نجمِ اسود اور ننھی کائناتیں: قسط نمبر 8 (پہلا حصہ) (کیا نظری طبیعیات کا اختتام قریب ہے؟)

گذشتہ اقساط کے مطالعہ کے لئے درج ذیل لنکس استعمال کیجئے (لنک نئے ٹیب میں کھلیں گے)

قسط نمبر 1قسط نمبر 2، قسط نمبر 3، قسط نمبر 4قسط نمبر 5 ، قسط نمبر 6 ، قسط نمبر 7

 

کیا نظری طبیعیات کا اختتام قریب ہے؟

 

میں ان صفحات میں اس امکان پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں کہ نظری طبیعیات کے مقاصد مستقبل قریب میں ہم حاصل کر چکے ہوں گے، عین ممکن ہے اس صدی کے اختتام تک۔ اس سے میری مراد یہ ہے کہ ہم شاید اشیاء کے باہمی تعامل کا  ایک مکمل ، متوازن، اور مکمل نظریہ  وضع کر پائیں، ایسا نظریہ جو  تمام مشاہدات کوواضح کر پائے۔ یقیناً ایسی پیش گوئیاں کرتے ہوئے نہایت احتیاط سے کام لیا جانا چاہئے۔کم از کم دو مرتبہ (ماضی میں بھی) ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم ایک مطلق نتیجے کو پانے کے نہایت قریب پہنچ چکے ہیں ۔ اس صدی کے آغاز پر ہمارا یہ یقین تھا  کہ ہر شے کو  زمانی و مکانی میکانکیت کے اندر رہتے ہوئے سمجھا جا سکتا  تھا۔

(ہمارےتیقن کے مطابق)ہمیں صرف لچک(elasticity)، چپچپاہٹ(viscosity)، اور ایصالی قوت (conductivity) کے  عددی سروں (coefficients) کی کچھ تعداد ماپنے کی ضرورت تھی۔ یہ تیقن تب پارہ پارہ ہو گیا جب ایٹم کی ساخت اور کوانٹم میکانیات دریافت ہوئے۔ ایک مرتبہ پھر 1920 کی دہائی کے اواخر میں میکس بورن (Max Born) نے Gottingent کا دورہ کرنے والے سائنس دانوں کے ایک گروپ کو بتایا  :"وہ فزکس  جوہم جانتے ہیں وہ چھ ماہ کے اندر ختم ہو جائے گی"۔ یہ ڈائریک (Paul Dirac) ، جو کہ سابقہ لوکاسیَن پروفیسر آف میتھی میٹکس (Lucasian Professor of Mathematics) تھے, اُن کے ڈائریک مساوات وضع کرنے کے کچھ عرصہ بعد کا واقعہ ہے، ڈائریک کی مساوات الیکٹران کی حرکیات کا شمار کرتی ہے۔ یہ توقع کی جا رہی تھی کہ  پروٹان (proton) کی حرکیات  بھی اس سے مشابہ مساواتوں  سے متعین کی جا سکیں گی۔ اس پہ مستزاد یہ کہ الیکٹران اور پروٹان کے علاوہ اس وقت تک اور کسی ذرے کی دریافت نہ ہوئی تھی۔

تاہم ان امیدوں نے تب دم توڑ دیا جب نیوٹران (neutron) اور دوسری نیوکلیائی طاقتیوں کی دریافت ہوئی۔  (نہ صرف یہ بلکہ ) اب ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ پروٹان اور نیوٹران بھی ناقابلِ تقسیم ذرات نہیں ہیں بلکہ یہ بھی اپنے سے چھوٹے ذرات سے مل کر بنے ہیں۔ تاہم، حالیہ برسوں میں ہم نے بہت ترقی کی ہے، اور جیسا کہ میں واضح کروں گا، کہ ایک محتاط  رجائیت بہرحال کچھ بنیادیں رکھتی ہے اتنی کہ عین ممکن ہے ان صفحات کو پڑھنے والوں کی زندگی میں ہی ہم ایک مکمل نظریہ وضع کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔

اگر ہم ایک مکمل طور پر مضبوط نظریہ وضع کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں  تب بھی ما سوائے سادہ ترین امکانات کے ہم  مزید پیش گوئیاں کرنے کے قابل نہیں ہوں  پائیں گے۔ مثال کے طور پر ہم اُن طبعی قوانین سے پہلے ہی واقف ہیں جو  ہماری روز مرہ کی زندگی کے تمام طبیعی قوانین  متعین کرتے ہیں۔ جیسا کہ ڈائریک نے یہ نکتہ واضح کیا کہ اس کی وضع کردہ مساوات  طبیعیات کے بہت سے اور علم کیمیاء کے تمام قوانین کی بنیاد تھی۔ تاہم اس مساوات کی مدد سے ہم محض  سادہ ترین صورتیں حل کر پائے ہیں، جیسا کہ ہائیڈروجن ایٹم، جس کے مرکزے (nucleus) میں صرف ایک پروٹان اور ایک نیوٹران ہوتا ہے۔ایسے ایٹم جو زیادہ پیچیدہ ہیں اور زیادہ الیکٹران   رکھتے ہیں اُن کے مطالعہ میں ڈائریک کی مساوات کی مدد سے ہم یا تخمینہ لگا سکتے ہیں یا وجدانی اندازے، جن کا درست ہونا  شک سے مبرا نہ ہو گا۔اور یہاں ہم مالیکیولز کی بات ہی نہیں کر رہے جو ایٹم سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور ایک سے زیادہ مرکزوں کے حامل ہوتے ہیں۔ ایسا مرئی (macroscopic)  نظام جو 1023 ذرات پر مشتمل ہوتا ہے، ہمیں شماریاتی طریقہ ہائے کار استعمال کرنا پڑتے ہیں اور   اس خود فریبی سے باہر آنا پڑتا ہے کہ ہم مساوات کو  من و عن (exactly) حل کر پائیں گے۔اگرچہ ہم اصول میں اُن مساوات سے واقف ہیں جو حیاتیات   کو مکمل طور پر واضح کر سکتی ہیں لیکن ہم انسانی رویوں کو  اطلاقی ریاضیات (applied Mathematics) کی کسی ایسی  شاخ تک محدود نہیں کر پائے جو ان  کی توضیح کر پائے۔ فزکس کے ایک مکمل اور مربوط نظریے سے ہماری کیا مراد ہو گی؟ مکانی حقیقت (physical reality) کا ماڈل وضع کرنے  کے لئے بالعموم دو درجات سے گزرنا پڑتا ہے۔

1۔ ایسے قوانین جن پر کمیتی مقداریں (physical quantities)  پورا اترتی ہیں۔یہ قوانین بالعموم  تفریقی مساواتوں کی مدد سے

2۔  ایسی boundary condition جو ہمیں کائنات کے کچھ حصوں کی (ایک مخصوص وقت پر) حالت کے بارے میں مطلع کرتی ہیں ، اور ان حالتوں پر دنیا کے باقی حصے کیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔

بہت سے لوگ یہ دعویٰ کریں گے کہ سائنس کا کردار ان دونوں میں سے پہلے حصے کو محیط ہے اور نظری طبیعیات اپنا مقصد حاصل کرنے میں اس وقت کامیاب ہو گی جب  ہم طبیعیات کے local قوانین کا مکمل سیٹ وضع کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔  وہ کائنات کی ابتدا میں اس کی حالت کو مابعد الطبیعیات اور مذہب سے جوڑیں گے۔ ایک طرح سے یہ رویہ اُن کے جیسا ہے جو گزشتہ صدیوں میں سائنسی تحقیقات کی یہ کہہ کر  حوصلہ شکنی کرتے تھے  کہ  تمام قدرتی  مظاہر  خدا کے افعال ہیں اور ان کی تحقیق نہیں کی جانی چاہئے۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ کائنات کی ابتدائی حالتیں  سائنسی تحقیق کے لئے ویسا ہی موزوں موضوع ہیں جیسا کہ فزکس کے میکانکی قوانین۔ ہم تب تک ایک مکمل نظریہ وضع نہیں کر سکیں گے جب تک ہم یہ کہتے رہے کہ: "اشیاء موجودہ حالت میں اس وجہ سے ہیں کیونکہ یہ اس حالت میں تھیں۔"

نکاتِ آغاز کی یکتائیت کا سوال   طبیعیات کے مروجہ قوانین کے جبری نفاذ  کے باعث ہے: ہم (طبیعیات کے کسی بھی)  نظریے کو مکمل نہیں کہہ سکتے جب تک  وہ نظریہ ایسے خصائص پر مشتمل ہو  جنھیں تبدیل کیا جا سکتا ہو۔ جیسا کہ کمیت یا کوئی اور غیر مبدل قدر، جسے تبدیل کیا جا سکتا ہو۔ درحقیقت، ایسامحسوس ہوتا ہے کہ نہ تو ابتدائی شرائط نہ ہی وہ اقدار جن پر نظریہ مشتمل ہوتا ہے وہ جبری نہیں ہیں بلکہ ان کا انتخاب نہایت سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر اگر پروٹان اور نیوٹران کی کمیت الیکٹران سے دو گنا نہ ہوتی تو ایسا نا ممکن تھا کہ ہم سینکڑوں کی تعداد میں متوازن حالت میں پائے جانے والے عناصر دریافت کر پاتے، جو کیمیاء اور حیاتیات کی بنیاد ہیں۔اسی طرح اگر پروٹان کی کمیت (نیوٹران سے) مختلف ہوتی تو ایسے ستاروں کا وجود محال تھا جن میں یہ مرکزے تخلیق پاتے۔ یا اگر کائنات کا ابتدائی پھیلاؤ میں ذرا سی بھی کمی بیشی پائی جاتی، تو کائنات یا ایسے ستاروں کی تخلیق سے قبل ہی فنا ہو جاتی یا اتنی تیزی سے پھیلتی کہ ستارے gravitational condensation کے نتیجے میں نہ بن پاتے۔ کچھ لوگ تو ان تحدیدات کو اس سطح تک لے آئے ہیں کہ انھیں قانون سمجھا جانے لگا ہے، ایک بدیہی قانون جو کہ  کچھ یوں ہے: "اشیاء جس حالت میں ہیں وہ اس وجہ سے ہیں کیوں کہ ہم ہیں" اس اصول کے ایک نکتۂ نظر کے مطابق، بہت سی مختلف کائناتیں پائی جاتی ہیں جن کی ابتدائی صورتیں اور متتقل اعداد کی value مختلف ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کائناتیں وہ صورتیں فراہم کرنے سے قاصر ہوں گی جو ان پیچیدہ ساختوں کو وجود بخش سکیں جو با شعور زندگی کی تخلیق کا باعث بن سکیں۔ صرف گنتی کی چند کائناتیں، جن کی کمیت اور قدر ہماری کائنات کے آس پاس ہوں گی اور وہاں ایسی زنگی تخلیق ہو پائے گی جو یہ سوال کر سکے گی: "کائنات ایسی کیوں ہے جیسی ہمیں نظر آتی ہے؟"اور اس کا جواب یقیناً یہی ہے کہ کائنات اگر ایسی نہ ہوتی جیسے کہ یہ ہے، تو کوئی یہ سوال پوچھنے والا بھی موجود نہ ہوتا۔

