خاموش ستارہ اور درد کی گرہ

نوجوان ایرانی شاعرہ پرنیا عباسی جب ١٣ جون کو تہران پر اسرائیلی حملے کے دوران گھر میں سوتی ہوئی ماری گئی تو اس کی عمر ابھی ٢۴ سال سے دس دن کم تھی۔ پرنیا بین‌الاقوامی یونیورسٹی قزوین سے فنِ ترجمہ میں فارغ‌التحصیل، انگریزی کی معلم اور ایران کے قومی بینک میں کام کرتی تھی۔ شہری آبادی پر اس حملے میں پرنیا کے والدین اور اس کا بھائی پرہام بھی مارے گئے۔ ایرانی بُک نیوز ایجنسی ایبنا نے اس سانحے پر لکھا ہے:

اَسی‌ویں دہائی کی شاعر لڑکی پرنیا عباسی، رات کو سوئی مگر صبح کو جاگ نہیں پائی۔ رات کے قلب میں، جب وہ نہتی سو رہی تھی، اُس رژیم کے میزائل، کہ جس کے نام پر جرم اور ظلم کی گرہ لگی ہے، اس پر آن گرے، اس کی جان لے لی اور اس کا گھر اجاڑ دیا۔ وہ نہ ہی میدان کی سپاہی تھی، اور نہ ہی سیاسی غلغلوں کی ایک بلند آواز؛ وہ ایک جوان لڑکی تھی جس کا دل شاعری اور آنکھیں روشنی سے بھری تھیں؛ اور شاید دشمن کے لیے یہی کافی تھا؛ کیونکہ وہ خوب جانتا ہے کہ لفظ، کبھی کبھار وہ کام کر جاتے ہیں جو گولی نہیں کر پاتی۔

زیرِ نظر نظمیں پرنیا عباسی کی دو فارسی نظموں "ستارۂ خاموش" اور "گرہے از درد" کا اردو ترجمہ ہیں۔ یہ نظمیں تہران سے شائع ہونے والے ادبی جریدے "وزنِ دنیا" میں شائع ہوئیں۔

خاموش ستارہ

میں نے اپنے
اور تیرے،
دونوں کے لیے آنسو بہائے
تو میرے آنسوؤں کے ستاروں کو
اپنے آسمان پہ بجھائے جاتا ہے
تیری دنیا سے
روشنی پھوٹتی ہے
میری دنیا میں
سایوں کا کھیل ہوتا ہے
جس جگہ
تیرا اور میرا انت ہوتا ہے
دنیا کا خوبصورت ترین شعر بھی
گونگا ہو رہتا ہے
جہاں پہ
تو شروع ہوتا ہے
تو زندگی کی سرگوشی
کو چیخ کر سناتا ہے
ہزار جگہوں پر۔۔۔
میرا انت ہو جاتا ہے
میں جل کر
ایک خاموش ستارہ ہو جاتی ہوں
جو بن جاتا ہے
تیرے آسمان کا دھواں

 

 

درد کی گرہ

میں بائیں کاندھے کی عقبی ہڈی میں
درد کی ایک گرہ کے ساتھ جیتی ہوں
جب تو مجھ سے
آنکھیں موند لیتا ہے،
اور شکست کی بلندیوں کو
میری آنکھوں سے اونچا کر لیتا ہے
تو تیرے بالوں کی سفیدی
میرے سر کو لال کر دیتی ہے

میں بائیں کاندھے کی عقبی ہڈی میں
درد کی ایک اندھی گرہ کے ساتھ
سانس لیتی ہوں
اور تیرے درد کی سفید گرہیں
میرے گلے میں ٹوٹنے لگتی ہیں
تو آرام کرتا ہے
اور میرا کاندھا
ہر روز پہلے سے ذرا بڑھ کر
چلے جانے کی سمت میں
جھکنے لگتا ہے




ریسکیو آپریشن اور دیگر نظمیں

ریسکیو آپریشن

ماں سے ڈانٹ پڑی کہ ٹھیک سے دانہ دنکو ، اس پر ان کو، اوپر ڈیڈی اور نیچے ہوسٹل وارڈن باگڑ بلے کی آنکھوں کے مشترکہ تاروں کو، شوخی سوجھی

پاس ہی کوریڈور میں اک روشن دروازہ کھلا پڑا تھا ، پٹ سے ٹکرائے، پر مڑے نہیں، دونوں بھائی کمرے میں در آئے

پھر کیا تھا، اٹھکیلیاں کرتے کرتے چھوٹے میاں کے شہپر پنکھے سے جا ٹکرائے اور میں نے سر تھام لیا

عامر نے زخمی کو میدانِ امن سے جمع کیا اور اپنے طائر ڈاکٹر محراب حسین سے مل کر اجنبی در انداز کی جان بچا لینے کا طمع کیا

ان دو ٹین ایجر سرد و گرم چشیدہ زمانے بھر کے سنجیدہ نرسوں نے مسکرا مسکرا کر ٹنکچر آیوڈین لگا کر غازی کو اس کی رجمنٹ تک واپس پہنچایا

تھوڑی دیر میں ڈارون کی بچی وہ فیملی اپنے زخمی ممبر کو چک کے باہر پھینک چکی تھی، مصطفی کمال مہارت سے اسے ترکی بہ ترکی سمیٹ ہی لایا

لکی کبوتر! شکر کر ہم نے نہیں پھینکا تھا ہمدردی سے پُر فکشن اور محبت میں گم شاعری کی بکس کا خالی ڈبہ!

جس کی دیواروں میں چاروں طرف تیری معصوم آنکھوں سے ملتے جلتے گول مٹول دریچے کھلے پڑے ہیں

لکی کبوتر! میرے سینے میرے یثرب میرے مدینے میں بھی تیرے پنجرے جیسا اندھیرا ہے

اور اک گھائل پنچھی تیری مثال سے حوصلہ پا کر دھڑکن دھڑکن صبح کی جانب بھاگ رہا ہے

"یہ چار چھے پل"

یہ چار چھے لفظ، اور سورج
ساتھ لے آئیں گے نظم، اور آگ
یہ دو تین لائنیں، اور ہوا
ساتھ لے آئیں گی نظم، اور پانی

شاعر کے پاس ہے
غزل کا پیمانہ ، جتنا بھر جائے
عشرے کا گھڑا، جتنا خالی رہ جائے

شاعر جو سب رنگوں کی مٹی
کا بنا ہے
شاعر جسے ستر ماؤں نے مل کے جنا ہے

شاعر کی مرضی

(منظر اعجاز منظر کی ایک نظم کے عنوان کے سحر میں)

عشرہ // جنگی قیدی

ابو ابو جنگی قیدی کیا ہوتے ہیں

بیٹا جنگ میں قید کئے جانے والوں کو
جنگی قیدی کہتے ہیں
میں کہتا ہوں

ایک دن ہم بھی
دشمن کی فوجوں سے
لڑائی ہار گئے تھے

تب سے اب تک ہم بھی جنگی قیدی ہیں

پچیس کروڑ جنگی قیدی!
جن پہ جنیوا کنوینشن لاگو نہیں ہوتا

اتواریہ // ہولو کاسٹ اور چھٹی کمانڈمنٹ

1.
ہولو کاسٹ! ایسا کچھ نہیں ہوا
وہ محض ایک ڈراؤنا خواب تھا

اگر ایسا کچھ ہوا ہوتا
کل کے مصنوعی مظلوم
آج کے حقیقی ظالم نہ ہوتے

کل کے حقیقی ظالم
فرضی احساسِ گناہ کے مارے
آج کے حقیقی ظالم کو جپھیاں نہ ڈالتے

مگر ہولو کاسٹ؟ ایسا کچھ نہیں ہو رہا
یہ محض ایک ڈراؤنا خواب ہے

2.
سنا ہے پتھروں پر کندہ تھے
دس کے دس احکاماتِ ربانی

"اور تم قتل نہیں کرو گے!"
چھٹی کمانڈمنٹ
پتھر کی بجائے
موم کی لکیر نکلی

سانپ لکیر پیٹتے رہے
موم کی لکیر
خون کا دریا بن گئی
کیا سانپ خون میں تیر لیں گے؟

3.
ہولو کاسٹ! اگر ایسا کچھا ہوا ہوتا
تو اس پر سوال اٹھانا جرم نہ ہوتا
وہ جن کا یہ سب کیا دھرا تھا
ان انسان دوست ریاستوں میں
تم قرآن وغیرہ جلا سکتے ہو
تم خاکے وغیرہ چھاپ سکتے ہو
ہولو کاسٹ پر انگلی نہیں! یہ ہماری ریڈ لائن ہے! ورنہ۔۔
اس نے انگلی اٹھائی اس نے بازو پھیلایا اس نے مکا لہرایا
۔۔جانوروں کے انسانی حقوق پر جان دینے والے جان لے سکتے ہیں
گدھ نے ادھوری لاش کے سینے پر پنجوں سے V کا سائن بنایا

4.

لڑائی تو عہد نامہء قدیم
اور جدید کے درمیان تھی
بیچ میں قرآن کیسے آ گیا

اے عیسی کی بھیڑو
اے موسیٰ کے بچھڑو

تم جس کا انکار کرتے آئے ہو
تمہارے نبیوں کو اس کے ساتھ ماننے والے ، ہم
کب تک تمہارے سیاہ اعمال نامے سرخ لہو سے دھوتے رہیں
کب تک تمہارے ایک دوسرے پر واجب قصاص چکاتے رہیں
کب تک تمہارے ٹریڈ ڈیفیسٹ اپنی جانوں سے بھرتے رہیں

5.
ازلی گناہ پر
جھوٹ موٹ لرزاں
عیسیٰ کی بھیڑیں

چھٹی کمانڈمنٹ
کے پرخچے اڑاتے
موسٰی کے بھیڑیے

سچ سچ بتا
تُو کس کی طرف
سے کھیل رہا تھا
اے محمد (ص) کے خدا

6.
وہ جن کے مرد غلام عورتیں لونڈیاں بنا لی جاتیں
وہ جن کی نرینہ اولادیں موت کے گھاٹ اتار دی جاتیں
وہ مظلوم جو بچ کے بھاگ نکلے
وہ جن کا ظالموں نےبپیچھا کیا
وہ جن کو دریا نے رستہ دیا ۔۔۔۔ وہ کون تھے؟

بنی اسرائیل کو بنی فرعون سے الگ کرنے میں
کیا دریا نے غلطی کی؟

کیا عصا نے غلطی کی؟

کیا خدا نے غلطی کی؟

یا صرف ہم نے جو آلِ ابراہیم پرپنجگانہ درود بھیجتے رہے!

7.
یوروپا جانے
جس نے تمہیں قتل کیا
یا نہیں کیا

یوروپا جانے
جس نے تمہیں بے دخل کیا
یا نہیں کیا

امیریکا جانے جس نے تمہیں روپیا دیا
اور تم نے ہمیں بے دخل کیا
امیریکا جانے جس نے تمہیں اسلحہ دیا
اور تم نے ہمیں قتل کیا

8.
یہ کہ تم مسلط کر دیے گئے
ہماری دھرتی پر ہمارے آکاش پر
یہ کہ تم نے نکال باہر کیا ہمیں
ہمارے آبائی گھروں سے

یہ کہ تم نے جلا کے راکھ کر دیے
ہمارے باغ ہمارے کھیت کھلیان
یہ کہ تم نے اڑا کے خاک کر دیے
ہمارے سکول ہسپتال مکان دکان

ہم تمہارے احسانات کا بدلہ کیسے چکا سکتے ہیں
جے ہو تمہاری اے بنی اس را ایل اے بنی فر عو ن

9.
یہ کہ تم نے بارود بھری مترنم لوریاں دیں
خود کش معذوروں کو، دہشت گرد شیر خواروں کو
یہ کہ تم نے طاقتور بموں کے انجیکشن لگائے
بوڑھوں اور بچوں اور زخمیوں اور بیماروں کو
یہ کہ تم نے ریپ کیا گھروں کے ملبے پر حاملہ عورتوں کو
یہ کہ تم نے چن چن کر مارا ، ایک ایک کر کے سب کو
یہ کہ تم نے بالوں سے پکڑ کر گلیوں میں گھسیٹا
اور گالی نکال کے گولی مار دی ۔۔ کسی کو بھی!

یہ تو کچھ بھی نہیں
یہ تو کچھ بھی نہیں

10۔
اس کی گڑیا کے بال
گریپ فروٹ رنگے تھے
اسریٰ کے اپنے گالوں کی طرح

چھوٹے بھیا سے یکسر مختلف
وہ تو پکے ہوے انار سا رس رہا ہے

آڑو، خوبانی، آم، پستہ، اخروٹ، بادام
فرش پر اسریٰ کے ہمجولی کھِلرے پڑے ییں

انہیں چاہئیے خوب اچھی طرح پیک کریں
اسریٰ لوگوں کو آئس کریم فریزر میں رکھنے سے پہلے
سٹرابری جوس کہیں رستے میں نہ بہنے لگے

ع // کامی اور اس کے ہمسائے

سکول رجسٹر میں اس کا نام کامران بعد میں درج ہوتا

ہم، جولی لوگ، اسے پہلے ہی کامی کہہ کر بلانے لگے

لیڈی برڈ کی جنس کا انکشاف طبی معائنے کے دوران ہوا

جب یہ پتا چلا کہ اس کے کاغذ اور بائیں پیر کے پور پورے نہیں

سلطنتِ انسان دادِ کمرہ میں کامران عرف کامی کو تب سے حاصل ہے

ایک غیر قانونی ریفیوجی کا منفرد، متاثر کن اور مشکوک اسٹیٹس

ہفتہ بھر بند پنجرے میں رکھ کر اسے چھوڑ دیا گیا

کھلے پنجرے میں، اس کا استقبال ایک عجیب الخلقت جانور نے کیا

آج کل نئے سرے سے پر پھڑپھڑانا سیکھ رہا ہے، سیکھ رہی ہے

وہ مجھ سے

میں اس سے




دل ہی تو ہے

اردو شعر و ادب میں "دل" ایک ہمہ گیر استعارہ ھے۔ جسم کے اس عضوِ رئیس کو عہدِ قدیم سے وہم و خیال کا منبع و ماخذ اور جذبات و احساسات کا مرکز و محور سمجھا جاتا ھے۔ ہم سب نے یہ جملہ بھی سن رکھا ھے "میرے ذہن میں ایک خیال آیا ہے۔" لیکن اس سے کہیں زیادہ ہمیں یہ سننے پڑھنے کو ملتا ہے "میرے دل میں ایک خیال آیا۔" اسی طرح "میرا دل پریشان ہے، یہ بات میرے دل کو نہیں لگی، فلاں دل کا صاف ہے، اس کے دل میں وسوسہ پیدا ہوا" جیسے درجنوں فقرے ہمیں اس بات پر قائل کرتے نظر آتے ہیں کہ ناصرف خیالات و جذبات بلکہ نیت، کردار ، ارادہ، پریشانی، دکھ اور کئی مزید انسانی اوصاف و کیفیات دل سے وابستہ ہیں۔

ہر چند میڈیکل سائنس نے بتا رکھا ہے ان سب خیالات و کیفیات کا مسکن ہمارا ذہن ہے۔ ذہن ہمارے عصبی نظام کا ہیڈکوارٹر ہے جو جملہ افعال بدن کو کنٹرول کرتا ہے۔ دل کے پاس تو معدودے چند عصبی خلیات ہی ہیں جو محض دل کی سرگرمیاں کنٹرول کرتے ہیں۔ دھڑکن کی رفتار بڑھانے یا کم کرنے کے احکام قلب کے عصبی خلیات کو دماغ ہی سے موصول ہوتے ہیں جہاں ہماری جملہ بدنی سرگرمیوں اور ضروریات کا ادراک و احساس پایا جاتا ہے۔ یہ جو خوف، تجسس یا خوشی کے عالم میں ہمارا دل تیزی سے دھڑک اٹھتا ہے (یا ورزش کے ہنگام بھی) تو اس کا سبب یہی ہے کہ خوف، تجسس وغیرہ کا ادراک کر کے ذہن دل کو تیز دھڑکنے کا حکم جاری کرتا ہے تاکہ بدن کو خون کی ترسیل (نتیجتاً توانائی) بڑھ سکے جو آنے والے ممکنہ خطرے میں کام آئے۔

یہیں سے لوگوں نے سمجھا کہ شاید سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دل میں پائی جاتی ہے۔

لیکن صاحب، سائنسی انکشافات و اکتشافات کی اپنی دنیا ہے اور زبان و شعر وادب کا اپنا ہی عالم۔ زبان کے قدیمی اظہارات بھلا جمعہ جمعہ آٹھ دن کی سائنسی دریافتوں سے بدل سکتے ہیں! ہرگز نہیں جناب۔

سائنس کچھ بھی کہہ لے، ہمارا محبوب دل میں ہی بسے گا، ذہن میں نہیں۔ محبت کا مرکز دل ہی ہے۔ دل لینا، دل دینا یونہی رہیں گے۔ محبوب سے ملاقات کے لیے کوئے ملامت کو جانے پر دل ہی اکسائے گا وہ بھی پندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے۔ محبوب دلبر و دلدار کہلاتا رہے گا۔ اس کی جدائی میں دل بھر آئے گا اور اس کی جفا پر ہم دل گرفتہ ہوں گے نہ کہ ذہن گرفتہ یا دماغ گرفتہ۔ دراصل زبان کے بہت گہرے اور قدیم روابط تہذیب و ثقافت اور فکریات سے ہوتے ہیں۔ جب پیار محبت سمیت سبھی جذبات و احساسات کا مسکن دل ہی کو مانا گیا ہے تو ایسا ہی چلے گا۔ دوسری جانب عقل، خرد، دانش اور تفکر کو ذہن سے منسوب تو کیا گیا لیکن تفوق دل کو حاصل رہا جو عشق کا مسکن ہے اور عقل تو ابھی لب بام، محو تماشا ہے۔ ایسے میں یہ بالکل اہم نہیں رہ جاتا کہ دیگر اعضائے جسمانی کی طرح دل بھی ایک عضو ہے جس کا کام خون کو دھکا دینا ہے۔

ویسے بھی تو گھروں میں اب برقی الات سے روشنی ہوتی ہے لیکن شاعری میں اور مزاروں پر چراغ ہی جلتے ہیں۔ سامانِ حرب میں سے تیر و تلوار نکل چکے لیکن غزلوں میں موجود۔ اب بھلا بندوق، پستول، توپ، بم غزل میں اچھے لگیں گے!

تو صاحبو، زمانہ چاہے قیامت کی چال چل جائے، زبانیں اپنی چال چلتی ہیں۔

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں

روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں

مجھے نہیں لگتا کہ کسی بھی زبان کی شاعری دل کے ذکر سے خالی ہو گی۔

دل بدست آرد کہ حج اکبر است۔

از دل خیزد بر دل ریزد

دل دریا سمندروں ڈونگھے کون دلاں دیاں جانے ہو

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سوال: جدید حسیت، جدیدیت، مابعد جدیدیت، ساختیات و پس ساختیات اور ساخت شکنی کے ذکر اذکار میں کیا کہیں یہ امکان موجود ہے کہ زبان کامل سائنسی منہاج پر قائم ہو جائے اور جدید سائنسی اکتشافات کی روشنی میں زبانوں میں پائے جانے والے خلافِ عقل و حقیقت محاورات و استعارات متروک ہو جائیں یا پھر ایسا نہیں ہو گا؟




آندھی

ایسی منہ زور آندھی اس شہر نے شاید ہی پہلے کبھی دیکھی ہو۔ صبح آسمان پہ ادھر ادھر کالے بادل ضرور تھے اور یہ توقع بھی کہ وہ دن میں وقفے وقفے سے برسیں گے بھی لیکن جیسا کہ یہاں مارچ کے دنوں میں ہوتا ہے، یہ برسات معمولی درجے کی ہی رہنے کی توقع تھی۔ گذشتہ دو تین دن میں وقفے وقفے سے آندھی کے دور چل رہے تھے۔ لیکن آج صبح تمام اطراف میں دھول بیٹھ گئی تھی اور آندھی چلنے کے کوئی خاص آثار نہیں تھے۔ دن گیارہ بجے یکدم سوئی ہوئی دھول جاگ اٹھی اور پھر وہ ایسی منہ زور ہو چلی کہ راستوں پہ چلنے والے رک گئے کہ اس منہ زور آندھی کے آگے ٹھہرنا ناممکن تھا۔ آندھی قریب آدھا گھنٹہ چلتی رہی۔ اور اسی آندھی میں رکے ہوئے لوگوں میں ایک، نودان یہ سوچ رہا تھا کہ یہ آندھی بھی اس شہر ہی کی ہم مزاج ہے۔ شہر کا کچھ پتہ چلتا ہے نہ اس کے موسم کا۔ یہاں سب کچھ نا گہاں ہوتا تھا۔

نودان ناشتہ کر کے گھر سے قریب گیارہ بجے نکلا۔ اسے ایک جنازے میں شریک ہونا تھا۔ جنازے کا وقت ساڑھے بارہ کا تھا۔ اس نے موسم دیکھا تو اسے دلکش محسوس ہوا اور اس نے ذہن ہی ذہن میں موٹر سائکل کو تکلیف نہ دینے کا فیصلہ کیا۔ سوچا پیدل ہی چل نکلا جائے۔ وہ چل نکلا۔ فاصلہ قریب ایک گھنٹے کا تھا۔ عین درمیان ہی اسے اس آندھی نے آ لیا اور وہ ایک دیوار کی اوٹ لے کر کھڑا ہو گیا تاکہ جس حد تک ہو سکے خود کو اس کے شر سے بچا سکے۔ پھر بھی جب دھول اس رفتار سے اڑ رہی ہو تو کتنا بچا جا سکتا ہے۔ اس کے کپڑے، چہرہ، بال سب غبار میں اٹ گئے۔ وہ آندھی رکنے تک وہیں کھڑا رہا اور باوجود اس بات کی جانکاری کے، کہ یہاں موسم بے حد بے اعتبار ہے حیران ہوتا رہا کہ اس نے اپنی تیس برس کی زندگی میں ایسی آندھی نہیں دیکھی تھی۔

جس دیوار کی اوٹ لیے وہ کھڑا تھا، وہیں ایک اور شخص بھی آ کے کھڑا ہو گیا۔ وہ شخص دیکھنے میں بالکل معمول کا آدمی تھا بالکل غیر دلچسپ اور غیر عجیب۔ آندھی اتنی تھی کہ آنکھیں کھولنا دشوار تھا مگر پھر بھی نودان نے اس کا جائزہ لے ہی لیا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس دوسرے آدمی سے کسی طرح کی بات چیت شروع ہو سکے تاکہ اس کا دھیان اس آندھی سے ہٹ جائے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ اب اسے یہ آندھی کچھ خوف زدہ کرنے لگی تھی۔
ادھر وہ شخص کوئی دس منٹ بالکل خاموش کھڑا رہا۔ اس کا چہرہ بالکل بے تاثر تھا۔ جب نودان کو اس کی طرف سے بات کرنے کی کوئی توقع نہ رہی تو وہ اچانک خود کلامی کے سے انداز میں بولا:

"اس شہر نے پچھے چالیس برس سے ایسی خطرناک آندھی نہیں دیکھی۔ وہ نسل شاید اب قبروں میں بھی نہ بچی ہو جس نے آخری بار یہ خدائی قہر اترتا دیکھا تھا۔ دس برس کا ایک بچہ اپنے گھر کی کھڑکی سے درختوں کو جڑوں سے اکھڑتا دیکھ رہا تھا۔ درخت اکھڑتے گئے یہاں تک کہ تا حد نظر کوئی درخت نہ بچا۔ پھر اس شہر نے وہ درخت دوبارہ کبھی نہیں دیکھے ۔۔۔"

نودان اس کے اس اچانک کلام سے بھونچکا سا رہ گیا۔ جو آدمی شروع میں اسے بے حد غیر عجیب لگا تھا اب وہ اسے بہت زیادہ عجیب لگنے لگا۔

نودان نے پوچھا:

"چاچا کب کی بات کر رہے ہو اور درخت تو اب بھی شہر میں جا بجا ہیں ، تم کہتے ہو پھر شہر نے وہ درخت نہیں دیکھے۔۔۔"

اس آدمی نے جیسے مہران کو سنا ہی نہ ہو، وہ اپنے ہی دھیان کی گلیوں میں بھٹک رہا تھا۔ وہ پھر سے خود کلامی کے انداز میں بولنے لگا:

"ایسی ہی آندھی تھی، جس نے رستوں پہ چلنے والوں کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ رک جائیں۔ درخت گر رہے تھے اور ان کے گرنے کے بوجھ سے دھرتی لرز رہی تھی۔ ایسا لگا رہا تھا بھونچال آ رہے ہوں۔ پھر جب وہ آندھی تھمی تو شہر پوری طرح بدل چکا تھا۔ جیسے کسی نے شہر کو بے لباس کر دیا ہو، اس کے جسم کو کاٹ پیٹ کے اس کی انتڑیاں باہر رکھ دی ہوں۔ رکے ہوئے لوگ سہمے سہمے چلنے لگے۔ وہ دن بہت عجیب حالت میں غروب ہوا۔ پھر رات آ گئی۔ پھر اس شہر نے کبھی صبح نہیں دیکھی۔ دھوکے ہی میں رہا۔۔۔"

نودان تھوڑا گھبرا سا گیا۔ اس کی عمر تیس برس تھی اور اس نے ایسی کسی آندھی کا تذکرہ کبھی گھر کے بڑوں سے نہیں سنا تھا۔ لیکن کہنے والے کے لہجے کی دلگیری اور سچائی سے اسے لگ رہا تھا کہ وہ جھوٹ نہیں بول رہا اگرچہ وہ پوری طرح اس کی باتیں سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ نودان الجھی الجھی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ کچھ تھم کے پھر سے بولنے لگا۔ ہوا کی سیٹیاں بھی اس کی باتیں دہرانے لگیں۔۔۔ وہ کہہ رہا تھا:

"صبح مطلع صاف ہوا تو میتیں ہی میتیں تھیں، درختوں کی، پرندوں کی، پھولوں کے پودوں کی۔۔۔ دس برس کا بچہ ایک مردہ پرندے کے پاس گیا تو اس کی آنکھیں اسے زندہ محسوس ہوئیں۔ اسے وہ بولتی ہوئیں محسوس ہوئیں۔ پیش گوئی کرتی ہوئیں۔ اس دس برس کے بچے نے چالیس سال اس پیش گوئی کو پورا ہوتے دیکھا۔۔۔"

اس کا لہجہ نمی سے بھر گیا۔۔

"اور پھر ایسی آندھی۔۔۔!"

اتنے میں آندھی تھم گئی اور نودان سوچنے لگا:

پھر ایسی آندھی۔۔۔ ایسی آندھی شہر نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔۔۔ اس آندھی کے بعد کیا ہو گا۔۔۔




ابھی دہشت کا موسم ہے

(١)

گھروں میں بند بچے ورد کرتے ہیں خموشی کا

کہ زنداں خیریت سے ہیں

وہاں زنجیر میں جکڑے ہوئے خوابوں کی آوازیں

سرِ رہ آ کے ٹکراتی ہیں کانوں سے

تو گھر کے در دریچے بند کر کے اپنا ہونا بھولنے کی مشق رہتی ہے

ہوا کی ناگہاں دستک سے ڈر کے بند دروازے لرزتے ہیں

تو دہشت اور بڑھتی ہے

سرِ شام آئیں گے تھک ہار کر جب باپ ، ماؤں کی نگاہوں میں

تو بچے کانپ جائیں گے

جنہیں امید تھی لائیں گے برگ و بار موسم کے ۔۔۔

سندیسے دیکھ کر غم کے

وہ رو دیں گے ۔۔۔ ذرا تھم کے

جو رستہ سوئے زنداں جا رہا ہے کوئی بھی اس پر نہیں جاتا

کہ سب ڈرتے ہیں خود کو یاد آنے سے

اگر اس اور اٹھے پاؤں زمانے کانپ جائیں گے

گھروں میں بند مائیں خامشی کا ورد کرتی ہیں

انہیں اندیشۂ معنیٰ نے خوابِ لفظ سے باہر نکالا تھا

کبھی معنٰی کی خواہش میں دمکتی ان جبینوں پہ

ابھی دہشت کا موسم ہے

ابھی زنجیر ان دیکھی ہواؤں میں

ابھی بچوں کا گریہ ان کے سینے میں

سو دہشت سے بھرے ایسے مہینے میں

درِ زنداں پہ ویراں راہ چپ کا ورد کرتی ہے

ابھی دہشت کا موسم ہے

(٢)

ہمیں دہشت کی رُت میں پھول کفنانے کی عادت نے

کہیں کا بھی نہیں چھوڑا

ابھی گزری بہاراں میں کھِلے پھولوں کے لاشوں پہ ہماری آنکھ گریاں ہے

مسلسل دفن ہوتے ہیں

کہ اپنی حاشیوں میں بٹ کے کٹتی ہر رگِ جاں سے

زمیں کا خوں چھلکتا ہے تو ہم بینائی کھو دینے کی خواہش سے لپٹتے ہیں

فراموشی کی راتیں خواب ہوں جیسے

کہ بے خوابی کی راتوں میں ہمیں درکار نیندیں دفن ہوتی ہیں

مگر کچھ کہہ نہیں سکتے

رگوں میں خامشی کا ورد رہتا تھا بہت پہلے

جو پہلے خواب گاہوں میں کسی آسیب سا نکلا

پھر اس کے بعد کھڑکی پھاندتا رستے پہ آ بھٹکا

سو اب ہونے کا یہ کھٹکا

لہو میں بین کرنا چاہتا ہے اور ہم خاموش رہتے ہیں

ہمیں وحشت بھری راتوں میں چلّاتی ہوئی مائیں

اور ان کے بین سن کر بھول جانے کی یہ عادت مار ڈالے گی

کہ راتوں نے بتایا ہے فراموشی بس اب اک لفظ ہے معنی سے بے پروا

مسلسل دفن ہوتے ہیں

مسلسل خامشی کا ورد رہتا ہے

ابھی دہشت کا موسم ہے

ابھی کلیوں کو جانے اور کتنے دن بکھرنا ہے

نجانے کون رت تک پھول چہروں کو اُسی لُو کے تھپیڑے سہہ کے مرنا ہے

کہ اب کفنانے والے ہاتھ جھڑتے ہیں

لہو میں خامشی کا ورد رہتا ہے

مگر یہ ورد بھی کب تک

بھلے دہشت کا موسم ہو ۔۔۔




٢٠٢٥ء کا عالمی بُکر انعام جیتنے والی بانو مشتاق

ہندوستانی مصنفہ مشتاق بانو کنڑ زبان میں کہانیاں لکھتی ہیں ۔ ان کی 12 کہانیوں کا انگریزی ترجمہ دیبا بھاستھی نے کیا جو Lamp Hesrt چراغ دل کے نام سے پنگوئن رینڈم پبلشنگ ہاؤس انڈیا سے شایع ہوا - کہانیوں کے اس مجموعے کو بُکر ایوارڈ 2025 ملا ہے۔

مشتاق بانو عالمی ادب کے منظر نامے پر اس وقت نمایاں ہوئیں جب ان کی ایک کہانی کا انگریزی ترجمہ پیرس ریویوز میں Red Lungi / سرخ لنگی کے نام سے شایع ہوا ۔

کنڑ زبان میں 1990 سے 2023 کے درمیان شائع ہونے والی یہ تحریریں — جو اپنی خشک اور نرم مزاح نگاری کے لیے سراہی گئی ہیں — خاندان اور معاشرتی کشمکش کی ایسی تصویریں پیش کرتی ہیں جو مصنفہ بانو مشتاق کی بطور صحافی اور وکیل برسوں کی جدوجہد کا ثبوت ہیں۔ ان تحریروں میں وہ نہ تھکنے والی خواتین کے حقوق کی علمبردار کے طور پر ابھرتی ہیں، جو ذات پات اور مذہبی جبر کی ہر شکل کے خلاف سراپا احتجاج بنی رہیں۔

ان کی نثر ایک ساتھ فروزاں، جاذب، عام فہم، پراثر اور طنز سے بھرپور ہے۔ مگر وہ جگہ جہاں مشتاق بطور ایک غیرمعمولی فنکار اور انسانی فطرت کی گہری ناظرہ سامنے آتی ہیں، وہ ان کے کردار ہیں:

• چمکتے دمکتے بچے،

• بے باک دادیاں،

• مسخرہ مولوی اور غنڈہ بھائی،

• اکثر بےبس شوہر،

• اور سب سے بڑھ کر مائیں —

جو اپنی گہری جذباتی کیفیتوں کو بڑی قیمت پر جھیلتی ہیں۔

ان کی بول چال کی امیر زبان میں لپٹے یہ کردار ہمیں ایسی جذباتی بلندیوں تک لے جاتے ہیں جو چونکاتی بھی ہیں، اور ہلا کر رکھ دیتی ہیں۔

روزنامہ انقلاب ممبئی نے ان کے حوالے سے گزشتہ روز جو مضمون شایع کیا، اس میں ان کے بارے میں لکھا:

[خود کو مکمل طور پر افسانہ نگاری اور تصنیفی سرگرمیوں کے حوالے کرنے سے پہلے انہوں نے ایک اخبار میں رپورٹر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیں ۔ وہ آل انڈیا ریڈیو بنگلور سے بھی وابستہ رہیں اور وکالت کا پیشہ بھی اختیار کیا۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے سماجی سطح پر ایک سرگرم زندگی گزاری ہے۔ عورتوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والی بانو مشتاق نے اگر مساجد میں عورتوں کو نماز ادا کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا تو مسلم طالبات کو حجاب کے ساتھ اسکول جانے کی حمایت بھی کی۔ بانو مشتاق کو سماجی سطح پر بائیکاٹ کا سامنا بھی کرنا پڑا]

[بانو مشتاق نے یو گیندر سکند سے ایک مکالمہ (new age Islam.com) میں کہا ہے کہ انہیں ان کے والد بیٹی نہیں بلکہ بیٹا کہا کرتے تھے۔ جس وقت اُن کی والدہ کی شادی ہوئی ہے،ان کی عمر محض ۱۲؍ سال تھی۔۱۴؍سال کی عمر میں انہوں نے بانو مشتاق کو جنم دیا۔ شادی کے وقت والدہ اور والد کی عمر کیا تھی، اس کا ذکر کرنا ان کی ایک ایسی فکرمندی کا اظہار ہے جس کا تعلق معاشرے سے بہت گہرا ہے۔ ابتدا ہی سے بانو مشتاق کو زندگی کے مختلف معاملات کے سلسلے میں والد کی حمایت حاصل رہی۔

والد کے حوصلہ افزا رویے نے بانو مشتاق کو زندگی اور سماج کے تعلق سے ترقی پسندانہ رویہ اختیار کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ اُن کے والد سینئر ہیلتھ انسپکٹرتھے، مختلف شہر وں میں ان کا تبادلہ ہوتا رہتا تھا۔ انٹرویو میں بانو مشتاق نے اپنے والد کے تعلق سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ بہت کشادہ ذہن اور مشترکہ تہذیب کے حامی تھے۔ بانو مشتاق کے بقول ان کے خاندان میں تصوف کی روایت بھی رہی ہے۔انہوں نے انٹرویو میں یہ اطلاع بھی فراہم کی ہے کہ ان کے دادا ایک گاؤں کے قاضی تھے اور اُردو اسکول میں پڑھاتے تھے۔ بانو مشتاق چھ بہنوں اور دو بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں ۔

مشتاق بانو کی زندگی اور ادبی زندگی کے درمیان بہت گہرا رشتہ ہے۔ کمال فن یہ ہے کہ اپنی زندگی کو فن کے سانچے میں کچھ اس طرح ڈھالا جائے کی یہ دوسروں کیلئے بھی اہم اور بامعنی ہو۔ عورتوں نے عورتوں کے مسائل کو اگر شدت کے ساتھ محسوس کیا ہے تو اسے کسی اصطلاح کے بغیر بھی دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے خاص طور پر وہ اصطلاح جسے ہم تانیثی نقطہ نظر یا تانیثیت کا نام دیتے ہیں ۔ فرانسیسی مصنفہ اینی انراکس کو جب نوبیل پرائز دینے کا اعلان کیا گیا تو اس میں عورتوں کے مسائل کا خاصا ذکر تھا۔شادی کے بعد کی زندگی جن آزمائشوں سے گزرتی ہے اس کے بارے میں کوئی نئی بات کہنا بہت مشکل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس زندگی کے بارے میں ہر خاص و عام کچھ نہ کچھ جانتا اور محسوس کرتا ہے۔بانو مشتاق نے کس کی زندگی کے سیاق میں کہانی پیش کی ہے اگر اس بارے میں کچھ نہ بتایا جائے تو بھی یہ کہانی ایک حساس،مظلوم اور ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹنے والی عورت کی کہانی معلوم ہوتی ہے۔

بانو مشتاق نے انٹرویو میں اپنی سسرال کا حال بھی بیان کیا ہے۔اُن کے سسرالی عزیز بہت کشادہ ذہن نہیں تھے مگر شوہر نے بڑی فراخدلی کا مظاہرہ کیا اور سوچتا ہوا ذہن رکھنے والی بانو مشتاق کو ایک قلم کار کی زندگی گزارنے اور اس طرح سماجی منفعت کا ذریعہ بننے کی اجازت دی۔ مگر گھر کے لوگ اس بات کے لیے راضی نہیں تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ سماجی سطح پر کوئی ایسی زندگی گزاری جائے جسے احتجاج اور ترقی پسندانہ رویے کا نام دیا جاتا ہے۔ آخر کار بانو مشتاق کو گھر سے نکلنا پڑا۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہاسن نام کے ایک قصبے میں منتقل ہو گئیں ۔ یہ وقت دونوں کے لیے بہت مشکل تھا۔ اُن کے شوہر نے گھڑی سازی کا کام بھی کیا جبکہ وہ خود گھر میں سلائی کا کام کرتی تھیں ۔ جب کچھ پیسے جمع ہو گئے تو گھڑی کی دکان کھول لی۔]

[ بانو مشتاق کی تخلیقات اردو، ہندی،تمل اور ملیالم میں بھی شائع ہو چکی ہیں ۔یہ تمام تفصیلات بتاتی ہیں کہ بانومشتاق کی کہانیوں کے مسائل کیا ہیں ۔شادی شدہ عورت کی زندگی روایتی طور پر وفاداری اور گھریلو زندگی سے وابستہ سمجھی جاتی ہے۔ ان کی کہانیوں کے اہم موضوعات کا رشتہ عورت کی ازدواجی زندگی سے ہے۔ ازدواجی زندگی کے مسائل کو عورت ہی کی ذات سے وابستہ کر کے دیکھا جاتا ہے۔ مرد اِن مسائل کے ساتھ کہیں دور کھڑا دکھائی دیتا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ جنہیں ہم ازدواجی زندگی کے مسائل کہتے ہیں ان کا براہ راست رشتہ مردوں سے ہے۔ بانو مشتاق نے پہلی اولاد کی ولادت کے بعد ان مسائل پر نئے سرے سے غور کرنا شروع کیا۔
یوں دیکھیں تو یہ کوئی اہم واقعہ نہیں مگر ایک خاتون کے قلم سے وجود میں آنے والی یہ کہانیاں دل کا چراغ بن گئی ہیں ۔ یہ مدھم اور تیز روشنی کب سے سینے میں روشن ہے۔ یہی وہ روشنی ہے جو سینے کے داغ کو دکھاتی بھی ہے اور روشن بھی کرتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ زمانہ ناول کا ہے اور ناول ہی اس وقت کے آشوب کو پیش کر سکتا ہے۔ کہانیاں بہت دور جا پڑی ہیں ۔ لیکن بانو مشتاق کی کہانیوں کے مجموعے کا شارٹ لسٹ کیا جانا اس بات کی علامت ہے کہ کہانیاں ابھی اتنی دور نہیں گئی ہیں جتنا کہ بتایا جا رہا ہے۔]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہانیوں سے اقتباسات

"مذہب کوئی بھی ہو، روایت کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی عورت کو شوہر کی سب سے وفادار خدمت گزار، اس کے حکم کی خاموش پیروکار، اور زندگی بھر کی اجرت کے بغیر کام کرنے والی مزدور سمجھا جاتا ہے۔"
شائستہ محل کے لیے پتھریلی سلیں

مصنفہ مشتاق بانو
انگریزی ترجمہ : دیبا بھا ستھی
اردو ترجمہ : محمد عامر حسینی

‘ہمم... نہیں۔ لیکن یہ سب بہت فلمی باتیں ہیں، بھائی۔ اگر تمہاری ماں مر جائے، تو اس کے ساتھ ماں کی محبت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ وہ محبت تمہیں پھر کسی اور سے نہیں ملے گی۔ ہاں، لیکن اگر بیوی مر جائے، تو بات الگ ہے، کیونکہ دوسری بیوی مل سکتی ہے۔’

مجاہد کی یہ بات سن کر میں حیرت زدہ رہ گئی۔

شائستہ کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔ وہ جھٹ سے اٹھ کھڑی ہوئیں اور بولیں:

‘ہاں، میری نانی کہتی تھیں کہ اگر بیوی مر جائے، تو شوہر کے لیے وہ صرف کہنی پر چوٹ جیسا ہوتا ہے۔ جانتی ہو زینت، اگر کہنی پر چوٹ لگے، تو ایک لمحے کو درد ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ لیکن چند سیکنڈ کے بعد نہ زخم رہتا ہے، نہ خون، نہ نشان، نہ درد۔۔۔’

مجھے اس بات چیت کا رخ بالکل پسند نہ آیا۔ لیکن اچانک افتخار غصے سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے شائستہ کے ہاتھ تھام لیے اور بولے:

‘شائستہ، یہ کیا کہہ رہی ہو؟ میرے جسم کے ہر خلیے میں جو زندگی ہے، وہ تمہارے نام کی طاقت سے ہے۔ میرے دل کی ہر دھڑکن تمہاری توانائی سے ہے۔ تم — جو ابھی کہا — کیا وہ تمہارے دل سے نکلا؟ کیا واقعی تم ایسا ہی سوچتی ہو؟’

مجھے اپنی ہنسی روکنے میں بڑی مشکل ہوئی۔ مجھے یاد آیا کہ شائستہ نے بتایا تھا افتخار ان سے دس سال بڑے ہیں۔ ایک پچاس سال کے قریب کا مرد، یوں محبت کی جاودانی کا اعلان کرتے ہوئے، اور سامنے شائستہ، رانیوں کی طرح بیٹھی، جیسے ہر غلطی معاف کر دینے کو تیار ہو — یہ منظر شاید دوبارہ دیکھنے کو نہ ملتا۔

مجاہد آخرکار مسکرا دیے۔ شائستہ شرما کر ہنس پڑیں۔

ہم جلد ہی وہاں سے چل پڑے۔

چونکہ شائستہ کے گھر ہم بہت کھا چکے تھے، مجاہد نے کہا کہ اسے رات کے کھانے کی ضرورت نہیں، صرف ایک گلاس دودھ کافی ہے۔ مجھے بھی کچھ بھوک نہیں تھی، اس لیے کھانا پکانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا۔ وہ کتاب لے کر بیٹھ گئے، اور میں بھی ایک "فیمنا" میگزین الٹ پلٹ رہی تھی، لیکن میرے خیالات شائستہ کے خاندان میں الجھے ہوئے تھے۔

‘مجھے معلوم ہے... تم بس یوں ہی میگزین دیکھ رہی ہو۔۔۔’

‘تو پھر بتاؤ، میں کیا سوچ رہی ہوں؟’

‘بتاؤں؟ تم شائستہ کے سب سے چھوٹے بچے کے بارے میں سوچ رہی ہو، جس کی آنکھیں کالی اور گال گلابی تھے۔’

‘شاید۔ لیکن اس سے زیادہ میں تمہاری اُس بات کے بارے میں سوچ رہی ہوں جو تم نے وہاں کہی تھی۔’

‘مجھے معلوم تھا۔ تم ضرور اس پر زیادہ سوچو گی۔ صاف بات کروں، زینت، تمہیں سمجھنا ہوگا: جس بادشاہ نے محبت کے مشہور زمانہ یادگار کو بنایا، وہ اپنی بیوی کے ساتھ نہیں مرا۔ اس کے حرم میں بے شمار عورتیں تھیں۔’
‘یہ بادشاہ کے بارے میں نہیں ہے۔’

‘اچھا ٹھیک ہے، شاہ جہاں کی بات چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن کیا اپنے دور کے بادشاہِ محبت افتخار کے بارے میں بات کروں؟ افتخار کو عورتوں کی صحبت کی عادت ہے۔ شائستہ کے لیے اس کے دل میں جگہ خاص ہے کیونکہ وہ سالوں سے ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں۔ لیکن شائستہ ہو یا نرگس یا مہرون۔۔۔’

‘بس کرو۔ خاموش رہو۔ تم دس جنم لے کر بھی مجھ سے اتنی محبت نہیں کر سکتے جتنی افتخار شائستہ سے کرتا ہے۔’

‘پہلی بات تو یہ کہ ہمارے ہاں دس جنم کا کوئی تصور نہیں ہے؛ میں ان باتوں پر یقین نہیں رکھتا۔ دوسری بات یہ کہ میں اسی لمحے تمہیں افتخار کی محبت سے سو گنا زیادہ محبت دکھانے کو تیار ہوں۔۔۔ چاہے تم کتنا بھی انکار کرو۔۔۔’
میں ابھی یہ سوچ بھی نہ پائی تھی کہ اس نے کتنی چالاکی سے بات کا رخ بدل دیا، کہ مجاہد نے مجھے زور سے گلے لگا لیا اور پاگلوں کی طرح پیار کرنے لگا — یہ انسان نہیں، جانور ہے!

اتوار کی صبح کے نو بجے تھے، اور مجاہد ابھی بھی بستر پر تھے جب افتخار اور شائستہ ہمارے گھر آ گئے۔ میں نے بتایا کہ مجاہد ابھی تک سو رہے ہیں، تو وہ بیٹھ کر مجھ سے باتیں کرنے لگے۔ میں ان کے لیے گرم گرم سموسے لائی، لیکن افتخار نے ایک بھی نہ کھایا۔ وہ اپنے حصے کے سب سموسے شائستہ کی پلیٹ میں ڈال دیے، صرف ایک کپ چائے پی، اور سبزی لینے بازار چلے گئے۔

شائستہ، جو مورنی رنگ کی ساڑھی اور تھوڑے سے زیورات میں ملبوس تھیں، خاص طور پر خوبصورت لگ رہی تھیں۔ میں نے ان کے ہاتھ میں ہماری شادی کا البم تھما دیا اور اندر چلی گئی۔ جب واپس آئی، وہ غور سے ایک تصویر دیکھ رہی تھیں۔ وہ میری گریجویشن کی تصویر تھی جس میں میں گاون پہنے کھڑی تھی۔ جب میں ان کے ساتھ بیٹھ گئی، تو انہوں نے کہا:

‘زینت، میری خواہش ہے کہ آصفہ بھی ایسا گاون پہن کر تصویر کھنچوائے۔ اس نے دسویں جماعت پہلی ہی بار میں پاس کر لی تھی۔ ہم نے اسے آگے پڑھنے نہیں دیا کیونکہ گھر اور بچوں کا کوئی اور خیال رکھنے والا نہیں تھا۔’
‘کوئی ملازمہ رکھ لیجیے، بھابھی۔’

‘ایک تھی، کہہ کر گئی کہ گاؤں جا رہی ہے، پھر واپس نہیں آئی۔ لگتا ہے کسی ایجنٹ نے اسے دمام بھیج دیا۔ اس کے بعد کوئی نہیں ملی۔’

‘چلو، اس سال نہ سہی، اگلے سال آصفہ کو کالج ضرور بھیج دیجیے گا۔’

‘کروں گی۔ محض اپنی سہولت کے لیے اس بےچاری بچی پر ظلم کیوں کریں؟ اوہ زینت، میں تو پوچھنا بھول گئی۔ بچوں سے بچنے کے لیے آپریشن کروانا خطرناک ہوتا ہے کیا؟’

‘اس میں کیا خطرہ ہے، بھابھی؟ میری ماں کے خاندان میں تین بھابھیاں اور دو بڑی بہنیں یہ آپریشن کرا چکی ہیں۔ سب ٹھیک ٹھاک ہیں۔’

‘اچھا؟ تو پھر میں بھی اس بار آپریشن کروا لوں گی۔ اگر تم ساتھ چلو گی تو میرا جو تھوڑا بہت ڈر ہے وہ بھی ختم ہو جائے گا۔’

اتنے میں مجاہد آنکھیں ملتے ہوئے باہر آئے اور ہنستے ہوئے بولے:

‘بھابھی، آج آپ کتنی خوبصورت لگ رہی ہیں! ذرا اس زینت کو بھی سکھا دیجیے، کیسے سجتی سنورتی ہیں آپ!’

‘چپ کرو، شرارتی آدمی! بھاگو یہاں سے، سست انسان!’ شائستہ نے ہنستے ہوئے اس کی پیٹھ پر ہلکی سی چپت لگائی۔

میں نے اصرار کیا کہ وہ دوپہر کا کھانا ہمارے ساتھ کھائیں۔ انہوں نے قبول کیا اور شام کو بیلگولا واپس گئے۔ اب میرے لیے کے آر ایس میں دن پہلے کی طرح تنہا نہیں رہے تھے۔ میں جب چاہتی، شائستہ کے گھر چلی جاتی۔ ان کے بچوں کے ساتھ کھیلتے وقت وقت کا پتا نہ چلتا۔ شائستہ بھی یہی چاہتی تھیں کہ ان کے بچوں کو اچھی تعلیم ملے، خاص طور پر آصفہ کو۔ وہ اسے گھریلو ذمہ داریوں سے نکال کر تعلیم دلوانا چاہتی تھیں۔ اس کے علاوہ انہیں کسی چیز کی خواہش نہ تھی۔ ان کا چہرہ تندرستی سے چمک رہا تھا۔

اس دن جس لیڈی ڈاکٹر نے شائستہ کا معائنہ کیا تھا، اس نے بتایا کہ ابھی پندرہ سے بیس دن باقی ہیں۔ اسی لیے میں نے سب کو اتوار کے دن اپنے گھر بلایا، اور خاص طور پر کہا کہ آصفہ کو بھی لائیں۔ وہ ایک خوشی بھرا دن تھا؛ بہت کام تھا اور فرصت کا کوئی لمحہ نہ تھا۔ حسبِ معمول، شائستہ اور مجاہد ایک دوسرے سے چھیڑ چھاڑ کر رہے تھے؛ افتخار اپنی ابدی محبت کا یقین دلا رہے تھے؛ بچے شور مچا رہے تھے؛ آصفہ خاموش تھی، تنہا۔ ہم سب نے خوب دعوت اڑائی اور جب انہیں رخصت کیا، تو رات کے نو بج چکے تھے۔

اگرچہ میں نے صبح پانچ بجے الارم پر آنکھ کھولی، مگر دل چاہ رہا تھا کہ کمبل اور مضبوطی سے اوڑھ کر پھر سے سو جاؤں۔ تبھی دروازے کی گھنٹی بجی۔ اب اٹھنا مجبوری تھا۔ میں شال لپیٹے باہر آئی تو دیکھا، افتخار دروازے پر کھڑے ہیں۔

‘ارے، افتخار بھائی! آئیے، آئیے، آپ اس وقت صبح صبح کیسے آ گئے؟’

‘بھابھی، بیٹھنے کا وقت نہیں ہے۔ ہم جب یہاں سے گئے، تو رات تقریباً ایک بجے شائستہ کو دردِ زہ شروع ہو گیا۔ میں فوراً فیکٹری کی جیپ میں اُسے میسور لے گیا۔ وہ شلپا میٹرنٹی ہوم میں ہے۔ تین بجے اس نے بچے کو جنم دیا۔ بیٹا ہوا ہے۔’

مجھے لگا جیسے افتخار یہ کہتے ہوئے کچھ شرما گئے ہوں۔

مجھے بہت خوشی ہوئی۔ اوہ! کتنے سال ہو گئے کہ میں نے کوئی نومولود بچہ نہیں دیکھا، نہ ہی اُس خوشی میں شریک ہوئی جو ایک نئے بچے کی آمد پر ہوتی ہے۔ میں وہیں افتخار کو چھوڑ کر بھاگی اور مجاہد — وہ سویا ہوا کمبھ کرن — کے پاس پہنچی۔ میں نے کمبل ایک طرف پھینکا اور اسے جھنجھوڑ کر جگانے لگی۔

‘اٹھو — جلدی اٹھو، پلیز — شائستہ کے ہاں بیٹا ہوا ہے، اور تم اب تک سو رہے ہو!’

مجاہد نے مجھے اپنی بانہوں میں لپیٹ لیا اور آہستہ سے بولا:

‘زینت، وعدہ کرتا ہوں، چاہے بیٹا ہو یا بیٹی، جب تم ماں بنو گی، میں ساری رات نہیں سوؤں گا۔ بس تمہارے بچے کو دیکھتا رہوں گا۔’

‘تُھو! کتنے بے شرم ہو تم۔ افتخار بھائی باہر کھڑے ہیں۔ اٹھو اور ان سے بات کرو۔’

جب میں چائے کا کپ لے کر آئی، تو افتخار چار پانچ سگریٹ پی چکے تھے۔ میں نے ان کے ہاتھ میں چائے دی اور پوچھا:

‘شائستہ بھابھی خیریت سے ہیں، ہے نا؟’

‘ہمم۔ بس ٹھیک ہی ہے۔ کچھ مسئلہ ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ خون چڑھانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ لیکن بعد میں ضرورت نہیں پڑی۔ شائستہ بہت کمزور ہو گئی ہے۔ میں اب چلتا ہوں،’ افتخار نے کپ رکھ دیا اور مجاہد کے باہر آنے سے پہلے ہی رخصت ہو گئے۔

مجاہد اور میں میسور کے لیے روانہ ہو گئے۔ راستے بھر وہ مجھے چھیڑتا رہا، کہ اگر بچہ ہمارا ہوتا تو وہ یہ کرتا، وہ کرتا، خود پالتا، وغیرہ۔

جب ہم نرسنگ ہوم پہنچے، تو افتخار کا پورا خاندان وہاں موجود تھا۔ آسیفہ نے بچوں کو باہر اکٹھا کر رکھا تھا کیونکہ وہ اندر شور مچا رہے تھے۔ اس نے ہمیں دیکھ کر مسکراہٹ سے استقبال کیا۔ جب میں نے پوچھا:
‘آج تم اتنی خوش کیوں لگ رہی ہو؟’

تو وہ بولی:

‘بچہ بہت پیارا ہے، بھابھی۔ جب آپ دیکھیں گی تو آپ بھی بہت خوش ہوں گی۔’

واقعی، بچہ بہت خوبصورت تھا — نرم، گلابی، بالکل گلاب کے پھول کی مانند۔ وہ آنکھیں بند کیے سو رہا تھا۔ شائستہ کے ہونٹوں کا رنگ اڑ چکا تھا، اور وہ کمزوری سے مسکرا رہی تھیں۔ میں ان کے پاس بیٹھ گئی اور بچے کو گود میں اٹھا لیا۔

‘شائستہ بھابھی، بچے کو نظر لگ جائے گی۔ تمہارے یہاں اتنے خوبصورت بچے کیسے ہو جاتے ہیں؟’ میں نے چھیڑا۔

وہ ہنستے ہوئے بولیں:

‘فکر نہ کرو۔ اگر تم مجاہد سے کہو، تو وہ تمہارے ہاتھ میں اس سے بھی زیادہ پیارا بچہ لا کر رکھ دے گا۔’

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سرخ لنگی

گرمیوں کی چھٹیوں کا آنا، ماؤں کے لیے گویا ایک نہ ختم ہونے والی آزمائش کا آغاز ہوتا ہے۔ سارے بچے گھر میں اکٹھے ہوتے ہیں۔ اگر ٹی وی کے سامنے نہ ہوں، تو کبھی آنگن کے امرود کے درخت پر چڑھے ہوتے ہیں یا کبھی compoundکی دیوار پر بیٹھے ہوتے ہیں۔ کوئی گر کر ہاتھ پیر توڑ بیٹھے تو؟ پھر رونا، ہنسنا، چیخنا، اور ان کی آپس کی خود ساختہ "انصاف" پر مبنی سزائیں... انہی چھٹیوں کے آغاز کے ساتھ ہی رضیہ کے سر درد بڑھنے لگتے۔ کنپٹیوں کی نسیں پھڑکنے لگتیں، دماغ تپ جاتا، گردن کی رگیں جیسے کسی بھی لمحے ٹوٹ جائیں گی۔ ایک کے بعد ایک بچہ روتے، چیختے، اپنی شکایتیں لے کر آتا۔۔۔ اور ان کے "کھیل"۔۔۔ ابببببببببببا۔۔۔ تلواروں اور مشین گنوں کی لڑائیاں، بم دھماکے۔۔۔!

رضیہ نے تنگ آ کر سوچا: بس بہت ہو گیا۔ وہ ہال میں پڑے دیوان پر لیٹ گئی، سر پر کپڑا کس کر باندھ لیا۔ شور برداشت سے باہر ہو چکا تھا۔ ٹی وی چل رہا تھا، لیکن آواز کم رکھی گئی تھی۔ بچوں کو سختی سے تنبیہ کی جا چکی تھی، اور ابھی وہ ذرا سستانے ہی لگی تھی کہ ایک آواز آئی:

"ڈوڈ امماااااا۔۔۔ وہ مجھے چٹکی کاٹ رہی ہے!"

رضیہ غصے سے اُچھلی اور دل ہی دل میں سب کو کوسنے لگی۔

اسی وقت اس کا شوہر، لطیف احمد کمرے میں داخل ہوا۔ رضیہ سوچ رہی تھی: "چھ بچے پہلے سے یہاں ہیں۔ ہر دیور کے دو دو۔۔۔ تین تین۔۔۔ سب چھٹیوں پر چلے آئے۔ اور میری دو چھوٹی بہنوں کے بچے بھی آ گئے۔۔۔ یا اللہ، میں کیا کروں؟"

لطیف احمد نے بیوی کا حال دیکھا تو چونک گیا۔ اسے معلوم تھا کہ رضیہ کو بچوں سے الرجی ہے۔ سر درد کی تو شروعات ہی بچوں سے ہوتی تھی، جو اس درد پر نمک مرچ چھڑک دیتے تھے۔ اس نے نظر بچا کر کمرے کا جائزہ لیا: ایک، دو، تین، چار۔۔۔ پورے اٹھارہ بچے، تین سے بارہ سال کے درمیان۔

رضیہ کچھ کہتی اس سے پہلے ہی لطیف احمد نے بچوں کو جھڑک دیا:

"اوئے! سب خاموشی سے بیٹھ جاؤ، جو شور مچائے گا اسے کچھ نہیں ملے گا!"

اسی وقت حسین باغ سے آموں کی ٹوکری لیے آ گیا۔ بچے چیختے ہوئے آموں پر جھپٹ پڑے۔ لطیف احمد سہم گیا، بیوی کو بے بسی سے دیکھا اور باتھ روم کی راہ لی۔

رضیہ کا سر پھٹنے کو تھا، اس نے ایک دو قریبی بچوں کو دبوچ کر پٹ پٹ پٹ پٹ پٹ۔۔۔ کر دیا۔

اس نے فیصلہ کر لیا: کچھ بچوں کو "بیڈ ریسٹ" پر بھیجنا ہی پڑے گا۔ حل نکلا — ختنہ۔

رضیہ کے حساب سے اٹھارہ بچوں میں سے آٹھ لڑکیاں تھیں — وہ بچ گئیں۔ باقی دس میں سے چار کی عمر جفت تھی — چار، چھ، آٹھ — وہ بھی بچ گئے۔ باقی بچے چھ لڑکے — جن پر ختنہ فرض ہو گیا۔

لطیف احمد نے بنا کسی سوال کے رضامندی دے دی۔

یہ خاندان ضلع مرکز کے متمول خاندانوں میں شمار ہوتا تھا۔ لطیف احمد کے چار چھوٹے بھائی سرکاری ملازمتوں میں تھے، مگر خاندان کے تمام رسومات بڑے بھائی کے گھر ہی انجام پاتے تھے۔ رضیہ، بطور میزبان، کوئی کسر نہیں چھوڑتی تھی۔ خوشی کی بات یہ تھی کہ ختنہ ہونے والے چھ لڑکوں میں سے دو اس کی بہنوں کے بیٹے بھی تھے۔

رضیہ نے نگرانی سنبھال لی۔ سرخ "الوان" کپڑا کئی میٹر خریدا گیا۔ بچے، خاص طور پر لڑکیاں، رضیہ (ڈوڈ امّما) کے ساتھ شوق سے کام میں لگ گئیں۔ کپڑا ناپ کر "لنگیاں" تیار کی گئیں۔ لڑکیوں نے ان پر رنگ و روغن کیا، چمکدار ستارے اور زری کا کام کیا۔ چھ بچوں کے لیے لونگی تیار ہونے کے بعد بھی کپڑا بچ گیا۔

رضیہ کو ایک خیال آیا:

"ارے، اماں کی کوک عارف، اور کھیت پر کام کرنے والے فرید کا بیٹا بھی ہے۔۔۔ کیوں نہ غریب بچوں کے لیے بھی ختنہ کروایا جائے؟"

وہ فوراً منصوبہ بندی میں لگ گئی۔

شہر میں پانچ مساجد تھیں: جامع مسجد، مسجدِ نور، وغیرہ۔ جمعہ کی نماز کے بعد، تمام مسجدوں کے سیکریٹری حضرات نے اعلان کیا:

"اللہ کی راہ میں نذر کے طور پر، لطیف احمد صاحب نے آئندہ جمعہ ظہر کے بعد، اجتماعی سنتِ ابراہیمی کا انتظام کیا ہے۔ والدین سے گزارش ہے کہ شرکت کے لیے پہلے رجسٹریشن کروائیں۔"

لفظ "ختنہ" کہہ دینا آسان تھا، مگر مائیک اور اسٹیج سے دیے گئے اعلان کو شائستگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ گویا حضرت ابراہیمؑ کی یاد میں ایک رسمی تقریب بن گئی۔ انجام بہرحال وہی ہونا تھا — بچے خوشی میں شریک ہوئے، اور بعد میں چیخنے لگے۔

سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا۔ کئی غریب خاندانوں نے اپنے بچوں کا اندراج کروا دیا۔ رضیہ ایک کے بعد ایک لنگی تیار کرتی گئی۔ خاندان کے بچوں کو زری، ستاروں اور نگینوں سے سجی ہوئی لنگیاں ملیں، جبکہ باقی بچوں کو سادہ کپڑے کی۔ رضیہ کے بیٹے سمّاد کی لونگی پر تو اتنے چمکدار ستارے چسپاں تھے کہ کپڑے کا اصل رنگ تک چھپ گیا تھا۔

گندم اور ناریل کے بورے، بادام، کشمش، کھجوریں اور گائے کے دودھ کا خالص گھی خریدا گیا۔ بچوں میں ایک عجیب سی بےچینی تھی، لیکن ماحول میں تہوار جیسی خوشی تھی۔ ہر طرف گہما گہمی تھی۔
جمعہ کا دن آ ہی گیا۔

ظہر کی نماز کے بعد، لطیف احمد جلدی سے دوپہر کا کھانا کھا کر مسجد کے پاس والے احاطے میں پہنچے۔ وہاں پہلے ہی بھیڑ جمع ہو چکی تھی۔ جن بچوں کا ختنہ ہونا تھا اور ان کے والدین ایک قطار میں کھڑے تھے۔ نوجوان رضاکاروں کی فوج سفید شلوار قمیض اور سفید ٹوپی یا پگڑی میں موجود تھی — سب نے نماز سے قبل غسل کیا تھا، آنکھوں میں سرمہ، اور جسم پر خوشبو چھڑکی گئی تھی۔ فضا خوشبودار ہو چکی تھی۔

ختنہ مدرسے کے اندر ہونا تھا۔ اور دن کی سب سے خاص شخصیت تھا:

ابراہیم — پہلوان جیسے جسم والا، سفید ململ کی چمکتی ہوئی قمیض میں اس کے بازوؤں کی مچھلیاں تن کر باہر آ رہی تھیں۔

ختنہ اس کے خاندان کا پرانا پیشہ تھا۔ باقی وقت میں وہ حجامت کرتا تھا۔ وہ مدرسے کے بڑے ہال کے ایک گوشے میں اپنی تیاریوں میں مصروف تھا۔

سب سے پہلے اس نے ایک پیتل کی بڑی پُرانی "بِندیگے" (برتن) الٹا رکھا — جو اس تقریب کے لیے مخصوص طور پر مانگا گیا تھا۔

بچوں کی قطار تھی۔ ہر ایک کے چہرے پر خوشی اور ڈر کا مرکب تھا۔ والدین، خاص طور پر مائیں، بچوں کو تسلی دے رہی تھیں۔ کئی کے ہاتھوں میں خوشبوئیں، قرآن، اور دعائیں تھیں۔

ابراہیم اپنی جگہ پر بیٹھا، ہاتھ میں پرانا لیکن چمکدار اوزار، سامنے جھکے ہوئے بچے، اور ہر ایک چیخ کے ساتھ ہوا میں ہلکی سی لرزش...

بچوں کی آنکھوں سے آنسو، مگر ساتھ میں ایک قہقہہ کسی بزرگ کا، جو کہتا ہے:

"مرد بنو، یہ تو مردانگی کی رسم ہے!"

رضیہ پردے سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔ دل میں سکون تھا —

"چلو، کچھ تو سکون ملے گا اس موسم گرما میں۔"




لتا منگیشکر کی واپسی

انتظار حسین کا یہ کالم ٢ فروری ١٩٦٦ء کے روزنامہ مشرق میں پہلی بار شائع ہوا۔ جو بارِ دیگر ان کے نثری مجموعہ "ذرّے" میں شائع ہوا۔

 

غالب نے عجب شعر کہا ہے ࣠

پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں

پھر وہی زندگی ہماری ہے

پھر وہی بے وفا لتا منگیشکر ہے، اور پھر وہی ہم ہیں اور پھر وہی ریڈیو جالندھر اور پھر وہی چائے کی دکان پر فرمائشیں سننے والے اور پھر وہی پرانے اشتہار اور پھر وہی سنتوش کمار۔ پندار کا صنم‌کدہ ویراں ہے اور ہم اپنی روش پر واپس آ رہے ہیں۔

وہ ٦ ستمبر تھی جب لتا منگیشکر نے ہم سے بے وفائی کی، اور ہم نے اس کافر سے کنارا کیا۔ پھر اٹھارہ دن گزر گئے اور وہ آواز سننے میں نہ آئی۔ مگر انیسویں دن مزنگ چونگی سے گزرتے گزرتے یہ آواز ہمارے کان میں پڑی۔ ہم چونکے، مگر ابھی ہم نے سنبھالا لیا تھا کہ پنواڑی نے سوئچ گھمایا اور سوئی پھر لاہور ریلوے سٹیشن پر آ گئی اور جنگی ترانہ ہونے لگا۔

پھر دن گزرتے گئے، پنواڑیوں کی دکانوں اور چائے خانوں میں ریڈیو پاکستان کی آواز لشتم پشتم گونجتی رہی۔ کوئی پنواڑی بے اطمینان ہو کر سوئچ گھماتا، کبھی ریڈیو سیلون لگاتا، کبھی جالندھر ریڈیو سے ملاتا۔ مگر کوئی تن جلا طنزیہ سوال کرتا "استاد جالندھر لگا رکھا ہے، اور پنواڑی جھینپ کر سوئی کو پھر اپنے اسٹیشن پر لے آتا۔ رفتہ رفتہ طنزیہ لہجہ اور جھینپ دونوں رخصت ہو گئیں۔ اب پھر چھوٹے چائے خانوں میں یار لوگ چائے کی پیالی کے ساتھ فرمائش کا آرڈر دیتے ہیں اور ریڈیو سیلون سے ریڈیو جالندھر تک کے فرمائشی پروگرام سنتے ہیں۔ لتا منگیشکر پھر کتنی مقبول ہو چکی ہے، اور

کل لڑائی سی لڑائی ہو چکی

اور ہم پھر مال روڈ کے اس چائے خانہ میں جہاں انگریزی ریکارڈوں کے ساتھ چند اردو ریکارڈ بھی ہیں، یہ ریکارڈ ذوق و شوق سے سنتے ہیں:

کنکریا مارے کر کے اشارے

بلما بڑا بے ایمان

لاہور ریڈیو سٹیشن جہاں تھا، اب پھر وہیں ہے۔ اور ہم نے دوستوں سے کہا کہ یارو یہ کیا بات ہے کہ جنگ کے دنوں میں تو تمہیں لاہور اسٹیشن سنے بغیر کل نہیں پڑتی تھی۔ جنگ کا زمانہ رخصت ہوا تو تم نے اسے دودھ کی مکھی کی طرح نکال پھینکا ہے۔

جنگ کا ایک اثر یہ ہوا تھا کہ آوارہ روحیں اپنی اپنی جون میں واپس آ گئی تھیں۔ اور تو اور سنتوش کمار نے بھی اعلان کر ڈالا کہ اب لوگ مجھے سنتوش کمار نہ کہیں، موسیٰ رضا کہیں۔ سنتوش کمار نے چندے موسیٰ رضا بن کر اپنا نام روشن کیا۔ کسی فلم کے اشتہار میں ان کا نام آتا تو یوں لکھا جاتا، موسیٰ رضا (سنتوش کمار) مگر اب جو ان کی فلموں کے اشتہار آ رہے ہیں، وہ بریکٹ کے جھنجھٹ سے آزاد ہیں۔ موسیٰ رضا غائب ہوئے اب پھر سنتوش کمار کے نام کی دھوم ہے۔

اور قصہ شادی بیاہ کا یوں ہے کہ جنگ بہت سی شادیوں کو لے بیٹھی۔ بعض شادیاں کچھ اس طرح ملتوی ہوئیں کہ بس ملتوی ہی ہو گئیں۔ بعض عاقبت نا اندیشوں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور جنگ کے پردے میں جہیز، بری اور ولیمہ قسم کے سارے جھمیلوں کے بغیر سیدھی سادی جنگی شادی کر ڈالی۔ اور ایک ادیب دوست نے ہمارے کان میں کہا کہ یار میں تو سچ مچ شادی کرنے لگا تھا، مگر خیر جنگ چھڑ گئی اور جنگ دیکھیے کب تک چلے۔ تو شادی کو ہم نے سلام کیا۔

مگر پھر فائربندی ہو گئی اور اللہ بھلا کرے ہمارے ایک انگریزی اخبار نویس دوست کا کہ فائربندی کے دن بہت بپھرے بپھرے پھر رہے تھے۔ مگر تیسرے دن ہم نے دیکھا کہ انہوں نے ٹکٹ کٹایا اور کراچی چلے گئے۔ وہاں جا کر انہوں نے اپنی معطل منگنی کی تجدید کی اور شادی کر لائے۔

یہ دیکھ کر ہمارے ادیب دوست نے جھرجھری لی اور سوچا کہ جنگ تو واقعی ختم ہو گئی ہے، لاؤ شادی ہی کر لیں۔ سو انہوں نے اٹھ کر ایک پھیرا کراچی تک کا لگایا اور واپس آ کر دو معتبر پروفیسروں اور ڈھائی تین ادیبوں کو لے کر ایک دروازے پر دستک دی اور جھٹ پٹ نکاح پڑھوا لیا۔ پھر ایک دانشور راولپنڈی سے اچانک لاہور پہنچا اور نکاح کے دو بول پڑھوا کر واپس پنڈی چلا گیا۔ اور نکاح بیاہ کی رو ایسی آئی ہے کہ جنگ سے پہلے احباب جن کے لیے دعائے خیر کر چکے تھے، ان کے بھی ہاتھ پیلے ہو گئے۔

تو پھر وہی زندگی کے قصے، وہی شادیاں خانہ آبادیاں، وہی فلمی ریکارڈوں کی فرمائشیں، وہی لتا منگیشکر، وہی ہم

پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں

پھر وہی زندگی ہماری ہے




مہاجر دل — سُکھ دا سنیہا آئے

وہ بھوری آنکھوں والا افغان لڑکا جس کی آدھی عمر مہاجر کیمپ کی مٹی میں کسی گمشدہ سکے کی طرح کہیں دفن ہو گئی تھی۔ ایک پنچابی لڑکی کی محبت نے جسے فارسی بھلا دی تھی اور دل نے چناپ کی مٹی سے ایسا رشتہ جوڑ لیا تھاجیسے کوئی ہجرت زدہ پرندہ نیا آسمان اپنا لے۔ اسے چھٹیوں سے واپس آئے تیسرا دن تھا لیکن میں محسوس کر رہی تھی کہ وہ کچھ زیادہ ہی خاموش ہے ۔ایسی خاموشی جو بولنے کی ضد میں نہیں بلکہ چھپنے کی ضد میں ہو۔بریک میں ہم لان کے کنارے بیٹھے تھے۔ اس کی چپ عجیب سی تھی جیسے اندر کوئی ادھورا مکالمہ چل رہا ہو جس کا دوسرا کردار کہیں کھو گیا ہو۔میں نے ہلکی سی ہچکچاہٹ کے بعد پوچھ لیا،
”بابا کیسے تھے؟“
یہ وہ سوال تھا جو میں اکثر روک لیتی تھی۔ مجھے پتہ تھا اس سوال کے جواب میں ہمیشہ خاموشی آتی ہے۔
لیکن اس بار وہ بول پڑا۔
”پتا ہے۔۔ اس بار مجھے لگا ہی نہیں کہ وہ میرا باپ تھا۔“
میں نے تب ہی جان لیا تھا کہ اس کے اندر کوئی ایسی گانٹھ ہےجسے کبھی کھولا ہی نہیں گیا۔ اس کے لہجے میں کوئی عجیب سا خالی پن تھا جیسے برسوں پرانی، ادھ کھلی چٹھی ہو جس کے الفاظ پڑھنے والا کبھی ملا ہی نہ ہو۔ ہمارے تعلق  میں اکثر مجھے اس کی باتوں سے لگتا تھا کہ وہ بس رشتوں کو پورا جینے کی کوشش کر رہا ہے مگرکبھی کسی رشتے کا مکمل تجربہ نہیں کر پایا۔ وہ مجھ سے قریب آتا لیکن جیسے دل کے کسی کمرے کا دروازہ ہمیشہ بند ہی رکھتا۔ محبت کی جگہ وہ خالی پن لے لیتا اور پھر خود ہی اس خلا سے لڑنے لگتا۔
”اس بار مجھے لگا ہی نہیں کہ وہ میرا باپ تھا۔جب اس نے میرےنائیک (Nike) کے جوتوں کو دیکھ کر کہا کہ ” تمہارے جوتے تو بڑے اچھے ہیں“ تو مجھے اس کی آواز میں ایک ایسی دراڑ سنائی دی جو نظر نہیں آتی بس سنائی دیتی ہے۔ ایسی دراڑجو دیواروں میں رہتی ہے اور کسی دن چھت اپنے وزن سے خود ہی گر جاتی ہے۔“
وہ چپ ہو گیا۔ طویل وقفہ — جیسے لفظ اب اس کے پاس قرض میں ہوں۔ پھرآہستہ سے بولا،
”رات کو جب میں نے دیکھا،وہ میرے جوتے پرانے کمبل میں لپیٹ کر چھپا رہا تھا۔ ڈرتا تھا کہیں کوئی چرا نہ لے۔ تب مجھے یقین ہو گیا کہ اب یہ جوتے میں کبھی نہیں پہنوں گا۔ معاف کرنا جانم تمہارا تحفہ میں نے ایک بوڑھے کو دے دیا کیونکہ اسے ضرورت تھی“
اس کے جملوں میں کوئی کہانی نہیں تھی۔ ایک نوحہ تھا، ایسا نوحہ جو شاید برسوں پہلے اس کے اندر کہیں جم سا گیا تھا۔ اس کی یہ بات سنتے ہی مجھے جیسے سب سمجھ آ گیا تھا۔ باپ شاید اس کی زندگی میں کبھی باپ رہا ہی نہیں تھا۔ ایک نام تھا، ایک سایہ، ایک موجودگی مگر احساس کہیں نہیں ۔شاید اسی لیےمحبت ہو یا دوستی  وہ کبھی پورا فاصلہ طے نہیں کر پاتا تھا۔ آدھے راستے پر رُک جانا اس کی زندگی کی عادت بن چکی تھی۔
”تمہارے ذہن میں بابا کی پہلی یاد کون سی ہے؟“
میں چاہتی تھی شاید وہ کھل جائے۔ اس کی آواز میں ایک سرد سی گونج آئی جیسے وہ کوئی لمبی کہانی سنا رہا ہو۔
”جب میں خیمے سے نکلا تو میں نے بابا کو پہچانا ہی نہیں۔ میں پانچ سال کا تھا شاید۔ وہ بوڑھا شخص جس کے امریکی امداد کے چپلوں کے تلوے پھٹ چکے تھے اور جس کی داڑھی میں کابل کی برف کی طرح سفید بال جمے ہوئے تھے۔ میرے دماغ میں صرف ایک سوال تھا۔۔ کیا واقعی یہ میرا باپ ہے؟ اگر ہاں تو اس کے بال کب سفیدہوئے؟“
”چھٹیاں کیسے گزریں؟“۔۔ یہ سوال میں نے اس لئے پوچھا کیونکہ مجھے سمجھ ہی نہیں آیا کہ اور کیا پوچھوں؟
”کیا بتاؤں تمہیں — کیمپ میں چھٹیاں کیسی گزرتی ہیں؟
بس صبح آتی ہے ویسی ہی جیسے کل آئی تھی، ویسی ہی جیسے پرسوں آئی تھی اور جا کے اسی جگہ مر جاتی ہے جہاں ہر دن مرتا ہے۔ اندھیرے کی شدت کم ہونے لگتی ہے تولوگ جاگ جاتے ہیں۔ وقت کا احساس دھندلا پڑ چکا جاتا ہے۔ دن ہمیشہ ایک ہی سا لگتا ہے۔ کیمپ کی زندگی  نا جیسے کوئی پرانی عادت ہو جو مسلسل چلتی رہتی ہے۔
مرد اپنے بوسیدہ جوتے پہنتے ہیں اور نکل پڑتے ہیں۔ ان کے چہرے پر نہ سوال ہوتے ہیں اورنہ امید کا کوئی وزن۔ وہ جانتے ہیں کہ شایدکچھ نہیں ملے گا مگر پھر بھی وہ جاتے ہیں۔ وہاں کام نہ ہونا بھی ایک کام کی طرح ہے۔
عورتیں اپنے ڈرموں اور بالٹیوں کے ساتھ قطار میں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ یہاں پانی سب سے قیمتی شے ہے۔ کبھی کبھی کسی کا ڈرم ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے اور  پانی ریت میں جذب ہو جاتا ہے۔  اس کے بعد وہ عورت بس دیکھتی رہتی ہے جیسے پانی نہیں بہہ رہااس کا پورا دن بہہ رہا ہو کیونکہ اسے دوبارہ لائن میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔
بچے ہر طرف ہوتے ہیں۔ بچے ہی بچے۔۔ بچے ہی بچے۔ وہ  کہیں زمین کریدتے ہیں، کہیں پتھروں اور ریت کے ڈھیر میں کچھ تلاش کرتے ہیں۔ شاید کچھ نہیں یا شاید اپنا کھویا ہوا وقت۔ ان کے کھلونے اکثر پلاسٹک کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے ہوتے ہیں جنہیں وہ گاڑی سمجھ کر دھکیلتے ہیں۔ جیسے وہ پہیوں سے خالی چیز انہیں واپس کابل یا قندھار لے جائے گی۔
وہ ایک لمحہ خاموش رہاپھر ہنستے ہوئے کہانی سنانے لگا۔
شام کا وقت سورج کے ساتھ ختم نہیں ہوتا مگر روشنی فوراً چلیجاتی ہے۔  کیمپ میں لائٹیں کبھی نہیں جلتی کیونکہ بجلی ہے ہی نہیں۔ کبھی کبھی کسی کے فون کی اسکرین روشن ہو جاتی ہے اور اس پر کابل کی وہ پرانی تصویریں نظر آتی ہیں۔ تم جانتی ہو وہ تصویریں جن میں گھر تھے، دروازے تھے، اور کمرے تھے جہاں دیواروں کے درمیان زندگی قید نہیں تھی۔۔ وہ ہم خیموں میں بیٹھ کر دیکھتے رہتے تھے۔
کیمپ کی ہوا میں نا کوئی خوشبو نہیں ہوتی بس دھول کا ذائقہ ہوتا ہے یا پھرمایوسی کی بوجو جلد اور کپڑوں سے چمٹ جاتی ہے۔ مجھے یاد ہے ہم کیمپ کے سکول میں ٹاٹ پر بیٹھے زمین پر انگلیوں سے لکیریں کھینچتے تھے۔ ان لکیروں کا کوئی سرا نہیں ہوتا تھا۔
شام کومرد واپس لوٹتے ہیں تو ان کے چہروں پر دن کی کہانی لکھی ہوتی ہے۔ کچھ کے ہاتھ میں روٹی کے تھیلے ہوتے ہیں، کچھ کے پاس صرف خالی ہاتھ۔ ایک نوجوان لڑکا ہے جس کی ایک ٹانگ کٹ چکی ہے۔ وہ روز جاتا ہے اور روز خالی ہاتھ واپس آتا ہے۔ اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں ہوتا۔ شاید وہ بھی جان چکا ہے کہ یہاں درد کبھی نیا نہیں ہوتا بس ہر دن کا حصہ بن جاتا ہے۔
کیمپ کے باہر ایک بوڑھا شخص روز کھڑا رہتا ہے، وہ اپنے بیٹے کا انتظار کرتا ہے جو دو سال پہلے مر چکا تھا۔ وہ آج بھی انتظار کرتا ہے جیسے موت کی خبر کبھی پہنچی ہی نہ ہو۔
مجھے یاد ہے بچپن میں ہمارے خیمے کے ساتھ والے خیمے میں میری ہم عمر ایک لڑکی رہتی تھی۔ وہ ہمیشہ  اپنے پھٹے ہوئے کپڑوں سے بنی گڑیا کو سینے سے لگا کر سوتی تھی۔ مگر اس گڑیا کے چہرے پر آنکھیں نہیں تھی۔ اس وقت تو سمجھ نہیں آتا تھا مگر آج سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ  شاید اس لڑکی کے خوابوں میں بھی چہرے نہیں ہوتے ہوں گے۔
وہاں زندگی رک گئی ہےصرف جسم حرکت میں رہتے ہیں۔ کوئی نیا درد نہیں، وہی پرانا دکھ، وہی پرانی مایوسی۔تو ایسے گزرتی ہیں چھٹیاں جیسے ریت ہاتھ سے پھسلتی ہے۔ بس دن گزر جاتا ہےاور ہم بھی۔“
اب خاموشی کی باری میری تھی۔۔۔۔
ہلمند سے میری پہلی ملاقات ایک بین الاقوامی ادارے کے دفتر میں ہوئی تھی جہاں وہ سنئیر کیمرہ مین کی پوسٹ پر تھا۔ میں پنجاب سے ماسٹرز مکمل کر کے یہاں جاب کے سلسلے میں آئی تھی۔ خوابوں اور توقعات سے بھرا دل اور شاید زندگی کو ایک نئی جہت دینے کی خواہش ساتھ لائی تھی۔ وہ دن مجھے آج بھی یاد ہے۔ مجھے جوائن کئے ہوئے غالباً ہفتہ دس دن ہوئے تھے۔ نئی جگہ، نئے چہرے اور ایک اجنبی سا ماحول۔ سب لوگ اپنے کام میں مصروف تھے اور میں ایک فائل کے ساتھ پریشان سی بیٹھی تھی۔ تب ہلمند میرے پاس آیا تھا، دھیمے لہجے میں فارسی کی مٹھاس سے بھیزیادہ نرم اردو بولتے ہوئے کہا تھا،
”اگر آپ چاہیں تو میں مدد کر سکتا ہوں۔“
اُس کے لہجے میں کوئی بناوٹ نہیں تھی۔ نہ وہ رسمی سا جملہ لگ رہا تھا نہ کوئی دفتر کی مجبوری، بس ایک اجنبی انسان کی فطری شرافت تھی جو سیدھی دل میں اترتی تھی۔ اس لمحے ہلمند نے میرا دل نہیں جیتا تھا لیکن میرا دھیان ضرور چرا لیا تھا۔
ہلمند باقی سب سے الگ تھا۔ نہ وہ دفتری سیاست کا حصہ بنتا نہ میں نے کبھی اسے مردانہ محفلوں کے مخصوص لطیفوں پر ہنستے دیکھا۔ وہ بس بیٹھا رہتا اور خاموشی سے سنتا رہا۔ وہ کسی پرندے کیطرح تھا جو اپنے ہی دائرے میں پر پھڑپھڑاتا ہے، خاموش، سادہ اور کسی بھی دکھ کی شکایت کے بغیر۔
ہماری  کہانی کبھی روایتی نہیں رہی۔ کوئی فلمی مکالمے نہیں، کوئی گلاب کے پھول نہیں، کوئی رومانوی وعدے نہیں۔ بس چھوٹے چھوٹے بےضرر لمحے جو نہ چاہتے ہوئے بھی دل کے کسی کونے میں گھر بنا لیتے ہیں۔ جانے کون کون سے لمحے ہیں جو اب رہ رہ کر یاد آتے ہیں۔
ایک بار سردیوں کی ایک ٹھنڈی شام میں میں دفتر میں دیر تک کام کر رہی تھی۔ سب لوگ جا چکے تھے اور مجھے بھی اندازہ نہیں تھا کہ وقت کتنا بیت گیا ہے۔ اچانک میز پر ایک کپ چائے آ کر رکھ دی گئی۔
ہلمند نے بس اتنا کہا،
”چائے ٹھنڈی ہونے سے پہلے پی لینا۔“
اس چائے کی خوشبوآج تک کسی اور چائے میں نہیں ملی۔
اس کی محبت میں کوئی شور نہیں تھا۔ وہ ان لوگوں جیسا تھا جو زیادہ بولتے نہیں لیکن جینے کا ہنر دل کی گہرائی سے جانتے ہیں۔ اس کے رویے میں وہ خاموشی تھی جو کسی پرانی کتاب کے پیلے صفحے پر لکھی ہوئی تحریر کی طرح محفوظ رہتی ہے۔
کئی بار ایسا بھی ہوا جب میں دفتری کاموں میں الجھ کر تھک جاتی یا کسی دن دل اداس ہوتاتو وہ بغیر کچھ پوچھے سامنے آ کر ایک خاص قسم کی افغانی مٹھانی کا ٹکڑا سامنے رکھ دیا اور کہتا، ”میری پاس یہی بچی تھی، آپ کا دن میٹھا ہو جائے گا۔“ اس کی یہ چھوٹی چھوٹی باتیں میرے دن کا سب سے خوبصورت حصہ بن جاتیں۔

ایک بار میں بیمار ہو گئی تھی۔ سخت بخار میں تپتی پڑی تھی۔ وہ جان گیا تھا۔ شاید میری آواز میں یا شاید میری خاموشی میں۔ شام کو دفتر سے واپسی پر وہ میرے فلیٹ کے باہر کھڑا تھا ۔ ہاتھ میں دوا کی تھیلی اور ایک پرانی سی شال، جو شاید اس کی ماں کی تھی۔ اُس نے بس اتنا کہا،
”رات ٹھنڈی ہوگی، آپ کو سردی لگے گی۔“
اور اس رات میرے بخار سے زیادہ اُس کی وہ شال مجھے گرما رہی تھی۔
وہ جو فوٹوگرافی کے عالمی مقابلوں میں نہ صرف حصہ لیتا تھا، بلکہ بے تحاشا انعامات جیت چُکا تھا، میری تصویر کبھی نہیں اتارتا تھا، بس ایک دفعہ جب میں اپنے ابو کی سواتی گرم ٹوپی پہنے بیٹھی تھی، خاموشی سے میری تصویر اتار لی۔ بعد میں لکڑی کے ایک فریم میں لگا کر میرے ٹیبل پہ رکھ دی۔ وہ جانتا تھا، مجھے دنیا میں صرف ایک مرد سے عشق ہے۔
ہلمند کے پاس ”آئی لو یو“ کہنے کا ہنر نہیں تھا۔ وہ اپنی محبت کو چھوٹے چھوٹے کاموں میں لپیٹ کرچپکے سے سامنے رکھ دیتا تھا۔ جیسے ایک بار میں نے یونہی دفتری گپ شپ میں کہا،
”میرا دل چاہ رہا ہے کوئی پرانی کتاب مل جائے، بس شام کی چائے اور کتاب، مجھے اور کچھ نہیں کرنا۔“
اگلے دن اس نے ایک پشتو ناول کی پرانی، بےترتیب، مہکدار کتاب میرے ڈیسک پر رکھ دی اور بولا،
”شاید زبان نہ سمجھ آئےمگر خوشبو ضرور آئے گی۔“
وہ کتاب آج بھی میرے پاس ہے۔ شاید ہلمند کی محبت کی سب سے پکی نشانی۔ کبھی کبھی لنچ بریک میں میرے سامنے گزرتے اپنا لنچ باکس میرے سامنے  رکھ  کر کہتا، مجھے بالکل بھوک نہیں ہے۔ صبح تازہ سبزی خود بنائی تھی  اور پھرخود کسی بہانے باہر جا کر چائے پی لیتا۔ اس کے اس سادہ سے عمل میں شہر کے مہنگے ریستورانوں سے زیادہ خلوص بھرا ہوتا تھا۔
ایک بارمیں نے اس سے پوچھا،
”تمہارے کیا خواب ہیں؟“
وہ چند لمحے چپ رہا پھر مسکرا کے بولا،
”جس دن تم چائے بنا کر مجھے دو گی۔“
چھوٹے چھوٹے خواب تھے اُس کے۔۔ نہ کوئی قیمتی چیز مانگی نہ کوئی وعدہ۔ بس وقت، توجہ اور میری بےساختہ موجودگی۔
ایک بار میں نے یونہی کہا،
”ہلمند کبھی سوچا ہے ہم میں سے کوئی اگر کہیں اور چلا گیا تو؟“
وہ خاموش ہو گیا۔۔ کچھ لمحے بعد مسکرا کر بولا،
”آپ جہاں بھی جائیں گی، میں بھی وہاں جاؤں گا۔“
میں ہنس دی۔۔ پر اُس دن کے بعد دل میں عجیب سا سکون آ گیا تھا۔ جیسے اُس کی یہ بات کوئی وعدہ نہ ہو بلکہ ایک دعا ہو۔
ہماری کہانی ان تصویروں جیسی تھی جو فریم میں نہیں ہوتیں لیکن دل کی دیواروں پر لگی رہتی ہیں۔ ہلمند کے پاس الفاظ کی دولت کم تھی لیکن احساسات کا خزانہ بے انتہا تھا۔ اس نے کبھی ہاتھ نہیں تھاما لیکن ہر مشکل وقت میں اُس کی موجودگی میرے لئے کسی مضبوط دیوار کی طرح تھی۔ سنتے ہیں کہ محبت کے ہزار چہرے ہوتے ہیں اور ہلمند نے وہ چہرہ اپنایا تھا جو ہمیشہ پس منظر میں رہتا ہے لیکن کبھی غائب نہیں ہوتا۔ آج سوچتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی محبت بالکل اس شام کی طرح تھی، جب سورج ڈھل رہا ہوتا ہےلیکن روشنی ختم نہیں ہوتی۔
ہماری کہانی کے کوئی گواہ نہیں تھے۔ نہ سوشل میڈیا پر تصویریں، نہ کسی پارک میں ہاتھ تھامے چہل قدمی۔ بس دفتر کی ایک ہی ٹیبل پرخاموش بیٹھے، چائے کی چسکیوں میں وہ سب کچھ کہہ دیتےجو دنیا بھر کے لفظ بھی بیان نہ کر سکیں۔ اس کا ساتھ کسی یقین جیسا تھا۔۔ جیسے پرانی رضائی جو بچپن میں جاڑوں سے نہیں تنہائی سے بچاتی تھی۔ وہ کبھی میرے لئے شاعری نہیں کر سکا کیونکہ اس کی زندگی خود ایک بےوزن نظم تھی مگر بےحد سچی۔

