<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>لالٹین, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/test-ghori/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Thu, 25 Sep 2025 12:39:34 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>لالٹین, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>کیکولے کا مسئلہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/keukule-ka-masla/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/keukule-ka-masla/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 22 Sep 2025 16:44:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈارون]]></category>
		<category><![CDATA[زبان]]></category>
		<category><![CDATA[کارمک میکارتھی]]></category>
		<category><![CDATA[کوانٹم میکانیات]]></category>
		<category><![CDATA[کیکولے]]></category>
		<category><![CDATA[لاشعور]]></category>
		<category><![CDATA[لامارک]]></category>
		<category><![CDATA[لسانی ارتقاء]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=33764</guid>

					<description><![CDATA[<p>لاشعور ایک حیاتیاتی عامل ہے اور زبان نہیں۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/keukule-ka-masla/">کیکولے کا مسئلہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><em>کارمک میکارتھی کو دنیا ایک ناول نگار کی حیثیت سے جانتی ہے۔ ان کے تخلیقی کارناموں میں “بلڈ میریڈیئن”، “آل دی پریٹی ہارسز”،“نو کنٹری فار اولڈ مین”، اور “دی روڈ” شامل ہیں۔ وہ سانتا فے انسٹی ٹیوٹ (SFI) میں میرے رفیق محقق ہیں، اور بڑی جامع العلوم شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ آپ ریاضی کی تاریخ، کوانٹم میکانیات کے (کائنات کو) علت و معلول کے تسلسل کے طور پر بیان کرنے سے متعلق فلسفیانہ مباحث (1)، غیر انسانی ذہانت کے تقابلی شواہد، اور شعوری و لاشعوری ذہن کی اصل، جیسے مضامین سے شغف رکھتے ہیں۔ ایس ایف آئی میں ہم ان کے ناولوں میں ان سائنسی دلچسپیوں کا سراغ بھی لگاتے ہیں، اور چوری چھپے ان کی تحاریر میں ان مشاغل کے پوشیدہ آثار اور علامتوں کا شمار بھی رکھتے ہیں۔ </em></p>
<p>پچھلی دو دہائیوں سے کارمک اور میں لاشعوری ذہن کی الجھنوں اور پیچیدگیوں پر گفتگو کر رہے ہیں۔ ان میں سب سے اہم پہیلی یہ ہے کہ تقریباً لامحدود اظہار کی حالیہ اور ‘منفرد’ انسانی صلاحیت، ایک بے حد قدیم حیوانی دماغ کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ یہ دو مختلف ارتقائی نظام آپس میں کیسے ہم آہنگ ہوئے؟ کارمک کا کہنا ہے کہ یہ کشمکش اسی گہرے شک، بلکہ شاید استحقار سے عبارت ہے جو قدیم لاشعور کے ہاں اس نئی نئی سر اٹھاتی شعوری زبان سے متعلق پایا جاتا ہے۔اس مضمون میں، کارمک خوابوں اور عفونت کے ذریعے اس خیال کی وسعت کا اندازہ لگاتے ہیں۔ یہ ان خیالات اور الجھنوں پر ایک جامع اور نکتہ آفریں تحریر ہے، جنہیں ‘پیچیدگی کی سائنس’ کی مدد سے سمجھنے کی جستجو تحقیقی برادری نے ابھی حال ہی میں شروع کی ہے۔</p>
<p><strong>ڈیوڈ کراکاور صدر اور ولیم ایچ. ملر پروفیسر آف کمپلیکس سسٹمز، سانتا فے انسٹی ٹیوٹ</strong></p>
<p>.….….….….….</p>
<p>کارمک میکارتھی کا یہ <a href="https://nautil.us/the-kekul-problem-236574/" target="_blank">مضمون</a> Nautilus میگزین میں 17 اپریل 2017 کو شائع ہوا تھا۔ </p>
<p>.….….….….….</p>
<p>میں اسے کیکولے کا مسئلہ کہتا ہوں، کیونکہ اُن ان گنت مسائل میں سے جن کے حل ان کے سلجھانے والوں کو نیند میں ملے، کیکولے کا قصہ سب سے زیادہ مشہور ہے۔ بینزین کے مالیکیول کی ساخت معلوم کرنے کی جستجو میں اسے کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی تھی۔ آگ کے سامنے اس کی آنکھ لگ گئی اور اس نے وہ مشہور خواب دیکھا جس میں ایک سانپ اپنی دم کو منہ میں لیے ایک حلقے میں کنڈلی مارے بیٹھا تھا، بالکل دیومالائی اوروبروس (2) کی طرح۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور خود سے کہا: “یہ ایک حلقہ ہے۔ مالیکیول ایک دائرے کی شکل میں ہے”۔ خیر، کیکولے کے بر عکس ہمارا مسئلہ یہ نہیں کہ کیکولے نے کیا دیکھا۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جب لاشعور زبان کو بخوبی سمجھتا ہے، ورنہ وہ مسئلہ سرے سے سمجھ ہی نہ پاتا، تو پھر اس نے کیکولے کو سیدھے سبھاو یہ کیوں نہیں بتا دیا: “کیکولے، یہ ایک دائرہ ہے!”۔ جس پر ہمارا سائنسدان شاید کچھ یوں جواب دیتا: “اچھا، سمجھ گیا، شکریہ۔”</p>
<p>لیکن سانپ ہی کیوں؟ یعنی، لاشعور ہم سے بات کرنے میں اتنی بے اعتنائی کیوں برتتا ہے؟ یہ تصاویر، استعارے اور اشارے کیوں بھیجتا ہے؟ اور، سچ پوچھیں تو، یہ خواب ہی کیوں دکھاتا ہے؟</p>
<p>ایک معقول نقطۂ آغاز یہ ہو سکتا ہے کہ پہلے یہ واضح کر لیا جائے کہ لاشعور آخر ہے کیا؟ اس مقصد کے لیے ہمیں جدید نفسیات کی اصطلاحات کو نظر انداز کرتے ہوئے حیاتیات سے رجوع کرنا ہو گا۔ لاشعور سب سے پہلے تو ایک حیاتیاتی نظام ہے، باقی جو کچھ ہے وہ اس کے بعد ہے۔ اگر اسے ممکنہ حد تک اختصار اور درستی کے ساتھ بیان کیا جائے تو یہ ایک ایسی مشین ہے جو کسی حیوان کو چلانے کے لیے کارفرما ہے۔</p>
<p>تمام حیوانات کے پاس لاشعور ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ نباتات ہوتے۔ کبھی کبھی ہم اپنے لاشعور کو ایسے فرائض کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جن کی انجام دہی سے اس کا کچھ لینا دینا نہیں۔ پیچیدہ نظاموں کو اپنی بعض ضرورتوں کی تکمیل کے لیے علیحدہ نظم و نسق کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً، سانس لینے کا عمل لاشعور کے ذریعے نہیں بلکہ پونز اور میڈولا اوبلونگیٹا کے ذریعے قابو میں رہتا ہے، یہ دونوں نظام حرام مغز میں واقع ہوتے ہیں۔ البتہ، حوتیہ انواع (Cetaceans) جیساکہ وہیل ڈالفن وغیرہ کے معاملے میں یہ استثنا ہے، کیونکہ انہیں سانس لینے کے لیے سطح پر آنا پڑتا ہے۔ ایک خود مختار نظام ان کے لیے کارآمد نہیں۔ پہلی ڈولفن جسے جراحت کی میز پر بے ہوش کیا گیا، وہ فوراً مر گئی۔ (وہ کیسے سوتی ہیں؟ وہ باری باری اپنے دماغ کا آدھا حصہ سلاتی ہیں)۔ لیکن، لاشعورکے کرنے کو بے شمار کام ہیں۔ کھجانے سے لے کر ریاضی کے مسائل حل کرنے تک، سب کچھ اسی کے ذمے ہے۔</p>
<p>زبان عمومی مسائل کے بیان پر بخوبی قادر ہے اور ان کی وضاحت کا ایک کارآمد وسیلہ ہے۔ لیکن کسی بھی شعبے میں سوچنے کا حقیقی عمل، بڑی حد تک ایک لاشعوری سرگرمی ہے۔ کسی سنگ میل کی طرح، زبان جستجو کے سفر میں ہمارے کسی پڑاو کا مختصر احوال بیان کر سکتی ہے، تاکہ آئندہ کے لیےایک نیا نقطہ آغاز مل سکے۔ لیکن اگر آپ کا ماننا ہے کہ در حقیقت آپ زبان کے استعمال سے مسائل حل کرتے ہیں، تو میری خواہش ہے کہ آپ مجھے لکھیں اور بتائیں کہ آپ یہ کام کس طرح کرتے ہیں۔</p>
<p>میں نے اپنے چند ریاضی دان دوستوں کو جتلایا کہ لاشعور ریاضی میں ان سے بہتر ہے۔ میرا دوست جارج زویگ اسے “نائٹ شفٹ” کہتا ہے۔ یاد رہے کہ لاشعور کے پاس نہ کوئی پنسل ہے اور نہ کوئی نوٹ پیڈ، اور یقیناً کوئی ربڑ بھی نہیں۔ مگر اس سب کے باوجود لاشعور کا ریاضیاتی مسائل حل کرنا ایک مسلمہ بات ہے۔ لیکن یہ ایسا کیسے کرتا ہے؟ جب میں نے اپنے دوستوں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ شاید لاشعور یہ سب کچھ اعداد استعمال کیے بغیر بھی کر لیتا ہو، تو ان میں سے اکثر نے، کچھ سوچ بچار کے بعد اتفاق کیا کہ ایسا ہونا ممکن ہے۔ مگر کیسے، یہ ہمیں معلوم نہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے ہمیں علم نہیں کہ ہم بولتے کیسے ہیں۔ جب میں آپ سے بات کر رہا ہوتا ہوں، تو یہ ممکن نہیں کہ میں ساتھ ساتھ اپنے اگلے جملے بھی بُن رہا ہوں۔ میں پوری طرح آپ سے بات کرنے میں مگن ہوتا ہوں۔ اور اب ایسا بھی نہیں کہ میرے ذہن کا کوئی حصہ یہ جملے جوڑ جاڑ کر مجھے سنا رہا ہے تاکہ میں انہیں دہرا سکوں۔ اس حقیقت سے قطع نظر کہ میں مصروف ہوں، یہ امر ایک لامتناہی تسلسل کو جنم دے گا۔ سچ پوچھیے تو یہاں ایک ایسا عمل جاری و ساری ہے جس تک ہماری رسائی ممکن نہیں۔ یہ ایک راز ہے، ایک ایسا بھید جو تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔</p>
<p>ہمارے بیچ کچھ ایسے بااثر خواتین و حضرات بھی موجود ہیں، جن کا ذکر آگے آئے گا، جو دعویٰ کرتے ہیں کہ زبان محض ایک ارتقائی عمل ہے۔ گویا یہ دماغ میں اپنی کسی ابتدائی شکل میں ظاہر ہوئی اور پھر بتدریج ارتقاء کے ذریعے ایک کارآمد اوزار میں ڈھل گئی۔ شاید کسی حد تک بینائی کی طرح۔ لیکن اب ہم جانتے ہیں کہ بصارت کا سراغ درجن بھر الگ الگ ارتقائی سلسلوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ غایت پرستوں کے لیے یہ ایک پرکشش موضوع ہے۔ان کہانیوں کا آغاز عموماً ایک خام عضو سے ہوتا ہے جو صرف روشنی کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا، جہاں سر پہ سایہ منڈلانے کا مطلب تھا کہ شکاری سر پہ ہے۔ یہ صورتِ حال دراصل ڈارون کے انتخابی اصول کے لیے ایک نہایت موزوں منظرنامہ بنتی ہے۔ ممکن ہے کہ ان بااثر اشخاص کا ماننا ہو کہ تمام ممالیہ زبان کے نمودار ہونے کے منتظر ہیں۔ میں نہیں جانتا، لیکن تمام شواہد اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ زبان صرف ایک بار اور صرف ایک ہی نوع میں ظاہر ہوئی، اور پھر بڑی سرعت سے اس نوع میں پھیل گئی۔</p>
<p>حیوانی دنیا میں اشاروں کی کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جنہیں ایک ابتدائی زبان (proto-language) سمجھا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر دھاری دار گلہریوں اور کئی دیگر انواع کے ہاں فضائی اور زمینی شکاریوں کے لیے الگ الگ انتباہی اشارے موجود ہیں۔ یعنی باز کے لیے الگ اور لومڑی یا بلی کے لیے الگ۔ یہ یقیناً نہایت کارآمد ہے۔ لیکن یہاں وہ مرکزی خیال مفقود ہے جو کسی زبان کو زبان بناتا ہے، یعنی ایک شے کسی دوسری شے کی نمائندگی کر سکتی ہے۔ یہی وہ نکتہ تھا جو ہیلن کیلر نے کنویں پر اچانک سمجھ لیا تھا۔ کہ پانی کا اشارہ محض پانی سے بھرا گلاس حاصل کرنے کی تگ و دو نہیں؛ بلکہ یہ پانی سے لبریز گلاس بھی ہے اور گلاس میں موجود پانی بھی۔ یہی منظر ڈرامہ دی میریکل ورکر میں پیش کیا گیا، اور ہر آنکھ کو اشک بار کر گیا۔</p>
<p>زبان کے ایجاد ہوتے ہی اس کی افادیت سمجھ میں آ گئی۔ اور ایک بار پھر کہہ دوں کہ یہ تقریباً فوراً ہی پوری انسانی نسل میں پھیل گئی۔ سب سے پہلا مسئلہ یہ تھا کہ نام رکھنے کو چیزیں زیادہ تھیں اور آوازیں کم۔ غالب گمان ہے کہ زبان کا آغاز جنوبی مغربی افریقہ میں ہوا ہو گا۔ ممکن ہے کہ کھوئسان (جنوبی افریقہ کے کھوئیکھوئی اور سان لوگوں کی) زبانوں بشمول سانداوے اور حدزا، میں موجود چٹکاہٹ (clicks) صوتی تنوع کی ضرورت کی تکمیل کے لیے اپنائی گئی قدیم آوازوں کی باقیات میں سے ہوں۔ یہ صوتی تقاضے ارتقاء نے وقت کے ساتھ پورے کیے اور کچھ ہی عرصے میں ہمارے گلے کو بڑی حد تک بول چال کے قابل بنا دیا۔ مگر ہمیں اس کی قیمت بھی چکانی پڑی۔ نرخرہ نیچے سرکنے سے کھانے کے دوران دم گھٹنے کا شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جو موت کی عام وجہ ہے۔ اب ہم وہ واحد ممالیہ ہیں جو ایک ساتھ بولنے اور نگلنے سے قاصر ہے۔</p>
<p>وہی (جغرافیائی) تنہائی جس نے ہماری نوع کو طویل اور پست قامت، اور گورے اور کالے سمیت متعدد شباہتوں میں تقسیم کیا ہے، زبان کی پیش قدمی کو روکنے میں بالکل ناکام رہی۔ زبان نے پہاڑوں اور سمندروں کو یوں پار کیا گویا وہ تھے ہی نہیں۔ کیا زبان کی کوئی ضرورت تھی؟ نہیں۔ ہمارے آس پاس موجود پانچ ہزار سے زائد ممالیہ اس کے بغیر بخوبی گزارہ کر لیتے ہیں۔ لیکن کیا یہ کارآمد ہے؟ جی ہاں، بے حد۔ مزید برآں، جب زبان وجود میں آئی تو اس کے لیے دماغ میں کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ دماغ اس کے ظہور کے لیے تیار نہیں تھا، نہ ہی اس نے اس کی آمد کے لیے کوئی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ زبان نے بس دماغ کے ان حصوں پر قبضہ کر لیا جو سب سے کم فعال تھے۔ میں نے ایک بار سانتا فے انسٹی ٹیوٹ میں گفتگو کے دوران کہا تھا کہ زبان بالکل اسی طرز عمل سے ظاہر ہوئی جو طفیلی حملہ آوروں سے مخصوص ہے۔ ادارے کے سربراہ ڈیوڈ کراکاور نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ذہن میں بھی یہی خیال آیا تھا۔ یہ جان کر مجھے خاصی خوشی ہوئی کیونکہ ڈیوڈ نہایت ذہین ہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ انسانی دماغ کی ساخت زبان کو اپنانے کے لیے موزوں نہیں تھی۔ آخر زبان کو اور کہاں ٹھکانہ کرنا تھا؟ کم از کم تاریخ کی شہادت تو ہمارے پاس موجود ہے۔ زبان اور وائرس کی تاریخ میں بنیادی فرق یہی ہے کہ وائرس ڈارونی انتخاب کے ذریعے سامنے آئے مگر زبان نہیں۔ وائرس ایک نفیس مشین ہے۔ اسے پروان چڑھاو، ذرا گھماؤ، دھکیلو، ‘کھٹاک’ —اور یہ بالکل درست بیٹھ جاتا ہے۔ مگر (ارتقائی) کاٹھ کباڑ کے ڈھیر پر ایسے بھی بے شمار وائرس ملیں گے جو اس کھانچے میں پورے نہیں بیٹھ سکے۔</p>
<p>زبان کے ارتقاء میں ڈارونی انتخاب کا کوئی عمل دخل نہیں، کیونکہ زبان کوئی حیاتیاتی نظام نہیں اور اس لیے بھی کہ اس کا مبداء صرف ایک ہی ہے۔ وہ ازلی زبان جس سے تمام زبانیں پھوٹیں اور آگے چل کر اپنے اپنے رنگ روپ میں ڈھل گئیں۔</p>
<p>یہاں لامارک (3) کے تصورِ ارتقاء کو نیم آشکار پا کر، بااثر خواتین و حضرات یقیناً مسکرا اٹھے ہوں گے۔ ہم چاہیں تو پینترے بدل کر یا نت نئی تعریفیں گھڑ کر اس مسئلے سے اپنا پہلو بچانے کی کوشش کر سکتے ہیں، مگر شاید ہماری یہ کوشش کچھ زیادہ کامیاب نہ ٹھہرے۔ ڈارون نے تو وراثت میں ’بریدہ اعضا‘ (Mutilations) کے انتقال کے امکان کو بالکل رد کر دیا تھا، مثلاً کتوں کی دم کاٹنے کا معاملہ۔ لیکن وراثت میں خیالات کی منتقلی کا مسئلہ ابھی بھی حل طلب ہے۔ اکتساب کے سوا ان کی منتقلی کا کوئی اور طریقہ ابھی بھی گمان میں نہیں آتا۔ لاشعور کے کام کرنے کے ڈھنگ کو نہ ہونے کے برابر سمجھا گیا ہے۔ یہی وہ میدان ہے جسے مصنوعی ذہانت سے متعلق علوم نے تقریباً نظرانداز کر رکھا ہے، جہاں زیادہ تر توجہ اس موضوع کے تجزیاتی پہلووں یا کمپیوٹر کے دماغ کی مانند ہونے یا نہ ہونے کی بحث پر دی جا رہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایسا نہیں ہے— لیکن یہ نتیجہ بھی پوری طرح درست نہیں۔</p>
<p>لاشعور کی معلوم خصوصیات میں سے نمایاں ترین اس کی مسلسل موجودگی ہے۔ ہم سبھی خوابوں کی تکرار سے واقف ہیں۔ لاشعور کو بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والا بھی تصور کیا جا سکتا ہے: اسے سمجھ نہیں آ رہا، ہے ناں؟ نہیں۔ وہ تو بالکل ہی گھامڑ ہے۔ تم کیا کرنا چاہتے ہو؟ پتہ نہیں۔ اس کی ماں کو بیچ میں لے آئیں کیا؟ اس کی ماں مر چکی ہے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟</p>
<p>یہاں کیا اصول کارفرما ہے؟ اور لاشعور کو کیسے خبر ہو جاتی ہے کہ ہم بات سمجھ نہیں پا رہے؟ وہ کیا شے ہے جس کی اسے بھی خبر نہیں؟ اس نتیجے سے بچنا آسان نہیں کہ ہماری تعلیم ہمارے لاشعور کی اخلاقی مجبوری ہے۔ (اخلاقی مجبوری؟ کیا وہ سنجیدہ ہے؟)</p>
<p>لسانی ارتقاء کی ابتداء چیزوں کے نام رکھنے سے ہوئی ہو گی۔ اس کے بعد ان چیزوں کی کیفیات اور ان کے افعال کی وضاحت کی باری آئی ہو گی۔ زبانوں کے پھیلاؤ اور صرف و نحو کی آفاقیت کے پیچھے یقیناً کوئی ایک مشترک اصول کارفرما ہے۔ اور وہ اصول یہ ہے کہ زبانوں کی تشکیل ہمیشہ خارجی تقاضوں کے تحت ہوئی ہے، اور وہ دنیا کی توضیح و تشریح کی ذمہ دار ہیں۔ کہنے کی تو بس یہی ایک بات ہے۔</p>
<p>یہ سب بہت تیزی سے ہوا۔ کوئی ایسی زبان باقی نہیں جس کی ہیئت ابھی بھی ارتقاء پذیر ہو۔ اور بنیادی طور پر ان سب کی ساخت ایک سی ہے۔</p>
<p>ہم یہ نہیں جانتے کہ لاشعور کیا ہے، کہاں ہے، یا جہاں کہیں بھی وہ ہے، وہاں تک کیسے پہنچا۔ حیوانی دماغ سے متعلق حالیہ تحقیقات کے دوران بعض نہایت ذہین انواع میں غیرمعمولی طور پر بڑے سیریبیلم کی موجودگی خاصی معنی خیز ہے۔ یہ خیال آہستہ آہستہ مقبول ہو رہا ہے کہ دنیاوی حقائق دماغ کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان حقائق تک لاشعور کی رسائی کے ذرائع ہم تک محدود ہیں، یا ہمارے حسی نظام تک اسے بھی ہم جیسی ہی رسائی حاصل ہے؟ اب آپ میری طرح’ہم’، ‘ہمارا’ اور ‘ہمیں’ کے ساتھ جیسا چاہے تگڑم لڑا لیں۔ سچ تو یہ ہے کہ کسی نہ کسی مرحلے پر ذہن کو حقائق کو نحوی قالب میں ڈھال کر انہیں کہانیوں میں بدلنا پڑتا ہے۔ دنیا کے حقائق عموماً بیانیے کی صورت میں سامنے نہیں آتے، یہ کام ہمیں خود کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>تو آخر ہم کیا کہہ رہے ہیں؟ یہی کہ کوئی نامعلوم مفکر ایک رات اپنی غار میں جاگا اور اسے بڑے پتے کی بات سوجھی: کمال ہے، واہ بھئی۔ ایک شے دوسری شے بھی ہو سکتی ہے۔ جی ہاں، بالکل یہی تو ہم کہہ رہے ہیں۔ سوائے اس کے کہ وہ منہ سے بول کر یہ بات نہیں کہہ پایا ہو گا، کیونکہ اُس کے پاس کوئی ایسی زبان تھی ہی نہیں۔ فی الحال اسے بس سوچنے پر ہی اکتفا کرنا پڑا ہو گا۔ اور یہ سب کب ہوا؟ ہمارے بااثر خواتین و حضرات اس بارے میں کوئی دعویٰ کرنے سے قاصر ہیں۔ بلکہ وہ تو یہ ماننے کو بھی تیار نہیں کہ ایسا کچھ کبھی ہوا بھی تھا۔ اس بحث سے قطع نظر—کیا یہ ایک لاکھ برس پہلے ہوا؟ پانچ لاکھ برس پہلے؟ یا اس سے بھی زیادہ؟ حقیقتاً ایک لاکھ برس پہلے کا اندازہ خاصا معقول معلوم ہوتا ہے۔ یہی وہ قدیم ترین زمانہ ہے جس دوران کندہ کیے گئے تصویری نقوش جنوبی افریقہ کی بلومبوس غاروں میں دریافت ہوئے ہیں۔ یہی نقوش اور کھرونچیں انسان کے بیدار ہوتے ہوئے شعور کی گواہی ہیں۔ اس امر پر اگرچہ کافی عرصے سے اجماع ہے کہ فنونِ لطیفہ زبان سے پہلے وجود میں آئے، لیکن غالباً ان دونوں کے بیچ فاصلہ بہت زیادہ نہ تھا۔ بعض ماہرین تو یہاں تک دعویٰ کرتے ہیں کہ زبان قریب دس لاکھ برس قدیم ہو سکتی ہے۔ مگر وہ یہ وضاحت نہیں کر پائے کہ اس سارے عرصے میں ہم زبان کے ساتھ کیا کر رہے تھے۔ البتہ جو بات بلاتعرض کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ زبان کے ظہور کے بعد تمام متعلقہ انسانی سرگرمیاں بڑی سرعت سے وجود میں آتی چلی گئیں۔ یہ سادہ سا ادراک کہ ایک شے دوسری شے کی نمائندگی کر سکتی ہے، ہماری تمام تر سرگرمیوں کی جڑ ہے— خواہ وہ بکریوں کے لین دین کے لیے رنگین کنکریاں استعمال کرنا ہو، یا فنون اور زبان کی تخلیق، یا پھر علامتوں کے ذریعے اُن دنیاوی حقائق کو ظاہر کرنا جو ہماری آنکھ سے اوجھل ہیں۔</p>
<p>ایک لاکھ برس تو گویا پلک جھپکنے کی بات ہے، مگر بیس لاکھ برس ہرگز نہیں۔ یہی وہ زمانہ ہے جب ہمارا لاشعور ہماری زندگیوں کی تنظیم کر رہا تھا، ان کی سمت متعین کر رہا تھا۔ یاد رہے، بغیر کسی زبان کے۔ اس حالیہ پلک جھپکنے کی مہلت کے سوا۔ تو پھر وہ ہمیں کب اور کہاں نقش کھرچنے کی ہدایت دیتا ہے؟ ہمیں نہیں معلوم۔ ہم تو بس اتنا جانتے ہیں کہ وہ یہ کام بڑی چابک دستی سے کرتا آیا ہے۔ مگر یہ حقیقت کہ لاشعور زبانی ہدایات سے بڑی حد تک اجتناب برتتا ہے —خواہ وہ کتنی ہی کارآمد کیوں نہ ثابت ہو سکتی ہوں— لاشعور کی زبان سے متعلق ناپسندیدگی، بلکہ بداعتمادی کی ایک قوی شہادت ہے۔ لیکن آخر ایسا کیوں ہے؟ غالباً اس کے لیے یہی وجہ کافی رہی ہو گی کہ کوئی بیس لاکھ برس تک وہ اس کے بغیر بھی اپنا کام بخوبی چلا چکا ہے۔</p>
<p>اپنی قدامت کے علاوہ، اس با تصویر کہانی کی وہ صورت جسے لاشعور ترجیح دیتا ہے، اپنی سادہ افادیت کے باعث بھی پرکشش ہے۔ ایک تصویر پوری کی پوری یاد آ سکتی ہے، مگر ایک مضمون نہیں۔ الا یہ کہ کسی کو اسپرجز کا مرض لاحق ہو، جہاں یادداشت درست تو ہوتی ہے مگر لفظوں تک محدود رہتی ہے۔ ایک عام آدمی کے دماغ میں علم اور معلومات کا بے پناہ ذخیرہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ ذخیرہ کس شکل میں ہے، اس بارے میں معلومات محدود ہیں۔ آپ نے ہزار ہا کتابیں پڑھ رکھی ہوں گی اور آپ ان میں سے کسی پر بھی بات کر سکتے ہوں گے خواہ آپ کو ان کے متن کا کوئی ایک لفظ بھی یاد نہ ہو۔</p>
<p>جب آپ اپنے خیالات کو ترتیب دینے کو رکتے ہیں اور کہتے ہیں: ’مجھے ذرا سوچنے دیجیے، میں یہ کیسے کہہ سکتا ہوں،‘ تو درحقیقت آپ کا ہدف نامعلوم سے لبالب اس تالاب سے کسی خیال کو جلا بخشنا اور لسانی قالب میں ڈھالنا ہوتا ہے۔ یہی ’یہ‘—جسے ہم الفاظ کا جامہ پہنانا چاہتے ہیں—ہمارے اس بےشکل ذخیرۂ علم کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص آپ کی بات سمجھنے سے قاصر رہے، تو غالباً آپ اپنی ٹھوڑی تھام کر مزید سوچ میں پڑ جائیں گے اور اپنی بات کہنے کا کوئی اور ڈھنگ ڈھونڈ نکالیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ ایسا نہ کر پائیں۔ جب طبیعات دان ڈائریک سے طلبہ نے شکوہ کیا کہ وہ اس کی بات سمجھ نہیں پائے، تو ڈائریک اپنی بات ٹھیک اسی طرح حرف بہ حرف دہرا دیا کرتا تھا۔</p>
<p>یہ تصویر کہانی کسی تمثیل سے کم نہیں۔ ایسی حکایت جس کا مفہوم انسان کو ٹھہر کر سوچنے پر مجبور کرے۔ لاشعور قوانین سے بے اعتنا نہیں، مگر یہ قوانین آپ کے تعاون کے محتاج ہیں۔ لاشعور روزمرہ زندگی میں آپ کی رہنمائی کا خواہاں ضرور ہے، مگر اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ آپ کون سا ٹوتھ پیسٹ استعمال کرتے ہیں۔ اس کے سُجھائے راستے اگرچہ امکانات سے پُر ہیں، مگر ان میں پہاڑ کی چوٹی سے چھلانگ لگا دینا شامل نہیں۔ ہم خوابوں میں اس امر کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ وہ پریشان کن خواب جو ہمیں نیند سے جگا دیتے ہیں، تصویری جزیات سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ان میں کوئی کچھ نہیں بولتا۔ یہ قدیم خواب ہیں اور اکثر دل دہلا دینے والے ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار جب ہم ان کی تعبیر سے قاصر رہتے ہیں تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی دوست اُن کا مفہوم بھانپ لیتا ہے۔ لاشعور جان بوجھ کر اُنہیں الجھاتا ہے تاکہ ہم ان پر غور کریں، انہیں یاد رکھیں۔ یہ آپ کو مدد مانگنے سے منع نہیں کرتا۔ تمثیلیں بھی خود کو اکثر تصویروں کی شکل میں حل کرنا چاہتی ہیں۔ جب آپ نے پہلی بار افلاطون کی غار بارے سنا ہو گا تو فوراً اس کا تصور اپنے ذہن کے پردے پر کاڑھ لیا ہو گا۔</p>
<p>پھر کہے دیتا ہوں کہ لاشعور ایک حیاتیاتی عامل ہے اور زبان نہیں۔ یا کم از کم ابھی تک تو نہیں۔ اس معاملے میں ڈیکارٹ کو بحث کی میز پر مدعو کرتے وقت احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیئے۔ کوئی وصف ہماری اختراع ہے یا نہیں، وراثتی انتقال کے سوا اس امر کا بہترین پیمانہ اس وصف کا دیگر مماثل مخلوقات میں قابل مشاہدہ ہونا ہے۔ زبان کے بارے میں معاملہ خاصا واضح ہے۔ ننھے بچے جس سہولت کے ساتھ اس کے پیچیدہ اور دشوار قواعد سیکھ لیتے ہیں، وہ اکتساب کے دھیرے دھیرے شعور کا حصہ بن جانے کے عمل کی جانب ایک اشارہ ہے۔</p>
<p>میں دو برس تک وقفے وقفے سے کیکولے کے مسئلے پر غور کرتا رہا مگر یہ گتھی سلجھ نہیں پائی۔ یہ میری اور جارج زوائیگ کی دوپہر کے کھانے پر دس دس گھنٹے جاری رہنے والی نشستوں میں سے ایک نشست سے اگلے روز کا قصہ ہے۔ میں اپنی خواب گاہ کا کوڑے دان باورچی خانے کے کچرا دان میں خالی کر رہا تھا جب جواب کا سرا میرے ہاتھ لگا۔ یا یوں کہیے کہ مجھے احساس ہوا کہ جواب تو محھ کو پہلے سے معلوم ہے۔ اسے ترتیب دینے میں مجھے ایک آدھ منٹ ہی لگا۔ میں نے سوچا کہ کل کی گفتگو کے دوران جارج اور میں ابتداءً علمِ ادراک اور علومِ اعصاب پر کوئی دو گھنتے مغز ماری کرتے رہے تھے، لیکن ہمارے بیچ کیکولے اور اس کے مسئلے پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ مگر ہماری بات چیت کی کسی نہ کسی لہر نے شاید میرے اور ‘نائٹ شفٹ’ دونوں کے غور و فکر کو اس جانب مہمیز کیا تھا۔ جواب تو ظاہر ہے، جان لینے کے بعد بالکل سامنے کی بات لگتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ لاشعور زبانی ہدایات دینے کا عادی نہیں اور ایسا کرتے ہوئے خوش بھی نہیں ہوتا۔ بیس لاکھ برس پرانی عادات بھلا آسانی سے کب ختم ہوا کرتی ہیں۔ بعد ازاں جب میں نے اپنا نودریافت شدہ جواب زوائیگ کو بتلایا تو کچھ دیر سوچ بچار کے بعد، اس نے سر ہلا کر کہا: ’ہاں، بات تو ٹھیک ہے۔‘ تو یہ سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی، کیونکہ جارج نہایت ذہین ہے۔</p>
<p>سو طے ہوا کہ لاشعور بہت کچھ جانتا ہے۔ لیکن خود اپنے بارے میں وہ کیا جانتا ہے؟ کیا اسے خبر ہے کہ ایک دن اسے فنا ہونا ہے؟ اگر ہاں تو اس بارے میں اس کے خیالات کیا ہیں؟ یہ کسی ایک ہنر کی نہیں بلکہ صلاحیتوں کے ایک ہجوم کی نمائندگی کرتا معلوم ہوتا ہے۔ یہ ماننا مشکل ہے کہ کھجلی کا شعبہ ریاضی کا بھی ذمہ دار ہو۔ کیا یہ بیک وقت کئی مسائل پر کام کر سکتا ہے؟ کیا یہ صرف وہی جانتا ہے جو ہم اسے بتاتے ہیں؟ یا اسے بیرونی دنیا تک براہِ راست رسائی حاصل ہے جس کا امکان زیادہ ہے؟ کچھ خواب جو وہ بڑی محنت سے ہمارے لیے ترتیب دیتا ہے بلاشبہ نہایت عمیق ہوتے ہیں، اور کچھ بالکل ہی ردی۔ اور چونکہ وہ ہر ایک خواب یاد رکھنے پر مُصر نہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ بعض اوقات وہ شاید خود اپنے اوپر بھی کام کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن کیا یہ واقعی مسائل حل کرنے میں اتنا ہی ہوشیار ہے، یا محض اپنی ناکامیوں کو چھپائے رکھتا ہے؟ یہ اتنا سمجھدار کیسے ہے، کہ ہم اس پر صدقے واری ہو رہے ہیں؟ ہم اس سے سوال کیسے کریں؟ کیا تمہیں اس کا یقین ہے؟</p>
<p>۔۔۔۔۔۔<br>
1. <strong>کوانٹم میکانیات</strong> کے مقام اور نوعیت سے متعلق مباحث جن میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آیا کوانٹم میکانیات کائنات کو علت اور معلول کے تسلسل پر مبنی قوانین کے تحت بیان کرتی ہے، یا  کائنات کو محض احتمالی اور غیر قطعی قوانین پر قائم ثابت کرتی ہے۔<br>
2. <strong>اوروبروس (Ouroboros)</strong>: مصر اور یونان میں رائج اساطیری علامت جو تسلسل کو ظاہر کرتی ہے اور اپنی ہی دم کھاتے ہوئے سانپ یا اژدھے کی تصویر پر مبنی ہے۔<br>
3. فرانسیسی حیاتیات دان <strong>لامارک</strong> نے وراثت میں والدین سے اولاد میں ایسی خصوصیات یا عادات کی منتقلی کا نظریہ پیش کیا تھا جو وہ اپنی زندگی کے دوران سیکھتے ہیں یا حاصل کرتے ہیں۔ یہ نظریہ ڈارون کے نظریہ ارتقا اور جدید جینیاتی تحقیقات کی روشنی میں مسترد کیا جا چکا ہے۔ زبان کے وراثت میں انتقال ہونے کا تصور ڈارون سے زیادہ لامارک کے نظریات کے قریب ہے۔ اس ضمن میں کٹے پھٹے اعضاء کے وراثت میں منتقل نہ ہونے کو دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ </p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/keukule-ka-masla/">کیکولے کا مسئلہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/keukule-ka-masla/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ستیہ پال آنند کی یاد میں</title>
		<link>https://laaltain.pk/obituary_satyapal-anand/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/obituary_satyapal-anand/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 03 Aug 2025 15:41:50 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=33738</guid>

					<description><![CDATA[<p>آج صبح ستیہ پال آنند کے انتقال کی خبر ملی۔ موت کی ہر خبر پہلے ہمیں خاموش کرتی ہے، پھر ایک دم ہمارے اندر، دنیا سے گزر جانے والی کی موجودگی بھر دیتی ہے۔ کئی بار ہم مرنے والے کو پہلی بار پوری شدت اور پوری سچائی سے محسوس کرتے ہیں۔ کئی شخصی یادوں کے [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/obituary_satyapal-anand/">ستیہ پال آنند کی یاد میں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>آج صبح <a href="https://laaltain.pk/author/satyapal-anand/" target="_blank">ستیہ پال آنند</a> کے انتقال کی خبر ملی۔ موت کی ہر خبر پہلے ہمیں خاموش کرتی ہے، پھر ایک دم ہمارے اندر، دنیا سے گزر جانے والی کی موجودگی بھر دیتی ہے۔</p>
<p>کئی بار ہم مرنے والے کو پہلی بار پوری شدت اور پوری سچائی سے محسوس کرتے ہیں۔ کئی شخصی یادوں کے علاوہ، اس کی تحریریں ہمارے اندر، جیسے شور مچانے لگتی ہیں۔</p>
<p>مجھے سب سے پہلے ستیہ پال آنند کی نظم ’’اناللہ وانا الیہ راجعون‘‘ کا پہلا ٹکڑا یاد آیا۔</p>
<p>’’ایک مردہ تھا جسے میں خود اکیلا<br>
اپنے کندھوں پر اٹھائے<br>
آج آخر دفن کر کے آ گیا ہوں<br>
بوجھ بھاری تھا مگر اپنی رہائی کے لیے<br>
بے حد ضروری تھا کہ اپنے آپ ہی اس کو اٹھاؤں<br>
اور گھر سے دور جا کر دفن کر دوں‘‘</p>
<p>اکثر تخلیق کاروں نے اپنے تعزیت نامے لکھے ہیں (عقیل عباس جعفری نے جنہیں مرتب بھی کیا ہے۔) آنند صاحب نے محض اپنا تعزیت نامہ نہیں لکھا، بلکہ اس بنیادی دکھ کو بھی لکھا ہے، جس سے آدمی جیتے نجات پاسکتا ہے، نہ اپنے خاتمے کا تصور کرتے ہوئے۔<br>
’’مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے‘‘ کا خوف ،آدمی کو عجب تشویش میں مبتلا رکھتا ہے۔ اور اسی دکھ نے ان سے بعد میں ’تتھا گت نظمیں‘ لکھوائیں۔</p>
<p>ستیہ پال آنند پنجابی تھے۔ ۱۹۳۱ء میں چکوال کے قصبے کوٹ سارنگ میں پیدا ہوئے۔ انیسویں صدی کے اواخر سے پنجاب میں اردو ذریعہ تعلیم تھی۔ یہی وجہ ہے کہ سب خواندہ پنجابی، مذہب وقومیت کے فرق کے باوجود، دو قسم کے لسانی اشتراک رکھتے تھے: پنجابی اور اردو۔ وہ بولتے پنجابی، لکھتے اردو میں تھے۔</p>
<p>جدید اردو افسانے کا نہایت ممتاز نام سریندر پرکاش ہے۔ وہ بھی تقسیم کے بعد فیصل آباد (تب لائل پور) سے ہجرت کرکے پہلے دہلی، پھر ممبئی گئے۔ ستیہ پال آنند کا خاندان تقسیم کے بعد، چندی گڑھ پہنچا۔ آنند صاحب نے انگریزی میں ایم۔اے کیا اور اسی کو ذریعۂ روزگار بنایا، مگر اردو ہی کو اپنے اظہار کی بنیادی زبان بنایا۔</p>
<p>ان کی کچھ کتابیں، پنجابی، ہندی اور انگریزی میں ضرور ہیں، مگر ان کی بنیادی پہچان، ایک اردو ادیب و شاعر ہی کی تھی۔ انھوں نے فکشن کی ایک درجن سے زائد کتابیں لکھیں، اپنی آپ بیتی (کتھا چار جنموں کی) لکھی، مضامین لکھے، مگر نظم، ان کے تخلیقی اظہار کا سب سے معتبر وممتاز ذریعہ تھی۔</p>
<p>غزل میں بھی طبع آزمائی کی، لیکن غزل مخالفت میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ کلیم الدین احمد کے بعد، غزل کی جس شدت سے مخالفت آنند صاحب نے کی، شاید ہی کسی نے کی ہو۔ انھوں نے حالی، جوش، عظمت اللہ خاں کو بھی اس ضمن میں پیچھے چھوڑ دیا۔ وہ غزل مخالفت میں، اس ثنویت کا شکار تھے، جس کی بنیاد انیسویں صدی میں انجمنِ پنجاب اور حالی سے پڑی۔ غزل تخیل کو اسیر کرتی، جب کہ نظم شعری تخیل کی آزادی یقینی بناتی ہے۔اس رائے کے حامی اور مخالف، اب تک چلے آتے ہیں۔<br>
۱۹۸۸ء میں امریکا منتقل ہونے اور تقابلی ادیبات کی تدریس شروع کرنے کے بعد (دو برس ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۴ء سعودی عرب میں بھی رہے،) انھو ں نے یکے بعد دیگر نظموں کے کئی مجموعے شائع کیے۔ دست برگ، وقت لاوقت، آنے والی سحر بند کھڑکی ہے، مجھے نہ کر وداع۔ وہ جدید نظم کی شعریات، نظم کے ارتقا اور اس کی معاصر صورتِ حال کا غیر معمولی بصیرت رکھتے تھے۔</p>
<p>۱۹۹۰ء کے بعد کے پاکستانی نظم گو شعرا کے انھوں نے انگریزی تراجم اور مطالعات بھی کیے۔ انھوں نے ایک بار روالپنڈی کے تین شعرا: علی محمد فرشی، نصیر احمد ناصر اور رفیق سندیلوی کو امیجسٹ شعرا قرار دیا تو اس رائے کی گونج کئی برس رہی۔ ایک طرف یہ رائے ان تینوں شعرا کی سنجیدہ تفہیم کی بنیاد بنی، اور دوسری طرف، اسی شہر کے بعد کے اچھے شعرا، اس رائے کے سبب، توجہ سے محروم بھی رہے۔ خود آنند صاحب کی نظم امیجری کا استعمال کثرت سے کرتے تھے، یعنی بتانے سے زیادہ ’مصورانہ اظہار‘ سے کام لیتے تھے۔<br>
وہ اردو کو گنگا جمنی تہذیب کے قریب رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کی اردو شاعری میں مسلم اور ہندی تہذیبی دھارے پہلو بہ پہلو بہتے تھے۔ ان کی نظمیں ’بوعلی اندر غبار ناقہ گم‘، ’فتکلموا تعرفوا‘ اور ’انی کنت من الظٰلمین‘ اس امر کی اہم مثالیں ہیں۔<br>
آزادی سے پہلے پیدا ہونے والی ادیبوں کی نسل، ’اپنی تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو‘ کی قائل تھی۔ ستیہ پال آنند کو بھی اس امر سے گہری دل چسپی تھی کہ ان کے نام کے ساتھ آنند کہا ں سے آیا؟ انھیں یہ تو یقین تھا کہ ان کے خاندانی نام آنند کا تعلق تتھا گت کے پہلے چیلے آنند سے رشتہ سے تو ہے، مگر اس رشتے کی نوعیت کیا ہے؟ یہ معلوم نہیں تھا۔</p>
<p>اس کے لیے انھوں نے چندی گڑھ جاکر خاص تحقیق کی۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ان کا تعلق کھشتریوں کی ذیلی شاخ ککھرائن سے تھا۔ یہ ککھرائن، اسلام قبول کرنے کے بعد کھوکھر بن گئے۔ چکوال کے ککھرائن، گندھارا تہذیب کے علاقے میں مقیم تھے، جہاں کئی بدھ ویہار اور دوسری یادگاریں تھیں۔ یہیں بھکشوؤں کی ایک جماعت ایک اور آنند کی سربراہی میں پہنچی تھی۔</p>
<p>ستیہ پال، اسی آنند سے اپنا نسلی تعلق قائم کرتے ہیں۔ یہ تحقیق، ان کی خاندانی شناخت تک محدود تھی، مگر اس کا ایک ضمنی نتیجہ، اہم اچھی کتاب ’تتھا گت نظمیں‘ (۲۰۱۵ء) کی صورت میں نکلا۔ یہ نظمیں تتھا گت کے پہلے، چہیتے چیلے کی زبانی لکھی گئی ہیں۔ اردو میں بدھ اور بدھ مت پر خاصی مگر منتشر شاعری لکھی گئی ہے۔ فوراً دھیان، میراجی کی ’اجنتا کے غار‘ اور اسلم انصاری کی ‘گوتم کا آخری وعظ‘ یاد آتی ہیں۔</p>
<p>ستیہ پال کی یہ کتاب، کم پڑھی گئی، مگر نہایت اہم کتاب ہے۔ یہ تَتھا گت، آنند اور بودھی فلسفہ زیست و نروان کی کہانی ہے، جسے اکیسویں صدی کے آنند نے لکھا ہے۔</p>
<p>اسی کتاب سے ایک نظم کا ایک حصہ:<br>
’’پیڑ کاٹو گے ،کیا ملے گا تمھیں؟<br>
صرف لکڑی ،جلانے کی خاطر<br>
جھاڑ جھنکار، مردہ پتوں کا<br>
کونپلیں، پتیاں، گھنی شاخیں<br>
چاروں جانب زمیں پہ بکھر ی ہوئی<br>
گھونسلے بکھرے، ٹوٹے پھوٹے ہوئے<br>
ان پرندوں کے جو ہیں اب بے گھر!<br>
پیڑ کاٹو گے ،کیا گنواؤ گے؟<br>
چھاؤں جو دھوپ کی تمازت میں<br>
ایک چادر کی طرح بچھتی تھی‘‘</p>
<p>اردو ، مشترکہ تہذیب کے ایک ممتاز نمائندے سے محروم ہوگئی ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/obituary_satyapal-anand/">ستیہ پال آنند کی یاد میں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/obituary_satyapal-anand/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خاموش ستارہ اور درد کی گرہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/parnia-abbasi-ki-2-nzmein/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/parnia-abbasi-ki-2-nzmein/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 17 Jun 2025 07:56:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=33597</guid>

					<description><![CDATA[<p>نوجوان ایرانی شاعرہ پرنیا عباسی جب ١٣ جون کو تہران پر اسرائیلی حملے کے دوران گھر میں سوتی ہوئی ماری گئی تو اس کی عمر ابھی ٢۴ سال سے دس دن کم تھی۔ پرنیا بین‌الاقوامی یونیورسٹی قزوین سے فنِ ترجمہ میں فارغ‌التحصیل، انگریزی کی معلم اور ایران کے قومی بینک میں کام کرتی تھی۔ شہری [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/parnia-abbasi-ki-2-nzmein/">خاموش ستارہ اور درد کی گرہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>نوجوان ایرانی شاعرہ پرنیا عباسی جب ١٣ جون کو تہران پر اسرائیلی حملے کے دوران گھر میں سوتی ہوئی ماری گئی تو اس کی عمر ابھی ٢۴ سال سے دس دن کم تھی۔ پرنیا بین‌الاقوامی یونیورسٹی قزوین سے فنِ ترجمہ میں فارغ‌التحصیل، انگریزی کی معلم اور ایران کے قومی بینک میں کام کرتی تھی۔ شہری آبادی پر اس حملے میں پرنیا کے والدین اور اس کا بھائی پرہام بھی مارے گئے۔ ایرانی بُک نیوز ایجنسی ایبنا نے اس سانحے پر لکھا ہے:</p>
<blockquote><p>اَسی‌ویں دہائی کی شاعر لڑکی پرنیا عباسی، رات کو سوئی مگر صبح کو جاگ نہیں پائی۔ رات کے قلب میں، جب وہ نہتی سو رہی تھی، اُس رژیم کے میزائل، کہ جس کے نام پر جرم اور ظلم کی گرہ لگی ہے، اس پر آن گرے، اس کی جان لے لی اور اس کا گھر اجاڑ دیا۔ وہ نہ ہی میدان کی سپاہی تھی، اور نہ ہی سیاسی غلغلوں کی ایک بلند آواز؛ وہ ایک جوان لڑکی تھی جس کا دل شاعری اور آنکھیں روشنی سے بھری تھیں؛ اور شاید دشمن کے لیے یہی کافی تھا؛ کیونکہ وہ خوب جانتا ہے کہ لفظ، کبھی کبھار وہ کام کر جاتے ہیں جو گولی نہیں کر پاتی۔</p></blockquote>
<p>زیرِ نظر نظمیں پرنیا عباسی کی دو فارسی نظموں “ستارۂ خاموش” اور “گرہے از درد” کا اردو ترجمہ ہیں۔ یہ نظمیں تہران سے شائع ہونے والے ادبی جریدے “وزنِ دنیا” میں شائع ہوئیں۔</p>
<h1><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/06/1417147.jpg"><img fetchpriority="high" decoding="async" class="size-medium wp-image-33600 aligncenter" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/06/1417147-252x300.jpg" alt width="252" height="300" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/06/1417147-252x300.jpg 252w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/06/1417147.jpg 571w" sizes="(max-width: 252px) 100vw, 252px"></a>خاموش ستارہ</h1>
<p>میں نے اپنے<br>
اور تیرے،<br>
دونوں کے لیے آنسو بہائے<br>
تو میرے آنسوؤں کے ستاروں کو<br>
اپنے آسمان پہ بجھائے جاتا ہے<br>
تیری دنیا سے<br>
روشنی پھوٹتی ہے<br>
میری دنیا میں<br>
سایوں کا کھیل ہوتا ہے<br>
جس جگہ<br>
تیرا اور میرا انت ہوتا ہے<br>
دنیا کا خوبصورت ترین شعر بھی<br>
گونگا ہو رہتا ہے<br>
جہاں پہ<br>
تو شروع ہوتا ہے<br>
تو زندگی کی سرگوشی<br>
کو چیخ کر سناتا ہے<br>
ہزار جگہوں پر۔۔۔<br>
میرا انت ہو جاتا ہے<br>
میں جل کر<br>
ایک خاموش ستارہ ہو جاتی ہوں<br>
جو بن جاتا ہے<br>
تیرے آسمان کا دھواں</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>&nbsp;</p>
<h1>درد کی گرہ</h1>
<p>میں بائیں کاندھے کی عقبی ہڈی میں<br>
درد کی ایک گرہ کے ساتھ جیتی ہوں<br>
جب تو مجھ سے<br>
آنکھیں موند لیتا ہے،<br>
اور شکست کی بلندیوں کو<br>
میری آنکھوں سے اونچا کر لیتا ہے<br>
تو تیرے بالوں کی سفیدی<br>
میرے سر کو لال کر دیتی ہے</p>
<p>میں بائیں کاندھے کی عقبی ہڈی میں<br>
درد کی ایک اندھی گرہ کے ساتھ<br>
سانس لیتی ہوں<br>
اور تیرے درد کی سفید گرہیں<br>
میرے گلے میں ٹوٹنے لگتی ہیں<br>
تو آرام کرتا ہے<br>
اور میرا کاندھا<br>
ہر روز پہلے سے ذرا بڑھ کر<br>
چلے جانے کی سمت میں<br>
جھکنے لگتا ہے</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/parnia-abbasi-ki-2-nzmein/">خاموش ستارہ اور درد کی گرہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/parnia-abbasi-ki-2-nzmein/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لتا منگیشکر کی واپسی</title>
		<link>https://laaltain.pk/lata-mangeskhkar-ki-wapsi/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/lata-mangeskhkar-ki-wapsi/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 28 Apr 2025 16:07:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=33563</guid>

					<description><![CDATA[<p>انتظار حسین کا یہ کالم ٢ فروری ١٩٦٦ء کے روزنامہ مشرق میں پہلی بار شائع ہوا۔ جو بارِ دیگر ان کے نثری مجموعہ “ذرّے” میں شائع ہوا۔ &#160; غالب نے عجب شعر کہا ہے ࣠ پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں پھر وہی زندگی ہماری ہے پھر وہی بے وفا لتا منگیشکر ہے، اور [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/lata-mangeskhkar-ki-wapsi/">لتا منگیشکر کی واپسی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><strong>انتظار حسین کا یہ کالم ٢ فروری ١٩٦٦ء کے روزنامہ مشرق میں پہلی بار شائع ہوا۔ جو بارِ دیگر ان کے نثری مجموعہ “ذرّے” میں شائع ہوا۔</strong></p>
<p>&nbsp;</p>
<p>غالب نے عجب شعر کہا ہے ࣠</p>
<p>پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں</p>
<p>پھر وہی زندگی ہماری ہے</p>
<p>پھر وہی بے وفا لتا منگیشکر ہے، اور پھر وہی ہم ہیں اور پھر وہی ریڈیو جالندھر اور پھر وہی چائے کی دکان پر فرمائشیں سننے والے اور پھر وہی پرانے اشتہار اور پھر وہی سنتوش کمار۔ پندار کا صنم‌کدہ ویراں ہے اور ہم اپنی روش پر واپس آ رہے ہیں۔</p>
<p>وہ ٦ ستمبر تھی جب لتا منگیشکر نے ہم سے بے وفائی کی، اور ہم نے اس کافر سے کنارا کیا۔ پھر اٹھارہ دن گزر گئے اور وہ آواز سننے میں نہ آئی۔ مگر انیسویں دن مزنگ چونگی سے گزرتے گزرتے یہ آواز ہمارے کان میں پڑی۔ ہم چونکے، مگر ابھی ہم نے سنبھالا لیا تھا کہ پنواڑی نے سوئچ گھمایا اور سوئی پھر لاہور ریلوے سٹیشن پر آ گئی اور جنگی ترانہ ہونے لگا۔</p>
<p>پھر دن گزرتے گئے، پنواڑیوں کی دکانوں اور چائے خانوں میں ریڈیو پاکستان کی آواز لشتم پشتم گونجتی رہی۔ کوئی پنواڑی بے اطمینان ہو کر سوئچ گھماتا، کبھی ریڈیو سیلون لگاتا، کبھی جالندھر ریڈیو سے ملاتا۔ مگر کوئی تن جلا طنزیہ سوال کرتا “استاد جالندھر لگا رکھا ہے، اور پنواڑی جھینپ کر سوئی کو پھر اپنے اسٹیشن پر لے آتا۔ رفتہ رفتہ طنزیہ لہجہ اور جھینپ دونوں رخصت ہو گئیں۔ اب پھر چھوٹے چائے خانوں میں یار لوگ چائے کی پیالی کے ساتھ فرمائش کا آرڈر دیتے ہیں اور ریڈیو سیلون سے ریڈیو جالندھر تک کے فرمائشی پروگرام سنتے ہیں۔ لتا منگیشکر پھر کتنی مقبول ہو چکی ہے، اور</p>
<p>کل لڑائی سی لڑائی ہو چکی</p>
<p>اور ہم پھر مال روڈ کے اس چائے خانہ میں جہاں انگریزی ریکارڈوں کے ساتھ چند اردو ریکارڈ بھی ہیں، یہ ریکارڈ ذوق و شوق سے سنتے ہیں:</p>
<p>کنکریا مارے کر کے اشارے</p>
<p>بلما بڑا بے ایمان</p>
<p>لاہور ریڈیو سٹیشن جہاں تھا، اب پھر وہیں ہے۔ اور ہم نے دوستوں سے کہا کہ یارو یہ کیا بات ہے کہ جنگ کے دنوں میں تو تمہیں لاہور اسٹیشن سنے بغیر کل نہیں پڑتی تھی۔ جنگ کا زمانہ رخصت ہوا تو تم نے اسے دودھ کی مکھی کی طرح نکال پھینکا ہے۔</p>
<p>جنگ کا ایک اثر یہ ہوا تھا کہ آوارہ روحیں اپنی اپنی جون میں واپس آ گئی تھیں۔ اور تو اور سنتوش کمار نے بھی اعلان کر ڈالا کہ اب لوگ مجھے سنتوش کمار نہ کہیں، موسیٰ رضا کہیں۔ سنتوش کمار نے چندے موسیٰ رضا بن کر اپنا نام روشن کیا۔ کسی فلم کے اشتہار میں ان کا نام آتا تو یوں لکھا جاتا، موسیٰ رضا (سنتوش کمار) مگر اب جو ان کی فلموں کے اشتہار آ رہے ہیں، وہ بریکٹ کے جھنجھٹ سے آزاد ہیں۔ موسیٰ رضا غائب ہوئے اب پھر سنتوش کمار کے نام کی دھوم ہے۔</p>
<p>اور قصہ شادی بیاہ کا یوں ہے کہ جنگ بہت سی شادیوں کو لے بیٹھی۔ بعض شادیاں کچھ اس طرح ملتوی ہوئیں کہ بس ملتوی ہی ہو گئیں۔ بعض عاقبت نا اندیشوں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور جنگ کے پردے میں جہیز، بری اور ولیمہ قسم کے سارے جھمیلوں کے بغیر سیدھی سادی جنگی شادی کر ڈالی۔ اور ایک ادیب دوست نے ہمارے کان میں کہا کہ یار میں تو سچ مچ شادی کرنے لگا تھا، مگر خیر جنگ چھڑ گئی اور جنگ دیکھیے کب تک چلے۔ تو شادی کو ہم نے سلام کیا۔</p>
<p>مگر پھر فائربندی ہو گئی اور اللہ بھلا کرے ہمارے ایک انگریزی اخبار نویس دوست کا کہ فائربندی کے دن بہت بپھرے بپھرے پھر رہے تھے۔ مگر تیسرے دن ہم نے دیکھا کہ انہوں نے ٹکٹ کٹایا اور کراچی چلے گئے۔ وہاں جا کر انہوں نے اپنی معطل منگنی کی تجدید کی اور شادی کر لائے۔</p>
<p>یہ دیکھ کر ہمارے ادیب دوست نے جھرجھری لی اور سوچا کہ جنگ تو واقعی ختم ہو گئی ہے، لاؤ شادی ہی کر لیں۔ سو انہوں نے اٹھ کر ایک پھیرا کراچی تک کا لگایا اور واپس آ کر دو معتبر پروفیسروں اور ڈھائی تین ادیبوں کو لے کر ایک دروازے پر دستک دی اور جھٹ پٹ نکاح پڑھوا لیا۔ پھر ایک دانشور راولپنڈی سے اچانک لاہور پہنچا اور نکاح کے دو بول پڑھوا کر واپس پنڈی چلا گیا۔ اور نکاح بیاہ کی رو ایسی آئی ہے کہ جنگ سے پہلے احباب جن کے لیے دعائے خیر کر چکے تھے، ان کے بھی ہاتھ پیلے ہو گئے۔</p>
<p>تو پھر وہی زندگی کے قصے، وہی شادیاں خانہ آبادیاں، وہی فلمی ریکارڈوں کی فرمائشیں، وہی لتا منگیشکر، وہی ہم</p>
<p>پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں</p>
<p>پھر وہی زندگی ہماری ہے</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/lata-mangeskhkar-ki-wapsi/">لتا منگیشکر کی واپسی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/lata-mangeskhkar-ki-wapsi/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>فلسطین میں (مابعد) نوآبادیاتی متون کی تدریس</title>
		<link>https://laaltain.pk/teaching_postcolonial_texts_in_palestine/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/teaching_postcolonial_texts_in_palestine/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 10 Dec 2024 01:38:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[انجابولو اندبیلے]]></category>
		<category><![CDATA[حیدر عید]]></category>
		<category><![CDATA[سمبن عثمان]]></category>
		<category><![CDATA[غسان کنفانی]]></category>
		<category><![CDATA[فلسطین]]></category>
		<category><![CDATA[فلسطینی ادب]]></category>
		<category><![CDATA[مزاحمتی ادب]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=32986</guid>

					<description><![CDATA[<p>فلسطینی ادب کو پڑھنے کی ضرورت، خاص طور موجودہ وقت میں، ایک فلسطینی بیانیہ رقم کرنے کی اہمیت سے پھوٹی ہے۔ </p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/teaching_postcolonial_texts_in_palestine/">فلسطین میں (مابعد) نوآبادیاتی متون کی تدریس</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p dir="RTL" style="direction: rtl; unicode-bidi: embed;"><strong>جلاوطنی، حاشیہ گزینی، موت، اور تاریخ کے پیچیدہ خیالیے (مابعد) نوآبادیاتی افسانوی ادب کے طول میں متواتر ابھرتے رہتے ہیں۔ کوئی تعجب نہیں کہ غزہ میں فلسطینی طلبہ سے ان کا تعلق ذاتی سطح کا ہے۔</strong></p>
<p>(ترجمہ: اسد فاطمی)</p>
<p>میں رواں تعلیمی سال میں دوسرے کچھ (مابعد) نوآبادیاتی متون کے ساتھ ساتھ دو فلسطینی ناول اور دو افسانے پڑھا رہا ہوں۔ ہم نوآبادیائے گئے کرداروں کے سیاسی شعور یا اس کے فقدان کا، اور انفرادی منصوبہ یا مسلح جدوجہد اور انقلابی کایاکلپ جیسے اجتماعی اعمال کی جانب فرار کے ذریعے ان کی اپنی نفسیاتی اور معاشرتی بیگانگی پر قابو پانے کی باہم متضاد کوششوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ البتہ دیگر لکھاریوں کے ساتھ ساتھ غسان کنفانی (فلسطین)، انجابولو اندبیلے (جنوبی افریقا)، سمبن عثمان (سینیگال)، اور نورالدین فارح (صومالیہ) جیسے لکھاریوں کے منتخب تخلیقی کام (مابعد) نوآبادیاتی مزاحمتی ادب کی تعریف، اور اسے درپیش ردِ نوآبادیاتی قوم‌پسندی اور قومی شناخت کے ارتقاء کے مسئلہ کو لے کر ایک نازک سوال اٹھاتے ہیں۔</p>
<p>ان خاص لکھاریوں کا انتخاب غیر ارادی نہیں تھا، کیونکہ میں ایسے طلبہ کو پڑھا رہا ہوں جو کہ مہاجرین ہیں، اور جو کہ ناگزیر وجوہ کی بنا پر، ان لکھاریوں، خاص طور پر غسان کنفانی کے دکھائے گئے مستقبل‌بین منظر سے خود اپنی جدوجہد کو الگ نہیں رکھ سکتے۔ “رجال فی الشمس” (Men in the Sun) میں غیر قانونی طور پر کویت نکل جانے کی کوشش میں تین فلسطینیوں کی موت، “ارض البرتقال الحزین” (The Land of Sad Oranges) اور “الصغیر یذھب الی المخیم” (The Little One Goes to the Camp) میں بچے کی زندہ رہنے کی حکمت عملی، “ما تبقَی لکم” (All That’s Left to You) میں حامد کی اسرائیلی سپاہی کے ساتھ کشمکش اور عثمان کے “سیاہ فام لڑکی” (Black Girl / Le Noire de…) میں دیوانا کی خودکشی سے لے کر “عائد الی حیفا” (Return to Haifa) کے اختتام میں سعید س۔ کی شعوری قلبِ ماہیئت تک – یہ سبھی مناظر بالآخر فارح کے افسانے “My Father, the Englishman and I” میں راوی کی ماں کے قصہ میں اپنے نقطۂ اوج کو پہنچ جاتے ہیں، جو کہ سماجی مروجات اور نوآبادیاتی استبداد دونوں کو للکارنے لگتی ہے۔ یہ لکھاری اجتماعی انقلابی کام کے ذریعے ذاتی اور تاریخی بیگانگی پر ایک سر اٹھاتی ہوئی فتح کی صراحت کرتے ہیں۔</p>
<p>ہم مرکزی کرداروں کی بیگانگی اور ان کے ذاتی طور پر واقعات کا حصہ بن جانے کے ذریعے اس امر پر ان کے نظر فریب اور موضوعی ردعمل اور / یا ان کی اپنے سماجی رتبہ کو آگے بڑھانے کی کوشش میں نمونہ جاتی بیانیہ‌ قرینہ (paradigmatic narrative pattern) کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان (مابعد) نوآبادیاتی متون میں کردار اور اعمال پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے سے مرکزی کرداروں کے حد سے زیادہ پرعزم ذاتی سفر کی پگڈنڈیاں آشکار ہونے لگتی ہیں اور ان مادی حالات اور تاریخی عوامل کے تنقیدی جائزہ کی صورت سامنے آتی ہے جو کرداریاتی ترجیحات کو وجودی طور پر باخبر رکھتے ہیں۔</p>
