Categories
شاعری

چھنال

محمد شہزاد: شہرِ عفت کی سب ہی شہزادیاں
اک چھنال سے پریشان

شہرِ عفت کی سب ہی شہزادیاں
اک چھنال سے پریشان
بلا کی حسین اور ذہین
جس کی ملکیت
ایک خوبصورت جسم اور روح
دل اور دماغ
شہزادیوں کے دامن میں
صرف خاندان اور نام
ان کے شہزادے
ان ہی سے بیزار
اسی چھنال کے آگے پیچھے
صبح و شام
خوارو ناکام
پھر وہ پوچھیں مجھ سے
اس کی کوئی چھوٹی بہن بھی ہے کیا۔۔۔
میں کہوں ہاں!
شہر کی سب ہی شہزادیاں
جن کی خواب گاہیں
شریف زادوں کے نام
جبکہ یہ چھنال
اپنے بستر پر تنہا
اس گیت کی آغوش میں
پھر وہی شام وہی غم وہی تنہائی ہے
دل کو سمجھانے تیری یاد چلی آئی ہے
Image: Waseem Ahmed

By محمد شہزاد

محمد شہزاد اسلام آباد میں مقیم انگریزی اور اردو کے لکھاری ہیں۔ دونوں زبانوں میں نثری شاعری بھی لکھتے ہیں۔ کلاسیکل موسیقی میں طبلے اور گانے کے طالب علم ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *