے گھر آتے تھے،یا جتنے مرد اس گاؤں میں رہتے تھے۔ وہ یاد کررہا تھا۔اسے سب مرد مجرم نظر آتے تھے۔اس کی آنکھوں میں عیارانہ چمک پیدا ہوگئی تھی۔اس حرامی نے میرے گھر جنم لے کر میری زندگی جہنم بنادی ہے۔جلد ہی سب گھروالوں نے یہ بات محسوس کرلی تھی کہ پہلوٹھی کے بیٹے کے ساتھ باپ کا رویہ،ایک پتھر دل شخص کا ہے۔ شیماں سے کئی بار توتومیں میں ہوچکی تھی۔ تم اسے اس طرح دھتکارتے ہو،جیسے یہ تمھارا بیٹا نہیں شیماں نے ایک شام اسے کہا تھا،جب اس نے اکرم کو اس بات پر تھپڑ جڑدیا تھا کہ وہ اسے دیکھتے ہی بھاگ کرآیا تھا،اوراس کی ٹانگوں سے لپٹ گیا تھا، اور اس کا توازن بگڑ گیا تھا۔وہ کہنا چاہتاتھا کہ مجھے کیا پتا یہ کس کا تخم ہے،مگر اپنی ماں کو وہاں موجود پاکر رک گیا تھا۔</p>
<p>آج شیشم تلے چارپائی کوچھاؤں کی طرف کھینچتے ہوئے،وہ اذیت کا زمانہ یاد کررہاتھا۔آج اسے لگ رہا تھا کہ جیسے ایک گتھی سلجھنے لگی ہے۔ عورت ہی فساد کی جڑ ہے۔ ہاں عورت،مرد کی دنیا میں فساد پیداکرتی ہے۔ عورت اس دکھ کی الف بے نہیں جانتی جومرد کو کسی حرامی بچے کا باپ ہونے سے لاحق ہوتا ہے۔ماں کے لیے بچے کا جائز ناجائز ہونا،سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں،لیکن باپ ہونے کا مطلب ہی،بچے کا جائز ناجائز ہوناہے،اور اسی کا علم اگر باپ کو نہ ہو۔۔۔تو۔۔۔ وہ روح کی ساری گہرائی سے۔۔۔جس کا پہلا اسے کبھی تجربہ نہیں ہواتھا۔۔۔ اس اذیت کو محسوس کررہا تھاجو اس کے باپ ہونے کی بدترین جہالت کی پیدا کردہ تھی۔شاید وہ اس بدترین جہالت کو بھی سہار جاتا،لیکن اس جہالت کے اندھے کنویں پر طرح طرح کے بھوت منڈلانے لگتے تھے،اور اس کے باپ ہونے کو مسلسل مشکوک بناتے تھے،اور اس کے منھ پر تھوکتے ہوئے،اسے اس کی جہالت کا طعنہ دیتے تھے،اور اس کے مرد ہونے پر لعنت بھیجتے تھے۔وہ دیکھتا اچانک یہ سب بھوت ایستادہ ہوگئے ہیں،اور ایک درز میں سے کسی نامعلوم غار میں داخل ہورہے ہیں۔ اس منظر کی تاب اس کے حواس میں نہیں تھی۔اس کا جی چاہا،وہ دنیا کی سب عورتوں کو قتل کردے۔سب عورتیں،مرد کو دھوکا دے سکتی ہیں،اور مرد بے چارہ،ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔اس نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔۔۔۔۔عورت تف ہے تجھ پر،کس کس کا تخم تو قبول کرلیتی ہے۔۔۔ماسٹر اسمٰعیل کا لرزہ ختم ہوگیا تھا،اور اس کی جگہ غصے نے لے لی تھی۔مرد کی بیچارگی اس وقت اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے،جب وہ اس سے بے خبر کہ کس کا تخم ہے، بچے کو گود لے کر کہتا ہے کہ تو میرا نام روشن کرے گا۔۔۔ صرف عورت جانتی ہے،اس نے کب سر دھویا تھا۔۔۔مگر وہ بتاتی کب ہے؟ عورت سے زیادہ مگھم کوئی شے نہیں۔ اسے اچانک ایک قصہ یاد آیا۔ کسی پرانی کتاب میں شاید پڑھا تھا،یا کسی نے سنایا تھا۔ ایک عورت تھی۔پرلے درجے کی چالباز۔اس نے سہیلی سے شرط لگائی کہ وہ اپنے خاوند کی موجودگی میں اپنے یار سے ہم بستری کرے گی۔توبہ ! پرانے زمانے میں بھی یہ سب تھا،اس نے سوچا۔اس نے ایک دن بہانہ کیا کہ اس کے پیٹ میں درد ہے۔خاوند سے کہا کہ بستی کی دائی کو بلا لائے۔ وہ دائی کو پہلے کہہ چکی تھی کہ اس کے پیچھے پیچھے اس کا یار بھی آئے گا۔ دائی آئی۔ عورت نے خاوند سے کہا کہ تم بھی یہیں رکو،کسی دوادارو کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔وہ غریب رک گیا۔دائی نے اسے لٹا کر ایک چادر تان دی۔سر اور سینہ چادر سے باہر تھا۔خاوند اس کے سر کے پاس بیٹھا تھا۔ چادر کی دوسری طرف دائی بول رہی تھی،اور یار مصروف کار تھا۔ عورت کسی میٹھے درد سے کراہے جارہی تھی۔یہ کہانی یاد کرتے ہوئے، شیخ اسمٰعیل کو لگا کہ اس پر کسی بہت ہی خاص راز کا انکشاف ہواہے۔مسئلہ اکرو نہیں،مسئلہ تُوہے۔اگر تُو ٹھیک ہوتی تو ایسا کبھی نہ ہوتا۔ یہ بات مجھے آج سے پہلے،اتنے سالوں تک کیوں نہیں سوجھی؟ تم نے کبھی،تنہائی میں دو منٹ کے لیے بھی سوچا،اس سے پہلے کہیں دور سے ایک منحنی سی آواز آئی۔ پر وہ ہے کون؟اس نے فلاسک سے کپ میں مزید چائے انڈیلی۔میں نے تو نوکری بھی اس طعنے کے بعد چھڑائی تھی کہ سب استانیوں کے یار ہوتے ہیں۔ وہ کون حرامی ہے؟ آخر ان دونوں کے بارے میں آج تک کوئی سن گن کیوں نہ ملی۔ کیا اس نے بھی کوئی چادر تانی تھی،اور میں سرہانے بیٹھارہا اور وہ کام کرتے چلا بنا۔ اس کا دماغ شدید غصے اور ناقابل برداشت بے بسی سے بھر گیا۔</p>
<p>تم سب حرام کے تخم ہو۔دفع ہوجاؤ۔وہ بلاوجہ ان بچوں پر چلایا،جو پڑھنا وڑھنا چھوڑ کرکھیل رہے تھے،اور ایک دوسرے سے گتھم گتھا بھی تھے۔بچے یہ سنتے ہی اپنے بستے اٹھائے گھروں کی طرف روانہ ہوگئے،اور اس نے بھی پاؤں جوتی میں ڈال دیے۔</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>شام کووہ سکول سے سیدھا سائیں کے پاس پہنچا۔’ شاہ صاحب،تم نے میرا اچھا تما شا بنایا؟‘اس نے گلہ کیا۔<br>
تم خود ہی تماشا بننا چاہتے ہو؟</p>
<p>میں نے رازداری کی گزارش کی تھی۔ وہ منمنایا۔</p>
<p>کون سا راز؟ وہ کیسا راز ہے جسے تم اپنے سینے میں سنبھال نہیں سکے،اور دوسروں سے کہتے ہو کہ وہ سنبھالیں۔ تم سب لوگ اپنے راز ہی تو بھرے بازار میں لانے کے لیے مررہے ہو؟</p>
<p>میں سمجھا نہیں۔</p>
<p>تم نے بتایا تھا کہ تم بچوں کو پڑھاتے ہو۔ خاک پڑھاتے ہو۔سائیں سے کیا پوچھتے ہو؟ میری بیوی کا یار کون ہے؟ میری بہو کے پیٹ میں کس کا تخم ہے؟ میری بیٹی کو دورے کیوں پڑتے ہیں میرے گھر میں کون تعویذ گاڑتا ہے؟پہلے بیٹے کے وقت میری بیوی کس کے ساتھ سوئی تھی شادی سے پہلے وہ برقع پہن کر کس کے ساتھ جاتی تھی فلاں کے پاس ٹوڈی کہاں سے آئی؟ یہ سارے راز ہی تو تم سر عام لانا چاہتے ہو۔کیا نہیں؟</p>
<p>اس پر جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا۔</p>
<p>اتنے میں سائیں نے کہا۔’ ساواپتر، گیلی اگ‘۔</p>
<p>اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا سائیں نے اکرو کے اصل باپ کا بتادیا؟</p>
<p>اس کا وہی مطلب ہے جو تم سمجھنا چاہتے ہو؟سائیں کو تو خود نہیں پتا وہ کیا کہتے ہیں۔ کان کھول کر سنو،سائیں کی باتوں کا کوئی مطلب ہی نہیں ہوتا۔میں،تم،سب سائیں کی باتوں کو اپنی مرضی کا مطلب پہناتے ہیں۔ہم سار ادن یہی تو کام کرتے ہیں۔ہم میں سے کوئی دوسرے کی بات نہیں سنتا،دوسروں کی ہربات کو اپنی مرضی اور منشا کا مطلب دیتا ہے۔ تم ماسٹر ہو،میرا باپ بھی ماسٹر تھا،اور مجھے بے حد پیا ر کرتا تھا،اسی کے صدقے تمھیں سب سچ بتارہاہوں۔ویسے بھی کل ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔ ہم نے شہامند سے ایک مہینے کا معاہدہ کیا تھا۔ اس نے تم لوگوں سے جتنے بدلے لینے تھے، لے لیے،تم سے تو خاص بدلہ لیا ہے۔میں ہر بار کسی ایک جگہ سے جاتے ہوئے کسی معقول آدمی کو سچ بتا کر جایا کرتاہوں۔ اگرچہ سب سے مشکل کسی بستی میں معقول آدمی کی تلا ش ہے۔ جو سب سے کم احمق ہو،میں تو اسی کو معقول سمجھتا ہوں۔ ماسٹر اسمٰعیل کو اپنے احمق ہونے میں کوئی شک نہیں تھا۔دودنوں سے وہ خود کو بزدل بھی سمجھ رہا تھا۔شاہ صاحب نے بات جاری رکھی۔ سائیں اپنی موج میں خدا جانے کیا بات کہتاہے۔ تم،میں سب اس میں اپنے مطلب کی بات نکال لیتے ہیں۔ اگر تم مجھ سے پوچھتے ہو تو میں وہ بات کہوں گا،جو تم سننا چاہتے ہو۔میں تم سب کو سمجھ گیا ہوں۔تم سب گدھے ہو۔ اگر تمھیں واقعی شک ہے کہ تمھارے گھر میں کسی اور کا بیٹا ہے تو جاؤٹیسٹ ویسٹ کرواؤ۔سناہے،اب ٹیسٹوں سے کسی کی ولدیت کا اسی طرح پتا چل جاتا ہے،جس طرح پیشاب کے ٹیسٹ سے بیماری کا پتا چل جاتاہے۔<br>
جی مجھے اس ٹیسٹ کا معلوم ہے۔ شایدڈی این اے ٹیسٹ کہتے ہیں۔ میں نے ٹی وی پر ایک کہانی دیکھی تھی،جس میں بچہ اپنے اصل والدین سے اس ٹیسٹ کے ذریعے مل گیا تھا۔</p>
<p>پھر یہاں کیوں آئے تھے؟</p>
<p>وہاں اکرو کو ساتھ لے جانا پڑتا،اور اس سے پتا نہیں کیا کیا کہانیاں گھڑی جاتیں۔<br>
وہ کہانیاں تو اب بھی گھڑی گئی ہوں گی؟<br>
شاہ صاحب،خد اکے لیے مجھے یہ بتادیں کہ میرے اور آپ کے درمیان کی بات کوٹھوں کیسے چڑھی؟<br>
تو سچ سنو۔ دنیا میں کوئی کام مفت نہیں ہوتا۔ ہم یہاں مفت نہیں بیٹھے۔ سمجھے؟<br>
ہونہہ۔ شہامند۔<br>
اب جاؤ یہاں سے۔ میں اس سے زیادہ تم سے بات نہیں کرسکتا۔<br>
پر ’ساوا پتر، گیلی اگ‘ کا مطلب؟</p>
<p>تم ماسٹر نہیں گھامڑ ہو۔ سنتے جاؤ۔ اس کا کوئی مطلب نہیں،مگر تم پھر بھی اصرار کرو گے کہ اس کا مطلب تمھیں کوئی بتائے۔اس آدمی کی بات تم جلدی مان لیتے ہو، جو ذرا ساپراسرار ہو، مطلب یہ کہ تمھاری سمجھ سے ذرا اوپر ہو۔تم اپنے برابر اور چھوٹے کی بات سنتے ہو،نہ مانتے ہو۔تم سب کو ایک سائیں،اور ایک شاہ صاحب ہر وقت چاہیے۔مجھے یقین ہے،میں ان دو لفظوں کا جو مطلب بھی بتاؤں گا تم مان جاؤ گے۔میں اگر ان کا مطلب یہ بتاؤں کہ تم ایک گیلی آگ میں جل رہے ہو،اور تمھار ا بیٹا تمھارے چھوٹے بھائی سے ہے جو سبز پتے کی طرح نوجوان ہے،تو تم مان جاؤ گے،اور اس غریب کے جاکر ٹوٹے کردوگے۔اگر تم چند دن پہلے آتے تو میں یہی کہتا۔میرے یہاں بیٹھنے کا مقصد بھی یہی تھا۔ لیکن تمھاری خوش قسمتی ہے کہ تم آج آخری دن آئے ہو۔سنو، اس کا مطلب ہے، سبز پتے ہوسکتے ہیں، مگر آگ گیلی نہیں ہوسکتی۔تمھیں اگر آگ جلانی ہے تو سوکھے پتے جمع کرو۔ دشمن کو مارو، اپنوں کو نہیں۔ اب سمجھے؟<br>
ہونہہ۔ کچھ کچھ۔</p>
<p>جاؤ، وہ کام کرو،جسے ٹھیک سمجھتے ہو۔</p>