<p>فلسطینی ادب کو پڑھنے کی ضرورت، خاص طور موجودہ وقت میں، ایک فلسطینی بیانیہ رقم کرنے کی اہمیت سے پھوٹی ہے۔ فلسطین کا بیشتر ادب وہی ہے جسے باربرا ہارلو اور اس سے قبل غسان کنفانی “مزاحمتی ادب” کہا کرتے تھے۔ بدقسمتی سے، ایک نسلی تقسیم پر مبنی راج کے بعد، اور سرد جنگ کے بعد کی دنیا میں گرمئ بازار جو رنگ دکھاتی رہی ہے بس اسی سے اس قسم کے ادب سے ہماری شناسائی اور علم کا تعین ہوتا رہا ہے۔ مذکورہ بالا تمامتر افسانوی ادب ان عورتوں (اور آدمیوں) کی کہانیاں ہیں جو خود کو استحصال، جبر، استبداد، اور دار و رسن کی کسی مخصوص غیر انسانی شکل سے آزاد کرانے کی جدوجہد میں ہیں؛ بلاشبہ وہ ان افکار، اقدار، اور احساسات سے منسلک ہیں جن کے تحت نوآبادیائی گئی عورت (اور آدمی) اپنے معاشرے کا اور اپنی وجودی، سیاسی، اور تاریخی صورتحال کا تجربہ حاصل کرتے ہیں۔ کنفانی کے ناولوں اور افسانوں کی تفہیم، مثال کے طور پر، استبداد کا شکار فلسطینیوں کے ماضی اور ان کی موجودہ صورتحال ہر دو کے کہیں گہرے فہم کی متقاضی ہے: ایک ایسا فہم جو بالخصوص ان کی آزادی اور بالعموم انسانی آزادی میں اپنا حصہ ڈال سکے۔ ان دو ناولوں “عائد الی حیفا” (حیفا کو واپسی) اور “ما تبقَی لکم” (جو کچھ تمہارے لیے بچا ہے) کے قارئین کے لیے یہ مشکل نہیں ہو گا، کہ وہ ایک واضح متحرک حقیقت کی جانب بتدریج، شعوری، ارادی حرکت کا اندازہ لگا سکیں: ایک نئی حقیقت جو ہمیں وہ کچھ دکھاتی ہے جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا، جو ہمیں بیک وقت ادراک اور تجربہ کی ایک نئی ترتیب کی جانب لے جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، دونوں ناولوں پر فنی طور پر اثر انداز ہونے والے پہلو ایسے ہیں جو حقیقت سے فرار کی بجائے اس کا سامنا کرنے سے ابھرے ہیں۔</p>
<p>ان (مابعد) نوآبادیاتی افسانوی کاموں کے طول میں کئی پیچیدہ خیالیے اور سوال متواتر ابھرتے رہتے ہیں: جلاوطنی، حاشیہ گزینی، موت، اور تاریخ۔ ایسے سوالات دراصل خود لکھاریوں کے اپنے کردار کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں، ایک پرعزم خودآگاہ لکھاری کی حیثیت سے وہ چند نوآبادیائے گئے مطیعوں کی ان کمزوریوں سے پردہ اٹھاتے ہیں جن میں وہ اپنی شناخت اور زمین کے دوبارہ حاصل کرنے کی جنگ میں مادی تحفظ تلاش کرنے کو ترجیح دیتے ہیں (الرجال من الشّمس، سیاہ فام لڑکی)۔ دوسرے لفظوں میں، یہ متون ان مطیعوں کی داخلی اور خارجی حقیقتوں کے درمیان جدلیاتی رشتہ کے دشت کی سیاحی سے عبارت ہیں۔</p>
<p>بہ ایں ہمہ، مجھے اس امر کا بھی اندازہ ہے کہ (مابعد) نوآبادیاتی ادب سراسر رد نوآبادیاتی ہیئتوں تک محدود نہیں ہے۔ فلسطین میں جس قدر ہم مذکورہ بالا لکھاریوں کو پڑھ اور پڑھا رہے ہیں، اتنا ہی ہم نسل پرست ٹرینی‌ڈاڈی-برطانوی لکھاری، وی۔ایس۔نائپال کی اپنی پسندیدگی کے ساتھ بھی الجھے رہتے ہیں، جس نے صاف صاف کہا ہے، خاص طور پہ اپنے ناول “دریا کا موڑ” (A Bend in the River) میں جو ہم اپنے طلبہ کو پڑھنے کا کہا کرتے ہیں، کہ “دنیا جیسی ہے ویسی ہی ہے؛ جو آدمی ناشدنی ہیں، انہوں نے خود ہی خود کو ناشدنی ہونے دیا ہے، یہاں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے!” نائپال پھر لکھتا ہے کہ “ایسا نہیں ہے کہ یہاں کوئی صحیح یا غلط نہیں ہوتا۔ بس یہاں کچھ صحیح نہیں ہوتا،” اور یہ کہ اسی لیے “(اپنے نوآبادیاتی آقا کے بغیر) افریقہ کا کوئی مستقبل نہیں!”</p>
<p>نائپال جیسے لکھاریوں کے مطابق، افریقی (اور دیگر نوآبادیاتی مطیع) ایسے قدر کے لائق انسان نہیں ہیں جیسے کہ گورے اہلِ مغرب؛ “وہ بس افریقی کے افریقی ہی ہیں،” کوئی تبدیلی کے کارندے نہیں: “[سیاہ فام افریقی] وہی کچھ بن پائے ہیں جو کہ ان کے باہر کی دنیا نے [انہیں] بنایا ہے؛ دنیا جیسی تیسی موجود ہے [انہیں] اسی میں زندہ رہنا ہے۔” اسی لیے مغرب کو اپنے “تہذیب‌آموزی کے مشن” کے حصہ کے طور پر مداخلت کرنا پڑ جاتی ہے۔ اور اب کی بار اس اساسی منطقی اصول کا پرچار ایک سیاہ فام/گندمی رنگت کا آدمی کر رہا ہے۔ اس سیاق و سباق میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے طلبہ ایڈورڈ سعید کی اس دلیل سے واقف ہیں کہ “ہر سلطنت۔۔۔ یہی بتاتی ہے کہ وہ دیگر سبھی سلطنتوں سے مختلف ہے، اور اس کا مشن غارت‌گری اور فرمانروائی نہیں بلکہ تعلیم اور نجات سے بہرہ مند کرنا ہے۔”</p>
<p>اس کا موازنہ انجابولو اندبیلے کے Fools میں کرداروں، ما تبقَی لکم میں غسان کنفانی کے بہن بھائیوں، اور سیاہ فام لڑکی میں سمبن عثمان کی آیا سے کریں، جوکہ سبھی وحشی آبادکاری نوآبادیاتی نظام اور نسلی تقسیم پر مبنی راج کی (بقول جوزف کانریڈ) صدائے “الخوف! الخوف!” (The Horror! The Horror!) کے جواب میں انقلابی حل کی جانب رجوع کرتے ہیں۔<br>
اس تعلیمی سال میں فلسطینی طلبہ کو پڑھائے جانے والے ان کے پسندیدہ متن کے متعلق لکھنے کا کہنے اور پھر ان کی ترجیح پہ سر کھپانے کی کوئی ضرورت نہیں۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/12/haider-eid.jpg"><img decoding="async" class="aligncenter" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/12/haider-eid.jpg" alt width="197" height="197"></a><br>
<em>حیدر عید غزہ کی الاقصیٰ یونیورسٹی میں ادب کے ایسوسی‌ایٹ پروفیسر اور جنوبی افریقہ کی یونیورسٹی آف پریٹوریا میں ایسوسی‌ایٹ محقق ہیں۔ <a href="https://mondoweiss.net/2023/05/teaching-postcolonial-texts-in-palestine/" target="_blank" rel="noopener"><strong>ان کا یہ مضمون</strong></a> مئی ۲۰۲٣ء میں فلسطین میں انسانی حقوق پر خبر و نظر کے لیے وقف ویب سائٹ <a href="https://mondoweiss.net/" target="_blank" rel="noopener">mondoweiss.net</a> پر انگریزی زبان میں شائع ہوا۔</em></p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/teaching_postcolonial_texts_in_palestine/">فلسطین میں (مابعد) نوآبادیاتی متون کی تدریس</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/teaching_postcolonial_texts_in_palestine/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>انکشاف (عابد رضا)</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%b4%d8%a7%d9%81-%d8%b9%d8%a7%d8%a8%d8%af-%d8%b1%d8%b6%d8%a7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%b4%d8%a7%d9%81-%d8%b9%d8%a7%d8%a8%d8%af-%d8%b1%d8%b6%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 26 May 2022 03:24:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24149</guid>

					<description><![CDATA[<p>ہمیشہ سوچتا ہوں میں یہ اک نیلی سی چھتری جو مرے سر پر تنی ہے اس کے پیچھے اور کیا ہے کبھی میں خواب کے سیارچے میں بیٹھ جاتا ہوں عقیدت گاہ سے مانگی ہوئی عینک لگاتا ہوں روشنی کی برق رفتاری دکھاتا ہوں ذرا پھر غور سے دیکھوں کہ یہ افلاک کی وسعت ستاروں [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%b4%d8%a7%d9%81-%d8%b9%d8%a7%d8%a8%d8%af-%d8%b1%d8%b6%d8%a7/">انکشاف (عابد رضا)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>ہمیشہ سوچتا ہوں میں<br>
یہ اک نیلی سی چھتری<br>
جو مرے سر پر تنی ہے<br>
اس کے پیچھے<br>
اور کیا ہے</p>
<p>کبھی میں خواب کے سیارچے میں بیٹھ جاتا ہوں<br>
عقیدت گاہ سے مانگی ہوئی عینک لگاتا ہوں<br>
روشنی کی برق رفتاری دکھاتا ہوں<br>
ذرا پھر غور سے دیکھوں<br>
کہ یہ افلاک کی وسعت<br>
ستاروں اور سیّاروں کی ٹولی<br>
اور ہاکنگ کے سیاہ سوراخ<br>
بھوکے اژدھے<br>
ہر شے نگل جانے کی خواہش<br>
مضطرب اتنے کہ بس معدوم ہوں جیسے</p>
<p>میں ان کے پاس جانا چاہتا ہوں</p>
<p>مگر پھر یہ سوچتا ہوں<br>
ابھی تو مجھ کو اپنے پیر کے نیچے کی مٹی کا پتہ معلوم کرنا ہے<br>
میں ساتوں آسماں کی گردشوں سے کیوں پریشاں ہوں<br>
کہ اپنی یہ زمیں بھی تو<br>
اسی اونچے فلک میں ہی معلق گھومتی ہے</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%b4%d8%a7%d9%81-%d8%b9%d8%a7%d8%a8%d8%af-%d8%b1%d8%b6%d8%a7/">انکشاف (عابد رضا)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%b4%d8%a7%d9%81-%d8%b9%d8%a7%d8%a8%d8%af-%d8%b1%d8%b6%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آج کا گیت: سب قتل ہو کے (فیض احمد فیض، فریدہ خانم)</title>
		<link>https://laaltain.pk/sab-qatl-ho-k/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/sab-qatl-ho-k/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 20 Nov 2020 13:40:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[عکس و صدا]]></category>
		<category><![CDATA[faiz ahmed faiz]]></category>
		<category><![CDATA[Farida Khanum]]></category>
		<category><![CDATA[آج کا گیت]]></category>
		<category><![CDATA[فریدہ خانم]]></category>
		<category><![CDATA[فیض احمد فیض]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25931</guid>

					<description><![CDATA[<p>سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/sab-qatl-ho-k/">آج کا گیت: سب قتل ہو کے (فیض احمد فیض، فریدہ خانم)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں<br>
ہم لوگ سرخ رو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں</p>
<p>شمع نظر خیال کے انجم جگر کے داغ<br>
جتنے چراغ ہیں تری محفل سے آئے ہیں</p>
<p>ہر اک قدم اجل تھا ہر اک گام زندگی<br>
ہم گھوم پھر کے کوچۂ قاتل سے آئے ہیں</p>
<audio class="wp-audio-shortcode" id="audio-25931-1" preload="none" style="width: 100%;" controls="controls"><source type="audio/mpeg" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/11/سب-قتل-ہو-کے.mp3?_=1"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/11/سب-قتل-ہو-کے.mp3">https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/11/سب-قتل-ہو-کے.mp3</a></audio>
<p>یہ غزل <a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/11/سب-قتل-ہو-کے.mp3" target="_blank" rel="noopener noreferrer">ایم پی تھری فارمیٹ</a> میں ڈاون لوڈ کیجیے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/sab-qatl-ho-k/">آج کا گیت: سب قتل ہو کے (فیض احمد فیض، فریدہ خانم)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/sab-qatl-ho-k/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		<enclosure url="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/11/سب-قتل-ہو-کے.mp3" length="3971633" type="audio/mpeg" />

			</item>
		<item>
		<title>آج کا گیت: وہی آبلے ہیں وہی جلن (شکیل بدایونی، شفقت سلامت علی خان)</title>
		<link>https://laaltain.pk/wohi-able-hain-wohi-jalan/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/wohi-able-hain-wohi-jalan/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 18 Sep 2020 08:31:31 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[Shafqat Salamat Ali Khan]]></category>
		<category><![CDATA[Shakeel Badayuni]]></category>
		<category><![CDATA[آج کا گیت]]></category>
		<category><![CDATA[شفقت سلامت علی خان]]></category>
		<category><![CDATA[شکیل بدایونی]]></category>
		<category><![CDATA[غزل]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25779</guid>

					<description><![CDATA[<p>وہی آبلے ہیں وہی جلن کوئی سوزِ دل میں کمی نہیں</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/wohi-able-hain-wohi-jalan/">آج کا گیت: وہی آبلے ہیں وہی جلن (شکیل بدایونی، شفقت سلامت علی خان)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>اس سلسلے میں شامل <a href="https://laaltain.pk/category/laaltain-categories/arts-culture/sur-se-pyar-kariay/aaj-ka-geet/" target="_blank" rel="noopener noreferrer">مزید گیت</a> سننے کے لیے کلک کریں۔</p>
<audio class="wp-audio-shortcode" id="audio-25779-2" preload="none" style="width: 100%;" controls="controls"><source type="audio/mpeg" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/09/Wohi-Aable-Hain-Wohi-Jalan.mp3?_=2"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/09/Wohi-Aable-Hain-Wohi-Jalan.mp3">https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/09/Wohi-Aable-Hain-Wohi-Jalan.mp3</a></audio>
<p>وہی آبلے ہیں وہی جلن کوئی سوزِ دل میں کمی نہیں<br>
جولگا کے آگ گئے تھے تم وہ لگی ہوئی ہے بجھی نہیں</p>
<p>تیری یاد ایسی ہے باوفا پسِ مرگ بھی نہ ہوئی جدا<br>
تیری یاد میں ہم مٹ گئے تیری یاد دل سے مٹی نہیں</p>
<p>یہ غزل <a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/09/Wohi-Aable-Hain-Wohi-Jalan.mp3" target="_blank" rel="noopener noreferrer">ڈاون لوڈ</a> کرنے کے لیے کلک کیجیے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/wohi-able-hain-wohi-jalan/">آج کا گیت: وہی آبلے ہیں وہی جلن (شکیل بدایونی، شفقت سلامت علی خان)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/wohi-able-hain-wohi-jalan/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		<enclosure url="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/09/Wohi-Aable-Hain-Wohi-Jalan.mp3" length="15375497" type="audio/mpeg" />

			</item>
		<item>
		<title>ایک شہر کلیساؤں کا (تحریر: ڈونلڈ بارتھلم، ترجمہ: اسد فاطمی)</title>
		<link>https://laaltain.pk/ek-sheher-kalisaon-ka/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/ek-sheher-kalisaon-ka/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 19 Aug 2020 17:32:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[asad fatemi]]></category>
		<category><![CDATA[Donald Barthelme]]></category>
		<category><![CDATA[اسد فاطمی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ بارتھلم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25686</guid>

					<description><![CDATA[<p>گلی کے دونوں اطراف پر، کلیساؤں کے دروازے کھل رہے تھے۔ لوگوں کی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں باہر آ کر وہاں کھڑی ہو گئیں، گرجاگھروں کے سامنے، اور سسلیا اور فلپ صاحب کو تاکنے لگیں۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/ek-sheher-kalisaon-ka/">ایک شہر کلیساؤں کا (تحریر: ڈونلڈ بارتھلم، ترجمہ: اسد فاطمی)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>“جی ہاں،” مسٹر فلپس نے کہا “ہمارا شہر کلیساؤں کا شہر ہے، خوب۔”</p>
<p>سسلیا اس کے اشارہ کرتے ہاتھ کی جانب کچھ جھکی، وہ معمارانہ اسالیب کے ایک تنوع کے بیچ کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑے تھے۔ بیتھل کے بیت الاصطباغ کے ساتھ ہی مسیح اقدس کی آزاد بپتسمہ گاہ تھی، اور اس کے آگے سینٹ پال کا راہب خانہ، اس سے آگے گریس انجیلی کانوینانت واقع تھا۔ اس کے بعد فرسٹ کرسچن سائنس، کلیسائے خداوندی، آل سولز، خاتونِ فتح و ظفر، سوسائٹی آف فرینڈز، اسمبلی آف گاڈ اور پیغمبرانِ اقدس کا گرجاگھر آتے تھے۔ اس سے آگے آنے والی “معاصر” طراحیوں کی وسیع تخیلاتی پرواز نے روایتی عمارتوں کے بلدار مناروں اور لاٹھوں کے آگے بند باندھ رکھا تھا۔</p>
<p><iframe src="https://www.youtube.com/embed/kSl10Ai2oyU" width="560" height="315" frameborder="0" allowfullscreen="allowfullscreen"></iframe></p>
<p>“یہاں ہر کوئی کلیسائی معاملات میں نہایت دلچسپی رکھتا ہے۔” فلپ صاحب نے کہا۔</p>
<p>کیا میں اس کے ساتھ ڈھل پاؤں گی؟ سسلیا نے استفسار کیا۔ وہ کاریں کرایہ پر اٹھانے کے کام کا ایک شاخیہ دفتر کھولنے کے لیے پریسٹر میں آئی تھی۔</p>
<p>“میں کچھ خاص مذہبی نہیں ہوں،” اس نے فلپ صاحب سے کہا جس کا تعلق رہائشی اراضی کے دھندے سے تھا۔</p>
<p>“ابھی تو نہیں،” اس نے جواب دیا۔ “ابھی نہیں۔ لیکن ادھر ہمارے یہاں بڑے عمدہ نوجوان لوگ موجود ہیں۔ آپ کچھ وقت میں اس برادری میں رچ بس جائیں گی۔ فوری مسئلہ یہ ہے، آپ کہاں رہنے والی ہیں؟ زیادہ تر لوگ۔۔۔” اس نے کہا “اپنی مرضی کے کلیسا میں رہتے ہیں۔ ہمارے یہاں سبھی کلیساؤں میں بہت سے اضافی کمرے ہیں۔ میرے پاس آپ کو دکھانے کے لیے کچھ بلفری اپارتمان ہیں۔ آپ کے ذہن میں قیمتوں کی حد کیا ہے؟”</p>
<p>وہ ایک کونے کی طرف مڑے جہاں ان کے سامنے کچھ مزید گرجاگھر تھے۔ وہ حضرتِ لوقا کے کلیسا، کلیسائے تجلّی، آل سینٹس یوکرینی راسخین، حضرتِ اقلیمس کی فونٹین بپتسمہ گاہ، یونین جماعت خانہ، سینٹ انارغری، معبد امانویل، کرائسٹ ریفارمڈ کے کلیسائے اول کے سامنے سے گزرتے گئے۔ سبھی گرجاگھروں کے منہ چوپٹ کھلے تھے۔ اندر سے مدھم روشنیاں نظر آ رہی تھیں۔</p>
<p>“میں ایک سو دس تک کی متحمل ہو سکتی ہوں،” سسلیا نے کہا۔ “کیا آپ کے ہاں کوئی ایسی عمارتیں بھی ہیں جو گرجا گھر نہ ہوں؟”</p>
<p>“کوئی نہیں” فلپ صاحب نے کہا۔ “البتہ ایسا ضرور ہے کہ ہمارے کئی عمدہ ترین کلیسائی ڈھانچے کسی دیگر مقصد کے لیے دوہرے فرائض پیش کرتے ہیں۔” اس نے ایک دیدہ زیب جارجئین چھجے کی طرف اشارہ کیا۔ “اسے دیکھیے” اس نے کہا “یہ یونائیٹڈ منہاجیوں اور تعلیمی بورڈ کی رہائش گاہ ہے۔ اس سے آگے جو ہے، انطاکی پنتی‌خوستیہ ہے، اس میں حجامت کی دکان ہے۔”</p>
<p>اس نے ٹھیک کہا تھا۔ ایک سرخ و سفید پٹیوں والا حجامت کا کھمبا واضح طور پر انطاکی پنتی‌خوستیہ کے سامنے ایستادہ تھا۔</p>
<p>“کیا یہاں کافی لوگ کار کرائے پر لیتے ہیں؟” سسلیا نے پوچھا۔ “یا پھر، کیا ان کے پاس انہیں کرائے پہ لینے کے لیے کوئی مناسب جگہ ہے؟”</p>
<p>“او، مجھے کچھ معلوم نہیں۔” فلپ صاحب نے کہا۔ “کار کرائے پر لینے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کو کہیں جانا ہو۔ بیشتر لوگ یہاں کافی پرسکون و مطمئن ہیں۔ ہمارے ہاں کافی سرگرمیاں ہوتی رہتی ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ اگر میں پریسٹر میں کام کی شروعات کروں تو میں کاریں کرائے پر دینے کا دھندا چنوں گا۔ لیکن آپ کے لیے ٹھیک رہے گا۔” اس نے ایک چھوٹی سی، ازحد جدید عمارت دکھائی، جس کا رخ سخت کھردری اینٹوں، اسٹیل اور شیشے کا بنا تھا۔“یہ سینٹ برنابس ہے۔ کافی اچھے لوگ رہتے ہیں یہاں۔ سپاگٹی کا شاندار کھانا۔”</p>
<p>سسلیا کھڑکی سے متعدد لوگوں کے سر دیکھ سکتی تھی۔ لیکن جب انہیں لگا کہ وہ انہیں تاڑ رہی ہے، وہ سر غائب ہو گئے۔</p>
<p>“کیا آپ کو لگتا ہے کہ بہت سے کلیساؤں کا ایک جگہ اکٹھے واقع ہونا کوئی خوشگوار بات ہے؟” اس نے اپنے بدرقے سے پوچھا۔ “اس میں توازن تو نہیں لگتا، اگر آپ میری بات سمجھ پائیں۔”</p>
<p>“ہم اپنے کلیساؤں کی وجہ سے مشہور ہیں،” فلپ صاحب نے جواب دیا۔ “وہ بالکل بے ضرر ہیں۔ لیجیے ہم پہنچ گئے۔”</p>
<p>اس نے ایک دروازہ کھولا اور وہ گرد آلود سیڑھیوں کی منازل چڑھنے لگے۔ سیڑھیوں کے آخر پر وہ ایک معقول طور پر کشادہ، چوکور، چاروں طرف کھڑکی والے ایک کمرے تک پہنچ آئے۔ اس میں ایک پلنگ، ایک میز، دو کرسیاں، چراغ، اور ایک کمبل تھے۔ چار بہت ہی بڑی گھنٹیاں کمرے کے عین کے وسط میں لٹک رہی تھیں۔</p>
