<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Urdu literature Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/urdu-literature/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/urdu-literature/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Sat, 01 Jun 2024 03:39:44 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>Urdu literature Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/urdu-literature/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>آوازوں والا کردار (چوتھا حصہ) — تالیف حیدر</title>
		<link>https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-4/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-4/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[تالیف حیدر]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 17 Apr 2020 15:04:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Taleef Haider]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu literature]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[تالیف حیدر]]></category>
		<category><![CDATA[طویل کہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24965</guid>

					<description><![CDATA[<p>تالیف حیدر: وہ خاص کر کسی ایک لڑکی کا پیچھا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اسے تو صرف مختلف خوشبووں کا تعاقب کرنا تھا، جس سے اسے مسرت ملتی تھی۔ </p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-4/">آوازوں والا کردار (چوتھا حصہ) — تالیف حیدر</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><strong>اس طویل کہانی کی <a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/awazon-wala-kirdar/">مزید اقساط</a> پڑھنے کے لیے کلک کریں۔ </strong></p>
<p>آج سرخ قمیض اور نیلی جینز والی لڑکی نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا اور اس کا راستہ روک کر کھڑی ہوگئی۔ اس کی آنکھوں میں خوف اتر آیا۔اس لڑکی کے چہرے پر غصے کی لہر صاف دیکھی جا سکتی تھی۔ اس کی ساتھی نے جب لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر آہستہ سے کان میں کہا۔ ” رہنے دو۔” تو لڑکی نے اپنی ساتھی کا ہاتھ جھٹک دیا۔</p>
<p>” کیوں رہنے دوں۔ انہیں بھی تو معلوم ہو کہ ہم پندرہ دنوں سے یہ تماشا دیکھ رہے ہیں۔ آخر کسی بات کی کوئی حد بھی ہوتی ہے۔”</p>
<p>اس کی ساتھی ذرا سہمی ہوئی تھی۔ مگر لڑکی کے انداز سے لگ رہا تھا کہ اسے کسی کا خوف نہیں ہے۔ اس نے لڑکے کی طرف غور سے دیکھا۔ وہ ایک صاف ستھراسفید رنگ کا شارٹ کرتا اور کالی پتلون پہنے ہوا تھا۔ اس کے بال گھنگریالے تھے اور رنگت سانولے پن سے ذرا زیادہ سیاہی مائل۔ لڑکے کے حلیے سے لگ رہا تھا جیسے وہ ابھی شاور لے کر آیا ہے۔</p>
<p>“کیوں بھئی آپ ہمارا پیچھا کیوں کر رہے ہیں۔ میں پچھلے پندہ روز سے دیکھ رہی ہوں کہ آپ روز ہمارے پیچھے پیچھے نئی سٹرک کے چوراہے تک آتے ہیں۔”<br>
اس نے محسوس کیا کے لڑکی کی آنکھوں اور لہجے میں غصہ ضرور ہے، مگر اس کے بولنے کا انداز بہت شگفتہ ہے۔ وہ جب پلٹی تھی تو اسے لگا تھا کہ آج تو شامت آ گئی۔ مگر اب جب کہ لڑکی اس سے اس کی حرکت کی شکایت کر رہی ہے تو اس کا خوف کچھ کم ہونے لگا تھا۔</p>
<p>“ہو سکتا ہے یہ ہمارا وہم ہو۔”</p>
<p>لڑکی کی ساتھی نے اس کا ہاتھ دباتے ہوئے اس کو چلنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔</p>
<p>“وہم! تمہارا داماغ تو ٹھکانے پر ہے۔ یہ مسٹر پچھلے پندرہ دنوں سے ہمارا پیچھا کر رہے ہیں اور تم کہتی ہو کہ یہ میرا وہم ہے۔ ”</p>
<p>لڑکی نے پھر سفید شارٹ کرتے والے لڑکے کی جانب دیکھا۔ “کیا آپ گونگے ہیں، میں آپ سے کچھ پوچھ ہی ہوں۔سنائی نہیں دیتا۔”</p>
<p>اس بات پر اسے ہنسی آ گئی۔ اس نے سوچا کہ یہ لڑکی شاید اتنے بھی غصے میں نہیں ہے جتنا میں اسے سمجھ رہا ہوں۔</p>
<p>لڑکی اور اس کی ساتھی نے جب اسے ہنستے ہوئے دیکھا تو حیرانی سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگیں۔ اس بار لڑکی کی ساتھی نے۔ تیزی سے اپنی دوست کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور یہ کہتے ہوئے نئی سٹرک کے چوراہے کی طرف بڑھنے لگی “ہو سکتا ہے کہ اس کا دماغ خراب ہو تم کیوں بلا وجہ کسی کے بھی منہ لگتی ہو۔ اگر پیچھا بھی کر رہا ہے تو کرنےدو کون سا ہمیں کھا لے گا۔ “لڑکی اس دوران اپنا ہاتھ چھڑا نے کی کوشش کرتی رہی۔ وہ پلٹ پلٹ کر اس لڑکے کی جانب بھی دیکھے جا رہی تھی جو ابھی تک اسی جگہ مبہوت انداز میں کھڑا تھا۔</p>
<p>وہ کافی دیر تک اسی جگہ کھڑا جاتی ہوئی لڑکی اور اس کی ساتھی کو گھورتا رہا۔ اسے اپنی بد اخلاقی کا بھی احساس ہو رہا تھا کہ اس نے لڑکی کی کسی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور یہ بھی کہ اس طرح کسی لڑکی کے پیچھے روز لپکناک ون سی اچھی بات ہے۔ حالاں کہ اسے آخری درجے تک یقین تھا کہ وہ دونوں لڑکیاں اس بات سے نا واقف ہیں کہ وہ ان کے پیچھے پیچھے حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ سے نئی سڑک کے چوراہے تک آتا ہے۔ لیکن اب جبکہ وہ یہ جان گیا تھا اسے ندامت کا احساس ہو رہا تھا۔ وہ خاص کر کسی ایک لڑکی کا پیچھا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اسے تو صرف مختلف خوشبووں کا تعاقب کرنا تھا، جس سے اسے مسرت ملتی تھی۔ مگر ہوا یہ تھا کہ جس روز اس نے اپنی سینٹ کی شیشی کھولی اور اس کی خوشبو اپنے بدن پہ لگائی اسی روز وہ لڑکیاں ایک ایسی خوشبو لگا کر حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ پر آئی تھیں جن خوسے اس کے سینٹ کی خوشبو مل کر ایک بالکل ہی انوکھی مہک پیدا کر رہی تھی۔ جس سے اسے ایسا سرور ملتا کہ وہ دوبارہ گھر پہنچ کر بھی اسی سرور میں کھویا رہتا۔ اس نے شائد گزشتہ پندرہ روز میں ایک دن بھی ٹھیک سے نہیں دیکھا ہوگا کہ اس کے خد و خال کیسے ہیں یا وہ کن رنگوں کے کپڑے پہن کر آتی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس نے ان لڑکیوں کے سامنے اپنی زبان نہیں کھولی۔ آخر وہ بولتا بھی تو کیا۔ اسے یہ بات سمجھا پانا بھی مشکل معلوم ہوئی تھی کہ وہ ان کا نہیں بلکہ ان کے اندر سے اٹھنے والی ایک خاص مہک کا پیچھا کر تا ہے۔ نئی سڑک پہ جب وہ لڑکیاں مڑ جاتیں تو وہ وہیں سواری لے کر اپنے گھر لوٹ آتا۔ اسے روز کے اسی روپے مل رہے تھے۔ اس لیے صبح سے شام تک اپنا کام کرنے کے بعد ایک نئی اور دلچسپ مصروفیت اس کے ہاتھ آ گئی تھی۔ پہلے تو چند روز تک وہ انہی پرانے کپڑوں میں حکومتی عمارتوں کے فٹ پاتھ تک جاتا تھا۔ پھر اس نےخود کو مزید سنوارنے کا عزم کیا اور ایک دن جب اس کی کارخانے کی چھٹی تھی وہ اپنے علاقے کے اختتام پر واقع بازار تک گیا اور اپنے لیے تین نئے شارٹ کرتے اور تین جینز خرید لایا۔ ان کرتوں کا آئیڈیا اسے اپنے مالک سے ملا تھا۔ ان دنوں وہ اسی طرح کے کرتے پہن کر کار خانے میں آیا کرتا تھا۔ وہ سلیقے سے اپنے تینوں جوڑ نئے کپڑوں کو اپنے بکس میں ایک سفید پنی میں رکھتا اور شام کو کا ر خانے سے لوٹنے کے بعد نہا دھو کر ان میں سےکسی ایک کو پہنتا اور حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ کے طرف روانہ ہو جاتا۔ واپسی پر اسی سلیقے سے انہیں تہہ کر کے پنی میں لپیٹ کر دوبارہ اپنے صدوق میں رکھ دیتا۔</p>
<p>دو ماہ سے یہ اس کا روز کا معمول تھا۔ مگر آج جب وہ لوٹا تو اس نے فیصلہ کیا کہ وہ کل سے ان فٹ پاتھوں کی طرف ہر گز نہیں جائے گا۔ اسے کسی انجان لڑکی کے پیچھے اس طرح سے ٹہلتے پھرنا ٹھیک نہیں لگا۔ اب اسے یقین تھا کہ اگر وہ دوبارہ ان لڑکیوں کے پیچھا گیا تو وہ سخت قدم اٹھائیں گی اور وہ اس شرمندگی کے لیے تیار نہ تھا۔ اس نے سوچا کہ ادھر جانا ترک کردینا ہی بہتر ہے۔ مگر آج اسے ایک اور نیا احساس نصیب ہوا تھا۔ اس نے کسی خوبصورت لڑکی کواتنی نازک آواز میں خود سےکبھی مخاطب ہوتے نہ سنا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر وہ غصے میں اتنے آہستہ لہجے میں بات کر ر ہی تھی تو اس کا محبت بھرا لہجہ کیسا ہو گا۔ اس خیال سے اس کے ہونٹوں پہ دوبارہ ہنسی بکھر گئی۔ پل بھر کے لیے اسے محسوس ہوا کہ اس لڑکی نے اپنی خفگی کا اظہار کر کے اس کے اندر کچھ بدل دیا ہے۔ مگر وہ بدلی ہوئی چیز کیا تھی ابھی وہ خود شناخت نہیں کر پا رہا تھا۔ اس کے چہرے کے آثار رہ رہ کر اس کے دماغ میں روشن ہوتے۔ گوراچہرہ، بڑی بڑی آنکھیں، پتلے پتلے ہونٹ، کھلی گردن اور بھرا بھرا سینہ جو اس قمیض سے باہر کی طرف کھنچا چلا آ رہا تھا۔ اسے لڑکی کا حلیہ اوپر سے نیچے تک رٹ گیا تھا اور جب وہ اس کے ہلتے ہوئے ہونٹ اور چلتی ہوئی سانسوں کو تصور کرتا جو خفگی کے باعث نمایاں ہو رہی تھیں تو ایک دم ہڑ بڑا جاتا۔</p>
<p><strong>(8)</strong></p>
<p>آج صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو تھکا ہوا پایا۔ بدن اس سے اصرار کر رہا تھا کہ وہ کچھ دیر اسی طرح آنکھیں میچے پڑا رہے، کل کی رات اس پہ نہ جانے کیسی گزری تھی۔ اس نے خود سے الجھنا ٹھیک نہیں سمجھا اور چادر منہ تک اوڑھ کر سو گیا۔ دوبارہ جب اس کی آنکھ کھلی تو محسوس ہوا کہ سورج سر پہ آ چکا ہے۔ آج وہ کارخانے نہیں گیا تھا۔ صبح آنکھیں موندتے وقت اسے اس بات کا احساس تھا کہ اگر وہ دوبارہ سو گیا تو اٹھ نہیں پائے گا۔ اس نے آنکھیں کھول کر چاروں طرف دیکھا۔ اب اس کی طبیعت میں وہ بوجھل پن نہ تھا جو وہ صبح میں محسوس کر رہا تھا۔ اس نے بستر سے اٹھ کر کھڑ کی سے منہ باہر نکالا تو سورج کی شعاعوں سے اس کی آنکھیں چوندھیا گئیں۔ کل شام کا منظر پھر اس کے ذہن میں تازہ ہونے لگا اور لڑکی کی شکل ذہن میں صاف ہوتے ہی اس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ دوڑ گئی۔ نہ جانے کیوں اس نے خوشی کے عالم میں سوچا کہ آج ٹیلے کی طرف چلا جائے۔ حالاں کہ وہ یہ فیصلہ کر چکا تھا کہ اب ٹیلے کی طرف کبھی نہ جائے گا۔ اس نے جلدی جلدی منہ دھویا۔ کھونٹی پہ ٹنگے کل شام والے کپڑے پہنے اور ٹیلے کی طرف نکل گیا۔ راستے میں ایک چائے خانے پہ رک کر اس نے چائے پی اور تھوڑا بہت ناشتہ کیا۔ ایک پان کے کھوکھے سے کچھ سگریٹیں خریدیں اور ٹیلے کی طرف چل دیا۔ راستے میں اسے احساس ہوا کہ آج اس طرف وردی والے کچھ زیادہ ہی نظر آ رہے تھے۔ اس نے کبھی اتنے وردی والوں کو اس علاقے میں گھومتے نہ دیکھا تھا۔ اسے کسی وردی والے نے روکا تو نہیں، مگر اس کی چھٹی حس اسے احساس دلا رہی تھی کہ ماحول کچھ بدلا بدلا سا ہے۔ وہ ٹیلے پہ پہنچا تو ٹیلا دھوپ کی تپش سے جل رہا تھا۔ ہر وہ چیز جس میں سے بد بو آرہی تھی وہ مزید بدبو دار محسوس ہو رہی تھی۔ وہ سیدھا زمین کے اس بنجر ٹکڑے کی طرف گیا جہاں سے سامنے کی شاہراہ صاف دکھائی دیتی تھی۔ وہاں بیٹھ کر اس نے سگریٹ جلا یا اور روڈ کی طرف دیکھ کر رات والی لڑکی کے خدو خال کے متعلق سوچنے لگا۔ کیا اگر میں اس سے دوبارہ جا کر ملوں تو وہ مجھے مارنے لگے گی ؟ اچانک اس سے ملنے کی خواہش کہیں اند ر ہی اندر سر ابھارنے لگی۔ لیکن وہ تو اسے جانتی تک نہیں ہے اور پھر اس کے لہجے میں لاکھ نرمی سہی، تھی تو وہ غصے میں ہی۔اسے یہ بات پسند نہ آئی تھی کہ وہ گزشتہ کئی دنوں سے اس کا پیچھا کر رہا تھا۔ لیکن وہ اس کا پیچھا کر ہی کہاں رہا تھا؟ وہ اس خاص خوشبو کے پیچھے تھا جس کی کشش اب اس کے خدو خال کے سامنے ماند پڑ گئی تھی۔ اگر اسی کا پیچھا کرنا ہے تو وہ اب کرے گا۔</p>
<p>وہ یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ ایک جوان عورت ہاتھ میں پلاسٹک کا لوٹا لیے دور سے آتی دکھائی دی۔ وہ جانتا تھا کہ ٹیلے کے قریب کے جھونپڑوں میں رہنے والے مرد، عورت اور بچے ٹیلے پہ رفع حاجت کے لیے آیا کرتے تھے۔ لیکن اس نے اس بات پہ کبھی غور نہیں کیا تھا کہ اس کی موجودگی میں کتنے مرد، عورتیں یا بچے ٹیلے کی بدبووں میں اضافہ کر رہے ہیں۔اس نے دیکھا کہ وہ عورت اس سے خاصے فاصلے پہ لوٹا لے کر بیٹھ گئی ہے۔ عورت کی پیٹھ اس کی طرف تھی۔ جس سے وہ اس کے کولہے اور اس سے نکلتا ہوا مل دیکھ سکتا تھا۔ وہ حالیہ دنوں جن خوشبووں کا عادی تھا اس کے پیش نظر اس عمل سے اس کا گھنا جانا لازمی تھا، مگر ایسا ہوا نہیں، نہ جانے کیوں اس کی نگاہ عورت کے پٹھے سے نکلنے والے مل کے بجائے اس کے کولہوں کی گولائی پہ جمی ہوئی تھی۔ اسے یہ منظر بہت لبھا رہا تھا۔ وہ تھوڑی دیر کولہوں کو دیکھتا رہا، پھر اپنی نگاہیں وہاں سے ہٹا کر شاہراہ کی جانب کر لیں۔سگریٹ کے دو تین کش لیے اور پھر کولہوں کی گولائی پہ نظریں جما دیں۔ اسے لگ رہا تھا جیسے یہ عورت اس بھری دوپہری میں صرف اسی لیے ٹیلے پہ ہگنے آئی ہے تاکہ اسے اپنے کولہے دکھا سکے۔ جب تک عورت بیٹھی رہی وہ اس کے کولہوں سے لطف اندوز ہوتا رہا اور عورت اس سے بے خبر اپنے عمل میں لگی رہی۔ پھر اس نے اپنے کولہوں پہ پانی ڈالا اپنے بائیں ہاتھ سے کولہوں کے بیچ کی گندگی صاف کی اور لوٹا اٹھا کر ادھر ادھر دیکھے بنا ٹیلے سے رخصت ہو گئی۔</p>
<p>وہ اب سے پہلے کبھی اس احساس سے دوچار نہیں ہوا تھا۔ ننگی عورتوں کے دیکھنے کا شوق تو کجا اسے لڑکیوں میں ہی کچھ خاص دلچسپی نہیں تھی، حالاں کہ اس کے بہت سے ساتھیوں نے بچپن سے اسے کئی بار ننگی عورتوں کی تصویریں اور پورن فلمیں دکھائی تھیں، لیکن وہ انہیں دلچسپی سے نہیں دیکھتا تھا۔اسے اس عمل سے ایک انجانی گھن کا احسا س ہوتا تھا۔ مگر کل شام کے واقعے سے اس کے اندر ایک بڑی تبدیلی پیدا ہوئی تھی۔ اس نے جب دوبارہ کل والی لڑکی کے خدو خال یاد کیے تو اس بار اس عورت کے کولہے بھی اس کے ذہن میں گردش کرنے لگے جن کی گولائیوں سے وہ محظوظ ہو رہا تھا۔ کچھ دیر بعد جب بدبو کی شدت بڑھنے لگی تو وہ وہاں سے اٹھ گیا۔ علاقے کی طرف لوٹا تو پھر اسے وردی والوں کی سر گرمیوں پر شبہ ہوا۔ وہ بڑ ھ رہے تھے ایسے جیسے وہ شہر کو اپنی گرفت میں لینا چاہتے ہوں۔ اس نے چائے خانے کے قریب سگریٹ کے کھوکے سے دو سگرٹیں اور خریدیں اور انہیں جیب میں ڈال کر اپنے گھر کی طرف بڑھ گیا۔<br>
آج شام تک وہ گھر کے اندر ہی رہا مختلف لڑکیوں اور عورتوں کے متعلق طرح طرح کی باتیں اس کے ذہن میں گردش کر رہی تھیں۔ کسی کسی صبح وہ جس دودھ والی دکان پہ بیٹھی موٹی لڑکی سے دودھ خریدا کرتا تھا یا کار خانے کے برابر میں رنگائی کی دکانوں پہ جو لڑکیاں اس کی نگاہوں سے روز گزرتی تھیں۔ اس نے سوچا کے وہ ان ساری لڑکیوں کو نہ جانے کتنی مرتبہ دیکھ چکا تھا، مگر آج ان کے متعلق سوچ کر جانے کیوں اسے لطف مل رہا تھا۔ اسی دوران اسے یاد آیا کہ جب وہ پچھلی مرتبہ کسی کام سے شہر کے باہر گیا تھا تو ایک بس اڈے پہ اسے ہتھا کھینچتی ہوئی ایک جوان اور خوبصورت لڑکی دکھی تھی۔وہ اپنے اطراف کے لیے ایک عجوبہ بنی ہوئی تھی جسے اس کے ارد گرد بیٹھے ہوئے سارے مرد گھور گھور کر دیکھ رہے تھے۔ جب اس نے اس لڑ کی کی ان دو بڑی بڑی چھاتیوں پہ نظر ڈالی تھی جو اس کے ہتھا چلانے کی وجہ سے رہ رہ کر ابھر رہی تھیں تو اسے عجیب سا محسوس ہوا تھا۔ اس نے ایک بھر پور نظر ڈالی تو اسے اس کی دونوں چھاتیوں کی ہری ہری رگیں جو دانوں کے مقام پر زور پڑنے کی وجہ سے ابھر رہی تھیں صاف نظر آئی تھیں۔ مگر وہ ان چھاتیوں کو ویسی للچائی ہوئی نگاہوں سے نہیں دیکھ رہا تھا جس طرح اس کے اطراف کے نوجوان لڑکے اور مرد دیکھ رہے تھے۔ ان کی شکلوں سے محسوس ہوتا تھا کہ اگر یہ چھاتیاں انہیں ایک لمحے کے لیے بھی مل جائیں تو وہ انہیں اتنی زور سے دبائیں کہ ان چھاتیوں میں موجود دیدار کی لذت ان کے بدن میں سرایت کر جائے۔ اس نے یہ سوچ کر آنکھیں میچ لیں۔ اس کے بدن میں ایک لہر سی دوڑ رہی تھی اس کا ہاتھ دھیرے دھیر اپنی پتلون کے اندر کھسک گیا۔ اچانک اس کا ہاتھ تیزی سے چلنے لگا۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ دونوں چھاتیاں کہیں خلا سے نمادار ہو کر اس کے ہاتھوں میں آ جائیں اوروہ انہیں مسل کر اپنی انجان اور دبی ہوئی خواہش کو پورا کر لے۔</p>
<p><strong>(9)</strong></p>
<p>وردی والے ہزاروں کی تعداد میں ٹیلے کے اطراف جمع تھے۔لوگوں کی چیخ پکار کی آوازیں پورے جنوبی شہر میں گونج رہی تھے۔ آسمان پہ کالے دھوئیں کے بادل بڑھتے جارہے تھے۔ ودری والوں نے ٹیلے کے آس پاس کی تمام جھونپڑوں میں اور ٹیلے کے کچرے میں آگ لگا دی تھی۔ اس کا حکم اس ملک کی انتظامیہ کی طرف سے آیا تھا جس کا قرض اس شہر پہ چڑھتا چلا جا رہا تھا۔ شہر کے جنوبی علاقے کو ایک عرصے سے نظر میں رکھا جا رہا تھا۔ یہاں نشے کا کاروبار زوروں پہ تھا اور عورتوں اور بچوں کی کالا بازاری بھی ہوتی تھی۔ مگر آگ لگانے کا فیصلہ ان وجوہات کی بنا پر نہیں لیا گیا تھا۔ یہ پورے شہر میں مذہبی جھگڑے بڑھانے کی شروعات تھی۔راتوں رات پورے شہر میں وردی والے چار گنا ہو گئے تھے۔ جنوبی علاقے میں آگ لگا کر یہاں کے وردی والوں نے ہزاروں کی تعداد میں مزدور اور غریب شہریوں کو بے گھر کر دیا تھا۔ ان کو اطلاع دی جا رہی تھی کہ اس کا آڈر سیدھا ان کے ملکوں سے آیا ہے۔ جنوبی علاقے کے عوام پریشان تو تھے مگر ان میں غصے کی شدید لہر دوڑ رہی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ جن ملکوں کے حکم پہ ان کے گھروں کو جلایا گیا وہاں کے عقیدت مندوں کے گھروں اور دکانوں کو بھی اسی طرح جلا کر راکھ کر دیا جائے۔ ایک طرف وردی والے لاٹھیاں اور بندوقیں لیے عوام کے ریلے کو دھیرے دھیرے ٹیلے سے شہر کی طرف دھکیل رہے تھے اور باری باری بستی کے چھونپڑوں پہ بلڈوزر چلا کر ان میں آگ لگا رہے تھے۔ دوسری طرف نوجوان لڑکے اور بستی کے غصے سے بھرے مرد یہ منصوبہ تیار کر رہے تھے کہ کسی طرح ان وردی والوں کی بندوقیں چھین کر اس تماشے کو روکنے کی کوشش کی جائے۔ عورتوں کی چیخ پکار تھمنے کا نام نہ لیتی تھی۔ بچے بلک بلک کر رو رہے تھے۔ ایک لڑکا جو ان مردوں اور نوجوانوں کی باتیں کا فی دیر سے سن رہا تھا اس نے دانت پیس کے ایک وردی والے کو گالی دی اور ایک پتھر اس پہ کھینچ مارا۔پتھر وردی والے کے جبڑے پہ لگا جس سےاس کی آنکھوں میں تارے ناچ گئے۔ اس کے منہ سے بھل بھل خون بہنے لگا۔ وہ اس صورت حال کی امید نہیں کر رہا تھا، لہذا اس نے اپنا ہیلمٹ اتار کرہاتھوں میں تھاما ہوا تھا۔ جوں ہی اسے ہوش آیا اس نے فوراً اپنا ہیلمٹ پہنا۔ اسی دوران اس کے اطراف کے وردی والے بھی سنبھل گئے۔ جس لڑکے نے پتھر پھینکا تھا۔ تین، چار وردی والے اس کی جانب ڈنڈے اور بندوقیں لے کر بڑھے جس کے جواب میں وہاں کھرے کئی نوجوانوں اور مردوں نے پتھروں کی بارش کرنا شروع کر دی۔ وردی والوں نے اپنی ڈھالیں سنبھال لیں اور آن واحد میں کئی سو وردی والے وہاں جمع ہو کر پتھراو کرنے والوں پہ ٹوٹ پڑے۔ پہلے کچھ گولیاں چلیں، پھر لاٹھیا ں برسی اور دیکھتے ہی دیکھتے آنسو گیس کے گولے اور پانی کے ٹینکروں سے وردی والوں نے چاروں طرف سے حملہ کر دیا۔ افراتفری کا ماحول تو پہلے ہی سے تھا۔ اس لاٹھی چارج نے ٹیلے کے اطراف کی بستی کو ویران بنا دیا۔ عورتیں اور مرد سب شہر کی طرف بھاگ گئے تھے۔ جو ڈٹے ہوئے تھے وہ خون سے لت پت تھے اور جگہ جگہ پڑے سسکیاں لے رہے تھے۔ وردی والوں نے بہت سے لڑکوں کو اٹھا کر اپنی گاڑیوں میں بند کر دیا تھا اور ان پہ گاڑی کے اندر لاٹھیا ں چل رہی تھیں۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-4/">آوازوں والا کردار (چوتھا حصہ) — تالیف حیدر</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/awazon-wala-kirdar-part-4/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ہندسوں میں بٹی زندگی اور دیگر کہانیاں (محمد جمیل اختر)</title>
		<link>https://laaltain.pk/hindson-mein-bati-zindagi-and-other-stories/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/hindson-mein-bati-zindagi-and-other-stories/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد جمیل اختر]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 09 May 2019 18:08:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Banksy]]></category>
		<category><![CDATA[jameel akhtar]]></category>
		<category><![CDATA[Micro Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[micro fiction urdu]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu literature]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[جدید ادب]]></category>
		<category><![CDATA[مائکرو فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[محمد جمیل اختر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24555</guid>

					<description><![CDATA[<p>ہندسوں میں بٹی زندگی ’’ وارڈ نمبر چار کے بیڈ نمبر سات کی مریضہ کے ساتھ کون ہے ؟‘‘ ’’ جی میں ہوں” ’’مبارک ہو ، آپ کا بیٹا ہوا ہے‘‘ اُس لڑکے کو کمیٹی کے اُس سال کے رجسٹر میں تین ہزار بارہ نمبر پردرج کردیا گیاتھا۔ سکول میں وہ لڑکا ۸۰ اور ۹۰ [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/hindson-mein-bati-zindagi-and-other-stories/">ہندسوں میں بٹی زندگی اور دیگر کہانیاں (محمد جمیل اختر)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">ہندسوں میں بٹی زندگی</div>
<p>’’ وارڈ نمبر چار کے بیڈ نمبر سات کی مریضہ کے ساتھ کون ہے ؟‘‘<br>
’’ جی میں ہوں”<br>
’’مبارک ہو ، آپ کا بیٹا ہوا ہے‘‘</p>
<p>اُس لڑکے کو کمیٹی کے اُس سال کے رجسٹر میں تین ہزار بارہ نمبر پردرج کردیا گیاتھا۔</p>
<p>سکول میں وہ لڑکا ۸۰ اور ۹۰ نمبر لینے کی دوڑ میں لگا رہا، نوکری حاصل کی تو بے تحاشا کامیاب رہا اور قریبی لوگ اُسے اُس کی تنخواہ کی رقم ، موبائل نمبر، گاڑیوں اور بنگلوں کی تعداد سے جانتے تھے، وہ رقم کی گنتی کو بڑھانے کے لیے دن رات دوڑتا رہا حتٰی کے بوڑھا ہوکرہسپتال میں داخل ہوگیا۔۔۔</p>
<p>’’ وارڈ نمبر ۵ کے بیڈ نمبر چھ کے مریض کے ساتھ کون ہے؟‘‘<br>
’’ جی فرمائیے‘‘<br>
’’ سوری ہم نے بہت کوشش کی لیکن۔۔۔۔۔‘‘</p>
<p>گورکن نے پلاٹ نمبر چھ میں قبر نمبر پانچ سو بارہ تیار کرلی۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">اصل چہرہ</div>
<p>گزشتہ دس سال سے اُس نے اتنے چہرے تبدیل کئے تھے کہ وہ خود بھی تقریباً بھول گئی تھی کہ اُس کا اصل چہرہ کون سا ہے۔ ہر کچھ عرصہ بعد وہ اپنے چہرے سے اُکتا جاتی یا پھر اُس کے اِردگرد موجود لوگ ایسی صورت حال پیدا کردیتے کہ اُسے نئے ماحول میں ڈھلنے کے لیے اپنا چہرہ بدلنا پڑتا۔<br>
گھر کے ایک کونے میں جہاں وہ اپنے بچوں کو نہیں جانے دیتی تھی، مختلف طرح کے چہروں کا ڈھیر پڑا رہتا تھا، وہ گھر سے نکلنے سے پہلے جگہ اور لوگوں کی مناسبت سے چہرہ پہن لیتی۔<br>
لیکن اب پچھلے دو ماہ سے وہ جس نئی کمپنی میں کام کررہی تھی وہاں اُسے مسلسل ایک ہی مسکراہٹ بھرا چہرہ سجائے کاونٹر پر بیٹھنا پڑتا تھا۔۔۔<br>
اُس کی تنخواہ کم تھی اور مسائل زیادہ تھے وہ وہاں بیٹھے اپنے مسائل کے بارے سوچتی رہتی لیکن اُسے ہر آنے والے کسٹمر کو مسکرا کر خوش آمدید کہنا پڑتا تھا۔<br>
ایک روز جب وہ بے حد پریشان تھی ، اُس نے چہروں کے ڈھیر سے اپنا اصل چہرہ نکالا اور پہن کر دفتر آگئی۔۔۔</p>
<p>اُس دفتر میں یہ اُس کا آخری دن تھا۔۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">دو منظر</div>
<p><strong>پہلا منظر:</strong></p>
<p>یہ ایک کوڑا کرکٹ کا ڈھیر ہے اور چند بچے اِس میں سے اپنا رزق تلاش کر رہے ہیں۔ بچوں کے بال گردآلود ہیں اور مَیل کی وجہ سے موٹی رسیوں کی مانند ہوگئے ہیں۔<br>
تلاش کے دوران ایک بچے کو جوس کا پیکٹ مل جاتا ہے ، جس کے استعمال کی مدت ختم ہوچکی ہے لیکن وہ بچہ یہ بات نہ جانتا ہے اور نہ پڑھ سکتا ہے سو فوراً جوس پینے لگ جاتا ہے۔۔۔باقی بچے اُس کی اچھی قسمت پر رَشک کرتے ہیں اور سوچتے ہیں ، کاش اُن کی نظر پہلے اِس ڈبے پر پڑجاتی۔۔۔۔</p>
<p><strong>دوسرا منظر : </strong></p>
<p>یہ شہر کی سب سے اونچی بلڈنگ ہے جس کا افتتاح آج وزیر اعظم صاحب نے کیا ہے ، اُنہیں بلڈنگ کے مختلف حصے دکھائے گئے ۔ جدید طرز کے ہوٹلز ، ہسپتال ، سینما۔۔۔غرض کیا تھا جو اُس بلڈنگ کے اندر نہیں تھا۔۔۔<br>
اب وزیر اعظم صاحب بلڈنگ کی چھت پر موجود ہیں اور شہر کا جائزہ لے رہےہیں۔۔۔ دور دور تک بڑی عمارتوں نے شہر کو گھیر لیا ہے اور کچی آبادیوں کے ڈھیر آنکھ سے اوجھل ہوگئے ہیں۔۔۔۔<br>
” سب کس قدر خوش گوار ہے ” وزیر اعظم صاحب نے کہا<br>
اور ارد گرد سارے لوگ تالیاں بجانے لگ گئے۔۔۔۔</p>
<p>مجھے دوسرے منظر سے فوراً پہلے منظر کی طرف لوٹنا ہوگا دراصل وہ بچہ کہ جس نے جوس پیا تھا وہ پیٹ پکڑے درد سے کراہ رہا ہے لیکن اُس بستی میں کوئی ڈاکٹر نہیں ہے۔۔۔</p>
<p>دوسرے منظر میں پرتکلف کھانے کا آغاز ہوچکا ہے۔۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">گونگا وائلن نواز</div>
<p>اُس شخص سے اُس کی زبان چھین لی گئی تھی سووہ بول نہیں سکتا تھا، اُس نے ایک وائلن خریدا اور شہر کی گلی گلی میں بجاتا پھرتا،ایسا اُس نے روزی روٹی کمانے اور اپنا دل بہلانے کی خاطر کیاتھا تاکہ وہ اپنا ماضی بھول جائے لیکن اُس کے وائلن سے ہمیشہ دُکھی ساز نکلتے تھے۔ جب وہ گلیوں میں سازبجاتا ہواچلتا تو لوگ غمگین ہوجاتے۔شہر کے لوگ اُسے ’’غمگین نغمہ ساز‘‘ کہہ کر بلاتے تھے اور کہتے کہ اِس کے وائلن میں کوئی خاص پرزہ ہے جس کی وجہ سے اِس سے نکلنے والے ساز اِس قدر دُکھی ہوتے ہیں۔</p>
<p>بہت دفعہ لوگوں نے اُس سے وائلن لے کر خود بجانے کی کوشش کی لیکن عجیب بے ڈھنگی آوازیں ہی برآمدہواکرتی تھیں۔<br>
’’اِس قدر دکھی نغمے ہم نہیں سُن سکتے ، یہ آوازیں ہمارے بچوں کے لیے نقصان دہ ہیں ‘‘ لوگوں نے اُس کے خلاف شکایت درج کرادی اور پولیس اُسے پکڑ کر لے گئی۔</p>
<p>عدالت میں معزز جج نے اُس کا پرانا ریکارڈ پڑھا اور کہا’’اِس سے پہلے بھی تمہیں زیادہ بولنے کے جرم میں اپنی زبان سے محروم ہونا پڑاتھا لیکن پھر بھی تم باز نہیں آئے اور اب دکھی نغمے چھیڑنے لگ گئے ہو، تمہیں نقصِ امنِ عامہ کے جرم میں مذید سزا ملے گی‘‘</p>
<p>چونکہ اُس کی زبان نہیں تھی سووہ اپنے دفاع میں کچھ نہ کہہ سکا حالانکہ وہ کہنا چاہتا تھا کہ قید میں لگائے گئے قہقہوں سے آزادی میں بہتے آنسوزیادہ معتبر ہیں لیکن وہ نہ کہہ سکا اور اگر وہ کہہ بھی دیتا تووہاں سننے والے کان نہیں تھے۔<br>
عدالت نے اُس سے وائلن چھین لینے کا حکم دیا اور ایک سال کی قید بامشقت کی سزا سنائی۔<br>
جب وہ جیل سے رہا ہوا تو گلی گلی گھومتا اور لوگ اُس سے خوف کھاتے کہ اب کی باراُس کے ہاتھ میں وائلن نہیں تھا۔۔۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">بوجھ</div>
<p>وہ ایک کلرک تھا جو فائلوں میں گُم ہوگیا تھا۔۔۔ردی کاغذ کی فائلیں جن کے اندر ایک پورا آدمی گُم ہوگیا تھا اور یہ بات کلرک کی بجائے فائلوں کو معلوم تھی ۔وہ سارا دن دفتر میں فائلیں اُٹھائے پھرتا اور اُن میں سے چندایک گھر بھی اُٹھا کر لے آتا۔دن رات فائلیں اُٹھانے کی وجہ سے اُس کے کندھے جُھک گئے تھے ۔دراصل اُس پرفائلوں کے علاوہ اور بھی بہت سے بوجھ تھے جن کو اُتارنے کے لیے وہ دن رات فائلوں میں گُم رہتا۔</p>
<p>کلرک کی چاربیٹیاں تھیں اوراُس پر معاشرے کے رسم ورواج کابوجھ تھا۔۔۔ وہ اکثر رات کو سونے سے پہلے سوچتا تھا کہ وہ کتنی دیر روز اوورٹائم کام کرے تو چار دفعہ جہیز کا انتظام کرسکتا ہے۔۔۔جواب میں اُسے اگلے کئی سال دن رات فائلوں کے بوجھ تلے دبے رہنا تھا۔</p>
<p>ایک شام کلرک اپنے گھر آیا تو اُس کی بیوی صحن میں بیٹھی رو رہی تھی، ایسا رونا کہ جس میں آواز شامل نہیں تھی لیکن آنسوندی کی مانند بہہ رہے تھے۔<br>
کلرک کے پوچھنے پر بیوی نے ایک کاغذ اُس کے ہاتھ تھمادیا،یہ اُس کی بڑی بیٹی کا الوداعی خط تھااوراُس نے لکھا تھا کہ<br>
’’میں اِس دن رات کی غربت سے تنگ آگئی ہوں ، اوراپنی مرضی سے شادی کرکے جارہی ہوں ۔برائے مہربانی مجھے مت ڈھونڈیں‘‘</p>
<p>کلرک جو دن رات دس پندرہ فائلیں بغل میں لیے گھومتا تھا ، ایک کاغذ کے بوجھ تلے دبتا چلاگیا۔۔<br>
حتٰی کہ اُس کی بیوی نے دیکھا کہ وہ زمین سے صرف ایک فٹ اوپر رہ گیا تھا۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">بوتل میں قید آدمی</div>
<p>محبت میں ناکامی کے بعد اُس نے سوچا کہ وہ ایک بوتل بنائے گا۔<br>
سو وہ ایک عرصے تک بوتل بناتا رہا، لوگ پاس سے گُزرتے تو اُسے سمجھاتے کہ یہ پاگل پن ہے سو اُسے یہ کام ترک کر دینا چاہیے لیکن وہ لگاتار بوتل بناتا رہا۔۔۔۔۔<br>
کئی سال گزرگئے ، اب اُس کے سینے میں سانس چلتی تھی تو کھر ، کھر کی آواز آتی تھی ، بال بڑھ گئے تھے اور لوگوں نے اُس پر افسوس کرنا چھوڑ دیا تھا۔<br>
جب بوتل مکمل بن گئی تو اُس نے خود کو اُس میں قید کرلیا، اب وہ بوتل میں سما گیا تھا۔<br>
کتنے موسم گُزرے ، کئی بارشیں آئیں اور بہت سی مئی ، جون کی تپتی دوپہریں گزریں ، وہ بوتل نالی کے پاس بنے ایک دکان کے تھڑے کے ساتھ پڑی رہتی اور آہستہ آہستہ ہلتی رہتی۔<br>
پھر ایک دن بوتل نے ہلنا چھوڑ دیا اور لوگوں نے بوتل اُٹھا کر سمندر میں پھینک دی اور ناک پر رومال رکھے واپس آ گئے۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>شعبدہ گر</p>
<p>وہ ایک شعبدہ باز تھا , سرکس میں منہ سے آگ نکال کر دکھاتا تھا۔۔۔ لوگ خصوصاً بچے اُس کا کرتب دیکھ کر خوب تالیاں بجاتے۔۔۔ شہر شہر ، قریہ قریہ سرکس کا تماشا چلتا رہتا۔ وہ سٹیج پر ہاتھ میں جلتی ہوئی لکڑی اور پٹرول کی بوتل تھامے نمودار ہوتا ، وہ جتنی دور تک آگ نکالتا اُتنی ہی تالیوں کی گونج میں اضافہ ہوجاتا ، پہلے پہل جب وہ ایک لڑکا تھا ، تالیوں کا شور اُس کے اندر بہت ہوا بھردیتا تھا اور وہ اور زور لگا کر آگ نکالتا تھا لیکن پھر رفتہ رفتہ اُس کی عمر بڑھتی گئی اور اُسے تالیوں کی آواز سنائی نہ دیتی تھی حتٰی کہ اُسے سامنے بیٹھے لوگ بھی دکھائی نہیں دیتے تھے ، اُسے صرف اور صرف داد میں آنے والے پیسوں سے غرض تھی تاکہ وہ اپنے بچوں کے خواب پورے کرسکے۔۔۔</p>
<p>وہ جب گھر لوٹتا تو اُس کے بچے اور بیوی اُس کے منتظر ہوتے ،اُس کا خواب تھا کہ اُس کے بچے پڑھ لکھ جائیں تاکہ انہیں منہ سے آگ نہ نکالنی پڑے ، اُس نے بچوں کو اپنے آگ نکالنے کے سامان کو ہاتھ لگانے سے منع کر رکھا تھا۔۔</p>
<p>اِسی شعبدہ گر کا بیٹا جس سکول میں جاتا تھا ، ہر سال اول پوزیشن حاصل کرتا تھا لیکن کوئی اُسے داد نہ دیتا ، وہاں سب لوگ اُسے منہ سے آگ نکالنے کا کہتے کہ اُس کے والد سے وہ یہ کرتب دیکھ چکے تھے۔۔۔<br>
آخر ایک روز جب شعبدہ باز گھر سو رہا تھا ، اُس کا بیٹا لکڑی اور پٹرول کی بوتل لے کر دوستوں کے پاس پہنچ جاتا ہے کہ وہ آج اُنہیں منہ سے آگ نکال کر دکھانا چاہتا تھا۔۔<br>
لیکن آگ نکالتے ہوئے اُس کا بازو جل جاتا ہے ، شعبدہ گر پریشانی میں اپنے بچے کو ہسپتال لےکر جاتا ہے۔۔۔مرہم پٹی کے بعد ڈاکٹر ، شعبدہ گر سے پوچھتا ہے کہ وہ کیا کام کرتا ہے۔<br>
” جی میں سرکس میں کرتب دکھاتا ہوں ” شعبدہ گر نے جواب دیا<br>
” کون سا کرتب ؟” ڈاکٹر نے پوچھا<br>
” جی وہ ، وہ منہ سے آگ نکالتا ہوں ” وہ کچھ شرمندہ ہوکر بولا<br>
” اوہ اچھا ! تو آپ کے بچے نے آپ ہی سے یہ ہنر سیکھا ہے”</p>
<p>ڈاکٹر نے کہا اور ایسے میں وہ شعبدہ گر کی آنکھوں کے خواب نہ دیکھ سکا۔۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>تقسیم</p>
<p>یہ ایک بڑا ہال ہے جہاں ایک مشہور فلاحی ادارے کا سیمینار ہورہا ہے۔ سٹیج پر بیٹھے دانشوروں نے معاشرے میں دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم پر بہت عمدہ گفتگو کی۔ اُن میں سے کئی افراد بیرونِ ملک سے آئے تھے سو وہاں کی مثالیں بھی پیش کیں۔<br>
سلیم ہال میں موجود ایک ویٹر ہے ، اُسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ وقت کی قید میں آگیا ہے ۔ وقت جو اُس کے پیدا ہونے سے پہلے بھی تھا اور بعد میں بھی رہے گا ، درمیان میں وہ قید بامُشقت کاٹ رہا تھا۔<br>
معزز دانشور نے تقریر کے دوران سٹیج پر بیٹھے چاروں مقررین سے سوال کیا<br>
’’کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ کتنے دن آپ کام کریں تو ایک اچھی گاڑی خرید سکتے ہیں ؟‘‘<br>
’’چار ماہ‘‘ پہلے دانشور نے جواب دیا۔<br>
’’چھ ماہ‘‘ دوسرا دانشور بولا<br>
’’مجھے شاید ایک سال لگ جائے‘‘ تیسرا دانشور بولا<br>
’’میرا خیال ہے کہ مجھے ڈیڑھ سے دو سال لگیں گے کہ میں ایک اچھی گاڑی خرید سکوں ‘‘چوتھا دانشور تھوڑا شرمندہ ہوکربولا<br>
’’ تو سامعین دیکھا آپ نے کہ یہاں چاروں مقررین کے جواب کس قدر مختلف ہیں ، ہم نے اِسی غیر منصفانہ تقسیم کو ختم کرنے کے لیے آج کا اجلاس بلایا ہے‘‘ مقرر نے کہا.<br>
’’ کتنے دن تم بطور ویٹر کام کرو تو ایک گاڑی خرید لو گے؟‘‘ سلیم نے خود سے سوال کیا۔<br>
’’ دو زندگیاں اور کچھ مذید دن——” اندر سے ایک آواز آئی جواُس کے علاوہ ہال میں کسی نے نہ سُنی۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">الزام</div>
<p>یہ کمرہِ عدالت ہے جہاں ایک چوری کا مقدمہ زیرِسماعت ہے۔ بشیر پر گاڑی چوری کا الزام ہے۔<br>
مُعزز جج نے مقدمے کا فیصلہ سنانے سے پیشتر بشیر کو نصیحت کرتے ہوئے کہا۔<br>
’’اِس سے پہلے کہ میں تمہیں اِس چوری کی سزا سُناؤں ، تمہیں سمجھانا چاہتا ہوں کہ چوری ایک بُرا فعل ہے, اب نہ صرف تم سزا پاؤ گے بلکہ تمہارے گھر والے بھی اِس سزا کی وجہ سے مشکل دن گزاریں گے، تمہیں ضرور وہ کام کرنا چاہیے تھا جو تم چور بننے سے پہلے کیا کرتے تھے۔ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ تم چوربننے سے پہلے کیا کام کرتے تھے ؟‘‘<br>
’’جی میں چور بننے سے پہلے بھی چور تھا‘‘ بشیر نے گھبرا کر کہا۔<br>
اُس کا جواب سُن کر معززجج سمیت کمرہِ عدالت میں موجود بیشترافراد ہنس پڑتے ہیں۔<br>
’’چوربننے سے پہلے چور بھلا کیسے بنا جاسکتا ہے؟‘‘ جج نے سوال کیا۔<br>
’’ جی دیکھیں یہ آج مجھے دوسری دفعہ سزا ہونے والی ہے، کئی سال پہلے میں ایک اسٹورمیں مُلازم تھا جہاں پر ایک رات چوری ہوگئی تو اسٹور کے مالک نے شک کی بنیاد پر مجھے پولیس کے حوالے کردیا، پانچ سال بغیرجرم کے جیل کاٹنے کے بعد جب میں واپس آیا تومجھے معلوم ہوا کہ ساری دنیا مجھے چور ہی سمجھتی ہے حالانکہ میں چور نہیں تھا لیکن رفتہ رفتہ مجھے محسوس ہوا کہ میں چور بننے سے پہلے بھی چورہی تھا… کیا میں چور نہیں تھا جج صاحب؟”<br>
’’ ٹھیک ہے، ٹھیک ہے ہم فیصلے کی جانب آتے ہیں، دفعہ تین سو اکاسی (اے) کے مطابق عدالت مُلزم بشیر کو پانچ سال قید بامشقت کی سزا سُناتی ہے ‘‘ معزز جج نے فیصلہ سنایا اور پولیس والے چورکو دھکا مارکر کمرہ عدالت سے باہر لے جاتے ہیں ۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">ایک نابینا محبت کی سرگزشت</div>
<p>میں نورالعین ہوں لیکن میری آنکھوں کا نور ختم ہو چکا ہے، مجھے خود کو اندھا کہتے ہوئے جھرجھری سی آ جاتی ہے سو خود کو نابینا نہیں کہتی ۔مجھے ہر وقت سوچتے رہنے کا مرض لاحق ہے۔ اگر کسی انسان کا دماغ سوچ کے مرض میں مبتلا ہو تو کیا وہ پھر بھی اندھا کہلائے گا ؟ میرا نہیں خیال لیکن دنیا والوں کو میں نے خود کو اندھا کہنے سے کبھی روکا نہیں۔۔۔</p>
<p>میں نورالعین ہوں اور پارک میں ایک بنچ پر بیٹھی ہوں ، میں نے تین سال قبل دنیا کو اِسی پارک میں ایک بنچ پر ایک اور شخص کی آنکھوں سے دیکھنا شروع کیا تھا۔۔۔<br>
یہ بتاتے ہوئے میں کچھ شرما رہی ہوں لیکن اب اِس بات کو چھپانے کا کچھ خاص فائدہ بھی نہیں ، زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب باتوں کا بتانا اور چھپانا ایک برابر ہوجاتا ہے اور اس کہانی کے اختتام پر یقیناً آپ خود کو میرا ہم خیال پائیں گے۔۔۔</p>
<p>میں نورالعین جو اب اِس بنچ پر بیٹھی ہوں اور تین سال قبل دنیا کو ایک اور شخص کی آنکھوں سے دیکھنا شروع کیا تھا۔ وہ مجھے کہتا تھا دنیا کس قدر حسین ہے ، تتلیوں کے رنگ نیلے ، سبز اور سرخ ہیں اور بنچ کے ساتھ درخت کے اوپر چڑیا جو گارہی ہے ،اس کا رنگ سنہرا یاقوتی ہے۔<br>
پارک کے سبھی راستوں کے گرد گیندے کے بڑے بڑے پیلے پھول کھلے ہیں اور جب خزاں آتی ہے تو درخت سوکھ جاتے ہیں ، پھولوں کی پتیاں بکھر جاتی ہیں لیکن ان کی خوشبو محبت کرنے والوں کے دلوں کو معطر کیے رکھتی ہے اور سنہری چڑیا اپنا گیت گانے کسی اور دیس کو اڑ جاتی ہے۔۔۔<br>
میں نے یہ سب کچھ اُس شخص کی آنکھوں سے دیکھا اور یقین کر لیا۔۔۔</p>
<p>میں نورالعین نابینا کہ جس نے دنیا کو ایک ایسے شخص کی آنکھوں سے دیکھا تھا جو ابھی ابھی یہاں بنچ سے اٹھ کر گیا ہے اور میرے ہاتھوں میں موجود سنہری بالوں والی لڑکی کی تصویر اُسی کی دی ہوئی ہے ، اس تصویر کو میں نے اُسی کی آنکھوں سے دیکھا ہے ، یہ وہ لڑکی ہے جس سے اُسے محبت ہے اور آپ سب کی آنکھیں ہیں سو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میرے بال سنہری نہیں ہیں۔۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">رُکا ہوا آدمی</div>
<p>رُکا ہوا آدمی</p>
<p>’’آنکھیں اور کان بند کرو اور چھتری تان لو، بارش سے بچ جاؤ گے اور بجلی کی چمک تمہاری آنکھوں میں نہ پڑے گی، کانوں میں روئی ڈال لو کوئی آواز نہ سنائی دے گی‘‘<br>
’’تو پھر میں آگے کیسے بڑھوں گا؟‘‘<br>
’’ چھتری بارش سے بچاتی ہے‘‘<br>
’’ لیکن وہ آگے کا سفر؟‘‘<br>
’’بجلی کی چمک سے آنکھیں چندھیا سکتی ہیں سو بند ہی رکھو‘‘<br>
’’ لیکن وہ میں کہہ رہا تھا کہ سفر؟‘‘<br>
’’ کان بند رکھو اور کسی بات پر دھیان نہ دو‘‘<br>
’’لیکن پھر؟‘‘<br>
’’بس تم چھتری تانے ، آنکھیں اور کان بند کیے یہیں کھڑے رہو‘‘<br>
’’ اخبار لے لو ، اخبار‘‘<br>
” آج کی تازہ خبر پڑھنے کے لیے<br>
اخبار لے لو ، اخبار”<br>
’’اخبار والے رکو، کیا نئی خبر ہے ؟‘‘</p>
<p>’’ تمہیں کیا، تم تو رُکے ہوئے آدمی ہو‘‘<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
Imzge: Banksy</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/hindson-mein-bati-zindagi-and-other-stories/">ہندسوں میں بٹی زندگی اور دیگر کہانیاں (محمد جمیل اختر)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/hindson-mein-bati-zindagi-and-other-stories/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ریلوے اسٹیشن (محمد جمیل اختر)</title>
		<link>https://laaltain.pk/railway-station/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/railway-station/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد جمیل اختر]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 09 Dec 2018 18:14:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Contemporary Urdu Literature]]></category>
		<category><![CDATA[Jameel Akhter]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu literature]]></category>
		<category><![CDATA[urdu short story]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[جدید افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[جمیل اختر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23834</guid>

					<description><![CDATA[<p>“جناب یہ ریل گاڑی یہاں کیوں رکی ہے ؟ “ جب پانچ منٹ انتظار کے بعد گاڑی نہ چلی تو میں نے ریلوے اسٹیشن پہ اُترتے ہی ایک ٹکٹ چیکر سے یہ سوال کیا تھا۔ “ او جناب پیچھے ایک جگہ مال گاڑی کا انجن خراب ہو گیا ہے اب اس گاڑی کا انجن اُسے [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/railway-station/">ریلوے اسٹیشن (محمد جمیل اختر)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>“جناب یہ ریل گاڑی یہاں کیوں رکی ہے ؟ “ جب پانچ منٹ انتظار کے بعد گاڑی نہ چلی تو میں نے ریلوے اسٹیشن پہ اُترتے ہی ایک ٹکٹ چیکر سے یہ سوال کیا تھا۔<br>
“ او جناب پیچھے ایک جگہ مال گاڑی کا انجن خراب ہو گیا ہے اب اس گاڑی کا انجن اُسے لے کے اِس اسٹیشن پہ آئے گا۔”<br>
“کیا اِس کے علاوہ اور کوئی متبادل حل نہیں ؟ “<br>
“نہیں جناب، یہی حل ہے”<br>
“اچھا کتنا وقت لگے گا؟ “<br>
“دو گھنٹے تو کہیں نہیں گئے “ ٹکٹ چیکر نے کہا<br>
“دوگھنٹے ؟؟” میں نے پریشانی میں لفظ دہرائے۔۔۔<br>
دوگھنٹے اب اِس اسٹیشن پر گزارنے تھے، مسافر اب گاڑی سے اتر کر پلیٹ فارم پر جمع ہونا شروع ہوگئے تھے، کچھ چائے کا آرڈر دے رہے تھے، کچھ اور کھانے کا سامان خرید رہے تھے۔<br>
راولپنڈی سے ملتان جاتے ہوئے راستے میں یہ ایک چھوٹا سا سٹیشن تھا، ایک عرصہ بعد میں اِس راستے سے گزرا تھا اور اِس ا سٹیشن پر تو بہت ہی مدت بعد، شاید تیس سال بعد۔<br>
مجھے گورڈن کالج کے وہ دن یاد آگئے جب میں صفدر اور احمد ملتان سے راولپنڈی پڑھنے آئے تھے۔ اُن دنوں جب ہم چھٹیوں میں گھر جاتے تو تقریباً ہر سٹیشن پر اُترتے تھے۔ کیسے دن تھے نہ وقت کا پتہ چلتا نہ راستے کی کچھ خبر، اِدھر راولپنڈی سے بیٹھے اور اُدھر ملتان اسٹیشن۔</p>
<p>میں جس بنچ پر آج بیٹھا ہوں عین ممکن ہے اب سے تیس برس قبل بھی بیٹھا ہوں، ہوسکتا ہے بنچ تبدیل کردیا گیا ہو مجھے ویسے ہی ایک خیال آیا میں نے عمارت کی طرف دیکھا یہ وہی پرانی عمارت ہے، میں نے یہ عمارت شاید پہلے دیکھ رکھی ہے۔ وقت کس تیزی سے گزرتا ہے آواز بھی نہیں ہوتی کسی بھی لمحے کو قید نہیں کیا جاسکتا۔ میں کراچی میں محکمہ ڈاک میں ملازم ہوں، ایک سال بعد ریٹائر ہونا ہے ایک کام کے سلسلے میں راولپنڈی آیاتھا، اب ملتان جا رہا ہوں کچھ روز وہاں ٹھہرنے کا ارادہ تھا اُس کے بعد ہی کراچی جاؤں گا۔</p>
<p>میں نے گھڑی کی طرف دیکھا، انجن کو گئے ابھی پندرہ منٹ ہی ہوئے تھے یہ وقت بھی عجیب ہے گزارنے پہ آؤ تو ایک پل بھی نہیں گزرتا اور گزرنے پہ آئے تو صدیاں گزر جائیں اور خبر بھی نہ ہو شاید انتظار وقت کو طویل کردیتا ہے۔</p>
<p>“جناب، تھوڑا ساتھ ہوکے بیٹھیں گے؟ میں نے بھی بیٹھنا ہے۔”<br>
ایک بزرگ ہاتھ میں عصا لیے کھڑے تھے، شاید میرے ہم عمر ہی ہوں گے، مجھے کچھ ناگوار گزرا لیکن میں سکڑ کر بنچ کے ایک کونے میں بیٹھ گیا۔<br>
ہاں تو میں کہہ رہا تھاکہ وقت کے بارے کچھ کہا نہیں جاسکتا،گزرے تو عمر گزرجائے نہ گزرے تو لمحہ صدیوں کی مثل ہوجائے۔<br>
چائے والے کی دکان پر رش کم ہواتو مجھے بھی خیال آیا کہ اب چائے پینی چاہیے۔</p>
<p>“سنیے محترم میری جگہ رکھیے گا میں چائے لے آؤں “ میں نے ان صاحب سے کہا۔<br>
“اچھا “ جواب ملا۔<br>
“جناب ایک کپ چائے “ میں نے چائے والے کو کہا<br>
“جی بہتر “ دکاندار نے جواب دیا<br>
چائے والے کو پیسے دیتے ہوئے میں نے اُسے غور سے دیکھا ایسا لگا کہ میں نے اُسے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے، شاید اُس کے والد یہ سٹال چلاتے ہوں اور میں نے اُنہیں دیکھا ہو۔<br>
مجھے پوچھنا چاہیے اس کے والد کے بارے؟ میں نے سوچا لیکن پوچھا نہیں اور چپ چاپ واپس بنچ پر آکے بیٹھ گیا۔<br>
مجھے ہر چیز دیکھی دیکھی کیوں لگ رہی ہے۔<br>
میں نے گھڑی کی جانب دیکھا، ابھی دو گھنٹے گزرنے میں ایک گھنٹہ مزید رہتا تھا۔ میں چائے پیتے ہوئے ماضی کے صفحات الٹنے لگا۔<br>
“آپ کہیں جارہے ہیں؟ “ساتھ بیٹھے صاحب نے یادوں کے سلسلے کو روکا<br>
“جی ریلوے اسٹیشن پر بیٹھے سب لوگ ہی کہیں نہ کہیں جارہے ہوتے ہیں “میں نے کہا<br>
“نہیں سب لوگ تو نہیں جارہے ہوتے “ اُن صاحب نے جواب دیا<br>
“اچھا” میں نے مختصر جواب دیا اور ماضی کی ورق گردانی شروع کر دی۔ میں نے عمارت پر لکھے اسٹیشن کے نام کو بغور پڑھا یہ نام۔۔۔یہ نام کچھ سنا سنا سا تھا۔ سوچوں کا سلسلہ پھر گورڈن کالج کے طرف مڑگیا۔</p>
<p>کیسے کیسے ہم جماعت تھے کبھی کبھی سارا سارا دن اکٹھے گھومنا اور اب یہ حالت کہ نام تک یاد نہیں شکلیں بھی جو یاد ہیں وہ بھی بس دھندلی دھندلی سی۔</p>
<p>میں، صفدر، احمد اور ایک اور دوست بھی تھا جو ہمارا ہوسٹل میں روم میٹ تھا، اوہ ہاں یاد آیا بشارت علی نام تھا اُس کا۔۔۔ اور یہ اسٹیشن۔۔۔۔ اب یہ گتھی سلجھی تھی، بشارت علی اِسی ا سٹیشن پر اُترا کرتا تھا میں بھی کہوں مجھے سب دیکھا دیکھا کیوں لگ رہا ہے اس اسٹیشن کے پیچھے بنے ریلوے کوارٹرز میں اُس کا گھر تھا۔</p>
<p>دماغ بھی عجیب ہے ابھی جس کا نام یاد نہیں آرہا تھا اور ابھی اُس سے جڑی کئی یادیں ایک ساتھ دماغ کے کواڑوں پہ دستک دینے لگی تھیں۔<br>
“آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ “اُن صاحب نے پھر سلسلہ منقطع کیا۔<br>
“ملتان” میرا جواب مختصر تھا میں اُن سے کچھ پوچھ کر بات طویل نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔</p>
<p>ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ جب ہم چھٹیوں میں گھر واپسی کا سفر کرتے اور بشارت کا یہ اسٹیشن پہلے آتا اور گاڑی یہاں پانچ منٹ کے لیے رکتی، تو ہم چاروں ایک ساتھ اُترتے اور بھاگتے ہوئے بشارت کے گھر تک جاتے اور اُسے اُس کے گھر کے سامنے الوداع کہتے اور بھاگتے ہوئے واپس گاڑی تک آتے۔ بعض دفعہ گاڑی رینگنا شروع کردیتی تھی، لیکن ہم کسی نہ کسی طرح گاڑی میں سوارہونے میں کامیاب ہوہی جاتے پھر بہت سے لوگ ہمیں ڈانٹتے کہ ایسا کرنا کتنا غلط تھا لیکن اگلی بار پھر یہی ہوتا۔</p>
<p>وقت کیسے بدل جاتا ہے اتنی تیزی سے، میں نے گھڑی کی طرف دیکھا ابھی آدھا گھنٹہ مزید رہتاتھا۔<br>
ہم تھرڈائیر میں تھے جب بشارت نے پڑھنا چھوڑ دیا تھا۔ معلوم نہیں ایسا اُس نے کیوں کیا تھا وہ پڑھائی میں اچھا تھاپھر بھی جانے کیوں ایک روز اس نے ہم سب کو یہ فیصلہ سنا کر حیران کردیا، جانے اُسے کون سی مجبوری نے آن گھیراتھا، ہم نے اُس سے اُس وقت بھی نہیں پوچھا تھااور بعد میں بھی نہ پوچھ سکے۔</p>
<p>ہم نے اُس سے کہا کہ ہم اُسے خط لکھا کریں گے اور گھر واپسی پر اُس کے گھر ضرور بھاگتے ہوئے آیا کریں گے، اُسے ضرور ہمارا انتظار کرنا چاہیے کہ ہم اچھے دوست ہیں، ہمارا ایسا کہنے سے اُسے کچھ اطمینان ہوا تھا پھر اس کے بعد بشارت نے ہمیں اور ہم نے بشارت کو نہیں دیکھا۔</p>
<p>مجھے یاد ہے اُس کے واپس جانے کے بعدکچھ دن ہم بہت اُداس رہے تھے۔ پھر ہم مصروف ہوگئے۔</p>
<p>ہم بشارت کو بھول گئے اور ہم نے اسے کبھی خط نہ لکھا اس کے بعد ہم کبھی بھی اس سٹیشن پر نہ اترے اور نہ بھاگ کے اس کے گھر اُس کی خیریت پوچھنے گئے۔</p>
<p>اگرچہ کہ ہم جاسکتے تھے لیکن معلوم نہیں ہم کیوں نہیں گئے۔</p>
<p>مجھے آج شدت سے احساس ہو رہا تھا کہ تین سال کی دوستی کااختتام ایسے نہیں ہونا چاہیے تھا۔ہمیں ضروراُس سے اُس کے حالات پوچھنے چاہیے تھے کیونکہ حالات اور وقت کے تناظر میں رویئے نہیں بدلنے چاہئیں اچھے لوگ ہمہ وقت اچھے ہوتے ہیں۔ میں نے اسٹیشن سے پرے بنے ریلوے کوارٹرز کو دیکھا سب دیکھا دیکھا تھا۔کیا اب بھی وہ یہاں رہتا ہوگا؟</p>
<p>کیا مجھے جانا چاہیے تیس سال بعد ویسے ہی بھاگتے ہوئے؟<br>
“آپ غالبا ًراولپنڈی سے آ رہے ہیں ؟ “سلسلہ پھر روک دیا گیا<br>
“جی ہاں میں راولپنڈی سے آ رہا ہوں، ملتان جانا ہے اور کراچی میں کام کرتا ہوں، ایک سال بعد ریٹائر ہونا ہے”میں نے ایک سانس میں ساری داستان کہہ سنائی تاکہ مزید کوئی سوال نہ ہو۔<br>
“آپ شاید میرے سوال پر برامان گئے ہیں ؟”</p>
<p>“نہیں ایسی کوئی بات نہیں “ میں نے کہا اور گھڑی کی جانب دیکھا، وقت پورا تھا دور سے انجن کی آواز سنائی دی۔ انجن کے اسٹیشن پر پہنچنے اور اس گاڑی کے ساتھ منسلک ہونے میں پانچ منٹ تو لگ جانے تھے کیا مجھے بشارت کا پتہ کرنا چاہیے۔<br>
میں اٹھ کھڑا ہوا۔<br>
ہاں۔۔۔<br>
لیکن نہیں۔۔۔۔۔ میں اب بھاگ کے نہیں جا سکتاتھا۔۔۔<br>
مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا کہ میں بشارت سے اُس کے حالات نہ پوچھ سکا، مجھے آج سے پہلے تو ایسا کبھی خیال نہیں آیا تھا اِس اسٹیشن پر بیٹھے بیٹھے نہ جانے مجھے کیا ہوگیا تھا، دل کیسا افسردہ ہوگیا تھا۔<br>
انجن گاڑی کے ساتھ منسلک ہوگیا تھا۔ لوگ آہستہ آہستہ گاڑی پر سوار ہونے لگے تھے میں رش کم ہونے کا انتظار کررہا تھا۔<br>
“آئیں نا آپ بھی ؟ “میں نے اُن صاحب سے کہا<br>
“نہیں میں نے کہیں نہیں جانا میں تو ویسے ہی ہر روز اس وقت گاڑی دیکھنے آتا ہوں، بس صاحب اب یہی ایک مصروفیت ہے۔”<br>
“تو آپ یہیں کے رہنے والے ہیں ؟”میں نے پوچھا<br>
“جی ہاں۔”</p>
<p>“اچھا تو آپ اس گاوں میں کسی بشارت علی کو جانتے ہیں ؟ میرے اور آپ کے ہم عمر ہی ہوں گے “ میں نے سوال کیا کہ شاید یہ بشارت کو جانتے ہوں سو اِن سے ہی بشارت کی خیریت پوچھ لوں۔<br>
بزرگ نے غور سے میری طرف دیکھا۔<br>
“آپ اُسے کیسے جانتے ہیں ؟”<br>
“یہ چھوڑیں آپ یہ بتائیں جانتے ہیں کیا؟”<br>
“جی جانتا ہوں“<br>
“آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ اب کیسے ہیں وہ میرے ساتھ پڑھتے تھے گورڈن کالج میں، میں نے اُن سے پوچھنا تھا کہ انہوں نے پڑھنا کیوں چھوڑ دیا تھا۔ شاید حالات خراب ہوگئے ہوں، وہ اب کیسے ہیں ؟” میں نے مڑکر گاڑی کی طرف دیکھا،ریل گاڑی آہستہ آہستہ سرکنے لگی تھی۔<br>
“ہم انہیں خط نہ لکھ سکے شاید انہوں نے ہمارا اور ہمارے خط کا انتظار کیا ہو، مجھے معذرت کرنی تھی ان سے”<br>
“کیا آپ کچھ بتا سکتے ہیں؟”</p>
<p>“تم کمال احمد ہو شاید؟ “ ان صاحب نے میرے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے کہا<br>
“جی جی میں کمال احمد ہوں لیکن آپ کیسے جانتے ہیں، کیا آپ بشارت ہیں ؟”<br>
“دیکھو گاڑی نکلنے والی ہے، طویل سوالوں کے جواب مختصر وقت میں نہیں دیئے جا سکتے۔”<br>
“خدا حافظ”<br>
اور وہ صاحب اٹھے اور تیزی سے ریلوے اسٹیشن سے باہر کے راستے پر چل دئیے۔<br>
تیس سال بعد میں بھاگتے ہوئے ریل گاڑی میں سوار ہوا تھا۔۔۔۔ ایک افسردگی اور پریشانی کے ساتھ۔۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/railway-station/">ریلوے اسٹیشن (محمد جمیل اختر)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/railway-station/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بساند</title>
		<link>https://laaltain.pk/basand/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/basand/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈاکٹر محمد آصف زہری]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 29 Jul 2018 17:15:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[asif zahri]]></category>
		<category><![CDATA[short story]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu literature]]></category>
		<category><![CDATA[آصف زہری]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر محمد آصف زہری]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23674</guid>

					<description><![CDATA[<p>آصف زہری: کتابوں اور جالی کے درمیان گوریوں کے گھونسلے اور پر وغیرہ تھے۔ اس نے جھاڑو سے جمع شدہ سارا کوڑا کرکٹ سمیٹ کر بالٹی میں ڈالنا شروع کیا۔ ایک گھونسلے میں دو انڈے بھی تھے جو بالٹی میں گرتے ہی ٹوٹ گئے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/basand/">بساند</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>کنجی تالے میں پیوست ہونے کے بجائے، ہاتھوں سے چھوٹ گئی‪‬ گرد آلود فرش پر ٹیڑھے میڑھے نشانات بن گئے۔ بیٹے احمد نے جھک کر کنجی اٹھائی، تالا کھولا، تالے کو کنڈے سے الگ کیا اور دروازے کو وا کر دیا۔ سامنے آبائی مکان کا صحن گرد کی دبیز تہہ میں لپٹا ہوا پڑا تھا۔ دالان سے گذر کر، صحن میں چند قدم چلنے کے بعد، احمد نے پلٹ کر پیچھے دیکھا اور کہا کہ ہمارے جوتوں کے تازہ تازہ نشانات کیسے عجیب لگ رہے ہیں؟ ‪”لیکن ابو! جوتوں کے شانہ بشانہ یہ سوئیوں جیسے نشانات کیسے ہیں؟‪” ‪” ان نشانات کے مقابلے میں ہمارے قدموں کے نشانات بھوت یا ڈاکو کے قدموں کے نشانات لگ رہے ہیں۔‪”<br>
‪” گوریوں کے۔‪”</p>
<p>مختصر سا جواب دیتے ہوئے میری نگاہ برآمدے سے منسلک کمروں کی دیوار میں نصب جالیوں پر پڑ گئی۔ دادا مرحوم کے کمرے، جس کو ان کی وفات کے بعد ہم لائبریری کی طرح استعمال کرنے لگے تھے، کی جالی سے ایک گوریا بڑی ہی نفاست کے ساتھ باہر نکلی اور پھر سے اڑ گئی۔ بچپن کی متعدد تصویریں نہاں خانوں سے باہر نکل آئیں، گویا یادوں کا ایک البم سا کھل گیا۔ دادا کے کمرے والی جالی کے سامنے ایک چٹائی پر دو چھوٹے چھوٹے ڈیسک لگا کر ہم دونوں بھائی پڑھا کرتے اور دادا ابو سامنے چارپائی پر لیٹ کر حقہ گڑگڑاتے ہوئے اخبار دیکھا کرتے تھے۔ ہم دونوں بھائیوں کی دلچسپی اپنی کتاب اورتختی میں کم، چڑیوں کی آمد و رفت، ان کی تعداد اور ان کی چوں چوں میں زیادہ ہوا کرتی تھی۔ آج بھی ذہن میں وہ واقعہ تازہ ہے جب دادا کے کمرے میں ایک روز اچانک دھم سے کچھ گرنے کی آواز سنائی دی تھی۔ مجھ سے دو برس بڑے، بھائی ہارون نل پر بیٹھے اپنی تختی دھونے میں مصروف تھے۔ میں دوڑ کر دادا کے کمرے میں گیا تو دیکھا کہ الماری سے ایک موٹی سی کتاب نیچے گری ہوئی تھی۔ میں نے جھک کر کتاب اٹھائی، جس کے نیچے دم توڑتی ہوئی ایک گوریا برآمد ہوئی۔ احتیاط سے اس کو اٹھا کر پانی پلایا، زندگی برقرار رکھنے کی حتی الوسع کوشش کی لیکن وہ چند منٹوں میں ہی جاں بحق ہو گئی۔ جس کو میں نے صحن کے وسط میں موجودکیاری میں مٹی کھود کر دفن کر دیا۔</p>
<p>دادا ابو کے حکم کے مطابق ہم دونوں بھائی ناشتے کے بعد سے بارہ بجے تک قاعدہ،تختی اور قلم دوات لے کر بیٹھے رہتے۔ یہ بارہ بجنے کا لمحہ بھی ان دنوں کتنا جانفزا ہوا کرتا تھا۔ اس سے متعلق ایک واقعہ آج بھی بالکل تازہ ہے۔ ہوا یوں کہ بارہ بجے سے قبل اجابت کا بہانہ بنا کر، گھر کے، بالکل دوسرے کونہ میں واقع بیت الخلا میں گھس گیا۔ کافی دیر تک اندر بیٹھا رہا۔ بیٹھے بیٹھے ٹانگیں دکھنے لگیں لیکن بارہ بجے سےقبل باہر نکلنا، دادا کے حضور بیٹھ کر ‪”الف‪” ‪”ب‪” زبر ‪”اب‪”، ‪”الف‪” ‪”پ‪” زبر ‪”اپ‪” یا تختی کو سفید سے سیاہ کرنے کے بے کار عمل کو دعوت دینا تھا۔ اس سے بہتر تو یہی تھا کہ بارہ بجے تک کا وقت یہیں گزارا جائے۔ بیت الخلا میں بیٹھا یہی سب کچھ سوچ رہا تھا کہ بیت الخلا والی گلی میں کچھ آہٹ محسوس ہوئی۔ مجھے لگا کہ بھائی ہارون ہیں اور میں نے وہیں سے استفسار کیا کہ بھائی! امی سے پوچھیے کہ بارہ بج گئے کہ نہیں۔ بھائی یا امی کے بجائے، بیت الخلا سے ملحق استنجا خانے سے دادا کی پھٹکار سنائی دی ‪” کامچور باہر نکل بتاتا ہوں۔‪”</p>
<p>اس بیت الخلا والے منظر پر گوریا کے مرنے والی تصویر اچانک حاوی ہو جاتی ہے۔ اس کی وفات بارہ بجے سے کچھ قبل ہوئی تھی اور فورا ہی میں نے اسے دفن کر دیا تھا اور پھر سے دادا کے سامنے بیٹھ کر بظاہر پڑھنے لکھنے میں مصروف ہو گیا تھا لیکن جیسے ہی گوریا والی جالی کے اوپر نصب گھڑیال نے بارہ کا گھنٹا بجایا میں تیزی سے اٹھا۔ ہینڈ پمپ کے نیچے لوٹا رکھا، پوری طاقت صرف کرکے آدھا لوٹا پانی بھرا اور مدفون گوریا کے اوپر ڈالنے لگا۔ دادا تو اپنے مطالعے میں مصروف رہے لیکن باورچی خانے میں موجود امی جو ہمارے لیے کھانا نکال رہی تھیں آواز لگائی ‪”بیٹے! اس بھری دوپہر کے وقت دھوپ میں کیا کر رہے ہو؟‪” میں نے بھی بڑی معصومیت سے جواب دیا تھا کہ ایک چڑیا مر گئی۔ اسے یہاں بو دیا ہے جلد ہی چڑیا کا پیڑ نکلے گا۔ اس میں بہت ساری چڑیاں نکلیں گی جو پورے گھر میں چوں چوں کریں گی۔ اس جواب کو سن کر دادا ابو بھی زور سے ہنسے تھے۔</p>
<p>چڑیاں ہی شاید پہلی جاندار شئے تھی جن سے جزباتی رشتہ استوار ہو گیا تھا جن کی چوں چوں زبر زیر اور پیش کی یکسانیت کو زیر و زبر کرنے کے لیے کافی تھی لہذا پڑھنے کے لیے بیٹھنے سے قبل ہم ان کے لیے دانہ اور پانی رکھنا نہیں بھولتے تھے۔ ان کو چھو لینے کی ایسی خواہش تھی کہ ایک ڈنڈے میں لمبی سی رسی باندھتے اور اس ڈنڈے کے سہارے ایک دوری کو اوندھا کرکے ٹکا دیتے نیز دوری کے نیچے تھوڑا سا دانہ بکھیر دیتے‪پھر رسی ہاتھوں میں لیے گھنٹوں انتظار کرتے رہتے کہ کب چڑیا دانہ چگنے کے لیے دوری کے زیر سایہ آتی ہے اور ہم رسی کھینچ کر اسے دوری میں قید کر لیں گے۔چڑیاں آتیں دانہ بھی چگتیں لیکن رسی کھیچنے سے قبل ہی پھر سے اڑ جاتیں۔ ان کے لمس کی حسرت لیے ایک دن ہم دونوں بھائی میز پر اسٹول رکھ کر، اس جالی کی پشت پر بنی سیمنٹ کی الماری تک جا پہچے لیکن وا حسرتا کہ وہ پھر سے اڑ گئی۔ لیکن ہم نے اپنا پیار جتاتے ہوئے اس کے گھونسلے کو جوتے کے ڈبے میں رکھ کر اپنے تئیں اس کو ایک کاشانہ عطا کر دیا۔ وہ رمضان کا آخری عشرہ تھا، ہم سب کے جوتے کپڑے خریدے جا چکے تھے۔ کپڑے تو امی نے احتیاط سے بکس میں بند کر دئے تھے ہاں جوتے ہمارے ہاتھوں میں تھما دیے گئے، جن کو روزآنہ، صبح سویرے، ہم دونوں بنا ضرورت کپڑوں سے رگڑ رگڑ کر صاف کرتے پھر احتیاط سے ڈبوں میں بند کر دیتے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ گوریے کے لیے اپنے جوتے کے ڈبے کی قربانی بالکل بھی گراں نہیں گذری تھی۔ بلکہ خوش تھا کہ میرے ایثار کے سبب گوریوں کو ایک اچھا سا گھر مل گیا ہے۔ جس سے قبل بیچاری کے پاس محض دروازے ہی دروازے تھے جالی کے سوراخوں کی شکل میں۔</p>
<p>غالبا ‪”دروازہ‪” وہ پہلا لفظ تھا جس کو پڑھنا اور لکھنا بہت اچھا لگا تھا۔ کتنا آسان کہ ہر حرف کو علیحدہ علیحدہ لکھتے جاو اور ایک بامعنی خوبصورت لفظ تیار ہو جائے۔ شاید یہی وہ پہلا لفظ تھا جس کے معنی و مفہوم کے دروازے پہلی ہی بار میں ہی مجھ پر وا ہو گئے تھے، جس کے باہر ایک عجیب و غریب اور حیرت انگیز دنیا آباد ہے جبکہ گھر، گرچہ بہت کشادہ تھا، چڑیوں کے گھونسلوں کے مانند محسوس ہوتا تھا۔ جبکہ آج پچاس کے پیٹے میں داخل ہونے کے بعد دروازے کی لعنت اور گھونسلے کی برکت واضح ہونے لگی تو اب یہی دروازہ اندر کے بجائے باہر کی جانب سے کتنا من موہک لگتا ہے۔ لیکن یہ دروازہ تقریبا ایک سال سے مقفل تھا۔ ہوا یوں کہ والد صاحب کی زندگی میں ہی ہم سب یکے بعد دیگرے، تلاش معاش کے سبب دور دراز شہروں میں منتقل ہو گئے اور ان کی وفات کے بعد مجبورا گھر مقفل کرنا پڑا۔ ہم سب کے بچے بڑے ہونے لگے تھے ان کی تعلیمی مصروفیات، بورڈ کے امتحانات اور کالج میں داخلے کے مسائل آبائی وطن کی جانب لوٹنے کی اجازت ہی نہیں دیتے تھے تاہم امسال ہم سب بھائی بہنوں نے مل کر یہ پروگرام بنایا کہ گرمی کی چھٹیوں میں، ایک ہفتہ ہی سہی، ہم سب آبائی گھر میں میں گذاریں گے۔ میں دیگر بھائی بہنوں کی آمد سے ایک روز قبل ہی پہنچ گیا۔ اس طرح سے صاف صفائی کی ذمہ داری میری تھی۔</p>
<p>تین چار گھر چھوڑ کر کام کرنے والی ملازمہ کا گھر تھا۔ اس کے گھر جا کر دستک دی وہ اور اس کے گھر والے اپنوں کے مانند ملے۔ ملازمہ اور اس کے بیٹے نے آکر گھر کی صاف صفائی کی اور میں راشن لینے کے لیے بازا کی جانب چل پڑا۔ راستے میں متعدد جاننے والوں سے ملاقات ہوئی لیکن سب سے وقت کی تنگی کاذکر اور بعد میں ملنے کا وعدہ کرتے ہوئے، راشن کی دکان میں داخل ہو گیا، اور ایک ٹھیلے پر اجناس لدوا کر گھر پہنچا۔ ملازمہ نے در و دیوار کی قاعدے سے صفائی کر دی تھی، جھاڑو لگانے سے گرد و غبار بھی نسبتاََ کم ہو چکا تھا تاہم اب بھی بچپن والے گھر کی مخصوص خوشبوناپید تھی۔ مجھے لگا کہ ایک بار پورے گھر کی دھلائی پونچھائی سے وہ مخصوص خوشبو دوبارہ آنے لگے گی۔ ادھربیوی نے کچن سنبھال لیا اور میں دونوں بچوں کے ساتھ گھر کی دھلائی پونچھائی میں مصروف ہو گیا۔مختصرا، کھانا تیار ہونے تک ہم تینوں نے پورے گھر کو رہنے کے قابل بنا لیا۔ بس لائبریری کی صفائی رہ گئی تھی۔ بچوں کے ساتھ مل یہ طے کیا کہ لائبریری کی صفائی دوپہر کے کھانے کے بعد کی جائے۔ اس لیے ہم سب نہا دھو کے کھانے کے لیے بیٹھ گئے۔</p>
<p>دال روٹی چٹنی اور اچار پر مشتمل کھانا ہم سب نے بڑی ہی رغبت سے کھایا۔ بچوں کے مطابق محنت کے بعد سادے کھانے کی لذت بھی دو چند ہو جاتی ہے جبکہ میرا خیال تھا کہ اس گھر کی آب و ہوا میں ہی لذت ہے اور یہ لذت اس وقت اور بھی زیادہ تھی جب والدین کا سایہ ہمارے سروں پر موجود تھا۔ ان کا وجود سروں پر گہرے رنگ کے تنے ہوئے دبیز شامیانوں کے مانند تھا جن کے پرے موجود موسم کی سختی، بھوک پیاس کی شدت اور دیگر پریشانیاں عبور کرنے سے گھبراتی تھیں حتی کہ اس شامیانے نے اندیشہائے فردا کے خوفناک سایوں کو بھی اپنی دبازت اور گہرے رنگ کے باعث روک رکھا تھا۔ موجِ فکر بھی ایسی تھی کہ اپنی موت کا تصور بھی ایک جشن جیسا لگتا تھا۔ لیکن دونوں بچے ان باتوں کو سمجھنے سے قاصر تھے ان کے نزدیک میں بذات خود اتنا ذہین، قوی اور پختہ ہوں کہ مجھے کسی سہارے یا شامیانے کی ضرورت ہی نہیں۔ اس نوعیت کی باتیں کرتے ہوئے ہم نے کھانا ختم کیا۔ میں نے اٹھنے کی کوشش کی تو سر چکرایا اور میں سر پکڑ کر دوبارہ بیٹھ گیا۔ بیٹے احمد اور بیٹی شفا نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ میں نے مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے جواب دیا کہ شاید بلڈ پریشر بڑھ گیا ہے۔ پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے ابھی دوا کھاتے ہی ٹھیک ہو جاوں گا اور تم لوگوں کے ساتھ لائبریری کی صفائی کروں گا۔ لیکن سچ تو یہ تھا کہ سر کے پچھلے حصے سے شروع ہو کر گردن بلکہ بازؤں تک درد کی شدید لہر اٹھ رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ سر کے پچھلے حصے پر کوئی ایک تسلسل کے ساتھ چھوٹی سی ہتھوڑی سے چوٹ کر رہا ہے۔ بچے بھی میری اس بیماری سے واقف تھے لہذا دونوں یک زبان ہو کر بولے کہ آپ دوا کھا کر کچھ دیر کے لیے سو جائیں ہم دونوں لائبریری کی صفائی کر دیں گے۔</p>
<p>میں دوا کھا کر برآمدے میں بچھی چارپائی پر دراز ہو گیا‪۔‬ سر میں شدید دھمک ہنوز جاری تھی جن سے پیدا ہونے والی لرزش کو آنکھوں دانتوں اور جبڑوں تک محسوس کر رہا تھا۔ اور ہر دھمک پر آنکھیں حلقوم سے اور دانت جبڑوں سے باہر آنے کی کوشش کرتے ہوئے محسوس ہوتے۔ ذہن بٹانے کے لیے میں نے اپنی نگاہیں چڑیوں والی جالی پر مرکوز کر دیں۔ چڑیوں کی آمد و رفت جاری تھی۔ پورا برآمدہ ان کی چوں چوں سے بھرا پرا محسوس ہو رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ چڑیاں بھی مہمان یعنی ہماری آمد سے بہت خوش ہیں۔ یہی سب سوچتے ہوئے نہ جانے کب آنکھ لگ گئی۔ آنکھ لگتے ہی میں نے خواب میں دیکھا کہ دونوں بچے صفائی کرنے کے لیے جیسے ہی لائبریری میں داخل ہوئے چڑیوں کی استقبالیہ چوں چوں احتجاج میں تبدیل ہو گئی۔ لیکن بچوں نے ان کے احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے کتابوں کو یکے بعد دیگرےالماری سے نکالا۔ الماری کو کپڑے سے صاف کیا اور کتابوں کو پونچھ پونچھ کر رکھنا شروع کیا حتی کہ انہوں نے ساری الماریاں صاف کرکے کتابوں کو قرینے سے لگانے کا کام مکمل کر لیا صرف چڑیوں والی جالی کی پشت پر واقع الماری رہ گئی تھی جن میں جہازی سائز کی کتابیں لگی ہوئی تھیں۔</p>
<p>اس جالی والی الماری کے نیچے ایک کھڑکی تھی اور کمرے کی اس دیوار کی چوڑائی کھڑکی کے ایک پٹ کے برابر یعنی تقریبا ایک فٹ تھی۔کھڑکی میں برآمدے کی جانب سے سلاخیں نصب تھیں۔ احمد نے پہلے تو کھڑکی پر چڑھ کر کتابیں اتارنے کی کوشش کی لیکن ایسی صورت میں ایک ہاتھ سے جنگلے کی سلاخ پر گرفت بنائے رکھنا ضروری تھا اس لیے اس نے ایک میز کھسکائی اور ساری کتابیں اتار کر میز کے ایک جانب ڈھیر کر دیں۔ کتابوں اور جالی کے درمیان گوریوں کے گھونسلے اور پر وغیرہ تھے۔ اس نے جھاڑو سے جمع شدہ سارا کوڑا کرکٹ سمیٹ کر بالٹی میں ڈالنا شروع کیا۔ ایک گھونسلے میں دو انڈے بھی تھے جو بالٹی میں گرتے ہی ٹوٹ گئے۔ گوریا احتجاجا چوں چوں کرتی رہیں۔جالی سے نکل کر چھت سے لٹکے کنڈوں پر بیٹھتیں، اضطراری کیفیت کے سبب بار بار جھٹکے سےاڑ اڑ کر اپنا رخ تبدیل کرتیں اور پھر تیزی سے جالی کی جانب اڑتیں۔ میں پوری شدت سے چلایا کہ چڑیوں کے گھونسلوں کو مت چھیڑو لیکن حلق سے آواز ہی نہیں نکلی۔ پسینے سے شرابور سر کو ادھر ادھر جھٹکے دیے اور بلآخر اس ناپسندیدہ اور تکلیف دہ خواب کا مقابلہ کرنے کے لیے بیداری ایک طاقت ور مد مقابل کی صورت سامنے آئی۔ بیدار ہوتے ہی لائبریری میں پہنچا بیٹی نے خوشی خوشی بتایا کہ ہم نے لائبریری کو اچھی طرح صاف کر دیا اور بیٹے نے کہا جالی کے پیچھے والی اس الماری میں کتابوں کے پیچھے بہت سارا کوڑا کرکٹ جمع ہو گیا تھا میں نے اسے بھی صاف کر دیا۔ میں نے حسرت کے ساتھ کوڑے کرکٹ والی بالٹی میں جھانک کر دیکھا جس سے ٹوٹے ہوئے انڈوں کی بساند آ رہی تھی،ایسی بساند جو نہایت کڑوے کسیلے اور خود مختار لمحوں میں ہوا کرتی ہے، ایسی بساند جو حقیت اور خواب، حال اور مستقبل دونوں کو محیط ہو۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/basand/">بساند</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/basand/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>“اماں ھو مونکھے کاری کرے ماریندا” کا تاثراتی جائزہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/monkhay-kari-kray-marinda-tasurati-jaiza/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/monkhay-kari-kray-marinda-tasurati-jaiza/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[شین زاد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 26 Apr 2018 07:38:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[criticism]]></category>
		<category><![CDATA[Fariha Arshad]]></category>
		<category><![CDATA[Literary criticism]]></category>
		<category><![CDATA[Sheen Zad]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu literature]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[تنقید]]></category>
		<category><![CDATA[جدید ادب]]></category>
		<category><![CDATA[شین زاد]]></category>
		<category><![CDATA[فارحہ ارشد]]></category>
		<category><![CDATA[کہانی میرے دور کی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23432</guid>

					<description><![CDATA[<p>شین زاد: یہ کہانی صرف پسماندہ علاقے کی نہیں۔ تھر کی ہے جسی کی اپنی ثقافت ہے جس کی اپنی اقدار ہیں جس کی اپنی حدود ہیں تھر جہاں بیویاں شادی کے بعد تیس سال گزار دیتی ہیں لیکن اپنے خاوند کی موجودگی میں آنکھ اونچی نہیں کرتیں </p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/monkhay-kari-kray-marinda-tasurati-jaiza/">“اماں ھو مونکھے کاری کرے ماریندا” کا تاثراتی جائزہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">شین زاد نے لالٹین قارئین کو اس دور کے فکشن سے روشناس کرنے کے لیے ایک ادبی سلسلہ “<a href="https://laaltain.pk/category/literature/kahani-mere-daur-ki/" target="_blank" rel="noopener">کہانی میرے دور کی</a>” شروع کیا ہے۔ اس سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">تاثراتی جائزہ</div>
<p>مصنف جتنا کہنہ مشق اور تجربہ کار ہوتا ہے اس کی پکڑ بھی اتنی ہی سخت ہوتی ہے اور اس کی تخلیق کو اتنا ہی سخت شکنجے میں کس کر ناپا تولا اور پرکھا جاتا ہے۔</p>
<p>متن اساس تنقید کو اس سے ویسے تو بالکل بھی سرو کار نہیں ہوتا کہ مصنف کون ہے اس نے کیا کیا تخلیق کر رکھا ہے اور اسکا نام کتنا اونچا ہے اسے متن سے سر و کار ہوتا ہے میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ میں کسی بھی تخلیق کو مصنف سے جدا رکھ کر دیکھوں اور پرکھوں۔</p>
<p>یہاں ویسے تو یہ چلن عام ہے کہ دوستوں کے کمزور افسانوں کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اور ان کی تعریف میں آسمان کے قلابے ملا دیے جاتے ہیں اور جواب میں دوست بھی پھر خوب دوستیاں نبھاتے دکھائی دیتے ہیں اور احسان اتارتے نظر آتے ہیں خیر یہ ایک ضمنی بات تھی جو بالعموم ادب میں اور باالخصوص فیس بک پر دکھنے والے رویے کے بارے تھی۔</p>
<p>اب زرا چلتے ہیں مذکورہ تخلیق کی جانب</p>
<p>میں اپنی پوری ایمان داری برتتے ہوئے متن اساس تنقید کی ہی کوشش کروں گا اور مصنفہ کی ذات کو تخلیق سے جدا رکھ کر اپنا تجزیہ پیش کروں گا لیکن اس سے پہلے کچھ مصنفہ کے بارے میں محترمہ فارحہ ارشد کم و بیش بیس پچیس یا اس سے کچھ کم یا اوپر سالوں سے پاکستان کے مختلف ڈائجسٹوں میں لکھ رہی ہیں اور ڈائجسٹی لکھاریوں میں ایک بڑا نام اور اہم مقام رکھتی ہیں پچھلے قریب تین سالوں سے وہ فیس بک کے بہت سے فورمز پر بھی لکھ رہی ہیں اور ان کے “زمین زادہ” اور “حویلی مہر داد کی ملکہ” جیسے شاہکار افسانے بھی ہم نے پڑھ رکھے ہیں ان کے ایک اور افسانے کو پڑھتے ہوئے ان کے اس ہی معیار کی توقع رکھنا بے شک ان کے قاری کا حق ہے میں ان کے اس افسانہ پر انہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔</p>
<p>آئیں اب متن میں جھانکیں۔</p>
<p>میں ہمیشہ کہتا ہوں جب تک مصنف کا حسی تجربہ تخلیق کا حسی تجربہ بن کر نہیں ابھرتا تخلیق تحریر تو رہتی ہے فن پارہ نہیں بنتی ایسا ہی کچھ مذکورہ تحریر کا معاملہ بھی ہے۔</p>
<p>تھر جیسے پسماندہ علاقے میں بسنے والی چودہ پندرہ سال کی ایک لڑکی کی کہانی جو اول اول اپنے باپ کی زبانی ایک ڈاکٹر کا ذکر سن کر اسے اپنے من کا راجہ بنا بیٹھتی ہے اور پھر ایک مغالطے کی پاداش میں کاری کر دی جاتی ہے۔</p>
<p>میں اگر ایک جملے میں تخلیق کے مرکزی خیال کا احاطہ کروں تو وہ یہ ہو گا<br>
“معاشرہ اتنا پسمادہ نا خواندہ اور شدت پسند ہے کہ کسی کے تصور اور تخیل کو بھی بنیاد بنا کر اس کی جان لے لینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا”</p>
<p>بالکل درست ایسا ہی ہے لیکن اس بات کو فنی مہارت کے ساتھ تخلیق کا حصہ بنانا ہی ایک مشاق لکھاری کی مشاقی ہوتا ہے یہ تخلیق اپنی ابتداء سے ہی ایک مصنوعی تاثر لے کر ابھرتی ہے اور آخر تک وہ تاثر تخلیق کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔</p>
<p>“جانے کب اسے یہ لگنے لگا کہ کوئی اٹھتے، بیٹھتے، سوتے، جاگتے اس کے ساتھ سائے کی طرح جڑا رہتا ہے۔<br>
پانی بھرنے کے لئے مٹکا سر پہ رکھے وہ سہج سہج کر یوں زمیں پہ پاؤں دھرتی گویا انڈوں پہ چل رہی ہو<br>
من کے بھیتر کیا چل رہا تھا وہ تو خود بھی بڑی بے خبر تھی۔<br>
کنویں میں جھانکتی تو اپنا من اسے اس کنویں سے بھی کہیں گہرا لگنے لگتا۔</p>
<p>دانتوں پہ دانت جمائے سانس تک روک لیتی کہ من کی آواز سنے۔ جبڑے دُکھنے لگتے، سانس بند ہونے لگتی مگر کوئی آواز سنائی نہ دیتی۔<br>
سکھیاں سہیلیاں کیا کہہ رہی ہیں کس بات پہ دبے دبے قہقہے تھر کی کُھلی فضا میں گونجتے ہیں وہ بس گُم صم سی ان کی شکلیں دیکھنے لگتی۔<br>
چُنری کا گھونگھٹ اور گہرا کرتی۔ مٹکا بھر کے سر پہ رکھتی اور ریت میں قدم دھنسا کر آہستہ آہستہ چلنے لگتی۔”</p>
<p>اس ابتدائی پیرا گراف کا مطالعہ کریں تو ہمیں لگتا ہے یہ کسی وڈیرے کی پچیس سال کی خوبرو الہڑ بیٹی کا ذکر ہے جس کے ناز و انداز سے دوشیزگی اور دلبری ٹپک ٹپک پڑتی ہے لیکن کہانی کے درمیان میں جا کر کھلتا ہے کہ یہ کوئی پچیس سال کی بانکی ناری نہیں چودہ سال کی کم سن بچی کا ذکر ہے جس کا تعلق تھر جیسے پسماندہ علاقے کے ایک غریب گھرانے سے ہے۔</p>
<p>تھر جس کی زندگی پر میری نگاہ ایک تو اس لیے بہت گہری رہی کہ مجھے صحرا سے عشق ہے اور میں نے کچھ وقت وہاں گزارا ہے دوسرا تھر کے ایک بزرگ سے تعلق داری ہے جن کے توسط سے بھی تھر کو بہت قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا تھر میں شاید ہی ایسا کوئی غریب گھرانہ ہو جہاں تین وقت کی روٹی میسر ہو تھر کی عورتیں سخت جان اور کرخت مزاج ہوتی ہیں انہیں مردوں کے ساتھ برابر بلکہ شاید ان سے بھی زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اس لیے جس نازک ناری کا ذکر کہانی کی ابتداء میں کیا گیا ہے وہ کردار کسی تصوراتی تھر میں تو شاید بستا ہو حقیقت میں اس کے وجود کا تصور بھی محال ہے مرکزی کردار کا بنا گیا شخصی خاکہ کہانی کے پلاٹ سے میل نہیں کھاتا۔</p>
<p>“یہ کوئی بہت پرانا واقعہ نہیں تھا۔<br>
کچھ روز پہلے ابا نے ساتھ کے گاؤں کا واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ اردگرد کے گاؤں میں بچوں کی اموات کا ایک سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور آہستہ آہستہ سارے تھر میں پھیل رہا ہے۔ ایک تنظیم کسی بڑے شہر سے آئی ہے اور انہوں نے ساتھ والے گاؤں کے قریب ایک کیمپ لگایا ہے۔ وہ لوگ بچوں کی دیکھ بھال کے لئے بہت محنت کر رہے ہیں ان میں ڈاکٹر سانول مراد بھی ہے جو بہت تسلی سے بچوں کو دیکھتا اور انہیں دوا دیتا ہے۔ آرام نہ آنے کی صورت میں بچوں کو علاج کے لئے وہ ڈاکٹر اور اس کی تنظیم بڑے شہر کے ہسپتال لے جاتی ہے۔</p>
<p>بھائی کا بیٹا بیمار ہوا تو اسے بھی ڈاکٹر سانول کے کیمپ میں لے جایا گیا۔ کچھ روز کے بعد جب وہ صحتیاب ہو کر گھر آیا تو اٹھتے بیٹھتے سب کی زبان پہ ایک ہی نام تھا ڈاکٹر سانول مراد۔</p>
<p>داکٹر سانول مراد ایسا خوبرو جوان ہے۔ ڈاکٹر سانول مراد ایسے محبت سے بچوں کو دیکھتا ہے۔<br>
ڈاکٹر سانول مراد ایسے پہنتا ایسے باتیں کرتا ہے۔”<br>
درج بالا پیرا پڑھتے ہوئے شدت سے احساس ابھرتا ہے کہ ڈاکٹر سانول کا ذکر شامل کرنے کے لیے کس مصنوعی انداز میں یہ حصہ لکھا گیا ہے جو حقیقت میں اس پوری تخلیق کی بنیاد ہے لیکن اس حصے کی شدید مصنوعی فضا نے پوری تخلیق کو گہن لگا دیا اور تحریر ایک ڈائجسٹی کہانی بن کر رہ گئی<br>
اس کے بعد چودہ پندرہ سال کی تھر کی باسی اس کمسن لڑکی کے خوابوں خیالوں اور تصورات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو اس کردار کی بنت کو مزید کمزور بنا دیتا ہے جس سے تحریر بے جا طوالت کا بھی شکار ہو گئی ہے اور روائتی سطحی بھی ایسے خوابوں خیالوں اور تصورات کی داستانوں سے ڈائجسٹوں کے پیٹ بھرے پڑے ہیں دکھانا مقصود ہے کہ اس نے خیالوں میں ایک سانول کا کردار گھڑا ہے لیکن اس کا بیان اتنا روائیتی ہے کہ قاری سوچے بنا نہیں رہ پاتا کہ ادب کس رخ بڑھ رہا ہے اسے ادب کی تنزلی پر منتج نہ کیا جائے تو کیا کیا جائے آخر؟؟</p>
<p>رہی سہی کسر اس ٹکڑے نے پوری کر دی<br>
زرا دیکھیں کس غیر حقیقی اور مصنوعی انداز میں یہ حصہ تحریر کیا گیا ہے جس کے منطقی جواز کی کوئی صورت مجھے تحریر میں نہیں ملی<br>
“چارہ سر پہ اٹھائے باہر سے آئی تو بھائی کو مرغ کو مکھن کھلاتے دیکھ کر اس پہ پل پڑی۔<br>
یہ تُو کیا ہر وقت بے کار کی چیزوں میں پڑا رہتا ہے تیری بیوی، ماں اور بہن سارا دن کام میں جُتی رہتی ہیں اور تُو یہاں بیٹھ کر مرغ کو مکھن کھلا رہا ہے۔ بیوی تیری چوتھا بچہ جننے والی ہے اسے کھانے کو خشک روٹی مشکل سے ملتی ہے اور تُو یہاں میلے ملاکھڑے کے لیے مرغ کو مکھن کے نوالے کھلا کر تیار کر رہا ہے۔<br>
وہ بھائی کے ساتھ بیٹھے جمن اور شناور کو بھی ماتھے پہ سو بل ڈال کر غصے سے دیکھنے لگی۔”</p>
<p>کیا ایک چودہ پندرہ سال کی کم سن لڑکی خود سے پانچ آٹھ سال بڑے بھائی پر یوں پل پڑنے کی جرات کر سکتی ہے وہ بھی جہاں ایک طرف یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہو کہ عورت کتنی جکڑی ہوئی اور مجبور و لاچار ہے اور اپنی تکلیف پر بھی اف نہیں کر سکتی تھر جیسے علاقے میں تو چچا زاد تایا زاد کےلڑکی کی تنہائی میں گھر میں آ جانے پر بھی لڑکی کو کاری کر دیا جاتا ہے وہاں جمن کا بھائی کے سامنے اسے دبوچ لینا کتنا حقیقی یا مصنوعی ہے اس کا فیصلہ قاری خود کر سکتا ہے</p>
<p>“چل ری۔۔۔ دو ہتڑ لگاؤں گا۔ میرے سامنے ایک لفظ نہ بولنا۔<br>
اورہم مردوں کی یہ شان نہیں کہ گھر کے کام کریں تم عورتیں کس لیے ہو۔ اور بھرجائی تیری کو چوتھا بچہ جنوا رہا ہوں تو یہ بھی تو میری مردانگی ہے ”<br>
“۔ وہ آخری جملہ آہستہ سے کہہ کر جُمن اور شناور کے ہاتھ پہ ہاتھ مار کر ہنس دیا تو سُکھاں کے تو مانو تلووں میں لگی اور سر پہ جا بجھی۔ ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا لے کر اس کی طرف لپکی”<br>
کون سا بے غیرت بھائی ہے جو چودہ سال کی بہن کو غیر مردوں کے سامنے اپنی مردانگی کا پاٹ پڑھا رہا ہے اور اس پر اوباش لفنگوں کی طرح کزن کے ہاتھ پر ہاتھ مار رہا ہے<br>
” آ تیری مردانگی بتاؤں۔۔۔ ”<br>
اور کون سی چودہ سال کی بہن ہے جو جواب میں ڈنڈا لے کر بھائی کو مردانگی بتانے دوڑ کھڑی ہوئی ہے یہ کردار کسی الٹرا موڈ شہری سوسائٹی کے کسی مغرب زدہ گھرانے کے تو ہو سکتے ہیں تھر کے کسی غریب گھر کے نہیں کم سے کم مجھے یہ ماننے میں عار ہے۔<br>
“جمن نے اسے بھائی کی طرف بھاگتے دیکھ کر اسے پیچھے سے جا لیا۔ نرم نرم گداز بدن میں انگلیاں دھنس کر رہ گئیں<br>
” تُو تو چھوڑ۔۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک ناکارہ۔ ” وہ اس سے اپنا آپ پوری طاقت سے چھڑانے لگی مگر جمن کی بانہوں کا گھیرا بہت مضبوط تھا۔<br>
” تم سب ایک سے ناکارہ۔ اور ایک وہ سانول ہے۔۔۔۔ ”<br>
” اے ری کون سانول ؟۔۔۔۔ ” وہ اسے چھوڑ کر سینہ تان کر سامنے کھڑا ہوگیا<br>
کیا کوئی کسی غیر حقیقی تصوراتی کردار کا موازنہ کسی حقیقی شخص کے ساتھ یوں کر سکتا ہے کردار کی تحلیل ِ نفسی کریں تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ایک پسماندہ علاقے کی چودہ پندرہ سال کی کمسن لڑکی نارمل حالات میں ایسا نہیں کر سکتی کہ وہ کسی حقیقی شخص کے ساتھ یوں برملا کسی تصوراتی کردار کا موازنہ کرے اور اس کردار کا یوں بر ملا اظہار کرے وہ بھی ایک ایسے ماحول میں جہاں کاری کیے جانے کے واقعات عام ہوں اور کمسنی سے ہی لڑکیاں اپنی حدود و قیود جانتی ہوں۔</p>
<p>” جا جا تیرا کوئی کام نہیں۔ اور میرے منہ نہ لگنا اسی ڈنڈے سے تیرا پنجرچُورا بنا کے پھانک جاؤنگی ”<br>
درج بالا جملہ دیکھیں کیا تو تڑاخ ہے کیا اعتماد ہے واہ وہ بھی سندھ کے ایک دیہی علاقے کی ایک کم سن لڑکی کا<br>
مجھے ایسی نڈر لڑکی سے تو ملنے کا اشتیاق ہو چلا اب ساری لڑکیاں اتنی نڈر اور بے باک ہو جائیں یہ میری دعا ہے</p>
<p>لیکن یہ کیا آگے چل کر بکری کی طرح سب مان گئی یہ لڑکی اور اف تک نہیں کی یہ کیا تضاد ہے ایسی اعتماد والی لڑکی کو تو شادی سے ہی انکار کر دینا چاہیے تھا اور خوابوں کے سانول کے ساتھ بیاہی جانے کی ضد کرنی چاہیے تھی لیکن ایسا تو کچھ نہیں ہوا وہ باغی نڈر لڑکی شوہر کے ہاتھوں دھنکی جاتی رہی لیکن اس کے آگے بغاوت نہ کی۔ کاری ہو گئی لیکن جرگے کے سامنے آواز نہ اٹھائی اور دوسری طرف وہ ڈنڈا اٹھا کر بڑے بھائی پر پل پڑی اور ڈنڈے سے جمن کا پنجر چورا بنا کر پھانک جانے کی باتیں؟؟؟</p>
<p>اپنا تجزیہ آگے بڑھانے سے پہلے زرا عنوان کی طرف چلتے ہیں<br>
جیسا کہ تحریر کے آخر میں عنوان جو کے سندھی زبان میں ہے اور اس کا ترجمہ بھی درج ہے<br>
اگر اس ترجمہ کو درست مان لیا جائے تو پھر اصل عنوان کے الفاظ یہ ہونے چاہیں<br>
امان ھو مون کی کاری کری ماری چھڈیندا<br>
یا<br>
امان اُنھن مون کی کاری کری ماری چھڈیندو<br>
اور اگر عنوان کے الفاظ کو درست لیا جائے تو ترجمہ بنے گا<br>
اماں وہ مجھے کاری کر کے مارتا ہے<br>
میرے خیال میں اتنے تردد میں پڑنے کے بجائے اگر تحریر کا عنوان ترجمہ کو ہی کر لیا جاتا<br>
یعنی<br>
“اماں وہ مجھے کاری کر کے مار دیں گے”<br>
تو بہترین ہوتا<br>
اور زبان کا بگاڑ بھی نہ در آتا</p>
<p>ہر مبصر اور ناقد کا مشاہدہ بھی رائے دیتے ہوئے اتنا ہی گہرا ہونا چاہیے جتنا کہ تخلیق کار کا تخلیق کرتے ہوئے۔</p>
<p>یہ کہانی صرف پسماندہ علاقے کی نہیں۔ تھر کی ہے جسی کی اپنی ثقافت ہے جس کی اپنی اقدار ہیں جس کی اپنی حدود ہیں تھر جہاں بیویاں شادی کے بعد تیس سال گزار دیتی ہیں لیکن اپنے خاوند کی موجودگی میں آنکھ اونچی نہیں کرتیں بیٹیاں جوان ہو جائیں تو چچا تایا تو کجا باپ کے سامنے آنے سے بھی گریز برتنے لگتی ہیں اور بہنیں چھوٹے بھائیوں کے سامنے بھی اونچی آواز میں بات نہیں کرتیں بڑا بھائی تو دور کی بات۔</p>
<p>تھر میں کیوں کہ بے حد خشک سالی رہتی ہے اور تھر واسی خانہ بدوشوں جیسی زندگی بسر کرتے ہیں اس لیے ان کے رہن سہن اور بودو باش عام دیہی زندگی سے بہت مختلف ہوتی ہے۔</p>
<p>ایسے میں بھائی کا جوان بہن کو مردانگی کا پاٹ پڑھانا اور بہن کا ڈنڈا لے کر اس پر پل پڑنا کسی صورت ایڈجسٹ ایبل نہیں وہ بھی غیر مردوں کی موجودگی میں<br>
ایسا تو شہری غریب یا مڈل کلاس گھرانوں میں بھی ہونا بعید از قیاس ہے۔<br>
اور اس کا کوئی منطقی جواز نہیں<br>
ریئر کیسز میں شاید ایسا ہو لیکن افسانہ اجتماعی معاشرتی رویوں کا عکاس ہوتا ہے۔</p>
<p>قصے کی ابتدا میں ڈاکٹر سانول کا ذکر جس طرح کیا گیا ہے اور اس کا نام زبان زدِ عام و عوام دکھایا گیا ہے تو اتنے مشہور ڈاکٹر کے تصور سے لڑکی عشق کر بیٹھتی ہے لیکن جب وہ بھائی کے اور جمن کے سامنے سانول کا ذکر کرتی ہے تو حیرانگی کی بات ہے کہ ان کا دھیان گاؤں کی مہان اور مشہور ہستی ڈاکٹر سانول کی طرف نہیں جاتا جب کہ اتنی مشہور اور ایسی ہستی کا نام تو استعارہ بن کر گردش کرنے لگتا ہے چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں میں یہ بات بھی بڑی غیر منطقی لگی۔</p>
<p>اس کے بعد کا باقی سارا پلاٹ بھی مصنوعی اور فطری بہاؤ سے خالی سوچ سوچ کر لکھا ہوا ہے<br>
میری رائے میں یہ تحریر بارِ دگر لکھی جانے کی متقاضی ہے<br>
ہم نے مصنفہ کے اچھے افسانے بھی پڑھ رکھے ہیں اور امید ہے کہ وہ اس افسانے کو بھی وقت کے ساتھ پکا کر کچھ بہتر بنا لیں گی<br>
اس دعا کے ساتھ کہ مصنفہ کا قلم جاری و ساری رہے رد و قبول تسلیم<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">اماں ھو مونکھے کاری کرے ماریندا</div>
<p>جانے کب اسے یہ لگنے لگا کہ کوئی اٹھتے، بیٹھتے، سوتے، جاگتے اس کے ساتھ سائے کی طرح جڑا رہتا ہے۔<br>
پانی بھرنے کے لئے مٹکا سر پہ رکھے وہ سہج سہج کر یوں زمیں پہ پاؤں دھرتی گویا انڈوں پہ چل رہی ہو<br>
من کے بھیتر کیا چل رہا تھا وہ تو خود بھی بڑی بے خبر تھی۔<br>
کنویں میں جھانکتی تو اپنا من اسے اس کنویں سے بھی کہیں گہرا لگنے لگتا۔<br>
دانتوں پہ دانت جمائے سانس تک روک لیتی کہ من کی آواز سنے۔ جبڑے دُکھنے لگتے، سانس بند ہونے لگتی مگر کوئی آواز سنائی نہ دیتی۔<br>
سکھیاں سہیلیاں کیا کہہ رہی ہیں کس بات پہ دبے دبے قہقہے تھر کی کُھلی فضا میں گونجتے ہیں وہ بس گُم صم سی ان کی شکلیں دیکھنے لگتی۔<br>
چُنری کا گھونگھٹ اور گہرا کرتی۔ مٹکا بھر کے سر پہ رکھتی اور ریت میں قدم دھنسا کر آہستہ آہستہ چلنے لگتی۔<br>
یہ کوئی بہت پرانا واقعہ نہیں تھا۔<br>
کچھ روز پہلے ابا نے ساتھ کے گاؤں کا واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ اردگرد کے گاؤں میں بچوں کی اموات کا ایک سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور آہستہ آہستہ سارے تھر میں پھیل رہا ہے۔ ایک تنظیم کسی بڑے شہر سے آئی ہے اور انہوں نے ساتھ والے گاؤں کے قریب ایک کیمپ لگایا ہے۔ وہ لوگ بچوں کی دیکھ بھال کے لئے بہت محنت کر رہے ہیں ان میں ڈاکٹر سانول مراد بھی ہے جو بہت تسلی سے بچوں کو دیکھتا اور انہیں دوا دیتا ہے۔ آرام نہ آنے کی صورت میں بچوں کو علاج کے لئے وہ ڈاکٹر اور اس کی تنظیم بڑے شہر کے ہسپتال لے جاتی ہے۔<br>
بھائی کا بیٹا بیمار ہوا تو اسے بھی ڈاکٹر سانول کے کیمپ میں لے جایا گیا۔ کچھ روز کے بعد جب وہ صحتیاب ہو کر گھر آیا تو اٹھتے بیٹھتے سب کی زبان پہ ایک ہی نام تھا ڈاکٹر سانول مراد۔<br>
داکٹر سانول مراد ایسا خوبرو جوان ہے۔ ڈاکٹر سانول مراد ایسے محبت سے بچوں کو دیکھتا ہے۔<br>
ڈاکٹر سانول مراد ایسے پہنتا ایسے باتیں کرتا ہے۔۔۔۔<br>
سُکھاں چپ چاپ سر نہوڑائے ڈاکٹر سانول مراد کا سراپا من ہی من میں مجسم کرتی رہتی۔<br>
کنویں پہ لڑکیاں ایک دوسرے کو ڈاکٹر سانول مراد کا نام لے لے کر چھیڑنے لگیں تو جانے اسے کیوں حسد سا محسوس ہونے لگا۔<br>
اسے لگتا ڈاکٹر سانول مراد صرف اسی کے خوابوں کا جوان ہے۔<br>
ڈاکٹر سانول مراد سے اس کے خوابوں کے جوان، سانول تک پہنچانے میں جہاں اس کے اردگردکی عورتوں اور لڑکیوں کا قصور تھا اس سے کہیں زیادہ اس کی اپنی چڑھتی ندی جیسی عمر بھی خطاکار تھی۔<br>
کب چال میں ٹھمریاں جاگیں اور کلائیوں میں مرداروں کی ہڈیوں سے بنی سفید چوڑیاں بجنے لگیں وہ سمجھ نہ پاتی اورخود بھی سب کے ساتھ حیران اور بولائی پھرتی۔<br>
اماں کے ساتھ مویشیوں کو ہانکتے، لکڑیاں چُنتے، گج میں شیشے ٹانکتے جانے کب وہ ان ہاتھ سے بنائے گج کے شیشوں میں اپنا عکس دیکھ کر مسکرانے لگی۔<br>
ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی کہ وہ سمجھ پاتی۔<br>
اب تو وہ اسے سنائی بھی دینے لگا تھا اور دکھائی بھی۔<br>
جانے کس شہر کا باسی تھااور کہاں سے آیا تھا وہ مارے حیا کے، کسی سے پوچھ تک نہ پاتی۔<br>
آٹا گوندھتے روٹیاں پکاتے وہ مسلسل مسکراتی رہتی اور گھونگھٹ کو اور لمبا کھینچ لیتی۔<br>
وہ ادھر ہی اس کے پاس پیڑھی کھینچ کے بیٹھ جاتا اور اس سے میٹھی میٹھی سرگوشیاں کرتا۔<br>
پانی بھرتے ہوئے وہ اس کے قریب آتا اور سرگوشیوں میں ایسا کچھ کہہ دیتا کہ وہ سارا وقت لجاتی اور سمٹتی رہتی۔<br>
جڑی بوٹیاں توڑنے جاتی تو وہ وہاں بھی پہنچ جاتا۔ اس کی خوشبو ان جنگلی بوٹیوں کی مہک کے باوجود پہچان لیتی۔<br>
میٹھی اورمن اندر مدھ جگانے والی ایسی خوشبو جس نے اسے چودہ سال کی کم سنی میں ایک دم جوان عورت کا روپ دے دیا تھا۔<br>
قحط بھرے وقت میں جب سب کا روپ اور حُسن کُملا گیا تھا اور لڑکیوں کے منحنی وجود سُکڑنا شروع ہوگئے تھے ایسے میں وہ بھر پور انگڑائی لے کر پُر زور شباب کو چولی کے اندر قابو نہ کر پا رہی تھی۔<br>
چولی کیا تنگ ہوئی کہ چُنری کا گھونگھٹ بھی اسے چھپانے میں ناکام نظر آنے لگا۔<br>
ماں نے اسے مسکراتے، لجاتے اور خود سے باتیں کرتے دیکھا تو جھٹ دو چار صلواتیں سنا ڈالیں اور گھر کے مردوں کے سامنے بیر بہوٹی بننے کے سارے ازبر گُر اسے چوٹی سے پکڑ<br>
کے سکھانے لگی۔<br>
بھابھی تو جیسے بے ہوش ہوتے ہوتے بچی کہ وہ اتنی دیر سے گج میں شیشے ٹانکتے ہوئے کس سے باتیں کر رہی ہے اور کس کی باتوں پہ زور زور سے کھلکھلا کے ہنس رہی ہے۔ اردگرد دور تک گہری مشکوک نگاہ سے تاڑنے کے بوجود جب کوئی نظر نہ آیا تو گھبرا کر ساتھ والے گھر اپنی سہیلی کے پاس جا کر داستان کو مرچ مصالحہ لگا کر سنانے لگی۔<br>
وہ تو خود کسی اور جہان میں تھی ماں کے غیض وغضب بھرے چہرے پہ اسے بس لب ہلتے نظر آتے<br>
بھابھی کی مشکوک نگاہوں پہ تو اسے ہنسی آنے لگتی۔<br>
سب گونگے بہرے لگنے لگے کیونکہ ایک منٹھار سی سرگوشی اس کے من اور تن کا احاطہ کئے رکھتی۔ وہ کسی وقت ذرا سا دور ہوتا تو بھٹائی کی وائی اور سچل سر مست کے اشعار سنائی دینے لگتے۔<br>
صبح طلوع فجر سے پہلے اٹھ کر چکی پیسنے اور جانوروں کو چارہ ڈال کر ان کا دودھ دوہنے تک وہ اس کے آگے پیچھے ہنستا، باتیں کرتا رہتا۔<br>
ویرو کی شادی پہ اس نے یوں لہک لہک کر گیت گائے کہ سب حیرت زدہ سے اسے دیکھتے رہ گئے۔<br>
اور جھک کر گول گول دائرے میں رقص کرتے وہ اس کی بلائیں لیتا رہا اور وہ یوں گھومی جیسے سارے تھر کو انگلیوں کی پوروں پہ گھما نے کا عزم کئے بیٹھی ہو۔<br>
سہیلیاں اسے ٹہوکے دے کر چھیڑتیں تو وہ گلنار سی ہنس ہنس کر دوہری ہونے لگتی۔<br>
ماں اور بھابھی کی طرح گھر میں مردوں کے حصے کے بھی کام کرتی اور بھائی کو مُرغ اور بکرے لڑانے کے لیے تیاریاں کرتے دیکھتی تو آگ بگولہ ہو جاتی۔<br>
” میرا سانول تو ایسا نہیں ہے۔ میرے ہر کام میں میرے ساتھ ہاتھ بٹاتا ہے۔ وہ جُمن، سارنگ، رامن سب سے زیادہ مختلف ہے اور سوہنا جوان بھی۔”<br>
وہ اتراتی ہوئی انہیں گھور کر یوں دیکھنے لگتی جیسے وہ سب کیڑے مکوڑے ہوں۔<br>
چارہ سر پہ اٹھائے باہر سے آئی تو بھائی کو مرغ کو مکھن کھلاتے دیکھ کر اس پہ پل پڑی۔<br>
” یہ تُو کیا ہر وقت بے کار کی چیزوں میں پڑا رہتا ہے تیری بیوی، ماں اور بہن سارا دن کام میں جُتی رہتی ہیں اور تُو یہاں بیٹھ کر مرغ کو مکھن کھلا رہا ہے۔ بیوی تیری چوتھا بچہ جننے والی ہے اسے کھانے کو خشک روٹی مشکل سے ملتی ہے اور تُو یہاں میلے ملاکھڑے کے لیے مرغ کو مکھن کے نوالے کھلا کر تیار کر رہا ہے۔ ”<br>
وہ بھائی کے ساتھ بیٹھے جمن اور شناور کو بھی ماتھے پہ سو بل ڈال کر غصے سے دیکھنے لگی۔<br>
” چل ری۔۔۔ دو ہتڑ لگاؤں گا۔ میرے سامنے ایک لفظ نہ بولنا۔<br>
اورہم مردوں کی یہ شان نہیں کہ گھر کے کام کریں تم عورتیں کس لیے ہو۔ اور بھرجائی تیری کو چوتھا بچہ جنوا رہا ہوں تو یہ بھی تو میری مردانگی ہے<br>
“۔ وہ آخری جملہ آہستہ سے کہہ کر جُمن اور شناور کے ہاتھ پہ ہاتھ مار کر ہنس دیا تو سُکھاں کے تو مانو تلووں میں لگی اور سر پہ جا بجھی۔ ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا لے کر اس کی طرف لپکی<br>
” آ تیری مردانگی بتاؤں۔۔۔ ”<br>
جمن نے اسے بھائی کی طرف بھاگتے دیکھ کر اسے پیچھے سے جا لیا۔ نرم نرم گداز بدن میں انگلیاں دھنس کر رہ گئیں<br>
” تُو تو چھوڑ۔۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک ناکارہ۔ ” وہ اس سے اپنا آپ پوری طاقت سے چھڑانے لگی مگر جمن کی بانہوں کا گھیرا بہت مضبوط تھا۔<br>
” تم سب ایک سے ناکارہ۔ اور ایک وہ سانول ہے۔۔۔۔ ”<br>
” اے ری کون سانول ؟۔۔۔۔ ” وہ اسے چھوڑ کر سینہ تان کر سامنے کھڑا ہوگیا<br>
” جا جا تیرا کوئی کام نہیں۔ اور میرے منہ نہ لگنا اسی ڈنڈے سے تیرا پنجرچُورا بنا کے پھانک جاؤنگی ”<br>
وہ اس وحشی عورت کی طاقت سے ایسا دم بخود ہوا کہ اسے گرا کر اپنی طاقت آزمانے کے خواب دیکھنے لگا۔<br>
” بڑا آیا پوچھنے کہ سانول کون ہے۔ ”<br>
وہ گدرے جسم پہ چبھے اس کے ناخنوں سے خون بھری خراشیں دیکھ کر نتھنے پھلائے سو سو بل کھاتی رہی۔<br>
” تُو ہے سہی اس کا مقابلہ کرنے والا۔ اور تُو کیا پورے تھر کی زمین پہ<br>
اس جیسا چھورا کوئی نہیں۔ ”<br>
۔۔۔۔ وہ خود سے جانے کتنی دیر ہمکلام رہی۔ سانول اس کی خون بھری خراشوں کو بوسے دیتا رہا اور بند دروازے سے کھلکھلانے کی آواز باہر آتی رہی۔ بچے کو کھانا کھلاتی بھابھی کے ہاتھ خوف سے کانپتے رہے اور ماں ایک سوچ بھری نگاہ سے دروازے کو گھورتی رہی۔<br>
اکیلی جھومتی، گاتی اور اکیلی ہی باتیں کرنے لگی تو تھر کی عورتیں انگلیاں دانتوں تلے چبانے لگیں۔<br>
ماں نے ابا سے مشورہ کر کے اپنے بھائی کے بیٹے جمن سے اس کی پدھری (بات پکی) کر دی۔<br>
ماموں نے بیٹے کے لئے سنگ ہی نہیں مانگا بیاہ کی تاریخ بھی رکھ دی۔<br>
وہ جمن کی ساری چالیں سمجھتی تھی۔ مگر کیا کرسکتی تھی۔<br>
اس روز اسے لگا جیسے سانول روٹھ گیا ہو وصال کی وائیں لبوں کے اندر دم توڑنے لگیں۔ اور ہجر کے آنسوؤں سے بھری آواز ریت کے ٹیلوں میں یوں سرسرانے لگتی جیسے اس کی آواز نہیں ریت میں سرسراتی بلائیں ہوں۔<br>
جُمن کی دولہن کے روپ میں سانول کی طلب نے اور بھی بیقرار کر ڈالا۔<br>
عشق کی اڑان تو تلور طیور سے بھی تیز نکلی۔<br>
جسم نے عشق کا بوجھ اٹھانے سے بے بسی ظاہر کی تو روح تھر کے ریگستانوں میں، صحراؤں میں ببول کے درختوں کی ٹہنیوں پہ ننگے پاؤں بھاگتی لہولہان ہونے لگی۔<br>
کلائی میں بندھے دھاگے کو کلائی کے چوگرد پھیرتی صرف ایک ہی جملہ دہراتی رہی۔ ’ تمہاری ہوں سانول’<br>
عشق کی طلب، بھٹکتے ہوئے پنکھوؤں کی طرح اس کے من منڈیر پہ منڈلانے لگی۔<br>
ایک خوشبو کا جھونکا آیا اور وصل کی سرگوشیاں کرتا اس کی بلائیں لینے لگا۔<br>
وہ سہاگ کی پہلی رات تھی اور وہ بندِ قبا کھولے اسانول کے سامنے تھی۔ وہ اس کی قبا کے اندر وجود میں اتر کرپنکھ بن کر اڑنے لگا۔ وصل کی بارش نے پر بھگوئے تو وہ بھاری بھیگے پروں سمیت وہیں کہیں اس کے اندرہی بیٹھ گیا اور اڑنا بھول گیا۔<br>
سرگوشیوں میں جمن نے اپنے نام کی بجائے سانول کا نام سنا تو ایک دم الگ ہو کر دور جا کھڑا ہوا۔<br>
“کون ہے ری یہ سانول۔۔۔۔” وہ غصے سے پوچھتا رہا اور وہ انجان بنی آنکھوں پہ بازو دھرے نیم خوابیدہ سی خاموش لیٹی رہی۔<br>
رات کے کسی پہر اس کے بدن کی حدت جمن کوایسی تپش دینے لگی کہ اس نے خود کو بہتیرا روکا مگر اسے لگتا اس کا غصہ اس کے سوا نکل نہیں سکتا۔<br>
ہر رات ہی وہ پہلے سے بڑھ کر اس کا جسم روئی کی طرح دھنکنے لگا۔<br>
کاہل مرد تھا۔ چھپڑ ہوٹلوں پہ فحش فلمیں دیکھتا اور ہر بار نت نئے طریقوں سے اس کا جسم جھنجھوڑ کے رکھ دیتا۔ اسے اذیت دیتا۔<br>
ہمرچو اور ملہار گاتے طالب و مطلوب کے درمیان ہجر آن کھڑا ہوا۔ تھر باسیوں نے دیکھا کہ کارونجھر کے پہاڑاسے پکارتے تھے اور وہ عشق کی آتش سے راکھ ہوتی اُدھر دوڑنے لگتی۔<br>
نہ سمجھ تھی نہ خبر۔۔۔۔۔۔۔ راز رکھنا یا راز ہونا کیا ہوتا ہے وہ بے خبر ان باریکیوں کو جانتی ہوتی تو یوں من موہنی رانی بنی، سات سنگھار کر کے کہیں دور چھوٹے ٹیلے کے پار جاتی بھلا؟۔۔۔۔۔<br>
سونے جیسی ریت پہ بھاری اور تھکے قدموں سے واپس آتی تو چونرے (ہٹ نما گھر) کی دیوار سے کان لگائے تھر کی عورتیں غضبناک نگاہوں سے اسے دیکھ کر منہ پھیر لیتیں۔<br>
مگر اسے کب کسی کی پرواہ تھی۔ انجانی راہیں اور اس پہ عمر کا پندرہواں سال۔ اس پہ عشق کی آتش ایسی کہ بڑوں بڑوں کو منہ کے بل گرا کر جلا دے، راکھ کر ڈالے اور پھر راکھ کو بھی ہواؤں میں اڑا دے، فنا کر ڈالے۔<br>
جمن کمرے میں آتا تو اس کی دبی دبی سرگوشیاں سن کر مونچھیں مروڑتا۔ اس کو ساری رات روئی جیسا دھنکتا، وہ جتنی طاقت خود کو چھڑانے میں لگاتی اس سےزیادہ اس کی مردانگی کو ہاتھ پڑتا اور اسے تھر کی ریت جیسا پیس ڈالنے کے سارے ہنر آزما ڈالتا۔<br>
وہ سارا دن اس کے گھر والوں اور مویشیوں کی چُپ چاپ دیکھ بھال میں لگی رہتی۔<br>
اور وہ مرغ بغل میں دبائے میلوں ملاکھڑوں میں اپنا مرغ لڑانے کے لئے گاؤں کے دوسرے جوانوں کی طرح سارا سارا دن مارا مارا پھرتا۔<br>
من مٹی کے تھیلے میں قید بلکتا، کراہتا۔ وہ ٹیلے کی طرف لپکتی۔ ریت پاؤں کے تلوے چاٹتی اور جُمن ٹیلے کے سارے رستے بند کئے اس پہ کسی کتے کی طرح غرانے لگتا۔<br>
ماں بننے کی خبر سن کر اماں اس کے لیے بھوگاڑو بنا لائی۔ بسری پکائی تل کے لڈو بانٹے اور دبا دبا غصہ نکالتی بار بار ایک ہی جملہ دوہراتی رہی<br>
’ لوئی لج کی پرواہ کر۔۔۔۔۔ ری’۔۔۔۔<br>
لوئی لج کی پرواہ کسے یاد تھی وہ تو صحراؤں کی ریت کا بگولہ بنی کبھی یہاں ہوتی تو کبھی وہاں۔<br>
جمن کی جب تک جسم تک رسائی رہی خاموش رہا اور جی بھر کے اس کے جسم کو روئی کی مانند دُھنکا مگر کب تک ؟۔۔۔۔<br>
جب وہ تن کر کھڑی ہوئی کہ اب اسے تکلیف ہوتی ہےتو بالوں سے پکڑ گھسیٹتا ہوا اس کے باپ اور بھائی کے قدموں میں جا پھینکا<br>
” بہت برداشت کر لیا۔ اس سے زیادہ بے غیرت نہیں ہو سکتا۔ تیری بیٹی کسی کے ساتھ<br>
چھوٹے ٹیلے پہ منہ کالا کرتی ہے”۔۔۔۔<br>
اماں سر پکڑ کے بیٹھ گئی، باپ اور بھائی کی نگاہیں برچھیاں بن کراس کے وجود کے آر پار ہوئیں، بھرجائی نے طعنوں کی زد میں آ لیا۔<br>
جسم اپنے اندر پلتے نئے وجود کے بوجھ سے گریزاں۔ ناتوانی اور آٹھ ماہ کا تشدد الگ۔<br>
اور اس پہ ہجر کا طوفان۔<br>
مصیبتوں اور آزمائشوں کا سورج سوانیزے پہ آکے دہکنے لگا۔<br>
پہرے سخت ہوئے اورٹیلے پہ جا کر دن رات سب کسی کو ڈھونڈتے رہے۔ مگر نہ ملنے والا کسی کو نہ ملا۔<br>
جُمن اور اس کے سسرال والے بات جرگے تک لے گئے۔<br>
جمن کسی اور نئی نویلی کلی کو مسلنے کا شوق پورا کرنا چاہتا تھا اور سسرال والے اس کے کردار پہ گاؤں والوں کی اٹھی انگلیوں کے نیچے دب گئے۔<br>
جب اسے مجرموں کی طرح جرگے کے میدان میں لے جایا جا رہا تھا توپھولے ہوئے پیٹ کے ساتھ اس کا چلنا دوبھر ہو رہا تھا۔<br>
اس کا دل تو محبت کا استعارہ تھا اور وہاں بھٹائی کی وائی اور سچل سر مست کے نغمے پھوٹتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کب جانتی تھی کہ اس راہ میں کڑی آزمائشیں ہیں۔ اور جو جانتی بھی تو کیا خود کو روک پاتی؟۔۔۔۔<br>
عورتیں اس کا تماشا دیکھنے میدان کی طرف بھاگیں۔ بھاگ بھری، بھیلنی اور ویرو سب کی گواہیاں ہوئیں کہ کب کب انہوں نے اسے سانول سے ملنے جاتے دیکھا<br>
وہ خاموش رہی۔<br>
اسے تو خود یہ سفر روز اول سے اب تک حیران کرنے والا لگا تھا۔<br>
جانے سانول کون تھا کہاں سے آیا تھا۔۔۔<br>
تھا بھی کہ نہیں۔۔۔ تو کیا من مندر کی مورت ہی تھا سانول۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ زور زور سے رونے لگی<br>
سانول۔۔۔ سانول<br>
وہ پوری قوت سے بند لبوں سے سانول کو پکار رہی تھی اس یقین کے ساتھ کہ ابھی ٹیلے کے پیچھے سے سانول آجائے گا۔ مگر سب کے ساتھ اس کی نگاہیں بھی مایوس لوٹ آئیں<br>
وہ تو بس ایک ہیولہ تھا۔۔۔۔ محض ایک خوابیدہ تصور۔۔۔۔۔۔<br>
وہ نڈھال ہو کر درد سے تڑپنے لگی<br>
جانے دل کا درد تھا یا جسم کا۔ وہ سراپا درد بنی کراہ رہی تھی۔<br>
حقیقت جان لیوا تھی۔ اسے یوں لگنے لگا جیسے سب نے مل کر اس کا سانول مار ڈالا ہو۔<br>
باگڑی، بھیل، کولہی مردوں سے میدان بھرا تھا چہ میگوئیاں عروج پہ تھیں۔<br>
سب یوں اکٹھے تھے جیسے میلے ملاکھڑے میں مرغ لڑتے دیکھنے آئے ہوں۔<br>
وہ تو ابھی پوری طرح سانول کو بھی رو نہ پائی تھی جب اس نے سنا۔<br>
جرگے کا سردار دوسرے پنچائتیوں کا اور اپنا متفقہ فیصلہ سنا رہا تھا<br>
“ایسی بد چلن لڑکی کو کاری کرنے کا حکم دیا جاتا ہے “۔۔۔۔۔۔ !!<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
٭اماں ھُو مونکھے کاری کرے ماریندا<br>
(اماں وہ مجھے کاری کر کے مار دیں گے)</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/monkhay-kari-kray-marinda-tasurati-jaiza/">“اماں ھو مونکھے کاری کرے ماریندا” کا تاثراتی جائزہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/monkhay-kari-kray-marinda-tasurati-jaiza/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دائرہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/daira/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/daira/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[اسد رضا]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 25 Apr 2018 14:32:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Asad Raza]]></category>
		<category><![CDATA[fiction]]></category>
		<category><![CDATA[short fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu literature]]></category>
		<category><![CDATA[اسد رضا]]></category>
		<category><![CDATA[افسانچہ]]></category>
		<category><![CDATA[مائکرو فکشن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23440</guid>

					<description><![CDATA[<p>اسد رضا: مجھے وہاں تقریر کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ مجھے کس نے بھیجا ہے اور نہ ہی یہ کہ میرے سامع کون ہوں گے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/daira/">دائرہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>مجھے وہاں تقریر کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ مجھے کس نے بھیجا ہے اور نہ ہی یہ کہ میرے سامع کون ہوں گے۔ بس مجھے تقریر کرنی تھی کہ اسی لئے مجھے مبعوث کیا گیا تھا۔ میں نے ان ساری صدیوں کو یاد کیا جس میں میں نے اس تقریر کی تیاری کی تھی۔ ان ساری زبانوں کے متعلق سوچا جس مین مجھے یہ تحریر مرتب کرنی تھی۔ مجھے یاد ہے بہت سی باتوں کے لئے مجھے کسی زبان میں بھی الفاظ نہیں ملے تھے سو میں نے جیومیٹری کی کچھ اشکال بنا رکھی تھی۔ جہاں جہاں اشکال سے بات نہیں چل سکتی تھی وہاں میں نے خالی سانسیں رکھ چھوڑی تھی اور بعض جگہوں پر تو محض خلا تھا۔ مجھے رسی کے ذریعے مجمع کے عین بیچ وبیچ اتارا گیا۔ میں ابھی تقریر کے ابتدائیے کے متعلق سوچ رہا تھا کہ ایک سُرخ بالوں والا بچہ پکارا۔۔۔تم کون ہو۔۔۔۔۔۔میں نے جلدی سے تقریر کے صفحات سے تن ڈھاپنے کی کوشش کی مگر وہ تو سارے کورے کاغذ تھے۔ میں نے جلدی سے رسی کو تھاما اور سوچا کہ مجھے واپس اوپر جانا چاہیے مگر یہ کیا۔۔۔۔۔رسی تو اوپر سے کاٹی جا چُکی تھی۔</p>
<p>Image: Pawel kuczynski</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/daira/">دائرہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/daira/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ادبی سر پرستی اور ادیب کی خود مختاری</title>
		<link>https://laaltain.pk/adabi-sar-parasti-aur-adeeb-ki-khud-mukhtari/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/adabi-sar-parasti-aur-adeeb-ki-khud-mukhtari/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[تالیف حیدر]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Mar 2018 11:02:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Taleef Haider]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu literature]]></category>
		<category><![CDATA[ادب]]></category>
		<category><![CDATA[ادیب]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[تالیف حیدر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23184</guid>

					<description><![CDATA[<p>تالیف حیدر: اگر کسی طرح کی سرپرستی میں کوئی ادب لکھا جاتا ہے تو وہ ایک خاص طبقے کی حظ ، تکلفات ، اشتہار ، تہذیب ، تفخر اور شان علویت سے متعلق ہوتا ہے اس کے برعکس ادیب کی خود مختاری سے جو فن پارہ سامنے آتا ہے اس میں تکلفات کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/adabi-sar-parasti-aur-adeeb-ki-khud-mukhtari/">ادبی سر پرستی اور ادیب کی خود مختاری</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>یہ دونوں باتیں بنیادی طور پر متضاد ہیں ، مثلا ً ادبی سر پرستی اور ادیب کی خود مختاری میں جب ادیب کی سر پرستی کا تصور ابھرتا ہے تو واضح طور پر ان تمام تاریخی روایات پہ یکبارگی نگاہ چلی جاتی ہے جہاں سرکاروں درباروں سے متعلق ادبا اور شعرا اپنے فن پارے ترتیب دے رہے تھے ، جن کی بنیاد میں بادشاہ وقت یا اسی نوع کے کسی دوسرے پروردہ صفت شخص کی منشا یا خوشنودی شامل تھی۔ یہ ایک واضح تصور ہے ، حالاں کہ اس کے علاوہ بھی اور بہت سی باتیں اس خیال کے پیچھے چھپی ہوتی ہیں ، اس کے بر عکس جب ادیب کی خود مختاری کی بات ہوتی ہے تو ان فن پاروں کی طرف ذہن جاتا ہے جو کسی بھی طرح کی سرپروستی (یعنی دربار سرکار کی وابستگی ) قطع نظر آزادانہ طور پر تخلیق کئے جا رہے تھے۔ یہ باتیں ادبی سر پرستی اور ادیب کی خود مختاری کے ذیل میں سب سے پہلے ذہن میں آتی ہیں۔ اس کے بعد اس کے مشتقات پرغور کیا جائے تو اولین صورت میں ان اشکالات کی جانب ذہن جاتا ہے کہ:</p>
<p>ادیب اگر کسی نوع کی سرپرستی سے اپنا ادب ترتیب دے رہا ہے تو وہ کتنی فی صد خود مختاری کا مظاہرہ کر سکتا ہے؟ ادبی سر پرستی میں کس نوع کا ادب وجود میں آتا ہے؟ادبی سر پرستی کی اقسام کتنی ہیں ؟خود مختاری کیا ادیب کا مقدر ہو سکتی ہے ؟ اور ادبی سر پرستی اور ادیب کی خود مختاری کے مثبت اور منفی پہلو کیا کیا ہیں ؟</p>
<p>ان اشکالات پر کچھ کہنے سے قبل اس حوالے سے مزید چند ایک سوالات کو بھی پیش نظر رکھا جائے تو بہتر ہے ،جو محمد حسن صاحب نے جو کہ اردو زبان میں ادبی سماجیات کے حوالے سے خشت اول کی حیثیت رکھتے ہیں اپنی کتاب میں گنوائے ہیں :</p>
<p>“ادبی سماجیات کا دوسرا دبستان وہ تھا جس نے ادب کا جمالیاتی فن پارے کے بجائے مال تجارت کی حیثیت سے مطالعہ کیا۔ان کے نزدیک اہم مسئلہ یہ تھا کہ کسی دور میں ادب کی سر پرستی کن طبقوں کے ہاتھ میں ہے اور کیوں؟ادب کی اشاعت کا صرفہ کتنا ہے اور اس پر کس طبقے کا قبضہ ہےیا اس کی نوعیت کیا ہے ؟ذرائع ترسیل عامہ کا اس میں کتنا حصہ ہے؟ اس سلسلے میں مشہور فرانسسی ادبی سماجیات کے ماہر رابرٹ اسکاٹ نے نمایاں کارنامے انجام دیئے ہیں ۔”<br>
(ص:12،ادبی سماجیات،محمد حسن،مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ ،نئی دہلی)</p>