<p>ماسٹر اسمیٰعیل نے کچھ روپے شاہ صاحب کے ہاتھ پہ رکھے،مصافحہ کیا،اور چلنے لگا۔</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>رات ہوچکی تھی،اور اس کے گھر کے دروازے کا بلب جل رہا تھا۔ابھی وہ چند قدم دور تھا کہ اسے کئی ملی جلی آوازیں سنائی دیں۔ وہ کل رات سے اپنے خیالوں سے باہر نہیں آیا تھا۔ اسے ان آوازوں کے حوالے سے کوئی جستجو نہیں ہوئی۔ اس نے موٹر سائیکل کا ہارن دیا تو اس کا چھوٹا بیٹا گھبرایا ہوا آیا۔ فوراً دروازہ کھولا۔ اندر کئی لوگ جمع تھے۔ اچانک سب چپ ہوگئے۔ سب ماسٹر اسمٰعیل کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔ ماسٹر اسمٰعیل،ان سب کو سوالیہ انداز میں دیکھنے لگے۔ چند ثانیوں کا سناٹا،سب کو جان لیوا محسوس ہوا۔ اچانک سب لوگ،ایک طرف ہٹ گئے۔ ماسٹر نے بلب کی روشنی میں دیکھا کہ چارہائی پر اکرو کو گلوکوز کو بوتل لگی ہوئی تھی۔تم یہی چاہتے تھے ناں۔ شیماں نے چیختے ہوئے کہا۔ وہ ابھی تک صورت حال کی سنگینی کا احساس کرنے سے قاصر رہا تھا۔ تم کہاں چلے گئے تھے؟ اکرم نے گندم والی گولیاں کھالی تھیں۔اس کے چھوٹے بھائی نے اسے بتایا۔پھر؟جیسے وہ کوئی خبر سننے کا منتظر ہو۔وہ کسی انجانے احساس کے تحت اکرم کی طرف بڑھا۔ وہ نیند میں تھا۔ شیماں اس کے سر پر مسلسل ہاتھ پھیرے جارہی تھی،اور دعائیں مانگے جارہی تھی۔ اس نے اکرم کے چہرے کو دیکھا۔ تھوڑا مختلف محسوس ہوا۔ اس نے آج تک اسے سوتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔</p>
<p>سب انتظار کررہے ہیں کہ تم آؤ تو اسے سول ہسپتال لے جائیں۔اس کی حالت اچھی نہیں ہے۔اس کے چھوٹے بھائی نے کہا۔<br>
وہ خاموشی سے باہر نکلا۔ دس منٹ بعد شیخ جمیل سے اس کی کار مانگ کر آیا۔</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>دو دنوں بعد اکرم کی حالت بہتر ہوئی۔ ان دودنوں میں ماسٹر اسمٰعیل نے ایک لفظ نہیں بولا۔ دونوں دن وہ ہسپتال میں رہا۔ وہ خاموشی سے ڈاکٹروں کی لکھی گئی دوائیں میڈیکل سٹور سے خرید لاتا۔زیادہ وقت ہسپتال کی کینٹین پر بیٹھا رہتا،یا او پی ڈی میں پڑے بنچوں پر۔رات کو ہسپتال کے او پی ڈی کے برآمدے میں،پنکھے تلے لیٹ جاتا۔وہ اس بات سے بے نیاز تھا کہ اسے نیند آتی ہے،یا نہیں۔ اس نے ان دودنوں میں ساری نمازیں پڑھیں،مگر کوئی دعا نہیں مانگی۔اس نے گزشتہ چند دنوں میں خاموشی اور تنہائی کو زندگی کی سب سے بڑی،سب سے گھناؤنی،سب سے اہم حقیقت کے طور پر محسوس کیا تھا۔ اس کی خاموشی دیکھ کر سب یہ سمجھنے لگے کہ وہ نادم ہے۔شیماں نے اس سے صرف ایک جملہ کہا کہ وہ کپڑنے بدلنے گھر چلا جائے۔ وہ اس کے جواب میں بھی چپ رہا۔چپ رہنے کی وجہ سے،اسے وہ سب باتیں واضح سنائی دینے لگی تھیں،جو پہلے ریل گاڑی سے نظر آنے والے منظروں کی طرح تیزی سے ذہن میں آتیں اور کوئی اثر ڈالے بغیر گز ر جاتی تھیں۔ایک سوال بار بار اس کے ذہن میں آتا،اگر اکرم مرگیا۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔ اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔۔۔اسے اس میں ذرا بھی شک نہیں ہوا کہ کوئی اور نہیں۔وہ۔ میں قاتل کہلاؤں گا۔۔۔ایک باپ نے اپنے بیٹے کو حرامی سمجھ کر قتل کر ڈالا۔پورے علاقے میں یہ خبر۔۔میں قاتل، میر ابیٹا حرامی۔۔۔میں کس کس کا منھ پکڑوں گا۔۔۔۔اسے قبر میں،مَیں اتاروں گا۔۔۔قاتل قبر کو مٹی دے گا۔۔۔قاتل قل پڑھوائے گا۔۔۔قاتل سے لوگ کہیں گے، شیخ صاحب، امر ربی۔شیخ صاحب سورہ فاتحہ۔اس نے ان سب باتوں کوکسی ردعمل کے بغیر سنا۔ میں قاتل بن کر بھی،اس کا با پ کہلاؤں گا۔۔۔اس کا باپ ہونا،میری تقدیر ہے۔۔۔اور اْس کا قاتل ہونا بھی۔۔۔نہیں یہ تقدیر نہیں۔۔۔اگر پندرہ سال گزر گئے تھے تو باقی سال بھی تو گزر سکتے تھے۔۔۔۔تقدیر اٹل ہے۔۔۔اس کی ولدیت کے خانے میں میرانام آنا اٹل ہے۔</p>
<p>اکرم کی ممکنہ موت کا سوال خود بہ خود اسے آگے کھینچ کے لے جارہا تھا۔وہ ہسپتال کی کینٹین کے درخت کی گھنی چھاؤں میں کرسی پر بیٹھا تھا۔آج کے اخبار کے ادارتی صفحے کے سب مضامین پڑھ چکا تھا۔چائے پیتے ہوئے،سوچے چلا جارہا تھا۔نہیں،اس کے لیے سوچنے کا لفظ مناسب نہیں۔سوچنے میں کوشش کا عمل دخل ہے،جب کہ بغیر کسی کوشش کے، اس کے ذہن میں باتیں آتی چلی جارہی تھیں۔اس کا دل اس تقدس سے بھر گیا تھا، جو کچھ بڑی سچائیوں کے ظاہر ہونے سے از خود پیدا ہوتا ہے،اور یہ بڑی سچائیاں ظاہر ہونے کے لیے صرف بڑے لوگوں کا انتخاب نہیں کرتیں،بلکہ یہ کسی شخص کی اوقات کو سرے سے دیکھتی ہی نہیں، صرف کچھ مخصوص حالات کا انتظار کرتی ہیں۔شیخ اسمٰعیل انھی مخصوص حالات سے گزررہا تھا۔اس کے ذہن میں آرہا تھا کہ۔۔۔ کسی کو مارنے کا حق کس کو ہے۔۔۔۔جس نے پیدا نہیں کیا،وہ مارنے کا حق رکھتا ہے؟۔۔۔۔پھر۔۔۔۔کیا باپ ہونے کا مطلب کسی کو زندگی دینا ہے۔۔۔۔۔باپ ہونے کا اصل مطلب کیا ہے۔۔۔۔زندگی دینا،یا صرف شناخت۔۔۔۔شناخت کون کرےاکرم کی خود کشی کی کوشش نے اس سوال کا زہر نکال دیا تھا،یا اس کی وہ بزدلی ایک نئے رنگ میں لوٹ آئی تھی،جسے وہ پندرہ سالوں سے اکرم سے نفرت کے پردے میں چھپاتا آیا تھا۔وہ اس بات کو قطعاً نہیں سمجھ سکا کہ کیسے اسے یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ کسی کو مارنے کا ارادہ کرنے،اور اسے مرتے ہوئے دیکھنے میں بڑا فرق ہوتا ہے،اتنا بڑا فرق جتناایک بھوت کا خیال کرنے اور اسے حقیقت میں سامنے دیکھنے میں ہوتا ہے۔ اب تک اکرم کو صرف بیٹا سمجھتا آیا تھا،اب پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ وہ ایک آدمی بھی ہے۔آدمی کے طور پر وہ ماں، باپ، بہن،دوست سب رشتوں سے الگ۔۔۔اور آزاد۔۔ایک وجودہے۔آدمی رشتوں کے جال سے باہر بھی وجود رکھتا ہے۔جس طرح درخت کہیں اگتا ہے، آدمی کو بھی کسی نہ کسی کی کوکھ سے جنم لیناہوتا ہے۔ کس کوکھ میں کون جنم لیتا ہے، اس کا فیصلہ۔۔۔بخدا مجھے نہیں معلوم،کون کرتا ہے۔اس کے دل کے کسی کونے سے آواز آئی۔کوکھ بنی کس لیے ہے۔۔۔۔جنم دینے کے لیے۔۔۔کوکھ کے لیے کوئی وجود حرام ہے نہ حلال۔۔۔وہ صرف وجود ہے۔۔۔وجود کوظاہر ہونے کے لیے کوکھ چاہیے۔۔۔وجود کے لیے کوئی کوکھ حرام ہے نہ حلال۔۔۔جس طرح درخت کے لیے کوئی مٹی حلال ہے نہ حرام۔۔۔آدمی اور درخت میں فرق ہی کتناہے مٹی اور عورت ایک ہی کام تو کرتے ہیں۔</p>