<p>“کیا ہی نظّارہ ہے!” فلپ صاحب پکار اٹھے۔ “ادھر آئیے اور دیکھیے۔” “کیا واقعی گھنٹیاں بجائی جاتی ہیں؟” سسلیا نے پوچھا۔</p>
<p>“دن میں تین بار،” فلپ صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ “صبح، دوپہر، اور رات۔ اور ظاہر ہے، جب انہیں بجایا جاتا ہے، آپ کو ذرا تیزی سے راستہ چھوڑ دینا ہوتا ہے۔ ان معصوموں میں سے کوئی ایک آپ کے سر میں جا لگے گا اور یہی کچھ بتایا گیا ہے۔”</p>
<p>“خدائے واحد،” سسلیا نے نہ چاہتے ہوئے کہا۔ پھر اس نے کہا، “ان بلفری اپارتمانوں میں کوئی نہیں رہتا۔ اسی لیے یہ خالی پڑے ہیں۔”</p>
<p>“کیا آپ کو ایسا لگتا ہے؟” فلپ صاحب نے کہا۔</p>
<p>“آپ انہیں صرف شہر میں نئے لوگوں کے ہاتھ کرائے پر اٹھا سکتے ہیں،” اس نے الزام دھرتے ہوئے پوچھا۔</p>
<p>“میں ایسا نہیں کروں گا” فلپ صاحب نے کہا۔ “یہ مسیحی مؤاخات کی روح کے خلاف جائے گا۔”</p>
<p>“یہ شہر کچھ اچھا بھی نہیں ہے، آپ کو پتہ ہے؟”</p>
<p>“ایسا ہو سکتا ہے، لیکن کہنے کو آپ کے لیے ایسا نہیں ہے، ہیں ناں؟ میرا مطلب ہے کہ، آپ یہاں نئی ہیں۔ آپ کو کچھ دیر، احتیاط سے چلنا چاہیے۔ اگر آپ ایک اوپری اپارتمان نہیں چاہتیں، میرے پاس مرکزی پریسبٹرین میں ایک زیریں منزل ہے۔ آپ کو وہاں کسی سے بانٹ کے رہنا پڑے گا۔ وہاں آج کل دو عورتیں رہتی ہیں۔”</p>
<p>“میں کسی سے بانٹ کے نہیں رہنا چاہتی،” سسلیا نے کہا۔ “مجھے اپنی جگہ چاہیے۔”</p>
<p>“کیوں؟” رہائشی اراضی والے بندے نے تجسس کے ساتھ پوچھا۔ “اس کی کیا وجہ ہے؟”</p>
<p>“وجہ؟” سسلیا نے پوچھا۔ “اس کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے۔ مجھے بس ایسا چاہیے۔”</p>
<p>“ایسا یہاں عام معمول میں نہیں ہوتا۔ یہاں زیادہ تر لوگ دوسرے لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ شوہر اور بیویاں۔ بیٹے اپنی ماؤں کے ساتھ۔ لوگوں کے ہم کمرہ ساتھی ہیں۔ یہی معمول کا قرینہ ہے۔”</p>
<p>“جو بھی ہو، مجھے اپنی جگہ چاہیے۔”</p>
<p>“یہ بالکل خلافِ معمول ہے۔”</p>
<p>“کیا آپ کے پاس ایسی کوئی جگہیں ہیں؟ میرا مطلب، گھڑیال والی لاٹھ کے علاوہ؟”</p>
<p>“میرے خیال سے کچھ تو ہیں،” فلپ صاحب نے واضح تذبذب کے ساتھ کہا۔ “میں آپ کو کوئی ایک یا دو دکھا سکتا ہوں، شاید۔”</p>
<p>وہ ایک لمحہ کے لیے رک گیا۔</p>
<p>“ایسا فقط اس لیے ہے کہ ہمارے پاس مختلف قیمتیں ہیں، شاید، کچھ آس پاس کی آبادیوں میں،” اس نے وضاحت کی۔ “ہم نے بہت کچھ لکھ رکھا ہے۔ ایک وقت میں سی‌بی‌ایس کی شام کی خبروں میں چار منٹ ہمارے پاس ہوتے تھے۔ تین چار سال پہلے۔ کلیساؤں کا شہر، اس کا نام تھا۔”</p>
<p>“جی ہاں، میرے لیے اپنی الگ جگہ ضروری ہے،” سسلیا نے کہا، “اگر مجھے یہاں زندہ رہنا ہے۔”</p>
<p>“یہ ایک طرح سے بڑا پر تفنن رویہ ہے،” فلپ صاحب نے کہا، “آپ کا تعلق لوگوں کی کس قبیل سے ہے؟”</p>
<p>سسلیا خاموش رہی۔ سچ تو یہ تھا، وہ کسی قبیل سے نہیں تھی۔</p>
<p>“میں نے کہا، آپ لوگوں کی کس قبیل سے ہیں؟” فلپ صاحب نے دوہرایا۔</p>
<p>“میں اپنے خوابوں کو ارادے کا رنگ دے سکتی ہوں،” سسلیا نے کہا۔ “میں جو چاہوں، خواب دیکھ سکتی ہوں۔ اگر میں چاہوں کہ میں پیرس، یا کسی دوسرے شہر میں اچھا وقت گزاروں، میں بس یہ کرتی ہوں کہ گہری نیند سو جاؤں اور اس خواب کو بُننے لگوں۔ میں جو چاہوں خواب دیکھ سکتی ہوں۔”</p>
<p>“تو پھر، آپ زیادہ تر کیا خواب دیکھتی ہیں؟” فلپ صاحب نے اس کی طرف قریب سے دیکھتے ہوئے کہا۔</p>
<p>“زیادہ تر جنسی چیزیں،” وہ بولی۔ وہ اس سے خوفزدہ نہیں تھی۔</p>
<p>“پریسٹر اس قسم کا شہر نہیں ہے،” فلپ صاحب نے دور کہیں دیکھتے ہوئے کہا۔</p>
<p>وہ سیڑھیوں سے واپس نیچے اتر گئے۔</p>
<p>گلی کے دونوں اطراف پر، کلیساؤں کے دروازے کھل رہے تھے۔ لوگوں کی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں باہر آ کر وہاں کھڑی ہو گئیں، گرجاگھروں کے سامنے، اور سسلیا اور فلپ صاحب کو تاکنے لگیں۔</p>
<p>ایک نوجوان آگے آیا اور پکارنے لگا، “اس شہر میں ہر شخص کے پاس اپنی کار ہے! اس شہر میں ایسا کوئی نہیں ہے جس کے پاس اپنی کار نہ ہو!”</p>
<p>“کیا یہ سچ ہے؟” سسلیا نے فلپ صاحب سے پوچھا۔</p>
<p>“جی ہاں،” اس نے کہا۔ “یہ درست ہے۔ یہاں کوئی کار کرائے پر نہیں لے گا۔ اگلے سو سالوں تک بھی نہیں۔”</p>
<p>“پھر تو میں یہاں نہیں ٹھہروں گی،” وہ بولی۔ “میں کہیں اور چلی جاتی ہوں۔”</p>
<p>“آپ کو رہ جانا چاہیے،” وہ بولا۔ “یہاں آپ کے لیے پہلے ہی ایک کار کرائے پہ دینے والا دفتر موجود ہے۔ ماؤنٹ موریا بپتسمہ گاہ میں، لابی والی منزل پر۔ وہاں ایک کاؤنٹر اور ایک ٹیلیفون ہے اور کار کی چابیوں کا ایک آویختہ ہے۔ اور ایک کیلنڈر ہے۔”</p>
<p>“میں نہیں رہوں گی،” وہ بولی۔ “اگر یہاں رہنے کے لیے کام دھندے کی کوئی معقول وجہ نہ ہو۔”</p>
<p>“ہمیں آپ کی ضرورت ہے،” فلپ صاحب نے کہا۔ “ہم کام کے باقاعدہ اوقات میں، کار کرائے پر دینے والی ایجنسی کے کاؤنٹر کے پیچھے آپ کو کھڑے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس سے شہر مکمل سا ہو جائے گا۔”</p>
<p>“میں ایسا نہیں کرنے والی۔” وہ بولی “میں تو نہیں۔”</p>
<p>“آپ کو ایسا کرنا چاہیے۔ یہ ضروری ہے۔”</p>
<p>“میں ان چیزوں کا خواب دیکھوں گی،” وہ بولی۔ “جو آپ کو پسند نہیں آئیں گی۔”</p>
<p>“ہم نامطمئن ہیں،” فلپ صاحب نے کہا۔ “بہت گھمبیر حد تک غیر مطمئن۔ کچھ ایسا ہے جو ٹھیک نہیں ہے۔”<br>
“میں ایک راز کا خواب دیکھوں گی،” اس نے کہا۔ “جو آپ کو اس سے خوش نہیں ہوں گے۔”</p>
<p>“ہم دوسرے شہروں کی طرح ہی ہیں، ماسوائے اس کے کہ ہم کامل ہیں،” وہ بولا۔ “صرف کاملیت ہی ہمارے عدم اطمینان کو جواب دہ بناتی ہے۔ ہمیں کاریں کرائے پر اٹھانے والی ایک لڑکی درکار ہے۔ اس کاؤنٹر کے پیچھے کسی نہ کسی کو کھڑا ہونا چاہیے۔”</p>
<p>“میں اس زندگی کا خواب دیکھوں گی جس سے آپ سب سے زیادہ ڈرتے ہیں،” سسلیا نے اسے دھمکایا۔ “آپ اب ہماری ہیں،” وہ اس کا بازو پکڑتے ہوئے بولا۔ “ہماری کار کرائے پر اٹھانے والی لڑکی۔ خوش مزاجی سے کام لیں۔ یہاں آپ کو کچھ نہیں کرنا پڑے گا۔”</p>
<p>“دیکھیے اور انتظار کریں،” سسلیا بولی۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/ek-sheher-kalisaon-ka/">ایک شہر کلیساؤں کا (تحریر: ڈونلڈ بارتھلم، ترجمہ: اسد فاطمی)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/ek-sheher-kalisaon-ka/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آج کا گیت: فقیرانہ آئے صدا کر چلے (میر تقی میر، عزیر احمد خان وارثی قوال اور ہمنوا)</title>
		<link>https://laaltain.pk/faqeerana-ay-sada-kr-chalay-aziz-ahmed-khan-warsi/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/faqeerana-ay-sada-kr-chalay-aziz-ahmed-khan-warsi/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 19 Aug 2020 08:10:21 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[عکس و صدا]]></category>
		<category><![CDATA[aaj ka geet]]></category>
		<category><![CDATA[Aziz Ahmed Khan Warsi]]></category>
		<category><![CDATA[Mir taqi mir]]></category>
		<category><![CDATA[Qawwali]]></category>
		<category><![CDATA[آج کا گیت]]></category>
		<category><![CDATA[عزیز احمد خان وارثی]]></category>
		<category><![CDATA[قوالی]]></category>
		<category><![CDATA[میر تقی میر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25674</guid>

					<description><![CDATA[<p>فقیرانہ آئے صدا کر چلے</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/faqeerana-ay-sada-kr-chalay-aziz-ahmed-khan-warsi/">آج کا گیت: فقیرانہ آئے صدا کر چلے (میر تقی میر، عزیر احمد خان وارثی قوال اور ہمنوا)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>کلام: میر تقی میر<br>
قوال: اُستاد عزیز احمد خاں وارثی و ہم نوا</p>
<audio class="wp-audio-shortcode" id="audio-25674-3" preload="none" style="width: 100%;" controls="controls"><source type="audio/mpeg" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/فقیرانہ-آئے-صدا-کر-چلے.mp3?_=3"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/فقیرانہ-آئے-صدا-کر-چلے.mp3">https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/فقیرانہ-آئے-صدا-کر-چلے.mp3</a></audio>
<p>فقیرانہ آئے صدا کر چلے<br>
کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے</p>
<p>جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم<br>
سو اس عہد کو اب وفا کر چلے</p>
<p>جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئی<br>
حق بندگی ہم ادا کر چلے</p>
<p>پرستش کی یاں تک کہ اے بت تجھے<br>
نظر میں سبھوں کی خدا کر چلے</p>
<p>کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میرؔ<br>
جہاں میں تم آئے تھے کیا کر چلے</p>
<p>یہ قوالی <a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/فقیرانہ-آئے-صدا-کر-چلے.mp3" target="_blank" rel="noopener noreferrer">ڈاون لوڈ</a> کرنے کے لیے کلک کریں۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/faqeerana-ay-sada-kr-chalay-aziz-ahmed-khan-warsi/">آج کا گیت: فقیرانہ آئے صدا کر چلے (میر تقی میر، عزیر احمد خان وارثی قوال اور ہمنوا)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/faqeerana-ay-sada-kr-chalay-aziz-ahmed-khan-warsi/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		<enclosure url="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/فقیرانہ-آئے-صدا-کر-چلے.mp3" length="9908604" type="audio/mpeg" />

			</item>
	</channel>
</rss>