قانونِ بدیہیت (anthropic principle) یقیناً ان غیر معمولی روابط کی وضاحت کرتا ہے جو مختلف طبعی پیرامیٹرز کے مابین پائے جاتے ہیں تاہم، یہ مکمل طور پر تسلی بخش امر نہیں ہے، کیونکہ ہم یہ محسوس کئے بنا نہیں رہ سکتے کہ کوئی نہ کوئی گہری وضاحت ہنوز ابھی کی جانے کو ہے۔ مزید یہ کہ یہ وضاحت کائنات کی تمام جہتوں کو محیط (پھر بھی) نہیں ہو گی۔مثال کے طور پر ہمارا نظامِ شمسی ہمارے وجود کی شرطِ اول ہے۔ جیسا کہ ہمارے قریب پائے جانے والوں ستاروں کی گزشتہ پیڑھی، جن کی مرکزے کی تالیف و  ترکیب کے نتیجے میں بھاری بھر کم اجزاء نے وجود پایا.یہ بھی ممکن ہے کہ شاید ہمارے وجود کی تخلیق کی خاطر تمام کی تمام کہکشاں کی ضرورت تھی۔ لیکن دوسری کہکشاؤں کے وجود کی ضرورت کسی صورت نظر نہیں آتی۔ اور باقی لاکھوں کہکشاؤں کا تو ذکر ہی کیا، ان کی تو (انسانی وجود کی تخلیق کی خاطر) قطعاً ضرورت نہ تھی۔اس عظیم تر سطح کی یکسانیت یہ یقین کرنا بہت مشکل بنا دیتی ہے کہ کائنات کی ساخت کی تعیین ایک چھوٹے سے سیارے پر موجود ایک ایسی ذیلی نوعیت کی مالیکیولر ساخت (انسان) کرے گی، جو سیارہ ایک بہت اوسط حجم کے ستارے کے گرد محوِ گردش ہے، اور یہ نظام (شمسی) ایک عام سی کہکشاں کے باہری کناروں پر پایا جاتا ہے۔

تعاملات اپنے مظاہر کی بنیاد پر چار درجوں میں تقسیم کئے جاتے ہیں۔  طاقت کے اعتبار سے (ترتیبِ نزولی کے تحت) یہ: مضبوط نیوکلیائی طاقتیں (strong nuclear forces) ، جو صرف ہیڈرونز (Hadrons) کے ساتھ تعامل کرتی ہیں؛ برقناطیسیت جوچارج شدہ ہیڈرونز اور لیپٹونز سے تعامل کرتی ہے۔ کمزور نیوکلیائی طاقتیں جو تمام ہیڈرونز اور لیپٹونز سے تعامل کرتی ہیں اور سب سے آخر میں سب سے کمزور اور بہت زیادہ کمزور کششِ ثقل ہے، جو ہر ہر شے سے تعامل کرتی ہے۔ یہ تعاملات integer-spin کے ذریعے سے بیان کئے جاتے ہیں اور یہ Pauli exclusion principle پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ ایک ہی حالت میں بہت سے ذرات رکھ سکتے ہیں۔ برقناطیسیت اور کشش ثقل کے معاملے میں، تعاملات زیادہ فاصلوں پربھی وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مادی ذرات کی ایک بہت بڑی مقدار جمع ہو کر ایک ایسا میدان فراہم کر سکتی ہے جس کا مشاہدہ مرئی سطح پر کیا جا سکتا ہے۔ ان وجوہات کی بناء پر ان پر نظریات سب سے پہلے وضع کئے گئے: نیوٹن نے سترہویں صدی میں کشش ثقل کا نظریہ پیش کیا، اور میکس ویل نے انیسویں صدی میں برقناطیسیت کا نظریہ پیش کیا۔تاہم یہ نظریات باہم متصادم تھے کیونکہ نظام (فریم آف ریفرینس۔ مترجم) کو حرکت دینے پرنیوٹن کا نظریہ جوں کا توں رہتا تھا جبکہ میکس ویل کا نظریہ ایک مخصوص رفتار کو ترجیح دیتا تھا، روشنی کی رفتار۔ لیکن آخرِ کار یہ معلوم ہوا کہ نیوٹن کا کشش ثقل کا نظریہ تبدیل کئے جانے کی جرورت ہے تاکہ اس کو میکس ویل کے نظریے کی غیر مبدل خصوصیات سے ہم آہنگ کیا جائے۔ ایسا آئن سٹائن کے عمومی نظریۂ اضافت کی مدد سے ممکن ہوا، جو اس نے 1915 میں وضع کیا۔

کشش ثقل کا عمومی نظریۂ اضافت اور میکس ویل کا برقناطیسیت کا نظریہ کلاسیکی نظریہ کہلاتے تھے؛ اس سے مراد یہ تھی کہ ان میں موجود مقداریں مستقلاً تبدیل ہوتی تھیں اور کم از کم اصولی طور پر انہیں اس وجہ سے درست طور پر ماپا جا سکتا تھا۔ تاہم ایک مسئلہ تب کھڑا ہوا جب ان نظریات کو استعمال میں لا کر ایٹم کا ماڈل وضع کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ دریافت کر لیا گیا تھا کہ ایٹم مثبت چارج کے حامل چھوٹے سے مرکزے پر مشتمل تھا، جو منفی چارج کے حامل الیکٹران کے بادلوں میں گھرا ہوا تھا۔ لیکن کلاسیکی نظریے نے یہ پیش بینی کی کہ الیکٹران برقناطیسی شعائیں بھی بکھیریں گے۔ قدرتی مفروضہ یہی تھا کہ الیکٹران مرکزے کے گرد ایسے ہی محوِ گردش تھے جیسے زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ یہ شعاعیں توانائی کی حامل ہوں گی اور الیکٹران کو مرکزے کے گرد اندر کی طرف بتدریج لپٹتے ہوئے مرکزے میں گرا کر ایٹم کو تباہ کر دیں گی۔

اس مسئلے پر اس نظریے کی مدد سے قابو پایا گیا جو بلا شک و شبہ اس صدی کی نظری طبیعیات میں عظیم ترین کامیابی ہے یعنی کوانٹم نظریے کی دریافت۔ اس کا بنیادی مفروضہ ہائزن برگ کا نظریۂ غیر یقینیت ہے، جس کے مطابق کچھ مقداروں کے مجموعے، جیسا کہ ایک ذرے کی پوزیشن اور اس کی مقدارِ تحرک (momentum) مکمل تیقن کے ساتھ ماپی نہیں جا سکتی۔ ایٹم کے تناظر میں اس سے مراد یہ تھی کہ اپنی توانائی کی کم ترین حالت میں الیکٹران مکمل حالتِ سکون میں نہیں ہو سکتا کیوں کہ اس صورت میں اس کی پوزیشن کی درست ترین تعیین ممکن ہو سکے گی (جو کہ مرکزہ ہو گا) اور اس کی رفتار کی درست طور پر معلوم ہو گی (یعنی صفر) اس کے برعکس پوزیشن اور رفتار دونوں مرکزے کے گرد ایک دوسرے کو مسخ کرتی ہوئی پائی جاتی ہیں۔اس حالت میں الیکٹران توانائی کا اخراج شعاعوں کی صورت میں نہیں کر رہا ہو گا کیونکہ الیکٹران کے لئے توانائی خارج کر کے موجودہ سے کم توانائی والی حالت میں جانا ممکن نہیں ہو گا۔ (طوالت کے باعث اس باب کو دو حصوں میں منقسم کیا گیا ہے۔ مترجم)

 

 

 

 

 

 ;




دوام (از رضی حیدر)

کِھلے ہوئے گلاب رخ
ہرے بھرے جوان تن
دزار پیڑ وقت کی زمین پر کھڑے ہوئے
پرکاش کی تلاش میں امید سینچتے ہوئے
لہک چہک فضاؤں میں
دمک روواں روواں
دل اور جگر تپاں تپاں
دہکتی شوخ حسرتیں
ہر ایک مس گمان،
گدگدی میں میل کی امنگ
ہونٹ کے نشان
آن آن گردنوں پہ نور کے
خوشبوئیں نفس نفس
زلالِ خضر کی مٹھاس
دوام تھا قدم قدم ---
کہاں گئے ؟



فکریں (از رضی حیدر)

پلکیں خون سے جم رہتی ہیں، آنکھیں رو رو تھم رہتی ہیں

راتیں بستر پر نہیں سوتیں، برف کی سل پر جم رہتی ہیں

جو زلفیں سنوری رہتی تھیں، اب درہم برہم رہتی ہیں

ان زلفوں کے مار پیچ میں گھڑیاں سم در سم رہتی ہیں

چڑیاں دھڑکن کی ساون میں دل کے پیڑ پہ کم رہتی ہیں

ہستی کے دشت سے آئی آنکھیں کیوں جویائے عدم رہتی ہیں؟

عیدیں تجھ بن کب ہستی ہیں گریہ و ماتم رہتی ہیں

میرا کلیجہ کھا جاویں گی فکریں جو ہر دم رہتی ہیں

 




آرزو کا گیت (نظم: نچیتا سٹینیسکو، ترجمہ: مدثر عباس)

میں تمہاری آواز کے پہلو میں سویا

یہ بہت خوشگوار تھاتمہاری گرم چھاتیوں نے میرے کلیسا کو ڈھانپ لیاتم کوئی گیت گا رہی تھی جسے میں یاد نہ رکھ سکاشاید وہ ان شاخوں اور پانیوں کے متعلق تھا جو تمہاریرات میں آواہ پھرتے تھےیا تمہارے اس بچپن کا گیت جو بچپنکہیں لفظوں کے نیچے آ کر دم توڑ گیامجھے نہیں یاد تم کونسا گیت گا رہی تھیمیں تمہاری آواز کے پہلو میں سویا مجھے نہیں یاد تم کیوں رو رہی تھیشاید ایسے ہی یا سورج کی اداسی کے لئےیا شاید محبت اور رحمدلی کے لئےمجھے نہیں یاد تم کیوں رو رہی تھیمیں تمہاری آواز کے پہلو میں سویااور میں تمہیں پیار کر رہا تھا

رومانیہ کے شاعر نچیتا سٹینیسکوترجمہ: مدثر عباس




شاعری کی، وقت ضائع کیا (رضی حیدر)

کبھی کبھی سوچتا ہوں شاعری سیکھی، وقت ضائع کیا۔ ایک ان کہی ان سنی زبان بناتے بناتے بہت دل جلایا، وقت ضائع کیا۔
لوگوں کو کہتے کہتے شاعری دکان داری نہیں ہے، شاعری اپنی ذات کے غیر مرئی گوشوں کی تجسیم ہے۔
حقیقت میں زیادہ چیزیں انکہی ہی رہ جاتی ہیں۔

لوگوں کا کہتا پھرا :

یہ زعم نہ رکھو کہ تم اپنے ہر احساس کو جامہ پہنا دو گے ۔ نہیں!

ہر احساس کو سراپا دیا نہیں جا سکتا۔ پر وہ چند احساسات جنہیں تم جامہ پہنا سکتے ہو، ان کے لئے تمہیں کسی مجسمہ ساز کی طرح حواس خمسہ کو کام میں لانا ہو گا۔ حسِ باصرہ، حس سامعہ، حس لامسہ، حس ذائقہ، حسِ شامہ 5 کھڑکیاں ہے قاری کے دل کی۔ کھڑکیاں تو کھلی ہیں اور تم دیواروں کو ٹکریں مار رہے ہو۔

وقت ضائع کیا۔

کسی نے کہا شاعری سیکھی جا سکتی ہے؟ میں نے کہا ہاں جیسے کوئی دوسرا کرافٹ سیکھا جا سکتا ہے شاعری بھی سیکھی جا سکتی ہے۔ پر شاعر بنا نہیں جا سکتا۔ تو وہ گھورنے لگا کہ یہ کیا بکواس ہے تو میں نے یہ کہا کہ اگر الفاط کے چشمے تم سے پھوٹنا بند ہو جائیں تو تمھیں یوں محسوس ہو کہ تمھارا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ ہر کسی پر یہ عذاب نہیں آتا، کاش نہ ہی آئے۔تم رات کی ناڑ پر دھڑکنوں کی چیونٹیاں کو چلتے ہوئے دیکھو، تم انتظار میں جاگتے رہو،جاگتے رہو۔ پھر ایک رات ہر چیونٹی اپنے سر پر ایک لفظ اٹھائے آئے، کہہ رہا ہوں یہ عذاب ہر کسی پر نہیں آتا۔

بات یہ ہے کہ آدمی شاعر
یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا

محبوب خزاں کا شعر سنا کر کلیشے پورا کیا، وقت ضائع کیا۔

شاعری کیا ہے سوچتے سوچتے ارسطو سے پوچھا، فارابی سے پوچھا، ابن سینا، غزالی، ابن رشد کے دروازے کھٹکھٹائے۔ ابے کوئی تو بتائے شاعری کیا ہے؟
فاروقی صاحب کہنے لگے شاعری کے چار عناصر ہیں :
موزونیت، اجمال، جدلیات، ابہام۔ پھر ہر عنصر پر دوسروں سے بحث کرتے کرتے خود کو سمجھایا، شاعری کیا ہے۔

شاعری اپنے آپ کی کھوج ہے۔
خود کلامی کی
شاعر بھول بھلیوں کا تخلیق کار ہے جو نئے نئے موڑ بناتا ہے اور ایک خدا کی طرح  اپنے سامع کو اس میں چھوڑ کر کہتا ہے، بھول بھلیوں سے باہر آؤ تو جانوں۔

جو لوگ ان بھول بھلیوں سے باہر نکل آئیں گے۔ تمھارے بت بنائیں گے۔ پر تمھارے لئے ان کی داد، تحسین، ان کے سجدے بیکار ہونگے۔ تمھیں صرف اپنی بھول بھلیاں بنانے سے سودا ہے باقی سب بیکار ہے۔ شاعر آئینہ ساز بھی ہے جو اس بھول بھلیوں میں قاری کی ان دنیاؤں کی تجسیم کرتا ہے جو عقل کے شکنجے سے دور ہیں۔ قاری کو اس کا اصل دکھاتا ہے۔

پھر میر کا شعر با بانگ دہل پڑا

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہۂ شیشہ گری کا

شاعری کو آفاق کی کارگہہ سے ملایا، وقت ضائع کیا۔




تین(نظم گو: احمد رضا احمدی، ترجمہ: مدثر عباس)

 

میں نے ہمیشہ تین لفظوں کے ساتھ
زندگی گزاری ہے
راستوں پر چلا ہوں
بہت سے کھیل کھیلے ہیں
درخت، پرندہ اور آسمان

میں نے ہمیشہ دوسرے لفظوں کی آرزو کی ہے
میں ماں سے کہتا تھا کہ بازار سے لفظ خرید لائیں
مگر ان کے بیگ میں جگہ نہیں ہوتی تھی
وہ کہتی تھی
"انہی تین لفظوں کے ساتھ زندگی گزارو
آپس میں بات کرو
مل کر فال نکالو"

کم الفاظ کا ہونا غربت نہیں ہے
میں جانتا تھا کہ رنگین پنسل کا نہ ہونا کم الفاظ کی نسبت بڑی غربت ہے

جب میں درخت کے ساتھ ہوتا تھا تو پرندہ کہتا تھا
" درخت کو سبز رنگ میں لکھو تا کہ میں اڑنے کی آرزو کر سکوں"
مگر میں درخت صرف زرد پنسل کے ساتھ لکھ سکتا تھا
کیوں کہ میرے پاس صرف زرد پنسل تھی
زرد رنگ میں لکھے درخت میں پرندے نے خزاں کو دیکھا
اور وہ ناراض ہو گیا

آج صبح میں نے ماں سے کہا کہ
احمد رضا کے لئے رنگین پنسلیں خرید لائیں
میری ماں ہنستے ہوئے بولی: تمہارے درد کی دوا صرف لفظ ہیں




کون سا پل؟( نظم گو: گروس عبد الملکیان، ترجمہ: مدثر عباس)

شہر کی لڑکیاں دیہات
کا خواب دیکھتی ہیں
دیہات کی لڑکیاں
شہر کی آرزو میں مرتی ہیں
نادار لوگ ثروت مند لوگوں کی سی
آسائش کا خواب دیکھتے ہیں
ثروت مند لوگ نادار لوگوں جیسے
سکون کی آرزو میں مرتے ہیں
کائنات میں کونسا پُل ٹوٹا ہے
کہ کوئی بھی شخص اپنے گھر نہیں پہنچ پاتا



تم آئے؟ ( رضی حیدر)

جھاڑتے جھاڑتے تاروں کی وحشت کا غبار اکتایا چاند
کھینچ رہا تھا جوں خمیازہ ۔۔۔۔۔ تم آئے
غم کا گدلا پانی پارہ پارہ کاغذ کی اک چیخ
کاہے باندھنے کو شیرازہ ۔۔۔۔۔ تم آئے
کیوں مژگاں کا مسکارا ہے سورج کے دل کی کالک
رنگِ افق گالوں کا غازہ ۔۔۔۔۔ تم آئے
عُریاں کمر کو ہونٹوں نے جو لمس کیا تھا شعر ہوئے
بندِ خیال میں اچررج تازہ ۔۔۔۔۔ تم آئے
ڈھونڈتے ڈھونڈتے درپن کا خود رفتہ  قیدی چونک اٹھا
کھول دیا کس نے دروازہ، ۔۔۔۔۔ تم آئے
رمزی کے دل کے پیڑ پہ بیٹھیں تھیں چند چڑیاں دھڑکن کی
بھاگیں ہوتے ہی اندازہ ۔۔۔۔۔ تم آئے

 




سرنگ (اسد رضا)

ایک صبح آپ اٹھتے ہیں تو خود کو زندان میں پاتے ہیں۔ آپ اس جرم کی بابت سوچتے ہیں جس کارن آپ زندان میں قید ہیں۔ آپ کچھ بھی یاد کرنے سے قاصر ہیں۔ آپ کو اپنا نام، علاقہ، شناخت کچھ بھی یاد نہیں آتا۔ پہچان کے طور پر آپ کے لباس پر ایک نمبر موجود ہے۔ آپ اس نمبر میں اپنی شناخت کھوجتے ہیں لیکن ایک نمبر سے خود کو ڈھونڈنا کافی دشوار کام ہے۔ اب آپ زندان میں ٹہل رہے ہیں۔ آپ زندان کی جالی سے باہر جھانکتے ہیں تو آپ کو دونوں اطراف بہت سی بیرکیں نظر آتی ہیں۔ آپ بہت جلدی جان لیتے ہیں کہ یہاں سے فرار ہونا قریب قریب ناممکن ہے۔ اب آپ آرام سے بیٹھے ہیں اور ایک دفعہ پھر اپنے جرم کے بارے میں غور کرتے ہیں۔ اب ایک کہانی تراشتے ہیں جس میں آپ ایک سیریل کلر ہیں۔ سب سے پہلے آپ کو اپنے جنون کی وجہ بُننی ہے۔ آپ ان تمام خواتین کے بارے میں سوچتے ہیں جنہیں آپ نے ممکنہ طور پر قتل کیا ہے۔ اُف آپ ان سے کتنی شدید نفرت کرتے ہیں۔ خاص طور پر وہ موٹی مالک مکان جو ہر وقت اپنے کتے کو ساتھ لیے گھومتی رہتی ہیں اور جگہ جگہ تھوکتی ہے۔ آپ کو یاد آتا ہے کہ قتل کرنے کے بعد آپ نے اس کی زبان بھی کاٹ ڈالی تھی۔ اس کی لاش کو ٹھکانے لگانا کتنا تھکا دینے والا کام تھا جس کے بعد آپ کو بئیر کے چھ کین پینے پڑے تھے۔ دوسری خاتون وہ دھوبن تھی جو کپڑے دھوتے وقت تمام جیبوں کی تلاشی لیتی تھی۔ اس کا لالچ نہ ختم ہونے والا تھا۔ آپ نے اسی کا فائدہ اٹھا کر اسے گھر بلایا تھا۔ آپ یاد کرتے ہیں کہ اس کو آپ کے جسم سے زیادہ بیڈ کے پاس پڑی آپ کی پینٹ سے دلچسپی تھی۔ اس نے قتل کے خلاف کتنی سخت مزاحمت کی تھی۔ لالچی لوگ موت سے کتنا ڈرتے ہیں۔ اور وہ روسی خاتون کتنی منحوس تھی جس کے جسم پر جا بجا تل تھے اور مردوں سے جسم کے تل گنوانا کتنا پسند کرتی تھی۔ آپ نے چاقو سے اس کے سینے اور ناف کے تل کے درمیان ایک خط کھینچ دیا تھا۔ یہ کتنا پُر لطف تھا۔ اس کے سفید جسم پر موجود سیاہ تل سُرخ خون میں کیسے ڈوب گئے تھے۔ آخری مرنے والی خاتون وہ ہم جنس پرست تھی جو سستے سگریٹ پیتی تھی اور اس کے کانوں میں ڈھیر ساری بالیاں تھیں۔ کسی عورت کا ہم جنس پرست ہونا ہی اس کے قتل کی کافی وجہ ہے اور خاص طور پر جب وہ آپ سے بلا وجہ ہمدردی جتائے۔ اس نے مرنے سے پہلے بتایا تھا کہ بچپن میں اس کا باپ اور بھائی روز اس کا ریپ کرتے تھے۔ دھت تیری کی۔۔۔ یہ بیوقوف عورت اگر شیرف کی دوست نہ ہوتی تو آج آپ جیل میں نہ ہوتے۔ آپ کے قالین پر سے اس کی خون آلود بالی مل گئی تھی۔