<p>اس نے محسوس کیا کہ اس کا دل شیماں کے احترام سے لبریز ہو گیا ہے۔نہیں،دنیا کی سب عورتوں کے لیے۔وہ چائے کا چوتھا کپ پیتے ہوئے سوچے چلا جارہا تھا۔ جنم لینا ہر وجود کا حق ہے۔یہ حق اسے اس قوت نے دیا ہے، جس کا خیال کرتے ہی،آدمی کا دل بے بسی اور انکسار سے بھرجاتاہے۔ اس قوت کے عمل میں مداخلت کرکے،اس نے کتنا سنگین جرم کیا،اس کا احساس اسے اب ہورہا تھا۔اس قوت کے آگے ماں،باپ اتفاقی حیثیت رکھتے ہیں۔ہاں یہ اتفاق ہے کہ میں شیخ نعیم کے گھر پیدا ہوا،یہ اتفاق ہے کہ اکرم کی ولدیت کے خانے میں میرا نام لکھا گیا۔کینٹین پر درخت کے سائے میں کرسی پر بیٹھے، چائے پیتے ہوئے،اسے لگا کہ اکرم،میں،شیماں، اسلم سب درختوں کی طرح بھی ہیں۔ درخت کو کسی پہچان کی ضرورت نہیں۔ اس کے بچپن کی زندگی کا سب سے المناک واقعات صرف دوتھے۔ جب اس کا باپ مرا تھا،اور جب اس درخت کو اس کے چچا نے کاٹ دیا تھا،جس کی شاخوں سے پینگ کی رسی باندھ کر تینوں بہن بھائی جھولا جھولتے تھے،اور وہ اپنے دوستوں کے ساتھ باندر کلا کا کھیل کھیلتا تھا۔ کٹا ہوا درخت،اسے دنیا کا سب سے وحشت ناک منظر محسوس ہواتھا۔اس منظر کودوبارہ دیکھنے کی اس میں تاب نہیں تھی۔ وہ درخت کو چھاؤں اور پھل کی خصوصیت سے الگ ہوکر دیکھ رہا تھا،اور اس خاموشی اور تنہائی کو اپنی تقدیر سمجھ کر قبول کررہا تھا، جو سنگین تھیں، ادھیڑ ڈالنے والی تھیں،روح میں خنجر کی طرح اترتی تھیں،آدمی خود کو لق و دق صحرا میں محسوس کرتا تھا،کبھی کبھی خود کو نوچنے کو بھی جی چاہتا تھامگراس کی روح کے کسی آخری منطقے میں اس بات کا یقین بھی ٹمٹما رہا تھا کہ یہی خاموشی اور تنہائی بدترین جہالت کی اذیت سے نجات دلانے والی بھی ہیں !</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>ایک ہفتے بعداپنے گھر میں اس نے اکرم کا زندگی میں پہلی مرتبہ ماتھا چوما،اورخیرات کی۔</p>
<p>Image: Rabia Zuberi</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%88%d9%84%d8%af%db%8c%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81/">ولدیت کا خانہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%88%d9%84%d8%af%db%8c%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مرنے کے بعد مسلمان ہوا جا سکتا ہے؟</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%85%d8%b1%d9%86%db%92-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86-%db%81%d9%88%d8%a7-%d8%ac%d8%a7-%d8%b3%da%a9%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%85%d8%b1%d9%86%db%92-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86-%db%81%d9%88%d8%a7-%d8%ac%d8%a7-%d8%b3%da%a9%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ناصر عباس نیّر]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 05 Jun 2017 18:53:50 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Contemporary Urdu Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Nasir Abbas Nayyar]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[urdu short story]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[جدید اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[ناصر عباس نیر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=21027</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">ناصر عباس نیر:“تو سنو، تمھارے بیٹے اس لیے معذور ہیں کہ تم گناہ گار ہو۔۔۔۔ ویسے تو، ہم سب ہی گناہ گار ہیں۔ہم گناہ کرتے ہیں اور سز اہماری اولاد کو ملتی ہے”۔مولوی صاحب نے اپنا فیصلہ سنایا۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%85%d8%b1%d9%86%db%92-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86-%db%81%d9%88%d8%a7-%d8%ac%d8%a7-%d8%b3%da%a9%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f/">مرنے کے بعد مسلمان ہوا جا سکتا ہے؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">“مولبی صاحب، میرے بچڑوں کے لیے دعا کردو”۔<br>
وہ کئی مہینوں سے دعا کروانے آرہی تھی۔مولوی صاحب کبھی مسجد کے صحن میں بیٹھے ہوتے،کبھی مسجد سے ملحق اپنے گھر میں۔وہ عموماً عصر کے بعد آتی۔اور لوگ بھی دعاتعویذ کی خاطر موجود ہوتے۔ زیادہ تر بیمار بچوں کی مائیں ہوتیں۔ری ری کرنے والے سال دو سال کے بچوں کے لیے مولوی صاحب کا دم کیا ہوا دھاگہ گاؤں بھر میں مشہور ومقبول تھا۔ماؤں کو یقین تھا کہ جوں ہی دھاگہ بچے کے گلے میں ڈالاجائے گا، بچہ چپ کرجائے گا۔کچھ عورتوں کو وہم ہوتا کہ ان کے بچوں کے سر بڑھ رہے ہیں،مولوی صاحب کدو دم کردیتے تھے،جیسے جیسے کدو خشک ہوتا،مائیں یقین کرنے لگتیں کہ بچے کے سرکا بڑھنا رک گیا ہے۔ادھر بچوں کے سر بڑھنا رکتے،ادھر مولوی صاحب کے پاس بچوں کی ماؤں کی تعداد بڑھتی۔ہر بچے کی ماں اس وہم میں بھی مبتلا ہوتی کہ اس کے بچے کو ’نظر‘ لگ گئی ہے،ا س لیے اس نے چلنا شروع نہیں کیا،اماں اباسے آگے کوئی لفظ نہیں بول رہا، بے وجہ رات رات بھرروتا ہے،اکثر بیمار رہتا ہے۔ مولوی صاحب بچے کو دم رکھتے،یا تعویذ دیتے۔ گاؤں کی عورتیں، بچوں کے لیے اتنا ڈاکٹروں کے پاس نہیں جاتی تھیں،جتنا مولوی صاحب کے پاس آتی تھیں۔گاؤں میں کوئی گھر ایسا نہیں تھا،جس میں مولوی صاحب کا کوئی نہ کوئی عقیدت مند موجود نہ ہو۔عورتیں لڑائی جھگڑوں،پیسوں کی چوری،بیماری وغیرہ کا حساب کروانے بھی آتیں۔کبھی تو ایک ہی گھر سے پہلے ساس تعویذ لے جاتی،جسے یقین ہوتا کہ اس کے بیٹے اور خاوند پر جادو کیا گیا ہے،اور کچھ دیر بعد بہو آتی،جو اس بات سے پریشان ہوتی کہ کسی نے اس کے شوہر پر جادو کیا ہے۔گھر میں جن بھوت کا شک ہے تو مولوی صاحب سے رجوع کیاجاتا۔مولوی صاحب سب کی خیر مانگتے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">گاؤں کے ڈاکٹر کے برعکس مولوی صاحب کی فیس مقرر نہیں تھی،مگر کچھ نہ کچھ دینالازم تھا۔مولوی صاحب کا خیال تھا کہ اگر ڈاکٹر اپنے علم کا معاوضہ لے کربھی انسانیت کی خدمت کرنے والا کہلا سکتا ہے تووہ کیوں نہیں۔اس کے پاس بھی تو علم ہے،جس سے لوگوں کو شفا ملتی ہے،اوران کی مشکلات دور ہوتی ہیں۔ دو ایک مرتبہ تو دو ایک مریضوں کو ڈاکٹر نے جواب دے دیا تھا،وہ مولوی صاحب کے تعویذ سے ٹھیک ہوگئے۔ اس سے مولوی صاحب کی شہرت اور نیک نامی میں اضافہ ہوا۔مولوی صاحب اکثر ڈاکٹر سے اپنا موازنہ کرتے رہتے تھے،اور دل ہی دل میں اس بات کا حساب لگایاکرتے تھے کہ ایک دن میں ان کے پاس کتنے لوگ آئے،اور ڈاکٹر کے پاس کتنے۔کچھ کچھ پیسوں کا حساب بھی لگالیتے۔مگر یہ سب سوچتے ہوئے،وہ پورے خلوص سے شکر کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنے کلام کا علم دیا،جس میں ہر ایک کے لیے شفا ہے۔کبھی کبھی وہ اپنے مدرسے کے استاد حافظ شریف کو بھی یاد کرلیا کرتے،جنھوں نے پیار، ڈانٹ، سزا،شاباش سے انھیں اس قابل بنایا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">وہ جب بھی آتی،کچھ نہ کچھ لے آتی۔حالاں کہ خودوہ مانگ کر لاتی تھی۔شروع میں اس نے مولوی صاحب کو آٹا، چاول،گندم، دالیں،روٹی بھی لاکر دی،مگر تیسری چوتھی مرتبہ مولوی صاحب نے سخت ناراضی کے بعد منع کردیا کہ وہ کم ازکم اس سے یہ چیزیں قبول نہیں کریں گے۔ وہ سمجھ گئی۔مولوی صاحب کمائی ہوئی چیز چاہتے تھے، مانگی ہوئی نہیں۔ اب وہ کبھی دو روپے،کبھی تین روپے،کبھی ایک روپیہ لاتی۔وہ اور مولوی صاحب دونوں جانتے تھے کہ روپیہ ایسی چیز ہے،جس کے بارے میں کوئی نہیں بتا سکتا کہ وہ مانگ کر لایا گیا ہے،کماکر، چرا کر،یا چھین کر۔جس کے پاس ہے،اسی کا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس میں جھجھک، ڈر، انکسار،ادب جمع ہوگئے تھے،جن کا اظہار اس کی التجا میں ہوتا۔اس کے جملے کے لفطوں سے زیادہ،وہ منکسر، ڈرا ڈرا، مؤد ب لہجہ متاثر کن تھا، جسے اس کی گوت کے لوگوں نے صدیوں قرنوں کی ’تپسیا‘ سے حاصل کیا تھا۔آج بھی عصر کے بعد وہ آئی تھی،اور باقی سب عورتوں سے الگ،دور بیٹھک کے ایک کونے میں فرش پر بیٹھ گئی۔سب سے آخر میں،اذان ِ مغرب سے ذرا پہلے، اس کی باری آئی۔وہ گھسٹتے ہوئے،مولوی صاحب تک پہنچی۔ اس نے اپنا مخصوص جملہ دہرایا،اور ایک میلا،مڑا تڑا پانچ کا نوٹ مولوی صاحب کے قدموں میں نہایت ادب سے رکھا،جو اپنی مخصوص چٹائی پر اپنے گھر کی بیٹھک میں بیٹھے تھے۔عموماً مولوی صاحب دعا کردیا کرتے تھے،اور اور کبھی کبھی پانی، دودھ،شربت وغیرہ بھی دم کردیا کرتے تھے۔لیکن آج وہ اس کی التجا سنتے ہی چڑ گئے۔وہ کئی مہینوں سے خود پر ضبط کیے ہوئے تھے۔اسے دیکھ کرانھیں گاؤں کے ڈاکٹر کا خیال آیا کرتا تھا،جس کے پاس ایک مریض چھ ماہ پڑا رہا،مگر ٹھیک نہ ہوا۔ایک دن ڈاکٹر نے محسوس کیا کہ اس کے پاس مریضوں کی تعداد کم ہونے لگی ہے۔ وہ مریض کے لواحقین پر برس پڑا۔مریض خاک ٹھیک ہوگا،اگراسے ٹھیک دوا ہی نہ دی جائے گی۔لے جاؤ اسے گھر۔مولوی صاحب کو آج بھی یہ خیال آیااور ان کا ضبط ختم ہوگیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“تم کیسی عورت ہو، داکدار کے پاس بھی جاتی ہو،اور اللہ میاں کے پاس بھی آتی ہو”؟<br>
“مولبی صاحب۔۔۔۔”عورت لاجواب سی ہوگئی،اور خود کو کسی نامعلوم طاقت کے آگے بے بس محسوس کیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“دیکھو،تم ابھی ایک فیصلہ کرو۔تمھیں اللہ پر یقین ہے،یا داکدار پر؟اگر اللہ کو وحدہ لاشریک مانتی ہو تو کسی اور کی مدد مت مانگو۔۔۔جانتی ہو شرک کیا ہوتاہے”؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">(خاموشی کا ایک جان لیوا وقفہ)۔عورت کے پاس خاموشی کے سوا کچھ نہیں تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“شرک یہ ہے کہ خدا کو زبان سے، دل سے، ذہن سے،ہر عمل سے وحدہ لاشریک مانو”۔مولوی صاحب نے باقی بیٹھی عورتوں اور دو ایک لڑکوں کو بھی مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔<br>
“جی “۔اس نے صدق دل سے کہا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“شرک گناہ ِ کبیرہ ہے۔ جاؤ پہلے توبہ استغفار کرو۔پھر آج کے بعد کسی حکیم،کسی داکدار کا خیال بھی نہ لاؤ،اپنی اس بے مغز کھوپڑی میں”۔مولوی صاحب نے براہ راست اسے مخاطب کیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“جی”۔۔۔۔۔وہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھنے لگی تو مولوی صاحب کی آواز پھر گونجی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“تمھیں معلوم ہے، تمھارے سارے بیٹے معذور کیوں ہیں”؟اچانک مولوی صاحب نے ایک چبھتا ہوا سوال کیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اسے کچھ اور معلوم نہیں تھا۔صرف یہ معلوم تھا کہ وہ چار معذور،لاچاربیٹوں کی ماں ہے،جن کی حالت دن بدن بگڑتی جارہی تھی۔انھیں مسلسل بخار رہتا اور ہر وقت کھانستے رہتے۔اسے ان کا پیٹ بھرناہوتا، اور پیٹ کے راستے سے بننے والی غلاظتوں کو بھی صاف کرنا ہوتا۔صبح شام گولیاں ان کے منھ میں ٹھونسنی ہوتیں۔ہر دوسرے تیسرے روز مولوی صاحب سے کچھ نہ کچھ دم کروا کے لانا ہوتا۔ باقی سارا دن وہ گھر گھرجاتی، سر پر چھکو(چھابڑی) رکھے، کاندھے سے جھولا لٹکائے،ہاتھ میں ایک چھڑی لیے۔رات کو بیٹھ کر وہ بچوں کے لیے رنگین کاغذوں سے توتیاں(بچوں کی نفیری) اور بھنبھیریاں بناتی،جنھیں صبح اپنے چھکو میں ڈال لیتی۔غبارے وہ دکان سے خرید لاتی۔ہر گھر کے دروازے پردوتین مرتبہ چھڑی مارتی،جیسے اطلا ع دینے کے لیے کوئی کھنکھارتا ہے، پھر بے کھٹکے گھرمیں داخل ہوجاتی۔ بچے اسے دیکھتے ہی دوڑے دوڑے آتے۔توتیوں اور بھنبھیریوں کے بدلے جو کچھ ملتا،اسے جھولے میں ڈالتی۔کئی مرتبہ دھتکاری جاتی،مگر وہ اس کی عادی تھی،اور اسے اپنے پیشے کا لازمی حصہ سمجھ کر اس نے قبول کیا ہوا تھا،تاہم کبھی کبھی جب اسے کوئی دھتکار کے ساتھ دھکا دیتا،یا اچانک کوئی راہ چلتے اس سے لپٹ جاتا،اور خوشی خوشی اعلان کرتا کہ اب اس کی پھل بہری ختم ہوجائے گی،تو اس کے دل پر چوٹ لگتی تھی،اور اس کا جی چاہتا کہ وہ اونچی آواز میں موٹی موٹی گالیاں دے،جس طرح اس کا شوہر اسے دیاکرتا تھا جب شام کو گھر پہنچتی تو اس کے جھولے،چھکو اور ہاتھوں میں بچا ہوا سالن روٹی،خشک آٹا، دال،چاول گندم یا روپے،چونی اٹھنی ہوتی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس کا خاوند چوتھے بیٹے کی پیدائش کے تھوڑے عرصے بعدمرگیا تھا۔ہیروئن کانشہ کرتا تھااور موقع بے موقع اسے پیٹتا تھا۔سارے دن کی کمائی چھین لیتا تھا،اوراسے اور بیٹوں کوننگی گالیاں دیتا تھا۔اسے ڈھڈو،چھنال،بدکار اور بیٹوں کوحرامی کہتا تھا۔آج کس کس یار کے ساتھ سوئی ہو؟روزانہ اس کا سواگت اس جملے سے ہواکرتا۔اس کا اپنے بارے میں علم بس یہیں تک محدود تھا۔آٹھ سوکھی ٹانگیں،اور ہر وقت کسی امید میں بھٹکتی مگر بجھی آٹھ آنکھیں اس کی دنیا تھیں؛وہ اس دنیا سے باہر کچھ نہیں دیکھ پاتی تھی۔اسے یہ خیال بھی کبھی نہیں آیا کہ اس کے علم سے باہر بھی کوئی دنیا ہے۔اسے اگر کوئی خیال آتا تھا تو یہ تھا کہ کہیں،کوئی ایسی ہستی ضرور ہے جو آٹھ سوکھی ٹانگوں کو ہر ا کر سکتی ہے۔یہ خیال اس کا سب سے بڑا آسراتھا،لیکن ساتھ ہی اس کی ایک پریشانی کا باعث بھی تھا۔ وہ اکثر اس بات پر پریشان ہوتی تھی کہ اتنا زمانہ گزرگیا،اسے وہ ہستی کیوں نہیں ملی۔مگر ابھی مولوی صاحب کے سوال سے اس کی ڈھارس بندھی۔اسے لگا کہ اس کی پریشانی دور ہونے والی ہے۔اس نے پہلی بار نہایت غور سے مولوی صاحب کے چہرے کو دیکھا۔سفید چمک دار،ترشی ہوئی لمبوتری داڑھی،سانولا مگر روشن چہرہ، چوڑی پیشانی پر محراب،جھکی ہوئی آنکھیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“اللہ کی بندی،تم میری بات سن رہی ہو”؟مولوی صاحب گرجے۔<br>
“جی۔۔۔۔جی سن رہی ہوں”۔وہ سہم گئی،اور پوری طرح متوجہ ہوگئی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“تو سنو، تمھارے بیٹے اس لیے معذور ہیں کہ تم گناہ گار ہو۔۔۔۔ ویسے تو، ہم سب ہی گناہ گار ہیں۔ہم گناہ کرتے ہیں اور سز اہماری اولاد کو ملتی ہے”۔مولوی صاحب نے اپنا فیصلہ سنایا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اسے اپنے گناہ گار ہونے میں ذرا شک نہیں تھا،یوں بھی اس کا شوہر اپنے جیتے جی ہر شام اسے گناہ گارثابت کیا کرتا تھا،مگر اسے ذرا سی حیرت ہوئی۔