Categories
شاعری

طرز

ہر پہلو ہےسفینہ سخن کا زخمی
جیسے لفظ
انگِنت سیپیاں
تراشے ہوے بیاں سے
ہر پہلو ہےسفینہ سخن کا زخمی
جیسے لفظ
انگِنت سیپیاں
تراشے ہوے بیاں سے
ہزار بیاباں
کی ریت دل میں سنبھالے
مطبوعہ صفحوں کی کاٹ سے
چھل رہے ہوں
بحرِ اسرار کی
لہروں میں مہتاب
کی پیشانی پرتہ در تہ
زخموں کے بوسے ثبت کرتے
پِگھلتے سُلگتے ڈَھل رہے ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *