ارتقاء یعنی دنیا جہاں کی ہر ایک چیز ، عقیدہ ، کام ، تہذیب اورنظریات ارتقائی عمل سے گزرتے ہوئے موجودہ حالت میں پہنچے ہیں اور آنے والے زمانوں کے میں تغیر کی مستقل روش کے ہاتھوں کسی نئی اور بہتر شکل میں سامنے آئیں گے یہی اس اس دنیا کے حیاتیاتی، ارضیاتی اور سماجی تنوع کی اساس ہے ۔ وقت کی شوریدہ سری کے باعث انسان اپنے اندازوں اور تخمینوں کی درستی اور صحت کے باوجود یہ بتانے سے قاصر ہے کہ مستقبل کیا ہے۔ رابطوں کے تسلسل سے برقی، بصری اور سمعی مواصلات کے آغاز نے آج سماجی رابطوں کی ویب گاہوں کے ذریعے تمام دنیا کو ملا رکھا ہےمگر پیغام رسانی کی منزل یہ بھی نہیں ، شاید وقت کے طلسم میں انسانی ذہن کیا کیا منتر پھونکے گا اور کیسے کیسے ہفت اقلیم اس کی دسترس اور رسائی میں سما جائیں گے۔
تہذیبی ارتقاء میں ماضی صرف سیکھنے کے لئے ہوتا ہے، اپنی غلطیوں کی اصلاح کے لئے ہوتا ہے مگر اپنانے کے لئے نہیں۔ شریعت اور اس کے نفاذ کا نعرہ لگانے والے ہمیں 1400 سال پیچھے لے جانا چاہتے ہیں۔
وہی تہذیبیں جو وقت کے ساتھ اپنے اندر پیدا ہونے والے تضادات اور چیلنجز کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں وہی ارتقاء کی کسوٹی پر پوری اترتی ہیں اور آگے بڑھتی ہیں۔ ارتقاء کا مقصد چیزوں کو نکھارنا اور انہیں وقت کے مطابق ڈھالنا ہے۔ دنیا کے تمام عقائد، نظریات اور تہذیبیں اسی ارتقائی عمل کی پیداوار اور اسی کے تحت اپنی موجودہ شکل میں انسانی روحانیت، تہذیب اور ثقافت کی بنیاد بنے ہیں۔دنیا کا ایک ہی رخ اور رفتار ہے جو آنے والے زمانوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کوئی گزرا زمانہ لوٹ آنے کے لئے نہیں گزرا مگر ہم ابھی تک ماضی کے قائل ہیں، ماضی پرست ہیں اور قدامت کو سچائی سمجھتے ہیں۔لیکن تہذیبی ارتقاء میں ماضی صرف سیکھنے کے لئے ہوتا ہے، اپنی غلطیوں کی اصلاح کے لئے ہوتا ہے مگر اپنانے کے لئے نہیں۔ شریعت اور اس کے نفاذ کا نعرہ لگانے والے ہمیں 1400 سال پیچھے لے جانا چاہتے ہیں۔ وہ انسانی تمدن کو قبائلی رسم و رواج کی بندشوں اور پابندیوں کی جکڑ میں دیکھنا چاہتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ جو کچھ ماضی میں ہوا وہ اس زمانے کے تضادات کو انسانی فہم کے لئے قابل قبول انداز میں حل کرنے کے لئے تھا۔
اس بات پہ شک نہیں کےگزرے ہوئے ادوار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا اور ان سے سیکھا بھی جا سکتا ہے ، مگر کسی قدیم سنہری دور کی واپسی کی امید رکھنا اور اس کے لئے کوشش کو مقصد حیات بنانا یقیناً حماقت ہے۔ انسانی خون سے رنگے ہاتھوں میں انسانی نجات کے علم نہیں ہو سکتے، نہ ہی گلے کاٹنے والے مسیحا ہو سکتے ہیں۔ جس نظام، طرز زندگی اور علم و تحقیق کو وہ کافرانہ قرار دیتے ہیں اسی کی ایجادات کے سہارے تبلیغ اور جہاد کرنے والے دنیا کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ ان کے لئے مثال وہ ماضی ہے جب لنڈیاں اور غلام جائز تھے، جب کم سنوں کے نکاح عام تھے اور جب تعداد ازدواج ملکی قانون کی پابند نہ تھی۔
اس بات پہ شک نہیں کےگزرے ہوئے ادوار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا اور ان سے سیکھا بھی جا سکتا ہے ، مگر کسی قدیم سنہری دور کی واپسی کی امید رکھنا اور اس کے لئے کوشش کو مقصد حیات بنانا یقیناً حماقت ہے۔ انسانی خون سے رنگے ہاتھوں میں انسانی نجات کے علم نہیں ہو سکتے، نہ ہی گلے کاٹنے والے مسیحا ہو سکتے ہیں۔
مغرب کی نفی کرنے والوں کا شریعت سے پیار اور اسلاف سے نسبت تب معلوم ہوتی جب وہ لڑائی اس کافرانہ نظام کے تحت بننے والے جدید اسلحہ سے نہیں بلکہ نیزے اور تیر تلواروں سے کرتے، جب وہ کافرانہ علم کے تحت ایجاد ہونے والے کافر ٹی وی کے ذریعے شریعت نافذ کرنے کے بیانات نہ دیتے بلکہ حکومت وقت کو خط لکھتے اور مذاکرات کرنے والی کمیٹی ہیلی کاپٹر پرنہیں بلکہ اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار ہو کر جاتی۔ شریعت کا نعرہ لگانے والے اصل میں انہی کافرانہ نظاموں کے غلام ہیں۔ انکا مقصد شریعت کو بدنام کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ ان نعرے لگانے والوں ، ہتھیار اٹھانے والوںاور شریعت کے نام پر ظلم کرنے والوں کا مقصد ہمیں پتھر کے زمانے میں لے جانے کے سوا کچھ نہیں۔ ہماری پستی کی وجہ یہی ہے کہ مجموعی طورپر پورا معاشرہ ماضی کو ڈھونڈرہا ہے؛ نہ ماضی پلٹتا ہے اور نہ ہی ہم مستقبل کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم ماضی کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں مگر جنہوں نے ترقی کرنا ہوتی ہے وہ مسقبل کی طرف۔ یہی وجہ ہے کہ آج سائنس نے کتنی ترقی کر لی اور ہم اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود ایک "سوئی” تک نہیں بنا سکے۔ اور انہوں نے ایسے محیر ا لعقول کارنامے کئے کہ ہم ان سے اختلاف کے باوجود انکی ایجادات کو استعمال کئے بنا رہ نہیں سکتے۔ اگرچہ دین غلط نہیں مگر اس کو اپنے مفادات استعمال کرنے والے غلط ہیں۔ افسوس تو اس بات کاہے کہ ہم نے کبھی ان کے خلاف بغاوت نہیں کی۔ مگر اب وقت آ گیا ہے کہ قدامت، کہانت اور ماضی پرستی کے اس طوق کوگلے سے اتار پھینکا جائے اور ارتقاء کے اس فطری عمل کا حصہ بنا جائے جو انسانی بقاء کا واحد راستہ ہے۔

Leave a Reply