آپ اس سنسنی کو محسوس کرتے ہیں جو قتل کرتے وقت آپ کے رگ و پے میں دوڑتی تھی۔ اب آپ تھک چکے ہیں اور لیٹ جاتے ہیں۔ پتہ نہیں کیسے یکایک آپ کے ذہن میں خدشہ ابھرنے لگتا ہے۔ جلد ہی آپ اپنی کہانی پر شک کرنے لگتے ہیں۔ آپ کو بنائی گئی کہانی میں بے شمار منطقی غلطیاں نظر آنے لگتے ہیں۔ مثلاً موٹی خواتین کتے کی بجائے بلی رکھنا پسند کرتی ہیں۔ روسی خواتین کے بدن پر کالے کی بجائے بھورے تل ہوتے ہیں۔ اور ہم جنس پرست لڑکی کا کردار بناتے وقت آپ نے کلیشوں کا کس قدر استعمال کیا ہے۔ پھر قتل کے لئے خنجر کا استعمال آپ کو اپنی نفاست پسند طبعیت سے کچھ میل کھاتا نظر نہیں آتا۔ نیز آپ اتنے احمق نہیں ہو سکتے کہ قتل کے بعد قالین کو اچھی طرح سے چیک نہ کریں۔ صبح ہونے تک آپ اپنی کہانی کو مکمل طور پر رد کر چکے ہیں۔ اب آپ نئے عنوان سے اپنی موجودگی کو معنی دیتے ہیں۔ آپ کی پرتجسس اور باریک بین فطرت یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ آپ کے ایک جاسوس ہیں جو دشمن ملک میں پکڑے جا چکے ہیں۔ آپ کو یاد آتا ہے کہ آپ نے کیسے 6 مختلف زبانیں اور 14 مختلف لہجے یاد کئے تھے۔ آپ اپنی سخت تربیت کے مراحل یاد کرتے ہیں۔ آپ اپنے جسم پر موجود ایک ایک نشان کی وجہ سے آگاہ ہوتے جا رہے ہیں۔ آپ کو یوم آزادی کی وہ رات یاد آتی ہے جب لطیفے سناتے ہوئے کس چالاکی سے آپ نے دشمن ملک کے جنرل سے معلومات حاصل کی تھی۔ آپ ان کوڈز کے بارے میں سوچتے ہیں جن کے زریعے آپ اپنا پیغام بھیجا کرتے تھے۔ آپ کو یاد آتا ہے کہ باسکٹ بال کا میچ دیکھتے ہوئے آپ کتنے جذباتی ہو گئے تھے اور یہی غلطی آپ کے پکڑے جانے کا سبب بنی۔ آپ اپنے ملک کی ایجنسیوں کی جہالت پر حیران ہوتے ہیں کہ وہ جاسوس کو محب الوطن بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک پروفیشنل کو کبھی بھی محب وطن نہیں ہونا چاہیے۔ بہرحال رات گئے تک آپ اپنی مہمات کے بارے میں سوچتے ہیں۔ یہ زندان کو قابل برداشت بنانے میں مدد دیتا ہے۔ رات کی تاریکی، زندان کی ہولناکی، تنہائی اور شناخت کے مسائل یہ سب اتنا چشم کشا ہوتا ہے۔ کہ آپ کی بنائی گئی ہر کہانی آپ کو ایک سیراب سے زیادہ کچھ نہیں لگتی اور آپ اس سے لا تعلقی کا اظہار کر دیتے ہیں۔ آپ ایک ایٹمی سائنسدان سے لے کر معمولی گورکن تک سب کچھ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر ہر بار کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ کمی رہ جاتی ہے۔

آخر آپ کو یاد آتا ہے کہ آپ ایک کہانی کار ہیں اور آپ کی کسی کہانی کے کسی کردار کی ایسی ہی کسی فاش غلطی کے سبب آج آپ زندان میں ہیں۔ اب آپ شدت سے وہ کہانیاں یاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو آپ نے کبھی لکھی ہوں گی۔ آپ کو وہ سب بہت پھیکی اور بد مزہ سی لگتی ہیں۔ زندان سے باہر لکھی گئی کہانیاں پھکڑ بازی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتیں۔ کیا واقعی آپ ایک کہانی کار ہیں؟ آپ اس سوال سے کترا کر سر جھکائے ایک اور کہانی بُننے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔




کسی ایک شاعر کے لفظ ۔۔۔ (عدنان بشیر)

مسعود دانیال : دانیال طریر
۲۴ فروری ۱۹۸۰ء۔۔۔۳۱ جولائی۲۰۱۵ء
( ۳۵ سال ۵ ماہ ۷ دن )
اردو ادب میں ایم۔اے کیا اور جامعہ بلوچستان کوئٹہ میں تدریس کے فرائض سرا نجام دیتے رہے۔
۲۰۰۵ء آد ھی آتما
۲۰۰۹ء بلوچستانی شعریات کی تلاش(جلد اول)
۲۰۱۲ء معنی فانی
۲۰۱۲ء معاصر تھیوری اور تعینِ قدر
۲۰۱۳ء جدیدیت، مابعد جدیدیت اور غالب
۲۰۱۳ء خواب کمخواب
۲۰۱۳ء خدا مری نظم کیوں پڑھے گا (طویل نظم)


زمین پر ہر کھلنے والا پھول ہمیں امید، خوشی اور تازگی کے احساس سے ہم کنار کرتا ہے ایسے ہی شاعری بھی۔۔۔ لیکن غضب ہوا کہ ہم نے شاعری کو ایسے کھردرے لفظوں سے بھر دیا جنھوں نے گلستان ِ سخن میں کانٹوں کا مقا م جا سنبھالا۔ یقیناً شعروں کے پھول بھی حفاظت کے متقاضی ہوں گے۔

جڑواں شہروں میں آئے دوسال ہوگئے۔ برادر رفاقت راضی اکادمی ادبیات اور تمام دوستوں سے فرداََ فرداََ ملواتے پھرے۔ اکادمی میں جب بھی گیا اور حامد محبوب سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے ہمیشہ کہا کہ آپ کا نام ذہن میں دانیال ہی آتا ہے۔ معلوم ہوا کہ دانیال طریر ایک عرصہ ان شہروں میں رہے۔ مئی ۲۰۱۴ء میں ہی دانیال سے ملاقات ہوئی۔ ماشااللہ ہوٹل اسلام آباد میں جو ایک چھپر ہوٹل ہے اور ہر شام اختر عثمان صاحب کے دم سے وہاں شاعروں ادیبوں کی محفل جمتی ہے۔ دانیال اور میں اتنے شاعروں میں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کے یوں مسکراتے رہے ’’جوں گفتگو کرتا ہے ستارے سے ستارہ‘‘۔ دانیال سے ملاقات کی سرشاری ابھی تک رگ و پے میں ہے۔ سو ایسے میں دانیال پہ لکھنا ایسے ہی جیسے کوئی اپنے ہی بارے میں لکھے۔

’’ آدھی آتما‘‘ دانیال طریر کی شاعری کا اولین مجموعہ تھا جو آدھا بارش میں بھیگاہوا حماد نیاز ی نے مرے سپرد کیا۔ کتاب پڑھ کے شک ہوا کہ شاید بارش نہیں آنسوؤں سے بھیگا ہوگا۔ اور پھر حماد نیازی کی دانیال طریر کے لیے آنسوؤں میں بھیگی نظم فیس بک پر پڑھی۔ اس کتاب نے ایک نئے ذائقے سے آشنا کیا۔ اجنبیت اور غرابت کا احساس تھا جو ’’معنی فانی‘‘ اور’’ خواب کمخواب‘‘ نے بدل دیا۔ ’’ خدا مری نظم کیوں پڑھے گا‘‘نے تو سارا منظر نامہ ہی تبدیل کر دیا۔ وہ جسے اجنبیت پہ محمول ٹھہرا رہا تھا وہ تو اپنے مفہوم کے ساتھ یوں در وا کرتا چلا گیا کہ خو د کو بمشکل شعر کہنے سے روکا۔ شعر کہنے والے جانتے ہیں کہ اہم شاعر وہ ہوتا ہے جسے سن کے یا پڑھ کے خود بھی شعر کہنے کو دل چاہنے لگے۔ دانیال طریر کی خوبی بھی یہی ہے کہ اسے پڑھ کے لکھنے کو دل چاہتا ہے۔

’’خد امری نظم کیوں پڑھے گا‘‘ نظم کا عنوان ایک بار تو ہم میں موجود مردِ مومن کو ہلا کے رکھ دیتا ہے کہ یہ کیا؟؟ اپنی مرضی سے بیان پیش کرکے فتوی صادر کرنے کی بجائے نظم کے پہلے حصے کی آخری تین لائنیں دیکھتے ہیں۔

’’یہ نظم کا من گھڑت فسانہ
وہ اس سے بہتر ہزار قصے پلک جھپک وقت میں گھڑے گا
خدا مری نظم کیوں پڑھے گا۔‘‘

یہ نظم خدا کے لیے نہیں لکھی گئی بلکہ اس کے مخاطب زمین کے ہی لوگ ہیں۔یہ عنوان اپنے اندر ایک شدید طنز لیے ہے۔ بلوچستان ہی کے ایک شاعر کی طویل نظم میں دو لائنوں نے اس احساس کو مزید ابھارا کہ ہم بغیر پڑھے یا صرف عنوان دیکھ کر ہی اپنے اپنے فتووں کی پٹاریاں کھول لیتے ہیں۔

’’خدا کو نظمیں پڑھانے والو
زمین کا مسئلہ تو سمجھو‘‘

شاعر کا یہ اعتراض دانیال کے علاوہ اور کس کی طرف ہو سکتا ہے۔ لازم ہے کہ دانیال کی نظم کے عنوان کو ہی اگر سمجھ لیا جائے تو ایسے مغالطے پیدا نہ ہوں۔اس نظم کوپڑھنے کے لیے دانیال زمین کے لوگوں سے ہی شاکی تھے۔یہ نظم انھی کے لیے ہی تو لکھی گئی ہے، خداسے گفتگو کے لیے تو ہمارا شاعر خود جا چکا ہے۔ نظم کے مختلف حصوں میں سے بالترتیب کچھ لائنیں نظم کے مخاطب کا تعین کرنے کے لیے۔۔۔
’’زمیں کی مخلوقِ بے خبر کو جمال اورجنس کے علومِ ہزار در کا سبق پڑھانے، ؍ہوا کو طرزِ جنوں سکھانے، یہ روشنی اوڑھ کر نہانے۔۔؍مگر زمیں زادگاں نے اس کو نہ اسم جانا نہ جسم سمجھا؍اسے کسی دیو کے صلاح کار سامری کا طلسم سمجھا‘‘
’’بانسری کون بجا رہا ہے؍وہ تمام بھیدوں کی طرح یہ بھید بھی جانتا ہے؍اس لیے وہ میرے ساتھ اسے تلاش نہیں کرے گا ؍خدا مری نظم کیوں پڑھے گا؟‘‘

اس کے پاس شاید ایک دن ہی تھا۔ جوانی میں ہی ہر لمحہ اپنی طرف بڑھتی ہوئی موت کی آہٹ مسلسل اس کے کانوں میں تھی اور زمین پاؤں کے نیچے پیہم کسی زلزلے کی زد میں محسوس ہو رہی تھی۔ ایسے میں زندگی کا ایک دن،ایک صبح سے اگلی صبح تک یا ایک رات سے اگلی رات تک۔ اردو شعراء کی اکثریت نے اس ایک دن کی زندگی کو رات سے شروع ہو کر رات میں ہی بدلتے ہوئے دیکھا او ر دکھایا ہے۔داغ داغ اجالہ ہو یا شب گزیدہ سحر اور رات کے گزرنے پر رات ہی جنم لے گی کا اعلان اور ایسے ہی یاسیت اور قنوطیت پسندی کے رجحانات ہمیں اپنی شاعری میں ڈھونڈنے کے لیے بہت تگ و دو کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ رویہ ہی ہمارے درد و غم جمع کر کے دیوان بنانے کی خواہشات کا ترجمان ہے۔ دانیال طریر کی یہ طویل نظم اسی ایک دن کے چوبیس گھنٹو ں کی طرح چوبیس حصوں پر مشتمل ہے لیکن ہمارے مذکورہ رجحان کے برعکس موت کے درندے کو اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر بھی دانیال نے امید پسندی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔
میں مر جاؤں گا
اور دنیا لفظوں سے نہیں بھر سکوں گا
لیکن جس طرح میں اپنے ابو کا ادھورا کام پورا کر رہا ہوں
بالکل اسی طرح
میرا ادھورا کام میرے طالب علم پورا کریں گے
جو نظمیں میں نہ لکھ سکا میری اولاد لکھے گی
دنیا کو لفظوں سے میری جذبیہ بھرے گی
دنیا کو لفظوں سے میرا جذلان بھرے گا
خدا مری نظم کیوں پڑھے گا

