میں صبح وردی پہن کر باہر نکلا تو دیکھا کہ اسمبلی گراونڈ میں چھے بنگالی درختوں سے بندھے کھڑے تھے اور کوت نائیک صاحب ان سے برآمد ہونے والے اسلحے کا معائنہ کررہے تھے۔ سنتریوں نے ہر طرف سے ان بنگالیوں پر رائفلیں تان رکھی تھیں۔ان میں دو کم سن لڑکے بھی تھے جو سکول کی وردی میں تھے۔میں نے انہیں شدید نفرت سے دیکھا کیونکہ اسی لمحے میری آنکھوں کے سامنے پُنّوں کا چہرہ گھوم گیا جس کو دونوں مُلکوں کی باہمی دُشمنی کا کچھ پتہ تھا نہ وہ مجیب، یحیی، اندرا یا پچھلے انتخابات کے بارے میں کچھ جانتا تھا۔میرا دل غم اور غصے کے ملے جلے تاثرات سے بھر گیا اور میں بھاگ کر دُرّانی صاحب کے دفتر میں آگیا۔ہم دونوں دیر تک چُپ بیٹھے رہے۔کپتان صاحب نے وائرلیس پر برگیڈ کےکسی افسر سے چند انگریزی مکالمے کئے، میں نے ان کی میز،کُرسی ،وائرلیس اور دیگر سامان کی جھاڑ پونچھ کردی۔پھر کافی دیر بعد دُرّانی صاحب اُٹھ کر باہر چلے گئے۔پھر ایک دم رائفل جی ۔تھری کا فائر چلنے کی فلک شگاف آواز آئی، شور اُٹھا تو میں نے باہر جھانک کر دیکھا۔کیپٹن دُرّانی صاحب نے ایک باغی کو گولی مار دی تھی۔میں اب اس قتل و غارت سے عاجز آچکا تھا، میں نے کھڑکی بند کرکے آنکھیں بھینچ لیں۔ پھر یکے بعددیگرے برسٹ چلنے کی آوازیں آئیں اور بنگالی زبان کی تمام چیخ پکار بند ہوگئی۔ کچھ دیر کے بعد کیپٹن دُرّانی دوڑتے ہوئے اندر آئے،رائفل جی ۔تھری ایک طرف رکھی،اندر سے دروازے کی چٹخنی چڑھائی اور کُرسی پر بیٹھ کر سسکیاں لے کر رونے لگے۔وہ اپنی آواز دبا رہے تھے۔میں یہ منظر دیکھ کر مات و مبہوت رہ گیا۔ "تنویر، یہ سب بکواس ہے،یار انہیں ہم سے الگ ہو جانا چاہیئے، لیکن میں اس زمین کے بونگلادیش بننے سے پہلے مرجانا چاہتا ہوں۔میں مشرقی پاکستان میں مرنا چاہتا ہوں” وہ عجیب باتیں کیے جارہے تھے،سسکیاں لیے جارہے تھے اور میں انہیں دلاسہ دیے جارہا تھا۔

ڈائری کے گزشتہ دن


Leave a Reply