ہر پہلو ہےسفینہ سخن کا زخمی
جیسے لفظ
انگِنت سیپیاں
تراشے ہوے بیاں سے
ہزار بیاباں
کی ریت دل میں سنبھالے
مطبوعہ صفحوں کی کاٹ سے
چھل رہے ہوں
بحرِ اسرار کی
لہروں میں مہتاب
کی پیشانی پرتہ در تہ
زخموں کے بوسے ثبت کرتے
پِگھلتے سُلگتے ڈَھل رہے ہوں
جیسے لفظ
انگِنت سیپیاں
تراشے ہوے بیاں سے
ہزار بیاباں
کی ریت دل میں سنبھالے
مطبوعہ صفحوں کی کاٹ سے
چھل رہے ہوں
بحرِ اسرار کی
لہروں میں مہتاب
کی پیشانی پرتہ در تہ
زخموں کے بوسے ثبت کرتے
پِگھلتے سُلگتے ڈَھل رہے ہوں