<p>محمد حسن صاحب کے سوالات بہت بنیادی ہیں ۔ اس کے جوابات پر غور کیا جائے تو سیدھے طور پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہماری تاریخ (ہماری سے مراد اردو زبان و ادب کی) اس بات کی شاہد ہے کہ جس عہد میں اردو زبان کا ادب ہندوستان میں اپنی جڑیں مضبوط کر رہا تھا اسی عہد سے صوفیوں اور سنتوں نے اس زبان کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ۔ اگر ہم واضح طور پر اس کا حوالہ تلاش کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بارہویں صدی عیسوی ایک طرف دہلی اور پنجاب میں امیر خسرو اور مسعود سعد سلمان جیسے تصوف کی تعلیمات کے پروردہ اشخاص اس زبان کو میسر آئے تو دوسری جانب ہندوستانی زمین اور مزاج سے جڑے ہوئے ناتھ پنتھی سادھوں نے اس زبان کا خمیر تیار کیا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اردو کے باطن میں مذہبی عقائد سے جڑی اصطلاحات کاعنصر جس گہرائی سے بیٹھا ہوا ہے اس کا راست تعلق اسی مذہبی اور صوفیانہ سر پرستی سے ہے جو اس زبان کو اپنی اولین صورت میں نصیب ہوا تھا۔ یہ سر پرستی حالاں کہ خالص لسانی قسم کی ہے لیکن بعد کے زمانے میں ادب کی تشکیل کا کام جب واضح طور پر ہونے لگا تو اس لسانی حقیقت نے ادبی حقیقت نگاری میں اپنی جگہ بنا لی۔ یہ بات کچھ معمولی نہیں کہ اردو کا اولین شاعر ہم آج بھی خسرو کو تسلیم کرتے ہیں اس کے اولین نظمیہ نقوش ہمیں کربل کتھا اور مذہبی گیتوں کی صورت میں ملتے ہیں ۔ اس کی نثر کا آغاز معراج العاشقین جیسی کتابوں سے ہوتا ہے یا شمال سے دکن تک اس کو اپنی پہلی منزل پر گیسو دارز بندہ نواز، میراں جی شمس العشاق، امین الدین اعلی اور اسی نوع کے وہ تمام دکنی صوفیہ جن کی پچاسوں کتابیں محی الدین قادری زور نے مخطوطات دکن میں گنوائی ہیں ایسی شخصیات نصیب ہوتی ہیں ۔ دراصل یہ ایک مستقل سلسلہ ہے جو اردو کو ہر طرح کی سرپرستی بخشنے والے طبقے سے متعلق ہے۔ایسی صورت میں اگر کوئی ادیب صوفیانہ تعلیمات سے قطع نظر اگر کوئی الگ راہ نکالتا ہے تو اس کو ادیب کی خود مختاری سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اس کی سیدھی وجہ یہ ہے کہ اردو زبان جو ایک خاص قسم کی معاشرتی فضا میں ترتیب پا رہی تھی اس کا مزاج یہ تھا کہ اس میں اگر اس سر پرستی کو قبول کرتے ہوئے جس ذہنی سر پرستی کو ہندوستانی مذہبی طبقے نے وضع کیا تھا کوئی فن پارہ ترتیب دیا جاتا تو اس میں فن پارے کی تشکیل کے امکانات بہت تھے۔ تحسین کے امکانات بہت تھے اور انعام و اکرام کے امکانات بہت زیادہ تھے۔ اس کے برعکس ادیب کی خود مختاری جو اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ اس فضا سے قطع نظر کوئی ایسا فن پارہ تشکیل دیا جائے جس میں ان سارے لوازمات سے اجتناب برتا جائے تو اس کے لئے ادیب کو نہ صرف یہ کے اپنی معاشرتی فضا سے بغاوت کرنی پڑے گی بلکہ اس لسانی ڈھانچے سے بھی بغاوت کرنا ہوگی جو ایک خاص قسم کی لغت اور اصطلاحی نظام سے وضع ہو اہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ شمالی ہند میں ہمیں سترویں صدی میں ایک ایسی واضح مثال ملتی ہے جس نے کسی نوع کی سر پرستی کے بر عکس خود مختاری کو چنا اور حاصل کے طور پر اسے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ وہ مثال جعفر زٹلی کی ہے ۔ جعفر کے کلا م کو بغور پڑھا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ اس شخص نے فرخ سیر کے عہد میں کتنی جرات اور اجتحادی صلاحتیوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے اردو کے جدید نظام لغت کو وضع کرنے کی سعی کی تھی ۔ جو لغت اس نے خالص ہندوستانی اور علاقائی زبانوں کے الفاظ کو اردو کے خمیر میں گوندھ کر تیار کی تھی ۔ جعفر زٹلی اردو کی ادبی تاریخ میں اتنا سراہا اس لئے نہیں گیا کیوں کہ اس سے سترہویں صدی میں ایک ایسا کارنامہ انجام دیا تھا جو عام مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ یہ ہی اس کی ادبی خود مختاری تھی۔</p>
<p>محمد حسن صاحب نے جو سوالات قائم کیے ہیں اس میں ادب اشاعت کے صرفے سے متعلق جو سوال ہے وہ بہت اہم ہے، کیوں کہ ادبی سر پرستی میں اس بات کا بہت زیادہ خیا ل رکھا جاتا ہے کہ اگر کوئی ایسا لٹریچر جو ایک حاکم یا ایک بادشاہ یا پھر کسی نوع کی Super Power کے افکار و نظریات کی تائید میں لکھا جاتا ہے اس کو اشاعت کے مرحلے سے گزرنے میں پریشانیوں کا سامنہ نہیں کرنا پڑتا جس کے برعکس کوئی ایسا فن پارہ جو اس طاقت کے تردید کر نے کے لیے لکھا جاتا ہے یا تردید سے قطع نظر صرف اس صورت میں ہو جو اس عہد کی عظیم طاقت کی تائید میں نہ ہو تو اس کی اشاعت کے لیے صرفے کا سوال قائم ہو جاتا ہے۔ لفظ صرفہ کی یہ خاصیت ہے کہ جب اس لفظ کو خرچ کے معنی میں برتا جاتا ہے تو اس میں منافع کے معنی از خود در آتے ہیں ۔ اس لیے یہ جاننا زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ وہ ادب کس طبقے یعنی Divisionسے تعلق رکھتا ہے اور اس کی نوعیت کیا ہے۔ اسی لئے محمد حسن صاحب نے ان تینوں باتوں کو ایک ساتھ پیش کیا ہے۔</p>
<p>ادبی سر پرستی کے تعلق سے یہ بات بھی کم لائق توجہ نہیں کہ یہ مال تجارت کی نوع کی چیز ہے ۔ اگر کسی طرح کی سرپرستی میں کوئی ادب لکھا جاتا ہے تو وہ ایک خاص طبقے کی حظ ، تکلفات ، اشتہار ، تہذیب ، تفخر اور شان علویت سے متعلق ہوتا ہے اس کے برعکس ادیب کی خود مختاری سے جو فن پارہ سامنے آتا ہے اس میں تکلفات کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی وہ یکسر تنقیدی نوعیت کا ہوتا ہے۔ خالص احساسات ترجمان ہوتا ہے ، کسی پولیسی پر کھرا نہ اترنے والا اور واحد الاصل ہوتا ہے ۔ اس کی نظیر اپنے عہد میں کم ملتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس کی قبولیت کا گراف بھی بہت کم ہوتا ہے۔ ادبی سر پرستی سے ادیب کی خود مختاری تک معیار کا سوال بالکل الگ نوعیت سے پہنچتا ہے ۔ مثلاً یہ ایک واحد ایسی چیز ہے جس پر ادبی سر پرستی اور ادیب کی خود مختاری دونوں راست انداز میں اثر نہیں ڈال پاتے ۔ معیاری کلام خواہ وہ کسی بھی اعتبار سے ہو وہ ادبی سر پرستی سے بھی ترتیب پا سکتا ہے اور ادیب کی خود مختاری سے بھی ، حالاں کہ ہندوستانی تاریخ جس استادی اور شاگردی کے فلسفے سے ایک عرصے سے چمٹی ہوئی ہےاس روایت کو مد نظر رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ادب جو کسی نوع کی سر پرستی سے وجود میں آیا ہے اس میں متاثر کن لوازمات زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں ۔ جبکہ خود مختاری سے بہت کم فن پارے اس درجے کو پہنچتے ہیں جن کو فن پارہ تسلیم کرنے میں تامل نہیں برتا جاتا۔ اس کی واضح مثال ہمارے یہاں غالب اور ذوق کی ہے ۔ غالب کا کوئی استاد نہ تھا اور انہوں نے اپنی زندگی میں غزل کے جتنے شعر کہے وہ ہر طرح کی ادبی سر پرستی سے آزاد قرار دیئے جا سکتے ہیں ،جبکہ ذوق کے معاملے میں یہ بات نہیں کہی جا سکتی ۔ اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو ذوق ، نصیر کے شاگر بھی تھے دوسرے دربار مغلیہ سے وابستہ بھی تھے اس لئے انہیں غزل کا شعر کہتے ہوئے دو پابندیوں کو ملحوظ رکھنا پڑتا تھا۔ اس میں ایک اہم عنصر اس بات کا بھی شامل ہو جاتا ہے کہ ذوق کو شعر کہتے وقت اپنی استادانہ حیثیت کے تکلفات کو بھی نظر رکھنا پڑتا ہوگا ، جبکہ غالب ان سارے تکلفات سے غزل کی حد آزاد تھے۔</p>
<p>یہ سب باتیں تو پھر بھی صنعتی انقلاب سے پہلے کی ہیں لیکن صنعتی انقلاب کے وجود میں آنے کے بعد اس سلسلے میں جو اہم سوالات قائم ہوئے یعنی ادبی سر پر ستی کے ذیل ا س میں ادیب کی حیثیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگ گیا۔ مثلا ً صنعتی انقلاب سے پہلے ادیب اور ادب یہ دونوں خواہ رزیر پرستی ہوں یا اس سے جدا پر یہ دونو ں دو خانوں میں نہیں بٹے تھے۔ لیکن یہ صورت حال نئی دنیا میں یکسر تبدیل ہو گئی یہاں میں اس کی ایک واضح مثال اس ضمن میں پیش کر رہا ہوں جو محمد حسن صاحب نے اپنی کتاب ادبی سماجیات میں اس حوالے سے پیش کی ہے ۔ فرماتے ہیں :</p>
<p>“اس ضمن میں ادیب اور اس کی تخلیق اور اس تخلیق کے ذریعے اس کے قاری تک اس کے نتیجے تک پہنچنے کے مسائل بھی سامنے آئے اور بیگانگی کا سوال بھی اٹھا ۔ ادیب صنعتی دور میں اپنے فن پارے سے بڑی حد تک کٹ کر رہ گیا ہے اور غیر متعلق اور بیگانہ ہو گیا ہے ، اس کی تخلیق صنعتی دور کے ذرائع ترسیل عامہ میں یکسر اس کی ذات کا اظہار نہیں رہ جاتی بلکہ اس کی ذات سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ اس کی سب سے واضح مثال فلم کے لئے گانا لکھنے والے شاعر کی تخلیق ہے ، یہ گانا اکثر اپنی ذات کے اظہار یا اپنے جذبات و احساسات کے لئے بلکہ دی ہوئی صورت حال پر پروڈیوسر یا ڈائرکٹر کی فرمایش کے مطابق لکھتا ہے ۔ جس کی دھن اکثر میوزک ڈائرکٹر پہلے ہی فراہم کر دیتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ شاعر جب اپنا گیت مکمل کر کے لائے تو میوزک ڈائر کٹر یا صلاح کاروں کے مشورہ سے گیت کے بولوں میں تبدیلی کر دی جائے یا ایک دومصرعوں یا لفظوں کا اضافہ کر دیا جائے ۔ جب یہ گیت پردہ سیمیں پر پیش ہوگا تو شاعر کا گیت کوئی اداکار یا اداکارہ کسی دوسری گلو کار مغنیہ کی آواز میں میوزک ڈائرکٹر کی دھن پر گا رہا ہوگا۔ یا گارہی ہوگی اور اس کا گیت اب صرف اس کا اپنا نہیں ہوگا اس میں بہت سے دوسرے فن کار بھی شامل ہوں گے اور شاعر کی شخصیت اس منزل تک پہنچتے پہنچتے گیت سے تقریبا بے گانہ ہو چکی ہو گی گویا گیت اب اس کے لئے ذریعہ اظہار نہیں مال تجارت بن چکا ہوگا۔”<br>
(ص:13،ادبی سماجیات،محمد حسن،مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ ،نئی دہلی)</p>
<p>یہ صنعتی انقلاب کے بعد کے ادب کی جو صورت حال ہے اس کی سب سے بہتر مثال قرار دی جاسکتی ہے۔ جس میں ادبی سر پرستی کا دائرہ اتنا زیادہ پھیل گیا ہے کہ اب Imperial Supervisionکا تصور مستحسن معلوم ہونے لگتا ہے۔ وہاں زیادہ سے زیادہ تعین قدر کا مسئلہ تھا یا پھر شناخت کے حصول کا لیکن اس طرح توادیب کی حیثیت اتنی Secondary ہوجاتی ہے کہ شناخت کا مسئلہ ہی نہیں رہ جاتا ۔ ا س کا اگلا اقتباس بھی ملاحظہ کیجیے تاکہ بات مکمل صورت میں سامنے آجائے ۔ آگے فرماتے ہیں :</p>
<p>“ظاہر ہے یہ سوال محض ادب کی سر پرستی کا نہیں ہے بلکہ پورے تخلیقی عمل کو متاثر کرنے کا ہے اور اس کی جڑیں ادبی تنقید کے بنیادی مباحث تک پھیلی ہوئی ہیں ۔ اس نظریہ کی بنا پر ماں ؔہیم نے ادیبوں کو ایک گھومنے پھرنے والی ایسی دانش ورانہ مخلوق قرار دیا تھا جو اپنی جڑوں سے کٹ چکی ہے اور جس کی ادبی تخلیق اب مال تجارت بن چکی ہے ۔ اس کے بر خلاف لیوسؔی گولڈ مان نے یہ دلیل پیش کی ہے کہ یہ صورت حال صرف ادنی درجے کے ادیبوں کو پیش آتی ہے جب کہ اعلی ادیب کبھی بازار کے لیے نہیں لکھتا اور اس طرح وہ ناشر ، مصنف ، قاری کے جبر سے نکل جاتا ہے اور اپنی تخلیقات کو مال تجارت نہیں بننے دیتا۔ ”<br>
(ص:13،ادبی سماجیات،محمد حسن،مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ ،نئی دہلی)</p>
<p>بس لیوسی گولڈ مان نے جو بات کہی ہے ادیبوں کا ایک بڑا طبقہ اسی کے ساتھ ہے اور یہ بات کسی طور فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اعلی اور ادنی ادب کی جدید تعریف انہیں واقعات کی روشنی میں متعین ہوتی ہے ۔ یہ ہی وہ خود مختار ادیب ہے جس کو گولڈمان نے اپنے بیان کے ذریعے بازار سے دور بتایا ہے ۔ معیار کا جو جدید تصور ہے وہ بھی اسی سے طے ہوتا ہے ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صنعتی انقلاب سے پہلے معیار کی وہ بحث جو شاہی نظام کے تحت فروغ پاتی نظر آتی ہے ۔ جس میں لفظ کی صحت اور بلاغت کلام کو زیادہ معنویت حاصل تھی وہ صنعتی انقلاب کے بعد یکسر تبدیل ہو گئی ۔خود مختار ادیب کی حیثیت اس لیے بھی اس دور میں زیادہ با وقار معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس عہد میں ادب کی حفاظت کا ذمہ لے رہا ہے جہاں ادب کی حفاظت سے اسے سوائے خسارے کچھ نصیب نہیں ہوگا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/adabi-sar-parasti-aur-adeeb-ki-khud-mukhtari/">ادبی سر پرستی اور ادیب کی خود مختاری</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/adabi-sar-parasti-aur-adeeb-ki-khud-mukhtari/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پارو</title>
		<link>https://laaltain.pk/paro/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/paro/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد حمید شاہد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Feb 2018 09:26:31 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Hameed Shahid]]></category>
		<category><![CDATA[Muhammad Hameed Shahid]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu literature]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[محمد حمید شاہد]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23127</guid>

					<description><![CDATA[<p>محمد حمید شاہد:لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اب اُس پردورے نہیں پڑتے مگر لوگ افسوس کرتے ہیں کہ جنات پاروکے سارے لفظ اَپنی گٹھڑیوں میں باندھ کر لے گئے تھے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/paro/">پارو</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>جب وہ آنگن میں چت کبَرے کو باندھ رہا تھا تو دھیرے دھیرے یہ بھی بڑبڑا رہا تھا:<br>
”جب اساڑھ آئے گا اور بھڑولے بھر جائیں گے تو تجھ جیسا ایک اور ضرور لاؤں گا“</p>
<p>کھونٹے سے بندھی رَسی کو اس نے کھنچ کر گرہ کی مضبوطی کا اِطمینان کیا پھر سیدھا کھڑا ہو گیا اور چِت کبَرے کی پشت پر ہاتھ پھیرنے لگا۔<br>
ایسا کرنے پر اس کے بدن میں عجب سی سرشاری اترنے لگی۔</p>
<p>ابھی اطمینان کی یہ سرشاری پوری طرح اس کے بدن میں نہ اُتر پائی تھی کہ اُسے اَپنی پُشت پر بے ہنگم سانسوں کے طوفان کا احساس ہوا۔ وہ جلدی سے گھوما ‘مگر تب تک یہی بے ہنگم سانس ایک دردناک چیخ میں ڈھل کر فضا کو چیر چکے تھے۔</p>
<p>لوگ کہتے ہیں:<br>
”وہ پارو کی آخری چیخ تھی“<br>
پارو‘ ولایت خان کی بیوی تھی جس پر جنات کا سایہ تھا۔<br>
لوگ یہ بھی کہتے ہیں:<br>
”اس آخری چیخ کے بعد پارو کو کبھی دورہ نہ پڑا“<br>
لیکن یہ واقعہ بھی اَپنی جگہ ہے کہ اس کے بعد کسی نے اُسے بولتے بھی نہ سنا۔</p>
<p>لوگ پارو کی اِس کیفیت پر دُکھ کا اِظہار کرتے ہیں اور اُن دنوں کو بہتر خیال کرتے ہیں جب اُسے دورے پڑتے تھے مگر جونہی وہ جنات کے اثر سے نکلتی تھی تو چنگی بھلی ہو جاتی۔ اتنی اچھی کہ ولایت خان اُسے دیکھتا رہ جاتا اور سارا گھر اس کی مسکراہٹوں سے بھر جاتا۔</p>
<p>لیکن اس آخری چیخ کے بعد یوں ہوا کہ اُس کے سارے لفظ‘ اُس کی ساری مسکراہٹیں‘ حتّٰی کہ اس کی چیخیں بھی کہیں گم ہو گئی تھیں۔ اُسے دورے نہ پڑتے تھے مگر اُس کے ہونٹوں پر فقط چپ کی پپڑی تھی۔</p>
<p>اماں حجن پارو کی ویران گود اور لمبی چپ کو دیکھ کر ولایت خان سے کہتی:<br>
”میں جانتی ہوں تم پارو کا بہت خیال رَکھتے ہو۔ پارو جنات کے زیرِ اَثر رہی‘ چیخی چلائی مگر تم نے اُسے پھولوں کی طرح رَکھا۔ اب دِل جکڑ لینے والی چپ ہے اور گھر کا سُونا پن۔ مگر تم واقعی حوصلے والے ہو جو تم نے دوسری عورت کا سوچا تک نہیں۔ کوئی اور ہوتا تو کب کی دوسری لاچکتا۔ میری مانو تو وقت کو تھام لو۔ ایک اور بیاہ کرلو۔ خدا نے چاہا تو اس سونے آنگن میں بہار آ جائے گی۔“</p>
<p>ولایت خان جب بھی یہ سنتا اُس کے چہرے کا رنگ زرد پڑجاتا۔ وہ کچھ کہنے کی بہ جائے پارو کے ہونٹوں کو تکنے لگتا جن پر فقط چپ کا پہرہ تھا۔<br>
شروع شروع میں اس گھر میں اُس کی مسکراہٹیں تھیں جو پورے گھر کو اُجال دیا کرتی تھیں۔ یہ مسکراہٹیں بہت جلد مدہم پڑنے لگیں۔ ایسے میں ولایت خان آنگن کے اُس سرے پر کھرلیوں کے پاس بندھی بیلوں کی وہ جوڑی پر اپنا دھیان مرکوز کر لیا کرتا تھا ‘ جو ہر مِیلے میں جیت کر لوٹتی تھی۔</p>
<p>ولایت خان اپنے سوہنے بیلوں کی جوڑی کو دیکھتا تو سرفخر سے بلند کر لیتا اور جب پارو کو دیکھتا تو آنکھیں چمک کر بجھنے لگتیں اور سینے کے اَندر دِل کہیں گہرائی میں ڈوبتا ہوا محسوس ہوتا۔</p>
<p>اُدھر پارو بھی عجب مخمصے میں تھی۔<br>
ابھی اُن کے بیاہ کو زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا۔</p>
<p>اور بہ ظاہر مخمصے میں پڑنے کی کوئی خاص وجہ بھی نہ تھا۔۔۔۔۔۔ مگر کچھ تھا جو اُسے سمجھ نہ آرہا تھا۔ اور جو اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ اُسے اُلجھاتا چلا جاتا تھا۔ یہی اُلجھاوا ہنسی کے اُس پرنالے میں پھنس کر رکاوٹ بن گیا تھا جو بے اِختیار شڑاپ شڑاپ بہتا سارے گھر کو جل تھل کر دیا کرتا تھا تاہم ولایت خان‘ کہ جو کبڈی کے ہر اکھاڑے میں مقابل کو مٹی چاٹنے پر مجبور کر دیتا تھا‘ کی وجاہت کسی نہ کسی طور اس کے اندر اطمینان اتار دیتی تھی۔<br>
پھر یوں ہوا کہ اطمینان کے کڑوے گھونٹ‘ جو وہ اپنے حلق سے جبراً اُتارتی رہی تھی‘ اُس کے سارے وجود میں زہر بن کر سرایت کرنے لگے۔</p>
<p>یہ تب کی بات ہے جب ولایت خان کو گھر میں چِت کبرا لائے سال ‘سوا سال کا عرصہ گزرچکا تھا۔<br>
گاﺅں بھر کے وہ چند ایسے جوانوں میں سرفہرست تھا جنہیں ہر کوئی محبت سے دیکھتا ہے۔</p>
<p>محبت سے دیکھے جانے کی ایک وجہ تو اس کا اپنا مضبوط جثّہ‘ مناسب کلا جبڑا‘ اونچا قد کاٹھ اور کبڈی کے ہر میدان میں فتح تھی تو دوسری وجہ بیلوں کی وہ خوبصورت جوڑی تھی جو ہرمیلے اور ہر مقابلے میں پنجالی گردن پر پڑتے ہی یوں کراہ لے کر دوڑتی کہ مقابل اس کی دھول تک کو نہ چھو پاتے۔<br>
اپنا جثّہ بنائے رَکھنے کا فن وہ جانتا تھا۔ منھ اندھیرے اُٹھ کھڑا ہوتا۔ میلوں دوڑتا ‘ پلٹتا تو کلہاڑا لے کر کئی کئی من لکڑیاں کاٹ ڈالتا۔ غذا میں دیسی گھی میں تلے پراٹھے‘ دودھ اور لسی کا اہتمام کرتا۔ شام کو بدن کی مالش ہوتی۔ گھنٹہ بھر کے لیے دوستوں سے زور اور ڈنٹر پیلنا اُس کے معمولات کا حصہ تھے۔</p>
<p>بیلوں کی جوڑی کے ساتھ بھی وہ خوب تھکتا۔ انہیں نہلاتا‘ خوب رگڑ کر ان کا بدن صاف کرتا ‘ سینگوں اور کھروں پر تیل لگاتا۔ خود چارہ کاٹ کر لاتا‘ کترا بناتا‘ ونڈا بھگوتا‘ ونڈے اور کترے کو چھی طرح صاف کیے ہوئے بھوسے میں ملا کر گتاوا بناتا اور کھرلی تک خود بیلوں کو کھول کر لاتاتھا۔</p>
<p>اور جب دونوں بیل مزے مزے سے گتاوا کھانے لگتے تو اسے تب چین آتاتھا۔<br>
لیکن جب اتنا تھک چکنے کے بعد اُسے بے چینی رہنے لگی تو وہ چِت کبرا لے آیا۔</p>
<p>اُس کا اِرادہ تھا‘ اساڑھ میں جب بھڑولے بھر جائیں گے تو وہ چت کبرے کے مقابل کا ایک اور بیل لے آئے گا جو پہلی جوڑی کی جگہ لے لے گا۔<br>
اَساڑھ آیا اور گزر گیا۔</p>
<p>منھ تک بھر جانے والے بھڑولے دِھیرے دِھیرے خالی ہوتے چلے گئے۔<br>
مگر‘د وسرا بیل نہ آیا۔ کیسے آتا؟کہ ولایت خان کا ارادہ بدل چکا تھا۔</p>
<p>یوں تو وہ دُھن کا پکا تھا‘ جو من میں آتا اُسے پتھر پر لکیر سمجھتا‘ جب تک کر نہ چکتا چین سے نہ بیٹھتاتھا۔<br>
لیکن اس بار نہ صرف ارادہ بدل چکا تھا بل کہ ایک لذّت بھی اس کے بدن میں اُتر رہی تھی۔<br>
ہوا یوں کہ ابھی چت کبرے کو آئے چند ہی روز ہوئے تھے اور ولایت خان اس کے فوطے کچلوانے کے لیے ہسپتال لے جانے کا ارادہ باندھ ہی رہا تھا کہ فضلو اَپنی گائے لے آیا۔</p>
<p>گائے پر دِن آئے ہوئے تھے۔<br>
اورفضلو کے خیال کے مطابق دور نزدیک کے کسی گاﺅں میں کوئی اچھی نسل کابیل نہ تھا۔<br>
جب کہ وہ گائے کی نسل نہ بگاڑنا چاہتا تھا۔<br>
ولایت خان کو پہلے پہل تامل ہوا۔<br>
ویسا ہی تامل ‘جیسا پارو سے شادی کے وقت ہوا تھا۔<br>
اُس کا خیال تھا ‘اکھاڑے میں اُترنے والوں کو عورت ذات کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھنا چاہیے۔ لیکن ضد میں آکر اسے اپنا خیال بدل دینا پڑا۔<br>
وہ ضد میں یوں آیا کہ اس کے اکھاڑے کے دوستوں نے اُسے پارو دِکھائی اور کہا:<br>
”مرد وہ ہے جو اُسے حاصل کرے گا۔“<br>
پارو نمبردار فیروز کی بیٹی تھی اور پچھلے کچھ عرصے میں یک دَم جوان ہو گئی تھی۔<br>
اس قدر جوان کہ سارے گاﺅں پر اس کی جوانی چھا گئی تھی۔</p>
<p>ایک مُدّت سے گاﺅں کی لڑکیوں پر جوانی چپکے چپکے آرہی تھی ‘ یوں کہ اِرد گرد والوں کو تو کیا خود لڑکیوں کو بھی اس کی خبر نہ ہوتی تھی۔<br>
مگر پارو پر جوانی چیختی چنگھاڑتی آئی تھی۔ کچھ اس دھج سے کہ اس کا سارا بدن اپنے جوان ہونے کا زور زور سے اعلان کرنے لگاتھا۔</p>
<p>یہ اعلان ولایت خان نے بھی سنا۔ تاہم نہ تو اس کے اندر کوئی خواہش جاگی‘ نہ بدن پر بے چینی کی چیونٹیاں رینگیں لیکن لنگوٹ کَس کر اکھاڑے میں اُترنے والے اُس کے ساتھی پارو کو حاصل کرنے والے ہی کو مرد تسلیم کرنے پر تلے بیٹھے تھے۔<br>
اور وہ چاہتا تھا اسے مرد تسلیم کیا جائے۔<br>
وہ ضد میں آگیا اور قسم کھا بیٹھا کہ وہ پارو کو حاصل کر کے دَم لے گا۔</p>
<p>اگرچہ وہ بہت بڑا زمیندار نہ تھا مگر جتنی بھی زمین اس کی ملکیت تھی وہ اس کی ضرورتوں سے کہیں زیادہ تھی۔ خوبصورت جسم ‘کبڈی کے ہر میدان کا فاتح‘ صاف ستھرا شجرہ نسب۔ یہ وہ عوامل تھے جو پارو کے حصول میں اُس کے معاون بنے تھے۔</p>
<p>اور جب وہ پارو کو حاصل کر چکا تو بالکل ویسی ہی بے کلی اُس کے بدن میں اُتری تھی جیسی کہ اب فضلو کی بات سنتے ہوے اُتری تھی۔<br>
فضلو کَہ رہاتھا۔</p>
<p>”دیکھ پُت ولایت گائے اعلیٰ نسل کی ہے۔ دریا پار سے لایا تھا تو بوری نوٹوں کی اُٹھ گئی تھی اِس پر۔ دودھ دیتی ہے تو ولٹوہے کناروں تک چھلکنے لگتی ہیں۔ سچ جانو تو میں اس کی کھیری بھی دیکھتے ہوے جھجکتا ہوں کہ کہیں نظر نہ لگ جائے۔ اور ماشااللہ تمہارا بیل ‘واہ‘ دیکھنے میںاس قدر صحت مند لگتا ہے کہ آنکھ دیکھتے ہوئے بھتی نہیں ہے۔ یقیناً اس سے نسل بھی اچھی چلے گی۔“</p>
<p>فضلو اس کے بعد بھی بہت کچھ کہتا رہا مگر ولایت خان چپ چاپ اپنے قدموں پر اُٹھا اور فضلو کو گائے چِت کبرے کے پاس لانے کا اشارہ کیا۔<br>
جب فضلو کی گائے کا خوبصورت اور صحت مند سا بچھڑا ہوا اور دُودھ کی مِقدار پہلے سے بھی بڑھ گئی تو وہ سیدھا ولایت خان کے ہاں پہنچا۔<br>
ولایت خان نے سنا تو عجب سی سرشاری اُس کی نَس نَس میں دوڑ گئی۔</p>
<p>فضلو مہینہ بھر اُس کے ہاں دُودھ بھیجتا رہا۔<br>
ولایت خان اُسے منع کرتا رہا مگر وہ باز نہ آیا۔<br>
اسی دودھ کی لَسّی بلوتے بلوتے ایک روز پارو کو دورہ پڑا۔ یوں کہ اُس نے بدن کے کپڑے پھاڑ ڈالے‘ بال نوچ لیے‘ جبڑے اکڑ گئے اور ہاتھ پاﺅں ٹیڑھے میڑھے ہونے لگے۔<br>
اماں حجن کا خیال تھا ‘ پارو پر جنات کا سایہ ہو گیا ہے۔</p>
<p>تعویذ گنڈے ہونے لگے۔ مزاروں کے چکر کاٹے گئے۔ دھونی دہکائی گئی۔ حصار باندھا گیا۔ چلہ کشی ہوئی۔ مگر جنات کا سایہ ویسے کا ویسا رہا۔</p>
<p>ولایت خان پارو کی اِس کیفیت کو دیکھتا تو دُکھی ہوتا۔ اُسے سمجھ نہ آرہا تھا اس معصوم نے جنات کا کیا بگاڑا تھا جو وہ اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے تھے۔<br>
پارو کے دورے اور چت کبرے کی تعریفیں ایک ساتھ شروع ہوئی تھیں۔</p>
<p>فضلو نے اپنے بچھڑے کی خوبصورتی اور دودھ میں اِضافے کا ڈھنڈورا یوں ہر کہیں پیٹا تھا کہ ولایت خان نہال ہوتا چلا گیا۔<br>
پھر یوں ہو اکہ نہ صرف اُس کے اپنے گاﺅں بلکہ اردگرد کے مواضعات کے لوگ اَپنی گائیں چت کبرے کے پاس لانے لگے۔<br>
صحت مند بچھڑوں اور بچھیوں کی پیدائش کی خبریں اور بعدازاں دودھ نذرانے آنا‘ معمول بن گئے۔<br>
گھر میں دودھ گھی کی فراوانی نے اُس کے بدن میں مزید نکھار پیدا کیا۔<br>
مگر پارو ‘کہ جس پر پہلے پہل لَسّی بلوتے جنات آیا کرتے تھے ‘اَب موقع بے موقع دوروں میں لوٹنے لگتی تھی۔<br>
جب وہ جنات کے زیر اثر آتی تو عجب عجب حرکتیں کرتی۔ کبھی کبھی یوں لگتا وہ کسی ننھے منے بچے کو پیا ر سے پچکار رہی ہو۔<br>
غالباً یہی وہ حرکت تھی‘ جسے دِیکھ کر اماں حجن نے خیال ظاہر کیا تھا:<br>
” اگر پارو کے ہاں اولاد ہوتی تو شاید اسے دورے اس شدت سے نہ پڑتے۔“<br>
دوروں میں شدت بڑھتی چلی گئی کہ پارو کی گود ہری ہونے کا دُور دُور تک نشان تھا نہ آس اُمید۔</p>
<p>”یہ جو عورت کا بدن ہوتا ہے نا! یہ نرا گورکھ دھندا ہے۔ باہر سے نواں نکور ہوگا مگر اندر نہ جانے کیا کیا روگ پال رکھے ہوتے ہیں۔ اب جو ولایت خان جیسے شینہہ جوان کے ہاں اولاد نہیں ہو رہی تو یقیناً پارو میں کہیں نہ کہیں گڑ بڑ ہے۔“<br>
اماں حجن نے جو کہا سب نے اس پر یقین کر لیا۔<br>
ایک مرتبہ پھر پیروں فقروں کے پاس لے جایا گیا۔ سنیاسیوں کے نسخے اِستعمال ہوئے۔<br>
مزاروں پر منتیں مانی گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر نتیجہ کچھ بھی نہ نکلا۔<br>
پارو اب اپنے لیے آسانی سے تعویذ لینے یا دوا کھانے پر راضی نہ ہوتی تھی۔ اماں حجن کا اصرار تھا۔<br>
”پارو کا علاج ہونا چاہیے۔“<br>
علاج ہوتا رہا مگر اولاد نے نہ ہونا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ ہوئی۔<br>
ولایت خان یہ سب کچھ لاتعلقی سے دِیکھ رہا تھا‘ جیسے راضی بہ رضا ہو۔</p>
<p>اُس کے لیے یہ بھی بہت کچھ تھا کہ گاﺅں سے کوئی نہ کوئی فرد اپنے ہاں بچھڑا پیدا ہونے کی خبر سناتا تھا اور دودھ کی بھری بالٹیاں بھیج دیتا تھا۔<br>
دِنوں کا یہی معمول تھا۔ وہ اَپنے صحن میں چِت کبرے کے بدن پر محبت سے ہاتھ پھیر رہا تھا۔ پاس کھڑا‘ ساتھ والے گاﺅں کا ایک شخص اُسے اپنے ہاں صحت مند بچھڑے کی پیدائش کی خبر سنا رہا تھا۔ ایسے میں اُسے برآمدے میں لسی بلوتی پاروکے تڑپ کر گرنے اور چیخنے کی آواز سنائی دی۔ وہ بھاگ کر برآمدے میں آیا۔ پارو چت زمین پر لیٹی ہوئی تھی اور اس کا منھ اَدھ رِڑکے کی جھاگ سے بھرا ہوا تھا۔ چیخیں ہونٹوں پر جم گئی تھیں اور وہ نہایت محبت سے چکنی گیلی مدھانی پر یوں ہاتھ پھیر رہی تھی جیسے کہ وہ ایک ننھا سا بچہ ہو۔</p>
<p>تب ولایت خان نے ایک فیصلہ کیا۔ اپنے قدموں پر پلٹا چت کبرے کو کھونٹے سے کھولا سیدھا ہسپتال جا پہنچا۔</p>
<p>اور جب وہ چت کبرے کے فوطے کچلوا کرواپس پلٹا تھاتو اپنی پشت پر پارو کی بے ہنگم سانسوں کو کرب ناک چیخ میں ڈھلتے پایا۔<br>
لوگ کہتے ہیں:</p>
<p>”وہ پارو کی آخری چیخ تھی جو سنی گئی تھی۔“</p>
<p>لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اب اُس پردورے نہیں پڑتے مگر لوگ افسوس کرتے ہیں کہ جنات پاروکے سارے لفظ اَپنی گٹھڑیوں میں باندھ کر لے گئے تھے۔<br>
Image: Saeed Akhter</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/paro/">پارو</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/paro/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شکن</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b4%da%a9%d9%86/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b4%da%a9%d9%86/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[صدف فاطمہ]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 05 Feb 2018 13:45:20 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Contemporary Urdu Literature]]></category>
		<category><![CDATA[Sadaf Fatama]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu literature]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[جدید افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[صدف فاطمہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22945</guid>

					<description><![CDATA[<p>صدف فاطمہ: اس نے پاوڈر کی ڈبیا اٹھائی آنسو سے بن جانے والی لکیر کو پوچھا اور ماٹی کے لیے تیار ہونے لگی۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b4%da%a9%d9%86/">شکن</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>جب نورانے ٹیکسی میں اپنے بغل میں بیٹھی ہوئی عورت کی طرف نگاہ ڈالی جو کہ بوڑھی اور دیکھنے میں شکستہ حال تھی،تو نہ جانے کیوں اس کی ساری توجہ اس عورت کے ہاتھوں پر ٹھہر گئی جو کہ کالے بھدے اور بے انتہا سکڑے ہوئے تھے۔ ان ہاتھوں کی کالی رنگت فطری بھی نہیں تھی۔نورا نے جب اس عورت کی ہتھیلیوں پر غور کیا تواسے نظر آیا کہ اس کی ہتھیلیوں میں لکیروں کا ایک جال تھا جو ضرورت سے زیادہ گنجلک معلوم ہوتا تھا۔وہ لکیریں ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی گزر رہی تھیں۔جن میں نورا کوزندگی اورقسمت کی واضح لکیریں کہیں نظر نہیں آئیں۔ بس لکیریں ہی لکیریں اور کالے دھبے۔ رشک اور موازنہ چونکہ عورت کی فطرت ہے ،لہذا نورافوراً اپنے ہاتھوں کی طرف متوجہ ہوئی، جس نے اس کو یکبارگی مایوسی میں ڈھکیل دیا۔عمر کے اس پڑاؤ میں جب جھریاں چہرے کو اپنا مسکن بناتی ہیں وہ اس کے چہرے سے اتر کر ہاتھوں کو ا پنی گرفت میں لے چکی تھیں،چالیس سالہ نورا جب اٹھارہ سال کی عمر میں ماٹی کی بیوی بنی تو وہ ایک خوبصورت ہاتھوں والی نازک اندام لڑکی تھی ،لیکن چالس برس کی عمر تک اس نے پانچ بچے پیدا کیے اور اپنے ہاتھوں کی روشنی ان کی پرورش کی نذر کر دی۔<br>
“تو کیا ہوا؟ اب عمر بھی تو ہو گئی ہے اور ڈھلکی ہوئی عمر میں جھریاں نہیں پڑیں گی تو اور کیا ہوگا۔”<br>
اسی جملے کو دہرا کر وہ بار بار اپنے اندر کی جاگی ہوئی عورت کوتھپکا کر سلانے کی کوشش کر رہی تھی۔ ”<br>
اور پھر ہاتھوں میں جھریاں آ بھی گیئں تو کیا ؟آخر پانچ بچوں کو پالا پوسا ہے ”<br>
ہزار ہا کوششوں کے باجودخود احتسابی کی نگاہیں اس کی اندھی امید کو جھٹلا رہی تھیں۔ دفعتا اسے یادآ گیا کہ اس کے برابر میں بیٹھنے والی عورت خاصی بوڑھی ہے۔<br>
” یہ بڑھیا ہے اس کے ہاتھ میں یہ منحوس لکیریں ہیں تو ہیں، لیکن میں!”<br>
اور پھر اسے وہ تمام لوگ یاد آنے لگے جو اس کی عمر کو پہونچ کر بھی جوان دکھتے تھے۔ جیسے کے اس کی پڑوسن یا اس کی دور کی رشتہ دار صبیحہ ان کے بارے میں اس کا خیال تھا کہ وہ کچھ غلط کا م کرتی ہیں اور یہ غلط کام کس نوعیت کے تھے۔ یہ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا تھا۔وہ کافی دیر تک اسی پس وپیش میں مبتلا رہی کہ اچانک اسے محسوس ہوا کہ اس کے برابر میں بیٹھی ہوئی بوڑھی عورت کی منزل آ گئی ہے۔پھر کچھ دیر میں اس کی بھی منزل آ گئی:<br>
“دھیولا بازار والے اتر جایئں”<br>
ڈرائیور کی آواز نے اسے ہوشیار کیا۔وہ جلدی سے اتری اور ڈرائیور کوپیسے دیتی ہوئی اپنے گھر کی طرف چل دی۔وہ اس تیزی سے گھر کی طرف جارہی تھی کی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا جھریوں کے خیال کو ٹیکسی ہی میں جھٹک چکی ہو۔اب اسے یہ خیال ستانے لگا تھا کہ ماٹی اگر گھر آگیا ہوگا تو کھائے گا کیا۔ اس نے گھر سے نکلتے وقت ماٹی کے لیے کچھ پکایا کر نہیں رکھا تھا۔نورا کو ڈر تھا کہ ماٹی اس بات پر ناراض ہوسکتا ہے۔اس کے لئے کیا پکانا چاہیے۔ بےچارہ ماٹی! سارا دن کام کرتا ہے اور بچےبھی تو انتظار کر رہے ہیں ہوں گیں۔بھوکے،پیاسے۔ کیا کھلائے ،کیا پکائے اور ماٹی کے لئے آج کیسے تیار ہو۔انہیں خیالوں کے بیچ اس کا پیدل راستہ ختم ہو چکا تھا اور وہ گھر کے سامنے تھی۔<br>
گھر آتے ہی نورا چولھے کے پاس پہونچ گئی،جلدی جلدی ماٹی کے لئے کھانا تیار کیا اور نہا دھو کر خود کو سنوارنے کے لئے آئینہ کے سامنے کھڑی ہو گئی ،آئینہ کے سامنے پہونچ کر ایک بار پھر سے وہ خالص نورا بن گئی۔ نہ کسی کی ماں اور نہ ہی کسی کی بیوی بس نورا ایک عورت،آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر اسے اپنے چہرے کی شکنیں بھی واضح طور پر نظر آنے لگیں تھیں:<br>
“ایک ،دو ،تین، چار، پانچ، چھ، دس،بارہ،پندرہ ،اتنی ساری میں بوڑھی ہو رہی ہوں کیا ”<br>
ارے پگلی بچوں میں ایسا ہی ہو جاتا ہے آدمی۔ ایک بار اس نے پھر سے خود کو دلاسا دیا۔<br>
“لیکن خود کو دیکھو !تم بوڑھی کہاں ہوگئی ہو،یہ جھریاں تمہیں یاد نہیں۔”<br>
یہ لکھر ماٹی نے دی ہے۔ وہ دیکھو سب تم پر ہنس رہے ہیں تمہارے سسرال والے۔<br>
۔۔۔۔۔“یہ شکن،ماٹی نے جب تمھیں مارا تھا تب کی ہے لیکن وہ تو روز ہی مارتا ہے۔ روز کے حساب سے ایک،دو،تین اور یہ گال پر جو شکن ہےیہ کھانادیر سے پکا تو اس نے پھینک دیا تھا یہ اس کے ماتم میں بنی تمہیں یاد نہیں“اسے یاد ہے سب ہاد ہے، ہاتھوں کی جھریاں ان بچوں کی ہیں۔کیا وی بھی قصور وار ہیں؟<br>
“لیکن میں انھیں معاف کر سکتی ہوں۔”<br>
اس نے خود کو جواب دیا اب وہ خود کا احتساب کرنے لگی تھی۔<br>
“یہ شکن جو ماتھے پر ہے یہ کب کی ہے؟”<br>
وہ ماتھے پر زور دے کر اسے مزید واضح کر کے یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔<br>
آخ تھو! اچانک اس کے چہرے پر کسی نے تھوک دیا، اسے یاد آگیا تھا یہ گہری لکیر اس تھوک کی تھی جو ماٹی نے اس پر تھوکا تھا، اس کے چہرے پر ماٹھی نے تھوکا تھا، وہ بھی پرائی عورت کی باتوں میں آکر۔<br>
“اپنے چیتھڑوں کو نہیں سنبھال سکتی جیسی تو بد صورت ویسے تیرے چیتھڑے بد صورت، کیا لیپا پوتی کرے بیٹھی ہے۔”<br>
تھو!!۔<br>
اس نے پاوڈر کی ڈبیا اٹھائی آنسو سے بن جانے والی لکیر کو پوچھا اور ماٹی کے لیے تیار ہونے لگی۔<br>
Image: Sadaf Fatima</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b4%da%a9%d9%86/">شکن</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b4%da%a9%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لیزلی حیات خان (اپنے فرضی ہم شکل کا حقیقی خاکہ)</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%84%db%8c%d8%b2%d9%84%db%8c-%d8%ad%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%be%d9%86%db%92-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%db%81%d9%85-%d8%b4%da%a9%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%84%db%8c%d8%b2%d9%84%db%8c-%d8%ad%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%be%d9%86%db%92-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%db%81%d9%85-%d8%b4%da%a9%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ذکی نقوی]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 29 Oct 2017 11:19:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu literature]]></category>
		<category><![CDATA[zaki naqvi]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[خاکہ]]></category>
		<category><![CDATA[ذکی نقوی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22439</guid>

					<description><![CDATA[<p>ذکی نقوی:لونڈو!! اگر قابل اور لائق لوگ ہو اور دماغ کی بتی روشن ہے اور طبیعت میں تلون، تو اپنی جوانی فوج کو نہ دینا! لڑنے والے لوگ مستقل مزاج لیکن نیم خواندہ ہوتے ہیں۔ تُم کام کے لوگ بنو! اِس قوم کو قابل اُستادوں، شریف ڈاکٹروں، سچے صحافیوں اور دردِ دل رکھنے والے سماجی کارکنوں کی ضرورت سپاہیوں کی نسبت کہیں ذیادہ ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%84%db%8c%d8%b2%d9%84%db%8c-%d8%ad%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%be%d9%86%db%92-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%db%81%d9%85-%d8%b4%da%a9%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82/">لیزلی حیات خان (اپنے فرضی ہم شکل کا حقیقی خاکہ)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>“لیزلی! میں تمہارا خاکہ لکھنے لگا ہوں!”</p>
<p>میں نے کہا تو علی حیات خان چونکا، پھر اپنی کھِلتی باچھوں پہ ضبط کرتے ہوئے مصنوعی ناگواری سے میری طرف گھورنے لگا۔<br>
“کیوں؟ دُنیا کے دیگر بے ہودہ اورفضول موضوعات ختم ہو گئے ہیں کہ اب مجھ پہ ‘سکھلائی’ کا ارادہ ہے؟ پہلے وہ اپنی گھوڑے اور گلہری کی محبت کی داستان تو مکمل کر لو!”</p>
<p>لیزلی، یعنی علی حیات مصنوعی سی کثرِ نفسی اور طنز کے لہجے میں بولا ۔</p>
<p>بلاشبہ وہ ایک ‘فضول’ موضوع بھی ہو سکتا ہے لیکن لیزلی خان میری باوردی زندگی کی ناکامیوں اور کم مائیگیوں کا ساتھی تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ ناکام انسان بھی قابلِ ذکر ہو سکتے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ لوگ عبرتوں کی ایک سستی کتاب ہوتے ہیں جس کے سفید صفحے فُٹ پاتھ پہ پڑےپڑے قارئین کے انتظار میں زرد ہو جاتے ہیں ۔ لیزلی حیات خان ان نوجوانوں میں سے تھا جو کہ ذرا سی محنت سے معاشرے کے تابندہ ذہن بن سکتے تھے لیکن وہ جنگ و جدل اور سپہ گری کے رومان میں گرفتار ہو کے خود کو ہمیشہ کیلئے بے کار پُرزہ بنا کر کونے میں پھینک دیتے ہیں۔ یعنی زمانہ طالب علمی کیڈٹ کالجوں کا جنون لئے ٹاٹ اسکولوں میں پڑھتے ہوئے گزار دیا اور پھر نوعمری قرونِ وسطیٰ کے شہسواروں کی سی مردانگی کا شوق لے کر اُن میدانوں میں بےتوقیر ہوتے ہوئے گزار دی جن میں فقط تلاشِ رزق کیلئے سگ دُوئی ہوا کرتی ہے، شہسواری نہیں! یوں ‘خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں’!!</p>
<p>علی حیات بتاتا تھا کہ اس کا ذہن اس کے بچپن سے ہی دو انتہاؤں کے درمیان متذبذب رہا۔ اپنے دادا مولوی غلام نبی خان مدنی مرحوم کا دینی ورثہ اس کے ایک جانب تھا جس میں خدمتِ دین، تصوف اور پیری مریدی کی ایک سادہ لیکن مستحکم سی روائیت تھی، دوسری طرف اپنے والد ، صوبیدارمیجر ریٹائرڈ قاری عبدالعلی خان ہیڈ کلرک اے سی سی، ٹی کے۔ون کا فوجی ورثہ تھا جس کی شان و شوکت اسے اتنا ہی مسحور کرتی تھی جتنا اُسے دادا کے ورثے کی طرف زبردستی مائل کیا جاتا تھا۔ قاری مرحوم کو ایک حادثہ فوج میں لے گیا تھا لیکن اُنہوں نے سن اڑتالیس سے سن بیاسی تک کا جو عرصہ فوج میں گزارا، علی حیات کے لئے وہ ایک بھرپور تشویق بنا۔</p>
<p>ہم پہلی دفعہ ملے تو وہ نیانیا عارضی لانس نائیک بنا تھا اور میں یونٹ میں نووارد سپاہی تھا ۔ وہ ہماری اس نیم لڑاکا پلٹن میں واحد بی ۔اے پاس سپاہی تھا۔ میں نے ڈویژن بیٹل اسکول میں ایف۔اے کی کلاسیں پڑھنا شروع کیں تو وہ میرا گہرا دوست بن گیا۔ پھر اس کے بعد لگ بھگ تمام باوردی زندگی ساتھ ہی گزری، ہم پیشہ تو تھے ہی، ہم مشرب و ہمراز بھی ہو گئے۔ وہ بتایا کرتا تھا کہ اس کے ابا اپنے فوج کی نوکری کے زمانے کے قصے سُناتے تو وہ کیسا مسحور سا ہو جاتا تھا۔ علی ان کی ڈھلتی عمر کی اولاد تھا جبکہ اُنہیں فوج سے ریٹائرڈ ہوئے بھی دو سال ہو چکے تھے۔ جہاں گھر کے دینی و مشرقی ماحول نے اسے بچپن میں عوج بن عنق، حئی بن یقظان، عمرو بن وہب بہلول، مُلا ابوالحسن دوپیازہ اور خواجہ بخارا نصرالدین کے کرداروں سے روشناس کروایا، وہاں وہ قیام کے بعد کے گورے اور پاکستانی فوجی کرداروں کے تذکروں سے بھی سحر ذدہ سا رہتا تھا۔ قاری عبدالعلی صاحب نے پنڈی میں ساتویں ڈویژن کے جی او سی جنرل ٹوٹن ہیم کے دفتر میں کلرکی کی تھی، جنرل افتخار خان مرحوم و مغفور کے اسٹاف میں کلرک رہے اور ان کے جی ون کرنل ڈیرک مل مین کے منظورِ نظر تھے۔ پہلے سپہ سالار کے اے ڈی سی میجر ٹیرنس گلینسی سے تو یارانے کا دعویٰ تھا انہیں۔وہ عمر بھر ان افسروں کے گُن گاتے رہے۔ لیزلی نے یہ گُن مجھے بھی گا کر سُنائے۔ وہ انگریز کی قومی صفات کا مداح تو تھا ہی، فوج میں آ کر جو اسے ملٹری ہسٹری کا چسکا پڑا تو کچھ ذیادہ ہی مداح ہو گیا۔بدنامِ زمانہ کرنل تھامس ایڈورڈ لارنس کو اپنا پیر و مُرشد بتاتا تھا۔انگریزی کئی نووارد لفٹینوں سے اچھی بول لیتا تھا اور اگرچہ اپنے نشست و برخاست اور کئی حرکات و سکنات سے اپنے لانس نائیک ہونے کا ثبوت پیش کرتا تھا تاہم تحریر اور تقریر کا غمومی انداز افسرانہ پایا تھا۔اس نے اکثر دوستوں کو بھی انگریزی کے عرفی نام دے رکھے تھے مثلاً دانیال کو ڈینی ، جاوید کو جو، اور اسی طرح ٹام، مائیک اور جیک وغیرہ۔۔۔ میجر شجاعت علی شاہ صاحب اُس پر بہت مہربان تھے اور اُنہوں نے ہی علی حیات کو لیزلی کا عُرفی نام دیا تھا۔ سردار صاحبان(جے سی اوز) سے بدتمیزی کے واقعات میں سزا یافتہ ہونے سے لے کر بغیر چھٹی غیر حاضر(اے ڈبلیو ایل) ہونے اور سپلائی اسٹور کا دروازہ توڑنے پر کوارٹر گارڈ میں بند ہونے تک، ہر بڑی دُرگھٹنا میں میجر شجاعت علی شاہ صاحب نے اُس کی کھال بچانے کی کوشش کی اور ہمیشہ اس کوشش میں رہے کہ لیزلی اپنی صلاحیتوں کا تعمیری استعمال کرے اور مثبت سمت میں ترقی کرے لیکن بے سود۔ وہ اہلِ دُنیا سے یکسر متضاد ذاویہ نظر لے کر دُنیا داری کے جھمیلوں میں پڑنے والا ایک احمق تھا ۔ پھر جہاں وہ دُنیا بھر کے ملٹری کلچر کا کافی مطالعہ رکھتا تھا، وہاں اپنے ہی رفقائے کار سے معمولی باتوں پر سینگ پھنسائے رکھنے کی وجہ سے پلٹن میں غیر مقبول رہا۔ جہاں اُس نے عالمی عسکری ادب کا مطالعہ بڑے شوق سے کر رکھا تھا وہاں اپنی پلٹن کے معمولات سے بے نیاز اور کام چوری کی حد تک لاپروا تھا۔ لیزلی نے بڑی قوموں کے فوجی مشاہیر کے سوانح پڑھ رکھے تھے اور اس کے فوجی بکسے میں میں نے فیلڈمارشل رومیل اور آکن لیک کی تصاویر چسپاں دیکھیں (جو اُس کی اپنی مصوری کے ‘نمونے’ تھے) لیکن وہ اپنی فوجی زندگی کے تمام پیشہ ورانہ امتحانات میں کمترین نمبروں سے پاس ہوا تھا اور کچھ میں تو فیل ہوا۔ ان اضداد سے مجھے اندازہ ہوا کہ سپہ گری کا جنون کی حد تک شوق بھی اس حقیقت کو نہیں بدل سکا تھا کہ رومانوی دُنیاؤں میں کھویا رہنے والا علی حیات اس پیشے کیلئے موزوں نہ تھا۔ لیزلی اس حقیقت سے ہمیشہ منکر رہا، سو بھاری قیمتیں چکاتا رہا۔</p>
<p>گورے گندمی رنگت، تیل کنگھی سے بے نیاز گھنے سیاہ بالوں اور پوری وردی میں چھے فُٹ قامت کا علی حیات خان پنجاب کے ایک زرخیز دیہاتی خطے سے تھا لیکن اُردو بڑی شستہ بولتاتھا اور فارسی بھی جانتا تھا(جو کہ شائد گھر کے مذہبی ماحول کی دین ہو۔ قاری عبدالعلی عمرِ آخر میں تشیع اختیار کرچکے تھے اور ایرانی ثقافت سے متاثر ہوگئے جس کا اثر علی پہ بھی پڑا ہوگا)۔ میٹرک کے بعد کچھ غربت کے ہاتھوں، کچھ اپنے لا اُبالی شوق سے بے قابو ہو کر مزید پڑھنے کے بجائے فوج میں سپاہی بھرتی ہو گیا۔ دراصل قاری صاحب کے مسلک بدلنے کے بعد بوجوہ پیری مریدی قائم نہ رہی جبکہ زمینداری کا سورج پہلے ہی ڈوب چکا تھا۔</p>
<p>لیزلی مجھے اکثر اپنی اول جلول شاعری بھی سُناتا تھا جس میں کوئی تاثیر یا گہرائی تو نہ ہوتی البتہ اندازہ ہوتا تھا کہ زبان پہ گرفت بہت سوں سے اچھی ہے۔ پیشہ ورانہ موضوعات پر مضمون نسبتاً اچھے لکھ لیتا تھا۔ آسٹرلٹز کی لڑائی پر ایک طویل مضمون لیزلی نے ایسا بھی لکھا جسے شائع کرنے سے پہلے اُس فوجی جریدے کے مدیر کرنیل صاحب نے کہا تھا کہ تمہارا یہ مضمون ایک میجر رینک کے لکھاری کا لکھا ہوا لگتا ہے، شاباش!!!</p>
<p>لیکن تصویر کا دوسرا رُخ یہ بھی تھا کہ ایک دو مواقع پر مجھے یہ واضح انکشاف ہوا کہ لیزلی بطورِ لڑاکا سپاہی ایک بُزدل آدمی ہے۔ دو ایک دفعہ یونٹ کی ذمہ داری کے علاقے (اے او آر) پر دہشت گردوں کے خود کش حملوں کے واقعات میں علی حیات کا طرزِ عمل قریب سے دیکھ کر مجھے یہ اندازہ ہوا کہ وہ شدید خوف ذدہ تھا۔ لیزلی میں شائد دلیری کی کوئی اور قسم ہو جو کسی اور پیشے میں ظاہر ہو سکتی تھی، وہ کسی رابرٹ میسن سے منسوب قول سُنایا کرتا تھا کہ ایک چوزا اور ایک عقاب ہر آدمی میں چھپا ہوتا ہے۔ وہ ہمراز ہونے کی وجہ سے مجھ سے اس پر شرمسار بھی رہتا تھا۔ وہ مجھے کہتا : “یار یہ جنگ نہیں، وحشت اور بربریت کی وہ انتہا ہے جس سے نپٹنا سپاہیوں کا نہیں، قسائیوں کا کام ہے۔ یہ کیا جنگ ہوئی کہ تلوار تھامنے یا بندوق اُٹھانے سے بھی پہلے ہماری آنتیں سڑک پر بکھری پڑی ہوں اور بھیجا دیوار پہ چپکا ہو۔ وہ بھی میدان جنگ میں نہیں، سڑکوں چوراہوں پر۔۔۔ نہیں یار! میں نئی صدی کی جنگوں کا سپاہی نہیں ہوں!!” میں نے ایک بار اُس کے پاس جنیوا کنونشن کا جنگی قیدیوں کے حقوق پر مبنی کتابچہ دیکھا تو اس کی وجہ پوچھی۔ اس نے جواب میں بڑے تقدس مآبانہ انداز میں کہا کہ یہ ہر فوجی کے پاس ہونا چاہیئے۔ تھوڑی دیر بعد مجھے یاد آیا کہ ہم نے چند دن پہلے دوسری جنگِ عظیم پر بنی ایک فلم دیکھی تھی جس میں ہیرو، کرنل نکلسن (الیک گینیز) کے پاس ہمہ وقت جنیوا کنونشن کا جنگی قیدیوں کے حقوق والا کتابچہ ہوتا ہے۔ میں خموشی سے مسکرا دیا جس کا لیزلی نے بہت بُرا مانا۔ لیزلی کے پاس اس کے فوجی بکسے میں ایک تلوار پڑی تھی جس پہ اُس نے اپنا آرمی نمبر، نام اور یونٹ انگریزی میں کندہ کروا رکھے تھے۔ وہ اکثر اس کے دستے کو مضبوطی سے پکڑ کر مجھے کہتا: “تجھے کیا پتہ لونڈے! تلواروں اور مسکوٹوں کے زمانے کی فوج کا کیا کلچر تھا۔ جنرل اکبر خان مرحوم کے زمانے کی فوج ، جنہوں نے کیرئیر کی پہلی لڑائی گھوڑے پر، تلوار سے میسوپوٹیمیا میں لڑی اور آخری لڑائی میں انفنٹری اور توپخانے کے جدید عناصر ڈیپلائی کئے، کشمیر والی جنگ میں!”</p>
<p>پھروہ اپنی تلوار کے بلیڈ پر انگلی پھیر کر اس انگلی کو اپنے ماتھے پر رکھتاا ور کہتا: “یار مجھے ڈوئل کا زخم اپنے ماتھے یا چہرے پر کھانے کا بڑا شوق ہے، جس کا نشان عمر بھر رہے”۔ پھر وہ الیکسانڈر پوشکن کا قصہ سُناتا جو کہ روسی رسالہ فوج کا افسر تھا ، افسانہ نگار بھی تھا اور اپنی محبوبہ (سابق بیوی) کے بھائی لیفٹیننٹ (جس کا مشکل سا روسی نام لیزلی ہی ادا کرسکتا تھا) کے ہاتھوں ڈوئل میں مرا۔ لیزلی نے ایک بار بحری توپ خانے کے ایک این سی او کو ڈوئل کا چیلنج بھی کیا لیکن ذرا قانونی حدود میں۔۔۔ یعنی وہ دونوں پستول سے پانچ پانچ گولیاں ایک تیسرے ہدف پر داغیں گے، جس کا ایک نشانہ بھی خطا گیا، وہ ‘کینٹین کورٹ مارشل’ کا سزاوار ہو گا یعنی سب حاضرین کو ‘ٹی بریک’ کروائے گا۔ وجہ یہ تھی کہ اُس این سی او نے لیزلی کی ذات کے کسی فوجی پہلو پر انگشت نمائی کی تھی۔ ‘ڈوئل’ میں استعمال ہونے والے دوسری جنگِ عظیم کے زمانے کے پسٹل کارل والتھر کے بارے میں لیزلی کو اپنے حریف سے ذیادہ معلومات تھیں۔ تاہم لیزلی خان یہ ڈوئل ہار کر لوٹا تو بڑا پژمردہ تھا اور خود کو پوشکن کی قبیل سے شمار کررہا تھا۔ وہ اپنی عمومی دلچسپی کے برعکس اگر کبھی ہمارے ساتھ شہر کے گھٹیا ہوٹلوں میں قورمےاور بریانیاں کھانے آ نکلتا تو وہاں بھی ویٹروں کو متوجہ کرنے کیلئے کلاسیک انگریز افسروں کی طرح ‘‘کوئی ہے؟؟” کا آوازہ لگاتا تھا۔۔۔</p>
<p>گئی صدیوں کے ‘جوانمردوں’ کی طرح لیزلی گھڑسواری کا شائق بھی تھا، حُسن پرست بھی اور دُخترِ”زَر” کو مُنہ نہ لگانے والا ۔ بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ دُختر موصوف نے اُسے کبھی مُنہ نہ لگایا (اسی وجہ سے دُخترِ رَز سے بھی ایک عرصہ دُور رہا)۔ اب گھڑ سواری کا شائق ہونا الگ بات ہے اور اچھا شہسوار ہونا ذرا الگ بات ہے۔لیزلی خان بہت ہی اناڑی سوار تھا اور ایک دفعہ تو میں نے اُسے سرپٹ دوڑتے گھوڑے سے بُری طرح گرتے دیکھا جس میں اُس کازندہ بچ جانا اُس کی خوش قسمتی سے ذیادہ گھوڑے کی عقلمندی سے ہی ممکن ہوا۔ حُسن پرست اتنا کہ ہر عورت میں حُسن تلاش کر لیا کرتا تھا اور پھر بہت کم وقت میں ہی سچی محبت میں بھی مبتلا ہو جاتا ۔ ان گنت زُلفوں کا اسیر ہوا ، بیسیوں سے اظہارِ محبت بھی کیا لیکن یہ جذبات کہیں مستجاب نہ ہوئے۔ لیزلی محبت میں ناکامی اور رُسوائی کا اتنا عادی ہو چکا تھا کہ اسی میں اسے لطف آنے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ درجنوں یک طرفہ محبتوں کے بعد جب ایک دم اُسکی ایک پہلی پہلی محبوبہ شریکِ حیات بن کر آدھمکی تو لیزلی کو خوشی سے ذیادہ مایوسی ہوئی۔ خیر یہ بعد کی بات ہے۔</p>
<p>پلٹن کی کینٹین اور گیریژن کی لائبریری میں میں نے لیزلی کے ساتھ بہت وقت گزارا۔ اس نے دُنیا کی ہر غیر اہم چیز کا مطالعہ کررکھا ہوگا اور وہ ہر کتاب میں سے غیر اہم معلومات کے مختصر شذرے (نوٹ) بناتا تھا۔ شائد وہ ایسا بھی انفرادیت کے شوق میں کرتا تھالیکن جو بھی وجہ ہو، اس کی دلچسپیاں نہ صرف سب سے مختلف تھیں بلکہ باہم متضاد بھی تھیں۔ میں نے ایک دفعہ اُسے لڑاکا طیاروں کے بارے میں لکھی ایک ہینڈ بُک کے مطالعے میں گم سُم پایا جبکہ پسِ منظر میں اس نے موسیقی بھی چلا رکھی تھی، وہ بھی سعدی شیرازی کی ایک غزل۔ ہوابازی کا شدید شوق تھا اُسے لیکن ایک سبک پروازی (گلائیڈنگ) کے کلب کا چند روز ممبر ہی رہ سکا اور اس شوق میں ایک بار زخمی بھی ہوا اور کئی دن شوقیہ لنگڑا کر چلتا رہا۔ شعر اور افسانوی ادب کا شوق پالتے پالتے اُسے کُتے پالنے کا شوق بھی چڑھا۔ پُرانی موٹر سائیکلوں کا جو سودا سوار ہوا تو وہ اس کی دائمی تنگدستی کی وجہ سے قدم بھر بھی نہ چل سکا۔ اسی تلون نے اُسے کسی ہُنر میں کمال حاصل کرنے دیا نہ اپنے پیشے میں کامیاب ہونے دیا۔ فوج میں بھی ایوی ایشن کور سے نکال باہر کر کے ہمارے یونٹ میں بھیجا گیا تھا۔<br>
لیزلی پلٹن میں ایک حرفِ غلط تھا ، لہٰذہ جب بھی فارمیشن نے کسی ناگوار فریضے کے لئے یونٹ سے سپاہی مانگے ، پہلے اُسی کو پیش کیا گیا۔ کچھ وہ ‘قسمت کا دھنی’ بھی تھا۔ جرنیل کے معائنے کے دوران اگر پوری گارڈ آف آنر میں سلامی کے تھپییڑے سے کسی ایک سپاہی کی رائفل سے میگزین نکل کر گرنا ہوتی تو وہ علی حیات ہی کی رائفل ہوتی۔ سی او صاحب جس دن غُصے میں راہ چلتے کسی سپاہی کا ٹرن آؤٹ چیک کرنے کیلئے رُک جاتے تو پاس سے گزرنے والا سپاہی علی حیات ہی ہوتا۔ اس کے ٹرن آؤٹ میں نہ چاہتے ہوئے بھی کئی قابلِ دست اندازیِ صاحب جرائم نکل آتے مثلاً اُسکی انتہائی خوبصورتی سے سر پر جمائی گئی ٹوپی اکثر بیج سے محروم ہوتی۔ اُجلی وردی لیزلی خان کو بہت سجتی تھی لیکن یہ حادثہ کم ہی ہوتا ۔یعنی یہ کہ وہ اُجلی وردی پہنے۔ چونکہ وہ مختلف رجمنٹوں کی تواریخ پڑھتا رہتا تھا لہٰذا ان میں سے کسی نہ کسی کا امتیازی نشان بھی شوقیہ اپنی وردی پہ لگا ہی لیتا جس پر سی او صاحب کا خون کھولنا فطری امر تھا۔ فوجی بوٹ پالش کرنے کے فن میں وہ طاق تھا (جو اُس نے بقول اُس کے اپنے، دس بلوچ رجمنٹ کے ایک اُستاد سے سیکھا تھا) لیکن اس فن کے اظہار کیلئے اُس نے کم کم ہی کبھی وقت نکالا۔بالوں کی فوجی قطع کے سوا اپنے حُلیے میں کسی چیز کو وہ سنجیدہ نہیں لیتا تھا جبکہ چیک کرنے والوں کو یہ چیزیں کافی ‘سنجیدہ’ کردیتی تھیں۔ لیزلی حیات خاں کا قول تھا کہ جس سپاہی کو ہر سال میں ایک دفع پٹھوُ اور نوکری میں ایک دفعہ کوارٹر گارڈ کی قید نہیں ہوئی، وہ نامکمل سپاہی ہے۔ اس لحاظ سے وہی ہمارے یونٹ کا واحد مکمل سپاہی تھا۔<br>
جنرل کیانی کی کمانداری کے زمانے میں بطورِ افسر فوج میں کمیشن پانے کی عمر کی بالائی حد میں ہم سپاہیوں کیلئے نرمی کر دی گئی تو علی حیات کوگویا اپنا مقصدِ حیات مل گیا، سو اُس نے بھی درخواست دے دی۔ بصد مشکل انٹر سروسز سلیکشن بورڈ کوہاٹ تک پہنچا۔ ان دنوں مجھے علی حیات کی خدا پرستی کا پتہ چلا کہ وہ بندے اور رب کے درمیان دُعا کے رشتے پر کتنا یقین رکھتا ہے۔ سلیکشن بورڈ کے امتحان میں بیٹھنے اور مترد ہونے کے بعد بھی اُس کی نمازوں کا خشوع و خضوع اور دعاؤں کی شدت ویسی ہی رہی۔ تاہم جب دوسری اور آخری بار اسے اس امتحان میں بیٹھنے کا موقع ملا تو یہ زہدوورع کی شدت کم تو نہ ہوئی تھی البتہ ظاہر نہ ہوتی تھی ۔ اب کے بار میں بھی اُس کے ہمراہ اُمیدوار تھا اور حُسنِ اتفاق کہ امتحان کے تمام مراحل میں ہم ایک ہی گروہ میں رہے۔ گروہی مباحثے کے وقت نگرانی اور نفسیاتی امتحان پر مامور کپتان صاحبہ کے حُسن و جمال کو دیکھ کر لیزلی خاں صاحب کا دل پچھاڑیں کھانے لگا تو مباحثے مباحثے میں خان موصوف اُن سادہ کپڑوں میں ملبوس کپتان صاحبہ کی نذر غالؔب کا یہ شعر کر کے ہی اُٹھے:</p>
<p>چھوڑی اسد نہ ہم نے گدائی میں دل لگی<br>
سائل ہوئے تو عاشقِ اہلِ کرم ہوئے!</p>
<p>کپتان صاحبہ نے دلنواز سی مسکراہٹ کے ساتھ نظریں جُھکا لیں اور ممتحن والی فائل میں کچھ لکھا۔لیزلی کے خیال میں شعر انہیں پسند آیا تھا، وہی ‘نوٹ’ کررہی تھیں۔</p>
<p>لیزلی حیات خاں حتمی طور پر کمیشن کیلئے مسترد ہونے کی خبر سُن کر بے حد دلگرفتہ ہوا۔ کئی دن تک تو اس کی نمازوں میں خشوع و خضوع بڑھ گیا۔ اور مزاج میں رقت سی آگئی، تصوف کی طرف میلان بڑھ گیا۔ مجھے تو یوں لگا کہ تیاگی ہی ہو جائے گا لیکن یہ لہر بھی آکے چلی ہی گئی۔ پلٹن کی زندگی میں اب وہ گھٹن محسوس کرنے لگا تھا۔ میجر شجاعت علی شاہ صاحب کا تبادلہ آئی ایس پی آر کے کسی ذیلی دفتر میں ہوا تو اسے بھی ساتھ لے گئے لیکن وہاں بھی اُس کے غیر مستقل مزاج میں پُر سُکون رہنا مقدور نہ تھا۔ کمیشن کے بورڈ سے مسترد ہونے کے بعد اُسے نوعمر لفٹینوں اور کپتانوں کی ہر بات ڈانٹ ڈپٹ لگنے لگی اور میجروں ،کرنیلوں کی نرم گوئی بھی ترحم نظر آنے لگی جس پہ اُسےہمیشہ سے ذیادہ توہین محسوس ہونا فطری امر تھا۔اب اُسے بارک کی صفائی اور گھاس کی کھدائی، جنگی قیدیوں کی سی مشقت نظر آتی۔ سچ تو یہ ہے کہ افسروں سے ذیادہ خود سپاہی دوستوں نے اُس کی قدم قدم پہ جو گت بنائی، وہ ذیادہ تکلیف دہ تھی۔ بے توقیری کی انتہا تب ہوئی جب لوگوں نے اُسے طنزیہ کیپٹن لیزلی کہنا شروع کر دیا اور یہ لقب آج تک اُس کے نام کے ساتھ چپکا ہے۔ البتہ آئی ایس پی آر میں تقرری کے دوران لیزلی نے سنٹرل کمانڈ لائبریری سے کافی استفادہ کیا کہ اس نوکری میں مطالعے کی فرصت ذیادہ تھی۔ اب کی بار اشتراکیت، مزاحمتی ادب، مذہب اور الحاد کا مطالعہ بھی اُس نے بالالتزام کیا۔ اکثر ملاقات ہوتی تو بتاتا کہ فلاں کتاب پڑھی تھی، آج کل غور و فکر کررہا ہوں۔ پڑھنا بھی اس کا کیا تھا، خُدا جانے کتنی کتابیں تو ابتدائی اور وسطی ابواب میں ہی اُکتا کر چھوڑ دیں البتہ اسے کتب اور مصنفوں کے نام خوب یاد رہتے تھے جن کا رعب گفتگو میں جھاڑنے کا فن ا س پر ختم تھا۔اسے فوج کی گذشتہ ہسٹری کے چیدہ چیدہ گوشوں کے علم کا استعمال کر کے بوڑھے کرنیلوں کو متاثر کرنے اور اُن سے دوستیاں گانٹھنے کا ڈھنگ بھی خوب آتا تھا۔ تین سے چار ایسے پُرانے کرنیلوں کے نام (جن میں ایک انگریز پیرِ فرتوت بھی شامل ہیں)تو میں بھی جانتا ہوں جو اس کے نام نہاد ’علم و دانش‘ کی وجہ سے اس پر خُوب مہربان تھے۔ پلٹن کا نائی اُسے روزانہ آتے جاتے ہوئے مودب ہو کر سلیوٹ کرتا تھا اور تین سال اس ’پروٹوکول‘ کے عوض لیزلی کی جیب سے چائے پیتا رہا۔</p>
<p>آخری بار باوردی ملاقات ہوئی تو تب بھی وہ کافی بیزار اور کمیشن پانے میں ناکامی پر ازحد ملول تھا۔<br>
“لونڈے! میں فوج چھوڑنے لگا ہوں! یہاں اب میرا مستقبل نہیں ہے!” وہ بولا تو مجھے حیرت سی ہوئی۔<br>
“لیکن تُم تو سرتاپا فوجی کلچر میں گندھے ہو لیزلی! بے ترتیب اور بددماغ ہونا کوئی بڑی خامی نہیں لیکن لیزلی تُم ہو اسی ماحول کے آدمی!” میں حیران تھا۔ مجھے یاد آرہا تھا کہ لیزلی خان اپنی فوجی زندگی میں شاذونادر ہی سِوِل کپڑوں میں نظر آتا تھا۔</p>
<p>“یار سِوِل زندگی میں کیا کرو گے؟ تُم ایک مِس فِٹ اور ناکام آدمی ہو! یہ فوجی کلچر ہی ہے جہاں چھوٹے ذہنوں اور کم قابلیت کے لوگوں کو بھی اپنے تئیں سُپر مین سمجھنے کے ہزار بہانے ہاتھ آجاتے ہیں۔ سویلین زندگی بڑی بے رحم ہے، وہاں سخت مقابلے ہیں، کہیں منافقتیں ہیں اور کہیں چالاکیاں ہیں، تمہارا گاؤدی سا فوجی ذہن نہیں سمجھ پائے گا کچھ بھی۔۔۔”</p>
<p>میں دیر تک اسےسمجھاتا رہا کہ اپنے اس رادے سے باز آجائے لیکن لیزلی نہ مانا۔ وہ خود احتسابی کا دل و دماغ تو رکھتا تھا لیکن خود کو بدلنے کے بجائے اپنے ماحول سے اُلجھنے کی بُری عادت نے اسے ایک اڑیل ٹٹُو بنا دیا تھا۔ فقط اس لئے کہ اس کے نزدیک اس اڑیل پنے کو فوجی اوصاف میں ایک اونچامقام حاصل تھا۔</p>
<p>“میں نے اس ماحول سے جو احساسِ کمتری پانا تھا، پالیا! پاگل ہو کے تو جارہا ہوں یہاں سے! یہاں میں اُن، بقولِ تمہارے، چھوٹے ذہنوں اور کمتر قابلیت کے لوگوں سے بھی مات کھا چکا ہوں، پیچھے رہ چکا ہوں” لیزلی نے اپنے شانے پر انگلی رکھی جو کہ لفٹینی نہ ملنے کا اشارا تھا اور پھر بازو پہ انگوٹھا رکھا تو میں نے تاڑا کہ وہ لانس نائیک کا عارضی عہدہ بھی اس کے بازوُ سے اُتر چکا تھا۔</p>
<p>“اور ہاں! یہ وہ ابا جان اور سر فرینک میسروی کے زمانے کی فوج نہیں ہے جس پر ماضی کی گرد نے اصل خاکی رنگ چڑھا دیا ہے!”<br>
وہ دیر تک اپنا غصہ نکالتا رہا۔ ہم ایک ڈیڑھ سال بعد مل رہے تھے۔ اِس یونٹ میں آتے ہی ہمارے ’کیپٹن لیزلی‘ کا عارضی لانس نائیک کا عہدہ اتار دیا گیا تھا جبکہ مستقل لانس نائیک بننے کیلئے اُس کا مطلوبہ میعار پورا نہ تھا۔ وہ پھر سے سپاہی تھا۔ ہم گیریژن کے گالف کورس کے ایک کونے میں گھاس پر بیٹھے تھے۔ کورس کسی وجہ سے استعمال میں نہ تھا اور دُور دُور تک کوئی شخص موجود نہ تھا۔ لیزلی نے اپنے فوجی جیکٹ کی جیب سے گھٹیا وہسکی کی ایک پائنٹ نکالی او ر دو گھونٹ لے کر ڈھکن بند کردیا۔</p>
<p>“لونڈے! تُو نہیں جانتا کہ میں زندگی میں دو چیزوں پر بھروسہ کر کے سخت ناکام ہوا ہوں!” اس نے بوتل واپس چھپاتے ہوئے کہا۔ یہ تبدیلی اس میں اب واقع ہوئی تھی، پہلے نہ تھی۔</p>
<p>“ایک تو دعاؤں پہ! یعنی جب ناکامی سامنے نظر آرہی ہو یا کامیابی کی کوئی اُمید نہ ہو، تب دُعا میں گر جانا۔۔۔ حالانکہ یہی وقت آخری کوشش کا ہوتا ہے!” شائد لیزلی اب الحاد کی طرف مائل ہو گیا تھا۔<br>
“دوسرا اپنے خوابوں پہ!!!”میں چونکا۔ وہ تو خوابوں میں زندہ رہا کرتا تھا !</p>
<p>“خواب سوئے ہوئے آدمی کا بے لگام تخیل ہوتے ہیں، اُن کے پیچھے بھاگنا حماقت ہے۔ میں ایک عظیم الشان فوجی افسر بنوں گا، یہ میرا خواب تھا، یہ میرا خیال نہیں تھا شائد۔یہ میری قابلیتوں کی روشنی میں فطرت کا منشأ نہیں تھا، یہ کوئی امکان نہیں تھا۔ وہ جو خواب مارٹن لوتھر کنگ کا تھا یا تمہارے اقبال کا، وہ خواب نہیں تھے، وہ خیال تھے، وہ ارادے تھے، سمجھے ناں؟”<br>
میں پی کر باتیں کرنے والوں پہ یقین نہیں کرتا، کیا معلوم لیزلی ٹھیک کہہ رہا تھا۔</p>
<p>“لونڈے! خوابوں کے پیچھے مت بھاگنا کبھی! بالخصوص جن خوابوں کا تعلق رُومان سے ہو۔ اِس دور میں شویلری یعنی شہسواری، حُسن پرستی، نام و نسب، آن بان، خودداری، نجابت اور سپاہیانہ نخوت، یہ سب چیزیں افسانوی ہیں اور ایک جگہ پر اکٹھی نہیں ہو سکتیں! سپہ گری کا پیشہ ان اوصاف سے لازم و ملزوم نہیں بھی ہوتا، بلکہ کوئی بھی پیشہ!” پھر وہ دیر تک افسوس کرتا رہا کہ وہ لڑکپنے کے رومان کی انگلی پکڑ کر کیوں فوج میں چلا آیا تھا اور اپنی اُن خوبیوں کا ماتم کرتا رہا جو اس تمام عرصے کی سختی، ناکامیوں اور بے توقیری میں اس کی ذات میں پیدا نہ ہو سکیں۔ یا پھر گُھٹ کے مر گئیں۔</p>
<p>اس ملاقات کے بعد ہم ایک عرصے تک نہ مل سکے۔ خُدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ مجھے ایک کورٹ مارشل کا سامنا کر کے ہمیشہ کیلئے گھر لوٹنا پڑا تو انہی دنوں لیزلی خاں بھی با عزت طور پر ڈسچارج لے کر تیس برس کی عمر میں ہی فوج چھوڑنے میں کامیاب ہو گیا۔ اب وہ اکثر میرے گاؤں سے گزرتا ہے تو دیر تک گاؤں کی سڑک کے کنارے بیٹھا مجھ سے گپیں ہانکتا ہے اور زندگی، خُدا، مذہب ، حُسن و عشق اور کائنات کے بارے میں کئی اُلٹے سیدھے نظریات پیش کرتا رہتا ہے جو کہ کچھ نہ کچھ درست بھی ہوں گے لیکن بادی النظر میں مجھے اُن سے اُس کے شوقِ مطالعہ کے تگڑے سے تاثر کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اب اس کے ہاتھ میں کبھی کبھار کتاب بھی ہوا کرتی ہے لیکن ذیادہ تر سودے سلف کے تھیلے، نوکری کے اشتہاروں والے اخبار، دواؤں کے لفافے یا لکڑی لوہے کے کوئی کل پُرزے شہر سے گھر لاتے ہوئے اس کے پاس ہوتے ہیں۔</p>
<p>لیزلی نے فوج سے حاصل ہونے والی تھوڑی سی رقم اپنی پوسٹ گریجوایٹ ڈگری پہ لگا دی (اگرچہ ڈگری کے دوران وہ چند روز ہی کالج گیا) باقی چند پیسوں سے اپنی منگنی کے جوڑے، دُلہن کے امام ضامن، مٹھائی کے ڈبے اور ایک تحفے کا انتظام کیا۔ سِوِل زندگی میں لیزلی نے کئی نوکریوں کیلئے درخواستیں دیں لیکن اکثر جگہوں پر عمر کی بالائی حد عبور کر جانے کی وجہ سے مسترد ہوا یا پھر متعلقہ تجربہ نہ ہونے کی بنأ پر۔ فوجی زندگی کا تجربہ اکثر جگہوں پر غیر متعلقہ تجربہ تھا۔ دو ایک جگہوں پر نوکری تو مل گئی لیکن لیزلی وہاں اپنی جگہ نہ بنا سکا جس کی وجہ یہ تھی کہ اُس نے یہ کام سیکھا ہی نہیں تھا۔ فوری فیصلہ کرنے کی اہلیت اور حُکم چلانے کا اعتماد اُس کے اندر کے لانس نائیک نے کبھی اُس میں پیدا ہی نہ ہونے دیا۔ دوسری وجہ سویلین زندگی کے تیز رفتار کلچر کو اپنانے کے بجائے اپنے جامد فوجی کلچر پہ قائم رہنا۔کچھ اس کے بخت نے بھی ایسا جمود پکڑا کہ دو چار سال نیشنل گارڈز میں بطورِ رضاکار افسر کمیشن پانے کی کوششوں میں بھی مارا مارا پھرا لیکن سابق فوجی ہونے اور اضافی تعلیمی قابلیت کے باوجود فوج نے گویا اُسے پہچاننے سےہی انکار کر دیا، گو اس میں کوئی قانون بھی مانع نہ تھا۔ البتہ ایک دفعہ جب وردی اور چوڑے بیلٹ کی یاد نے بے قرار کیا تو لاہور چھاؤنی جا کر نیشنل گارڈز ہی کی ایک مجاہد پلٹن میں سپاہی بھرتی ہوگیا۔ ایجوٹنٹ نے کہا کہ دو ماہ کی تربیت لینا ہوگی، تو لیزلی خاں کی فوجی انا جاگ اُٹھی۔</p>
<p>“ان کم سِن رنگروٹوں کے ساتھ مجھے دو ماہ ٹریننگ کروانے کا مطلب ہے کہ آپ میری دس سالہ فوجی خدمات کو خاطر میں ہی نہیں لا رہے؟؟؟” لیزلی کے اس جواب پر ایجوٹنٹ نے اسے فوراً چھاؤنی سے دفع ہو جانے کا حُکم دے دیا۔ لیزلی سے اس واقعے کے بعد بھی سویلین زندگی میں جی لگانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہ ہو سکی۔</p>
<p>آجکل کچھ یوں ہے کہ فوج کے دنوں میں تنخواہ لیتے ہوئے پیسے گِن کر پورے کرنے کو غیر فوجی حرکت سمجھنے والا لیزلی خان اب جہاں بھی نوکری کرتا ہے، ایک ایک روپئے پر جان دیتا ہے (لیکن روپیہ بچانا اُسے آج بھی نہیں آتا)، فوج کی وردی میں اپنی ہر غلطی کا اعتراف کرکے پٹھوُ اور کوارٹر گارڈ کی سزا خوشی خوشی لینے والا لیزلی خان اب نوکری بچانے کیلئے طرح طرح کے جھوٹ بھی بکتا ہے (لیکن پھر بھی ماتحتی ہی جھیلتا ہے) اور فوجی وردی میں خواتین کے احترام اور تحفظ کو مردانگی کی اولین شرط سمجھنے والا لیزلی خان اب اپنی بیوی کو دو وقت کی روٹی بھی اُس توقیر کے ساتھ مہیّا نہیں کرپاتا جس لاڈ سے وہ مائیکے میں کھاتی تھی ۔ علی حیات خان زندگی کی دوڑ میں اپنے فوجی اور سویلین، دونوں طرح کے ہم عمروں سے پیچھے رہ چکا ہے اور اس وجہ سے ‘سیلف پِٹی’ کا جو عارضہ اُسے لاحق ہوا ہے وہ ایک تعلیم یافتہ آدمی کی شخصیت کا سب سے بڑا ناسور ہے۔۔۔ اور رائیگانی کے احساس سے بُرا احساس کوئی نہیں ہے۔</p>
<p>ماضی میں فوجی کلچر کو اپنا مذہب گرداننے والا لیزلی حیات خان اب گاؤں کے نو خیز جوانوں کو نصیحت کرتا ہے:</p>
<p>“لونڈو!! اگر قابل اور لائق لوگ ہو اور دماغ کی بتی روشن ہے اور طبیعت میں تلون، تو اپنی جوانی فوج کو نہ دینا! لڑنے والے لوگ مستقل مزاج لیکن نیم خواندہ ہوتے ہیں۔ تُم کام کے لوگ بنو! اِس قوم کو قابل اُستادوں، شریف ڈاکٹروں، سچے صحافیوں اور دردِ دل رکھنے والے سماجی کارکنوں کی ضرورت سپاہیوں کی نسبت کہیں ذیادہ ہے!!!”</p>
<p>یہ کہنے کے بعد وہ گھر آتا ہے، بکسے سے اپنی وردی نکالتا ہے اور اپنے کمرے میں بند، اُسے پہن کر آئینے کے سامنے کھڑا دیر تک خود سے انگریزی میں باتیں کرتا رہتا ہے جنہیں آج تک کسی نے نہیں سُنا۔۔۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%84%db%8c%d8%b2%d9%84%db%8c-%d8%ad%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%be%d9%86%db%92-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%db%81%d9%85-%d8%b4%da%a9%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82/">لیزلی حیات خان (اپنے فرضی ہم شکل کا حقیقی خاکہ)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%84%db%8c%d8%b2%d9%84%db%8c-%d8%ad%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%be%d9%86%db%92-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%db%81%d9%85-%d8%b4%da%a9%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