مجھے آج بھی وہ دن یاد ہےجب میرے ہاتھ میں نئے آفس کا اپائنٹمنٹ لیٹر تھا۔ایک اور بین الاقوامی ادارہ، ایک اور شہر، ایک نئی منزل، اور ایک روشن مستقبل۔۔ سب کچھ میرے سامنے تھا لیکن دل جیسے کسی بےنام ویرانے میں جا ٹھہرا تھا۔ ہلمند اس دن بھی اپنی مخصوص خاموشی میں لپٹا آفس کے کونے میں بیٹھا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی اُس کی نظریں ٹھہر گئیں — جیسے اُس نے میرےچہرے پر چھپی خوشی اور اداسی دونوں ایک ہی لمحے میں پڑھ لی ہوں۔ شام ڈھل رہی تھی اور دفتر کے در و دیوار پر اداسی کی ہلکی سی تہہ چڑھنے لگی تھی۔
میں نے اُس سے کہا،
”ہلمند مجھے ایک اور آفر آئی ہے، مجھے لاہور جانا ہے“
وہ  خاموش رہا۔ نہ حیرت، نہ سوال، نہ شکوہ ۔۔ صرف ایک گہری سانس جیسے اُس کے اندر کی دنیا کسی انجانی لڑائی سے تھک چکی ہو۔
پھر اُس نے بہت آہستگی سے پوچھا،
”کب جانا ہے؟“
"ایک ہفتے بعد۔"
وہ سر جھکا کر کچھ دیر یونہی بیٹھا رہا جیسے اس وقت میں وہ پورا ہفتہ جینا چاہتا ہو۔ اس دن وہ میرے ساتھ زیادہ دیر تک بیٹھا— بغیر کسی بات کے، بغیر کسی خواہش کے۔ہم دونوں بینچ پرشام کی ہوا میں خاموش بیٹھے تھے۔ اُس کی نظریں بار بار مجھ سے دورکسی انجانی سمت کو تکتیں —جیسے وہ جان چکا تھا کہ وہ اب اس راستے کا مسافر نہیں رہے گا جس پر میں چلنے جا رہی ہوں۔ مجھے خود بھی معلوم نہیں وہ ہفتہ کیسا گزرا۔ میں سامان باندھ چُکی تھی، کمرے کی دیواروں پر لگی تصویریں اتار چکی تھی اور دل میں ایک عجیب سا خالی پن بس چکا تھا۔ ہلمند دروازے کے پاس کھڑا تھا۔ اُس نے مجھے الوداع کہنے کے لئے کوئی تحفہ نہیں دیا، کوئی خط نہیں لکھا،بس مہاجر کیمپ کی تصویر والا ایک پوسٹ کارڈ دیا جس پر لکھا تھا،
”جہاں بھی جانا، یہ ساتھ لے جانا۔“
اس دن ہلمند نے اپنی آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دیے لیکن جب میں گاڑی میں بیٹھ کر رخصت ہو رہی تھی ریئر ویو مرر میں اُس کی تصویر جیسے جم گئی تھی۔ وہ وہیں کھڑا رہا، جب تک میری گاڑی نظروں سے اوجھل نہیں ہو گئی۔اور میرے ذہن میں اس کے ساتھ کیا ہوا آخری مکالمہ گونج رہا تھا۔
نجانے میں اس سے کیوں پوچھ بیٹھی،
”ہلمند، میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بتاؤ، میری خاطر لڑتے کیوں نہیں؟“
وہ جس کی بھوری آنکھوں میں صرف میری محبت کا رنگ بسا ہوا تھا، حسب عادت کچھ لمحے چپ رہااور پھر اپنے دھیمے فارسی لہجے میں کہنے لگا،
”جانم۔۔ہم جنگ سے تھک گئے ہیں —چاہے وہ محبت کی ہی کیوں نہ ہو۔تم جاؤ۔۔ تم اس عہد سے آزاد ہو۔“
یہ الفاظ اُس نے اتنے سکون سے کہے جیسے محبت کی آخری دعا پڑھ رہا ہو۔ تعلق کی پوری عمر یہی گمان رہا کہ شاید اس نے کبھی دل کا دروازہ کھولا ہی نہیں۔ اب جا کے سمجھ آیاوہ دل کا دروازہ نہیں تھا — وہ جنگ کی ایسی خالی، ہولناک اور بےآواز تصویر تھی جسے وہ میری نظروں سے چھپائے بیٹھا تھا اور شاید خود سے بھی۔ اس کے دل کی زمین پر باردو کی باس پھیلی تھی۔ وہاں اب جذبوں کی کونپلیں کہاں اگنی تھیں؟
سالوں بعد ایک دن یونہی خبروں کی اسکرولنگ کرتے کرتے ایک سطر پر نظر ٹھہر گئی ۔ ”افغان مہاجرین کو واپسی کے نوٹس جاری“
عجیب سا سکوت دل میں اترااور جانے کیوں پہلا خیال ہلمند کا آیا۔ یاد نہیں کس امید پر میں نے اس دن اسے ایک مختصر سا میسج بھیج دیا تھا۔
نہ کوئی سوال، نہ شکوہ — بس ایک خالی سا ”ہیلو۔“
جواب نہیں آیا۔
دو دن بیت گئے اور پھر شام کے وقت اس کا فون آیا۔ اس کی آواز میں وہی پرانا دھیما پن جیسے لفظوں کے بیچ اب بھی کہیں جنگ لگی ہو۔
میں نے پوچھا — ”کہاں ہو؟“
بہت آہستہ بولا — ”کابل میں۔“
کابل؟
مجھے حیرت ہوئی، بےاختیار پوچھ لیا ،  ”کابل کیوں؟“
ہلمند چند لمحے چپ رہا۔ جیسے سانس کی ڈور کسی پرانی یاد میں الجھ گئی ہو۔ پھر کہنے لگا،
”پیدائش کے کاغذوں پر پتہ مہاجر کیمپ کا لکھا تھا۔پڑھا، لکھا، سمجھا سب کچھ پشاور کی انہی تنگ گلیوں میں جہاں خواب اور روزگار ایک ہی چھت کے نیچے بانٹ لیے جاتے ہیں۔ لیکن پھر ایک دن جیسے کوئی پرانی رسید بیکار ہو جائے، مجھے بھی ایک ٹرک میں لاد کر تورخم کے پار اتار دیا گیا۔
بس اتنا کہا — ”اپنے گھر چلے جاؤ۔“ مجھے معلوم ہی نہیں میرا گھر کہاں ہے۔۔
خاموشی کا ایک طویل وقفہ۔ ہلمند چپ ہو گیا۔ فون کی لائن پر بھی اور دل کی لکیروں پر بھی۔ اور میں فون ہاتھ میں لیے دیر تک سوچتی رہی —
گھر؟
گھر کہاں تھا؟
گھر تو کہیں بھی نہیں تھا۔
شاید کبھی تھا ہی نہیں۔
نہ اسلام آباد کی ان گلیوں میں جہاں اس نے اپنی پہلی تنخواہ سے خواب خریدنے کی کوشش کی تھی۔۔
نہ چناب کے کناروں پرجہاں دل کب کا کسی سنسان کنارے چھوڑ آیا تھا۔۔
نہ اس پشاور کے مہاجر کیمپ میں جہاں سانس لینا بھی ہمیشہ کسی ادھار کی طرح محسوس ہوتا تھا۔۔
چالیس سال پہلے ہلمند کا باپ جلال آباد سے پشاور آیا تھا۔
سوچتی ہوں آج  چالیس سال کے بعد ہلمند اپنے بیٹے کو کابل سے کہاں لے کر جائے گا جس کی آنکھیں بھی بھوری ہیں اور جو پنجابی بھی بولتا ہے۔
محبتیں شاید ملکوں کی سرحدوں سے نہیں ہارتیں لیکن جنگ کی نذر ہو جاتی ہیں۔۔۔




شبِ شکست تجھی کو پکارتے گزری

ہوائے رنگِ گریزاں میں برگِ آوارہ

اڑا تو اڑ کے نجانے کدھر کو جا نکلا

کہاں تھی مہلتِ تعبیرِ خوابِ افسردہ

کہاں ہے قریۂ امکانِ خوابِ خوش رنگی

کسے خبر ہے اس امکان بھر خرابی کی

کسے گماں ہے اس آوازِ بے صدائی کا

سفر سفر میں نہاں راہ راہ میں لرزاں

قدم قدم سے پرے شاخ شاخ میں پیچاں

وہ ماہتابِ شبِ چار دہ نگاہوں میں

چمک رہا تھا تو سینے میں رات اترتی تھی

وہ رات جس میں مسرت چھلکتی دیکھنے کو

شبِ شکست کے امکان تک چلا آیا

ہوائے سحرِ گذشتہ میں برگِ آوارہ

کہ جس کو یاد نہیں کون شاخ سے گر کر

وہ روئے زرد لیے پائمال ہوتا رہا

کہ راہ راہ میں پنہاں سفر سفر میں نہاں

زیاں کا ذائقہ چکھتی ہوئی ہنر کی زباں

گرہ کھلی تو پکاری کہ شہر اور ہوا

وہ شہر کھو گیا جس کے مہیب جنگل میں

ہوا نے شاخِ برہنہ سے انتقام لیا

تو آندھیوں میں جڑوں سے اکھڑ گئے تھے درخت

وہ شہر اور ہوا اور ہو گیا میں بھی

وہ خواب ٹوٹ گیا ٹوٹتا رہا میں بھی

اسی کی گلیوں دریچوں کا خواب تھا میں بھی

اور اب ہے داغِ ندامت جو نقشِ پیشانی

سو کیسی حیرانی

۔۔۔۔

وہی گلی ہے دریچے کی نیم وائی میں

جہاں دھڑکتے ہیں موسم جہاں بھڑکتی ہے آگ

جہاں چھلکتی ہیں آنکھیں جہاں چہکتے ہیں لب

پرندے اڑتے ہیں

دو رویہ پیڑوں کے خمدار شاخچوں سے پرے

جہاں وہ گھر ہے کہ جس کے طویل آنگن میں

بہارِ رفتہ و آئندہ سانس لیتی ہے

وہی مکان ہے دہلیز سے ادھر کہ جہاں

میں چاہتا ہوں دھروں پاؤں ، دھر نہیں پاتا

جہاں پہ تم سے جڑے خواب چہچہاتے ہیں

جہاں پہ اڑتی ہے اب تک وہ فاختہ جس نے

مری نگہ میں بُنا اپنا گھونسلا اک روز

برس گزر گئے وہ دن کہاں تمام ہوا ۔۔۔

تمام ہو گئے کتنے ہی قرن کس کو خبر

رہا ہے کون ادھر

گواہ کون بنے بیتتے زمانوں کا

کوئی کہے گا کہاں داستانِ بے رنگی

کوئی سنے گا بھلا

وہ خواب خواب مسافت جو اندروں دھڑکی

تو پاؤں آپ ہی دہلیز پار کرتے گئے

وہی جہان ہے خاموش رہگزاروں پر

جہاں کلام کیا بے طرح کلام کیا

جہاں خموش ہیں اور بے طرح خموش ہیں اب

ہوائے شامِ گریزاں میں برگِ آوارہ

اڑے تو کیسے کہ پامالیوں کے موسم میں

قدم قدم نے اسے روند کر مسل ڈالا

سو اب یہ ہمتِ آوارگی نہیں رکھتا

اگرچہ جی میں دھڑکتے ہیں خواب گوں رستے

نہیں ہے تابِ سفر رنجِ لامقامی میں

ٹھہر گئی ہیں جو تاریکیاں نہیں جاتیں

سو یہ کہاں بھٹکے

۔۔۔۔۔

رگوں میں تیرتے سناہٹوں کی لرزش سے

اک آنکھ رنگِ ندامت سے مرگ رنگ ہوئی

تو جی میں خواہشِ پرواز جیسے مر ہی گئی

یہ ناؤ اپنی اندھیرے میں آپ اتر ہی گئی

شکستگی کی وہ ساعت بھی تو گذر ہی گئی

اور اب جو رہ گیا اس کو بسر تو کرنا ہے

یہ معرکہ ہمیں تا عمر سر تو کرنا ہے




دیار و دشت کے پسِ پردہ سے ایک پرچھائی

نام کتاب: دیار و دشت

مصنف: ذکی نقوی

قیمت: 699 روپے

ناشر: القا پبلی‌کیشنز - ریڈنگز کا اشاعتی ادارہ

ذکی نقوی کی کہانیوں کے وہ شائقین جو اس کے فکشن پر ایک ادبی تبصرے کی توقع لے کر اِس تحریر تک آئے ہیں، اُن کے لیے میں ابتدائے کلام میں ہی چراغ بجھائے دیتا ہوں کہ زیرِ نظر تبصرہ، ادب کی دنیاداری تو ہے ہی، ساتھ میں میری گھریلو ذمہ داری بھی ہے، اگر جانا چاہیں تو یہیں سے پلٹ جائیے۔ صاحبِ کتاب رشتے میں میرا سگا بھائی ہے۔ چھوٹی عمروں میں ایک ہی برتن میں کھایا، ایک ہی ٹاٹ پہ بیٹھ کے مکتب کا پہلا پہلا درس لیا، اور ایسی بہت سی کہانیوں کو ایک ساتھ جیا جو ذکی نقوی کے قلم سے آپ تک پہنچی ہیں۔

اگر کوئی پوچھے کہ یہ کہانیاں کہاں سے آتی ہیں، تو پہلے یہ بتائے کہ مچھلی پانی کب پیتی ہے۔ ہر خاندان اور محلے بستی میں دسیوں کہانی گو ہوتے ہیں، کہانی کہے بناں چارہ نہیں۔ فکشن نگار البتہ کوئی کوئی بنتا ہے، جس کو چاہے خدا خراب کرے۔

پہلے کچھ اس گاؤں کا ذکر ہو جائے جس سے آپ ذکی نقوی کی کہانیوں کی بدولت اب کافی مانوس ہیں۔ چند صدیاں پہلے خود کو تتار خان کی نسل سے بتانے والے ایک بلوچ شاکر خان اور اس کے قبیلے نے دریائے جہلم کے قریب یہاں اپنے گھروں کے گرد ایک کوٹ تعمیر کیا تو آس پاس کا سبھی قصبہ کوٹ شاکر کہلانے لگا۔ 1870ء کی دہائی میں یہاں سرکاری اسکول بنا۔ لاہور اور ملتان کے بازاروں جیسا لال پکی اینٹوں والا ایک بازار تھا، جہاں کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔ سیال اور بلوچ بیشتر اناج اور مویشیوں والے تھے، کھتری رات دن دکانوں کی بہیاں دیکھتا تھا اور سونے چاندی میں کھیلتا تھا۔ سال بھر کے پھیرے پر نورپورتھل اور شاہجیونہ کے میلوں اور ماچھیوال کی لوہی پر یہ سبھی دھن دولت یکجا ہو کر مقدور بھر سب میں پھر سے بٹ جاتی۔ ان وقتوں کی ایک بچ رہی گمٹی بتاتی ہے کہ ہندو اور سکھ ایک ہی گوردوارے میں عبادت کیا کرتے تھے۔ اسکول کے قریب ٹِیڑی چوک ہے، جہاں دن میں تانگے رکتے تھے اور شام پڑے منچلے جوان اکٹھے ہو کر ضلع جگت اور قصہ کیا کرتے۔ ٹِیڑی مارنا، یہاں کی بولی میں فسوں طرازی اور لمبی گپ ہانکنے کو کہتے ہیں۔ خوشاب سے جھنگ جانے والی پکی سڑک حالیہ مقام سے کوئی سوا میل مشرق میں، اسی پرانے قصبے سے گزرتی تھی۔ تب ہفتے میں ایک یا دو بسیں گزرتی تھیں۔ چاہ خان‌پور کے پاس ایک جگہ اب پرانا اڈہ کہلاتی ہے، بس یہاں رات بھر قیام اور چائے پانی کر کے صبح دم چل پڑتی۔ بٹوارہ ہوا تو سکھوں کی ایک بس جو یہاں رات کو رکی تھی، اس پر ایک بلوائی جتھے نے دھاوا بول کر سبھی مسافر مار ڈالے، میں نے جس بزرگ سے یہ سنا اس کا کہنا تھا کہ وہ اس جتھے کے ساتھ تھا۔ یونہی ایک اور سکھ کے بارے سنا کہ اس نے اپنی بیوی اور سبھی بیٹیوں کو مار کے خود کو گولی مار لی۔ غرض جب یہ ہنگامہ تھما اور زندگی پھر سے معمول پر آئی تو بازار کی رونق بہت ماند پڑ گئی تھی۔ ہمارے دادا پٹواری تھے، پچاس ساٹھ کی دہائی میں اپنے دوستوں سے کہا کرتے تھے کہ دیکھ لینا، نئی سڑک مغرب میں اونچے ٹیلوں سے گزرے گی، اپنی اپنی "مَلت" کی لکیریں کھینچ لو۔ اور ایسا ہی ہوا۔ نئی بستی بسی تو دادا جان اس کے پہلے نمبردار ٹھہرے، بَکُھو ماچھی نے سڑک کنارے چائے کا کھوکھا کھول لیا، سیٹھ غلام حسین نے کچھ فاصلے پر کریانہ لگا لیا۔ پرائمری اسکول کے طور پر ایک کھلے میدان میں ایک بڑے کیکر کے ساتھ ایک کوٹھڑا بن گیا۔ اور سڑک کنارے ہر سوموار کو مویشیوں کی منڈی لگنے لگی۔ ماڑی، مچھیانہ، علیانہ، ساہجھر، کوٹ مَولچند (جوکہ بٹوارے کے بعد – شاید پھر سے – چاندنہ کہلایا) اور اس سڑک سے گزرتے ہوئے راستے میں آنے والے کم و بیش سبھی قصبوں کی کہانی اس سے ملتی جلتی ہے۔ کوئی ایک صدی پہلے یہ سبھی ایک آدھ میل مشرق میدانی علاقے میں لال پکی اینٹوں اور اونچے چوبی دروازوں والے مکانوں سے سجے، آج سے کہیں زیادہ آباد قصبے تھے۔ لیکن دو عوامل ایسے تھے جنہوں نے ان سب آبادیوں کو یکسر و یکساں طور پر بدل دیا۔ ایک سن سنتالیس کا بٹوارا اور دوسرا سیلاب۔ ایسا لگتا ہے کہ ان ٹیلوں کے قلب میں کوئی چیز ہے جو ڈیڑھ دو میل کے فاصلے سے دریا کو اپنی طرف بلاتی ہے۔ ہمارے دادا جس گھر میں پلے بڑھے تھے، وہ جگہ آج کے دریا کے پاٹ کے عین وسط میں بتائی جاتی ہے۔

میں نے جب کچھ کچھ ہوش سنبھالنا شروع کیا تو خود کو شورکوٹ میں واقع ایئرمین کوارٹرز میں پایا۔ میں تین چار سال کا تھا جب والد صاحب میڈیکل‌بورڈ پر قبل از وقت ریٹائر ہو کر اسی گاؤں واپس آنے کی تیاری کر رہے تھے۔ یہاں آ کر میں نے پہلے کبھی کبھار ملنے والے خود سے سال بھر بڑے اس بھائی سے باقاعدہ متعارف ہونا شروع کیا جسے پیدا ہوتے ہی دادی نے گود لے لیا تھا۔ ذکی اور مجھے دونوں کو جاننے والے جو ایک طرف یہ سوٹڈ بوٹڈ بابو اور دوسری طرف میرا ریچھ پالنے والے قلندروں جیسا حلیہ دیکھ کر کچھ متحیر ہوتے ہوں، تو تب ہم دونوں میں یہ فرق بالکل الٹ تھا۔ لیکن کچھ ہی دنوں میں ہم دونوں کا رہنا سہنا یکساں ہو گیا۔ دادی نے ذکی کو بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ دھول دھپا، ہاتھ کا لقمہ چھین لینا۔ لیکن ایک ہم‌عمر دوست کی ضرورت نے ہمیں شیروشکر بھی کیے رکھا، گاؤں میں ہماری جوڑی کی مثالیں بننے لگیں اور ہم دوقالب ایک نام سے پہچانے جانے لگے۔ ذکی مجھ سے اردو، اور میں اس سے پنجابی کے نئے لفظ سیکھ رہا تھا، یوں بولنا سیکھنے کی عمر میں ہم ایک دوسرے کی مدد سے ذولسانی بھی ہو رہے تھے۔ ہم ایک ہی کھاٹ پہ سوتے تھے، ایک ہی ٹاٹ پہ سبق لیتے تھے اور ایک ہی گھاٹ پہ پانی پیتے تھے۔ مگر اس دوستی کے ساتھ ہی جونہی ماں اور دادی میں کھٹ پٹ ہونے لگتی، ہم دونوں بھی ایک دوسرے پر تلواریں سونت لیتے۔ جی ہاں، ہم نے کئی دن تک لوہار کی دکان پر بیٹھ کر اپنی آہنی تلواریں خود بنوائی تھیں، ان تلواروں کی نقل پر جو پردادا جلال شاہ، اور جگدیش کے بابا شاہ چراغ وغیرہ سے منسوب تھیں۔ ماں اور دادی کے بیچ کھٹ‌پٹ بھی بے‌جا نہیں تھی۔ ننھیال کا قصبہ کسی زمانے میں یوں تھا کہ بہت سے خاندانوں پر مشتمل سیّدوں کا ایک پورا قبیلہ ایک فصیل بند قطعہ پر بستا تھا۔ جہاں اب گھروں کے درمیان گلیارے ہیں، کبھی یہ ایک ہی بڑے سے گھر کے اندرونی راستے تھے۔ اب سے کچھ سال پہلے اس قبیلے میں میں ایک زہریلی ہوا چلی۔ اس کے بعد وہاں دھرمسال کی ایک بڑی سی پرانی عمارت اور گاؤں کا سب سے بڑا اور پرانا برگد، جہاں کبھی لمحہ بھر کے لیے بھی محفل برخاست ہوتی تھی اور نہ ہی حقہ سرد پڑنے دیا جاتا تھا، آن کی آن میں دونوں جگہوں کا نشان مٹا دیا گیا۔ لڑکپن میں ہی اسی ہوا میں ہمارا اس گاؤں جانا بھی موقوف ہو گیا۔ یہ گاؤں ضلع جھنگ میں اُچ گل امام والی بࣦھڑ کے قریب پڑتا ہے۔ میری والدہ نے ایک بار مجھے بتایا کہ بہت پرانے وقتوں میں چھوٹی اُچ، یعنی اُچ گل امام والی بِھڑ میں اور بڑی اُچ یعنی ریاست والی اُچ کے خرابے میں دو دیوہیکل بہنیں رہا کرتی تھیں۔ وہ اتنی بڑی تھیں کہ جونہی شام ہوتی تو وہ اپنے اپنے خرابوں سے اوپر اٹھتیں اور ہاتھ بڑھا کر ریڑھکے کی جاگ اور شام کی بھاجی کا تبادلہ کیا کرتی تھیں۔ ادھر ددھیال میں ہمارا گھر سیّدوں کا اکلوتا گھر تھا اور ٹیلوں پر آن بسنے والی اس نئی بستی کا رہن سہن ابتدا میں سابقہ میدانی قصبے جیسا نہیں، بلکہ ریگستان کی اندرونی بستیوں جیسا تھا اور گھروں کی چاردیواری کا تصور ماں کی شادی تک پوری طرح نہیں آیا تھا۔ بھیڑوں بکریوں پر بگھاڑوں کے شب‌خون تو خیر ہم نے بھی کچھ کچھ دیکھے سنے، پر جب والدہ بیاہ کر آئی تھیں تب تو بیابان کے مسافروں کے اژدہے اور شینہوں کا شکار ہونے کے قصے بھی سننے میں آیا کرتے تھے۔ پھر یہاں ہماری والدہ کے آنے تک نہ کسی کو عورتوں کے غسل کفن کا پتہ تھا، نہ ہی کوئی لڑکیوں کو نماز طہارت سمجھانے والا تھا۔ ماں اور دادی کے درمیان کا ثقافتی فرق کبھی کبھار تہہ سے اٹھ کر سطح پر آ جاتا تھا۔ پھر میرے آنے سے پہلے دادی اپنا جوڑ رکھا جو میوہ ماکھن ذکی کو کھلاتی تھی، وہ بعد میں کئی بار مجھ سے چھپ کے کھلاتی ہوئی بھی دیکھی گئی۔ دادی سے میری دشمنی کے گہری دوستی میں بدلنے میں بہرحال کچھ وقت لگا۔

ذکی اور میرے پیدا ہونے سے کچھ پہلے ہمارا سب سے بڑا بھائی، جسے دادی نے فوج میں گئے ہمارے والد صاحب سے دوری کے ہرجانے کے طور پر گود لیا تھا، کم‌سنی میں گھر کے قریب کھیلتا ہوا ایک حادثے کا شکار ہو گیا۔ اس کے بعد دادی نے کچھ کچھ سالوں کے وقفے سے ایک پوتا اور پھر ایک نواسا گود لیا۔ دادی کی وفات تک مجھے گھر میں گزاری ایسی کوئی شام یاد نہیں جب وہ اپنے سب سے بڑے پوتے کو یاد کر کے روئی نہ ہو۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ دنیا کی ہر ماں میں ایک پوشیدہ، مگر بے بنیاد اور معصومانہ سا احساسِ جرم یا وہم پایا جاتا ہے کہ وہ ایک اچھی ماں نہیں ہے، اور شاید یہ وہم نسلِ آدم کی بقاء کے پیچھے فطرت سے ملا ایک بے حد تعمیری اور کاملیت پسند جذبہ ہے۔ اس خود اشتباہی کا اظہار ہر ماں میں مختلف طرح سے ہو سکتا ہے۔ میں اپنی زندگی کے ساتھ کئی ایک تباہ کن تجربے کر چکا ہوں لیکن میری والدہ نے مجھے زندگی میں کسی برے فیصلے پر کبھی کوئی ملامت نہیں کی۔ وہ ہمیشہ فقط میری ظاہری صحت کے متعلق ہی اپنی فکرمندی مجھ پر ظاہر کرتی ہیں اور ان کا لفظوں کا انتخاب بہت محتاط ہوتا ہے۔

اُچ گل امام والی بِھڑ کے قریب سید نور شاہ کی قبر ہے۔ پرانے وقتوں میں یہ بزرگ اپنے بھائی مکی شاہ کے ساتھ دلی گئے جہاں مکی شاہ کو بے گناہ قتل کر دیا گیا۔ ان کا سر دہلی کے دروازے پر رکھا گیا تو وہ سر اپنی جگہ سے اٹھا اور شہر کی فصیل کے اوپر چکر کاٹنے لگا اور تین دن تک شہر کے گرد ہوا میں گھومتا ہوا یہ سر اپنی زبان سے اپنی بے گناہی کا اعلان کرتا رہا اور اس دوران دہلی میں بھونچال کی کیفیت رہی اور شہر کے کنگرے کانپتے رہے۔ اہلِ دلی نور شاہ کے قدموں میں آن گرے، سو انہوں نے اہل دہلی کو معاف تو کر دیا لیکن صلح میں دلی والوں کی دو لڑکیاں بیاہ کر ساتھ لائے اور آتے ہوئے وعدہ کیا کہ بروز حشر جس روز وہ اپنے مقتول بھائی سے ملیں گے، اسی دن یہ بیاہتائیں اپنے مائیکے والوں سے ملیں گی۔ انہی بیگمات کے بطن سے پیدا ہونے والے گوہر شاہ کو ایک دن کیا سوجھی کہ اپنی ماؤں کو ان کے مائیکے والوں سے ملوانے دلی لے گیا۔ جب نور شاہ کو پتہ چلا تو اس نے اپنے بیٹے کو بددعا دی کہ اس کی نسل سے اگر کسی بیاہتا کی پہلوٹھی اولاد نرینہ ہو گی، اپنی جوانی تک نہیں پہنچے گی۔ گوہر شاہ مرا تو اسے تین بار باپ کے پہلو میں دفنایا گیا لیکن ہر بار میت قبر سے باہر آن پڑتی۔ گوہر شاہ کی قبر نور شاہ سے دور فاصلے پر ہے۔ ہمارے ننھیال کا قبیلہ اسی نسل سے ہے، بٹوارے سے پہلے وہ پڑھائی کے لیے اپنے لڑکے دہلی بھیجا کرتے تھے۔ آس پاس کے لوگ انہیں "کپری سید" بھی کہتے ہیں۔ مقامی بولی میں "کــَپّر" شدید بددعا کو کہتے ہیں۔ سو اس کی ایک تاویل یہ ہے کہ ان سیدوں کی بددعا بہت لگتی ہے، دوسری تاویل یہ کہ یہ لوگ خود بددعا گزیدہ ہیں۔ تین بہنوں میں سے میری والدہ اور منجھلی خالہ کے ہاں پہلوٹھی اولاد نرینہ ہوئی، دونوں کی بچپن میں موت ہوئی۔ لیکن نور شاہ کا سراپ گوہر شاہ کی نسل کی ہر عورت پر ایسے التزام سے نہیں پڑتا کہ ایک باپ کا بیٹے کو دیا گیا کوسنا، ایک نری بددعا سے فطرت کا ایک اٹل قانون بن جاتا۔

ادھر تھل میں ذکی اور میری لڑکپن کی بادیہ پیمائی کم و بیش ایک ساتھ رہی۔ پھر کوئی دلچسپ روداد یا ماجرا دیکھا سنا، تو محفل میں سناتے ہوئے دونوں میں ایک عجیب سی کشیدگی در آتی تھی۔ میں سناتا ہوں! ارے نہیں میں۔ تو قصہ یوں ہے! ارے نہیں قبلہ، یوں نہیں، ایسے ہے۔ ذکی صاحب اس معاملے میں تب کچھ تحکمانہ مزاج بھی رکھتے تھے، سو اکثر مجھے قدم بھر پیچھے ہٹنا پڑ جاتا۔ البتہ اب ان کا مزاج ویسا تحکمانہ نہیں رہا، شاید وہ بڑے ہو گئے ہیں، یا شاید میں بڑا ہو گیا ہوں۔ سو یہ کہانیاں پڑھتے ہوئے کسی کسی مقام پہ مجھ پر ایک بہت ذاتی سی کوفت کی کیفیت گزر جاتی ہے، لیکن یہ کوفت فکشن کے قاری کے طور پر نہیں، بلکہ جادہ پیمائی کے اس ہم سفر و ہم صفیر کے طور پر ہوتی ہے۔

میری اس ذاتی سی کوفت کے بارے میں جاننا فکشن کے قاریوں کے لیے ایک بہت غیر ضروری سی بات ہو سکتی ہے، لیکن آپ تو بطور قاری چراغ بجھنے پر بھی اٹھ کر نہیں گئے، آپ سے کیا پردہ۔ ذکی نقوی کا ہر کردار بہت سے حقیقی کرداروں کا ایک کولاج ہے، میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں ان اکثر حقیقی کرداروں کو جانتا ہوں۔ نام کی حد تک چاچا ایلس کدوری ایک حقیقی شخص تھا، باقی کہانی بہت سی ہنگامہ خیز لیکن گمنام زندگیوں کی یکجا تجسیم ہے۔ گائے کی دُم کاٹ بھاگنے والا داستانی مویشی چور فلاں بستی کا فلاں شخص تھا، اور دُم بریدہ گائے کے جلوس میں پڑھا جانے والا نوحہ حقیقت میں ایسے ہی ایک نوحے کا آزاد اردو ترجمہ ہے۔ نوٹوں کی گڈی جلا کے محبوبہ کو چائے گرم کر دینے والا اصل میں پاس کے گاؤں میں ایک چنے کا آڑھتی تھا، جسے آخری بار کئی سال پہلے میں نے تباہ حال پھرتے دیکھا۔

اس صدی کے پہلے دو عشروں میں ہم سب نے دہشت‌گردی سے جنگ کی شکل میں جو آزمائش دیکھی ہے، کلاسیکی جنگ کی کتابی اور تاریخی سی دنیا میں پلے بڑھے ذکی نقوی نے اس نئی بدصورت جنگ کا تجربہ نیوی کی وردی میں حاصل کیا، جس میں ہر سپاہی کے سر پر ایک بیہودہ اور غیر سپاہیانہ سی موت ہر کہیں منڈلاتی رہتی ہے، اور جس کا ذکر اس کے افسانے "اشفاق اور اس کا دوست منگول" میں ملتا ہے۔ ذکی نقوی کا لکھا ہوا اس کی فوجی زندگی کی حقیقی یادوں پر مشتمل ایک طویل مسودہ میری نظر سے گزر چکا ہے۔ یہ آنے والے وقت میں اس جنگ سے متعلق ایک دلچسپ اور اہم متن بن سکتا تھا، لیکن ہمارے اس خر دماغ فوجی نے کسی جذباتی لمحے میں وہ مسودہ تلف کر دیا۔ فوجی ملازمت کے ذاتی تجربہ کے ساتھ ساتھ مصنف کے اپنے خاندان میں، اور باہر بستی میں متحدہ ہندوستان کی فوج میں رہ چکے سپاہیوں کی آخری نسل کے ساتھ تعلق وہ سرمایہ ہے جس کی بدولت اس کے "میکنائزیشن" جیسے افسانوں کی تخلیق ممکن ہوئی۔ بعد میں کرنل غلام جیلانی خان جیسے اکابر کے شفقت بھرے تعلق نے ذکی نقوی کی ادبی شخصیت کو بہت نکھارا۔ میں جن دنوں پنجاب یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا ایک بار ذکی صاحب جیلانی صاحب سے ملنے کراچی سے لاہور آئے تو مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ عسکری تاریخ اور فارسی زبان و شعر پر گفتگو کی ایک طویل نشست رہی، اس نشست سے مجھے وہ خفت بھرا لمحہ سب سے زیادہ یاد ہے کہ میں پہلے کچھ بے خوابی کے ساتھ تھا اور بیٹھک کے برخاست ہونے سے کچھ پہلے مجھے صوفے پر بیٹھے اونگھ آ گئی تھی۔

اکثر پرانے فوجیوں کی طرح ہمارے والد صاحب بھی ایک ان‌تھک قصہ گو ہیں۔ ذکی صاحب اور میں نے عمر کا ایک حصہ تقریباً ہر شام ان کی فوجی زندگی کے قصے کئی کئی بار ایسے سنے ہیں کہ اب یوں لگتا ہے کہ وہ اٹھارہ سال ان کے ساتھ ایئرمینی کی ڈانگری میں گزارے ہوں۔ ورنہ اس دیہاتی لڑکے کو کیا پتہ تھا کہ کہانی کی تکنیکی جزویات کیا ہوتی ہیں۔ ذاتی طور پر ہوابازی کی تکنیکی باریکیوں سے ذکی نقوی کی گہری شناسائی کی بنیاد بھی انہی عمروں میں پڑی۔ ذکی صاحب ایک مشغلہ پرور پیراگلائیڈر بھی ہیں۔ ایک ایئرمین کے گھر پیدا ہونے والے ایک سیلر کی شخصیت میں یہ "ماہئ پرّاں" کا سا پہلو ایک قابلِ فہم بات ہے، بطورِ ہواباز اس کی اپنی پرواز اس کے قلم کی پرواز کی طرح بادلوں سے دور اور زمین کے قریب تر رہتی ہے۔

2011ء میں، جبکہ ذکی صاحب بحریہ میں سیلر تھے اور میں پولیس میں سنتری تھا، موصوف نے مجھے فون کر کے بتایا کہ دونوں عالمی جنگیں لڑ چکا آخری فوجی، رائل نیوی کا کلاڈ آسٹریلیا میں مر گیا ہے۔ یہ خبر ہم دونوں کے لیے اتنی دلچسپ اس لیے تھی کہ تب سے پہلے تک ہمارا ماننا تھا کہ دونوں عالمی جنگیں لڑ چکا آخری سپاہی بابا شہادت خان تھا۔ اگرچہ بابا شہادت خان سے ہمارے بڑوں کے پشتینی مراسم تھے، لیکن ہماری اس سے پہلی باقاعدہ ملاقات ہائی اسکول کے دنوں میں جھنگ کے ڈاکخانے میں فوجی پنشنروں کی قطار میں ہوئی۔ ان دنوں کچھ عرصہ ہمارے والد صاحب کو ایک عذر درپیش رہا تو انہوں نے متعلقہ کلرک بابو سے ہماری ملاقات کرا دی، مجھے والد صاحب نے کچھ مجاز مواقع کے لیے اپنے دستخط سکھا دیے، اب والد صاحب کی پنشن لینے ہم دونوں بھائی شہر جاتے تھے۔ فوجی پنشنروں کی قطار میں بابا شہادت خان سب سے معمر تھا۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہ انگوٹھا چھاپ سپاہی دونوں عالمی جنگیں لڑنے کے بعد سن پینسٹھ کی جنگ بطور ریزروسٹ لڑ چکا تھا۔ دوسری عالمی جنگ یا لوک بولی میں "جرمل دی دوجی جنگ" کے دوران اپنے محاذ بتاتے ہوئے جب اس نے "العالمین" کا ذکر کیا تو ہم نے چونک کر پوچھا؛ "بابا جی، پھر تو آپ نے اہرامِ مصر کو بھی دیکھا ہو گا۔" بابا شہادت خان نے کچھ دیر ذہن پر زور دیا اور کہنے لگا؛ "اہرامِ مصر۔۔۔ ہاں، کافی بھلا آدمی تھا۔" افریقہ سے واپسی پر مسلمان سپاہیوں کو عراق و ایران میں مقدس مقامات کی زیارت کا موقع دیا گیا تو سپاہی شہادت خان نجف و کربلا سے ہوتا ہوا وردی میں ہی مشہدِ رضا پہنچ گیا۔ اسی دوران غل ہوا کہ رضا خان، شاہِ ایران بھی روضہ کی سلامی کو آیا ہوا ہے۔ شہادت خان کو اسی اثنا میں بادشاہ کو سلیوٹ مارنے کا موقع مل گیا۔ رضا خان انگریزوں اور ہندوستانیوں، دونوں کا دوست تھا، اس نے ناصرف فوجی سلیقے سے سلیوٹ کا جواب دیا بلکہ آگے بڑھ کے شہادت خان سے مصافحہ بھی کیا۔ بس اس کے بعد سے سپاہی شہادت خان مرتے دم تک شاہِ ایران کی تعریف میں رطب اللسان رہا۔ وہ بڑے رضا شاہ اور چھوٹے رضا شاہ کا فرق نہیں جانتا تھا۔ مدت بعد جب اسے پتہ چلا کہ شاہِ ایران کا تختہ الٹ گیا ہے، تو اس رطب اللسانی کے ساتھ ایک اور ناراض سی بڑبڑاہٹ بھی تازیست شامل ہو گئی۔

گاؤں میں ایسے بہت سے فوجی اب بھی زندہ ہیں جو سن اکہتر کی ہزیمت کا داغ اور اس سے وابستہ بہت سی کہانیوں کا بوجھ سر پہ اٹھائے پھرتے ہیں۔ یعنی وہ سپاہی جو ہمارے ہاں کے لوک محاورے میں "اِندراں دی قید" کاٹ کے آئے تھے۔ جیسا کہ اپنی بیٹھک کی الماری میں کچھ دوائیں اور ٹیکے سجائے آس پاس سے اپنی ماؤں کے کولھوں پر سوار ہو کے آنے والے ننگے پُنگے بچوں میں ملیریا اور اسہال وغیرہ کی مسیحائی کرنے والا نرسنگ کور کا سپاہی خادم حسین۔ یا ایک آدھ سپاہی ایسا بھی تھا جو بنگالے میں گڑبڑی کے دوران بنگالیوں کے ساتھ اپنے برتاؤ کے بارے میں کچھ بیحد تاریک اعترافات بھی بڑی صاف گوئی سے سنایا کرتا تھا۔ یا پھر اپنی بزاز کی دکان پر بیٹھا خریداروں کا منتظر، گاہکوں کے اسٹول پر بیٹھے نوعمر ذکی کو گھنٹوں اپنی کہانیاں سنانے والا ریٹائرڈ بلوچ صوبیدار۔ صوبیدار صاحب لاولد تھے اور انہیں ذکی سے بہت انسیت تھی۔ ان کے متعلق گاؤں میں مشہور تھا کہ بنگالے والی قید میں بھارتی فوج آٹے کے راشن میں شیشے جیسا کچھ پیس کر انہیں کھلاتی رہی، جس کی وجہ سے ان میں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت جاتی رہی۔ ذکی صاحب ہم بھائیوں میں ذرا گورے چٹے ہیں، سو میں لڑکپن میں اس ادھیڑ عمر فوجی کے ساتھ موصوف کی گہری دوستی پر پھبتی کسنے کا کوئی موقع نہیں گنواتا تھا۔ برسبیل تذکرہ، بچپن میں گاؤں میں اکثر لوگ ہمیں ذکی-نقی کی جوڑی کے علاوہ رَتے کالے کی جوڑی بھی کہا کرتے تھے۔ خیر، ذکی صاحب نے ان سب کی کہانیوں کا بوجھ مجھ سے بڑھ کے اٹھایا۔ موصوف نے ہائی اسکول کے وقتوں میں ہی صدیق سالک اور فضل مقیم خان کی یادداشتیں اور ایسی کئی کتب پڑھ کے قریباً حفظ کر لی تھیں۔ میں یہ کتابیں کبھی بھی چند صفحوں سے آگے نہیں پڑھ سکا۔ قصہ کوتاہ، "سپاہی تنویر حسین کی ڈائری" اور "شکست" جیسی کہانیاں اچانک تخلیق نہیں ہوئی۔

ذکی نقوی کی اکثر کہانیاں حقیقی وقائع اور فکشن کے درمیان کی سرحد کے آر پار پھدکتے رہنے میں کسی تامل کی روادار نہیں ہوتیں۔ زیرِ نظر مجموعے کے مشمولات سے ذرا باہر، اس کے افسانوی خاکے سدِ سکندری کی مثال لیجیے، اگر اس تحریر سے لکھاری کے کیے گئے کچھ معمولی افسانوی برتاؤ کو منہا کر دیں تو وہ ہمارے گاؤں کے ایک حقیقی مولوی مرحوم کا حقیقی خاکہ ہے۔ دیار و دشت میں شامل "شہرِ مدفون" جہاں افسانے کی طرز پر لکھی گئی خودنوشت ہے، وہیں "سپاہی تنویر حسین کی ڈائری" خودنوشت کی طرز پر لکھا گیا افسانہ ہے۔ ادھر ذکی نقوی کے افسانوی کاموں میں جہاں کہیں متکلم کے ایک اسد نامی بھائی یا گاؤں کے فاطمی نامی کسی شاعر کا ذکر آیا ہے، وہ بجا طور پر میں ہوں۔ کون نہیں چاہے گا کہ اپنے وقت میں بہت زیادہ پڑھی گئی ایسی کہانیوں میں اس کا مذکور پوری شناخت کے ساتھ آئے۔ اور کیوں نہ ہو، میں ذکی نقوی کی زندگی کا سب سے پرانا دوست ہوں۔ اس نکتہ پر آ کر ذکی نقوی کی اپنے کرداروں کے ساتھ ایک تکلف بھری پردہ داری کا پتہ چلتا ہے۔ اس کے باقی اکثر کرداروں کے پیچھے کارفرما حقیقی اشخاص کے ساتھ ذکی نقوی کا ذاتی سماجی تعلق، میرے ساتھ رشتے کی نسبت کافی مختلف ہے۔ شاید اسی لیے اس کی کہانیوں میں ایسے ذیادہ تر اشخاص کی اصلی شناخت بھک سے اڑ جاتی ہے اور وہ پوری طرح افسانوی کردار بن جاتے ہیں۔ لیکن یہ پردہ داری ناصرف مصنف کو حقیقی واقعات میں ہر طرح کی تخلیقی رنگ آمیزی کی پوری آزادی دے دیتی ہے، بلکہ تاریخ کی عدالت میں جھوٹ سچ کی کسی بازپرس سے بھی مکمل برٲت دے دیتی ہے۔ ادھر حقیقت اور افسانے کے درمیان انہی دھندلاتی لکیروں پر، فرضی واقعات میں اس کی حقیقت نگاری ایسی زوردار ہے کہ "سپاہی تنویر حسین کی ڈائری" جوکہ زیرنظر مجموعے میں "ایک فرضی روزنامچہ" کے ذیلی عنوان کے ساتھ چھپی ہے، جب پہلی بار ایسی کسی انتباہ کے بغیر شائع ہوئی تھی تو تنویر قیصر شاہد جیسے سمجھدار لکھاری نے ناصرف اسے ایک اصلی تاریخی دستاویز سمجھ لیا، بلکہ ایکسپریس اخبار میں "خون آشام ڈائری" کے عنوان سے اس پر کالم بھی لکھ مارا، اور اس کے آخر پر انہوں نے سپاہی تنویر حسین کو ایسی شاندار تحریر پر مبارکباد دی۔

افسانہ "امام باڑے والے زیدی صاحب" ذکی صاحب نے میری فرمائش پر لکھا تھا۔ افسانہ لازوال ہے، لیکن اسے پڑھ کر مجھے یوں لگا کہ بچپن سے کان پڑتی آ رہی ان یادوں کو جمع کرتے ہوئے افسانے کا اسلوب نہ برتا جاتا تو مٹی میں ملتی ہوئی ایک حقیقی روحانی مجمع‌گاہ اور اس کی بنیاد رکھنے والے لوگ شاید مقامی یادداشت کی تاریخی فراموشی سے بچ جاتے۔ میں ایسی سب کان پڑی ہونی اور انہونیوں کے متعلق ایک تاریخیاتی نقطۂ نظر رکھتا ہوں۔ مجھے یہ بھی اندازہ ہے کہ فکشن بذاتِ خود کسی ایک زمانے اور ثقافت میں جی رہے انسانوں کی حالتوں کی عکاسی میں انہیں محدود حقیقی زمان و مکان سے اٹھا کر انسانی شعور کے وسیع تر آفاق سے ہمکنار کر دیتا ہے، لیکن پھر بھی مجھے ایسے واقعات کی غیر افسانوی سی مقامیت سے کافی غرض رہتی ہے۔ کبھی کبھی تو مجھے یوں لگتا ہے کہ جو عناصر ذکی نقوی کے افسانوں کے اجزائے ترکیبی بنے، وہ مسالہ شاید فکشن کا تھا ہی نہیں۔ ایک مضافاتی سی دنیا میں فراموشی کے خطرے سے دوچار ایسے اجتماعی حافظے کو محفوظ کرنے کا سب سے پرسہولت میڈیم بلاشبہ فکشن ہی ہو سکتا تھا، لیکن ایسے مواد کے بہت سے غیر افسانوی اظہارات بھی اپنی جگہ ممکن ہیں۔

چاہے کوئی اسے ایک نظریاتی اور غیر ادبی سی مثالیت پسندی کا نام دے، لیکن کہہ دینے میں کوئی ہرج نہیں کہ کسی انشاپرداز کی ایسی وقائع نگاری جو عام سے منچلوں، مستانوں، ہوشیاروں، دلیروں، بزدلوں، زاہدوں، گناہگاروں، الغرض انسانوں کی اصلی شناخت پر پردہ رکھے بغیر، اور تاریخ کی عدالت میں جھوٹ سچ کی بازپرس کے لیے تیار رہ کر ان کی کہانیاں، تذکار پیش کرے، تو عجب نہیں کہ ایسے متون عام فرد کو اپنے اچھے برے کردار پر صادق و ثابت رہنے کا ابدی حوصلہ دیتے رہیں، اور ایک نئی دنیا کے ایک نئے انسان کے عظیم تر توزک اور معارک نامے قرار پائیں۔ ہماری تاریخ اب‌تک اس بھل منسے فرد کا حق فراموشی ہی تسلیم کرتی آئی ہے، اور اونچے ایوانوں سے وابستہ ناموں کا حق ماندگاری۔ میرے اس مؤقف کی نظریاتی اساس آپ ذکی نقوی کے افسانے "شناختی کارڈ" کو ہی بنا لیں۔ ذکی اور میرے دادا مرحوم گھومنے پھرنے اور قبائل میں رہ رہے لوگوں کے شجرے اکٹھے کرنے کے دلدادہ تھے۔ کاغذوں کا ایک انبار تھا جسے وہ بیچ آندھی میں غیر مجلد چھوڑ گئے۔ حقیقی ناموں کی لمبی لمبی خطی اور شاخہ دار کڑیوں کا وہ ضخیم دفتر، جو نہ اپنی افادیت میں آفاقی تھا، نہ اپنی خلاقی میں پیغمبرانہ۔ لیکن وہ دفتر اپنے مرقوم ناموں سے وابستہ جھوٹ سچ کی ہر بازپرس کے آگے ہمہ وقت جوابدہ رہتا تھا۔ ذکی نقوی تک آتے آتے یادداشت کے اس موروثی دفتر میں کہانی کا ایک مہیب شجر تو میلوں میل، بلکہ دیسوں دیس کی دوری سے لہلہاتا نظر آتا ہے، لیکن یہ ریگستان کے اس سراب جیسا ہے کہ آپ اس کے قریب آ کر کسی شاخے، کسی پتے سے کوئی مستند حقیقی انفرادی نام شاید آسانی سے نہ پڑھ سکیں۔

شہرِ مدفون، ہمراہی اور چاچا ایلس کدوری جیسی کہانیوں میں آپ کو جس دنیا کی جھلک ملتی ہے، اسی نے مجھے اور ذکی صاحب دونوں کو بنایا بھی ہے اور بگاڑا بھی۔ آج ہم دونوں جو کچھ ہیں، اور جو کچھ نہیں ہیں، اس سب کی بنیاد اسی ریت مٹی سے اٹھی ہے۔ لیکن ملتے جلتے حالات و واقعات مختلف لوگوں پر مختلف طرح سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ میں شاید ذیادہ درون بین نکلا۔ ان کہانیوں میں نظر آنے والی دنیا میں جی کر کائنات کا جو نقشہ میری سمجھ میں آیا، میں نے اسے خود پر اس قدر پیچیدہ کر لیا کہ اسے کسی آئینے میں منعکس کرنا کسی بہت بڑی زقند کا متقاضی ہوتا۔ میں نے چند ایک بار ایسا کرنے کی سعی بھی کی، لیکن قلانچ بھرنے سے پہلے کے تول میل میں ہی میں لڑکھڑا کے اپنے پیروں پر گر پڑا، اور اب تک ڈھنگ سے سنبھل نہیں سکا۔

دنیا کو کم و بیش ایک ہی مقام سے دیکھنے کے باوجود ذکی اور میرے زاویوں میں ایک حدِ فاصل ناگزیر طور پر موجود رہی ہے۔ لڑکپن میں بزاز کی دکان پر بیٹھے بلوچ صوبیدار کے قصے سنتے ذکی کو کبھی تو یہ خبر ہوتی تھی کہ میں اس لمحے گاؤں کے کس کونے میں ہوں، لیکن اکثر اسے معلوم نہیں ہوتا تھا۔ اور سچ پوچھیں تو میں اب بھی نہیں چاہتا کہ ہر بار اسے خبر ہو۔ کہانی کے باہری محیط میں جو کہانی ہوتی ہے، کہانی کار خود بھی اس میں محض ایک کردار ہوتا ہے۔ کسی افسانوی آفاقیت کا گرز تھامے ایک لشکری جیسا کردار جو ایک نکتے پہ آ کر اس باہری کہانی میں دوسرے سبھی کرداروں کی اس غیر افسانوی مقامیت کا انکاری ہو جاتا ہے۔ کیا پتہ کس لمحے وہی تحکمانہ مزاج بڑا بھائی بزاز کی دکان سے اٹھے اور کھڑاک سے اندر آ کر میرے حصے کا بیانیہ بے مزا کر جائے۔ میں لڑکپن کی نسبت اب کہیں زیادہ ناتواں ہوں۔ میرے مکتب کے ٹاٹ میں ایک کے بعد ایک چھید پڑتا ہے، پیوند لگانے کو ہاتھ بڑھاتا ہوں تو قلم بکھر جاتے ہیں۔ قلم سمیٹتا ہوں تو سیاہی الٹ جاتی ہے۔ اپنے حصے کی آوارگی میں دشت کے جس گوشے میں مَیں ہوتا ہوں، کبھی کبھار اس کی تاریکی اِس قدر بڑھ جاتی ہے کہ اکثر کہانیوں کو چھونے کا سوچتا ہوں تو ہاتھ کانپنے لگتے ہیں۔




اردو کی ادبی صحافت: دوسرا حصہ

اس مقالے کا پہلا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 

فہرست

(دوسرا حصہ)

اردو میں مجلاتی صحافت

ادارت اور فنِ ادارت

ادبی رسالے کے نظری اصول

ادبی رسالے کی اہمیت

ادارت کے مسائل

i۔ فیصلہ سازی کا مسئلہ

ii۔ ادارتی مجلس کی ضرورت

iii۔ مدیر بطور لکھاری

iv۔ رسالے کی ادبی ترجیحات

v۔ کسی صنف یا ادبی مسئلے سے تعصب کا اظہار

v ادبی صحافت کے عملی مسائل

v اداریہ نویسی

i۔رسالے کے بانی اورمہمان مدیر کے اداریے

ii۔ اداریے کا موضوع

iii۔اداریے کی طوالت

iv۔اداریے میں رسالے کے مندرجات کے مباحث

v۔’مہمان اداریہ‘کا تصور

v فہرست سازی مسئلہ

v رسالے میں مصنف کے نام کے اندراج کا مسئلہ

v مکرر اشاعت کا مسئلہ

v املا اور پروف ریڈنگ کا مسئلہ

v رسالے کا سر ورق

v ادبی رسالے کے موادکا حصول

v ادبی رسالے میں شائع ہونے والے خطوط / مراسلہ نگاری

v رسالے میں تجارتی اشتہارات کی اشاعت

v انٹرویو نگاری کے اصول

v شائع مواد کا اغلاط نامہ

v طباعت و تقسیم کے مسائل

-

اردو میں مجلاتی صحافت

ادبی مجلہ کتابی سلسلہ بھی ہو سکتا ہے اور ماہنامہ، سہ ماہی یا ششماہی بھی۔ مجلاتی صحافت پر اردو میں باقاعدہ انداز میں دو کتب لکھی گئی ہیں:

۱۔ مجلاتی صحافت کے ادارتی مسائل (روشن آرا راؤ)

۲۔ پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ (ابتدا تا ۱۹۸۸ء) (ڈاکٹر انور سدید)

مجلاتی صحافت کی اقسام:

دنیا بھر میں ادب کی اشاعت کے لیے مختلف قسم کے ادبی جرائد شائع ہو رہے ہیں۔ نئے اشاعتی ذرائع نے ادب پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔اس وقت اردو مجلاتی صحافت مندرجہ ذیل چار طرح کے ذرائع استعمال کر رہی ہے:

آن‌لائن ادبی میگزین:

کچھ ادبی رسالے آن لائن بھی شائع ہونے لگے ہیں۔ مگر آن لائن ادبی صحافت ہمارے موضوع کا حصہ نہیں۔ اس حوالے سے اتنا بتاتا ضروری ہے کہ مواد کے انتخاب کے لیے مدیر یا ادارتی ٹیم کو انھی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جو پرنٹ ادبی صحافت کے مراحل ہیں۔ االبتہ آن لائن ہونے کی وجہ سے مواد میں ہر وقت کانٹ چھانٹ یا ترمیم (پروف) کا اختیار رہتا ہے۔ نئے مضامین یا تخلیقی مواد کی اشاعت کی چوںکہ کوئی حد نہیں ہوتی، اس لیے کسی بھی وقت شائع کیا جا سکتا ہے۔ آن لائن ادبی رسائل ایک مسلسل ادبی صحافت ہے، جس کی ذمہ داریاں اور مسائل بھی مختلف ہیں۔

الیکٹرانک ادبی مجلاتی صحافت:

الیکٹرانک ادبی مجلے پی ڈی ایف یا دوسری سافٹ شکلوں میں شائع کیے جاتے ہیں۔ یہ پرنٹ ادبی مجلوں کی ہوبہو نقل ہوتے ہیں، جسے الیکٹرانک شکل میں ریلیز کر دیا جاتا ہے۔ چوں کہ آج کل ہر دوسرے آدمی کے پاس کمپیوٹر،گیجٹ (Gadgets) یا موبائل کی سہولت موجود ہے۔ اس لیے الیکٹرانک صحافت کو فروغ مل رہا ہے۔ طباعت، تقسیم کاری، افرادی قوت اور دیگر اخراجات سے بچنے کے لیے جدید طریقوں کو اپنایا جا رہا ہے۔

مطبوعہ ادبی مجلاتی صحافت:

اس تحقیقی پراجیکٹ میں ہمارا بنیادی سروکار مطبوعہ ادبی مجلاتی صحافت کے اصول و قواعد مرتب کرنا ہے۔

ادبی رسائل چونکہ ادبی تخلیقات اور ادبی حلقوں سے متعلق ہوتے ہیں، اس لیے ان کا دارومدار ادبی سرگرمی پر ہوتا ہے۔ادبی سرگرمی روزانہ کی خبروں کی طرح وقوع پذیر نہیں ہو رہی ہوتی، جن میں سے انتخاب کرکے صحافی خبروں کی زینت عطا کر دے۔ ادبی حلقوں میں ہونے والی سرگرمیوں تخلیق اور تنقیدی سوالات سے جڑی سرگرمی ہے، جس میں سے انتخاب کرکے مدیر کو مجلے میں شائع کرنا ہوتا ہے۔

یوں تو روزانہ کی بنیاد پر بھی مختلف اخبارات میں ادب کا ایک الگ سے گوشہ شائع ہوتا رہا ہے۔مگر ہم اسے ادبی جریدہ نہیں کہہ سکتے۔ سہ روزہ ادبی جریدے بھی ملتے ہیں، مگر ان کا بنیادی مقصد اشتہارات کی اشاعت ہوتا یا ادب بننے والی خبروں کو عوام تک پہنچانا تھا۔ ایک وقت تھا جب ادبی سرگرمی سماج کی اہم سرگرمی تھی، جسے سننا یا پڑھنا عوام پسند کرتے۔ ہفت روزہ ادبی جریدہ نکالنا سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔ ہر ہفتے ادبی سرگرمیوں کو پیش کرنا اور پھر معیار کو بھی قائم رکھنا بہت مشکل کام ہے۔ البتہ ہم دیکھتے ہیں کہ تقسیم ہندوستان سے پہلے اور بعد میں بھی ایک عرصے تک ہفت روزہ رسائل نکلتے رہے۔پندرہ روزہ اور ماہنامہ رسائل میں کثرت سے شائع ہوتے رہے۔ سب سے مقبول ادبی رسائل سہ ماہی اور ششماہی رہے ہیں۔ اردو کے بڑے ادبی جرائد سہ ماہی تھے یا ششماہی۔ سالانہ بنیادوں پر شائع ہونے والے ادبی جرائد بہت کم ہیں، ان کی جگہ کتابی سلسلوں کو مقبولیت حاصل رہی۔

اگر ادبی رسائل کو وقفۂ اشاعت کی ترتیب سے دیکھا جائے تو مندرجہ ذیل قسم کے ادبی جرائد پائے جاتے ہیں:

۱۔ ہفت روزہ
۲۔پندرہ روزہ
۳۔ماہنامہ

ہفت روزہ، پندرہ روزہ اور ماہانہ بنیادوں پر ادبی جریدہ نکالنابہت مشکل کام ہے، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ادبی رسالے کا بنیادی کام معیاری ادب کو سامنے لانا اور ادبی سرگرمیوں پر نئے سوال قائم کرنا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو روزانہ، ہفتہ وار یا ماہانہ وار معیاری ادب کو جمع آوری ایک مشکل بلکہ ناممکن کام ہوتا ہے۔ ادبی تخلیقات اور تحریروں کو وقت دینا چاہیے تاکہ ہر طرح کی لکھی جانے والی تحریر سامنے آ سکے۔ ماہنامہ ادبی رسائل میں ’ادبِ لطیف، شاعر، شب خون، معاصر‘ کو خاص شہرت حاصل رہی ہے۔

۴۔سہ ماہی/تماہی (مالک رام اپنے رسالے ’تحریر‘ کو، جو علمی مجلس دلی، کی طرف سے شائع ہوتا تھا، تماہی لکھتے)
ایسے رسائل جو تین ماہ بعد شائع ہوتے ہیں سہ ماہی جریدے کہلاتے ہیں۔ سہ ماہی جرائد میں اوراق، فنون، نیا ورق، سیپ، روشنائی، ارتقا، آج وغیرہ خاصی شہرت ملی۔

۵۔ششماہی

چھ مہینوں کے بعد شائع ہونے والے ادبی جرائد ششماہی جریدے کہلاتے ہیں۔ اردو کے ادبی جرائد کی ایک بڑی ششماہی ادبی سلسلوں پر مشتمل ہے۔ جن میں سمبل، تسطیر، نگار،سیپ وغیرہ شامل ہیں۔

۶۔ سالانہ

ہر سال شائع ہونے والے ادبی جریدے سالانہ جرائد کہلاتے ہیں۔ ایسے جریدوں میں، خیال، آفرینش، وغیرہ شامل ہیں۔

۷۔ کتابی سلسلہ

کتابی سلسلہ اصل میں رسالے کی کتابی شکل ہے، جس کی کوئی خاص وقت ِاشاعت متعین نہیں ہوتا۔ جس طرح کتابی مواد کو کسی بھی وقت شائع کیا جا سکتا ہے، اسی طرح رسالے کا کتابی سلسلہ کسی وقت بھی شائع کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے لیے کسی ڈکلیریشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ کتابی سلسلوں میں آج، شعر و حکمت، دنیا زاد، زر نگار، لوح نقاط، مباحث وغیرہ شامل ہیں۔

۸۔ خصوصی شمارے، خاص نمبر

کسی بھی ادبی رسالے کا خصوصی یا خاص نمبر کسی اہم موضوع، شخصیت کے حوالے سے شائع کیے جاتے ہیں۔ جیسے منٹو نمبر، اقبال نمبر، غالب نمبر، غزل نمبر، نظم نمبر،آزادی نمبر، مابعد جدید نمبر وغیرہ۔ یوں دیکھا جائے تو خاص نمبر موضوع، شخصیت اور صنف کے حوالے سے ترتیب دیا جاتا ہے۔ خاص نمبروں میں رسالے کے موضوع کی مناسبت سے مواد جمع کیا جاتا ہے۔ ایسے شماروں میں طبع زاد مضامین یا تخلیقی ادب کے علاوہ شائع شدہ مواد بھی شامل کیا جاتا ہے۔ مدیر یہ کوشش کرتا ہے کہ موضوع پر زیادہ سے زیادہ مواد اکٹھا ہو سکتے اور قاری کو اس حوالے سے بہتر ادب کا مطالعہ اور نئے سوالات اجاگر کرنے میں سہولت ہو۔ بھارت سے اثبات، شعر و حکمت، نیا ورق وغیرہ، جب کہ پاکستان سے استعارہ، نقاط، سمبل، ارتقا، تسطیر، لوح وغیرہ نے خاص نمبروں کے ذریعے قارئین کے لیے بہترین ادب کا انتخاب پیش کیا۔ ادبی دنیا،نگار، نقش، ساقی، اوراق، فنون اور نقوش کے خصوصی نمبروں کو خاصی شہرت ملی۔

موضوع کے لحاظ سے

کچھ ادبی رسائل میں خاص موضوعات اور مخصوص اصناف کو جگہ دی جاتی رہی ہے۔ جیسے راولپنڈی سے شائع ہونے والا ’’معاصر شاعری‘‘ (مدیر: سعید احمد) صرف شاعری کو شائع کرتا رہا۔ اسی طرح کراچی سے شائع ہونے والا رسالہ ’’آج‘‘ (مدیر: اجمل کمال) میں فکشن تراجم کو اہمیت دی جاتی ہے۔ موضوعاتی ادبی صحافت جو مخصوص ادبی موضوعات یا اصناف پر مشتمل ہو، اردو میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

-

ادارت اور فنِ ادارت

ادب چونکہ ایک فن ہے اور کسی فن کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے سے پہلے اس فن کے رموز کو جاننا ضرروی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص صحافتی سطح پر مہارت رکھتا ہو، اسے طباعت کے اصول و ضوابط کا علم ہو اور مطبوعہ مواد کی تقسیم کاری کا ہنر بھی آتا ہو، مگر ادب سے کم واقف یا مکمل نابلد ہو۔ ایسا شخص کسی ادبی رسالے کا کامیاب مدیر نہیں ہو سکتا۔ اُسے انتخاب اور جمع آوری کے لیے اصل ذرائع تک رسائی نہیں ہو پائے گی۔ وہ ادبی معیار کیسے متعین کرے گا اگر وہ ادب کی الف ب سے بھی واقف نہیں۔ سو ہو سکتا ہے کہ ایسے رسالے کو اعلیٰ طباعت کے باوجود پذیرائی نہ ملے اور رسالہ معیار بندی قائم کرنے میں ناکام رہے۔

فنِ ادارت اور مدیرکے اوصاف کیا ہونے چاہیے۔ ادارت کے لیے مدیر یا خود رسالہ نکالتا ہے یا مہمان ادارت کے طور پر کسی رسالے میں بطور مدیر فرائض سر انجام دیتا ہے۔ دونوں صورتوں میں اسے مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھنا چاہیے:

۱۔ مدیر کوواضح ہونا چاہیے کہ وہ رسالہ کیوں شائع کرنے جا رہا ہے;۔ اس کی نوعیت کیا ہوگی۔

۲۔ مدیر کے سامنے واضح ہو کہ اس کے رسالے کی ادارتی پالیسی کیا ہوگی۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ بس جیسا بھی ادب ہو اُسے شائع کر دینا مدیر کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

۳۔ مدیر کو فنِ طباعت اور کتاب کی جدید شکل(سافٹ فارم) کا مکمل علم ہونا چاہیے۔

۴۔ جس زبان میں رسالہ نکالا جا رہا ہو، اس زبان کی معاصر تخلیقی، تحقیقی و تنقیدی سرگرمیوں کا بھی علم ہونا چاہیے۔ کس سطح کا ادیب کیا ادب لکھ رہا ہے، مدیر کو مکمل آگاہی ہو۔

۵۔ فنِ عروض سے آگاہی ہو، اگر فن عروض نہیں جانتا تو شاعری کے ماہرین سے مدد لازمی لیتا ہو۔ اسی طرح ادبی تاریخِ اصناف سے مکمل آگاہ ہو۔

۶۔ املا کے حوالے سے بنیادی معلومات رکھتا ہو تاکہ اشاعت کے دوران بڑی اغلاط سے پرچہ محفوظ رہ سکے۔

-

ادبی صحافت کے نظری اصول

اصل میں ہر رسالے کے پس منظر میں نظریاتی پالیسی کام کر رہی ہوتی ہے۔ مخصوص طرز کے ادیب یا تحریریں محض مدیر کے حلقہ احباب سے نمایاں نہیں ہوتے بلکہ ان کا براہ راست تعلق نظریاتی پالیسی سے ہوتا ہے۔

انور سدید نے ادبی صحافت کے جو نظری اصول پیش کیے ہیں، وہ مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔ ادبی صحافت میں تخلیقی ادب کی پیش کش، تعارف اور فروغ کو فوقیت حاصل ہے۔

۲۔ (ادبی صحافت) کا مقصد ادبا کی تخلیقی اور ذہنی کروٹوں کو محفوظ کرنا بھی ہے۔

۳۔ تخلیقی ادب سے پیدا ہونے والے مباحث اور ان اصناف کی نئی بوطیقا وضع کرنا۔

۴۔ ہر دور میں پروان چڑھنے والی تحریکوں اور رجحانات کا احوال رقم کرنا۔

۵۔ (مجلہ) کہنہ مشق ادیبوں کی فکر کی جولاں گاہ ہے اور اس کے ساتھ ہی نئے ادیبوں کی تربیت کا گہوارہ بھی۔

یہ ادبی پالیسی کا مکمل چارٹ ہے، جس کے تحت ایک پرچے کو جانچا جا سکتا ہے۔ اب ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ادبی دنیا، ساقی، شب خون، فنون، اوراق یا آج کے نمایاں ادبی جرائد، آج، سویرا، دنیا زاد، سمبل، نقاط یا تسطیر ایک دوسرے سے مختلف کیوں دکھائی دیتے ہیں۔

-

ادبی رسالے کی اہمیت

۱۔ کسی بھی موضوع پر سوال نامہ پیش کر کے طویل بحثیں کروائی جا سکتی ہے۔ (’ادبی دنیا‘، ’ساقی‘، ’اوراق‘ اور ’نقوش‘کے سوال نامے جس کی ایک مثال ہیں)

۲۔ تازہ اور متنوع تخلیقی ادب کو ایک جگہ پیش کیا جاتا ہے، تاکہ تخلیقی ادب کے تازہ مجموعی مزاج کو سمجھا جا سکے اور ادب کی تخلیقی سمت کو دیکھا جا سکے۔

۳۔ عصر حاضر کے ہر خطے اور تمام نسلوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ بہت نو آموز اور نہایت سینئر ادیب رسالوں میں اکٹھے شائع ہوتے رہے ہیں۔

۴۔ جینڈر (صنفی) تقسیم کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ مرد ادیبوں کے ساتھ خواتین ادیبوں کے تخلیقی و تنقیدی ادب کو پیش کیا جا سکتا ہے۔

۵۔ ادب کی ہر صنف کی ترویج و اشاعت کی جا سکتی ہے۔ شعری اصناف سے لے کر بڑی نثری اصناف تک کو ایک جگہ شائع کیا جا سکتا ہے، جس سے چھوٹی بڑی ہر صنف ترقی کرتی ہے اور قرات کا حصہ بنتی رہتی ہے۔ کم لکھنے یا محدود ہونے کی وجہ سے مر کے منظر سے غائب نہیں ہوجاتی۔

۶۔ ادیبوں کے انٹرویوز شائع کیے جا سکتے ہیں، جس سے ادب میں مکالمے کی فضا تیار ہو سکتی ہے۔

۷۔ خطوط کی شکل میں ہر قاری بھی ادبی سرگرمی میں شامل ہو سکتا ہے۔ کسی بھی تخلیقی و تنقیدی فن پارے پر سوال قائم کر سکتا ہے۔

۸۔ ادب کے ساتھ فنونِ لطیفہ کی دیگر شاخوں (مجسمہ سازی، تصویر سازی اور گائیکی) کو بھی جگہ دی جا سکتی ہے،جن سے ادبی متن بالواسطہ اثر انداز و اثر پذیر ہوتا رہتا ہے۔

۹۔ تراجم کی اہمیت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ عالمی زبانوں کے ادب سے مقامی زبانوں میں ادب کی منتقلی ہمیشہ سے ادبی رسائل کا حصہ رہی ہے۔ اب تو کچھ دہائیوں سے علاقائی ادب کو بھی غیر ملکی زبانوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ ادبی رسائل اس اہم فریضے سے کسی طرح سبکدوش نہیں ہو سکتے۔

۱۰۔ یادِ رفتگاں کے حوالے سے ادیبوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکتا ہے۔

۱۱۔ خاص نمبرز یا گوشوں کی شکل میں اہم شخصیات اور خاص موضوعات پر مکالمہ کیا جا سکتا ہے۔

-

ادارت کے مسائل

کسی بھی ادبی رسالے کی ادارتی انتظامیہ میں کئی طرح مدیر ہو سکتے ہیں، جو رسالے کی متنی اور اشاعتی مسائل کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ مدیر اُن تمام ذمہ داریوں سے گزرتا ہے جو ادبی رسالے کے آخری متن کی تیاری تک موجود رہتی ہے۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ مدیر ہی رسالے کے متن کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ کسی بھی قسم کی قانونی، اشاعتی یا تخلیقی اغلاط کا ذمہ دار صرف مدیر ہوتا ہے۔ اس لیے مدیر کو چاہیے کہ وہ رسالے کے متن کی تمام ذمہ داری کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، اپنے مدیرانہ فرائض انجام دے۔ مدیر کے معاون کار تمام اہم مدیرانہ اُمور ادا کرنے کے باوجود اُس اہم مسئلے سے دوچار نہیں ہوتے جسے۔ ادبی ذمہ داری۔ کا نام دیا جا سکتا ہے۔ اسی ذمہ داری کی بدولت ایک ادبی رسالہ بعض اوقات تخلیقی، اشاعتی یا قانونی مسائل کا بھی سامنا کر سکتا ہے۔ معاون کار تو محض سہولت مہیا کر رہے ہوتے ہیں، متن ان کی ذمہ داری نہیں ہوتا۔ اکثر ادبی جرائد کے مدیران وقت کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داریاں اپنے معاون کاروں کو دینا شروع کر دیتے ہیں اور صرف پالیسی ساز فیصلوں تک محدود ہو جاتے ہیں۔ اردو کے بہت سے بڑے ادبی رسالے اس طرح کے مراحل سے گزرے ہیں۔ چونکہ اکثر بڑے اردو ادبی رسائل سے وابستہ ادیب خود بھی بڑے تخلیق کار تھے، اس لیے ان کی بے پناہ تخلیقی اور ادبی مصروفیات کی وجہ سے انھیں اپنے ساتھ معاون کار رکھنے پڑے۔ یہ معاون کار ادبی متن کو پڑھتے، آنے والی تخلیقات کی معیار بندی کرتے اور ادیبوں کی درجہ بندی جیسے حساس معاملات سنبھالنے لگے، جس سے رسالے کے حوالے سے مدیر کی پالیسی متاثر ہونی لگی۔ اکثر جرائد تو غیر معیاری ہو کے رہ گئے۔ کچھ مدیران نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں اپنے معاون کاروں کو مختلف ذمہ داریاں دے کے ادبی رسالہ ان کے حوالے کر دیا اور محض اشاعت کے بعد کاپیاں دیکھنے لگے۔ ہوا یہ کہ ایسے بڑے ادبی رسالے اپنے آخری وقتوں میں بہت زیادہ غیر معیاری اور ہلکے متون کی اشاعت کی وجہ سے بد نام ہو گئے۔ اس سلسلے میں وزیر آغا اور شمس الرحمن فاروقی نے بالترتیب اپنے رسالے "اوراق" اور "شب‌خون" کو اپنی زندگی میں ہی بند کر دیا۔ کچھ لوگ تذبذب کا شکار تھے کہ رسالہ کیوں بند کر دیا گیا حالاںکہ بہت سے معاون کار ان دونوں ادبی جرائد کو میسر تھے۔ ان کا موقف تھا کہ وہ اپنے رسالوں کو وہ توجہ نہیں دے پا رہے جو کسی بھی رسالے کی معیار بندی کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ پرچہ غیر معیاری اور بعض اوقات کچھ تکنیکی مسائل کی وجہ سے بدنامی کا شکار ہونے لگتا ہے۔

فنون کی مثال سامنے کی ہے، جو مدیر احمد ندیم قاسمی کی زندگی میں ہی ان کی معاون کار منصورہ احمد کے حوالے ہو گیا تھا تاکہ یہ رسالہ ان کی زندگی کے بعد بھی جاری رہے۔ منصورہ احمد نے احمد ندیم قاسمی کے بعد اپنا رسالہ "مونتاج" جاری کیا جس کے چند شمارے ہی شائع ہو سکے اور خود منصورہ دنیا سے چلی گئیں۔ مونتاج اور (قاسمی کی زندگی کے آخری ایام میں) فنون کی ادبی ادارتی پالیسیوں میں انیس بیس کا بھی فرق نہیں تھا۔ فنون کے پیچھےقاسمی کی ادبی پالیسیوں کا نصف کا پہیہ چل رہا تھا مگر مونتاج کے چند شمارے کی آسکے اور رسالہ بند ہو گیا۔ احمد ندیم قاسمی رسالے کو پورا وقت نہیں پاتے تھے مگر ان کی خواہش تھی کہ ان کی زندگی کے بعد بھی رسالہ جاری رہے۔ یاد رہے کہ ادبی رسالہ صرف اپنے مدیر کے ساتھ ہوتا ہے۔ گو قاسمی صاحب کہتے رہے کہ وہ ہی ہر طرح کے ذمہ دار ہیں مگر درپردہ یہی ایک مسئلہ درپیش تھا کہ وہ مدیرانہ ذمہ داریوں کو تقسیم کر چکے تھے۔

اس لیے مدیر کی سب سے اہم ذمہ داری ہی یہ ہے کہ وہ رسالے کا خود مختار ذمہ دار ہے۔ اس کے معاون کار کسی طور بھی ادبی رسالے کی نظریاتی پالیسی کے ذمہ نہیں کہلائے جا سکتے۔ اس سلسلے میں مدیر کے لیے مندرجہ ذیل مسائل سے گزرناضروری ہے۔

۱۔ فیصلہ سازی کا مسئلہ

فیصلہ ساز ایڈیٹر صرف ایک ہونا چاہیے۔ ایڈیٹر کے ساتھ سب ایڈیٹرز کا ہونا بھی ضروری ہے، جو طباعت و اشاعت کے مختلف مراحل کو دیکھ سکیں۔ اگر مدیر یہ سمجھتا ہے کہ وہ تمام اشاعتی اور انتخابی معاملات کو فرداً فرداً دیکھ سکتا ہے تو یہ طریقہ کار خطرناک نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ بہت سی اغلاط اور متنی و اشاعتی مسائل کی وجہ سے ادبی رسالے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ معاون کار یا سب ایڈیٹرز کی خدمات ضرور حاصل کرنی چاہیے۔

۲۔ ادارتی مجلس کی ضرورت

مجلسِ مشاورت یا ادارتی بورڈ ادبی رسائل کی فکری و فنی مسائل کے علاوہ بعض اوقات قانونی معاملات پر مدیر کو مشاورت فراہم کرتا ہے۔ عموماً مجلسِ مشاورت میں مدیر اپنی مرضی سے ادب و علم سے وابستہ ایسے ناموں کا انتخاب کرتا ہے، جو ادبی حلقوں میں ادبی مقام رکھنے کے ساتھ ساتھ مدیر اور رسالے کے معیار اور وقار کے لیے کام کر سکیں۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ رف وہی نام رکھیں جائیں جو ادب میں اعلیٰ مقام ہی رکھتے ہوں۔ ایسے ادیب بھی مجلسِ مشاورت کا حصہ ہو سکتے ہیں، جو ادبی مسائل پر اچھی دسترس تو رکھتے ہوں مگر ادبی حوالے سے غیر معروف ہوں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ یہ ادارتی بورڈز ان رسالوں کے لیے زیادہ مفید رہتے ہیں جہاں ادبی رسالہ کسی انجمن یا ادارے کے ماتحت شائع کیا جا رہا ہو۔ جہاں ادارتی بورڈ اُس ادارے کی پالیسیوں پر کاربند رہنے کے لیے مدیر کو ہدایات جاری کرتا رہے۔ ایسے رسائل جہاں مدیر ہی سب کچھ ہوتا ہے، وہاں مجلسِ مشاورت یا بورڈ کا قیام بعض اوقات مسائل کھڑے کرتا ہے۔ مدیر اپنی مجلسِ مشاورت کی آرا کا پابند تو نہیں ہوتا مگر اس کی کوشش ہوتی ہے کہ بورڈ کو رسالے کے معاملات سے آگاہ کرتا رہے۔ کہیں یہ صورتِ حال بھی پیدا ہو سکتی ہے کہ ادارتی بورڈ مدیر کی آزادانہ کے خلاف رائے رکھتا ہو۔ اس لیے تخلیقی ادب کے نمائندہ ادبی رسائل کے لیے مجلسِ مشاورت یا ادارتی بورڈ کا تصور محض تصوراتی ہے، اسے نہیں ہونا چاہیے۔ مجلسِ مشاورت ادبی متن کی معیار بندی کے لیے بنائی جاتی ہے مگر دیکھا گیا ہےکہ ان مجلسوں کا شراکتی کردار نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔

۳۔ مدیر بطور لکھاری

مدیر کو بطور مصنف یا شاعر بہت کم سامنے آنا چاہیے۔ عموماً مدیران اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ ادبی فرائض انجام دینا اور خود بطور ادیب اپنی تخلیقات کے ساتھ مباحث کا حصہ بننا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ کچھ مدیران دونوں کو ایک ساتھ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مدیران کو اپنے ادبی پرچوں کا ضرور حصہ بننا چاہیے مگر ان کی حیثیت بھی ایک لکھاری کے طور پر ہی ہونی چاہیے۔ اگر وہ خود کو نمایاں کرنے اور مختلف ذرائع سے خود کو زیرِ بحث لانے کی کوشش کریں گے تو ادبی رسالہ انجمن ستائشِ باہمی کا مرقع بن جائے اور جلد ادبی حلقوں میں پذیرائی لینے میں ناکام ہو جائے گا۔

۴۔ رسالے کی ادبی ترجیحات

مدیر کو اپنی ترجیحات کی بجائے ادب کی مجموعی ترجیحات کو سامنے رکھنا چاہیے۔ ایک مدیر کی ذاتی ترجیحات اور مجموعی ادبی ترجیحات میں بہت فرق ہوتا ہے۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک ادیب کی کسی خاص صنف، موضوع یا ادبی مسئلے میں دلچسپی ہو مگرمجموعی ادبی سطح پر یہ ادبی دلچسپیاں زیادہ فائدہ مند یا وسیع تخلیقی و ادبی سرگرمی نہ ہوں۔ ایسے میں مدیر کو چاہیے کہ وہ ذاتی دلچسپی کو قربان کرکے مجموعی ادبی سرگرمی کو سامنے رکھے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ مدیران کسی خاص ادبی صنف یا بڑی سطح پر نثر یا شاعری میں سے کسی ایک کے حمایت یافتہ ہوتے ہیں۔ تنقید یا تخلیق میں بھی مدیران کی ترجیحات متعین ہوتی ہیں۔ کچھ کے ہاں تخلیقات کو زیادہ جگہ دی جانی چاہیے اور کچھ کے نزدیک تنقیدی مضامین ادبی مباحث کو جنم دیتے ہیں۔ کئی ادبی رسالے نثر اور شاعری کی مقدار میں عدم توازن کا شکار ہو جاتے ہیں اور انتہاپسندانہ نقطہ نظر پالیسی اپنا لیتے ہیں۔ بعض مدیران کے ہاں کسی خاص صنف جیسے ناول، افسانہ یا نظم وغیرہ کے حوالے سے خاص ادبی تعصب نظر آتا ہے۔

ہر مدیر کا یہ حق ہے کہ وہ خاص زاویہ نظر سے ادب کی معیار بندی اور پیش کش کو اپنے رسالے میں بطور ترجیح شامل کرے مگر اس کا ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ کسی ایک ادبی صنف سے وابستہ تخلیق کار رسالے سے دور ہوتے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ رسالہ صرف تخلیقات کی اشاعت کا ہی بندوبست نہیں کرتا بلکہ ان کی معنوی درجہ بندی بھی متعین کرنے کا انتظام کرتا رہتا ہے۔ فکشن کو ترجیح دینے والے ادبی رسائل میں فکشن کے لکھاری زیادہ شوق سے رجوع کریں گے جب کہ شاعری کے نمائندہ رسالے اچھے شاعروں کی ترجیحات کا حصہ بنیں گے۔

پچھلی صدی کی آخری دو دہائیوں میں اوراق اور فنون  نے اپنے لکھاریوں کو اسی قسم کی تقسیم سے دوچار کیے رکھا۔ غزل لکھنے والے زیادہ تر فنون میں چھپنا پسند کرتے اور زیادہ زیرِ بحث آتے۔ اسی طرح تنقید، ادبی سوالات اور نظم کے حوالے سے اوراق کو زیادہ اہمیت ملی۔ یاد رہے کہ یہاں ان ادبی رسالوں کا ذکر نہیں کیا جا رہا جو خالصتاً کسی ایک صنف (Genre) کے لیے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے رسالوں میں کبھی کبھار دوسری اصناف بھی شائع ہوجاتی ہیں مگر ان کی اشاعتی ترجیح صرف ایک صنف تک محدود ہوتی ہے۔ اجمل کمال کا رسالہ " آج" فکشن کا نمائندہ رسالہ ہے۔ فکشن میں بھی آج نے تراجم کو بہت جگہ دی۔ آج میں شائع ہونے والے عالمی ادب کے تراجم اردو ادب میں نہایت اہم ادبی اثاثہ تصور کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح راولپنڈی سے سعیداحمد نے صرف شاعری کی ترویج و اشاعت اور ادبی مباحث کے لیے ایک رسالہ "معاصر شاعری" نکالا۔ اس پرچے میں سعید کا مطمحِ خاص تخلیقی متون میں صرف شاعری تھا۔

۵۔ کسی صنف یا ادبی مسئلے سے تعصب کا اظہار

جس طرح کسی خاص صنف کو ترجیح نہیں دینی چاہیے، اسی طرح کسی ادبی مسئلہ یا ادبی شخصیت سے تعصب یا نفرت کا بھی اظہار بطور پالیسی نہیں ہونا چاہیے۔ مدیران بعض اوقات کسی ادبی شخصیت،کسی ادبی مسئلہ (علامت نگاری، ادبی تھیوری، کلاسیکی ادب وغیرہ) اورصنف سے کد رکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے رسالے کی غیر شعوری طور پریہ پالیسی بن جاتی ہے۔ ایسی صورتِ حال سے بچنا چاہیے۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کچھ رسالوں میں کچھ ادبی شخصیات کا چھپنا ممنوع تھا اور بعض موضوعات کے خلاف پالیسی کے طور پر زہر اُگلا جاتا تھا۔ مدیران کچھ اصناف کے خلاف احباب سے کہہ کے مضامین لکھواتے تاکہ ان کے لکھنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ ادبی رسالہ کے مدیران کو بطور پالیسی اس طرح کے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔

۶۔ ادبی رسالے کے مدیر کو مندرجہ ذیل نکات کا بھی خیال رکھنا چاہیے:

i۔ کسی بھی تحریر کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

ii۔ ادیبوں سے براہِ راست رابطہ ہونا چاہیے، ڈاک پر کلی انحصار نہیں کرنا چاہیے۔

iii۔ ادب میں پیدا شدہ نئے سوالات پر مکالمہ کروانا یا تحریریں لکھوائی جانی چاہیے۔

iv۔ رسالہ ادب میں کسی نئی تحریک یا رجحان کا آغاز کر سکتا ہے۔

v۔ ادبی سطح ہونے والی ہر تخلیقی سرگرمی پر نظر ہونی چاہیے۔

vi۔ ملک، مذاہب یا کسی شخص یا ادارے کے خلاف کے نفرت کو نہیں شائع کرنا چاہیے۔ قانونی معاملات میں ادبی رسالے کو نہیں الجھانا چاہیے۔

ادبی صحافت کے عملی مسائل

اداریہ نویسی

اداریہ (Editorial) ادبی رسالے کا اہم حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ اداریہ ایسی تحریر کو کہا جاتا ہے، جس میں کسی اہم سماجی مسئلے کی طرف توجہ دلائی گئی ہو۔ اداریہ ہمیشہ مدیر یا ادارے کی نمائندہ تحریر ہوتی ہے۔ اخبارات میں اداریہ مدیر کے علاوہ ادارتی عملہ، معاون مدیر یا مدیر کی طرف سے نمائندہ کوئی بھی فرد تحریر کر سکتا ہے۔ اخبارات میں شائع ہونے والی ادارتی تحریر بغیر نام یا دستخط کے ہوتی ہے،جب کہ ادبی رسالے کے اداریے مدیر ِ رسالہ کے نام سے شائع کیے جاتے ہیں۔ اخبارات میں اداریے کی جگہ ادارتی صفحہ ہوتی ہے، جہاں کالم یا آرا شائع کی جاتی ہیں۔ اخبارات کی طرح ادبی رسالے میں بھی مدیر ادارتی نوٹ یا تحریر پیش کرتا ہے۔ اخبارات کے اکثر اداریوں میں حالاتِ حاضرہ کے موضوعات کو پیش کیا جاتا ہے۔ اداریوں میں کئی مربوط واقعات کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ کئی موضوعات کو باریک بینی سے چھانا جاتا ہے۔ کئی واقف لوگ اداریوں کو اخبارات کی ذاتی رائے بھی قرار دیتے ہیں۔

ادبی رسالے کا اداریہ لکھتے ہوئے مدیر کے سامنے مندرجہ ذیل مسائل ہوتے ہیں:

۱۔ رسالے کے بانی اور مہمان مدیر کے اداریے

کسی بھی ادبی رسالے کے مدیران دو طرح کے ہو سکتے ہیں۔ اگر رسالہ کسی تنظیم، ادارے یا کونسل وغیرہ کاہے اور اس کا مدیر بطور مہمان مدیر کام کر رہا ہے تو ایسے مدیر کے لکھے ہوئے اداریے، تنظیم یا ادارے کی فکر کے نمائندہ تصور کیے جائیں گے۔ ایسے اداریوں میں مدیران کی فکر کا ذاتی جھکاؤ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ ادارے کی پالیساں اور نمائندہ فکر کی ترجمانی ضروری ہوتی ہے۔ عموماً ایسے اداریوں میں تنظیم یا ادارے کی طرف سے غیر ادبی مسائل پرزیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ اداریوں میں مدیران اپنا نام بھی نہیں لکھتے۔ البتہ ایسے رسالے جن کے مدیران خود بانی بھی ہیں،ان کے اداریوں میں ان کی ذاتی رائے یا رجحان کو ان کا جمائندہ ہی تصور کیا جانا چاہیے۔

۲۔ اداریے کا موضوع

ادبی رسالے کے اداریے کا موضوع ادب یا ادبی معاملات ہی ہونے چاہیے۔ ادب سے متعلقہ مسائل یعنی فلسفہ، تہذیب، تاریخ، جمالیات، لسانیات وغیرہ بھی اداریوں کا موضوع ہو سکتے ہیں۔ غیر ادبی موضوعات یعنی سیاست، سماجی مسائل، مذہبی شخصیات وغیرہ کو اداریوں کا موضوع نہیں ہونا چاہیے۔ کچھ ادبی ارسالوں کے مدیران نے سیاسی موضوعات اور غیر ادبی شخصیات کو بھی اپنے اداریوں کا حصہ بنایا جیسے؛ ملالہ یوسف زئی کو نوبل انعام کا ملنا، بھٹو کی سیاست، ملکی سیاست میں عدالتوں کا کردار وغیرہ۔ ایسے موضوعات ادبی رسالے کے اداریے ہرگز نہیں ہو نے چاہیے۔

ادبی رسالے کے موضوعات ادبی حوالے سے نظری (Theoretical) بھی ہو سکتے ہیں اور عملی (Practical) بھی۔ نظری موضوعات پر بات کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ اس میں کسی اہم ادبی مسئلے یا جہت کی طرف توجہ دلائی گئی ہو۔ اندازِ تحریر بہت واضح اور مختصر ہو۔ اداریوں میں حوالہ جات یا کوٹیشنز کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔ ناگزیر صورت میں حوالہ جات کو مختصر یا تحریر میں رہنمائی کی حد تک کسی کے خیال کوپیش کیا جانا چاہیے۔

۳۔ اداریے کی طوالت

اداریے کی طوالت بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اداریوں میں کسی اہم ادبی مسئلے کی طرف اشارہ ہی کاف ہوتا ہے مگر اردو میں کچھ مدیران کے ہاں اداریے اس قدر طویل اور بوجھل نظر آتے ہیں کہ وہ اداریے سے زیادہ تحقیقی مقالہ معلوم ہوتے ہیں۔ تحقیقی مقالوں کی طرح ہی ان میں حوالہ جات اور بحث کے لیے طویل دلائل پیش کیے جاتے ہیں۔ ادبی رسالوں کے لیے ایسے اداریے نہیں لکھے جانے چاہیے۔ کچھ مدیران اداریوں کی جگہ کتابوں کا تعارف کرواتے ہوئے طویل بحث بناتے ہیں جس سے اداریہ مقالے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ادبی رسالہ ’’بادبان‘‘ اس حوالے سے خاصی شہرت رکھتا رہا، جس کے مدیر ناصر بغدادی طویل تر اداریے لکھتے تھے۔ یہ اداریے اب الگ سے کتابی شکل میں شائع بھی ہو چکے ہیں۔
اداریہ کی طوالت زیادہ سے زیادہ دو یا تین صفحات ہونی چاہیے۔ اداریہ آدھے صفحے کا بھی ہو سکتا ہے مگر اس میں ادبی مسئلہ کے اہم نکات شامل ہونے چاہیے۔

۴۔ اداریے میں رسالے کے مندرجات کے مباحث

کچھ ادبی رسائل کے مدیران اداریے میں کسی ادبی مسئلے کو اجاگر کرنے کی بجائے رسالے کے مندرجات کو زیرِ بحث لاتے ہیں۔ ایسی تحریریں اداریے نہیں کہلاتیں بلکہ انھیں رسالے کا دیباچہ یا تمہیدی الفاظ کہا جا سکتا ہے۔ ایسی تحریروں میں مدیر بتاتا ہے:

i۔ اس نے رسالے میں مواد کی دستیابی کو کیسے ممکن بنایا۔

ii۔ رسالے کی اشاعت میں کون سی مشکلات کا سامنا رہا۔

iii۔ قارئین کوکن تحریروں یا فن پاروں پر توجہ دینی چاہیے۔

iv۔ رسالے کا مجموعی مزاج کیسا ہے۔

v۔ پچھلے شماروں میں کسی تحریر کی اشاعت پر وضاحت وغیرہ

گویا حرفِ آغاز طرز کی تحریر میں مدیر قارئین سے ہر وہ بات کر سکتا ہے جو مدیر یارسالے کے حوالے سے وضاحت طلب یا اسے بتانا ضروری ہو۔ ایسے مدیر کے نوٹ اداریہ نہیں کہلائے جاتے۔ اداریہ مندرجات پر گفتگو نہیں بلکہ کسی ادبی یا ادب سے متعلقہ کسی اہم موضوع یا مسئلے پر اظہار خیال کا نام ہے۔ لہٰذا رسالے کے مدیر کو وضاحتی تحریروں اور اداریوں کے فرق کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ دونوں طرز کی تحریریں بھی ایک ساتھ شائع کی جا سکتی ہیں۔

۵۔ ’مہمان اداریہ‘ کا تصور

بعض ادبی رسالے خود اداریہ لکھنے کی بجائے کسی سینئر ادبی شخصیت سے مہمان اداریہ لکھواتے ہیں۔ مہمان اداریہ بھی کسی اہم ادبی مسئلے یا جہت پر مشتمل ہوتا ہے۔ مہمان اداریہ کسی ادبی مسئلے یا نیا ادبی سوال پیش کرکے بھی مدیرِ رسالہ کی طرف سے لکھوایا جا سکتا ہے۔ مثلاً مدیر کسی شخصیت کو کہ سکتا ہے کہ ’’اردو ادب میں ناول بطور بیانیہ‘‘ کے موضوع پر اداریہ لکھے۔ مدیرِ رسالہ ایک سے زیادہ شخصیات سے بھی کہہ سکتا ہے کہ آپ اس ادبی مسئلے پر اپنی رائے کا اظہار کریں یا اس پر آپ کا کیا موقف ہے، بطور اداریہ تحریر کریں۔

مہمان اداریہ مدیرِ رسالہ کی نہیں بلکہ رسالے کی نمائندہ تحریر تصور کی جاتی ہے، مگر مہمان شخصیت کے نام ہی سے شائع ہوتی ہے۔

فہرست سازی کا مسئلہ

ادبی رسالے میں فہرست (Content List) بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ فہرست ہی رسالہ میں موجود ادبی و علمی مواد کو تخلیقی جہت عطا کرتی ہے۔ کسی بھی رسالے کے مطالعے سے پہلے قاری فہرست پر نظر دوڑاتا ہے اور اپنے مزاج کے مطابق مواد کا انتخاب کرتا ہے۔ فہرست ہی سے پتا چلتا ہے کہ مدیر یا ادارتی ٹیم  نے کس طرح کے ادب کا انتخاب کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں فہرست رسالے میں موجود مواد پر طائرانہ نگاہ ڈالنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ فہرست کی اہمیت کا اس سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر رسالے کا مواد فہرست میں پوری تخلیقی توانائی سے نظر نہیں آپایا تو رسالے کے انتخاب کا تاثر بہت برا ہو سکتا ہے۔ تخلیقی توانائی سے مراد ہے. رسالے میں موجود مواد کو اس کی ادبی چاشنی کے ساتھ پیش کرنا۔ اگر مضامین، تجزیے، تبصرے، خطوط، تراجم کو ایک ہی جگہ ’تنقید‘ کے نام سے شائع کر دیا جائے تومدیر کی تنقیدی بصیرت پر سوال اٹھے گا۔ اسی طرح شاعری کے حصے میں ہر صنفِ شعر کو اکٹھا کر دیا جائے تو قاری کے لیے مواد کا اعلیٰ انتخاب ہونے کے باوجود دلچسپی کم ہو جائے گی۔ اسی طرح لکھاریوں کے حفظِ مراتب کا خیال نہیں رکھا گیا تو قاری محسوس کرے گا کہ مدیر ادبی حلقوں سے پوری طرح آگاہ نہیں۔ اس لیے مدیر کو چاہیے کہ وہ رسالے کی فہرست پر بہت توجہ دے۔

ادبی رسالے کی فہرست بناتے ہوئے، مدیر کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ مدیر کو چاہیے کہ ان مسائل کو حل کرتے ہوئے اپنے رسالے کے لیے کچھ اصول مرتب کر لے۔ اس کا حق ہے کہ فہرست بناتے ہوئے جس بھی نقطۂ نظر کو بہتر سمجھے اس کو فہرست سازی کے دوران ایک اصول کے طور پر اپنے رسالے میں جاری رکھے۔ مگر ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ رسالے کے ہر شمارے میں مدیر، فہرست بناتے ہوئے اپنے گذشتہ موقف سے انحراف کرتا ہوا دکھائی دے۔

کچھ ادبی رسائل فہرست بناتے ہوئے مواد کی کسی بھی قسم کی تقسیم کے قائل نہیں ہوتے۔ ان کے نزدیک جتنا بھی مواد شائع کیا جائے، اسے کسی ترتیب یا اصناف کی تقسیم کے بغیر شائع کر دینا چاہیے۔ چوں کہ ادب کا قاری عام قاری نہیں ہوتا جس کو کسی خاص تقسیم کے ذریعے مواد کی اہمیت بتائی جائے، اس لیے فہرست کا اصل مقصد، تخلیق کار یا نقاد کی تحریر کے صفحہ نمبر کی نشان دہی ہے، اس کے علاوہ اس کی اہمیت کچھ نہیں۔ عموماً ایسے موقف والے ادبی رسائل بہت کم تعداد میں ادبی مواد شائع کرتے ہیں، اس لیے ان کو ادبی مواد کی فہرست سازی کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ دنیا زاد میں آصف فرخی فہرست میں مراتب نہیں بناتے تھے اور نہ ہی اصناف یا موضوعات میں مواد کو تقسیم کرتے تھے۔

ایسے رسائل جن کا ادبی مواد زیادہ ہوتا ہے اور وہ فہرست بناتے ہوئے مواد کو اصناف اور موضوعات میں تقسیم کرتے ہیں، ان کے لیے فہرست بنانے کے مسائل مندرجہ ذیل ہو سکتے ہیں:

حفظِ مراتب سے فہرست میں اندراج کا مسئلہ:

فہرست میں شامل تخلیق کار اور ناقدین کے ناموں میں تقدیم و تاخیر کا اندراج کیسے ہو، حفظِ مراتب کیسے رکھا جائے، مدیر کو چاہیے کو وہ ناموں کے اندراج کے وقت اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ ہر لکھاری کے ادبی مقام و مرتبے سے آگاہ ہے، جو نام شامل کیا جار ہا ہے، وہ گمنام یا جعلی نہیں۔ اگر کسی تخلیق کار کو اس کے مقام و مرتبے کے مطابق شائع نہ کیا جائے تو رسالے کے مدیر کے بارے میں برا تاثر پیدا ہوتا ہے کہ وہ ادیبوں اور ادبی عمل سے پوری طرح واقف نہیں۔
فہرست بناتے ہوئے ناموں کے اندراج کے مندرجہ ذیل مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:

i۔ ایک ہی نسل سے تعلق رکھنے والے ادیبوں کے حفظ مراتب کا مسئلہ:

اگر ایک صنف میں ایک ہی نسل اورادبی قد رکھنے والے ادیب اکٹھے ہو گئے ہیں تو یہ مدیر کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ کسے پہلے اور کسے بعد میں شائع کرے۔ ادبی رسالہ ایک رائے بھی ہوتا ہے اور قارئین کی رائے بھی بناتا ہے۔ جب کسی ایک ادیب کو پہلے شائع کیا جائے اور دوسرے کو بعد میں تو لامحالہ یہ ایک طرح کا ادبی فیصلہ بھی ہوتا ہے۔ مثلاً افسانے کے باب میں تین بڑے اور اہم افسانہ نگار شامل ہونے جا رہے ہیں، تینوں افسانہ نگاروں کا مقام و مرتبہ یا اہمیت ایک جیسی ہے۔ ایسے صورت میں مدیر کو بڑی ذمے داری سے مراتب کو ترتیب دینا چاہیے۔ اس صورت میں مدیر کو چاہیے کہ وہ ادبی قامت کو سامنے رکھے محض عمر یا شہرت کی وجہ سے کسی ایک کو اہمیت نہ دے۔ ایک ہی نسل سے تعلق رکھنے والے بزرگ تخلیق کاروں کے بارے میں رسالے کے مدیر کو پالیسی کے طور پر کچھ اصول بنا لینے چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ ہر دفعہ یہِ مراتب کی ترتیب بدلتی رہے۔

الفبائی ترتیب سے ناموں کا اندارج

ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ مراتب تشکیل دینے کی بجائے مدیر الف بائی ترتیب سے ناموں کا اندراج کر دے، جس سے ادیبوں کے فن کی تعین ِ قدر کا مسئلہ ختم ہو سکتا ہے۔ مگر یاد رہے اس طرح ادبی رسالے نظریہ ساز ادب کی تشکیل دینے میں ناکام رہتے ہیں۔

فن پارے یا تحریر کے مرکزی یا ذیلی عنوان میں تبدیلی کا مسئلہ:

بعض اوقات مصنف کی طرف سے بھجوایا ہوا عنوان مدیر کو زیادہ پُر کشش محسوس نہیں ہوتا۔ مضمون کے مرکزی موضوع کی مناسب سے مدیر کو حق حاصل ہے کہ وہ عنوان کو تبدیل کر دے، مگر اس کام کے لیے مصنف سے اجازت ضروری ہے۔ نظموں کے عنوانات، تنقیدی مضامین یا انٹرویوز کی شہ سرخی بنانے کے لیے مدیر زیادہ جاذب نظر عنوانات ترتیب دیتا ہے تاکہ قاری فوری تحریر کو پسند کرے۔ مثلاً فرض کریں مجید امجد پر ناصر عباس نیر کا ایک مضمون بہ عنوان ’’مجید امجد کی شاعری کے بارے میں‘‘ شائع ہو، دوسری طرف اسی مضمون کو ’’مجید امجد کی نظموں میں اجل‘‘ کے نام سے شائع کیا جائے تو خود فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ قاری فوری کس عنوان پر توجہ دے گا۔

فہرست میں مضامین یا مصنف کا گوشہ:

کسی خاص مضامین یا ایک مصنف کی مختلف تحریروں پر قارئین کی توجہ دلانے کے لیے مدیر اُن کے گوشے ترتیب دیتا ہے تاکہ قاری انھیں الگ سے پڑھے۔ رسالے کی دیگر تحریروں میں کہیں گم نہ ہو جائیں۔ فہرست میں مناسب جگہ پر ان کی شہ سرخی بناتا ہے۔

فہرست کے مندرجات کی مختلف حصوں میں تقسیم اور ان کے ناموں کا مسئلہ:

یہ ایک اہم مسئلہ ہے کہ فہرست میں اصناف کو کن ناموں سے پیش کیا جائے۔ اس سلسلے میں کچھ موقف مندرجہ ذیل ہیں:

i۔ کچھ مدیران کا خیال ہے کہ تخلیقی نثری یا شعری ادب کو ان کی اصناف ہی سے شائع کیا جائے، جیسے افسانہ، غزل، نظم، نثری نظم، ڈراما، ناول، انشائیہ، خاکہ، تنقید __ مگر دیگر اصناف کو موضوعاتی سطح پر تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

ii۔ مگر کچھ رسائل کے مدریران کا موقف ہے کہ اصناف کو بھی اپنے نام دیے جا سکتے ہیں جیسے ’’نثری خیال پارے، شعر بولتا ہے، شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا، لمسِ رفتہ، سُرمایا، زبان غیر سے، دیر آید، نامے میرے نام، تبرک، افکارِ تازہ، اوراقِ فکر ونظر، شعر کا غنچہ کھلا، جہانِ تازہ، افکارِ تازہ‘‘ وغیرہ۔

iii۔ ایک صنف میں زیادہ مصنفین ہوں تو اسے دوحصوں میں تقسیم کرکے دو مختلف جگہوں پر رکھا جا سکتا ہے۔ مگر دونوں کو الگ کرنے کا جواز ہونا چاہیے۔ ایک طرف نوجوان نسل ہو جائے یا ایک طرف نوآموز اور دوسری طرف کہنہ مشق وغیرہ۔

iv۔ ہر حصے میں متعلقہ صنف کا ہونا ضروری ہے۔ عموماً مدیران اس بات کا خیال نہیں کرتے۔ شاعری میں نثری نظم، غزل، نظم، یا حتیٰ کہ افسانچے تک ڈال دیے جاتے ہیں۔ تنقید اور تبصرہ نگاری میں بھی فرق ہونا چاہیے۔ کسی کتاب پر تعارفی مضمون تنقیدی مضمون نہیں ہوتا، اسے کتاب مطالعے یا اس طرح کے کسی الگ حصے میں شائع کیا جانا چاہیے۔

فہرست کی درجہ بندی میں اصناف کو ترجیح دینے کا مسئلہ:

یہ بھی ترجیحی مسئلہ ہے کہ کس صنف کو پہلے شائع کیا جائے اور کس کو درمیان یا آخر۔ کچھ مدیران کا موقف ہے کہ تنقید پہلے شائع کی جائے، کیوں کہ تنقیدی سوالات پیدا کرنا ہی رسالے کا بنیادی کام ہے، جب کہ کچھ مدیران کا موقف ہے کہ تخلیقی ادب اولیت رکھتا ہے، تنقیدی مضامین نہیں۔ تخلیقی ادب کا اعلیٰ انتخاب قارئین کو پہلے روشناس کروایا جائے۔ ایسی تمام ترجیح مدیران پر منحصر ہے۔ اسے کسی بھی طرح رسائل میں اولیت دی جا سکتی ہے۔

رسالے میں مصنف کے نام کے اندراج کا مسئلہ:

اکثر ادبی رسالے مصنف کے نام پر توجہ نہیں دیتے کہ رسالے میں مصنف کا نام کیسے لکھا جائے۔ کیا عہدہ، ذات یا دیگر خاندانی نام بھی ساتھ شائع کیے جاسکتے ہیں۔کیا مدیر کو یہ حق ہے کہ وہ مصنفین کے ناموں کو جس طرح چاہے شائع کرے۔ اس سلسلے میں مدیر کوبہت سے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نام کے اندراج کا مسئلہ فنِ ادارت کے اصولوں میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ کچھ اصول اور مسائل مندرجہ ذیل ہیں:

i۔ اگر مصنف بطور تخلیق کار شائع کیا جا رہا ہے تو اس کے نام کے ساتھ ڈاکٹر (پی‌ایچ ڈی) نہیں لکھا جانا چاہیے۔ اگر مصنف بطور محقق یانقاد کے طور پر رسالے میں شائع ہو رہا ہے تو اس کے ساتھ ڈاکٹر اُس کی تعلیمی قابلیت یعنی ڈگری یا سپشیلائزیشن کا لکھا جانا ضروری ہے۔ تنقید یا تحقیق کے زمرے میں نقاد یا محقق کی تعلیمی قابلیت اُس کے تنقیدی کام یا تحقیقی نتائج پر مستند رائے قائم کرے گی۔ ادب کے علاوہ کسی اور شعبے کی تعلیمی ڈگریاں جیسے ڈاکٹر (ایم بی بی ایس)، انجینئر، وغیرہ ادبی رسالے میں کسی بھی مقام پرلکھنا غلط ہے۔

ii۔ مصنف کے نام کے ساتھ ذاتوں (رانا، ڈوگر، جٹ، میر، بنگش، طوری،سومرو، مزاری، اعوان،ملک، بٹ وغیرہ)، عہدوں (میجر، بریگیڈئیر، پروفیسر، سیکرٹری، سکوارڈن لیڈر وغیرہ) اور مختلف شناختی ناموں (علامہ، میاں، چوھدری، برخودار، صاحب زادہ وغیرہ) کو لکھنا غلط ہے۔ عہدہ توکسی صورت نام کے ساتھ نہیں لگایا جانا چاہیے البتہ کچھ مصنفین اپنی ذات یا کسی شناخت کو اپنے نام کا حصہ بناتے ہیں۔ اگر مصنف خود اپنے نام کا لازمی حصہ بنا رکھا ہے اور وہی اس کی اصل شناخت بن چکا ہے تو اس صورت میں اس کے نام کو اسی طرح شائع کیا جائے جس طرح مصنف لکھتا ہے۔ جیسے مستنصر حسین تارڑ، الیاس بابر اعوان، کرنل محمد خان، سید ضمیر جعفری وغیرہ۔

iii۔ تخلیقی ادب شائع کرتے ہوئے مصنف کا نام وہی لکھا جانا چاہیے جو مصنف خود لکھوانا چاہ رہا ہے۔ عموماً نام کے ساتھ ذات، خاندانی نام اور تخلص وغیرہ مصنف خود لگاتا ہے۔ مدیر کو چاہیے کہ وہ خود تحریف کرتے ہوئے اس نام کو تبدیل یا نامکمل حالت میں شائع نہ کرے۔ اردو شاعرہ نسرین انجم بھٹی اپنے نام کے ساتھ اپنی ذات بھی لگاتی تھیں، یوں مدیر کو نہیں چاہیے کہ وہ بھٹی کو الگ کرکے صرف ’نسرین انجم‘ شائع کرے یاناصر عباس نیر کو ناصر نیر، ارشد محمود ناشاد کو ارشد ناشاد، نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح کچھ مصنفین نام کے ساتھ اپنی نسبت یا تخلص کا اضافہ کرتے ہیں، جیسے؛ عباس تابش، انجم سلیمی، کامران کاظمی۔ اس لیے جس نام سے مصنف لکھتا آرہا ہے، اس کو اسی طرح شائع کیا جانا چاہیے۔ البتہ محمد فرخ ندیم، پروفیسر شمس الرحمن فاروقی، محمد علی فرشی، ارشد علی معراج، محمد صلاح الدین درویش وغیرہ ناموں میں اختراع موجود ہے،جس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

مکرر اشاعت کا مسئلہ:

مکرر اشاعت کا معاملہ بہت پیچیدہ ہے۔ ادبی رسائل کی اولین ترجیح یہ ہوتی ہے کہ ایسامواد شائع کیا جائے جو پہلے سے قارئین کی دسترس میں نہ ہو۔ ادبی رسائل کے بنیادی مقاصد میں یہ بات شامل ہے کہ ادبی رسالہ غیر مطبوعہ تنقیدی و تخلیقی متن شائع کرے گا۔ پہلے سے موجود متن کی مکرر اشاعت کسی ’مرتبہ کتاب‘ (Compiled Work) میں تو ہو سکتی ہے مگر رسالے کے لیے مناسب نہیں۔ قاری کی بھی یہ توقع ہوتی ہے کہ ایسا متن پڑھنے کو ملے جو پہلے سے اس کے مطالعے میں نہیں۔ اس سلسلے میں ادبی رسالے کے متن کا معاملہ بالکل اخبار کی طرح ہے۔ اخبار میں باسی خبریں غیر ضرروی اور غیر متعلقہ ہو جاتی ہیں اور کسی پہلے سے معلوم خبر کا جواز ہی نہیں رہتا، بالکل اسی طرح ادبی رسالے سے بھی قاری کی توقع اور تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اسے غیر مطبوعہ مواد (Unpublished Matter) پڑھنے کو ملے، مگر ادبی رسالے میں شامل ہر تحریر غیر مطبوعہ نہیں ہوتی۔ غیر مطبوعہ کی تعریف ذرا پیچیدہ اور غیر روایتی ہے، اس پر تفصیل سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔

سب سے پہلے ہم غیرمطبوعہ ادبی تحریر کی تعریف کو متعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی تحریر جو تخلیق کار کے قلم سے نکلی اور ابھی کسی شائع شدہ (Printed) صفحات کا حصہ نہیں بنی۔ پرنٹ ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ تحریر کو قارئین کے مطالعے کے لیے دے دیا گیا ہے۔ اب وہ تمام تحریریں جو پرنٹڈ یا شائع شدہ نہیں ہیں، وہ تخلیق کار کی ڈائری، صفحات، مسودہ وغیرہ غیر مطبوعہ متن کہلائیں گے۔ سوشل میڈیا پر شائع کوئی تحریر بھی اب شائع شدہ متن کہلائے گی، کیوں کہ وہ بھی ہزاروں قارئین تک شائع شدہ مواد کی طرح پہنچ چکی ہے۔ رسالے کا مقصد کہ وہ تازہ اور ایسے متن سے اپنے قارئین کو متعارف کروائے جس سے وہ پہلے نہیں پڑھ چکے، سوشل میڈیا پر پڑھی ہوئی تحریروں کی صورت میں ختم ہو جاتا ہے۔

کچھ صورتوں میں پہلے سے طبع شدہ تحریریں بھی ازسرِ نَو شائع ہو سکتی ہیں مگر مکرر اشاعت کے سلسلے میں مصنف کو مکمل علم ہونا چاہیے کہ وہ پہلے کس طرح اور کہاں کہاں شائع ہو چکی ہے۔ کسی شائع شدہ تحریر کی مکرر اشاعت رسالے کی ادبی ساکھ کو متاثر کرسکتی ہے، جو مندرجہ ذیل صورتوں کے علاوہ نہیں ہونی چاہیے:

۱۔ اگر تحریر کسی دوسرے ملک یا ایسی جگہ شائع ہو چکی ہو، جہاں مدیر کے رسالے کا دائرہ عمل بہت کم یا بالکل بھی نہیں۔

۲۔ تحریر کی نوعیت ایسی ہو کہ وہ کسی گوشے یا خصوصی نمبر کے لیے ضروری ہومگر شائع شدہ بھی ہے۔ مثلاً مارکیز پر گوشہ ترتیب دیا جا رہو ہو، اردو محققین کی خدمات پر ایک خصوصی نمبر نکالا جا رہا ہو۔ معروف ادیب کے لیے یادِ رفتگاں کے نام سے تحریریں ترتیب دی جا رہی ہوں۔ ایسی صورتوں میں مکرر اشاعت ہو سکتی ہے۔

۳۔ تحریر کسی ایسی جگہ شائع ہوچکی ہو، جہاں وہ توجہ حاصل نہ پا سکی ہو، جیسے، اخبارات کے ادبی ایڈیشن، بلاگ ویب سائٹ، کالم، غیر معیاری یا کم اشاعتی رسالے یا مصنف کی ذاتی کتاب میں،جو اب ناپید ہو چکی ہو۔

۴۔ تحریر پہلے کسی جگہ نامکمل، مسخ شدہ یا ترمیم شدہ حالت میں شائع ہوئی ہو اور اب مصنف اسے نئی صورت میں شائع کروانا چاہ رہا ہو۔

۵۔ کسی خاص واقعہ کی اہمیت کے پیشِ نظر، کسی معروف شائع شدہ تحریر کو بھی دوبارہ شائع کیا جا سکتا ہے۔

رسالے کا سرورق:

ادبی رسالے کا پہلا صفحہ جس پر رسالے کا نام، مدیران کا تعارف یا ادارے کا نام لکھا جاتا ہے، سرورق (Title Cover) کہلاتا ہے۔ عموماً اسے رسالے کی جلدی بندی بھی کہا جاتا ہے۔ کسی بھی رسالہ کا سرورق محض ابتدائی صفحہ تک محدود تصورنہیں رکھتا، اسے رسالے کا چہرہ (Index) بھی کہا جا سکتا ہے۔ یہ رسالے کی پالیسی، مقاصد، مندرجات اور ادارت کے ذوق کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔ اخباری جرائد میں تو اسے کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ سرورق ہی قاری کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے کہ اسے خریدنا چاہیے یا نہیں۔ البتہ ادبی رسالوں کا قاری محض سرورق کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کرتا۔ اس کی ادبی تربیت پہلے ہی سے موجود ہوتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد رسالے میں موجود مواد تک پہنچنا ہوتا ہے مگر یہ بھی طے ہے کہ سرورق کی جمال آفرینی قاری کو رسالے کے مندرجات تک پہنچنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

سرورق پر کس طرح کا مواد شائع کیا جانا چاہیے:

۱۔ سرورق پر رسالے کا نام جلی حروف میں لکھا جانا ضروری ہے تاکہ قاری کو رہنمائی مل سکے کہ یہ کون سا رسالہ ہے۔ جلی حروف سے مراد محض بڑا یا نمایاں ہونا نہیں، بلکہ اسے ایسی خطاطی میں لکھا جانا چاہیے کہ وہ واضح طور پر پڑھا جا سکے۔ رسالے کا نام اُسی خط میں لکھا جانا چاہیے جو ادارے کی طرف سے مسلسل لکھا جا رہا ہو۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ہر اشاعت پر اُس خط کو بدل دیا جائے۔

رسالے کا نام ہر اشاعت پر اسی طرح لکھا جاتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ یہ ادارے کا لوگو (Logo) یا ٹریڈ مارک کی طرح بن جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ رسالے کا نام ہی نہیں بلکہ رسالے کی پہچان بن جاتا ہے۔

۲۔ رسالے کے سرورق پر مدیران اور بانی مدیران، سرپرست کے نام بھی لکھے جاتے ہیں۔ اگر مدیران اعزازی خدمات انجام دے رہے ہوں تو اُس ادارے کا نام لکھا جاتا ہے جو رسالے کا مالی منتظم ہے۔ اس کے ساتھ جلد نمبر یا اشاعت کا نمبر بھی درج کیا جاتا ہے۔

۳۔ رسالے کے سرورق پر پرنٹر کانام، قیمت، اداراتی پالیسیاں، معاون کاران کے نام یا دیگر ضروری معلومات جو اندرونی صفحات یا ضابطے میں دی جاتی ہے، سرورق پر لکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

۴۔ ایسی تحریر بھی لکھی جاتی ہے، جو رسالے کے مقصدِ اشاعت کی نمائندگی کر رہی ہو۔ یا ادارے کی پالیسی کی وضاحت کر رہی ہو۔ جیسے ’’نئے ادب کا ترجمان، ترقی پسند ادب کی پہچان، ادب کے باذوق قارئین کی پسند‘‘ وغیرہ۔

۴۔ رسالے کے سرورق پر رسالے کے مواد کے نمایاں نکات یا مندرجات پیش کرنے کا بھی رواج موجود ہے۔ یہ عموماً اخباری صحافت کا اسلوب ہے۔ ادبی رسائل اس سے احتراز کرتے رہے ہیں۔ مگر اب کچھ ماہنامہ ادبی رسائل اس اسلوب کو اختیار کر رہے ہیں۔

۵۔ ادبی جرائد کے رسائل کے سرورق کو خطاطی یا مصوری کے ذریعے مخصوص اسلوب عطا کیا جاتا ہے۔ اس اسلوب میں اس قدر انفراد ہوتا ہے کہ بعض ادبی رسائل کے سراوارق اپنی پہچان خود بن گئے۔

۶۔ سرورق کو دیدہ زیب مصوری سے سجانے کی روش بھی عام ہے اور ایسا مصورانہ تھیم دینے کا بھی رواج ہے جو مواد کی فکری نمائندگی کر رہا ہو۔ جیسے مزاحمتی ادب پر مصورانہ اظہار، مابعدجدید ادب پر پینٹنگز وغیرہ۔

اردو ادبی جرائد کی تاریخ بتاتی ہے کہ غیر معروف ادبی رسائل کی ایک بڑی تعداد کے مدیران سراوراق پر توجہ نہیں دیتے۔ ادبی جریدہ نہ صرف مدیر کے تخلیقی مزاج کا آئینہ ہوتا ہے بلکہ ادب کی جمالیاتی قدروں کا امین بھی بنتا ہے۔ اس لیے اوراق کو بہت خوبصورت اور با معنی ہونا چاہیے۔ سرورق میں مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھنا چاہیے:

۱۔ سرورق مجلے کی نظریاتی عکاسی کرتا ہے، لہٰذا اس پر غیر سنجیدہ، بیہودہ، سماجی اخلاقیات کے خلاف مواد یا تصویریں شایع نہیں کی جانی چاہیے۔

۲۔ مجلے کے سرورق کے ذریعے مصوری کے شعبے کو فروغ دیا جا سکتا ہے، لہٰذا اعلیٰ فن پاروں کو جگہ دی جانی چاہیے۔

۳۔ مجلے کے سرورق پر کسی گروہ، نظریے، شخص کی توہین کا پہلو نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی معاشرتی طور پر کسی غیر اخلاقی پہلو کا ظن نمایاں ہو۔

۴۔ ایک ہی جیسے سر اوراق نہیں ہونے چاہیے۔ ہر شمارہ نئے سرورق پر مشتمل ہونا چاہیے۔

۵۔ سرورق پر اشتہار نہیں دیا جانا چاہیے، البتہ سرورق کی پشت پر اشتہار دیا جا سکتا ہے۔ اشتہار بھی اس طرز کا ہو کہ اس سے ادبی جمالیات کو گزند نہ پہنچے۔

۶۔ ادبی رسالے کے سرورق کو اخباری (یا علمی، سائنسی، مذہبی وغیرہ )رسالے کے سرورق سے الگ دکھائی دینا چاہیے اور اس امتیاز کو جمالیات سے نمایاں کیا جا سکتا ہے۔

تراجم کی اشاعت:

کسی بھی رسالے کے بنیادی مقاصد میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ اپنے قارئین کو غیر زبانوں میں لکھے جانے والے ادب سے رُوشناس کروائے۔ اگر رسالہ اردو زبان میں شائع ہوتا ہے تو اردو کے علاوہ ہندی، انگریزی، فرانسیسی، لاطینی وغیرہ زبانوں میں لکھے جانے والے ادب تک رسائی حاصل کرے اور ان کو تراجم کے ذریعے اردو زبان میں شائع کروائے۔ مقامی زبانوں کے ادب کے تراجم بھی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، جس سے ادب کا دائرہ کار ایک زبان تک محدود نہیں رہتا۔

تراجم کے سلسلے میں چند امور کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے:

۱۔ ترجمہ مستند ترجمہ نگاراور اصولِ ترجمہ کے اصولوں کے قریب تر ہو۔

۲۔ مدیر کو چاہیے کہ ترجمے کے معیار کو خود جانچے یا کسی مستند مترجم سے رہنمائی حاصل کرے۔ ترجمے کے غیر مستند ہونے سے رسالے کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔ کچھ مترجم ایسے ترجمے بھی رسالوں کو بھجوا دیتے ہیں، جن کے اصل متن کو دریافت کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ اگر مل بھی جائے تو اصل سے اس قدر مختلف (غلط) ترجمہ ہوتا ہے کہ اسے ترجمہ کہہ ہی نہیں سکتے۔ اس سلسلے میں ساری ذمہ داری مدیر کی ہے کہ وہ ان سب امور کا دھیان رکھے۔

۳۔ کسی فن پارے (نظم، افسانہ، مضمون، تقریر، ناول کا باب) کا ایسا ترجمہ جو پہلے ہو چکا ہو، اسے مکرر اشاعت کی معقول وجہ کے بغیر شائع نہ کیا جائے۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں :

i۔ پہلا ترجمہ نہایت غلط ہو یا قابلِ اصلاح ہو اور اس میں درستی کے امکانات بہت زیادہ ہوں۔

ii۔ ترجمہ ایسے جگہ شائع ہوا ہو، جس کی رسالے کے قارئین تک رسائی نہ ہو۔

۴۔ ترجمہ شائع کرتے وقت آغاز میں مترجم کا پورا تعارف ضروری ہے تاکہ قارئین مترجم کے آگاہ ہو سکیں۔

۵۔ ترجمے کے متعلق بھی بنیادی معلومات ضروری ہےں۔ مثلاً یہ اصل متن جس کا ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے، پہلے کس جگہ شائع ہوچکا ہے۔ اصل متن کا عنوان کیا تھا۔

۶۔ بنیادی متن کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی جا سکتی ہے۔ رسالہ ’’آج‘‘ اپنے قارئین کو متن کے بارے میں ادارتی رائے بھی پیش کرتا ہے۔ اس کی اہمیت سے بھی آگاہ کرتا ہے۔

۷۔ شاعری کے تراجم کے بارے میں مدیررانہ نوٹ میں یہ بات بتائی جا سکتی ہے کہ یہ منظوم ترجمہ ہے یا آزاد ترجمہ ہے یا اس ترجمے کو لفظی ترجمے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

۸۔ ایسے رسالے جو بغیر کی تعارف کے ترجمے کو شائع کرتے ہیں، مدیرانہ فرائض سے غفلت برتتے ہیں۔ ان تراجم کو حوالہ جاتی حوالے سے کمزور کہا جا سکتا ہے۔

ادبی رسالے کے مواد کا حصول

ہر مدیر کے پیشِ نظر یہ بات تو ہوتی ہے کہ ادبی رسالے کا مواد بہت معیاری ہونا چاہیے، مگر اس مواد کا حصول کیسے ممکن ہے، اس پر بھی مدیر کی اتنی ہی توجہ کی ضرورت ہونی چاہیے۔

مواد کی مندرجہ ذیل اقسام ہو سکتی ہیں، جو ایک رسالے کی اشاعت کے لیے مختلف ذراءع سے اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔

i۔ غیر مطبوعہ مواد

مواد کو غیرمطبوعہ ہونا چاہیے۔ یعنی تخلیقی و تنقیدی ادب کا انتخاب کرتے ہوئے اس بات کو ملحوظِ خاطر رکھا جانا چاہیے کہ رسالے میں کوئی مطبوعہ مواد شائع نہ ہو۔ ایسے رسالے جو مطبوعہ مواد شائع کرتے رہتے ہیں، قارئین میں معیار قائم نہیں کر پاتے۔

ii۔ مطبوعہ مواد یا مکرّر اشاعت

مطبوعہ مواد کے حوالے سے گزشتہ صفھات میں تفصیل سے بات ہو چکی ہے۔ مطبوعہ مواد شائع ہو سکتا ہے مگر مدیر اس کے لیے تخلیقی جواز بناتا ہے یا اُس کی ضرورت از خود جواز بن کے آتی ہے۔

iii۔ غیر تصدیقی مواد

ایسا مواد جس کے مصنف کا علم نہ ہو یا مصنف کا علم ہو مگر یہ شبہ ہو کہ اس کا لکھا ہوا ہے بھی یا نہیں، اُسے شائع نہیں کرنا چاہیے۔

iv۔ غیر فنی مواد

ایسے مواد کو بھی شائع نہیں کیا جانا چاہیے جس میں اغلاط موجود ہوں اور اغلاط بھی ایسی کہ جس پرلکھاری کے مصنف ہونے پر شبہ آئے۔

رسالے کے لیے مواد کے حصول کے ذرائع:

i۔ ڈاک

رسالے یا اُس کے مدیر کو بہت سی ڈاک موصول ہوتی ہے جس میں سے بہتر انتخاب کرکے رسالے میں شائع کیا جاتا ہے۔

ii۔ ذاتی ذرائع

ادارتی ٹیم یا مدیر اپنے ذاتی ذرائع سے ادیبوں یا مصنفین تک پہنچتا ہے اور غیر مطبوعہ تخلیقی یا تنقیدی مواد کو حاصل کرتا ہے۔

iii۔ تحقیقی سوالات

مدیر یا ادارتی ٹیم کی طرف سے مخصوص سوالات یا موضوع دیا جاتا ہے جس پر مصنفین یا لکھاری اظہارِ خیال کرتے ہیں۔ اس مواد کو بھی رسالے میں شائع کیا جاتا ہے۔

iv۔ ذاتی تحقیقی منصوبے یا جامعات کے تحقیقی مقالات

بعض اوقات مصنفین ذاتی سطح پر کسی تحقیقی منصوبر پر کام کرتے ہیں جسے بعد میں ادبی رسالے میں شائع کروانے میں دلچسپی لیتے ہیں۔ جامعات یا تحقیقی اداروں میں بعض اوقات ایسے تنقیدی مضامین یا تحقیقی مقالات لکھے جاتے ہیں جن میں ادبی رسائل کے حوالے سے بحث و مباحثہ کی بہت گنجائش ہوتی۔

v۔ کانفرنسوں میں پڑھا جانے والا تنقیدی یا تحقیقی مواد

بعض اوقات مدیر یا ادارتی ٹیم خاص موضوع پر تقریب، کانفرنس یا سیمینار کا اہتمام کرتے ہیں اور اس میں پڑھے جانے والے مضامین کو ادبی رسالے میں خصوصی اشاعت کے طور پر شائع کرواتے ہیں۔ اسی تناظر میں مشاعرے یا قرات ِنظم کی محفلوں میں پیش کردہ تخلیقی مواد بھی رسالے میں شائع ہوتا ہے۔

ادبی رسالے میں شائع ہونے والے خطوط، مراسلہ نگاری

ادبی رسائل میں خطوط کی اشاعت کیوں؟

کسی ادبی رسالے میں ادبی خطوط رسالے کی پالیسی، مواد اور معیار کے حوالے سے قارئین کا ردعمل (Feedback)ہوتا ہے، جس سے آگاہ ہوئے بغیر کوئی بھی مدیر اچھا رسالہ مسلسل شائع نہیں کر سکتا۔

مدیر کے نام مکاتیب کی اقسام:

۱۔ نجی نوعیت کے خطوط

۲۔ گذشتہ شمارے کی مطبوعہ تحریروں پر تنقیدی آرا

۳۔ رسالے میں جاری کسی ادبی بحث میں شمولیت

۴۔ مدیر کے لیے تجاویز

۵۔ نئے ادبی سوالات

۶۔ رسالے کی پالیسی سے اختلاف

خطوط کی اشاعت - اصول و مسائل:

۱۔ خطوط کو رسالے کے سب سے آخری حصے میں شائع کیا جانا چاہیے۔

۲۔ خط کو خط ہی کی شکل میں شائع کرنا چاہیے، خط کو کوئی عنوان دے کے یا آرٹیکل کی شکل میں شائع نہیں کرنا چاہیے۔

۳۔ قاری کی طرف سے بھجوائے گئے خطوط کو ہو بہو شائع کرنا درست نہیں۔ صرف اتنے حصے کو شائع کیا جانا چاہیے جو رسالے کو موضوعِ بحث بنا رہا ہو۔ غیر ضروری مباحث کو حذف کر دینا چاہیے۔

۴۔ ایسے خطوط جو رسالے کے مواد کے حوالے سے لکھے گئے ہوں، انھیں اگلے ہی شمارے میں جگہ دی جانی چاہیے تاکہ ان کا مطالعہ پچھلے شمارے کے مطابق کیا جا سکے۔ اگلے شماروں تک موخر کرنے سے خط کے مندرجات کی اہمیت ختم ہو سکتی ہے۔

۵۔ خطوط میں قارئین کی آرا کو شائع کرتے ہوئے تنقید اور تنقیص کے فرق کو ملحوظِ خاطرر کھا جانا چاہیے۔ شخصیات، اداروں، ملک، یا مدیر کی ذات کے خلاف اظہارِ خیال کو شائع نہیں کیا جاناچاہیے، البتہ مثبت تنقید کو لازمی شائع کیا جانا چاہیے جو کسی بھی تناظر میں کی گئی ہو۔

۶۔ ایسے خطوط جو ذاتی رنجش، جوابی حملوں یا خود غرضانہ دفاع پر مشتمل ہوں، یا دوسروں کے ادبی مقام و مرتبہ کو چیلنج کرنے کے لیے رسالے کا سہارے لیتے ہوئے محسوس ہوں، کسی صورت شائع نہیں کرنے چاہیے۔ کچھ مدیر ایسے خطوں کو جگہ دیتے ہیں، جس سے ادبی گروہ بازی پروان چڑھتی ہے۔

۷۔ بہت مختصر(چند سطروں پر مشتمل) خط تو ہو سکتے ہیں مگرایسے خطوط جو بہت طویل ہوں، انھیں مختصر کرنے کا اختیار بھی مدیر کو ہوتا ہے۔

رسالے میں تجارتی اشتہارات کی اشاعت:

رسالے میں اشتہارات کی پیش کش کے سلسلے میں دو طرح کے مسئلے درپیش ہوتے ہیں، جس کا فیصلہ کرتے ہوئے یکساں پالیسی کے طور اپنانا چاہیے:

۱۔ رسالے میں اشتہارات کو فہرست سے پہلے شائع کیا جائے، یا درمیان میں، یا سب سے آخر پر۔

۲۔ کسی ایسے ادارے کا اشتہارات شائع کرنا چاہیے، جس سے بالواسطہ یا براہِ راست طور پر ادبی سرگرمیوں یا ادبی نظریات پر زد پڑتی ہے۔

عموماً ایسے ادارے جو ادب کے ذریعے مخصوص فکر کو پیش کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، ادبی رسائل کو زیادہ سے زیادہ فنڈنگ کرتے ہیں اور ساتھ ہی مخصوص طرز کی تحریروں کی فرمائش کرتے ہیں۔ لہٰذا مدیر کو اس سلسلے میں بہت واضح موقف رکھنا چاہیے کہ اشتہار کی اشاعت صرف تجارتی مواد کی اشاعت تک محدود ہو، اگر اشتہار کے ساتھ خاص فکر کی ترویج بھی جڑی ہوئی ہے اور مدیر اس پر راضی بھی ہے تو اس کی نظریاتی پالیسی متاثر ہونے کا امکان رہے گا۔

ایسے اشتہارات کو شائع نہیں کرنا چاہیے جن میں ادبی حوالے سے غیر ادبی یا غیر جمالیاتی مواد شامل ہو۔ جنسی، غیر اخلاقی یا بد تہذیب اقدار کو فروغ دینے سے بچنا چاہیے۔ یہاں آغاز میں کچھ اشتہارات دیے گئے ہیں، جن کا مطالعہ الگ سے پورا موضوع ہے۔ بیسویں صدی کے ادبی رسائل اس بات کا پورا خیال رکھتے تھے کہ ادبی رسائل میں کس قسم کے اشتہارات شائع ہونے چاہئے۔ آج کل کے جرائد خاص طور پر آن لائن ادبی رسائل اس سلسلے میں بہت غیر محتاط ہیں۔

انٹرویو نگاری کے اصول:

انٹرویو نگاری کسی بھی ادبی جریدے کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ ہر ادبی رسالے میں اہم ادبی شخصیات سے انٹرویو کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ انٹرویو نگاری کے مندرجہ ذیل فوائد ہو سکتے ہیں:

۱۔ اہم ادبی شخصیات کے فن، کام اور خیالات سے قارئین کو آگاہی دینا۔

۲۔ مصنفین کے تخلیقی عمل سے آشنائی حاصل کرنا۔

۳۔ ادب میں نئے سوالات اور فنی مسائل کو بحث کا حصہ بنانا۔

۴۔ ایسے واقعات، یاد گار لمحات جن کا انٹرویو نگار کسی بھی جگہ اظہار نہیں کر پایا۔

۵۔ انٹریو نگار کے ادبی موقف یا نقطہَ نظر کی وضاحت

ادبی رسائل میں شائع ہونے والے انٹرویوز عموماً ادارتی ٹیم سے وابستہ افراد کے نہیں ہوتے۔ ایک ہی طرز کے سوالات پوچھ کے اسے انٹرویو کی شکل دے دینا اچھا انٹرویو نہیں ہوتا اور نہ ہی ایسا انٹرویو ادبی رسائل میں نئے مباحث کا باعث بن سکتا ہے۔ اس طرح کے انٹرویوز خالصتاً انٹرویو لینے اور دینے کے مابین سوال و جواب کی تحریری شکل ہوتی ہے۔ مگر بعض اوقات رسالے کی ادارتی ٹیم یا مدیر خود بنفسِ نفیس انٹرویو لیتا ہے اور اسے احاطہَ تحریر میں لاتا ہے۔ دونوں صورتوں میں مدیر پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جن کا ملحوظِ خاطر رکھنا نہایت ضروری ہے:

۱۔ انٹرویو لینے والے(interviewee) کو چاہیے کہ وہ انٹرویو دینے والے (interviewer)سے نجی زندگی کے متعلق سوالات نہ کرے جس کی اشاعت انٹرویو دینے والے کو ناگوار گزرے۔ اگر وہ خود بتانا چاہیے یا نجی زندگی کو جاننا ضروری ہو تو مصنف کی اجازت سے ضرور سوال کیا جا سکتا ہے۔

۲۔ انٹرویو نگار کو چاہیے کہ انٹرویو دینے والے کے الفاظ کو تروڑ مروڑ کے پیش نہ کرے اور نہ ہی حقائق کو چھپائے۔

۳۔ ایسی گفتگو جس کی اشاعت ادبی نزاع کی بجائے معاشرتی نزاع کا مسئلہ بن سکتی ہے۔ انھیں شائع کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ مثلاً متنازعہ مذہبی معاملات، جنسی روابط، غیر اخلاقی یا بد تہذیب گفتگو وغیرہ

۴۔ ایسے معاملات کو نہ اچھالا جائے جس پر مصنف نے جواب دینے سے گریز کیا، یا بتاتے ہوئے اسے شائع کرنے سے منع کر دیا ہو۔

۵۔ انٹرویو دینے والے کی ایسی شناخت کو دریافت کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے جس کو چھپا رہا ہو، جیسے مذہبی، صنفی شناخت، خاندانی شجرہ، اولاد یا بیویوں کی تعداد یا ان سے تعلق وغیرہ۔

۶۔ انٹرویو میں ہر بات شائع کرنے والی نہیں ہوتی، لہٰذا انٹرویو کی ضخامت کو کم کیا جا سکتا ہے، مگر اس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ انٹریو دینے والے کی کوئی بات ادھوری شائع نہ ہو اور نہ ہی اہم نکات رہ جائیں۔ یہ بھی کوشش ہونی چاہیے کہ گفتگو کو اس طرح پیش نہ کیا جائے کہ اس کا مفہوم ہی بدل جائے۔

۷۔ رسالے میں تصاویر کی اشاعت کو لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ قاری کو تازہ ترین تصاویر دیکھنے کا موقع ملے اور جس ماحول میں گفتگو ہوئی ہے، اس کے ذہن میں تازہ رہے۔

شائع مواد کا اغلاط نامہ:

سافٹ یا الیکٹرانک شکل میں شائع ہونے والے جرائد میں ایک سہولت ہوتی ہے کہ اس میں اغلاط (پروف، حقائق، یا مس پرنٹنگ) کی اغلاط کو درست کرکے دوبارہ شائع کیا جا سکتا ہے، مگر ہارڈ فارم میں زیورِ طباعت سے آراستہ ادبی رسائل میں اغلاط یا مس پرٹنگ کو درست کرنا تقریباً ناممکن عمل ہوتا ہے۔ بعض اوقات کاپیوں کو اکھاڑ کے دوبارہ سے جلد بندی کی جاتی ہے۔ یا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ غلط املا یا مس پرنٹ صفحات پر نیا ورق چسپاں کر دیا جاتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ موثر طریقہ یہ ہے کہ رسالے کے آخر میں ایک ورق اضافی لگا دیا جائے جس میں پورے رسالے کی اغلاط کو درست شکل میں لکھ دیا جائے۔ مگر یہ صرف اُس صورت میں ہے جب اغلاط کی نوعیت بہت سنگین قسم کی ہو۔

اب یہ میں دیکھنا ہوگا کہ کس طرح کے املا نامے جاری کرنا ضروری اور مدیر کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

۱۔ ایسی اغلاط جس سے متن (خصوصاً تخلیقی متن) کی فنی حیثیت پر حرف آنے کا اندیشہ ہو۔ کیوں کہ غلط طباعت مصنف کے لیے غلط تشہیر کا باعث بن سکتی ہے، جس سے مصنف کی شہرت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ مصنف تو رسالے میں شائع ہوتا ہے کہ اُس کو ادبی اعتبار حاصل ہو، مگر اُس کی غلط اشاعت سے اُس کی ادبی نیک نامی، بدنامی میں بھی بدل سکتی ہے۔ اس کی تمام ذمہ داری مدیر پر ہوتی ہے۔

۲۔ ایسا متن جسکی غلط املا یا مبہم چھپائی، گمراہ فکری خیالات کو جم دینے کا اندیشہ ہو، جیسے سنِ پیدائش، نام، تحریر کا عنوان وغیرہ۔ بعض اوقات فہرست میں دیا گیا عنوان کچھ اور ہوتا ہے جب کہ متن کے اوپر عنوان کچھ اور۔ اسی طرح بعض اوقات کسی ایک مصنف کی تحریریں کسی اور کے نام سے شائع ہو جاتی ہیں۔ یہ ایک سنگین غلطی ہے، جس کا ازالہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔

۳۔ غلط کاپیوں کا جڑنا بھی بعض اوقات خلطِ مبحث کا باعث بنتا ہے۔ اسے درست کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ مدیر کو چاہیے کہ رسالے کی ایسی کاپیوں کی تقسیم روک دے اور جب تک درست نہ ہو جائے تب تک ترسیل و فروخت نہ کروائے۔

۴۔ ایسی تحریریں جس سے مقدس ہستیوں یا متون کی توہین کا شائبہ پیدا ہوتا ہو، اسے فوراً درست کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مدیر کی ذمہ داری ہے کہ ایسا متن جس کی اشاعت، طباعت میں نقائص یا دیگر املائی اغلاط دَر آئیں تو اس کو درست کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

اس طرح کی صورتِ حال میں مدیر کے سامنے تین طریقے ہو سکتے ہیں:

i۔ مدیر رسالے کے آخر میں غلطی کی نشان دہی کرکے اسے درست شکل میں لکھ دے۔ آخر پر چسپاں کئے جانے والے یہ اوراق بھی پرنٹ شدہ ہو سکتے ہیں۔

ii۔ جہاں غلطی موجود ہو، وہیں پرنٹ شدہ یا ہاتھ سے املا کی درستی کر کے رسالے کی تقسیم و ترسیل کی جائے۔

iii۔ اگلے شمارے میں پچھلے شمارے کی سنگین اغلاط کو درست کرنے کے لیے دوبارہ اشاعت سے گزارا جائے یا اداریہ میں یا اشتہار کی صورت کسی صفحے میں نشان دہی کر دی جائے کہ قارئین گذشتہ شمارے میں آنے والی اغلاط کو درست کر لیں۔

طباعت و تقسیم کے مسائل:

۱۔ رسالے کے رسم الخط کا سائز اتنا ہونا چاہیے کہ اسے آسانی سے پڑھا جا سکے۔ اس قدر باریک فونٹ نہیں ہونا چاہیے کہ اسے عام آنکھ سے پڑھنا ہی مشکل ہو۔ اسی طرح سرخیوں، اہم نکات اور متن میں فرق کرنے کے لیے ان کے فونٹ میں فرق واضح طور پر موجود ہونا چاہیے۔ مدیر کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ طبع شدہ مواد کم بینائی رکھنے والا شخص بھی پڑھ سکے۔

۲۔ عموماً ادبی رسائل کی طباعت کے لیے اعلیٰ کاغذکا استعمال نہیں کیا جاتا۔ یہ اس لیے بھی گوارا کر لیا جاتا ہے، کیوں کہ ادبی رسائل کی عمر کتاب کی عمر سے کم ہوتی ہے۔ اگلے شمارے کی اشاعت کے بعد گزشتہ شماروں کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ بہت سا تخلیقی و تنقید ادب مصنفین اپنی کتب میں شامل کر لیتے ہیں، جس سے ادبی رسائل کی اہمیت تاریخی اہمیت سے زیادہ نہیں رہتی، مگر کاغذ کا انتخاب کرتے ہوئے رسالے کے مجموعی صوری حسن کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ ایسا گھٹیا کاغذ نہیں ہونا چاہیے کہ چند ماہ بعد ہی خراب ہو کے پورے رسالے کے حسن و طباعت کو نقصان پہنچانے لگے۔
۳۔ اعلیٰ جلد بندی پر بھرپور توجہ ہونی چاہیے۔ جلدی بندی دو طرح کی ہو سکتی ہے۔ گتے کی جلد بندی اور کارڈ جلد بندی۔ عموماً اردو کے رسائل کارڈ کی جلد بندی کو ترجیح دیتے ہیں، مگر زیادہ عرصے تک محفوظ بنانے کے لیے رسالے کی گتے کی جلد بندی بھی کی جا سکتی ہے۔ خصوصی نمبر، یادگار شمارے وغیرہ گتے کی جلد سے مزین کیے جاتے ہیں تاکہ لائبریریوں میں تادیر محفوظ ہو سکیں۔

۴۔ ہر ادبی رسالہ عام قارئین کے لیے شائع کیا جاتا ہے۔ اس لیے اسے بک سٹال تک پہنچنے کے تمام وسائل استعمال کرنے چاہیے۔ اردو تمام بڑے ادبی رسائل ادبی دنیا، ساقی، مخزن، شب خون، اوراق، نقوش، فنون وغیرہ دکانوں، کتاب گھروں اور بُک سٹالوں کی زینت بنتے رہے ہیں۔ رسالہ عوامی بنتا ہی اُس وقت، جب تک وہ عوام کی دسترس میں ہوتا ہے۔ اب یہ چلن عام ہو چکا ہے کہ رسالہ عام آدمی کے لیے شائع ہی نہین کیا جاتا۔ اُسے ادبی اشرافیہ تک محدود رکھا جاتا ہے۔ یا اُن چند ادبی خریداروں تک فروخت کر دیا جاتا ہے، جو مدیر کے ساتھ پہلے ہی رابطے میں ہوتے ہیں۔ اچھا مدیر رسالے کو عام قارئین تک پہنچانے کا بند و بست کرتا ہے۔ اور اس کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے اسے دکانوں، بُک سٹالوں تک پہنچایا جائے۔




اردو کی ادبی صحافت؛ پہلا حصہ

فہرست

(پہلا حصہ)

  • چند باتیں
  • اُردو رسائل کی تاریخ: چند نمایاں ادبی رسائل
  • صحافت اور ادبی صحافت: امتیاز و حدود
  • پاکستان کے اردو ادبی رسائل
  • ادبی اور صحافتی رسالہ میں فرق
  • ادبی رسالے کی ڈکلیریشن
  • ادبی رسالے کی نظریاتی پالیسی

 

چند باتیں

ادبی صحافت بہت مختلف سبجیکٹ ہے۔ اس پر بہت کم لکھا گیا ہے۔ ایک رسالہ عموماً مدیر کے ذوق کا عکاس ہوتا ہے۔ یا کسی ادارے کے ترجیحی منصوبے کا حصہ، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ رسالہ اپنے اصول اپنے مدیر سے بناتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جب مدیر بدل جائے یا وفات پا جائے تو اس کے ساتھ ہی رسالہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ اگرچہ کچھ رسالے اردو میں طویل عرصے سے نکل تو رہے ہیں مگر وہ محض نام کے علاوہ کسی طرح بھی ایک جیسی ادارتی پالیسی نہیں رکھتے۔دوسرے لفظوں میں مدیر ہی رسالہ ہوتا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو اخبارات کی پالیسی معروضی طور پر اپنائی جا سکتی ہے، کیونکہ اس میں ذوق، معیار اور انتخاب شامل نہیں ہوتا، مگر ادبی رسالہ مدیرانہ انتخاب کا منتِ مرہون ہوتا ہے، اس کی پالیسی نہیں بنائی جا سکتی۔ ادبی رسالہ موضوعی پالیسی کے ساتھ چلتا ہے۔

ادبی رسائل کی تاریخ و روایت پر اردو میں کافی مواد مل جاتا ہے، جو اردو رسائل کے ڈیڑھ سو سالہ دور پر نقادانہ انداز سے جائزہ لیتا ہے۔ اس سلسلے میں چند ایک کتابیں تو مفصل تبصرہ ہیں مگر اردو رسائل کی ادبی صحافت کے اصولوں اور مسائل کو زیرِ بحث نہیں لایا گیا۔ ادبی صحافت کے کیا اصول ہونے چاہیے اور کن مسائل سے دوچار ہوا جا سکتا ہے؟ اس سلسلے میں بہت کم رہنمائی ملتی ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ مدیر ادبی صحافت سے آگاہ نہ ہو اور ایک اچھا رسالہ بھی نکال رہا ہو۔ یقینا مدیر کے پاس بہت سے ترجیحی اصول ہوتے ہیں، جن کی روشنی میں وہ رسالہ مرتب کرتا ہے، مگر ضرروت اس امر کی ہے کہ وہ اختلافی اصول کیا ہو سکتے ہیں، جن کے مطابق ادبی رسائل کو ہونا چاہیے۔ ان میں کچھ اصول تو یقینا ترجیحاً ہو سکتے ہیں، مگر بہت سے اصول مصنف کا ذاتی دائرہ اختیار نہیں، مدیر کو ان کی ہر حال میں پیروی کرنی چاہیے۔

اس تحقیقی منصوبے میں چند ایک اصولوں اور مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ جو کسی نتیجے پر پہنچنے سے زیادہ محض نشان دہی تک محدود ہیں۔ انھیں ادبی صحافت کے حتمی اصول سمجھ کے پیش نہیں کیا گیا۔ اگر بڑے پیمانے پر ان تمام اصولوں کو ادبی صحافت کے مسائل سمجھ لیا جائے تو زیادہ مناسب ہے۔ کیوں کہ ایک مدیر یا ادارہ جب رسالہ مرتب کرنے لگتا ہے تو اس طرح کے مسائل سے لازمی گزرتا ہے اور اپنی دانست میں کچھ اصول بناتا ہے۔

اس موضوع پر اجتماعی نقطہ نظر مرتب کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ ادبی صحافت کو بھی کچھ اصولوں سے گزرنا چاہیے تاکہ دم توڑتی اس ادبی روایت کو نہ صرف محفوظ بنایا جا سکے، بلکہ اس کو قانونی شکل بھی دی جا سکے۔ اس سلسلے میں ایک بڑے اجتماع کی ضرورت ہے جس میں مل بیٹھ کے کچھ اصول مرتب کیے جا سکیں۔

میں چونکہ خود بھی ایک ادبی رسالے کا مدیر ہوں اور گزشتہ ۱۷ سال سے ادبی صحافت سے وابستہ ہوں، اس لیے ان مسائل کا چشم دید گواہ بھی ہو۔ یہ تمام مسائل اور ان کے مرتب کردہ اصول میرے ذاتی تجربے اور اعلیٰ ادبی رسائل (فنون، اوراق، شب خون،نقوش، ساقی، شعرو حکمت، سمبل، دنیا زاد، آج، تسطیر، سویرا، ارتقا وغیرہ)کی ورق گردانی کا نتیجہ ہیں۔

میں اس سلسلے میں اپنے محترم اور نہایت زیرک مدیر علی محمد فرشی (مدیر سمبل) کا شکر گزار ہوں، جن سے میں مسلسل مشاورت کرتا رہا۔انھوں نے مجھے کئی مسائل کی نشان دہی کروائی اور کچھ اصولوں پر زور دیا کہ انھیں لازمی ادبی صحافت کا حصہ ہونا چاہیے۔ آنجہانی آصف فرخی (مدیر دنیا زاد) کا بھی شکریہ جنھوں نے مجھے ادبی رسائل کی فنی جمالیات سے آگاہ کیا۔ اپنے بڑے اور سینئر دوست انجم سلیمی (مدیر خیال) کا بھی مشکور ہوں جنھوں نے ادبی سفر کے بہت آغاز میں ہمارے سامنے ادبی صحافت کو جمال آفرینی کا مرقع پیش کر کے دکھایا۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد کے ادارے اورک (ORIC) کا بھی شکریہ، جن کے تحقیقی پراجیکٹ نے مجھے اس دریا میں غوطہ زنی کا موقع دیا۔ اس سلسلے میں اورک کی تمام ٹیم نے بہت تعاون کیا۔

قاسم یعقوب

لیکچرار شعبہ اردو
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد
۱۹ جون، ۲۰۲۳ء

-

اُردو رسائل کی تاریخ: چند نمایاں ادبی رسائل

مجلہ یا رسالہ مخصوص وقفے کے بعد شائع ہونے والا منتخب تحاریر کا مجموعہ ہوتا ہے۔ ایسی کتاب بھی جو منتخب تحریروں کو جمع کرکے شائع کی جائے اور وقفے کے بعد بار بار شائع ہو، رسالہ کہلائے گی۔اخبار ی صحافت سے وابستہ میگزین یا رسالے سماجی اعتبار سے مواد کو شائع کرتے ہیں۔ ان میں فیچرز، خبریں، انٹریوز یا کہانیاں شامل ہو سکتی ہیں۔ تصویری صحافت کے آنے کے بعد میگزین صحافت نے بہت ترقی کی ہے۔ اب اخباری میگزین تصویروں سے مزین ہوتے ہیں۔ فیچر کا تصویر کے بغیر تصور ہی ختم ہو گیا ہے۔رپورٹ بھی تصاویر کے ساتھ شائع ہوتی ہے۔ البتہ ادبی میگزین تصویری صحافت سے بہت مختلف اورمواد کے اعتبار سے صرف ادبی تحاریر پر مشتمل انتخابِ متن ہوتا ہے۔

مجلاتی صحافت کا آغاز اخبار کی اشاعت کے ساتھ ہی برصغیر میں ہو گیا تھا۔انیسویں صدی کے آخری ربعہ صدی میں اخبارات ہی وہ واحد میڈیم تھا جس کے ذریعے خیالات کی پرورش ہو جانے لگی تھی۔ ایک طرف انگریز اپنی حاکمیت کے بیانیے کو نافذ کرنے جا رہا تھا تو انھی اخباروں کے ذریعے مقامی خیالات کو بھی ترویج مل رہی تھی۔ اسی دور میں اردو میں میگزین صحافت نے انگڑائی لی۔ بہت سے رسالوں نے اپنے سفر کا آغا کیا۔

یوں دیکھا جائے تو اردو کی صحافت عمر ڈیڑھ سو سال سے زیادہ نہیں بنتی۔ سرسید کا رسالہ ”تہذیب الاخلاق“ اگرچہ سماجی مسائل کا ترجمان تھا، اُردو کی صحافتی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی رسالے نے ادبی صحافت کو بھی پروان چڑھایا۔ قوم کی اصلاح اس رسالے کا بنیادی مقصد تھا، اس رسالے کے راستے ہی ادب میں اصلاح نگاری کی راہ ہموار ہوئی۔ بہت سے ادبی جرائد نے اصلاح نگاری کے لیے ادبی تحاریر کو جمع کرنا شروع کیا۔ اسی دور میں مخزن، اودھ پنچ،دلگداز وغیرہ جاری ہوئے۔

تقسیم ہندوستان کے وقت بہت سے ادبی رسائل ادب اور سماجی مسائل کی تصویر کشی کے لیے پیش پیش تھے۔ یہی وہ دور تھا جب ترقی پسندی، جدیدیت اور اسلامی ادب کی تحریکوں نے ادب کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ اس دور میں لاہور اور کراچی سے موقر جرائد نکلنے شروع ہوئے۔ جو بذاتِ خود تحریک کی صورت اختیار کر چکے تھے۔ان میں ”ساقی“ جسے ممتاز ادیب شاہد احمد دہلوی نکالتے تھے۔ شامل ہے۔ اس کے علاوہ مختلف چھوٹے اور بڑے شہروں سے بھی سینکڑوں ادبی رسائل و جرائد جارے ہوئے۔

ان رسائل میں ایسے ادیب بھی روشناس ہوئے جو بعد میں ارود ادب کا اثاثہ قرار پائے۔ ان جرائد میں علمی، ادبی، لسانی و تحقیقی اور تنقیدی مضامین لکھے گئے جن کے مطالعے سے اردو ادب میں جدید میلانات کو رواج ملا۔تحقیقی حوالے سے بھی یہی دور اہم ہے۔ حافظ محمود شیرانی، قاضی عبد الوود، مولوی عبد الحق وغیرہ نے گم شدہ کڑیوں کو ملانے کا اہتمام شروع کیا تو انھی رسائل میں مباحث کو گرم کیا جاتا۔ دکن مین اردو، پنجاب میں اردو، اردو کے ماخذ، قدیم اردو وغیرہ جیسی بحثیں پہلے پہل ادبی رسائل میں شائع ہوئیں۔

یہاں ذیل میں اردو کے چنداہم رسائل کا تعارف پیش کیا جا رہا ہے۔

مخزن:

مخزن اپریل ۱۹۰۱ء میں سر عبد القادر نے لاہور سے شائع کیا تھا۔ آغاز ہی سے علامہ اقبال جیسے نوجوانوں کو شائع کرنا شروع کیا۔آزادی کے بعد مخزن کو مولانا حامد علی خان نے جاری رکھا۔ مخزن کی یہ خوبی ہے کہ اس نے بہت سے نئے لکھنے والوں کو ادبی دنیا میں متعارف کروایا۔ یہ رسالہ اردو میں مغربی تراجم، نئے فکری رویوں اور تہذیبی زاویوں کا ترجمان بن گیا

مخزن نے اردو کو بڑے ادیب بھی دیے اور ساتھ ہی جدید ادبی تحریکوں سے جوڑے رکھا۔سیاسی گروہ بندیوں اور ادبی دھڑے بندیوں سے اس رسالے کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اسے اددبی دنیا میں آج تک یاد رکھا جاتا ہے۔

ہمایوں:

ہمایوں کو جنوری ۱۹۲۲ء میں میاں بشیر احمد نے اپنے والد گرامی کی یاد میں لاہور سے شائع کیا۔ منصور احمد، مولانا حامد علی خان، یوسف ظفر، شیر محمد اختر، مظہر انصاری اور ناصر کاظمی مختلف اوقات میں اس پرچے کی ادارت سے منسلک رہے۔

نگار:

نگار کو مولانا نیاز فتح پوری نے ۱۹۲۲ء میں بھوپال (مدھیہ پردیش) سے جاری کیا۔ مولانا اپنی وفات تک (۱۹۲۲ء سے لے کر ۱۹۶۶ء) اس رسالے سے وابستہ رہے ور باقاعدگی سے رسالہ چھاپتے رہے۔ مولانا کے بعد ان کے بیٹے ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے ”نگار“ کی ادارت سنبھالی۔ نگار کے ”اصناف شعری نمبر“، ”مسائل ادب نمبر“، ”غالب نمبر“خصوصی نمبر کے طور پر شائع ہوئی۔

نگار کسی بڑی تحریک کا موجب تو نہ بن سکا البتہ ادبی اخلاص اور معیار کو پیش کرتا رہا۔انیسویں صدی کے آغاز سے شروع ہونی والے رومانوی تحریک ”نگار“ کا خاصا رہی۔ کیوں کہ اس کی بڑی وجہ خود نیاز فتح پوری کا رومانوی مزاج تھا۔یہ الگ بات کہ رومانویت کے حوالے سے بھی نگاراعلیٰ تحریروں کی اشاعت تک محدود تھا کسی بڑے تحرّک کا باعث نہ بن سکا۔

نیرنگِ خیال:

حکیم یوسف حسن نے ۱۹۲۴ء میں لاہور سے جاری کیا۔ تقسیم سے پہلے یہ لاہور سے جاری ہوتا تھا مگر بعد میں یہ راولپنڈی منتقل ہو گیا۔راولپنڈی سے شائع ہونے والے اہم ادبی جرائد میں شمار کیا جاتا ہے۔”مصر نمبر“، ”افغانستان نمبر“، ”افسانہ نمبر“، ”اقبال نمبر“، ”ایڈیٹر نمبر“، ”رام نمبر“، ”خواتین نمبر“ اس رسالے کے خاص نمبر ہیں۔ نیرنگِ خیال کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس کے”اقبال نمبر“ کی اشاعت علامہ اقبال کی زندگی ہی میں ہوئی۔اگرچہ یہ ابھی تک مختلف مدیران کی سربراہی میں جاری ہے، مگر اس کا معیارِ انتخاب پہلے جیسا نہیں رہا۔

اوریئنٹل کالج میگزین:

پنجاب یونیورسٹی کا ”اوریئنٹل کالج میگزین“ لاہور سے پروفیسر محمد شفیع کی ادارت میں ۱۹۵۲ء میں جاری ہوا۔ اس رسالے میں محض اردو ہی کو جگہ نہیں دی جاتی بلکہ بیک وقت عربی، فارسی، اُردو، پنجابی، سنسکرت، ہندی اور گورمکھی کی تحریریں بھی شائع کی جاتیں۔ یوں یہ اپنی طرز کا واحد رسالہ تھا۔

اورئنٹل کالج ہی سے ”بازیافت“ کی اشاعت کے بعد اس کی اہمیت میں واضح کمی آئی۔ اب اس کی اشاعت بھی باقاعدہ نہیں رہی۔ مدیر ایک نہ ہونے کی وجہ سے اس کے معیار میں بھی فرق آتا رہا ہے۔

ادبی دنیا:

اردو کا ایک اہم ادبی رسالہ ”ادبی دنیا“ بھی ہے، جس نے پاکستان بننے سے پہلے ادبی تحریکوں کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ادبی دنیا کو ۱۹۲۹ء میں مولانا تاجور نجیب آبادی نے شروع کیا۔ اس کے بعد اس رسالے کو کچھ عرصے کے لیے شیخ عبد القادر کی سرپرستی حاصل ہوئی۔ادبی دنیا خود ایک تحریک کا درجہ رکھتا ہے، کیوں کہ مختلف ادیبوں نے بطور مدیر اس کے ساتھ کام کیا، جن میں منصور احمد، حفیظ ہوشیار پوری، عاشق حسین بٹالوی اور قیوم نظر وغیرہ شامل ہیں۔سب سے اہم دور مولانا صلاح الدین احمد کا ہے۔ جنوری ۱۹۳۸ء میں مولانا صلاح الدین احمد ”ادبی دنیا“ میں بطور مدیر آئے۔کچھ عرصے کے لیے وزیر آغا بھی اس رسالے میں مولانا صلاح الدین احمد کی معاونت کرتے رہے۔

شاہکار:

ادبی دنیا کے بعد ۱۹۵۳ء میں مولانا تاجور نجیب آبادی نے ”شاہکار“ لاہور سے شائع کیا۔شاہکار اپنے مختلف ادبی موقف کی وجہ سے ادب میں زندہ و جاوید ہے۔ شاہکار نے ترقی پسند فکر کے سیاسی موقف کے خلاف لکھا۔ اگرچہ اس رسالے کا مزاج بعد میں فلمی تحریروں تک محدود ہو گیا تھا، مگر اس رسالے سے چوہدری فضل حق،محمد آصف،ساحر لدھیانوی، رام پرکاش اور شورش کاشمیری وابستہ رہے،جو بذاتِ خود ایک ادبی واقعہ ہے۔ ۱۹۵۶ء کے بعد یہ فلمی دنیا کا رسالہ بن کے رہ گیا۔ شاہکار کا ”ترقی پسند ادب نمبر“بہت اہم خصوصی نمبر تھا۔

ادبِ لطیف:

ادبِ لطیف ایسا ادبی رسالہ ہے جو گھاٹ گھاٹ کا پانی پیتا ہوا جوان ہوا ہے۔ اسے چوہدری برکت علی نے ۱۹۳۶ء میں لاہور سے نکالا۔ اس رسالے سے طالب انصاری،مرزا ادیب، فیض احمد فیض، راجندر سنگھ بیدی، ممتاز مفتی، قتیل شفائی، فکر تونسوی، احمد ندیم قاسمی اور عارف عبد المتین،سید قاسم محمود، انتظار حسین، ناصر زیدی، ذکاء الرحمن اور اظہر جاوید وابستہ رہے۔ حال ہی میں اسے دوبارہ فعال کیا یا ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں سے صدیقہ بیگم نے ادب لطیف کی ادارت ذمہ لی ہوئی تھی۔رنگ رنگ کے ادیبوں کی مدیرانہ سوچ کی وجہ سے اس کا کوئی ایک موقف نہیں بن پایا۔آج کل حسین مجروح لاہور سے نکال رہے ہیں۔اس پرچے کا ایک اعزاز یہ ضرور ہے کہ اس میں بہت اہم ادیب شائع ہوتے رہے ہیں۔ اگر انتخاب کیا جائے تو نہایت اعلیٰ پائے کی ادبی تحریروں کا مرقع بن سکتا ہے۔

سب رس:

حیدر آباد دکن تلنگانہ ریاست کا اہم شہر ہے، جو اردو ادب میں گولکنڈہ دور کا اہم حوالہ ہے۔ اسے اردو کا مرکز کہا جاتا رہا۔ اس شہر سے ۱۹۸۳ء میں ادارہ ادبیات اردو کے زیرِ اہتمام ایک رسالہ ”سب رس“حیدر آباد (دکن) جاری ہوا۔ ڈاکٹر محی الدین زوراس کے مدیر تھے۔ تقسیم کے بعد”سب رس“ کراچی منتقل ہو گیا۔ اس جریدے کے ”یادِ رفتگاں“، ”اقبال نمبر“ اور ”ممتاز حسن نمبر“ یادگار خصوصی شمارے ہیں۔

نقوش:

نقوش وہ رسالہ ہے جس نے ادبی دنیا کو ایک عرصے تک اپنے خاص نمبروں کی وجہ سے متوجہ کیے رکھا۔ نقوش کو ۱۹۴۰ء میں محمد طفیل نے لاہور سے جاری کیا۔ محمد طفیل کے علاوہ احمد ندیم قاسمی،سید وقار عظیم اور ہاجرہ مسرور بھی اس اہم رسالے کی معاون ادارت سے منسلک رہے۔

نقوش کے خاس نمبروں کو خاس شہرت حاصل رہی،بلکہ یہ نمبر ادبی دنیا میں حوالے کا درجہ اختیار کر گئے ہیں، ان میں ان میں ”غزل نمبر“، ”منٹو نمبر“، ”لاہور نمبر“، ”پطرس نمبر“، ”اقبال نمبر“، ”غالب نمبر“، ”شوکت تھانوی نمبر“، ”شخصیات نمبر“، ”خطوط نمبر“، ”آپ بیتی نمبر“، ”میر تقی میر نمبر“ اور ”میر انیس نمبر“ وغیرہ شامل ہیں۔

افکار:

اپنے دور کا سب سے نمایاں راسلہ ”افکار“ ۱۹۴۵ء میں صہبا لکھنوی اور رشدی بھوپالی نے بھوپال سے جاری کیا۔ جوش کے علاوہ افکار کے ”منٹو نمبر“، ”غالب نمبر“ اور ”افسانہ نمبر“ یادگار نمبر ہیں۔

نیا دور:

ہندوستان کی کرناٹک ریاست کے دارالحکومت بنگلور سے ۱۹۴۶ء میں ممتاز شیریں اور صمد شاہین کی زیرِ ادارت جاری ہوا۔ تقسیم کے بعد اس کے مدیران نے اسے کراچی سے شائع کیا۔ نیا دور پاکستانی ادب اور تہذیبی اقدار کی بازیافت کا رسالہ تھا، جسے بعد میں ڈاکٹر جمیل جالبی اور شمیم احمد نے جاری رکھا۔

سویرا:

سویرا کو جنوری ۱۹۴۸ء میں چوہدری نذیر احمد نے لاہور سے جاری کیا۔ احمد ندیم قاسمی، فکر تونسوی اور نذیر احمد’سویرا‘ سے منسلک رہے۔ اگرچہ تقسیم ہندوستان سے پہلے ”سویرا“ کے دو شمارے آچکے تھے، مگر اس کا اصل دور تقسیم کے بعد شروع ہوتا ہے۔ عارف عبد المتین، ظہیر کاشمیری، احمد راہی، حنیف رامے، محمد سلیم الرحمن، ریاض احمد چوہدری اور ظفر اقبال نے بھی مختلف وقفوں میں سویرا کی ادارت کی۔ سویرا کو رجحان ساز ادبی جریدہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ حنیف رامے نے خصوصی طور پر اس رسالے کو ایک مزاج عطا کیا، جس کی پیروی میں آج کل سلیم الرحمن جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ساقی:

ساقی ۱۹۴۸ء کراچی سے شاہد احمد دہلوی کی ادارت میں جاری ہوا۔ شاہد دہلوی ایک علمی ادبی خاندان کے چشم و چراغ ہیں،وہ مولوی بشیر الدین کے بیٹے اور ڈپٹی نذیر احمد کے پوتے ہیں۔ ساقی کو ادبی رسالوں میں ممتاز مقام حاصل ہے۔ شاہد احمد دہلوی کی وفات ۱۹۶۸ء کے بعد یہ پرچہ مسلسل جاری نہ رہ سکا۔رفیق حسین جیسے ادیب بھی اسی رسالے سے بام عروج تک پہنچے۔ ساقی کا آخری خصوصی نمبر خود ”شاہد احمد دہلوی نمبر“ ہے جسے ڈاکٹر جمیل جالبی نے مرتب کیا۔

قومی زبان:

قومی زبان ماہنامہ بنیادوں پر جاری اہم ادبی رسالہ تھا، جسے مولوی عبد الحق نے ۱۹۴۸ء کو کراچی سے جاری کیا۔ یہ بنیادی طور پر انجمن ترقی اردو پاکستان کی کارگردگی پر مشتمل ماہنامہ تھا جسے بعد میں پندرہ روزہ کر دیا گیا۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اہم ادبی مضامین بھی شائع کیے جاتے۔ جمیل الدین عالی، محترمہ ادا جعفری اور مشفق خواجہ اس کے مدیر مقرر ہوئے۔ ”بابائے اردو“، ”قائداعظم نمبر“، ”قدرت اللہ شہاب نمبر“ اس کے خصوصی نمبرز ہیں۔

اقبال:

بزم اقبال لاہور کا سہ ماہی رسالہ ”اقبال“ ۱۹۵۲ء جاری ہوا۔اس رسالے کے ساتھ ایم ایم شریف، بشیر احمد ڈار، سعید شیخ، ڈاکٹر جہانگیر احمد خان، گوہر نوشاہی، پروفیسر محمد عثمان وابستہ رہے۔ اس رسالے کا بنیادی مقصد اقبالیات کی ترویج ہے، اس سلسلے میں اس رسالے کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔اس رسالے کو ایک عرصے تک ڈاکٹر وحید قریشی بطور مدیر شائع کرتے رہے۔

صحیفہ:

یہ جریدہ مجلس ترقی ادب کے زیرِ اہتمام لاہور سے جون ۱۹۵۷ء کو جاری ہوا۔اس رسالے کا بنیادی مقصد وہی ہے جو مجلس کی پالیسی ہے، یعنی کلاسیکی ادب کی ترویج۔ اس کے پہلے مدیر سید عابد علی عابد تھے۔بعد میں حمید احمد خان، احمد ندیم قاسمی شہزاد احمد، تحسین فراقی بھی اس کے مدیر رہے۔

بادبان:

کراچی سے شائع ہونے والا ادبی رسالہ بادبان“ ہند اسلامی فکریات کا نمائندہ رسالہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسے نوے کی دہائی میں ناصر بغدادی نے جاری کیا۔ اس کے چند شمارے ہی شائع ہوئے مگر ان میں تراجم اور جدید ادبی مباحث نے اہم فکری تحریک کا کام کیا۔ بادبان کے اداریوں کو خاصی شہرت حاصل ہوئی۔

قند:

مرکز سے دور ایک اہم ادبی جریدہ ’قند‘ بھی ہے جسے تاج سعید نے ۱۹۵۷ء میں جاری کیا۔ اسے مردان شوگر ملز کی انتظامیہ کا تعاون حاصل رہا۔ اس رسالے نے ”ناولٹ نمبر“، ”موسیقی نمبر“ اور ”ڈرامہ نمبر“ کے علاوہ ”مجید امجد نمبر“ اور ”ممتاز شیریں نمبر“ جیسے یادگار نمبر دیے۔

فنون:

جن رسائل نے ادبی دنیا پر تادیر نقوش چھوٹے، ان میں ایک رسالہ ”فنون“ بھی ہے۔ فنون نے ایک نسل کو تیار کیا۔ کئی اصناف کو زندہ و جاوید کردیا۔احمد ندیم کی سربراہی میں ۱۹۶۳ء سہ ماہی فنون جاری ہوا۔ احمد ندیم قاسمی ترقی اگرچہ ترقی پسند نظریات کے حامی تھے مگر انھوں ہر قسم کا ادیب اپنے رسالے میں شائع کیا۔ فنون کا ”جدید غزل نمبر“ ایک یادگارنمبر ہے۔ فنون نے مصوری،خطاطی، تراجم، موسیقی اور فلم کو بھی اپنے دائرہ اشاعت میں شامل کیا ہے۔ فنون نے ادبی مباحث کو بھی بھرپور جگہ دی۔

سیپ:

یہ ایک فکر نو کا ترجمان رسالہ تھا جو ستمبر ۱۹۶۴ء میں نسیم درانی کی ادارت میں شائع ہوا۔ سیپ ادب کا ایک ایسا غیر جانبدار رویہ ہے۔ جہاں سے ہر صنف ادب سے اور ہر ادبی گروہ سے تعلق رکھنے والوں نے اپنی آواز بلند کی۔ نسیم درانی ایک بلند حوصلہ اور پختہ ادارے کے مالک مدیر تھے۔ انہوں نے مضامین اور شاعری کے اعتبار سے سیپ کے ہر شمارے کو یادگار شمارہ بنانے کی کوشش کی۔ سیپ کے اداریوں میں نسیم کا فکری احساس نمایاں تھا۔ وہ ان اداریوں میں اپنے احساس، اپنی کیفیت اور اپنے تجربے کی باتیں کرتے تھے اور یہ باتیں کرنے میں انہیں کمال حاصل تھا۔ ایک اداریے میں انہوں نے نقادوں کی تنقیدکو ہدف بنایا اور لکھا ”اگر نقاد اپنا فرض منصبی صحیح طور پر ادا نہیں کرتے تو تخلیق کار کو اس طرف متوجہ ہونا چاہیے۔

دستاویز:

معروف افسانہ نگار رشید امجد نے ۱۹۷۱ء کوراولپنڈی سے ”دستاویز“ کیا۔ احمد جاوید افسانہ نگار بھی رشید امجد کی معاونت کرتے رہے۔ ”دستاویز“ نے خالص ادب کی تحریک کی زندہ کیا۔ فکشن کو خاص جگہ دی جاتی۔ اگرچہ طویل مدت کے بعد شائع ہوتا مگر معیار کے اعتبار سے دستاویز کو الگ پہچان ملی۔ پنڈی کی طرف سے اس پایہ کا جریدہ کوئی اور نہیں تھا۔ فنون اور اوراق کی موجودگی میں دستاویز نے پہچان بنائی۔

پاکستانی ادب:

یہ ایک ترقی پسندانہ فکریات پر مشتمل رسالہ تھا جس کے مدیر سید سبط حسن تھے۔ یہ رسالہ ۱۹۷۴ء میں کراچی سے جاری ہوا۔ ”نئی نسل اور امیر خسرو اس کے یادگار اور اہم نمبر ہیں۔ ”پاکستانی ادب“ نے ترقی پسند ادب کی معدوم ہوتی فکریات کو مجتمع کرنے کی کوشش کی۔

سہ‌ماہی غالب:

یہ رسالہ کراچی سے مرزا ظفر الحسن نے ادارۂ یادگارِ غالب کے زیرِ اہتمام جنوری ۱۹۷۵ء میں شائع کیا۔ اپنے نام کی مناسبت سے غالبیات اس پرچے کا منفرد اور مخصوص موضوع تھا۔ طنز ومزاح کے علاوہ اقبالیات کو بھی اس نے اہمیت دی۔ فیض احمد فیض اس کے مدیر اعلیٰ تھے۔ ان کی وفات کے بعد اس کا دوسرا دور مختار زمن اور مشفق خواجہ کی ادارت میں شروع ہوا۔ ”اقبال نمبر“ اس رسالے کی یادگار اشاعت ہے۔ غالب کی تحقیق و تنقید میں اس پرچے نے انفرادی خدمات انجام دیں۔

تحقیق:

یہ لاہور سے ۱۹۷۸ء میں ڈاکٹر وحید قریشی کی ادارت میں شائع ہوا۔ کلیہ علوم اسلامیہ و ادبیات شرقیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کا یہ مجلہ تحقیقی کارناموں کے لیے مختص تھا۔ اگرچہ اب اس کی اشاعت بے قاعدہ ہے مگر اس مجلے نے اساتذہ تحقیق کے تحقیقی کارناموں کو نمایاں کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔

جریدہ:

پشاور سے تاج سعید نے جریدہ ۱۹۸۳ء میں شائع کیا۔ اس ماہنامے کی معاون مدیر معروف افسانہ نگار بیگم زیتون بانو تھیں۔ اگرچہ یہ رسالہ بطور ماہنامہ شائع ہوا مگر اس کی اشاعت ماہنامہ نہیں تھی۔ تاج سعید نے اس میں ایک ادبی رسالے کی مہک پیدا کی۔ شعر و ادب کے ساتھ اس جریدے نے ڈرامہ، تھیٹر، ٹی وی اور ریڈیو کو بھی فروغ دینے کا عہد کیا اور شعراء کا کلام مع تعارف شائع کیا۔ جریدہ کی دوسری کتاب موسم بہار ۱۹۴۸ء میں منظرِ عام پر آئی اور اس کی تیسری اشاعت موسم بہار ۱۹۸۵ء میں عمل میں آئی۔ ۱۹۴۸ء میں اس کی چوتھی اور ۱۹۸۷ء میں پانچویں کتاب شائع ہوا۔ ہر بار جریدہ اپنے دور کے ممتاز ادیبوں کی نمائندہ تخلیقات سے مزیّن ہو کر منظرِ عام پر آتا ہے۔ یہ ایک سالانہ پرچہ ہے جسے لکھنے والوں نے نہ صرف پسند کیا بلکہ اسے اپنی نمائندہ تحریروں سے بھی نوازا۔

اخبار اردو:

اسلام آباد سے جاری ہونے والا مقتدرہ قومی زبان کا سرکاری پرچہ ہے۔ یہ سب سے پہلے کراچی سے ڈاکٹر معین الدین عقیل کی سربراہی میں جاری ہوا۔ ۱۹۸۳ء کے بعد جب مقتدرہ کا دفتر کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوا تو اخبارِ اُردو بھی اسلام آباد سے شائع ہونے لگا۔ شریف کنجاہی، جمیل جالبی، ڈاکٹر وحید قریشی، انوار احمد، فتح محمد ملک، افتخار عارف اس سے وابستہ رہے۔ یہ ماہنامہ بنیادوں پر شائع ہوتا ہے، مگر اس کا دائرہ کار اردو زبان کی ترویج و اشاعت ہے۔ ادب کو کم جگہ دی جاتی ہے۔ تخلیقی ادب اس میں شائع نہیں کیا جاتا۔