خدا کے اس کارخانے میں یہ نظم دنیا کو بارود سے بھرتے ہوئے لوگوں کے لیے لکھی گئی ہے۔ وہ جنھوں نے عورت کو انسان نہیں رہنے دیا بلکہ مرد کی مخالف بنا کر اسے بازار کی زینت بنا دیا۔ نظم کا اکیسواں حصہ اسی مادی سوچ پر گہرا طنز ہے۔ دنیا کو بازار بنا دینے اور اس بازار کو گھروں کا حصہ بنا کر ہمارے ہاتھوں میں ہر دم تھما دینے کی اذیت کونظم کا یہ حصہ ہم پر آشکار کر تا ہے۔جب نظم کو بھی بازار کی زینت بنا دیا گیا۔ یہ نظم دراصل ہمارے تہذیبی انحطاط اور لفظوں سے دوری کے کرب پر لکھی گئی جدید زندگی کی کتھا ہے۔ یہ زندگی جس میں ہر سمت صرف بارود کی بو ہے۔ جس میں سے پھولوں کی خوشبو اور لفظوں کی مہک چھین لی گئی ہے۔اس مصنوعی پن نے تو کاغذی پھولوں یا کاغذی پیرہن سے آگے کی نارسائی اور المیے کو جنم دیا ہے۔ برقی رابطے کے منقطع ہوتے ہی ساری دنیا سے کٹ جانے والا فرد جو ابھی اپنے سامعہ اور باصرہ سے ہی لامسہ، شامہ اور ذائقہ کو بھی تسکین دے رہا تھا فوراََ ہی بالکل بے دست و پا ہو جاتاہے۔اگرچہ لمس، باس اور پیاس تینوں کی پیاس محض ایک التباس تھی جوبرقی آواز اور لباس کے محو ہوتے ہی زیادہ شدت سے بھڑک اٹھتی ہے اور جدید معاشرت کا جدید ترین فرد اپنے کانپتے ہاتھوں اور دھندلائی آنکھوں کے ساتھ سامنے کا منظر دیکھنے اور قریب کی آواز سننے کی صلاحیت بحال ہونے میں بھی چند ثانیوں تک بے حس رہتا ہے۔ اسی بے حسی کی کیفیت کے مسلسل طاری ہوجانے کا المیہ اس نظم کے عنوان میں پوشیدہ ہے۔دانیال ہماری اجتماعی ناخواندگی کے گلہ گزار بھی ہوئے اور نظر انداز کر دینے کے تجاہلِ عارفانہ کی وجہ سے دکھی بھی۔
’’مجھے نظم لکھنے سے پہلے ہی سوچنا چاہیے تھا ؍کہ نا خواندگی واقعہ ہی نہیں المیہ بھی ہے‘‘
۔۔۔ ’ علینہ ‘ بھی جب وہا ں ابھی زیرِ التوا ہے؍تو پھر مری نظم پر کوئی غور کیا کرے گا؍خدا مری نظم کیوں پڑھے گا‘‘

زمین والوں کے توکئی تعصبات اوربہت مصروفیات ہیں۔ مجید امجد کی پنواڑی، کنواں چل رہا ہے اور بندہ جیسی نظموں کے حوالے دینے والوں کو اس بات سے دکھی نہیں ہونا چاہیے کہ لوگ تو’ کنگن ‘نامی نظموں کو یادکرتے اور ان کے لکھنے والوںکو شاعر جانتے ہیں۔ایسے میں دانیال کی یا ان سے پہلے والوں میں سے علی محمد فرشی کی ’’علینہ‘‘ اور انوار فطرت کی ’’آبِ قدیم کے ساحلوں پر‘‘ کو پڑھنے کے لیے ہماری مصروف زندگی میں کیاکوئی پل ہیں؟یہ دانیال طریر کا رقم کیا گیا استغاثہ ہے۔ وہ نظم کے ابتدائیے میں ہی اپنی میراث کو میرو غالب، نظیر و اقبال اور ان کے بعد میرا جی، ن۔ م راشد، مجید امجد، فیض احمد فیض، منیر نیازی اور آفتاب اقبال شمیم سے موسوم کرتے ہیں۔ نظم کے اخیر میں اپنے ان پیش روؤں کی شاعری کو خراجِ پیش کرتے ہوئے وہ ان جیسی کوئی ایک نظم لکھنے کے لیے اپنی کم مائیگی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ ظرف کی بات ہے جس میں شاعر اپنے ماضی کی شاندار تخلیقات سے اپنی نظم کے سلسلے کو بھی جوڑ رہا ہے اور اپنے سینئرز کے کام کو بھی اسی منظر نامے کا حصہ بناتا ہے۔

ن۔ م۔ راشد کی ’ حسن کوزہ گر ‘ نے اردو نظم نگار وں کو طویل نظم لکھنے کی تحریک دی۔ راشد کے ہم عصر میرا جی اور مجید امجد کی نظموں نے آزاد نظم لکھنے والوں کے لیے راستے آسان کر دیے۔آفتاب اقبال شمیم کی زید سے مکالمہ، احمد شمیم کی اجنبی موسم میں ابابیل، افضال احمد سید کی نوجوبنا اور ثوبیہ،انوار فطرت کی آب ِ قدیم کے ساحلوں پر، علی محمد فرشی کی علینہ کے ساتھ ساتھ اور بہت سے شاعروں نے طویل نظم لکھنے کی کامیاب مثالیں پیش کیں۔ شہزاد نیر نے برفاب اور نوحہ گر، عامر سہیل نے مشہدِ عشق، احمد فواد نے’یہ کوئی کتاب نہیں ‘ اور دل ورق ورق تیرا ‘ میں طویل نظمیں لکھیں۔

مری طرف سے یہ چند لفظ صرف خود کو یاد دہانی ہیں کہ ابھی بے انتہا پڑھنا اور بہت سا لکھنا رہتا ہے اور پھر دانیال نے بالکل سچ ہی تو کہا کہ

’دنیا وہ گھاؤ ہے جسے کسی ایک شاعر کے لفظ نہیں بھر سکتے۔‘




آؤ خاموشی اور صداؤں کا تبادلہ کریں (نظم گو: سروش لطیف، ترجمہ: نودان ناصر)

سروش لطیف کی نظمیں نہ تو اپنے گردوپیش سے لاتعلق ہیں اور نہ ہی خود کو خارجی دنیا پر منطبق کرنے کی کوشش۔  ایک اور اہم خوبی ان نظموں کے انگریزی میں ہونے کے باوجود ہماری ثقافتی یادداشت سے جڑت ہے۔ یہ جڑت محض سماجی مسائل تک محدود نہیں بلکہ عشق جیسے آفاقی جذبے کی ترجمانی تک پھیلی ہوئی ہے۔ نودان ناصر نے ان نظموں کو اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ شاعر اور مترجم کا اشتراک ترجمے کو تخلیق کے ہم پلہ بنانے پر قادر ہے یہی وجہ ہے کہ دونوں زبانوں میں یہ نظمیں اپنی معنوی وسعت کا بھرپور اظہار کر رہی ہیں۔ ان نظموں کا ایک انتخاب لالٹین کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

The Knots of Season

Be cautious!
Do not write poems with the first rain of the season.
Wrapped up in rues
With ash from your cigarette falling about
and surrounded by the aroma of coffee
Do not write tales of woes

It is insulting to the rain just emerging
from the womb of the clouds
She might get annoyed,
As from the crown of Sarfaranga
To the depths of Astola
this incessantly flowing gift from the sky
Brings the same tranquilizing joy

How can the zealots of the city know?
Beyond the sharp blades of the swords
and deafening rhetoric of the lords
Lies a world
Which is the voice of Mansoor and Mureed
Which is the rythem of the verse of Lateef
And which is created by the moonlit seeds

For God's sake, do not turn love into a scripture of rain
Let it hover with glee beyond every season
Let it flow without any chain and reason
Let it flaunt its grace with the entire blazon

Love is not just a sorrow
It is a childhood friend of the awaiting beloved
Who, under the blue sky, accompanies her
It is the dialect
Of an ardent poet
Who can sing it without rain
As feelings are not confined to seasons

موسم کی گانٹھیں

خیال رکھنا
کہیں بارش ہوتے ہی
نظم لکھنے نہ بیٹھ جانا
اُداس لحاف میں لپٹ کر
تنہا کافی کی مہک
اور سگریٹ کی گرد بکھیرے
ڈائری میں
غم کے نوحے نہ درج کرنے لگنا

ابر کی توہین ہوتی ہے
وہ روٹھ بھی سکتی ہے
کہ آسماں کا یہ آبِ رواں
سرفررنگا کی بلُندیوں سے
استولا کی اُترائیوں تک
یکساں تاثیرِ دلُربائی لئے آتا ہے

شہرِ بت پرستاں کے
جنون خیزوں کو کیا خبر
اونچے گال اور تلوار کی دھار سے
آگے ہے اک حسِ آشنا
جو مریُد و منصور کی آواز ہے
جو لطیف کے شعر کا ساز ہے
جس نے ماہتاب سے جنم لیا ہے

خُدارا ! عشق کو بارش کا کلام نہ بناو
اسے بے موسم رہنے دو
اسے بے موسم بہنے دو
اسے بے لباس رہنے دو

عشق فقط اُداسی نہیں
یہ ہم جولی ہے
اُس مُنتظر معشوقہ کی
جو نیلے آسماں تلے
اُس کے ہمراہ چلتی ہے
یہ ماں بولی ہے
اُس دیوانے شاعر کی
جو بارش کے بغیر بھی
اسے بول سکتا ہے
کہ جذبے موسم کے مُحتاج تو نہیں-


The Labour Pain

It is creeping into your blood.
It is hammering on your ribs.
It is bursting through your chest.
Are you ready to give birth?

Hush!
Hush!
Hush!

Lies a dark shadow
Between the announcement of death
And the first scream.
Lies death
Between the first scream
And the announcement of birth.

Thud!
Thud!
Thud!

Slam your head against the wall.
‘’Coward! You cannot do it.”
It laughed.
Pay ransom
For every word you ever believed.
Why would you never get tired of surviving
for someone you had never been???

How many more years you could stand it?
How many dreams of fall you could awake from?
“This is how it should be,”
He texted back.

Cut the umbilical cord / tighten the rope.
Where lies the difference?
Or embrace the white liquid silence
The creation of poems
Between you and me.