اسے کسی بات میں شک نہیں تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس میں کیا شک تھا کہ وہ کوئی چالیس سال ہوئے، ایک مصلی،چوہڑے کے گھر پیدا ہوئی؛ایک مصلی سے اس کی شادی ہوئی، اس کے باپ نے بدلے میں پانچ ہزار روپیہ نقد لیا تھا؛ شادی سے پہلے کئی لڑکوں نے راہ چلتے ہوئے، سنسان گلی میں اس کی چھاتیوں کو ٹٹولا تھا،کچھ نے تو نیفے میں بھی ہاتھ ڈال کر ایک نازک مقام پر چٹکی بھر لی تھی،اور وہ سی کرکے رہ جاتی تھی اور تین لڑکوں سے وہ خود،دن،دوپہر،شام یارات کسی وقت، کسی کھیت یا کسی بیٹھک یا کسی کھولے (بغیر چھت کا کچا پرانا کمرہ) میں مل لیا کرتی تھی۔یہ سب معمول کے مطابق تھا۔یہ سب معلوم ہونے کے بعد بھی اس سے کسی نے باز پرس کی،نہ اس بات پر اسے ملامت کی۔تاہم ایک پھٹکار اس کے خاندان پر نجانے کن زمانوں سے پڑرہی تھی۔اس پھٹکار میں اس کے،اس کی ماں کے،اس کے باپ کے،اس کے شوہر کے،اس کے بچوں گناہ گار ہونے کا احساس اسی طرح شامل تھا، جس طرح اس کی جلد میں سیاہ رنگ شامل تھا۔ کبھی، رات کے کسی خاموش پہر میں جب اس کی آنکھ اچانک کھلتی تھی،اور دن میں ہونے والا کوئی واقعہ اسے یاد آتا تھا تو ایک مدھم سی لہر اس کے وجود پر چھا جاتی تھی۔جلد کی سیاہی،ایک گناہ نظرآنے لگتی تھی۔وہ گناہ کو ایک کلوانھ کی صورت سمجھتی تھی، اور اس بات سے ایک طویل سمجھوتہ تھا، جو شاید کئی نسلوں سے چلا آرہا تھا۔ اب مولوی صاحب فرما رہے تھے کہ ہم سب گناہ گار ہیں تواسے ذرا سی حیرت اس بات پر ہوئی تھی مولوی صاحب خود کو کیوں گناہ گاروں میں شامل کررہے ہیں۔کیا اس لیے کہ ان کا رنگ ذراسا سیاہی مائل ہے؟ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔مگر مولوی صاحب سے وہ کچھ کہنے کی جرأت نہیں کرپارہی تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اسی دوران میں مولوی صاحب کے موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ مولوی صاحب نے ’جی میں شام پانچ بجے پہنچ جاؤں گا‘ کَہ کر فون بند کردیا۔ہاں تو میں کَہ رہا تھ کہ ہم سب گناہ گار ہیں۔ مگر خداے وحدہ لاشریک نے ہمیں ایک ایسے بٹن سے نوازا ہے کہ ہم اپنے گناہوں کو ڈیلیٹ کرسکتے ہیں۔یہ بٹن ہے، توبہ استغفار، صدقہ،خیرات اور نماز روزہ، حج۔۔۔۔۔۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اچانک مولوی صاحب کو کسی خیال نے روک لیا۔مولوی صاحب نے اس کی طرف غور سے دیکھا۔وہ ایک گٹھڑی سی نظر آرہی تھی۔آدھا سرنیلے رنگ کے میلے سے دوپٹے سے ڈھکا تھا،اور مولوی صاحب کی قدموں کی سمت جھکا ہوا تھا۔مٹیالے الجھے بال اسے وحشت ناک بنارہے تھے۔چہرہ سیا ہ تھا،اور مرجھایا ہوا تھا۔مولوی صاحب کو واقعی اس پر ترس آیا۔ اچھا اب تم جاؤ، میں دعا کیا کروں گا۔ تم ہر وقت اللہ کو یاد کرتی رہا کرو۔ وہ سب کو بخشنے والا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مدت بعد اس نے اٹھتے ہوئے،اپنے گھٹنوں پر ہاتھ نہیں رکھے۔ایک نامعلوم سی طاقت کا اثر اس نے محسوس کیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“مولبی صاحب، میرے بچڑوں کے لیے دعا کرو”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“اب دعا کی کیا ضرورت ہے؟ مولوی صاحب حیران تھے کہ اس کے چاروں بچے خون تھوکتے تھوکتے، ایک ایک کرکے اللہ کو پیارے ہوگئے تھے، اب وہ کس لیے دعا کروانے آئی تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔اس کا گلہ رندھ گیا تھا۔ آپ دعا کریں انھیں وہاں ٹانگیں جلد سے جلد نصیب ہوجائیں،اور وہ سکھی رہیں۔اسے کوئی اور بات نہیں سوجھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ ․․․یہ تم کیسی باتیں کررہی ہو۔ مولوی صاحب نے اپنی پگڑی درست کرتے ہوئے کہا۔پھر اچانک مولوی صاحب کو ایک خیال آیا۔کیا انھوں نے کلمہ پڑھا تھا؟میرا مطلب ہے،وہ․․․ہمارے نبی پاک ﷺکا کلمہ پڑھ لیتے تھے؟ مولوی صاحب کو یاد نہیں کہ کبھی کسی مصلی نے ان کی اقتدا میں نماز پڑھی ہو۔ انھیں کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا کہ اگر کوئی مصلی مسجد میں داخل ہوگیا تو وہ اسے نماز کی اجازت دیں گے یا نہیں۔گاؤں کے اکثر لوگ ان لوگوں کے مذہب کے سلسلے میں شک میں مبتلا رہتے تھے۔ ایک بات کا البتہ انھیں یقین تھا کہ وہ نہ تو عیسائی ہیں،نہ ہندو،نہ سکھ۔ یہ ایک ایسی بات تھی،جس نے مصلیوں کے پانچ سات خاندانوں کو گاؤں کے لیے قابل ِقبول بنایا ہواتھا،کیوں کہ ان تین مذہبوں سے ہٹ کر وہ کسی مذہب کا تصور نہیں کرتے تھے۔ایک اوروجہ سے بھی وہ گاؤں والوں کے لیے قابل قبول تھے۔ کہیں سے غلاظت کا ڈھیر ہٹا ناہو،شادی بیاہ،موت فوت سے بچ جانے والا جھوٹاکھاناٹھکانے لگانا ہو، یا مکانوں کی تعمیر کے لیے سستے مزدوروں کی ضرورت ہوتو مصلیوں کے خاندان کے سب افراد کام کرتے تھے۔کچھ عرصے سے ان کی لڑکیوں اور عورتوں نے گاؤں کے گھروں میں جھاڑو صفائی کاکام بھی سنبھال لیا تھا،کہ اکثر عورتیں استانیاں لگ گئی تھیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“مولبی صاحب، وہ بول نہیں سکتے تھے، سن نہیں سکتے تھے۔گنگے ڈورے تھے”۔ وہ بے حد ڈر گئی تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“تمھیں کلمہ آتا ہے”؟مولوی صاحب نے راست سوال پوچھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">جی۔لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔اس نے فر فر پڑھ دیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ سنتے ہی مولوی صاحب عجیب دبدھے میں پڑ گئے۔ انھیں پریشانی لاحق ہوئی کہ کہیں اس سے کوئی توہین تو نہیں ہوگئی۔ اس نے پہلی مرتبہ ایک مصلن کی زبان سے پاک کلمہ سنا ․․․․لیکن انھیں سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا کریں؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“اچھا یہ بتاؤ، کبھی ان کی طرف سے کلمہ پڑھا”؟مولوی صاحب نے دریافت کیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“ان پر کلمہ پڑھ کر پھونکتی تھی، مگر ان کی طرف سے ․․․․مجھے تو پتا ہی نہیں تھا”۔وہ منمنائی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“کیا ان کے کان میں اذان دلائی تھی”؟ مولوی صاحب نے پوچھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“نہیں۔ میں نے موئے سلی،اپنے خاوند سے کہا بھی کہ مولبی صاحب کو بلالاؤ،بچے کے کان میں اذان دلانی ہے،مگر وہ کہتا تھا ہمارے گھر کبھی کوئی داڑھی والا آیا ہے؟ کوئی اور بھی ہمارے گھر نہیں آتا،مولبی صاحب۔ہمارا گھر ہے ہی کہاں۔اب ایک جھگی ڈالی ہے،نسلوں سے ہم کلیوں میں رہے ہیں۔میں نے بھی کلمہ چھ مہینوں میں یادکیا، ایک اللہ کی نیک بندی نے یاد کرایا،مجھے اس نے کئی تھپڑ بھی مارے،مگر میں نے سہے،اور کلمہ یاد کیا۔ اس لیے یاد کیا کہ شاید اللہ ان کی مصیبت کاٹ دے۔اللہ کے کلام میں برکت ہے”۔ اس نے سچ بول دیا۔<br>
“جب وہ مرے ہیں،ان کی طرف سے کسی نے کلمہ پڑھا”؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“میں ان کے لیے بار بار کلمہ پڑھتی تھی،پر مجھ مورکھ کو کیا پتا کہ ان کی طرف سے پڑھناہے؟ ہمیں کوئی نہیں بتاتا۔ہم میں سے کوئی مسجد،کوئی سکول نہیں جاتا،کوئی ہمیں بتانے نہیں آتا، مولبی صاحب۔ہم یہاں د ونسلوں سے رہ رہے ہیں،آپ کو پتا بھی نہیں ہوگا ہمارا گھر کہاں ہیں۔” وہ رورہی تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مولوی صاحب کارنگ اچانک بدل گیا۔وہ کچھ کہنے لگے،رک گئے۔ پھر غصے میں آگئے:” تم ہندو،کراڑ ہو۔ تم مسلمان ہو ہی نہیں۔ مسلمان وہ ہوتا ہے جس کے پیدا ہونے کے بعد،اس کے کان میں اذان دی جاتی ہے،اور جب مرتا ہے تو ا س کی زبان پر کلمہ طیبہ کا ورد ہوتا ہے”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“بعد میں بندہ مسلمان نہیں ہوسکتا”؟ اس کی آواز میں رقت تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“ہوسکتاہے،ضرور ہوسکتاہے۔اگر اسے خدا اس قابل سمجھے،اوراسے توفیق دے تو”۔مولوی صاحب کا لہجہ اب بھی درشت تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“لیکن مولوی صاحب، میں چاہتی ہوں،آگے میرے بچڑے اپنے پاؤں پر چلیں،ان کا تاپ اتر جائے، انھیں کھگھ نہ ہو،بلغم میں خون نہ ہو،اور بولیں چالیں”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“کیا ان کا جنازہ پڑھا گیا تھا؟کس نے پڑھا یا تھا؟”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“جی،بہت کوشش کی،کوئی تیار نہیں ہوا۔پھرہماری برادری کا ایک بندہ آیا تھا،جو دوسرے گاؤں میں رہتا ہے،اور اس نے پکا گھر بنوایا ہواہے۔اس نے چاروں کے جنازے پڑھائے تھے”۔<br>
“سارے کافر سیدھے جہنم میں جائیں گے”۔مولوی صاحب کا لہجہ دوٹوک تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“کہیں بھی جائیں، اپنے پاؤں پر چل کر جائیں۔میں تو ان کی آواز سن نہیں سکی،کوئی اور انھیں بولتا دیکھے۔مولبی صاحب،وہ ایک دن بھی نہیں چلے تھے ․․․میں ان کا گوہ موت صاف کرتی تھی۔ماں مرے کبھی کبھی دو دون گندے پڑے رہتے تھے۔سب چاہتے تھے،مرجائیں۔مولبی صاحب، پر جب مرے ہیں تو میں نے خود انھیں نہلایا تھا۔میں نے سناہے خدا سب کچھ کرسکتا ہے۔آپ مجھے کوئی تعویذ دے دیں،میں اسے پانی میں گھول کر روزانہ ان کی قبروں پر ڈال آؤں گی”۔ممتا ہار ماننے کو تیار نہیں تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“تعویذ مسلمانوں کے لیے دیے جاتے ہیں”۔ مولوی صاحب نے اپنا فیصلہ سنایا۔<br>
“ٹھیک ہے مولبی صاحب۔ بس اتنا بتادیں،میرے بچڑے مرنے کے بعد کیسے مسلمان ہوسکتے ہیں”؟ ماں ہتھیار ڈالنے پر تیار نہیں تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مولوی صاحب ایک عالم ِ حیرت میں تھے!</div>
<p>Image: Ali Azmat</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%85%d8%b1%d9%86%db%92-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86-%db%81%d9%88%d8%a7-%d8%ac%d8%a7-%d8%b3%da%a9%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f/">مرنے کے بعد مسلمان ہوا جا سکتا ہے؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%85%d8%b1%d9%86%db%92-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86-%db%81%d9%88%d8%a7-%d8%ac%d8%a7-%d8%b3%da%a9%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