ادبیات:

یہ ایک سہ ماہی جریدہ ہے جو اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد کے زیرِ انتظام جولائی ۱۹۷۸ء میں جاری ہوا۔ سرکاری سرپرستی میں شائع ہونے والے یہ واحد ریگولر رسالہ ہے۔ اس وقت اس کے مدیر عاصم بٹ اور اختر رضا سلیمی ہیں۔اس رسالے کا ایک اور اختصاص یہ بھی ہے کہ یہ قلمی معاونین کو رقم مہیا کرتا ہے۔ قومی زبانوں کو اس رسالے میں خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔تحقیق و تنقید، طنز ومزاح، سفرنامہ، انشائیہ، غیر ملکی تراجم، فکشن کے لیے الگ گوشے بھی بنائے جاتے ہے۔ ادبیات نے بہت سے ادیبوں کے نمبر جاری کیے جن میں امرتا پریتم، عبد اللہ حسین، احمد ندیم قاسمی، فراز، فیض وغیرہ شمال ہیں۔ مقامی زبانوں کے ادیبوں کے گوشے بھی بنائے جاتے ہیں۔ نثری نظم نمبر اور ناول نمبر کی خصوصی اشاعت بھی ادبیات کا معیاری کام ہے۔

ماہ نو:

وزارتِ اطلاعات پاکستان کے زیرِ اہتمام جاری ہونے والا ”ماہِ نو“ واحد سرکاری رسالہ ہے جسے معیار اور آزادی کے حوالے سے غیر سرکاری رسالوں کے ساتھ رکھا جا سکتا ہے۔اصل میں اسے سید وقار عظیم جیسے فکشن شناس ادیبوں نے وقار عطا کیا اور اس کی سمت نمائی کی۔اس پرچے کے ساتھ بھی بہت سے مختلف ادیب وابستہ رہے، ہر ادیب نے بطور مدیر اپنی پالسیوں کی نظر سے پرچے کو بہتر کرنے کی کوشش کی۔ محمد حسن عسکری، رفیق خاور، چراغ حسن حسرت، فضل حق قریشی اور فضل قدیر نے اس رسالے کو مختلف زاویہ عطا کیا۔ اس رسالے کے خصوصی نمبروں میں ”اقبال نمبر“، ”غالب نمبر“، ”میر انیس نمبر“، ”مرزا دبیر نمبر“، ”قائد اعظم نمبر“، ”انقلاب نمبر“ اور ”سارک نمبر“ شامل ہیں۔ ماہ نو کا چالیس سالہ انتخاب نمبر دو جلدوں میں شائع ہوا۔ کشور ناہید نے اسے جدید رنگ عطا کیا۔ تخلیقی ادب کا اعلیٰ انتخاب کشور ناہید کی بدولت اس رسالے کی زینت بنتا۔ تراجم بھی کثرت سے شائع کیے جاتے۔ ادب کے علاوہ مصوری، نقاشی، فوٹوگرافی، سنگ تراشی، موسیقی اور آثار قدیمہ کو بھی جگہ دی جاتی۔

تسطیر:

راولپنڈی سے شائع ہونے والا کثیر اشاعتی رسالہ تسطیر معروف نظم نگار نصیر احمد ناصر کی ادارت میں شائع ہوتا ہے۔۔ نوے کی دہائی کے آخری سالوں میں شائع ہونا شروع ہوا مگر چند ہی سال کے بعد بند ہو گیا۔ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں اسے دوبارہ شائع کیا جانے لگا۔ اب تسلسل سے شائع ہو رہا ہے۔ دو درجن سے زائد شمارے شائع ہو چکے ہیں۔

خیال:

خیال ایک کتابی سلسلہ تھا، جسے فیصل آباد سے انجم سلیمی اور نذر جاوید شائع کرتے رہے۔صرف تین شمارے شائع ہو سکے۔ ۱۹۹۹ سے ۲۰۰۱ء تک جاری رہا۔

آفرینش:

یہ رسالہ بھی کتابی سلسلہ تھا، جسے غزل گو شاعر مقصود وفا نے جاری کیا۔ اس کے تین شمارے شائع ہوئے مگر ناگزیر وجوہات کی بنا پر بند ہو گیا۔ ۲۰۰۳ء میں اس کا آخری شمارہ شائع ہوا۔

آثار:

فیصل عجمی اسے اسلام آباد سے شائع کرتے تھے، جس کے درجنوں شمارے شائع ہوئے۔ منفرد طباعت اور صوری خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھا۔ احمد فراز جیسے شاعر اس رسالے کی ادارت و مشاورت میں شامل رہے۔
ان رسائل کی تاریخ پر نظر دوڑائے جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے رسائل انتظامی امور کی وجہ سے جلد بند ہوگئے۔ یا دوسرے مدیروں کے پاس چلے گئے۔ ایک رسالے کو مختلف ادیبوں نے جاری رکھنے کی کوشش کی۔ ہر ادیب اپنے نظریاتی پالیسی سے رسالہ جاری کرتا، جس کی وجہ سے رسالے کا پورا مزاج ختم ہو کے رہ جاتا۔ ان رسالوں نے ڈھیروں ادب کو شائع کیا۔ سرکاری سطح پر جاری ہونے والے رسالے محدود اور کمزور ادبی رسالے کہلائے جا سکتے ہیں۔ذاتی سطح پر جاری رسالوں ہی نے ادب کی صحیح معنوں میں خدمت کی۔

بیسویں صدی اہم اصناف سفرنامے، ناول، افسانے، ڈرامے، تنقید کو فروغ دینے میں ان رسائل کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔

-

صحافت اور ادبی صحافت: امتیاز و حدود

رسالہ، جریدہ یا مجلہ کسے کہتے ہیں:

جریدہ، رسالہ اور مجلہ کے الفاظ ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ ان کے اصلاحی معنوں میں بھی زیادہ فرق نہیں۔ لغوی اعتبار سے دیکھا جائے تو:

جریدہ:

’جریدہ‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں:”وہ لکڑی جس پر شمار کے نشان بنے ہوں“، یا حساب کا دفتر، حساب کی کتاب“

رسالہ:

’رسالہ ‘عربی زبان کا لفظ جس کے معنی ہیں ”فوجی دستہ“،اصطلاحی معنوں میں ایسی کتاب جس میں مختلف مضامین کا انتخاب شائع ہو۔
مجلہ:
عربی زبان کا لفظ جس کے معنی ہیں : ”وہ کتاب جس میں مضامین (تحریریں) شائع کیے جائیں۔

رسالہ:

گویا مجلہ رسالہ کا ہم معنی ہے۔جریدہ بھی رسالے ہی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو تینوں الفاظ ہم معنی ہیں۔ اس تحقیقی منصوبے میں بھی تینوں کو ہم معنی ہی استعمال کیا جا رہا ہے۔ انگریزی لفظ میگزین بھی انھی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ البتہ میگزین کا لفظ ادبی جرائد کے علاوہ اخباری صحافت کے لیے بھی لکھا جاتا ہے۔ اس لیے ادبی جریدوں کو رسالہ، جریدہ یا مجلہ کہنا زیادہ مناسب ہے۔

ادبی صحافت سے کیا مراد ہے:

’ادبی صحافت ‘اور’ صحافت میں ادبیت‘ دونوں کے تصور معنی میں گہرا فرق ہے۔ادب سے وابستہ صحافت ’ادبی صحافت کہلاتی ہے، جس میں ادب کی ترویج و اشاعت کا بندو بست شامل ہے۔ ظاہری بات ہے یہ خالصتاً ادبی تخلیقات یا ادبی سرگرمیوں سے جڑی ادبی جمع آوری اور معیار بندی کا کام ہے۔ صحافتی زبان کاادبی استعمال یک سر ایک دوسری سرگرمی ہے جس کا ادب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بعض صحافی اخبارات میں ادارتی یا کالم طرز کی تحریروں کے لیے ادبی زبان کو بروئے کار لاتے ہیں۔ اسی طرح فیچرز یا سماجی مضامین میں بھی ادبی حسن کاری سے کام لیا جاتا ہے۔اخبارات کی شہ سرخیوں، فیچرز کی پیش کش یا اخباری میگزینوں میں مضامین نگاری چوں کہ براہِ راست خبر سے منسلک نہیں ہوتے، اس لیے ان کو زیادہ جاذبِ نظر بنانے اور ادبی چاشنی سے رنگین کرنے کے لیے ادبی زبان کا سہارا لیا جاتا ہے۔ میگزین صحافت میں ادبی زبان ایک ناگزیر ضرورت بن جاتی ہے۔ مگر ادب میں ادبی صحافت بالکل ایک مختلف موضوع ہے۔
یوں ہم دونوں کو دو مختلف تصورات سمجھتے ہوئے کہ سکتے ہیں:

۱۔ ادبی صحافت (Literary Journalism) سے مراداخبارات یا کالموں میں آنے والی ادبیت ہے۔یعنی ایسی صحافت جس کا انداز ادبی ہو۔

۲۔ ادبی صحافت سے مراد تخلیقی ادب کی اشاعت و فروغ ہے۔ ادب سے وابستہ ادبی صحافت کا بنیادی مقصد خبروں کی اشاعت نہیں، بلکہ ادبی تخلیقات کی اشاعت اور ادب میں جنم لینے والے نئے سوالات کی پیش کش ہے۔

اردو ادب کی ادبی صحافت کے کیا پیمانے ہوں؟ ادب کی ترویج و اشاعت کے وقت کیا اصول پیشِ نظر ہونے چاہیے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن پر زیادہ تفصیل سے لکھنے کی ضرروت ہے۔ اس تحقیقی منصوبے میں انھیں جاننے کی کوشش کی جائے گی۔

-

پاکستان کے اردو ادبی رسائل

ادب کی ترویج و اشاعت میں جو کردار رسائل کا رہا ہے وہ کتاب کلچر یا دیگر ادبی سرگرمیوں سے کہیں بڑھ کے ہے۔ خوش قسمتی سے اُردو میں بہت سے اہم جرائد و رسائل اس اہم ذمہ داری کو نبھاتے رہے ہیں۔ رسائل کلچر اصل میں انگرےزعہد میں آیا جب ادب کو ایک سماجی حقیقت کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ پریس نے برصغیر میں ایک نئی تخلیقی دنیا کا دروازہ کھول دیا۔ اخبارات اور کتابوں کی اشاعت نے ہماری سماجی اور تخلیقی زندگی پر بہت سے اثرات ڈالے۔ ادب بھی ان اثرات سے بہرہ مند ہونے لگا۔ نِت نئے رسائل جاری ہونے لگے۔ بیسویں صدی میں خصوصاً اس اہم شعبے کی طرف ادیبوں نے توجہ دی۔سرسید نے ”تہذیب الاخلاق“ نکالا۔ جو ادبی رسالہ تو نہ تھا مگر ادب پر گہرے اثرات مرتب کرتا گیا۔ ”تہذیب الاخلاق “کے رد عمل میں ایک بہت اہم رسالہ ”تیرہویں صدی“ بھی ہے جو میر ناصر علی خان دہلوی نے ۱۸۷۶ء کو جاری کیا۔ یہ اہم رسالہ رومانوی فکر کا نمائندہ تھا جو سرسید کی عقل پرستی کے رد میں جاری ہوا۔ چار پانچ سال کے بعد یہ بند ہو گیا پھر میر ناصر علی دہلوی نے نام تبدیل کر کے ”صلائے عام“ کے نام سے ایک اور رسالہ نکالا جو ۱۹۰۸ء سے ۱۹۳۳ء تک جاری رہا۔ اس رسالے کی تنقیدی اور فکری سرمائے پر ابھی نظر نہیں پڑی۔ جامعات کو اس پر پوری توجہ دینی چاہیے اور میر ناصر علی دہلوی کی ادبی خدمات پر کام کروانا چاہیے۔ صلائے عام میں اُس وقت کے تناظرات کو پہچاننے میں مشکل پیش نہیں آتی۔ وہ عقل پرستی کے خلاف ایک جہاد کی طرح کام کرتے رہے۔ بہت کم لوگوں کو پتا ہے کہ اُردو میں رومانوی تحریک کے پس منظر میں میر ناصر علی کا نام اور کام ایک تحریک کی طرح تھا۔اسی عہد میں ”مخزن“ کا کام اور ادبی خدمات نمایاں ہیں جسے سر عبد القادر نکالتے تھے۔ ”مخزن“ میں خصوصاً جدید شاعری کو زیادہ موضوع بنایا گیا۔ یہ بھی رومانوی تحریک کا نمائندہ رسالہ بن کر سامنے آیا۔ آگے چل کر ”ساقی“ اور” ادبی دنیا“ کی اہمیت کا کون انکار کر سکتا ہے۔ادبی دنیا کو میرا جی اور ساقی کو شاہد احمد دہلوی نے اپنے اعلیٰ ادبی ذوق سے اعلیٰ ادب کا مرکز بنا دیا۔ان دو جریدوں نے مجموعی طور پر ادب کی شکل نکھارنے میں ایک قدم بڑھ کے کام کیا۔ یہی وہ دور تھا جب اُردو میں تخلیقی ادب اپنی جون بدل رہا تھا۔ نئے نئے سوالات نئی اصناف کے ساتھ مرکز گفتگو بن رہے تھے۔ ساقی میں حسن عسکری نے باقاعدہ ”جھلکیاں“ کے عنوان سے کالم لکھنے کا آغاز کیا جس میں ادب میں اٹھنے والے نئے سوالات کو اپنا موضوع بنایا جاتا۔اسی دور میں محمد طفیل کا ”نقوش“، وزیر آغا کا ”اوراق“ اور احمد ندیم قاسمی کا ”فنون“ بھی جاری ہوئے جنھوں نے ایک عہد کی تعمیر کی۔ محمد طفیل نے تقریباً تمام اصناف کو اپنا موضوع بنایا۔نقوش کے رسول نمبر، افسانہ نمبر، آپ بیتی نمبر، خطوط نمبر وغیرہ اہم شمارے تھے۔ ہمارا عہد اگرچہ ”اوراق“ اور فنون“ کے عہد سے آگے آ چکا ہے مگر ہمیں ابھی تک ”اوراق“ اور ”فنون“ کے تربیت یافتہ ادیبوں کی رہنمائی میسر ہے اور ہمارے عہد کی تعمیری و تخلیقی شناخت انہی رسائل کے تربیت یافتہ افراد سے متعین ہوتی نظر آتی ہے۔ ”اوراق“ کا قد اس لیے زیادہ برا ہے کہ اس میں نئے تنقیدی مباحث اورجدید نظم کو زیادہ اہمیت دی گئی۔ حتیٰ کہ ”سوال یہ ہے“ کے عنوان سے باقاعدہ ایک سلسلہ شروع کیا گیا جس میں جیّد لکھاری حصہ لیتے جو ادب کے ہم عصر مسائل کے مختلف تناظرات کو سمیٹنے کی اہلیت رکھتا۔ ”فنون“ غزل کی ترویج کا باعث بنا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اُردو کو اعلیٰ طرز کے غزل گو ”فنون“ نے ہی فراہم کیے۔

پچھلی کچھ ایک دو دہائیوں سے اُردو میں جرائد کا اسلوبیاتی انداز بھی بدلا ہے اور پیش کش کے لیے مواد کی ترجیحات میں واضح فرق بھی آیاہے۔آج کے ادبی جرائد، ادب کو موضوع بناتے ہوئے اپنے تناظرات کو سمجھنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں اور کسی حد تک سمت نمائی بھی۔میں اگرپچھلی ڈیڑھ دہائی میں سامنے آنے والے چند رسالوں کا نام لوں تو اُن میں کراچی سے شائع ہونے رسائل میں دنیا زاد (آصف فرخی)، آج (اجمل کمال)، مکالمہ (مبین مرزا)، ارتقا (محمد علی صدیقی)، اسالیب (عنبرین عنبر)، اجرا (احسن سلیم) اپنی وضع اور مباحث میں منفرد اور کچھ ہٹ کے پیش کرنے والے رسائل ہیں۔ راولپنڈی سے سمبل (علی محمد فرشی)،تسطیر(نصیر احمد ناصر) اور ادبیات (محمد عاصم بٹ، اختررضا سلیمی)نمایاں اور اپنی شناخت بنانے والے جرائد ہیں۔

لاہور سے جرائد کے اعتبار سے کوئی خاص شمولیت نظر نہیں آتی۔ ایک عرصہ ہو گیا جب محمد سلیم الرحمن کا رسالہ ”سویرا“ نظر نواز ہوتا تو کچھ ہٹ کے دیکھنے کو ملتا۔ ایسا لگتا ہے انیس ناگی اور سہیل احمد خان کے بعد ”سویرا“ تو خاموش سا ہو گیا ہے۔ لاہور میں اس رسالے کے علاوہ کوئی دوسرا اہم ادبی رسالہ نظر نہیں آتا۔کچھ اور رسائل بھی سامنے آئے ہیں جنھیں میں بہت اہمیت دیتا ہوں ان میں تناظر (ایم خالد فیاض) اور ڈاکٹر تحسین فراقی کا ادبی شاہکار ”مباحث“ ہیں۔ ”مباحث“ نے اپنی فکریات کو خالصتاً ادبی جمالیات کے ایک خاص حصے تک منسلک رکھنے کو ترجیح دی ہے۔ شاید اس وجہ سے ”مباحث“ ادبی دنیا کے موجودہ فکری رجحانات کا نمائندہ نہیں بن سکا۔ مگر ڈاکٹر تحسین فراقی کا علمی اور ادبی وقار اپنی جگہ مسلّم ہے۔ اس لیے اس جریدے کی اہمیت بھی مسلّم ہے۔ تحسین فراقی صاحب اس رسالے کے علاوہ بھی ایک جریدہ ”صحیفہ“ مرتب کر رہے ہیں جو مجلس ترقی ادب کا نمائندہ ہے۔ یہ جریدہ خالصتاً تحقیقی موضوعات کو سمیٹتا ہے اس لیے اپنی فکریات میں محدود ہے۔ کچھ اسی قسم کا ایک رسالہ ”مخزن“ بھی ہے جو قائد اعظم لائبریری لاہور کا نمائندہ ہے۔ اس رسالے کا نام مخزن (عبدالقادر) کے نام بھی ہی رکھا گیا ہے مگر اس کی فکری مباحث اور مخزن سے کوئی تعلق نہیں۔ صوری اور اپنی اشاعت کی باقاعدگی کے حوالے سے یہ بھی ایک اچھا رسالہ ہے مگر کسی بڑے فکری تحرک کا باعث نہیں بن سکا۔

ادبی جرائد کو کیسا ہونا چاہیے! یہ ایک ایسی بحث ہے جو ہمارے ادبی مسائل کو سمجھنے کے مترادف ہے۔ ادبی جرائد اب ادب کی خالص شکل کو پیش نہیں کر سکتے یعنی محض تخلیقی ادب چھاپ کر ایک رسالہ ادب کی کوئی خدمت انجام نہیں دے سکتا کیوںکہ تخلیقی ادب کے اشاعتی اظہار کے بہت سے موثرذرائع پیدا ہو چکے ہیں۔ رسائل کے وظیفے کا معاملہ ادب کے اندر پیدا ہونے والے فکری مسائل کو سمیٹنے کا زیادہ ہے۔ ہر چیز اپنے تناظرات کی ایک توجیح ہے۔ ایک وقت تھا جب ادبی جرائد اصناف تک محدود رہ کر مدیر کی فکری یا جمالیاتی ذوق کی خام حالت سے ٹھوس شکل میں پیش ہوتے تھے۔ اب ادب کا معاملہ دو جمع دو والا نہیں رہ گیا۔ ادب کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں۔ ادب کا سب سے اہم ذریعہ ”زبان“ ہے جس کو ایک ثقافتی تشکیل قرار دے دیا ہے۔ گویا ادب مصنف کی ”تخلیق“ نہیں، مصنف بھی زبان کے ذریعے” تشکیل “ہوتا ہے اور یوں صرف فن پاروں کی جمع آوری ہی مدیر کا کام نہیں رہ گیا۔ ادب کے اندر جن سوالات کو اُٹھایا جا رہا ہے اگر جرائد اُن کا حصہ نہیں بنتے تو وہ کارِ زیاں میں مشغول ہیں۔ ادب خلا میں تیار نہیں ہوتا اور نہ ہی ادیب اپنے تخلیقی کرب میں ذات کی جمالیاتی یا فکری الجھنوں تک محدود رہتا ہے۔ ادب کے تخلیقی عمل میں دیگر علوم کا ناگزیر حد تک عمل دخل ہو گیاہے۔ ایک شاعر یا کہانی کار اپنے ماحول کے جملہ فکری مباحث سے کٹ کے کچھ لکھ ہی نہیں سکتا۔یہ سارا عمل غیر شعوری ہوتا ہے۔ یوں ایک شاعر کا نقطہ نظر یا کہانی کا کرداری مطالعہ ایک تناظر Context میں سمجھنے سے ہی سمجھ میں آتاہے ورنہ فن پارہ اکہرا اور شخصی تشریح یا حظ اندوزی تک رک جائے گا۔

جرائد نے اپنے Context کو پھیلایا ہے۔ ایسا نہیں کہ اُردو ادبی جرائد میں پہلے ایسا نہیں تھا۔ کم از کم ”اوراق“ کو ہم اپنے معاصرین میں مختلف رسالہ پاتے ہیں۔ مگر بات وہی کہ ’اوراق ‘کے مسائل اور تناظر بھی کچھ محدود تھے اور خاص سطح سے آگے نہیں آ سکے۔ شاید اُس وقت کے حالات کے تابع ہو کے ہی ”اوراق“ اپنی فکری تشکیل کرتا رہا۔اب حالات محض غزلوں یا کہانیوں کو پیش کرنا نہیں رہ گیا بلکہ ادب کی جمالیاتی اور فکری بنت کاری کو اُس مکالمے کے اندر دکھانے کا کام بھی آن پڑا ہے جو رسالے کا مدیر اپنی ادبی اور سماجی فکریات میں چنتا ہے۔

اس حوالے سے کتابی سلسلہ ”دنیا زاد“ نے اپنی فکری شناخت سے سب سے زیادہ حصہ ڈالا ہے۔ نو گیارہ کے بعد کی صورتِ حال اور خطے کو درپیش جن حالات میں تخلیقی سطح پر شاعر اور کہانی کار جن جن کرب انگیز کیفیات سے گزرا ہے آصف فرخی نے کمال ہنر مندی سے جوڑ کر محفوظ کر لیا ہے۔ اُردو جس پر جتنا بھی ناز کرے وہ کم ہوگا۔” دنیا زاد“ ادب کی ادبیت کو سمجھنے کا رسالہ ہے۔ ایک ادب اپنی تخلیقی سماجیت میں کن مراحل سے گزر رہا ہوتا ہے اور اُس کی فکری بنت میں کون کون سے عوامل ہوتے ہیں، ان سوالات کا بخوبی جواب ”دنیا زاد“کے خصوصی شماروں میں ملتا ہے۔ ’دنیازاد‘ کا ایک اور کارنامہ اُردو کو عالمی تناظر میں دیکھنے کا ہے۔ حال ہی میں شائع ہونے والا شمارہ ”مین بکر ایوارڈ“ کے شرکا کو اُردو میں متعارف کروایا گیا ہے۔ یہ صرف تعارف ہی نہیں بلکہ اُردو کے ادبی وقار کو ماپنے کی طرف بھی کامیاب کوشش ہے۔کیونکہ ان میں ناول نگار اور کہانی کار انتظار حسین بھی شامل ہیں۔ آصف فرخی ایک کہانی کار اور معروف مترجم بھی ہیں۔ یہ دونوں خصوصیات اُن کے مدیرانہ منصب کے لیے بہت ممد ثابت ہوئی ہیں۔ ’دنیا زاد‘ ایک ایسی کھڑکی ہے جس نے اُردو کی تنگ فکری فضا کو باہر کی وسیع تخلیقی اور تنقیدی دنیا سے جوڑ رکھا ہے۔ عموماً اس کام کو ترجموں کی شکل میں پورا کیا جاتا ہے مگر دنیا زاد میں انگریزی اور دنیا کی دیگر دوسری زبانوں میں اعلیٰ ادب کے مسائل پر ڈھیر ساری بحث بھی ملتی ہے جس سے اُردو لکھاریوں کی براہِ راست شمولیت سے اس پرچے کے قد میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ مجموعی طور پر دنیا زاد کا مزاج فکشن کی طرف ہے۔ خالص تنقید اور شاعری دوسری ترجیح میں شمار لگتی ہیں۔

پچھلی کچھ ایک دہائی کے اہم ادبی مباحث میں ”سمبل“ نے بھی بہت اہم حصہ لیا ہے۔ سمبل کے مدیر”علی محمد فرشی“ خود بھی ایک صاحب طرز نظم نگار ہیں شاید اسی لیے بھی انھوں نے ادب کی کھڑکی کے اندر ہی ادب کی جمالیات متعین کی ہیں۔ ”سمبل“ کا سارا زور ادب کی جمالیات کی تلاش رہا ہے اور وہ رسالے کے اندر ادب کی تخلیقی پیمائش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ مجموعی طور پر ”سمبل“ نے ادبی تخلیقی فن پاروں کی عظمت پر ادب پر اثر انداز عناصر کو کھوجنے کا پیغام دیا ہے۔ یہ بھی ایک اہم پہلوہے جس کا بخوبی اندازہ ”سمبل“ کے تمام شماروں کی ورق گرادانی کرتے ہوئے ملتا ہے۔ ”سمبل“ کا ایک اور اختصاص اعلیٰ درجے کے نظم نگار اور غزل گو شعرا کو متعارف کروانا ہے۔ سمبل کو نئی جدید نظم کی انتھالوجی بھی کہا جاتا ہے۔ تنقیدی حوالے سے نئی بحثوں کو جگہ دی گئی ہے۔ قرات خوانی کا جتنا خیال’ سمبل ‘میں رکھا گیا ہے شاید ہی کسی اُردو رسالے میں اس کا اہتمام کیا جاتا ہو۔ مختلف گوشوں کو مختلف ناموں سے علیحدہ کر دیا ہے جن کے نام بھی مدیر کی اعلیٰ ذوقی کا پتا دیتے ہیں۔

کتابی سلسلہ”آج“ کو کہانی کا نمائندہ جریدہ کہا جاتا ہے مگر میرے خیال میں اُردو کی شعریات کی تلاش میں بہت زیادہ حصہ ”آج“نے بھی لیا ہے۔ اجمل کمال کا یہ رسالہ اُردو میں اُن تراجم کو پیش کرنے میں کوئی اڑھائی دہائیوں سے مصروف ہیں جو ادب کے اُن جملہ فکریات سے جڑا ہُوا ہے جن کے حصار میں نہ چاہتے ہوئے بھی ایک ادیب کو رہنا پڑتا ہے۔ ہمارے قومی المیے اور فکری بحران کا اظہار اجمل کمال نے جس طرح کیا ہے اُردو میں کوئی بھی رسالہ اُس طرح کا اظہار نہیں کر سکا۔ کہانیوں میں جس ادبی وقار کا خیال اجمل کمال رکھتے آ رہے ہیں اُردو کے چند ایک ہی رسالے کو وہ نصیب ہو سکا ہے۔ اجمل کمال کا انتخاب صرف خوش ذوقی تک محدود نہیں، بلکہ ”آج“ کے صفحات پر اپنی جگہ بنانے والی ہر کہانی اُردو کے فکشن کے مجموعی سرمائے میں اضافہ بھی بنی ہے۔ شاعری بھی ترجمے کی صورت ہی سامنے آئی ہے مگر ”آج“ میں طبع زاد کہانیوں کی طرح شاعری بھی خال خال نظر آ جاتی ہے۔ شاعری میں بھی اجمل کمال نے کہانیوں کی طرح Contentکو ہی سامنے   رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ”آج“ میں غزل اپنی جگہ نہیں بنا پائی۔ شاعری میں بھی نثری شاعری کا پلڑا بھاری ہے۔

ادبی رسالہ ہی کیوں؟ یہ سوال اب پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ اگر رسالہ نکالا ہی جائے تو وہ ادب کی ”ادبیت“ اور فن پاروں کی”تخلقیت“ کو سمیٹنے سے قاصر کیوں ہو؟ ایک ادبی رسالہ اپنے حاضر اور غائب سے اس قدر نابلد کیوں ہو؟ سماجیت کا عمل ادب میں کس طرح کارگر ہوتا ہے، ان سوالوں کے جواب ادبی رسالے کا موضوع کیوں نہیں ہوتے؟ ادب کو ادب کے طور پر لیتے ہوئے صرف اُردو تک کیوں محدود رہا جائے یا صرف ایک صنف کی محدود تکنےکی جمالیاتی گرہ کشائی تک ہی محدود کیوں رہا جائے؟

ادبی رسالوں کے مدیران کو اس طرف بھی دھیان دینا ہو گا۔چند رسالوں کے ’شور‘ کے علاوہ اُردو کے اندر ایک قسم کا جو جمود ہے، وہ رسالوں کی خموشی بھی ہے۔ جو چھپ رہے ہیں، اُن کے مدیران ادبی تناظرات کی تشکیل میں اب اتنا وقت نہیں دینا چاہ رہے۔ اسی لیے رسالے پھیکے اور بے رونق ہوتے جا رہے ہیں۔رسالوں میں ادبی مباحث تقریباً ختم ہو گئے ہیں۔برائے نام کچھ مضامین میں ہلکی پھلکی بحثیں شائع ہوتی ہیں جو اس ادبی جمود کو توڑ نہیں پاتے۔

_____________

ادبی رسائل کسی بھی زبان کے ادب میں جاری سرگرمیوں کی جان ہوتے ہیں۔ ادبی صحافت محض تخلیقی، تنقیدی یا تحقیقی ادب کی جمع آوری کا نام نہیں، بلکہ اس کی ادبی پیش کش میں مجموعی تہذیبی و ثقافتی سرگرمیوں کی نمائندگی اور احیا بھی موجود ہوتا ہے جو دیگر ادبی سرگرمیوں (تقاریب، مشاعرے، طباعتِ کتب وغیرہ) سے اس طرح ممکن نہیں۔

افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ہاں ادبی صحافت کو ایک اضافی یا ادب کے حاشیے کی سرگرمی سمجھا جانے لگا ہے۔ ادبی صحافت سے وابستہ افراد عموماً ’مکمل ادیب‘ تصور نہیں کیے جاتے اور جو ’مکمل‘ ادیب ہوتے ہیں، ان کی بطور مدیرانہ کارگزاری کو اُن کے مجموعی تخلیقی یا تنقیدی کام میں ایک اضافی کام تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُردو میں ادبی صحافت بطور ایک مضمون (Subject) کے ابھی تک قبول نہیں کیا گیا۔ ادبی صحافت کے اصول مرتب نہیں کیے جا سکے۔ ادبی صحافت ایک نجی عمل ہی سمجھا جاتا رہا ہے، جو چند افراد کی ذاتی دلچسپی تک محدود ہے۔

ادبی صحافت کیا ہے؟ اس کے اصول کیا ہونے چاہئیں؟ ادبی صحافت کی اہمیت اور ضرورت کیا ہے؟ ان موضوعات پر تفصیلی لکھنے کی ضرورت ہے۔ یہاں اُردو میں ادبی صحافت کو درپیش موجودہ مشکلات کا ذکر کرنا چاہوں گا، جن پر گفتگو کی ضرورت بھی کچھ کم اہم نہیں۔ پہلے زمانہ تھا، جب معروف ادیب اور ادب شناس افراد ادب کی ترویج و اشاعت کا ذمہ لیتے اور اپنے ذاتی اخراجات پر رسائل چھاپتے تھے۔ اُردو میں ادبی رسائل کی باقاعدہ اشاعت انیسویں صدی کے آخری دہائیوں سے شروع ہوئی۔ بیسویں صدی کے آغاز سے ہی ادبی رسائل نے اہم سرگرمی کے طور پر جگہ بنا لی۔ ایک اہم ادبی رسالہ ”مخزن“ از سر عبدالقادر، جس کی ایک مثال ہے، اسی عہد میں”دل گداز“ (از عبد الحلیم شرر) اور”خیالستان“ (از مولانا صلاح الدین احمد) بھی کچھ کم اہم ادبی رسالے نہ تھے۔ مولانا نے بعد میں ۱۹۴۳ء میں ’ادبی دنیا‘ بھی جا ری کیا۔جس نے ادب پر تادیر نقوش چھوڑے۔ اصل میں ایک ادبی رسالے میں مندرجہ ذیل تمام سرگرمیاں سما سکتی ہیں جو ادبی محافل، اشاعتِ کتب، مشاعرے اور تقاریبِ قراتِ نثر وغیرہ سے ممکن نہیں۔

یہ تو کچھ نکات ہیں، جو ادبی رسائل میں پیش کیے جا سکتے ہیں، جن کی وجہ سے ایک رسالہ کسی طرح بھی دیگر ادبی سرگرمیوں کے مقابلے میں کمتر یا کم اہم سرگرمی نہیں ہو سکتا۔ اس وقت ادبی رسائل کو بہت سی مشکلات میں سے ایک اس مشکل کا سامنا بھی ہے کہ اس وقت ادبی رسائل واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ ایک، وہ رسائل ہیں جو ذاتی سطح پر شائع ہو رہے ہیں اور دوسرے، وہ رسائل ہیں جو مختلف اداروں سے وابستہ ہیں، ان اداروں میں جامعات، کونسل خانے، این جی اوز، سرکاری ادارے وغیرہ شامل ہیں۔ ذاتی سطح پر جاری رسائل تو اسی نہج پر شائع ہو رہے ہیں، جو صدیوں سے ادبی روایت کا حصہ ہے، جس میں تخلیقی ادب اور تنقیدی ادب کو ساتھ ساتھ شائع کیا جاتا رہا ہے۔ مکالمے، انٹرویوز، خطوط، سوال نامے وغیرہ بھی پیش کیے جا رہے ہیں، البتہ اداروں کی طرف سے شائع ہونے والے رسائل تحقیقی سرگرمیوں تک محدود کر دیے گئے ہیں۔ ان میں ادبی رسائل کی تاریخ و روایت سے قطعی انحراف کیا گیا ہے جن میں تخلیقی ادب، سوال نامے، مکالمے، خطوط وغیرہ مکمل طور پر ناقابلِ اشاعت قرار دے دیے گئے ہیں۔ اداروں سے جاری رسائل وسیع وسائل رکھتے ہیں، جو براہِ راست، جامعات میں موجود اساتذہ اور سکالرز کے مضامین و تحقیقی سرگرمیوں کو شائع کرتے ہیں۔ان رسائل نے ایک خاص ضرورت کے تحت جنم لیا ہے، جس کی وجہ سے ان کا دائرہ کار بہت محدود ہے۔
اصل میں ادبی رسائل کو تحقیقی پیٹرن پر شائع کرنے کی روایت سائنسی و علمی جرائد و رسائل سے لی گئی ہے، جو صرف تحقیقی سوالات ہی اٹھاتے ہیں۔ یہی سائنسی ریسرچ ہی سائنس میں نئے سوالات سامنے لاتی اور مجموعی سائنسی کارکردگی کو آگے بڑھاتی ہے۔ سائنسی جرائد میں تحقیقی اور تخلیقی سرگرمیوں کی کوئی واضح تفریق موجود نہیں ہوتی۔ اسی قسم کی ریسرچ سوشل سائنسز میں بھی ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں کچھ اسی پیٹرن پر ادبی رسائل کو بھی شروع کر دیا گیا، جس کی وجہ سے معاشرتی ادبی سرگرمی نچڑے ہوئے لیموں کی طرح سامنے آنے لگی۔

جامعاتی رسائل کی تعداد زیادہ بھی ہے اور باقاعدہ بھی۔ جب کہ دوسری طرف ذاتی سطح پر جاری رسائل کی روایت تقریبا دَم توڑ چکی ہے۔ اس وقت چند ایک رسائل ہی باقی بچے ہیں جو باقاعدہ اور مضبوط ادبی روایت کو پیش کرنے میں کامیاب ہیں۔ جن میں کراچی والوں کا پلڑا بھاری ہے۔ تخلیقی ادب کی اشاعت اب سوشل اور سائیڈ میڈیا کی طرف منتقل ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا اور دوسرے میڈیائی ذرائع تخلیقی ادب اور ادبی سوالات کو پیش کرنے میں مصروف ہیں مگر یہ تمام صورتِ حال انتہائی غیر تسلی بخش اور کسی حد تک غیر مہذب انداز سے سامنے آ رہی ہے۔ جو ایک بازار میں برپا شور کی مثل ہے، جو سرِشام ختم ہوجاتی ہے اور اگلے دن نئے شور کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ تخلیقی ادب سوشل میڈیا کی طرف رُخ تو کر رہا ہے مگر یہاں کے ہنگامِ بے انتظام کی چکا چوند لہروں میں ادبی جمالیات اور مراقبے جیسی مقدس کیفیات کو کھو بھی رہا ہے۔ جہاں ادبی متن کی قرات کسی اشتہار کی قرات کی طرح ہو گئی ہے۔ نظمیں، غزلیں اور ناول کے ابواب اور افسانے قارئین پڑھ تو رہے ہیں، مگر اُن پر طرح طرح کی غیر مہذب آرا اس پوری عمل کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں اور پھر پڑھنے کا عمل بھی ادھورا اور ناقص ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر ذوق اور ہر سطح کا قاری محض ایک کلک پر ادبی جمالیات کی وادی میں داخل ہو سکتا ہے اور غیر وابستگی کے باوجود اپنی غیر منطقی و غیر متعلقہ رائے کا اظہار کر سکتا ہے۔

  • ادبی رسائل کے بھرپور تشخص والی روایت اب ختم ہو چکی ہے جس کے تابوت میں آخری کیل جامعات کے ادبی رسائل نے لگائی ہے، جہاں تخلیقی ادب اور سوالات و مکالمات کی پیش کش ممنوعہ جرم ہے۔ نام نہاد قسم کی تحقیق و تنقید کے انبار لگائے جا چکے ہیں۔ باقاعدہ طالب علمانہ سطح کی مضمون نگاری اور نوآموز مشق سازی کو مجموعی ادبی سرگرمی کے طور پر پیش کیا جا رہے۔ ضرورت اس امر کی ہے:
  • ادبی رسائل کی موت کا انتظار کرنے کی بجائے دوبارہ اُسی روایت کا احیا کیا جائے جو صدیوں سے اردو روایت کا حصہ رہی ہے۔
  • سوشل میڈیا کی مہلک دنیا سے ادبی سرگرمی خصوصا تخلیقی ادب کی جمالیات کو بچایا جائے۔
  • جامعاتی رسائل کو ادبی رسائل کی بجائے سوشل سائنسز طرز کی تحقیقی و علمی سرگرمی تک محدود سمجھا جائے۔ ادبی رسالے کا اصل مفہوم وہی ہے جو اردو ادبی رسائل کی روایت سے منسلک ہے۔

 

ادبی صحافت اور مراسلہ میں فرق

ادبی رسالہ

صحافتی رسالہ

1۔ ادبی رسالے کا بنیادی سروکار ادب کی ترویج و اشاعت ہوتی ہے۔
ادب میں پیدا ہونے والے نئے تنقیدی و تخلیقی سوالات کی پیش‌کش ادبی رسالے کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔

1۔ صحافتی رسالے کا بنیادی مقصد خبر کی اشاعت ہے۔ اس کے
علاوہ دنیا بھر میں زندگی کی مختلف سرگرمیوں کا بھی احاطہ کیا جاتا ہے۔

2۔ ادبی رسالے کا انتخاب مدیر (ادارتی ٹیم) کے ذوق کا آئینہ دار
ہوتا ہے۔

2۔ صحافتی رسالے کو مدیر کی بجائے قارئین کے ذوق کے مطابق
تیار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

3۔ ادبی رسالہ ادب کے فنی (Artistic) اصولوں کو جانے بغیر نکالنا ناممکن ہوتا ہے۔

3۔ صحافتی رسالے کے لیے ادبی اصولوں کی بجائے صحافت کے
اصولوں سے باخبر رہنا لازمی ہے۔

4۔ ادبی رسالہ ادب کے خاص قارئین کے لیے ہوتا ہے، جو ادب کی
تکنیکی ہیئتوں سے پہلے ہی واقف ہوں۔

4۔ صحافتی رسالہ ہر اس قاری کے لیے ہوتا ہے جو اخبار
پڑھنا جانتا ہو۔

 -

ادبی رسالے کی ڈکلیریشن

ادبی رسالہ عمومی طور پر حکومت پاکستان کے ڈکلیریشن سے شائع کیے جاتے ہیں۔ یہ ڈکلیریشن رجسٹریشن آف پرنٹنگ پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈینس ۱۹۹۰ءکے نام سے قانون کا حصہ ہے۔ ڈکلیریشن بنیادی طور پر وہ اجازت نامہ ہے جس کے تحت ایک رسالے کو طباعت کی اجازت حاصل ہو جاتی ہے۔ اس قانون کے تحت ایسا کوئی بھی مواد جو ریاست کے قوانین کے خلاف ہو، اسے شائع کرنا انضباطی کارروائی کے زُمرے میں آتا ہے۔ ڈکلیریشن کے تحت شائع ہونے والے ادبی جرائد کو ضابطے میں شمارہ نمبر، جلد نمبر اور تاریخِ اشاعت لکھنا ضرور ہے۔ قانون کے مطابق پبلشر اور مدیر کی الگ الگ ذمہ داریاں ہوتی ہیں، مگر بعض اوقات مدیر ہی پبلشر کے فرائض انجام دیتا ہے اور شائع شدہ مواد کی اخلاقی و قانونی حیثیت کا خود ذمہ دار ہوتا ہے۔

ادبی رسائل میں شائع ہونے والے مواد کو عموماً فن یا تخلیقی آرٹ کی وجہ سے زیادہ سخت قوانین کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، مگر پھر بھی بعض اوقات مذہبی اقدار، اخلاقی رشتوں اور حکومت وقت کی پالیسیوں کے خلاف مواد پر انضباطی کارروائی ہوتی ہے اور مدیران کو سخت مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد کی ادبی سرگرمیوں میں رسالوں کی بندش بڑا موضوع رہا ہے۔ جنسی مواد، غیر اخلاقی متن یا حکومتِ وقت کے خلاف تحریروں کی وجہ سے ڈکلیریشن کو منسوخ کر دیا جاتا تھا یا رسالہ ہی بند کر دیا جاتا۔ بعض اوقات تو مدیران کو بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑتیں۔ ڈکلیریشن میں مدتِ اشاعت بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اگر مدیر ڈکلیریشن کی مدتِ اشاعت کے خلاف زیادہ عرصے تک رسالہ شائع نہیں کرتا تو اس کا ڈکلیریشن کینسل کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح کی صورتِ حال سے بچنے کے لیے مدیران رسالوں کو خاص نمبرز کی شکل دے کے چند جلدوں کو اکٹھا ظاہر کر دیتے ہیں۔

ایسے رسالے بھی شائع ہو رہے ہیں جن کا کوئی ڈکلیریشن نہیں ہوتا، ایسے رسالے اپنی اشاعتوں کو ڈکلیریشن کے ماتحت کرنے کی بجائے کتابی سلسلہ متعارف کرواتے ہیں۔ چوںکہ کتاب کی اشاعت کے لیے ڈکلیریشن کی ضرروت نہیں ہوتی، اس لیے رسالوں کے کتابی سلسلوں کی اشاعت عام ہو گئی ہے۔

-

ادبی رسالے کی نظریاتی پالیسی

۱۔ رسالہ ہمیشہ مدیر کے ذاتی تاثر، نظریات اور رجحانات پر مبنی ہوتا ہے۔ ادبی رسالے کو معروضی پالیسی کے تحت یکساں یا غیر متغیر معیار نہیں دیا جا سکتا۔

۲۔ رسالے کو واضح ہونا چاہیے کہ وہ کس قسم کے ادب کی ترویج چاہتا ہے۔ ضروری نہیں کہ وہ کسی تحریری صورت میں بیان کرے کہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے۔ زیادہ بہتر ہے کہ وہ مواد کے انتخاب اور پیش کش سے رسالے کی پالیسی اور معیار کی وضاحت کرے۔ فنون اور اوراق کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں؛ فنون تخلیقی ادب اور اوراق تنقیدی ادب کے لیے مشہور تھے۔ ان میں شائع ہونے والے ادیب ملک گیر شہرت حاصل کر جاتے۔ اوراق نے جدید تنقیدی مباحث کو آگے بڑھانے میں حصہ لیا۔ کراچی سے صریر بھی اس ضمن میں منفرد رسالہ تھا جس میں جدید تنقید کو اولیت سے پیش کیا جاتا۔

۳۔ ایسے رسالے جن کی نظریاتی پالیسی واضح نہیں ہوتی، ناکام اور غیر اہم ادبی رسالے سمجھے جاتے ہیں۔

۴۔ منظم اداروں کے نمائندہ ادبی رسالے ایک خاص طرز کی ادبی ترجیحات رکھتے ہیں۔ ان ادبی رسالوں میں مخصوص ادیبوں کے علاوہ مخصوص ادبی میلانات ہی کا ادب شائع ہوتا ہے۔اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی پالیسی واضح کریں کہ وہ کس قسم کے ادب کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

اردو میں معروف اور بڑے ادبی رسائل کے مدیران:

 

محمد طفیل اور صہبا لکھنوی

  

احمد ندیم قاسمی اور وزیر آغا

 

شاہد احمد دہلوی اور مولانا صلاح‌الدین احمد

ادبی رسائل کے چند اشتہارات:

   

   

چند ادبی رسائل کے سراوراق:

فنون  

فنون اور نقاط

   

آج اور نگار

   

نقوش اور نیرنگ خیال

  

دنیا زاد اور سمبل

  

سوغات اور شب‌خون

  

نیا دور اور نیا ورق

(جاری ہے۔۔۔)

اس مقالے کا دوسرا اور آخری حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔




گیتانجلی

I
اجل جس روز تمہارے در پہ دستک دے گی،
تو تم کیا پیش کرو گے؟
میں اپنی زندگی کا لبریز جام،
اپنے مہماں کو پیش کروں گا۔
کبھی اسے میں،
تہی دست نہ لوٹنے دوں۔
خزاں کے اجالوں
اور گرما کی راتوں کی شیریں مَے،
اپنے مصروف جیون کی سب کمائی،
اور تمام پونجی،
اس کے آگے دھر دوں گا۔
ایامِ رخصت میں،
جب اجل مرے در پہ دستک دے گی!

II
اے مرے جیون کی آخری تکمیل،
اجل!
اے مری موت! آ،
اور مجھ سے سرگوشی کر!
ہر دن میں تری راہ تکا کیا۔
تری خاطر ہی میں نے،
جیون کے سب دکھ سکھ بھوگے۔
میں وہ سب ہوں،
جو میں نے پایا،
جس کی میں نے طلب کی ہے۔
اخفائے راز کی گہرائی میں،
مری محبت کا چشمہ تری ہی طرف رواں رہا۔
تری اک آخری اچٹتی نگاہ،
اور مرا تمام جیون،
ترا ہی ہو گا،
پھول گندھے جا چکے ہیں،
اور بنڑی کے لیے،
مالائیں سب تیار ہیں۔
اب یہ عروسہ اپنا گھر چھوڑ چلے گی،
اور شبِ تنہائی میں،
رب سے اپنے جا ملے گی۔

III
مرا وقتِ رخصت آن پہنچا،
مجھے الوداع کہو۔
بھائیو!
تم سب کو دعا سلام،
اور میں رخصت لیتا ہوں۔
لوٹاتا ہوں اپنے گھر کی چابیاں،
اور تیاگ دیتا ہوں اس پہ حق بھی۔
آخری تمنا ہے میری؛
کہ تم مجھے یاد رکھو،
اپنے مہرباں بولوں میں۔
ہم ہمسائے رہے،
اک عرصے سے،
لیکن جو کچھ میں دے سکا،
کہیں بڑھ کر پا لیا۔
دن اب ڈھلنے والا ہے!
دیپ جو میری تیرگی دور کرتا تھا،
بُجھ چکا۔
بلاوا آن چکا،
میں تیار ہوں،
سفر کو اپنے۔




ٹریفک کی بتی والے سبھی خانے اور مصنوعی ذہانت کا دبستان

کچھ دن قبل ایک غیر شاعر واقف آدمی نے مجھے ایک نثری نظم بھیجی اور ساتھ میں پیغام لکھا کہ میں آج سے آپ کو شعر میں اپنا استاد مانتا ہوں، اس عنایت کے بدلے میرا اتنا سا کام کر دیجیے کہ ذرا اِس نظم کے مصرعوں میں اوزان سیدھے کر کے اسے موزوں نظم بنا دیں، نیز ذرا عرضِ مضامین میں جہاں کہیں سکتہ واقع ہوا ہو، رواں کر دیجیے، اور باقی جو نوک پلک مناسب سمجھیے۔ میں نے اس نظم کی اصلاح کر کے بھیجی تو ویسی ہی ایک اور نظم آ گئی، یہاں تک کہ مجھے ان کے پیغامات نظر انداز کرنا پڑے، اور مجھے اس سلسلے کا ایک مربوط تر جواب دینے کا خیال آیا۔ یعنی آخر ان صاحب کے ہاتھ ایسی کیا جادوئی چھڑی آئی کہ راتوں رات نثری نظمیں کہنے لگے اور باقی کام کے لیے مجھ ناکارہ کے آگے زانو لپیٹ کے بیٹھ گئے، جو کہ خود ہی ایک مدت سے تخلیقی بلاک کی دیوار چاٹ رہا ہے۔ اس جادوئی چھڑی کی بابت میرا پہلا شبہ ٹیکنالوجی کے اس ابھرتے مظہر کی جانب گیا، جسے ہم مصنوعی ذہانت کہتے ہیں۔

عرصہ سے دنیائے میم میں ایک لطیفہ گردش کر رہا ہے۔ سوال: وہ کیا استعداد ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ انسان ہیں یا نہیں۔ جواب: دیے گئے تصویری جدول سے ٹریفک کی بتیوں والے سبھی خانے چن لینا۔ یہ بھی ارتقائے بشر کی مسافت میں حوادث کے قلمرو کا آدمی کے ساتھ کیا ہی دلچسپ مذاق ہے۔ البتہ اس سے یہ تسلی ضرور ملتی ہے کہ انسانوں کی آپسی تفہیم کے کچھ اختصاصی خانے ایسے ہوتے ہیں، جس سے ہم ایک دوسرے کو یقین دلا سکتے ہیں کہ ہم مشین یا روبوٹ نہیں، اور باہم فاصلاتی رابطہ کے دوران مشین کے درمیان میں حائل ہونے کے باوجود ہم پُراعتمار رہ کر انسانی نوعیت کا ابلاغ قائم کر سکتے ہیں۔

میرا اور آپ کا تعلق جس معاشرے سے ہے، میرے منہ میں خاک، اس کا سراپا ایک موجد سماج سے زیادہ ایک صارفِ محض معاشرے کی شناخت کے قریب تر ہے۔ ہمارے پاس کچھ ملکوتی سطروں اور یاس و امید کے کچھ گیتوں کے سوا شاید ہی کوئی گراں‌قدر شے ہو۔ مصنوعی ذہانت موجد معاشروں کے ہاں سے آنے والی دیگر مصنوعہ اجناس سے اس لیے مختلف ہے کہ اس کا عملی وظیفہ کسی جسمانی کام میں معاونت فراہم کرنا نہیں، بلکہ انسانی ذہن اور اظہارِ خیال کی نقالی کرنا ہے۔ جب سے یہ ایجاد ناگہاں ہمارے وجود کی ایک توسیع بن کر اس کے ساتھ نتھی ہوئی، سب سے پہلا خدشہ یہ ابھرا کہ کیا کمرۂ جماعت اور کیا بزمِ سخن، لو اب ہر کس و ناکس کو ہم پــچھڑے ہؤوں کے تمنا اور طلب سے ابھرے ننھے منے ارمانوں کی جعل سازی کی سہولت مل گئی۔ شعر کی بات کریں تو نثری نظم میں تو اس اختراع کے آتے ہی بیشتر شاعروں کا بوریا گول ہوتا نظر آ رہا تھا۔ لیکن ایک خودغرضانہ سی تسلی تھی کہ بھئی ہم تو پابند شعر کہنے والے ہیں، جیسے ایک بے وزنے اور باوزن شاعر کا فرق سیدھا سادہ ہے، ویسی ہی بات ہے۔ کہاں یہ اکڑ بکڑ الگوردم اور کہاں ہمارے لطیف الہامی آہنگ۔ لیکن یہ سب بھی ارکانِ بحر اور ماتروں کا ایک ریاضیاتی سا کھیل نکلا۔ ابھی اگر آپ مصنوعی ذہانت کے ماڈل چیٹ‌جی‌پی‌ٹی کو غزل کہنے کی فرمائش کریں تو سادہ بحور کے اوسطاً نصف سے زائد اشعار وزن میں ملیں گے۔ خودکار گہری آموزش کی بدولت اس ماڈل نے فقط چند ہی مہینوں میں اس گُر کو بڑی حد تک دسترس میں کر لیا ہے۔ عین ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں یہ نسبتاً پیچیدہ بحور کے مصرعے بھی بہت کم غلطی کے ساتھ موزوں کرنے لگے۔ اس موزونیت کے باوجود بیشتر مضامین کی لایعنیت کی حد تک ناپختگی، مصرعوں کا دولخت ہونا، کلیشے کی حد درجہ جگالی وغیرہ اس کے عام شناختی نشان ہیں۔ مصنوعی ذہانت سے بنی اکثر تصویروں میں کسی شخص کو خواہ مخواہ لگے تیسرے چوتھے بازو کی طرح اکثر و بیشتر بہت سے بے تُک، بے محل اور لایعنی الفاظ اور تاثر نمودار ہوتے نظر آتے ہیں۔ لیکن بالکل اسی طرح جیسے ہم روزِ اول سے بے مزا اور بے تکے شعراء و شاعرات کے کلام میں دیکھتے آئے ہیں۔ پھر اکثریتی قاری اور سامع کے ہاں ان سلیقوں کی پہچان پہلے بھی کہاں تھی۔ صنائع اور بدائع کو بھی اساتذۂ فن کی دقیق رہنما زمرہ بندیوں نے ایک ودیعتی صلاحیت سے کم و بیش ایک مرئی منطقی نظام کی شکل دے رکھی ہے، یہ بھی کب تک ہم انسانوں کی امتیازی فنی صلاحیت رہیں گے۔گوناگوں منفرد شعری اسالیب کا تنوع – میری نظر میں – ابھی مصنوعی ذہانت کی گرفت سے ذرا باہر ہے، تاہم اپنی "ذات" سے مخصوص اس مصنوعی پن کے باعث یہ خود اپنا ایک قابلِ شناخت اسلوب رکھتی ہے، اور یہ بات غیر محفوظ ذہنی کیفیت سے دوچار کسی خلاق انسان کے لیے وقتی تسلی کا باعث ضرور ہے۔

لیکن ایک بے جان جملے میں حزن و الم، طنز و مزاح، کیف و نشاط وغیرہ جیسے تجریدی عناصر پر مصنوعی ذہانت کی روز افزوں گرفت دیدنی ہے۔ یہ آپ سے متعامل ہوتے ہوئے بڑی حد تک آپ کو ہنسا سکتی ہے، افسردہ کر سکتی ہے، اور بطور صارف آپ جو کہیں، آپ کی ظاہری جذباتی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک معقول ردعمل ظاہر کر سکتی ہے۔ دیکھیے اب ادب کے باب میں المیہ اور طربیہ وغیرہ جیسے اعلیٰ و ارفع جمالیاتی کمالات کب تک ہماری اختصاصی بشری سعادت رہیں گے۔

آپ نے دنیائے نطق و تفکر کے گرامی‌قدر پنڈتوں میں ضرور کسی کو مصنوعی ذہانت کے باوا آدم ٹیورنگ کا یہ خیال، کمال رجائیت سے مسترد کرتے سنا ہو گا کہ مشینیں سوچ سکتی ہیں۔ مان لیا کہ مشینیں سوچنے سے قاصر ہوتی ہیں، لیکن جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا۔ وہ سوچ ہی کیا جو سماجی تعامل کی کسی ہیئت میں ابلاغ سے بہرہ مند نہ ہو۔

حضرتِ انسان نے مصنوعی ذہانت کو اس کے جملہ تعاملات جاری رکھنے کے لیے اپنے فراہم کردہ "ڈیٹا" کے آب و دانہ پر پالا پوسا ہے۔ ادبی تعاملات کی ذیل میں ہم ڈیٹا نامی اس خام مال کو "متن" کہیں گے، متن جو کہ انسانی شعور کے اب تک کے کل ترکہ کی ایک بنیادی ظاہری شکل ہے۔ نئی تنقید کے معاصر افق میں جبکہ فن‌پارے کو فن‌کار کی ذات سے جداگانہ اور بخود مکتفی قرار دیا گیا ہے، اور وقت کا یہ فیصلہ کہ "جو کچھ ہے، متن میں ہے، باہر کچھ نہیں"، اس عالم میں متن کو مشین میں کھپا کر مشین سے نیا متن برآمد کرنے کی اختراع کسی بھی تخلیق‌کار کے لیے ایک لرزہ خیز کابوس سے کم نہیں ہونی چاہیے۔

انسانوں کے انفرادی اسالیبِ اظہار و بیان کی گوناگونی کا ایک سبب تو اس کی یہ بشری تحدید بھی ہے کہ جس کسی نے دستیاب متون کے بسیط سمندر سے جس قدر پڑھا، اس سے متاثر ہوا یا تجرباتی سطح پر اس کے اثر میں آیا، اسی قدر متن کے معنوی جوہر کے چاک پر اس کے ذوقِ اظہار کی مٹی کسی اسلوب کے پیالے میں ڈھلتی گئی۔ جبکہ مصنوعی ذہانت اس قابل ہے کہ وہ انسانی تہذیب کے جملہ متون کو ایک وحدانیت کے طور پر جذب کر سکتی ہے۔ انسانی تہذیب میں جس متنی روایت کا ترکہ کسی دوسرے منطقہ کے متنی اثاثے کے مقابلے میں معنوی سطح پر جس قدر افلاس زدہ ہو گا، وجود اور حقیقت کے متعلق اس کے اجتماعی عرفان پر ایک جامع گرفت پانا کسی طاقتور مصنوعی ارادہ کے لیے اتنا ہی کم پیچیدہ اور قرینِ امکان ہو گا۔

اس طرح شاید یہ خطرہ پوری انسانیت کے لیے بہت قابلِ اعتنا نہ ہو، لیکن انسانی تہذیب و تمدن کی وہ کچی بستیاں جہاں اختراعی اور تنقیدی صلاحیت کے ہر میدان میں شکست خوردگی نمایاں ہو، وہاں یہ خطرہ پوری طرح حقیقی اور سر منڈلاتا آسیب ہے۔ جہاں نقالی، تصنع اور سطحی افادیت کا اقبال بلند ہو اور کَن رس اور نکتہ شناس اذہان سماج کے حاشیوں پر بیٹھ کر اپنے ہونے پہ شرمسار سی زندگیاں گزارتے ہوں۔ قحط الرجال کے عالم میں آدمی ہونے اور آدمی رہنے جیسا دشوار پسند منصب ہم میں سے اکثر کے لیے عملی طور پر فقط صوابدیدی ہو۔ جبکہ ہر گزرتا دن، آپ کو اس نحس عقیدہ پر پختہ کرتا رہے کہ اپنے انسانی شرف کے دوائر کے قریب رہنے والا جزائے خیر نہیں بلکہ تعزیر کا حقدار ہوتا ہے۔۔۔ مگر ایسا ہے تو مصنوعی ذہانت کے اس تازہ مظہر کو بھی بظاہر انسانوں جیسا بننے کی کچھ نہ کچھ سزا تو ملے گی؟! جی نہیں! یہ درد کے احساس سے ماورا ہے۔ اب کی بار موجد و خلاق انسان کی نوع کو آدمی ہونے کی تھکن سے تو شاید کچھ دیر فراغ ملے، مگر آدمی ہونے کا کرب فقط بڑھے گا۔

ابھی جبکہ اکثر صارفوں کے ہاں جہاں مصنوعی ذہانت کو ایک انشائی سہولت کے طور پر لیا جا رہا ہے، وہیں اس خدشے کی پشت پر سَو جواز ہیں کہ اس سے انسانی جذبوں کی جعلسازی، اور زندگی کی عظیم تر صداقتوں کو گرمئ بازار کی آنچ پر موڑنے کی راہ ہموار ہو گی اور پہلے ہی امید کے سہارے جیسے تیسے چل رہی اِس دنیا میں ایک قائم بالذات شناخت کے بوجھ کے ساتھ ارتقاء کی راہ چلتے آدمی کا دماغی توازن کچھ اور بگڑے گا۔ پھر جب ڈیجیٹل چِپ سے نکلا سخن، جنسِ بازار بن کر نہاں خانۂ دل سے اٹھی آہ پر بالادست ٹھہرے گا تو لامحالہ اُن چند بچے کھچے لوگوں کا، جنہیں زبانِ شعر میں اہلِ دل کہا جاتا تھا، حلقہ اور بھی سکڑے گا اور اہلِ نظر کی قلبی تنہائی اور بھی بڑھے گی۔

مولانا محمد حسین آزاد کی معرفت امام بخش ناسخ کے متعلق وہ حکایت آپ کی نظر یا سماعت سے گزری ہو گی جس میں ان کے پاس شائقینِ سخن آ آ کر شعر سنانے کی فرمائش کیا کرتے تھے۔ تو انہوں نے کچھ مہمل سے اشعار گھڑ رکھے تھے، جنہیں وہ سخن نافہموں کی کسوٹی کے طور پر سنایا کرتے تھے۔ اگر سامع نے سنتے ہی داد کے ڈونگرے برسانا شروع کر دیے تو سمجھ گئے کہ سننے والے کو شعر کا فہم نہیں:

آدمی مخمل میں دیکھے مورچے بادام میں
ٹوٹی دریا کی کلائی زلف الجھی بام میں

جدید نظم کے آنے سے علامتیت اور تجریدیت کا چرچا ہوا تو اسی مہملیت کو ایسی آڑ ملی کہ وہ حضرات جنہیں کبھی ناسخ جیسے بزرگ ایک دو مہمل شعر سنا کر نتھار پھینکتے تھے، ویسے ہی اذہان اپنی طبع زاد نظموں کے مجموعے بیچنے لگے۔ انور مسعود کی "ایک جدید ترین نظم" اس ضمن میں ناسخ کے درجہ بالا شعر کے متبادل کے طور پر برتی جا سکتی ہے۔ پھر خدا کی کرنی یہ ہوئی کہ روایتی اوزان کے آہنگ سے بھی کُوچ کا نقارہ بج گیا اور نثری نظم آ گئی۔ پھر تو دنیائے شاعری میں وہ شورِ محشر اٹھا کہ شاعروں کے انبوہِ عظیم میں اِکا دُکا سخن‌گستروں کی بات کان پڑنی محال ہو گئی۔ شعر پڑھنے والے کم پڑ گئے اور لکھنے والے بہت۔ بہت سے شاعروں کا رویہ تو یوں لگتا ہے کہ بھلا ہم کیوں شعر کی بُن و بَست رواں کرنے میں جان گھلائیں، دماغ کھپانے کو ذہین قاری ہے ناں۔ قاری جانے اور نظم کی تفہیم جانے۔ نیز ہماری بلا جانے۔ اور آتے آتے اب بٹن دبا کر بے شمار نظمیں نکالنے کی صلاحیت تک نوبت آ گئی ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔

انگریزی شاعری کے ضمن میں تین ماہ قبل شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، مصنوعی ذہانت سے پیدا کی گئی شاعری اور حقیقی شعراء کے کلام کے مابین فرق کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ اکثر زمروں میں قارئین کے مثبت ردعمل کو دیکھیں تو مصنوعی ذہانت سے پیدا کی گئی شاعری کو فطری شاعری کی نسبت شماریاتی طور پر بلند تر درجہ ملا ہے۔ تاہم یہ تحقیق شعر پر ماہرانہ رائے نہ رکھنے والے عام قارئین سے ملنے والے جوابات پر کی گئی ہے اور اس نتیجہ پر پہنچنے کا ایک محرک مصنوعی ذہانت کی شاعری کا سیدھا سبھاؤ اور براہ راست پن ہے کیونکہ اس کی معنوی پرتیں انسانوں کی شاعری کی طرح پیچدار نہیں ہیں۔

مصنوعی ذہانت استعارہ، ایجاز، علامت، اور تجرید وغیرہ جیسے عناصر کی ادراکی سطح پر امکان بھری وسعت کا فائدہ لے کر صارف کی میز پر اپنا پانسہ پھینکتی ہے اور اکثر صورتوں میں اس کا جوا لگ جاتا ہے۔ تاہم اس کا طرزِ نگارش ابھی ایک مبتدی لکھاری کا سا ہے۔ اور اس کے ادبی اظہارات میں لسانی نشانات کے رشتے فی‌الحال ایک کمزور ارتقائی سطح پر ہیں۔ اس ضمن میں ایک کمزوری جو میرے قاریانہ مشاہدے میں آئی ہے وہ جملے یا مصرعے کی نحو کے پیچھے معنوی محور سے متعلق ہے۔

مثال کے طور پر تسلیم کا یہ شعر دیکھیے:

یوں پکارے ہیں مجھے کوچۂ جاناں والے
اِدھر آ بے، ابے او چاک گریباں والے

اِس مثال میں شعر، خصوصاً مصرعِ ثانی کے مفہوم اور اس کی تاثیر کا صدور، زیادہ تر متن کے افقی محور پر کارفرما ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت ایسی نحو پر شعر پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے تو ناصرف قوی امکان یہ ہے کہ وہ شعر معنوی اور تاثراتی طور پر ٹُھس ہو جائے گا، بلکہ ایک اوسط پڑھنے والا آسانی سے اس بات کو بھانپ بھی جائے گا۔

لیکن اب غالب کا یہ شعر دیکھیے:

عشرتِ قتل گہِ اہلِ تمنّا مت پوچھ
عیدِ نظّارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا

اس مثال میں شعر کی تفہیم کی رو کا جھکاؤ اس کے عمودی محور کی طرف زیادہ ہے۔ ایسی نحو پر مشینی نقالی سے پیدا کیا گیا شعر بھی معنوی طور پر بے روح اور بے مزا تو ہو جاتا ہے، لیکن اس کا ادراک صرف زیرک اور ادبی طور پر مشّاق قارئین کو ہوتا ہے۔ اس نکتہ پر مصنوعی ذہانت صارفوں کی اکثریت کو چقمہ دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔

مصنوعی ذہانت کا ظہور پہلی نظر میں انسانی تاریخ میں ویسی ہی تلاطم خیز ارتقائی جَست جیسا لگتا ہے جیسی کہ ذراعت کا آغاز اور صنعت کا ابھرنا۔ تاہم مصنوعی ذہانت کے اکثر ادبی اظہارات میں لسانی نشانات کے مابین تضاد و تفریق کے ساختی رشتے، میں نے عرض کیا کہ ابھی ایک کمزور ارتقائی سطح پر ہیں، اور انہیں ایک مانوس فطری لب و لہجہ سے ممیز کرنے والے ضعیف پہلوؤں کو سامنے لانا دقیق نگاہوں کے لیے ایک انتہائی مشکل کام نہیں ہے۔ ایک طاقتور میکانکی عمل میں لسانی مواد کی چھانٹی کر کے اس کے نئے متن پارے میں مرتب ہونے کا عمل، انسانی تفکر اور وجدانی واردات کے تحت تخلیقی عمل کے نتیجے میں ایک اظہاریہ کے معرضِ وجود میں آنے کے عمل سے ارادی اور عملیاتی سطح پر مختلف ہے۔ لیکن ابھی تک ہر دو طرح کے عمل سے پیدا ہونے والے متن‌پاروں کے مابین امتیاز کرنے کے ایک منظم اور قابلِ اعتبار مقیاس کے قائم کیے جانے پر بہت غور نہیں کیا گیا۔

وقت کی ضرورت ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کیے گئے متنی نمونوں کے اسلوبیاتی خصائص کی ایک منظم نشان دہی کر کے انہیں مستند فن‌پاروں کے ساتھ موازنے میں رکھ کر مصنوعی ذہانت کی تخلیقی حدود کے امکانات دریافت کیے جائیں، اور ان حدود کی وسعت میں روز افزوں پھیلاؤ پر ایک مستقل اور مستعد نظر رکھی جائے۔ جس کے نتیجے میں ایسی بصیرتیں حاصل ہو سکیں جو کسی ادب پارے کی تعبیر کا ایک انقلابی منہج اور ایک نئی شعریاتی کسوٹی وضع کر سکیں، جس کی بدولت ایک مہیب کائناتی تنہائی کے بیچوں بیچ آدمی اپنی نقالی کے طاقتور لیکن بیگانہ آلات کے شورِ پیہم میں اپنے ہم جنسوں کی حقیقی آواز کو پہچان سکتا ہو، اس آواز کا داد رس جواب دے سکتا ہو اور فن‌کار اپنے تمام تر بشری شرف کے ساتھ اپنا طبعزاد فن‌پارہ اپنے قدردانوں تک پہنچا سکے۔




کہانی چل رہی ہے: صنف، تصنیف اور مصنف

نام کتاب: کہانی چل رہی ہے
مصنف: شہزاد نیر
قیمت: 1000 روپے
ناشر: نگارشات پبلشرز، میاں چیمبر، 3-ٹیمپل روڈ، لاہور

اگر میں زیر نظر افسانوی مجموعے کا تعارف شعری قالب میں بیان کروں تو وہ کچھ یوں ہوگا:

کہانی چل رہی ہے، زندگانی چل رہی ہے
رکے لفظوں میں قرنوں کی روانی چل رہی ہے

اس شعر کے پہلے چار الفاظ تو متذکرہ کتاب کا عنوان بناتے ہیں جبکہ شعر کے بقیہ حصے میں کتاب کی روح کا خاکہ کھینچنے کی کاوش کی گئی ہے۔ ویسے کتاب کے عنوان کا لوک پنجابی متبادل ذہن میں کچھ اور ہی تصویر اجاگر کرتا ہے اور اسی باعث عنوان کی معنوی گہرائی اور وقعت کچھ مزید بڑھ جاتی ہے۔

شہزاد نیر جی ان احباب میں شامل ہیں جن کے ساتھ قلمی و قلبی تعارف کو زمانی اکائیوں کے تناظر میں دیکھنا ممکن بھی نہیں اور مناسب بھی نہیں۔ ان کا بنیادی تعارف تو جدید شاعری میں ایک قد آور نام کے طور پر ہے ہی لیکن اگر آپ ان سے قدرے تفصیلی ملاقات کریں تو آپ پر ہمہ جہتی کے حقیقی اور پورے معانی کھل کر سامنے آئیں گے۔ ان سے اولین ملاقات میں ہی ایک فخر آمیز اندازہ ہوا کہ بہت ہی صاحبِ علم و ہنر ہستی سے دوستی ہونے لگی ہے۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ شہزاد نیر کی ہشت پہلو شخصیت کے پراسرار در مزید کھلتے چلے گئے۔ کچھ سالوں سے یہ جدید فکشن نگاری پر سنجیدگی سے کام کرنے کے تخلیقی جرم میں ملوث پائے گئے تو کوئی خاص تعجب تو نہ ہوا لیکن ایک تجسس سا ضرور پروان چڑھنے لگا۔

مختصر تر افسانہ نگاری جس کے لیے تین چار اصطلاحات رائج ہیں جیسے پوسٹ کارڈ فکشن، فلیش فکشن اور مائکرو فکشن۔

مائکرو فکشن اپنی مختصر تاریخ میں غالباً مقبول ترین اصطلاح اور صنفِ مختصر نگاری کی معروف ترین شکل ہے۔ اس صنفِ افسانہ نگاری میں چند سو الفاظ میں باقاعدہ افسانہ لکھا جاتا ہے۔ فکشن نگاری کی اس شکل میں الفاظ کی تعداد کی پابندی ہی مصنف کا امتحان اور قاری کی دلچسپی کا سامان بہم کرتی ہے ۔اگر قلم و قرطاس شہزاد نیر جیسے مشاق لکھاری کے ہاتھ لگ جائے تو بلا مبالغہ شہ پارے اور یادگار تحریریں اردو ادب کے دامن میں جمع ہو سکتی ہیں۔ میری رائے میں مائکرو فکشن کی ضخامت کو مزید کم کرنے سے شاید اتنی دلچسپی کا سامان نہ پیدا ہوگا ۔ ہاں استثنائی صورتیں تو ہمیشہ رہتی ہیں، جیسے کچھ عرصہ قبل مبشر زیدی صاحب نے “سو لفظوں کی کہانی“ باقاعدہ متعارف کرا دی ہے لیکن میں پھر یہی کہوں گا کہ اتنے چھوٹے کینوس پر افسانہ نگاری کے ناگزیر اجزا یعنی تحیر، تجسس، کنفلکٹ یا نفسیاتی کشمکش اور ڈرامائیت کو سمونا کارِ محال ہے۔ میں نے جب اس صنف کا مطالعہ شروع کیا تو انگریزی میں دو مختصر ترین اور شاید عالمی سطح پر معروف دہشت ناک یا خوف ناک یا ہارر کہانیوں نے مسحور کر لیا تھا:

پہلی کہانی:

The last man on the earth was sitting in
‏a room and the door was locked

اردو ترجمہ یوں ہوگا:

زمین پر موجود آخری انسان ایک کمرے میں بیٹھا تھا اور کمرے کا دروازہ مقفّل تھا۔

دوسری کہانی جو پہلی سے زیادہ خوفناک منظر پیش کرتی ہے:

The last man on the earth was sitting in a room and the door was knocked

یعنی :زمین پر موجود آخری انسان ایک کمرے میں بیٹھا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی.

کرونا کے آسیبی دور سے کچھ سال پہلے فیس بک پر "انہماک" نامی فورم پر سید تحسین گیلانی نے مائکرو فکشن کو مائکروف کا نام دیتے ہوئے کئی قلم کاروں سے بہت معیاری مائکرو فکشن لکھوائے اور انھی دنوں شہزاد صاحب کی لکھی کچھ کہانیوں نے خاصا چونکا دیا لیکن ساتھ ہی یہ آفاقی اصول یاد آ گیا کہ اچھا نثر نگار لازم نہیں کہ اچھا شاعر بھی ہو لیکن کسی بھی اعلیٰ درجے کے شاعر میں ایک معیاری نثر نگار فعال یا حالتِ تنویم میں رہتا ہے جو کسی بھی لمحۂ یوریکا میں بیدار ہو کر معاصر نثر نگاروں کو چیلنج کرنے اور اپنا آپ منوانے کی مکمل صلاحیت و اہلیت رکھتا ہے۔

سو شہزاد نیر کے ہاں بھی کچھ یہی معاملہ دکھائی دیا۔ عسکری پس منظر رکھنے کے سبب انھوں نے اسپِ قلم کو فکشن نگاری کی طرف موڑا تو کوئی ڈیڑھ سو کے قریب مائکرو فکشن کے فرسنگ طے کر ڈالے۔ گویا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مائکرو فکشن ان کے میکرو مائنڈ/ macro mind کے سامنے واقعی مائکرو ثابت ہوا۔ اسی پس منظر نے انھیں پاکستان کے کئی دور دراز علاقوں اور مقامی ثقافتوں سے آشنائی کا وسیلہ دیا جسے انھوں نے زبردست قوتِ مشاہدہ و متخیلہ کا عمل انگیز استعمال کرتے ہوئے متنوع موضوعات پر کہانیوں کے قالب میں ڈھالنے کا عمل سکھایا۔ اس پر مستزاد یہ کہ بلا لحاظِ عمر انھوں نے آموزش کا عمل ترک نہیں کیا اور یوں ان سارے عناصر کی قبولیت کی کسی خاص گھڑی میں آمیزش نے ایک طرف شہزاد نیر کو تحریک دی کہ مسحور کن غزلیں اور نظمیں لکھیں تو دوسری طرف انھیں پیہم اکسایا کہ فکشن نگاری کی نسبتاً پتھریلی زمین کو اپنے سدا بہار افسانوں سے سرسبز و زرخیز کر ڈالیں۔

شہزاد نیر کے نثری اسلوب کا بہت نمایاں پہلو یہ ہے کہ الفاظ و تراکیب ان کے تخیل کے اسلحے کے سامنے سہمے کھڑے رہتے ہیں اور ان کی نشست و برخاست اسی اسلحے کے زور پر طے پاتی ہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ انسان کی مصروفیات اور کہانی کے حجم میں تناسبِ معکوس صدیوں پر محیط ایک پیہم ارتقائی عمل ہے۔ داستان سے ناول، ناول سے افسانہ، افسانے سے افسانچے اور پھر مختصر افسانے کے پڑاؤ سے گزرتی ہوئی یہ صنفِ نثر آج نہایت مختصر ہوکر مائکرو فکشن کی صورت میں ادب کے قاری کے سامنے خواجہ شیکسپئیر کی ساڑھے چار صدی پہلے کی گئی پیشگوئی کو پورا کر رہی ہے:

Brevity is the soul of wit

یعنی اختصار ہی اختراع و اظہار کی روح ہے۔

اختصاری اظہار میرے نزدیک نثر میں سہلِ ممتنع کا درجہ رکھتا ہے اور کسی بھی اعلیٰ پائے کے شاعر کے لیے یہ صنف یوں آسان ہو جاتی ہے کہ اسے طویل سے طویل مضمون کو دو مصرعوں میں بیان کرنے کی عادت اور سہولت حاصل ہوتی ہے۔
شہزاد نیر کے پہلے مجموعے میں متن اور ورائے متن مشاہدے کی گہرائی، احساس کی شدت و نزاکت، جبر و استحصال کے خلاف زبردست مزاحمت، مذہبی اور سماجی سطح پر دیکھی جانے والی منافقت اور عدم برداشت کا استہزا اور کچھ ایسے موضوعات کی طرف قاری کو متوجہ کرنے کی کامیاب کوشش دکھائی دیتی ہے جو چند عشرے قبل ممنوعہ موضوعات یا taboo کی ذیل میں آتے تھے اور جن پر سعادت حسن منٹو نے اس دور میں بھی خاصے بے باک انداز میں لکھا تھا اور مقبول ہونے کے ساتھ متنازعہ بھی ہوتے چلے گئے۔ شاید اسی مناسبت سے "لالٹین" نامی مجلّے میں شہزاد نیر کی چھ کہانیاں “سیاہ تر حاشیے“ کے عنوان سے کچھ عرصہ قبل شائع ہوئیں۔ ممکن ہے بیشتر احباب اس سے اتفاق نہ کریں لیکن میں اپنے تنقیدی بیانیے لکھتے ہوئے متن اور ماتن دونوں کو اپنے ذہن میں رکھتا ہوں اور ماتن کے دریچے سے مجھے متن کے خدوخال زیادہ کھل کر دکھائی دیتے ہیں اور اس دریچے سے کسی طور بھی تعصب یا جانبداری کی ناخوشگوار ہوا کا گزر نہیں ہوتا.

“کہانی چل رہی ہے” کی کم و بیش ہر کہانی میں شہزاد نیر کے قلم کا نشتر ہمارے عمومی سماجی رویوں کے زخموں کو کریدتا ہے تو اس پر انکشاف ہوتا ہے کہ یہ ناسور بن چکے ہیں۔ ایسے میں یہ نشتر قاری کو ایسا عدسہ دیتا ہے جسے استعمال کرتے ہوئے قاری کم از کم ان ناسوروں کو اس زاویے سے دیکھتا ہے کہ اس کے ذہن میں نہ صرف ان کے ممکنہ علاج کا تصور ابھرتا ہے بلکہ وہ مستقبل میں ایسے مزید ناسوروں کی افزائش کے خلاف حفاظتی تدابیر پر غور بھی کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ ہر شعبۂ زندگی کا قاری کسی نہ کسی کہانی کے کسی خاص حصے کو پڑھتے ہوئے غیر ارادی طور پر خود احتسابی اور شاید کچھ خود ملامتی کی کیفیت سے گزرنے لگتا ہے۔ میرے خیال میں یہیں مصنف کو اس کی محنت کا اصلی پھل ملنے کی منزل آتی ہے اور اس پر خود اپنی تحریروں کے کچھ پوشیدہ مقاصد آشکار ہونے لگتے ہیں اور اس کے تخلیقی سفر کی رفتار میں عجب سا اسراع آجاتا ہے۔

شہزاد نیر کی کم و بیش تمام کہانیوں کے اختتامی جملے ہی کہانی کو نقطۂ عروج تک لے جاتے ہیں اور یہی ڈرامائی عنصر مائکرو فکشن کی جان ہوتا ہے ۔ ان میں سے کچھ جملے تو اتنے کاٹ دار ہیں کہ انھیں بار بار پڑھنے اور سنانے کا دل کرتا ہے ۔ مثلاً چند اقتباسات ملاحظہ کیجیے:

۱: پھر بہن کی تو شادی ہوگئی لیکن لیکن مجھے دنیا کی ہر لڑکی بہن لگنے لگی ۔ کسی میں وہ والی کشش ہی محسوس نہیں ہوتی۔۔۔

کہانی: "نیلی عینک" جس میں ایک چھوٹے گھر کے گھٹن آلود ماحول میں ایک عنفوانِ شباب کے نازک دور سے گزرنے والے لڑکے کی ذہنی کشمکش دکھائی گئی ہے۔ یہ لڑکا اپنی بہن اور بھائیوں کے ساتھ ایک چھوٹے سے کمرے میں سونے کی کوشش کے دوران ضبطِ نفس کے عمل کے دوران اپنے اندر پلنے والے مرد کی مردانگی کو قتل کر بیٹھتا ہے۔ زن گریزی یا misogyny کے ساتھ ساتھ نامردی / impotence کا تشکیلی عمل سمجھنے کیلئے مجھے یہ بہت اہم کہانی لگی۔

۲: ”انچ سال بعد ہماری شراکت ختم ہو گئی۔ بس اتنا ہوا کہ میرا سرمایہ اس کے پاس چلا گیا اور اس کا تجربہ میرے پاس آ گیا۔”

کہانی: شراکت کا دھوکہ۔ یہ کہانی ہمارے گردوپیش میں جگہ جگہ بکھری ہوئی ملے گی ۔ شراکت داری کے کاروبار کے شاخسانے۔

۳: “تیسرا اشتہار: شیمپو۔ ناچتی ہوئی لڑکیاں ۔مختلف ہئیر سٹائل، ڈرم کی تھاپ پر اچھلتے ہوئے بال، تیز موسیقی۔

میزبان: بریک کے بعد خوش آمدید ناظرین ۔جی مولانا صاحب اگلا سوال لیتے ہیں ۔”

کہانی: میڈیا منڈی چینل

یہ اقتباس ایک بہت دلچسپ کہانی سے لیا گیا ہے جس میں ایک ماڈرن میزبان خاتون کے پروگرام میں ایک عالمِ دین کو بلایا جاتا ہے جن سے لوگ دین کی حجاب وغیرہ کی تعلیمات پر سوال کرتے ہیں اور عالم صاحب جواب بھی دیتے ہیں اور پروگرام میں وقفوں کے دوران اتفاق سے ایسے اشتہارات دکھائے جاتے ہیں جو عالمِ دین کے جوابات کی شدید نفی کرتے ہیں۔
۴: “جب میں نے گزارش کی کہ دعا اس طرح کرو کہ جس کی محنت اور قابلیت زیادہ ہے وہی اول آئے۔ سب حیرت سے میرا منہ تکنے لگے ۔ایک ساتھی نے کہا: ”بھئی جب مقابلہ ہوتا ہے تو دعا صرف اپنے لیے کی جاتی ہے، دوسرے کے لیے نہیں۔”

یہ اقتباس اس کہانی سے لیا گیا ہے جس کا عنوان ہے: “غیرمنصفانہ ذرائع” اور یہ میرے پسندیدہ ترین مائیکروفس میں سے ہے کیونکہ اس میں ایک ایسا سوال اٹھایا گیا ہے جو اللہ کی رحمت کا موازنہ اللہ کے انصاف کی صفت سے کرتا ہے۔ امریکہ میں کچھ افسروں کا مقابلے کا امتحان ہے اور اس میں کچھ مسلم اور غیر مسلم امیدوار ہیں۔ مسلم امیدوار محنت کے ساتھ مسلسل دعائیں بھی کرتے ہیں اور غیر مسلم یا ملحد افسران ہمہ وقت صرف محنت میں مصروف دکھائے گئے ہیں۔

کہانی کے اختتام تک تحیر و تجسس کی فضا قائم رکھنا ہی فکشن نگار کی کامیابی کی سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے اور یہ فضا آپ کو اس کتاب کی ہر کہانی میں ملے گی۔ مجھے تو ایسا اختتام دیکھ کر منیر نیازی کی لکھی سہ مصرعی پنجابی نظم یاد آنے لگتی ہے جس کا آخری مصرع ہی قاری کو پہلے دو مصرعوں اور پوری نظم کا مضمون و مفہوم سمجھاتا ہے۔ مثلاً:

اپنے ای ڈر توں
جُڑے ہوئے نیں
اک دوجے دے نال
نظم کا عنوان: شہر دے مکان

احبابِ گرامی ! ادب معاشرے کے ہر شعبے کا عکاس ہوتا ہے بلکہ بقول میتھیو آرنلڈ ادب زندگی پر تنقید کا نام ہے۔ سو ادب کا براہِ راست یا بالواسطہ تعلق سیاست، مذہب، معیشت اور سماجی اقدار سے ہوتا ہے۔ ایک کامیاب فکشن نگار انھی موضوعات کو قدرے مختلف نگاہ سے بغور دیکھتا ہے اور پھر آنکھیں مل کے یہ سوچتے ہوئے دیکھتا ہے:

“تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے“۔

پھر وہ اپنے مشاہدات کو اس طرح تشکیل دیتا ہے کہ انھیں قاری تک محض اخباری رپورٹ کی طرح نہ پیش کرے بلکہ وہ اپنی مشاہداتی کیفیات اور اختراعی صلاحیتوں کے امتزاج سے کچھ مسالے دار چیز پیش کرے جس میں “ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں “ کا سماں باندھا گیا ہو۔

سو “ کہانی چل رہی ہے” کے مشمولات ایسے ہی اجزائے ترکیبی و تخلیقی کے پراسرار کیمیائی عمل کے نتیجے میں کہیں ایک اور کہیں ڈیڑھ یا دو صفحوں پر مشتمل چھوٹے چھوٹے افسانچوں کی صورت سامنے آتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ نہایت متنوع موضوعات کی اتنی رنگ برنگی اور اتنی طویل مالا تشکیل دیتے ہوئے کہیں نہ تو یکسانیت کا احساس ہوتا ہے اور نہ کسی کہانی میں تکرار کے عنصر کا ہلکا سا بھی شائبہ ہی ہوتا ہے۔ بس تمام کہانیوں میں بین السّطور فلسفۂ جبر وّ قدر کی کبھی نہ الجھنے والی گتھی اور تشکیک پسندی کی جھلکیاں بہت حساس اور باریک بین قاری دیکھنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ انسان اور اس کے معبود کے رشتے کی پیچیدگیاں اس دور میں چونکہ پیچیدہ تر ہوتی جا رہی ہیں، اس لیے متذکرہ بالا قلمی رویوں کی توجیہ و توضیح بہت حد تک ممکن ہے۔ “الدّعویٰ مع الدّلیل “ کے مصداق ایک دو مزید اقتباسات پیش کرنا کافی ہوگا:

۱: “اس طرح وہ قادرِ مطلق انسانوں کو کم اور زیادہ کرتا رہا اور صدیاں گزرتی رہیں ۔” (کہانی: عہدنامۂ موجود)
۲: “یار تمھارے بغیر مزا نہیں آئے گا۔ تم یہی سمجھو نا کہ عمرے کر کے اس نے پچھلا کھاتہ صاف کرا لیا ہے۔۔۔ اب نئے سرے سے آغاذ کر رہا ہے۔” ( کہانی: دین اور دنیا)

ایسے مختصر افسانوں میں سب سے زیادہ دلکش اور دلچسپ خاصیت یہ ہوتی ہے کہ محض منٹوں میں آپ تین چار افسانے پڑھ چکے ہوتے ہیں۔

پوری کتاب پڑھتے ہوئے جابجا محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے مکمل دیانتداری کی مائکروسکوپ سے معاشرے کے قابلِ اصلاح و توجہ پہلوؤں کا تادیر مشاہدہ کیا اور پھر اتنی ہی احتیاط سے ان پہلوؤں کا تجزیہ تخلیقی تجربہ گاہ میں کرنے کے بعد اپنے قارئین کو نبّاض و معالج گردانتے ہوئے ۱۴۴ مائیکروفی اور ۵ افسانوی رپورٹیں کتابی شکل میں پیش کر دی ہیں۔ امیدِ واثق ہے کہ جناب شہزاد نیر کا یہ پہلا مائیکروفی پتھر مختصر اردو افسانہ نگاری کے بظاہر سست رو پانی میں ایسا ارتعاش و تموج پیدا کرے گا جسے جلد ہی عصری ناقدین رحجان سازی گرداننے پر مجبور ہوں گے۔

کتاب کے دوسرے حصے میں پانچ عدد افسانوں کا تڑکا جدید ترین مختصر تر افسانہ نگاری کے رحجان کو روایتی افسانے کی جڑوں سے پیوند کاری کا عمل لگتا ہے اور یہاں بھی شہزاد نیر کا قلمی بارود خانہ پوری طرح بھرا دکھائی دیتا ہے۔ ذاتی طور مجھے “روحوں کا ملن“ نامی افسانے نے نہ صرف متاثر کیا بلکہ مصنف کی غیر معمولی فلسفیانہ فکر نے شدید حیران بھی کیا ۔ کس سہولت سے زمان و مکان کی صدیوں پرانی پہیلی کو روح و بدن کے تعلق کی آڑ میں حل کر کے مصنف نے ایک تشنگی آمیز آسودگی یا آسودگی آمیز تشنگی کا ایسا پراسرار ماحول تشکیل دیا ہے کہ قاری ازخود بار بار اس موضوع پر غور کرتا اور سر دھنتا ہے۔

مجھے یقین ہے کہ شہزاد نیر نے اپنے اندر چھپے ہوئے تخلیقی جن کو مکمل طور پر قابو کرنے کیلئے جو چلہ کشی شروع کی ہے وہ کامیابی سے ہم کنار ہوگی اور ہمیں بہت سے حیران کن جھٹکوں کے لیے اپنے آپ کو تیار رکھنا پڑے گا۔