دردزہ

تُمھارے لہو میں رینگ رہا ہے
تُمھاری پسلیوں کو توڑ رہا ہے
اور تمُھارے سینے کو چیر رہا ہے
کیا تُم جنم دینے کو تیار ہو؟

خاموش
خاموش
خاموش

ایک تاریک سایہ بستا ہے
موت کے اعلان اور پہلی چیخ کے مابین
موت بستی ہے
پہلی چیخ اور زندگی کی نوید کے مابین

دھم
دھم
دھم

اپنا سر دیوار پہ مارو
" بُزدل! تم سے نہ ہوپائے گا"
دیوار ہنسی
خراج دینا ہی ہوگا
ہر اُس لفظ کا جس پہ تُم نے اعتبار کیا
تُم جیتے جیتے بھلا تھک کیوں نہیں جاتے
اک ایسی زندگی جو تُمھاری ہے ہی نہیں
اور کتنے ماہ و سال اسکا سامنا کر پاوگے
کتنے خوابوں میں گرتے ہوئے بیدار ہوگے
" جیسا ہے ، ویسا ہی ٹھیک ہے "
اُس کا پیام آیا

ناف کو کاٹ ڈالو
یا رسیاں تن ڈالو
کیا فرق پڑتا ہے؟
مرمریں سفید خاموشی کا اقرار کرلو
جہاں میرے اور تمھارے درمیاں
نظمیں جنم لئے جاتی ہیں ۔۔


The Legacy

High up on the rugged hills
against the dusky sky
stood two shadows.
They heard an ominous tread.
The woman killed the man and herself.
The hyena, who came to take his share, found nothing
But a wailing child
muffled
under a sheet
of crawing black crows.

مالِ غنیمت

دور کھردری چوٹیوں کے اوپر
مٹیالے آسماں کے پاس
دو سائے کھڑے تھے
کہ انھوں نے
منحوس قدموں کی چاپ سُنی
عورت نے پہلے اُس مرد کو
اور پھر خود کو مار ڈالا
اور وہ بھیڑیا جو اپنا حصہ لینے آیا تھا
اُسے کچھ نہ ملا
بس اک بین کرتا بچہ
جو گھِرا ہوا تھا
اوجھتے کالے کوُوں کے درمیاں۔۔


The Price

From a ship
on high sea
a mariner told,
"To predict her future,an affah
from Egypt would take 450$."
How ridiculous!
Did not he know?
She came from a place
where her father
sold her as a kid
for 450$.

دام

آزاد پانیوں سے آئے
ایک بحری جہاز کے
مُلاح نے اُسے بتلایا
" ایک مصری نجومی
حالِ مستقبل بتانے کا
450$ لے گا "
مضحکہ خیز !
لیکن بے خبر نجومی کو کیا پتا
جس دیار سے وہ آئی ہے
اس کے باپ نے بچپن میں
اُسے وہاں $450 ہی میں تو بیچا تھا۔۔


The Quest

Neither
in the coarse hands
of the labourer woman
carrying heavy bricks
high on her head
Nor
in the smile of the mother
kneading love and care
for her hungry children
Standing alone
in a moorland
she found herself
in the eyes of a girl
who, last night, was stoned to death.

تلاش

بھاری اینٹیں سر پہ اُٹھائے
محنت کش عورت کے
کُھردرے ہاتھوں میں نہیں،
اور نہ ہی
بھوک سے بلکتے بچوں کے لئے
ممتا اور مُحبت گوندھتی
ماں کی مُسکراہٹ میں،
اُس نے خود کو پایا
تو تنہا صحرا میں کھڑے
اُس لڑکی کی آنکھوں میں
جسے کل رات سنگسار کردیا گیا تھا۔




Artwork of John Holcroft

John Holcroft editorial illustrator has been around since 1996 and has worked in a variety of mediums and styles over the years. In 2001 he started working digitally but it wasn’t until 2010 he created his current ‘screen print’ style. John’s past clients worldwide including: BBC, Reader’s Digest, Financial Times, Walker books, The Guardian, The Economist, Haymarket, conde nast, TES, Radio Times, Cathay Pacific, Experian, Informa Plc, New York Times, Honda, Wall Street Journal and many more.




تنقیدی روایت کا آغاز (تحریر: کارل پوپر، ترجمہ: ڈاکٹر ساجد علی)

بیسویں صدی کے مشہور فلسفی کارل پوپر کے آٹھ مضامین کا اردو ترجمہ جلد عکس پبلی کیشنز لاہور سے شائع ہو گا۔ اس مجموعے سے ایک اقتباس لالٹین کے قارئین کے لیے مترجم ڈاکٹر ساجد علی کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے۔ 

انسانی عقل کے بنیادی فرائض میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اس کائنات کو جس میں ہم رہائش پذیر ہیں، ہمارے لیے قابل فہم بنائے۔ یہ سائنس کا وظیفہ ہے۔ اس وظیفے کے دو مختلف اجزائے ترکیبی ہیں جو تقریباً یکساں اہمیت کے حامل ہیں۔
پہلا جز شعری اختراع کا ہے یعنی قصہ گوئی یا اسطور سازی: کائنات کی توجیہہ بیان کرنے والے قصوں کی اختراع۔ ابتداً، یہ (اساطیر) اکثر و بیشتر یا شاید ہمیشہ تعدد الٰہ کو تسلیم کرتی ہیں۔ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ وہ نادیدہ قوتوں کے قبضے میں ہیں، اور ان قوتوں کے متعلق قصے یا کہانیاں گھڑ کر وہ کائنات اور حیات و ممات کو سمجھنے اور اس کی توجیہہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پہلا ترکیبی جز اتنا ہی قدیم ہے جتنا خود انسانی زبان، اور یہ بے حد اہمیت کا حامل اور غالباً آفاقی ہے۔ تمام قبائل اور اقوام میں ایسی توجیہی کہانیاں، بالعموم پریوں کی کہانیوں کی صورت میں، پائی جاتی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ توجیہہ اور توجیہی کہانیوں کی اختراع انسانی زبان کے بنیادی وظائف میں شامل ہے۔

دوسر ا ترکیبی جز، مقابلتاً زیادہ قدیم نہیں۔ یہ خالصتاً یونانی دکھائی دیتا ہے، اور یونان میں تصنیف و تالیف کے رائج ہونے کے بعد وجود میں آیا تھا۔ اس کا آغاز آیونیا کے دوسرے فلسفی انکسیمینڈر سے ہوا۔ یہ دوسرا جز تنقید کی ایجاد ہے، یعنی مختلف توجیہی اساطیر پر تنقیدی بحث کرنا، اور اس کا شعوری مقصد ان کی اصلاح و ترقی ہے۔

بلاشبہ وسیع پیمانے پر توجیہی اسطور سازی کی بڑی مثال ہیسیوڈ کی کتاب دیوتاؤں کا شجرہ (Theogony ) ہے۔ یہ یونانی دیوتاؤں کی پیدائش، ان کے اعمال اور بد اعمالیوں کی داستان ہے۔ کوئی بھی شخص دنیا کی سائنسی توجیہہ کے ارتقا کے ضمن میں دیوتاؤں کا شجرہ کو پیش کرنا، بمشکل ہی پسند کرے گا۔

تاہم میں نے یہ تاریخی قیاس پیش کیا ہے کہ اولین انتقادی کونیاتی فلسفی انکسیمینڈر نے ہیسیوڈ کی دیوتاؤں کا شجرہ کے ایک پیرے کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا، جس کی پیش بینی ہومر کی ایلیڈ میں بھی ملتی ہے۔

میرے اس قیاس کی توجیہ یہ ہے۔ روایت کے مطابق، انکسیمینڈر کے استاد، قرابت دار، اور کونیاتی فلاسفہ کے آیو نیائی مکتب کے بانی، تھیلیز، کی تعلیم یہ تھی کہ "زمین پانی پر قائم ہے جس پر یہ جہاز کی مانند تیر رہی ہے۔" تھیلیز کے شاگرد، عزیز اور پیروکار، انکسیمینڈر نے اس خام قصے سے انحراف کیا (تھیلیز کا مقصد زلزلوں کی توجیہہ بیان کرنا تھا)۔ اس کا نیا نظریہ حقیقی انقلابی کردار کا حامل تھا، کیونکہ اس کا کہنا تھا، "زمین کسی چیز کے سہارے پر قائم نہیں، بلکہ زمین اس وجہ سے ساکن ہے کہ یہ تمام دوسری اشیا سے یکساں فاصلے پر واقع ہے۔ اس کی صورت ڈرم کی طرح ہے۔ ہم اس کی بالائی ہموار سطح پر چلتے پھرتے ہیں جبکہ دوسری سطح مخالف سمت میں واقع ہے۔"

اس جرات مندانہ خیال نے ارسٹار کس اور کوپرنیکس کے تصورات کوممکن بنایا، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ یہ تصور نیوٹن کی (بیان کردہ) قوتوں کی پیش بینی بھی کرتا ہے۔ یہ تصور کس طرح وجود میں آیا؟ میرا قیاس ہے کہ یہ تھیلیز کی اسطور کے خالصتاً منطقی انتقاد سے ظہور پذیر ہوا۔ یہ تنقید بہت سادہ ہے: اگر ہم کائنات میں زمین کے مقام و قیام کے مسئلے کو یہ کہہ کر حل کریں کہ یہ سمندر کے سہارے قائم ہے، جیسا کہ ایک جہاز پانی پر ٹھہرا ہوتا ہے، تو نقاد کے مطابق، کیا ہم ایک اور مسئلہ اٹھانے پر مجبور نہیں ہو جاتے کہ سمندر کس کے سہارے قائم ہے؟ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ سمندر کے لیے بھی کوئی سہارا تلاش کیا جائے، اور پھر اس سہارے کے لیے کوئی اور سہارا۔ ظاہر ہے اس طرح لامتناہی تسلسل لازم آئے گا۔ اس تسلسل کو کس طرح ختم کیا جا سکتا ہے؟

بظاہر ایسا دکھائی دیتا تھا کہ کوئی بھی متبادل توجیہہ اس خوفناک الجھن سے بچنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی تھی، لیکن اس الجھن سے پاک توجیہہ کی تلاش میں، میرا قیاس ہے، انکسیمینڈر کے ذہن میں ہیسیوڈ کا ایک اقتباس ہو گا جس میں وہ ایلیڈ میں پائے جانے والے ایک تصور کو بہتر صورت میں بیان کرتا ہے۔ اس اقتباس میں وہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ طارطارس زمین سے بالکل اتنی ہی گہرائی میں واقع ہے جتنا کہ یورینس یا آسمان اس سے بلندی پر۔

ہیسیوڈ کا اقتباس اس طرح ہے: ”نو دن اور نو راتیں ایک برنجی سندان آسمانوں سے اترے گا اور دسویں روز زمین پر پہنچے گا، اور نو دن اور راتیں ایک برنجی سندان زمین سے گرنا شروع ہو گا اور دسویں دن طارطاس پر پہنچے گا۔“ اس عبارت سے ہی انکسیمینڈر کے ذہن میں یہ بات آئی ہو گی کہ ہم کائنات کا نقشہ اس طرح بنا سکتے ہیں کہ زمین وسط میں ہو اور آسمانی محراب نصف کرے کی مانند اس کے اوپر۔ تناسب کا تقاضا ہے کہ ہم طارطاس کو اس کرے کا نصف زیریں قرار دیں۔ اس طرح ہم انکسیمینڈر کی اس تعبیر تک پہنچ جاتے ہیں جو ہم تک منتقل ہوئی ہے۔ یہ تعبیر لامتناہی تسلسل کے عقدے کوحل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔

میرا خیال ہے کہ اس عظیم الشان اقدام کی ایسی ہی قیاسی توجیہہ کی ضرورت ہے جس کی بناء پر انکسیمینڈر اپنے استاد تھیلیز پر بازی لے گیا۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرا قیاس اس اقدام کو زیادہ قابلِ فہم اور ساتھ ہی ساتھ زیادہ مرعوب کن بھی بنا دیتا ہے کیونکہ اب اسے ایک نہایت مشکل مسئلے کے عقلی حل کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے-یعنی زمین کے قیام و مقام کا مسئلہ۔

تاہم تھیلیز پر انکسیمینڈر کی تنقید اور اس کی ایک نئے قصے کی تنقیدی تشکیل بے ثمر ہی رہتی اگر اس روایت کو جاری نہ رکھا جاتا۔ ہم اس حقیقت کی توجیہہ کس طرح کر سکتے ہیں کہ اس روایت کی پیروی کی گئی تھی؟ تھیلیز کے بعد آنے والی ہرنسل ایک نئی اسطور کیوں وضع کرتی رہی؟ میں نے ایک اور قیاس کی مدد سے اس کی توجیہہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ تھیلیز اور انکسیمینڈر نے مل کر ایک نئی مکتبی روایت- انتقادی روایت- کی داغ بیل ڈالی تھی۔

یونانی عقلیت پسندی اور یونانی انتقادی روایت کو انتقادی دبستان کی حیثیت دینے کی میری کوشش سراسر قیاسی ہے۔ دراصل، یہ بجائے خود ایک نوع کی اسطور ہے۔ تاہم یہ ایک بے نظیر مظہر -آیونیائی دبستان- کی توجیہ بیان کرتی ہے۔ اس دبستان میں چار یا پانچ نسلوں تک ہر نسل نے پچھلی نسل کی تعلیمات پر انتہائی ذہانت سے نظر ثانی کا کام جاری رکھا۔ نتیجتاً اس دبستان نے اس روایت کی بنا ڈالی جسے ہم سائنسی روایت کا نام دے سکتے ہیں: تنقید کی روایت جو پانچ صدیوں تک زندہ رہی، جس نے چند خطرناک یلغاروں کا مقابلہ کیا لیکن بالآخر شکست سے دوچار ہو گئی۔

تنقیدی منہاج تب تشکیل پاتا ہے جب ہم کسی موصولہ حکایت یا توجیہہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور ازاں بعد ایک نئی، بہتر اور زیادہ فکر انگیز حکایت کی جانب پیش قدمی کرتے ہیں، نیز اس نئی حکایت کو بھی تنقید کی سان پر چڑھایا جاتا ہے۔ میرا دعویٰ ہے کہ یہی سائنسی منہاج ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ انسانی تاریخ میں ایک ہی مرتبہ ایجاد ہوا۔ مغرب میں اس کا خاتمہ اس وقت ہوا جب فتح یاب اور متعصب مسیحیت نے ایتھنز میں درسگاہوں کو بند کر دیا، اگرچہ مشرقِ وسطیٰ میں اس کا چلن کچھ عرصے تک باقی رہا۔ قرونِ وسطیٰ کے دوران میں اس پر نوحہ خوانی ہوتی رہی اور نشأۃ ِثانیہ میں اسے دوبارہ ایجاد نہیں کیا گیا بلکہ یونانی فلسفے اور یونانی سائنس کی بازیافت کے ساتھ اسے ایک بار پھر (مشرق سے) درآمد کیا گیا۔

ہمیں دوسرے ترکیبی جز - انتقادی بحث کا منہاج- کی یکتا ئیت کا ادراک مکاتب، خصوصا ً مذہبی اور نیم مذہبی مکاتب، کے قدیمی مسلمہ وظیفے پرغور کرنے سے ہوتا ہے۔ مذہبی مکاتب کا کارِ منصبی مکتب کے بانی کی تعلیمات کو خالص شکل میں محفوظ رکھنا رہا ہے۔ لہٰذا، تعلیمات میں ترامیم شاذ و نادر ہی کی جاتی ہیں اور اکثر و بیشتر ان کا سبب غلطی یا غلط فہمی کو قرار دیا جاتا ہے۔ جب یہ ترامیم شعوری طور پر کی جاتی ہیں تو انھیں بطور قاعدہ چوری چھپے عمل میں لایا جاتا ہے کیونکہ بصورت دیگر ان ترامیم کا نتیجہ نفاق اور فرقہ بندی کی صورت میں نکلتا ہے۔
لیکن آیونیائی دبستان میں ہمارا سامنا ایک نئی مکتبی روایت سے ہوتا ہے جس نے اساتذہ کی تعلیمات کو ہر نئی نسل کے لیے محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ ان سے کھلا انحراف بھی کیا۔

اس بے مثال مظہر کی میری قیاسی توجیہہ یہ ہے کہ بانی مکتب تھیلیز نے اپنے عزیز، شاگرد اور بعدازاں اپنے جانشین، انکسیمینڈر کی حوصلہ افزائی کی کہ کیا وہ زمین کے قیام ومقام کے بارے میں اس کی اپنی پیش کردہ توجیہہ کی بہ نسبت کوئی بہتر توجیہہ پیش کر سکتا ہے۔

ممکن ہے ایسا ہی ہوا ہو، لیکن انتقادی منہاج کی ایجاد ثقافتی تصادم کے اثرات کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ اس کے نتائج بے پناہ اہمیت کے حامل تھے۔ چار پانچ نسلوں کے عرصے میں ہی یونانیوں نے یہ دریافت کر لیا کہ زمین، چاند اور سورج کرے ہیں، یہ کہ چاند زمین کے گرد گھومتا ہے اور ہمیشہ سورج کو ”حسرت“ سے تکتے ہوئے۔ اس بات کی توجیہہ اس مفروضے کی مدد سے کی جاتی تھی کہ وہ روشنی سورج سے مستعار لیتا ہے۔ کچھ مدت بعد ہی انھوں نے یہ مفروضہ بھی پیش کیا کہ زمین گھومتی ہے اور یہ سورج کے گرد گردش کرتی ہے۔ لیکن یہ متاخر مفروضے، جو افلاطونی مکتب اور بالخصوص ارسٹارکس کی جودتِ فکر کا نتیجہ تھے، بہت جلد فراموش کر دیے گئے۔

ان کونیاتی یا ہیئتی تحقیقات پر مستقبل کی سائنس کی بنیاد استوار ہوئی۔ انسانی علم کا آغاز ہماری دنیا کو انتقادی طور پر سمجھنے کی جرات مندانہ اور امید افزا سعی سے ہوا۔ اس دیرینہ خواب کی تکمیل نیوٹن کی صورت میں ہوئی۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ نوع انسانی کو مکمل شعور صرف نیوٹن کے وقت سے حاصل ہوا ہے- یعنی کائنات میں اپنے مقام کا شعور۔

یہ بات ثابت کی جا سکتی ہے کہ یہ اسطور سازی پر تنقیدی بحث کے منہاج کے اطلاق کا نتیجہ ہے: اسطور سازی ہماری ان کوششوں کا نام ہے جو ہم دنیا کو سمجھنے اور اس کی توجیہہ بیان کرنے کی خاطر کرتے ہیں۔"




میرواہ کی راتیں: حجم میں چھوٹا، قوت میں بڑا ناول (اظہر حسین)

اظہر حسین کا یہ مضمون ہندوستانی بلاگ 'موت ڈاٹ کام' پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ اس مضمون کو مصنف کی اجازت سے لالٹین کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ 

کراچی کے معروف قلم کار رفاقت حیات کا یہ اب تک واحد ناول ہے۔ یہ دو ہزار سولہ میں شایع ہوا۔ اشاعت کے برس ہی اس کا پہلا ایڈیشن ختم ہو گیا۔ ناول نے کتاب پرستوں کو حیرت میں مبتلا کیا، کتاب پسندوں کو چونکایا اور عام قاری کو انگشت بدنداں کیا۔ ناقدین ادب نے ناول کو اہم ناول قرار دیا۔ یوں آج بھی یہ ناول، فکشن کے پڑھنے والوں کے بیچ وجہِ گفتگو بنا رہا، اب تک بنا ہوا ہے۔ سوچنے کی بات ہے اس ناول میں ایسا کیا ہے کہ اس کا شمار قابل بحث ناولوں میں ہے؟

۱

کسی کتاب کے اچھا ہونے کے اسباب ڈھونڈنے یا اس پہ دلائل لانے کی شاید زیادہ ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک ناول کے عمدہ اور مستند ہونے کے لیے اس کا خواندنی اور پرلطف ہونا ہی کافی ہوسکتا ہے۔کسی ادب پارے کو خواندنی (readable) بننے یا بنانے کے لیے جو پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں اس کی توضیح صرف و محض ایک مستند فکشن نگارہی کے سامنے کی جاسکتی ہے۔عام قاری یا فکشن کے علاوہ کسی اور صنف ِ ادب کا فرد اس بظاہر سادہ مگر بباطن پیچیدہ نکتے کو سمجھنے سے قاصر رہے گا۔ ایک پختہ کار شاعراسے سہل ممتنع کی مثال سے سمجھ جائے تو اور بات ہے۔سادہ بیانیے اور سطحی تیکنیک کے ناول کو وہی خدشہ لاحق ہوتا ہے جو ایک بظاہر سہل ممتنع میں کہی ہوئی غزل کو: ادھر تخلیق کار یا شاعر معنوی خطوط میں کم گہرا (shallow) یا سطحی ہوا اُدھر اس کا کام عوامی فنون (popular arts) کی کیچڑ میں گرا۔چناں چہ اس پہ لازم آتا ہے کہ وہ سادہ بیانی میں بھی ایسی رچاوٹ اور گہرائی لائے کہ معانی، لامعانی ہوجائیں، مسلمہ غیر مسلمہ دکھنے لگ جائے، سفید، سفید نہ رہے، سیاہ سفید دکھے، اور باقی سارے رنگ بھی قایم و سالم نظر آتے رہیں؛ گڈمڈ بھی اور یکتا و تنہا بھی! ایسی ہنر وری کے لیے فکشن نگار کا کائیاں ہونا ضروری ہے۔ رفاقت حیات ایک کائیاں فکشن نگار ہے اور ”میر واہ کی راتیں“ ایک سہل ممتنع ناول!

۲

میرواہ کی راتیں“ کی ایک بڑی خوبی اس کا پریشان کن (disturbing) ہونا بھی ہے۔ ہر بڑا ناول پریشان کن ہوتا ہے۔پڑھنے والے کے گزشتہ فکشنی علم کے لیے پریشانی کا سامان مہیا کرتا ہے۔ یہ پریشانی فکشنی حقیقت کو کڈھب سے پیش کرکے، متعین حقیقت پر انوکھے سوال اٹھانے سے بھی نمو پاتی ہے اور ان سوالوں کے جوابوں کی تلاش میں خوار ہونے کی لذت سے بھی۔ناول میں اس نوع کے سوالات حلوائی کے نوجوان بیٹے نذیر (مرکزی کردار)کی ذہنی اور جنسی آسودگی و ناآسودگی، اس میں برہنہ بدنی کو دیکھ کر ہیجانی کیفیت کی پیدائش، اندرون سندھ کے ایک گوٹھ میرواہ میں اپنی ادھیڑ چچی کی جانب جنسی رجحان یا نذیر کی شمیم اور خیر النسا کے ساتھ دل لگیوں سے پیدا نہیں ہوتے؛ یہ سوالات کردار نگاری، گردوپیش (setting) اور پس منظر و پیش منظر کے باہمی ربط اور اس ربط سے تشکیل ہونے والی متنی حقیقت کے ہیولے سے پیدا ہوتے ہیں۔یہ ہیولے یا فینتاسیاں نذیر کی شمیم کے ساتھ رات کی سیاہیوں میں ہونے والی ملاقاتوں کے بیانوں میں زیادہ شدت سے محسوس کی جاسکتی ہیں۔ان ملاقاتوں کا احوال اور خوف و تشویش ابھارنے والا بیان گہرے انہماک والے قاری کے لیے انتشار (disturbance) کا خاصا سامان رکھتا ہے۔اسی سامان کے اندر راحت اور طمانیت کی دیویاں بھی چھپی بیٹھی ہوتی ہیں، جن کا معروف نام جمالیات ہے۔

۳

”میر واہ کی راتیں“ موضوع اور طرز نگارش کے اعتبارات سے دلچسپ اور لطف کا حامل ہے۔ لطف خیزی کا یہ چشمہ ناول کے ابتدائی صفحوں ہی سے پھوٹنے لگتا ہے۔نوجوان نذیر اپنے چچا کے گھر کے ایک کمرے میں تنہا اپنی سوچوں سے لڑ رہا ہے جب کہ ملحقہ کمرے میں اس کے چچا چچی اپنے تعلق خاص کے دوران پُر سرورآوازیں پیدا کرکے اس کے جذبات کو انگیخت کرنے کا سبب ہیں۔نذیر کا سوچوں کے ساتھ لڑائی کی وجہ اس کا آنے والی رات کی مہم جوئی کے لیے خود کو ذہناََ تیار کرنا ہے۔ وہ مہم جوئی کیا ہے؟ نذیر کا اپنی چچی کے ساتھ کیسا تعلق ہے؟ چچی کے دل میں بھتیجے کے لیے کیسے جذبات سر اٹھائے ہوے، یا اٹھا سکتے ہیں؟ قاری کے ذہن میں کلبلانے والے یہ سارے سوالات اپنی مقصدیت میں جوابات ہیں۔ کیوں کہ چاہے ایسے سوالات کے جوابات تاحال لاموجود ہیں،یہ اپنی فطرت اور مزاج میں جمالیاتی حظ وافر سے زیادہ رکھتے ہیں۔براں مزید،جہاں مرکزی کردار کا اضطراب کئی طرح کے معانی پیدا کرتا ہے، وہیں نذیر کی مہم جوئی کا سنسنی خیز بیان قاری کو تجسس اور حیرت سے ہم کنار بھی رکھتا ہے۔ تجسس سے ہم کناری ناول کے آخیرلے صفحے تک جائے گی!

۴

ناول کی تفہیم میں ایک قدم اور آگے جانے کے لیے اسی ناول کے مصنف کی تنقیدی بصیرت والی گلی سے گزرنا ایسا بے فائدہ بھی نہیں ہوتا۔چناں چہ جب ہم رفاقت حیات کے کسی دوسرے ناول پہ کیے گئے تبصرے کی روشنی میں اس کے اپنے ناول میں جھانکتے ہیں تو اور ہی طرح کی تفہیم ہوتی ہے۔ کراچی ریویو شمارہ۳ میں ”بھید“ کا تجزیہ کرتے ہوے ہمارا ناول نگار لکھتا ہے:
”۔۔میری ناقص رائے میں زبا ن دنیا کی سب سے زیادہ پامال اور آلودو شے ہے۔ دنیا بھر کے صنعتی اور کیمیائی فضلے سے کہیں زیاد ہ آلودہ شے، اور شاید آسمانوں سے اترنے والے صحیفے اس کی اسی آلودگی اور کثافت کو کم کرنے کی ایک بر تر کوشش قرار دیے جاسکتے ہیں۔ ایک فکشن لکھنے والا بھی اپنے تئیں یہی کوشش کرتا ہے۔ وہ اس پامال اور غلاظت میں لتھڑی چیز کو بلند ی اور ترفع عطا کرنے کے لیے اپنے سے جتن کرتا ہے۔۔“ اور ”۔۔۔ہر انسان اپنی زندگی کا کوئی نہ کوئی ایسا بھید ساتھ لیے پھرتا ہے جس اس کے چہرے مہرے اس کے حلیے اور اس کی حرکات و سکنات سے آشکار نہیں ہوتا۔ وہ بھید اس کے دل یا اس کی روح میں بند ہوتا ہے۔“

ان دونوں تنقید پاروں کو سامنے رکھ کر ”میرواہ کی راتیں“ کی زبان، زبان کے دم خم سے پیدا کیے جانے والے مضبوط بیانیے اور بیانیے کے جادو سے وجود پذیر ہونے والے تمام ناولائی عناصر پہ توجہ کریں تو معلوم دیتا ہے کہ ناول نگار نظری اور عملی، ہر دوصورتوں میں ناول نگاری کو موضوع کے ساتھ ساتھ، زبان، اسلوب اور ہئیت کی طاقتوں اور توانائیوں سے بننے پر یقین رکھتا ہے۔ وہ، کرداروں کی زندگیوں کے بھیدوں کو بظاہر راست مگر فی الاصل تہ داربیانیے سے متشکل کرتا ہے۔ داستانی طرز میں خارجی واقعات سے نئے واقعات کا ظہور کرتے جانے کے بجائے، کہانی کا بہاو کرداروں کے اندر سے باہر کی اور رہتاہے؛ ایک ایسا طرز جو ریاضت طلب ہے۔

۵

فکشن کے تجزیے کا آخری اور حتمی نتیجہ ابد سے لاموجود رہا ہے۔ ایک نکتہ سارے نکتوں کا خدا ہوتا ہے: فلاں کتاب اپنے کو پڑھواتی ہے اور آخری سطر تک۔”میر واہ کی راتیں“ پر ایسا مبالغہ، مبالغہ نہیں سنائی دیتا۔ راقم کو اس ناول نے لطف و حظ بھی دیا ہے اور خیالات کے نئے پن کا مقدس اور روحانی احساس بھی۔ یہ احساس قوت ہے، اور یہ ناول اس قوت میں یکتا ہے۔ یہ یکتائی اسے ناولا ہونے کے باوجود طاقت ور ناول کے مرتبے پہ فائز کرتی ہے۔
باقی جانے لارنس سٹرن!




خواب دان(مدثر عباس)

 

ہاں تو میں تمہیں بتا رہا تھا کہ میری زندگی میں بہت بار ایسے ہوا ہے کہ میں حقیقت اور خواب کے درمیان فرق نہ کر سکا۔ ایک بار میں نے خواب دیکھا کہ میں مر چکا ہوں مجھے لوگوں کے رونے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ میں نے مزید غور کیا تو چند لوگوں کی سرگوشیاں تک مجھے سمجھ آنے لگیں میرا ایک دوست کہہ رہا تھا کہ بہت برا ہوا اس کی موت ہو گئی یہ تو ایک کہانی مکمل کر رہا تھا ایسی کہانی جس کو لکھنے کا خواب اس نے تمام عمر دیکھا مگر موت نے مہلت نہ دی اور کہانی نامکمل رہ گئی۔۔۔ کہاں ہے وہ کہانی ہم اس کہانی کو خود ہی مکمل کر لیتے ہیں۔۔۔ لیکن ہم اس کہانی کو کیسے مکمل کریں گے؟ شاید یہ اسی کہانی کی وجہ سے مر گیا ہو۔۔۔۔ ہاں ہو سکتا ہے ہمیں یہ کہانی مکمل نہیں کرنی چاہیے۔۔۔
پھر مجھے اچانک خیال آیا کہ اگر میں مر چکا ہوں تو ان لوگوں کی آوازیں کیسے سن پا رہا ہوں؟ اب دیکھو نا مردے نہ تو بولتے ہیں اور نہ ہی سن سکتے ہیں۔ مجھے لگا میں یقیناً خواب کی حالت میں ہوں جو ایسے عجیب و غریب واقعات رونما ہو رہے ہیں مگر مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ میں کونسی کہانی لکھ رہا تھا؟ انہیں کیسے معلوم ہوا کہ میں کوئی کہانی لکھ رہا تھا جسے مکمل نہیں کر پایا۔ خیر خواب میں کچھ بھی ہو سکتا ہے آدمی کسی بھی واقعے کو رونما ہوتا ہوا دیکھ سکتا ہے۔۔ تم خوابوں کے بارے میں کچھ جانتے ہو؟ تم جب سے آئے ہو خاموش بیٹھے ہو بولتے کیوں نہیں؟ مسکراؤ مت میری بات کا جواب دو۔۔۔ اچھا چلو میں اپنی بات مکمل کرتا ہوں پھر تم مجھے اپنے بارے میں بتانا۔۔۔ ایک بار ایسا ہوا کہ میں کئی دن سو نہیں سکا۔۔ میں نے نیند کی گولیاں بھی لیں مگر مجھے نیند نہیں آئی۔۔۔ یہ سلسلہ کچھ روز تک چلتا رہا ایک دن بستر پر لیٹے ہوئے مجھے خیال آیا کہ ایسا ممکن نہیں ہے کہ انسان نہ سوئے اور مرنے سے بچ جائے اگر کچھ دن اور مجھے نیند نہ آئی تو میں مر جاؤں گا۔۔ مجھے لگا شاید میں کسی خواب میں یہ سب کچھ ہوتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔۔۔ اسی خیال میں میری آنکھ لگ گئی اور خواب میں وہی ہوا جو میں تمہیں پہلے بتا چکا ہوں۔۔۔
"تم کس سے باتیں کر رہے ہو؟"
میرے سامنے بیٹھا ہوا شخص تمہیں نظر نہیں آتا؟
"مگر تمہارے سامنے تو کوئی شخص نہیں ہے"
شاید کمرے کے دوسرے حصے میں روشنی کم ہے اس لئے تمہیں یہ شخص دکھائی نہیں دے رہا یہاں سے آ کر دیکھو وہ سامنے شخص بیٹھا ہوا ہے وہ صرف مسکراتا ہے مگر کسی سے بات نہیں کرتا
"اب تم دن میں کھلی آنکھوں سے خواب دیکھنے لگ گئے ہو کمرے میں میرے اور تمہارے علاؤہ کوئی نہیں ہے"
۔۔۔ تم اس شخص سے بحث مت کرو اسے میں کبھی نظر نہیں آؤں گا۔۔۔۔
کیوں۔۔ کیوں نہیں۔۔ تم اسے نظر کیوں نہیں آؤ گے؟
"تم پاگلوں کی طرح کس سے بات کر رہے ہو"
نہیں ایسا نہیں ہو سکتا اس کمرے میں وہ دیکھو میرے سامنے ایک شخص بیٹھا ہوا۔۔۔ جاؤ اس کرسی کے قریب جاؤ
۔۔۔ میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ اسے میں کبھی نظر نہیں آؤں گا۔۔۔
مگر کیوں ؟ مگر کیوں تم اسے نظر نہیں آؤ گے؟
۔۔۔۔ کیونکہ یہ شخص خواب دیکھ رہا ہے اور میں اس کے خواب میں مر چکا ہوں۔۔۔
(چلاتے ہوئے) کیا مطلب ہے تمہارا اگر یہ شخص خواب دیکھ رہا ہے تو میں اسے کیسے نظر آ رہا ہوں کیا تم یہ تو نہیں کہنا چاہ رہے کہ میں ابھی تک اس کے خواب میں زندہ ہوں؟
۔۔۔ نہیں، تم صرف میرے خواب میں زندہ ہوں۔۔۔۔