Categories
شاعری

البتراء

افتخار بخاری: اے گلاب شہر !
میں بے زبان قصہ گو
ایک شب بسری کا سوالی ہوں
تیرے سنگین دروازے پر
البتراء
کتنے سمندر
کتنے صحرا
جنگل اور بارشیں
بے شمار آئینوں کا خالی پن
لمحے یا صدیاں
عبور کر کے
داخل ھوئی
میری تنہائی
تیری تنہائی میں

اے شہر گل سرخ !
اے عظیم خوب صورت پتھر !
مجھے خزانے سے
کوئی سروکار نہیں
جہاں کھونٹے سے بندھا
لال گھوڑا
تئیس سو برس
کی بے خوابی میں
ایستادہ ہے

مجھے فقط تیری اداس رات کا
ایک کونا درکار ہے
کہ میری خاموشی
تیری خاموشی سے کلام کرے

میرے پاس افسوس کی کہانی ہے
جسے سن کر، قدیم چاند،
ریت کے آنسو بہائے گا
کہ تیرے ماتمی گلاب سیراب ھوں

اڑتے زمانوں کی دھجیاں
گم شدہ عمروں کی رائگانی
تاریخ کی منافق الماریوں میں
لٹکتے استخواں
مجھے امانت دار پائیں گے

برباد دیواروں کی خراشوں سے
جھانکتا انہماک نہیں ٹوٹے گا

اے گلاب شہر !
میں بے زبان قصہ گو
ایک شب بسری کا سوالی ہوں
تیرے سنگین دروازے پر

میں تجھے تیرے جیسا
اپنا دل ہدیہ کروں گا ،
پتھر کا گلاب

تجھے خاموش داستان سناؤں گا
کسی بہت قدیم زمانے کی
گناہ گار خداؤں سے دور
خالص عبادت گذار اندھیرے میں
صبح ابد کے آخری قہقہے سے بے نیاز

By افتخار بخاری

افتخار بخاری پیشہ کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ انہوں نے مرے کالج سیالکوٹ اور یونیورسٹی آف ویسٹ ورجینیا (امریکا) سے تعلیم حاصل کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *